Tag Archives: 25 B

مومن کی زندگی: قرآن کے آئینے میں – پرویز

قرآن کریم کی تعلیم‘ انسان کو کیا بنا دیتی ہے‘ اس کی تفصیل میں جایئے تو کئی مجلدات درکار ہوں گی لیکن اگر اسے اجمالی طور پر بیان کرنا چاہیں تو اس سے بہتر‘ جامع اور حسین انداز میں کچھ اور نہیں کہا جا سکتا جسے علامہ اقبالؒ نے اس ایک مصرعہ میں سمو دیا ہے کہ
آنچہ حق می خواہد‘ آں سازد ترا
اِنسان اور حیوان میں فرق
’’قرآن کی تعلیم انسان کو وہ کچھ بنا دیتی ہے جو کچھ خدا چاہتا ہے کہ یہ بن جائے‘‘ یعنی جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے‘ وہ مقصد پورا ہو جائے۔ اس کے سفر حیات کے لئے‘ جو منزل مقرر کی گئی ہے‘ یہ اس منزل و منتہیٰ تک پہنچ جائے۔ انسان اور دیگر حیوانات کی تخلیق میں ایک بنیادی فرق ہے۔ دنیا کے ہر حیوان نے جو کچھ بننا ہوتا ہے‘ وہ ازخود وہ کچھ بن جاتا ہے۔ اس کے لئے اسے نہ کسی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے‘ نہ سعی و کاوش کی حاجت۔ فطرت نے اس کے اندر جو کچھ بننے کے امکانات رکھے ہیں‘ وہ امکانات ازخود بتدریج‘ مشہود ہوتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ ایک عمر تک پہنچ کر‘ وہ حیوانی بچہ‘ اپنی نوع کا مکمل فرد بن جاتا ہے۔۔۔ شیر کا بچہ شیر بن جاتا ہے۔ بکری کا بچہ بکری۔ لیکن انسانی بچے میں فطرت نے جو مضمر صلاحیتیں رکھی ہوتی ہیں‘ ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حیوانی یا طبیعی صلاحیتیں۔ یہ دیگر حیوانات کی طرح ازخود نشوونما پا کر‘ ایک منتہیٰ تک پہنچ جاتی ہیں اور وہ بچہ بالآخر آدمی بن جاتا ہے۔ دوسری صلاحیتیں انسانی ہیں۔ یہ ازخود نشوونما نہیں پاتیں۔ انہیں مناسب تعلیم و تربیت سے نشوونما دے کر اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ قرآن کریم وہ پروگرام دیتا ہے جس سے فرد کی وہ مضمر صلاحیتیں پوری پوری نشوونما پا کر مشہود ہو جاتی ہیں اور پھر وہ انہیں ان مقاصد کے لئے صرف کرتا ہے جو اس کے لئے متعین کئے گئے ہیں۔ جب وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ انسان وہ کچھ بن گیا جو کچھ بننا اس کے لئے مقصود و مطلوب تھا۔ قرآن نے ایسے فرد کو مرد مومن کہہ کر پکارا ہے اور انسان کی اس ہیئت کو احسن تقویم قرار دیا ہے -(95:4) یعنی ایسی ہیئت جو حسن و توازن میں انتہا تک پہنچ گئی ہو۔
مومن
جن خصوصیات کے مظہر یہ افراد ہوں انہیں صفاتِ مومنین کہا جاتا ہے اور جب یہ خصوصیات‘ محسوس شکل میں سامنے آئیں تو انہیں اعمالِ صالح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی ایسے کام جو اس فرد کی بھرپور انسانی صلاحیتوں کے اثمار و نتائج ہوں اور جن سے عالمِ انسانیت کے بگڑے ہوئے معاملات سنور جائیں۔ جو معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل ہو‘ اسے قرآن نے خَیْْرَ أُمَّۃٍ (3:110) ’’بہترین قوم جسے نوع انسان کی بہود کے لئے پیدا کیا گیا ہے‘‘ قرار دیا ہے اور أُمَّۃً وَسَطاً (2:143) ’’یعنی ایسی قوم جسے عالمِ انسانیت میں مرکزی حیثیت حاصل ہو‘‘ کا مقام دیا ہے۔ سطحی نظر سے دیکھئے تو معاشرہ‘ جماعت یا امت‘ افراد ہی کے مجموعہ کا نام ہوتی ہے لیکن اجتماعی نفسیات پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ جماعت‘ افراد کی حاصل جمع (Sum Total) کا نام نہیں ہوتی۔ اس کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔
اُمّت کی خصوصیات
اس لئے قرآن‘ افراد کی خصوصیات کے علاوہ۔ جماعتِ مومنین کی خصوصیات کا ذکر بھی خاص طور پر کرتا ہے۔ یا یوں کہئے کہ وہ افراد کی تعلیم۔ تربیت اور نشوونما کے علاوہ‘ ان اصول و ضوابط کی بھی وضاحت کرتا ہے جن کے مطابق ان افراد نے اجتماعی امور سرانجام دینے ہوتے ہیں اور جن کی بناء پر وہ ایک منفرد جماعت بنتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تعلیم کی انفرادیت اور بے مثالیت نکھر کر سامنے آتی ہے اور اسی مقام کے سامنے نہ ہونے سے‘ اچھے اچھے سمجھدار لوگوں کو بھی یہ دھوکا لگ جاتا ہے کہ ’’عالمگیر سچائیاں تمام مذاہب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہیں*۔‘‘
نظام اور فرد
’’عالمگیر سچائیوں‘‘ سے ان کی مراد ہوتی ہے عام اخلاقی اصول۔۔۔ مثلاً جھوٹ نہ بولو۔ چوری نہ کرو۔ کسی کو ستاؤ نہیں۔ وغیرہ ۔وغیرہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہی اخلاقی اصول قرآن پیش کرتا ہے اور یہی تعلیم دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی پائی جاتی ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ’’عالمگیر سچائیاں تمام مذاہب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہیں‘‘۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس اجتماعی نظام میں ان اخلاقی اصولوں کے حامل افراد زندگی بسر کرتے ہیں‘ اس نظام کے اصول کیا ہیں۔ مثال کے طور پر سمجھئے کہ ایک برہمن جھوٹ نہیں بولتا۔ چوری نہیں کرتا۔ انسان تو ایک طرف‘ کیڑوں مکوڑوں تک کو بھی نہیں ستاتا لیکن جس اجتماعی نظام کا وہ فرد ہے اس کا اصول یہ ہے کہ پیدائش کے اعتبار سے انسان اور انسان میں اس قدر گہرا اور بنیادی فرق ہوتا ہے کہ برہمن کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ ساری عمر دوسروں سے اپنی پرستش کراتا ہے اور شودر کے ہاں جنم لینے والا بچہ‘ تمام عمر‘ دوسروں کی خدمت اور بیگار میں بسر کر دیتا ہے اور یہ فرق اس قدر غیر متبدل ہوتا ہے کہ شودرؔ کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کے جوہر ذاتی اور اس کی ہزار محنت اور کوشش اس فرق کو مٹا نہیں سکتی۔ آپ کہئے کہ جو معاشرہ اس اجتماعی اصول کے مطابق متشکل ہو‘ اس میں افراد کی اس قسم کی ’’نیکیاں‘‘ محدود سے انفرادی حلقہ میں قدرے سکون پیدا کر سکتی ہیں لیکن نہ تو یہ انسان کو اس کا صحیح مقام دینے کے قابل بن سکتی ہیں اور نہ ہی عالمگیر انسانیت کی فوز و فلاح کا موجب۔ حتیٰ کہ یہ اس باطل نظام کو تباہی سے بچا سکنے کے قابل بھی نہیں ہو سکتیں جس کے اندر وہ ’’نیک انسان‘‘ زندگی بسر کرتا ہے۔ یا مثلاً جس معاشرہ کا اصول یہ ہو کہ جو بچہ بنی اسرائیل (یہودیوں) کے ہاں پیدا نہ ہو‘ وہ نجات و سعادت حاصل نہیں کر سکتا۔ اس معاشرہ میں افراد کی اس قسم کی نیکیاں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے اور چوری نہیں کرتے۔ عالمِ انسانیت کے کس کام آسکتی ہیں؟ یا جس معاشرہ میں عقیدہ یہ ہو کہ ہر انسانی بچہ‘ پیدائشی طور پر گنہگار پیدا ہوتا ہے اور اس کے گناہوں کا یہ داغ‘ ’’خدا کے بیٹے‘‘ (حضرت مسیحؑ ) کے کفارہ پر ایمان سے ہی دھل سکتا ہے۔ اس کے سوا‘ اس داغ کے مٹنے کی کوئی صورت نہیں‘ اس معاشرہ میں لوگوں کا رحمدل‘ حلیم الطبع اور منکسر المزاج ہونا‘ شرفِ انسانیت کی دلیل کیسے بن سکتا ہے؟
باطل کا نظام اور انفرادی نیکیاں
دنیائے مذاہب سے الگ ہٹ کر دیکھئے اور سوچئے کہ کیا نظامِ ملوکیت میں‘ ایک بادشاہ کے لئے‘ جو کروڑوں انسانوں پر اپنی مرضی چلاتا ہے‘ یہ بات موجبِ فخر قرار پا سکتی ہے کہ اس نے ساری عمر تہجد قضا نہیں کی یا شراب نہیں پی؟ نظامِ سرمایہ داری میں‘ اگر ایک جاگیردار۔ زمیندار یا کارخانہ دار‘ جو ہزاروں محنت کش غریبوں کے گاڑھے پسینے کی کمائی سمیٹ کر لے جاتا ہے‘ یہ کہتا ہے کہ اس نے کبھی چوری نہیں کی‘ تو کیا اسے نیک انسان کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایک مذہبی پیشوا‘ جو دن رات عوام کو اس قسم کے عقائد کی تعلیم دیتا رہتا ہے کہ امیری اور غریبی انسان کی تقدیر سے وابستہ ہے جسے خود خدا نے مقرر کیا ہے اور خدا کے لکھے کو کوئی مٹا نہیں سکتا‘ اور اس کے ساتھ کہتا ہے کہ اس نے ساری عمر جھوٹ نہیں بولا‘ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی یہ انفرادی نیکی‘ انسانیت کی اجتماعی میزان میں کوئی وزن رکھے گی؟ ان مثالوں سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ جن انفرادی اخلاقی خوبیوں کو ’’عالمگیر سچائیاں‘‘ کہہ کر اسلام کو مذاہبِ عالم کی صف میں ہم دوش کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ غلط اجتماعی نظام میں ان کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ اصل یہ ہے کہ مذہب اور دین میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مذہب‘ انفرادی ضابطہ اخلاق کا علمبردار ہوتا ہے اجتماعی نظام سے اسے سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس‘ دین‘ اجتماعی نظامِ انسانیت کو سامنے رکھتا ہے اور افراد کی اخلاقی خوبیوں کو اس لئے ضروری قرار دیتا ہے کہ اس سے اس معاشرہ کا توازن قائم رہے جو عالمگیر انسانیت کی سلامتی اور ارتقاء کا ضامن ہے‘ اور یوں انسان وہ کچھ بن جائے جو کچھ بن سکنے کا اس میں امکان ہے۔
قرآن کی جامع تعلیم
جو کچھ اوپر کہا گیا ہے اس سے واضح ہے کہ:
(1) جس معاشرہ میں افراد‘ عام اخلاقی ضوابط کی پابندی نہیں کرتے‘ اس معاشرہ میں کسی کو امن اور سکون نصیب نہیں ہو سکتا اور خود معاشرہ کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔
(2) جس معاشرہ میں‘ افراد عام اخلاقی ضوابط کے پابند ہوں‘ لیکن خود معاشرہ‘ غلط اجتماعی اصولوں پر متشکل ہو‘ اس میں عام معاشرتی روابط میں تو قدرے سکون حاصل ہو سکتا ہے لیکن نہ تو اس معاشرہ کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں‘ اور نہ ہی اس کا وجود عالمگیر انسانیت کے لئے موجبِ رحمت بن سکتا ہے۔ اور
(3) جس معاشرہ میں افراد‘ عام اخلاقی ضوابط کے پابند ہوں‘ اور خود معاشرہ بھی صحیح اجتماعی اصولوں کا علمبردار ہو‘ اس میں‘ افراد معاشرہ کو حقیقی امن و سکون میسر ہوتا ہے۔ ان کی طبیعی اور انسانی صلاحیتیں نشوونما پا کر برومند ہوتی چلی جاتی ہیں اور اس کا وجود عالمگیر انسانیت کے لئے موجبِ فلاح و سعادت ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم اسی قسم کا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے‘ جس میں افرادِ معاشرہ عام اخلاقی اصولوں کے شدت کے ساتھ پابند ہوں اور جو معاشرہ ان افراد پر مشتمل ہو‘ وہ ان مستقل اقدار کا حامل ہو جو عالمگیر انسانیت کو اس کی منزلِ مقصود تک لے جائے اور یہ ہے قرآن کا وہ نظام جس کی مثال کسی اور جگہ نہیں مل سکتی۔ قرآنی تعلیم اپنی اس خصوصیتِ کبریٰ کی بناء پر بے مثل و منفرد ہے۔ قرآن میں مومنین کی ان انفرادی اور اجتماعی خصوصیات کا ذکر اس تفصیل‘ کثرت اور تکرار سے آیا ہے کہ اس سے افراد کی سیرت و کردار کا صحیح نقشہ اور جماعتِ مومنین (اسلامی معاشرہ) کا بیّن اور واضح تصور سامنے آجاتا ہے۔ اکثر مقامات پر ان انفرادی اور اجتماعی خصوصیات کا ذکر الگ الگ آیا ہے لیکن بعض مقامات پر یہ ایک دوسرے میں یوں سموئی ہوئی سامنے آتی ہیں جیسے ایک حسین و شاداب شجرِ طیّب کہ اگر اس کی شاخوں‘ پتیوں‘ پھولوں اور شگوفوں کو الگ الگ بھی دیکھا جائے تو پورے کا پورا درخت باعثِ شادابئ قلب و نظر ہو جائے اور اگر‘ اس سرسبز و شاداب درخت پر بہ ہیئتِ مجموعی نگاہ ڈالی جائے تو اس کی تمام پھول پتیوں کی نزہت و نظافت وجۂ نشاط روح بن جائے۔ آئندہ سطور میں‘ ان افراد کی بعض نمایاں خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے جنہیں قرآن مومن کہہ کر پکارتا ہے۔ اس مقصد کے لئے کہ ہم ان خصوصیات کی روشنی میں‘ اپنی سیرت و کردار پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں کہ وہ کس حد تک ان کے آئینہ دار ہیں۔ اس لئے کہ جس طرح عرق گلاب اسے کہا جائے گا جس میں گلاب کی خوشبو اور خصوصیات ہوں۔ اگر اس میں یہ صفات نہ ہوں تو وہ عرق گلاب نہیں ہو گا پانی کا پانی ہو ا‘ خواہ اس بوتل پر کیسے ہی خوبصورت لیبل پر سنہرے حروف میں ’’عرق گلاب‘‘ لکھا ہو۔ اسی طرح مومن وہ کہلائے گا جو مومن کی صفات کا حامل ہو۔ یہی وہ معیار ہے‘ جس پر ہم اپنے مومن ہونے کے دعوے کو پرکھ سکتے ہیں اور ان صفات کے تذکرہ سے یہی مقصود ہے۔
تمسخر نہ اڑاؤ
سب سے پہلے معاشرہ کے روزمرہ کے معاملات اور روابط کو لیجئے اور دیکھئے کہ قرآنِ کریم ان امور کو بھی کس قدر اہمیت دیتا ہے جنہیں عام طور پر قابلِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا لیکن جن سے معاشرہ میں بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ وہ جماعتِ مومنین سے تاکید کرتا ہے کہ:
لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ -(49:11)
کوئی جماعت‘ دوسری جماعت کا تمسخر نہ اڑائے۔
آپ جانتے ہیں کہ تمسخر‘ جسے ہمارے ہاں بڑا (Lightly) لیا جاتا ہے‘ کتنے بڑے فساد کا موجب بن جاتا ہے۔ تمسخر درحقیقت ایک گہری نفسیاتی کیفیت کا مظاہرہ ہوتا ہے‘ جو نفرت۔ حسد اور انتقام کے جذبات کی پید اکردہ ہوتی ہے‘ لیکن اس شخص میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ ان جذبات کا اظہا رکھلے بندوں کرے۔ وہ انہیں تمسخر کے فریب کارانہ پردوں میں چھپا کر پیش کرتا ہے۔ تمسخر کے تیز تر نشتر کی شکل وہ ہوتی ہے جسے کسی کا ’’نام رکھنا‘‘ کہتے ہیں۔ قرآن نے یہ کہہ کر اس سے بھی روک دیا کہ:
وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ-(49:11)
ایک دوسرے کے بُرے بُرے نام مت رکھا کرو۔
(2) اس کے بعد ہے:
وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ -(49:11)
اور آپس میں ایک دوسرے پر الزام مت لگاؤ۔
الزام تراشی
الزام تراشی کس قدر سنگین جرم ہے اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ قرآن کی رُو سے زنا کی سزا سو کوڑے ہے اور پاک دامن عورتوں کے خلاف الزام تراشی کی سزا اسّی کوڑے۔ ہوتا یہ ہے کہ دوسرے پر الزام لگانے والا‘ خود تو معتبر بن جاتا ہے اور فریق مقابل کو خواہ مخواہ ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے کہ وہ اپنی بریّت ثابت کرے۔ اس سے اور کچھ نہیں تو اکثر لوگوں کے دل میں اس شخص کے خلاف بدظنی ضرور پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بھائی! بالآخر کچھ نہ کچھ بات تو ہو گی ہی جس کی بنا پر یہ الزام لگایا گیا ہے!
تانہ باشد چیز کے گویند مرداں چیز ہا
بدظنی سے بچو
قرآن کریم نے ایک طرف الزام تراشی اور بہتان بافی کی اس قدر سخت سزا مقرر کی‘ اور دوسری طرف جماعتِ مومنین سے تاکید کی۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ -(49:12)
اے جماعتِ مومنین! بدظنی سے بہت زیادہ بچو۔ یاد رکھو! بعض بدظنی بدترین گناہ تک پہنچ جاتی ہے۔
اسلامی معاشرہ کے افراد کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہمیشہ خیر سگالی کے جذبات ہونے چاہئیں۔ لیکن جس دل میں‘ کسی کے متعلق بدظنی پیدا ہو جاتی ہے‘ اس میں خیر سگالی کے جذبات باقی نہیں رہتے۔ اس کا علاج قرآن نے یہ بتایا ہے کہ (1) ہر شخص کے متعلق تمہارا پہلا ردِ عمل (First Reaction) نیک ہونا چاہئے۔ اس کا ارشاد ہے کہ: وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً -(4:94) جو تمہیں سلام کہے اس کے متعلق‘ یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔ اگرچہ یہ آیت‘ جنگ کے سلسلہ میں ایک اور اہم اصول کی وضاحت کرتی ہے لیکن جب اس کا اطلاق عام معاشرتی روابط پر کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ (تحقیق سے پہلے)‘ تمہارا پہلا ردِ عمل‘ ہمیشہ نیک ہونا چاہئے۔ قرآن کے اسی حکم پر مبنی عدل کا یہ اہم اصول قائم ہوتا ہے کہ جب تک کسی کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے اسے بے گناہ سمجھنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں اس نے کہا کہ جب کوئی شخص‘ تم سے کسی کے خلاف کوئی بات کہے تو تمہارا پہلا ردِعمل یہ ہونا چاہئے کہ: ہَذَا إِفْکٌ مُّبِیْنٌ -(24:12) یہ صریح جھوٹ ہے۔ ہَذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ-(24:16) یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ اپنے دل میں ردِعمل یہ پیدا کرو اور پھر اس بات کا چرچا مت کرو۔ -(24:19) اگر بات ایسی ہے کہ وہ بالبداہت غلط نظر آتی ہے تو اس کے متعلق خواہ مخواہ کی کرید مت کرو۔ وَلَا تَجَسَّسُوا -(49:12) لیکن اگر اس کے متعلق کسی حتمی نتیجہ تک پہنچنا ضروری ہے تو اس کی تحقیق کرو۔ اس تحقیق کے متعلق قرآن نے خصوصیت سے کہا ہے کہ:
وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُولاً -(17:36)
جس معاملہ کی تم خود تحقیق نہ کرو اس کے پیچھے مت لگا کرو۔ یاد رکھو! تمہاری سماعت‘ بصارت‘ قلب (کان‘ آنکھ اور دل) ہر ایک سے پوچھا جائے گا (کہ آیا تم نے ان سے کام لے کر اس معاملہ کی تحقیق کر لی تھی یا نہیں)۔
غیبت مت کرو
اور اگر معاملہ ایسا ہے جس کا اثر جماعتی زندگی پر بھی پڑتا ہے تو اسے متعلقہ حکام تک پہنچاؤ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنبِطُونَہُ مِنْہُمْ -(4:83) تاکہ وہ تحقیق کر کے بات کی تہ تک پہنچ جائیں (نیز 49:6)۔ اسی سلسلہ میں قرآنِ کریم نے یہ کہا ہے: وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً -(49:12) تم ایک دوسرے کی غیبت مت کرو۔ کسی کی پیٹھ پیچھے اس کے خلاف کوئی بات نہ کرو۔ جو بات کرنی ہو اس کے سامنے کہو۔ اگر آپ سے کوئی شخص‘ کسی کی غیر حاضری میں‘ اس کے خلاف کوئی بات کہتا ہے تو آپ کا فریضہ ہے کہ اس سے کہو کہ چلو! یہ بات اس شخص کے سامنے چل کر کرو۔ آپ دیکھیں گے کہ اس سے آپ کتنے بڑے فساد کا رخنہ بند کر دیتے ہیں۔
اذیّت مت پہنچاؤ
کسی کے خلاف جھوٹے الزام لگانے‘ یا اس کی غیبت کرنے سے اسے جس قدر قلبی اذیّت پہنچ سکتی ہے‘ اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ مومن ایک دوسرے کے لئے قلبی سکون اور مسرت کا موجب ہونے چاہئیں‘ نہ کہ باعثِ اذیت و کوفت۔ اسی لئے فرمایا:
وَالَّذِیْنَ یُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْْرِ مَا اکْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُہْتَاناً وَإِثْماً مُّبِیْناً -(33:58)
جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بلا جرم و خطا‘ ناحق اذیّت پہنچاتے ہیں‘ تو وہ بہتان تراشی کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اور کھلے ہوئے گناہ کا کام کرتے ہیں۔
اس نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ:
لاَّ یُحِبُّ اللّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوَءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ -(4:148)
اللہ اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ تم خواہ مخواہ کسی بات کی تشہیر کرتے پھرو۔ ہاں مگر جو مظلوم ہو اسے اس کی اجازت ہے کہ وہ اپنے ظلم کے مداوا کے لئے داد فریاد کرے۔
***
دِل کا شفاف ہونا
آپ نے غور فرمایا کہ قرآنِ کریم روزمرہ کی زندگی سے متعلق ان چھوٹی چھوٹی احتیاطی تدابیر سے‘ کس طرح ایسی خرابیوں کا سدِباب کر دیتا ہے‘ جو معاشرہ میں بہت بڑے فتنہ اور فساد کا موجب بن جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم‘ ان (بظاہر) معمولی سی تدابیر پر عمل کرنا شروع کر دیں تو معاشرہ میں کس قدر امن اور سکون پیدا ہو جائے! لیکن قرآن‘ ان چیزوں پر بھی محض میکانکی طور پر عمل نہیں کراتا۔ وہ افراد کے اندر ایسی نفسیاتی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ جس سے یہ تمام باتیں ان کے دل کی گہرائیوں سے ابھرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جماعتِ مومنین کے جنتی معاشرہ کے متعلق کہا ہے کہ: وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ -(7:43) ان کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں رہے گی جسے وہ دوسروں سے چھپا کر رکھنا چاہیں۔ آپ غور کیجئے کہ وہ معاشرہ فی الواقعہ کس قدر جنتی ہو گا جس میں افراد معاشرہ کے دل اس قدر آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں کہ ان میں غبار اور کدورت کا نشان تک نہ ہو اور ہر ایک کا ظاہر و باطن یکساں طور پر سب کے سامنے ہو۔
اُلفت اور اخوّت
اسی کو قرآن نے ’’دلوں میں باہمی اُلفت پیدا کرنے‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور جماعتِ مومنین کو جس نعمتِ خداوندی کی یاد دلائی ہے وہ یہی باہمی اُلفت ہے۔ چنانچہ اس جماعت کو مخاطب کر کے کہا گیا وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاء ۔تم خدا کی اس نعمتِ کبریٰ کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ فَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِکُمْ۔ خدا نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی اُلفت ڈال دی۔ الفت‘ اس قسم کے تعلق کو کہتے ہیں جس میں ایک دوسرے کے دل یوں باہمدگر مدغم ہو جائیں جس طرح بادل کا ایک ٹکڑا دوسرے ٹکڑے کے اندر ضم ہو جاتا ہے۔۔۔ تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگرے۔۔۔ اس باہمی الُفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ: فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَاناً۔ تم اس نوازش خداوندی سے‘ ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے۔ وَکُنتُمْ عَلَیَ شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا۔ تم (اس سے پہلے) جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے۔ بس اس میں گرنے ہی والے تھے کہ خدا نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ -(3:103) اس طرح اللہ اپنے احکام کو واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ زندگی کا صحیح راستہ کون سا ہے۔ یہ ’’باہمی الفت‘‘ ایسی گراں بہا متاع اور نایاب جنس تھی‘ کہ نبی اکرمﷺ سے کہا گیا۔۔۔۔ کہ اگر تو چاہتا کہ ساری دنیا کی دولت خرچ کر کے‘ ان کے دلوں میں ایسی الفت پیدا کر دے‘ تو بھی ایسا نہ ہو سکتا -(8:63)
اعتصام بحبل اللہ
یہ متاع‘ باہر سے خرید کر دلوں میں داخل نہیں کی جا سکتی۔ یہ تو دلوں کے اندر تبدیلی سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی یہ نتیجہ ہوتی ہے قران کے ساتھ وابستگی کا۔ اسی لئے‘ اسے قائم رکھنے کے لئے فرمایا کہ: وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ -(3:103) خدا کی اس رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ مت پیدا کرو۔ یہی وہ رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے کے بعد کہا کہ: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَۃٌ -(49:10) مومن ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ بھائی بھی ایسے جن کی کیفیت یہ ہے کہ: رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ -(48:29) آپس میں ایک دوسرے کے ہمدرد ار غمگسار أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ -(5:54) ایک دوسرے کے سامنے جھکے ہوئے۔۔۔
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
لیکن اس نرمی کے یہ معنی نہیں کہ کوئی غلط کام کرے تو اسے روکا ٹوکا بھی نہ جائے۔
بُرائی سے روکو
قرآن کریم نے یہودیوں کی تباہی کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ: کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ -(5:79) وہ ایک دوسرے کو بری باتوں سے روکتے نہیں تھے۔ جب جماعتِ مومنین کا عام فریضہ‘ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے (9:71-72, 3:103-109) یعنی لوگوں کو ان باتوں کے کرنے کا حکم دینا جنہیں قرآن نے اچھا قرار دیا ہے اور ان امور سے روکنا جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے تو اس کے یہ معنی تھوڑے ہیں کہ یہ جماعت‘ دوسروں کو تو ایسا کہے گی لیکن خود اپنے معاشرے میں یہ کچھ نہیں کرے گی؟ وہ تو سب سے پہلے‘ ان امور کو خود اپنے ہاں عام کرے گی اور اس کے بعد انہیں دوسروں تک پھیلائے گی۔ اسی لئے جماعتِ مومنین کی خصوصیت یہ بتائی کہ: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ -(103:3) وہ ایک دوسرے کو حقؔ (قرآنی احکام و قوانین) کے ساتھ تمسک اور استقامت پذیر رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور اس طرح باہمی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔۔۔
باہمی صلح کراؤ
اس لئے کہ: وَأَصْلِحُواْ ذَاتَ بِیْْنِکُمْ -(8:1) ان کے خدا کا ارشاد ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ اگر سوء اتفاق سے ان کی دو جماعتوں میں کہیں لڑائی جھگڑا ہو جائے تو فَأَصْلِحُوا بَیْْنَہُمَا -(49:9) ان میں باہمی صلح کراؤ اور اگر ان میں سے کوئی پارٹی سرکشی پر اتر آئے تو اسے اس سے‘ بزور روکو اور جب وہ اپنی اس روش سے باز آجائے تو ان دونوں میں عدل و انصاف کے مطابق صلح کرا دو۔
توبہ کا مفہوم
یہیں سے ہمارے سامنے‘ ایک اور اہم اصول آتا ہے اور وہ ہے توبہؔ ۔ ایک شخص کا عام کردار اچھا ہے لیکن کسی وقت اس سے نادانستہ کوئی غلط حرکت سرزد ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اسے اس کا احساس ہوتا ہے تو وہ اپنے کئے پر نادم ہوتا ہے۔ اگر اس کی اس غلط حرکت سے کسی کو اذیت یا نقصان پہنچا ہے تو اس سے معافی مانگتا ہے اور آئندہ کے لئے اس کی پوری پوری احتیاط برتتا ہے کہ کبھی اس قسم کی حرکت سرزد نہ ہو۔ اسے قرآن نے تاب و اصلح سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی جس مقام سے نادانستہ غلط قدم اٹھا تھا‘ اس مقام پر واپس آجانا اور اس کے بعد اپنی ایسی اصلاح کرنا کہ پھر ایسی غلطی نہ ہو۔ جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے‘ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ حرکت‘ نادانستہ۔ غلطی‘ سہو اور خطا سے سرزد ہوئی ہو۔ عمداً ایسا نہ کیا ہو۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس کی تصریح کر دی ہے کہ: إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السُّوَءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِن قَرِیْبٍ فَأُوْلَءِکَ یَتُوبُ اللّہُ عَلَیْْہِمْ -(4:17) توبہ اسی کی ہے جس سے کوئی غلطی نادانستہ سرزد ہو جائے اور اس کے بعد‘ وہ فوراً اس کی تلافی کر دے۔ اس میں نادانستہ (بجھالۃٍ) اور فوراً (من قریبٍ) کے الفاظ غور طلب ہیں۔ یہی چیز قرآن کریم نے دیگر مقامات پر بھی بیان کی ہے مثلاً (16:119 میں)۔
عمداً جرائم
اس کے برعکس‘ ایک شخص دیدہ دانستہ‘ عمداً۔ ارادۃً۔ غلط حرکات کا ارتکاب کرتا ہے‘ جھوٹ بولتا ہے‘ دوسروں کے خلاف جھوٹے الزام لگاتا ہے‘ غیبت کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور جب وہ کہیں گھر جاتا ہے۔ اپنی مدافعت کی کوئی شکل نہیں دیکھتا‘ تو کہہ دیتا ہے کہ مجھے معاف کر دو۔ تو اس کا نام توبہ نہیں۔ اس کے دیدۂ و دانستہ ارتکاب نے یہ واضح کر دیا کہ یہ چیزیں اس کے کردار کا جزو بن چکی ہیں۔ یونہی نادانستہ سرزد نہیں ہوئیں۔ اس لئے‘ جب تک وہ اپنے کردار میں تبدیلی نہیں پیدا کرے گا‘ ان باتوں سے باز نہیں آسکے گا۔ وہ توبہ کرنے اور معافی مانگنے کے بعد بھی ایسا کچھ کرتا رہے گا۔ اسی لئے قرآن نے وضاحت سے کہہ دیا کہ: وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السَّیِّءَاتِ حَتَّی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الآنَ -(4:18) توبہ ان لوگوں کی نہیں ہے جو بری حرکات کرتے رہتے ہیں تاآنکہ جب ان کے سامنے موت آکھڑی ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میں توبہ کرتا ہوں۔۔۔ ’’موت کے سامنے آجانے‘‘ سے مفہوم یہ ہے کہ جب اسے اس کا یقین ہو جائے کہ جو کچھ اس نے کیا ہے وہ بے نقاب ہو جائے گا اور وہ اس کے مؤاخذہ سے بچ نہیں سکتا تو پھر معافی مانگنے لگ جائے۔ یہ منافقت ہے اور بدترین کردار کی علامت۔ یہی وجہ ہے کہ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اس نے کہا کہ میں خدا پر ایمان لاتا ہوں تو اس سے کہا گیا کہ اب ایمان سے کیا فائدہ؟ یہ بھی واضح ہے کہ ایسے شخص نے اپنی اس قسم کی حرکات سے جس شخص کو اذیت یا نقصان پہنچایا ہے‘ اگر و ہ اسے معاف بھی کر دے تو اس سے اتنا ہی ہو گا کہ اس سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔ لیکن اس کی اصلاح تو اسی صورت میں ہو سکے گی جب وہ اپنے کردار میں خود تبدیلی پیدا کرے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے مغربی مفکر‘ نیٹشے نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:
’’جو برائی تم نے میرے ساتھ کی ہے اسے تو میں معاف کر دوں گا لیکن اس سے جو برائی تم نے خود اپنی ذات کے خلاف کی ہے‘ اسے کون معاف کر سکتا ہے؟‘‘
***
چھچورا پن
اب آگے چلئے۔ مردِ مومن اپنے جوہرِ ذاتی اور بلندئِ سیرت و کردار کی بناء پر اپنے اندر وزن رکھتا ہے اور یہ وزن‘ ہر مقام پر اس کا توازن برقرار رکھتا ہے لیکن جب انسان میں یہ خوبیاں نہ ہوں اور اس کا ایغوؔ جھوٹی تسکین چاہے تو اس سے اس کے اندر غرور‘ نخوت اور پندار کے غلط جذبات ابھر آتے ہیں جس سے اس میں چھچورا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ قرآن کی تعلیم مردِ مومن میں یہ چیز پیدا نہیں ہونے دیتی۔ چھچورے پن کا مظاہرہ انسان کی گفتار۔ چال ڈھال سے ہوتا ہے۔
نخوت و تکبّر
اس لئے قرآن اس کی تاکید کرتا ہے کہ: وَلَا تَمْشِ فِیْ الْأَرْضِ مَرَحاً -(31:18) زمین پر یوں ہی اکڑ کر نہ چلو۔ وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ -(31:19) اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرو۔ اسی طرح وَاغْضُضْ مِن صَوْتِکَ -(31:19) اپنی آواز بھی نیچی رکھو۔ چلّا چلّا کر مت بولو۔ بیجا تکبّر اور نخوت سے‘ لوگوں سے ترش روئی سے پیش نہ آؤ۔ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ -(31:18) اس لئے کہ: إِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ-(31:18) خدا‘ خود پسند‘ شیخی خورے انسان کو پسند نہیں کرتا۔ یہ مومنین کی نشانی نہیں ہے۔
حسد نہیں
مومن کی صفت یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں سے حسد نہیں کرتا۔ (4:54) بلکہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے اپنے اندر زیادہ سے زیادہ خوبیاں پیدا ہوں اور اس باب میں وہ دوسروں سے آگے نکل جائے۔ اس لئے کہ اس کے خدا کا حکم ہے کہ: فَاسْتَبِقُواْ الْخَیْْرَاتِ -(2:148) بھلائی کی باتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ جاؤ۔ ان کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ: ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ -(23:3) وہ ہر قسم کے لغویات سے پرہیز کرتے ہیں‘ اور اگر کہیں اتفاق سے اس قسم کی باتیں ان کے سامنے آجائیں تو وہ ان سے دامن بچاتے ہوئے شریفانہ انداز سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَاماً-(25:72)
صاف۔ سیدھی بات کرو
ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ: وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ-(22:30) ہر قسم کے مکر و فریب کی ملمع دار باتوں سے اجتناب کرو۔ قُولُوا قَوْلاً سَدِیْداً-(33:70) ہمیشہ صاف‘ سیدھی‘ واضح‘ محکم‘ دو ٹوک بات کرو۔ یَقُولُواْ الَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ-(17:53) بڑے خوبصورت انداز سے اعتدال کے مطابق۔ اچھی اچھی باتیں کرو۔ لاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ-(2:42) حق اور باطل۔ غلط اور صحیح۔ جھوٹ اور سچ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو۔ وَتَکْتُمُواْ الْحَقَّ-(2:42) نہ ہی حق کو چھپاؤ۔
عزۃ الاثم
انسان کے اندر ایک بدترین جذبہ ایسا ہے جو اس کی تمام خوبیوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اسے کبھی صحیح راستے کی طرف آنے نہیں دیتا۔ یہ ہے اس کے ایغوؔ کا جذبۂ پندار یعنی (False Prestige) کا احساس۔ اسے قرآن نے عزۃ الاثم کی جامع اصطلاح سے تعبیر کیا ہے۔ ایک شخص دل میں محسوس کرتا ہے کہ اس نے غلطی کی ہے لیکن اس کے ایغوؔ کا جذبۂ پندار اسے اس کے اعتراف پر آمادہ نہیں ہونے دیتا۔ وہ اس کے لئے اعذار باردہ (Justificatory Reasons) وضع کرتا ہے حالانکہ اس کا دل جانتا ہے کہ یہ دلائل جھوٹے اور یہ وجوہات وضعی ہیں‘ ایسے شخص پر سعادت کی راہیں کبھی نہیں کھل سکتیں۔ یہ چیز پارٹی بازی میں اکثر حق و صداقت کے راستے میں روک بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اپنی پارٹی کا فرد صریحاً غلطی پر ہو‘ لیکن ’’پارٹی بازی‘‘ کا تقاضا ہے کہ آپ اس کی بہرحال تائید اور مدافعت کریں۔ ایک ڈاکو ہر روز مسافروں کے گلے کاٹے اور غریبوں کو لوٹے۔ اس کی پارٹی کے دوسرے ڈاکو‘ اسے کبھی بُرا نہیں کہیں گے لیکن اگر وہ لوٹ کے مال میں کچھ خورد برد کرے اور اس کی تقسیم منصفانہ نہ کرے‘ تو پھر پارٹی والے اسے بے ایمان اور بددیانت قرار دیں گے۔ پارٹی بازی میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ اپنی پارٹی کا آدمی جب تک دوسروں کے خلاف کچھ کرتا رہے اسے کبھی نہیں ٹوکا جاتا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس سے رفتہ رفتہ اس کے دل کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اس میں کسی بات کو (On Merit) پرکھنے اور عدل و انصاف کی رو سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ یہ ہے وہ مسخ شدہ ذہنیت جس کے متعلق قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ: وَإِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّہَ أَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالإِثْمِ -(2:206) جب اس سے کہا جاتا ہے کہ قوانین خداوندی کی نگہداشت کرو تو جھوٹی عزت کا احساس اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ فَحَسْبُہُ جَہَنَّمُ -(2:206) نتیجہ اس کا یہ کہ اس کی انسانی صلاحیتیں جھلس کر راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔
مومن‘ نفس (ایغوؔ ) کے اس فریب میں نہیں آتا۔ یہ اس کے راستے میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ دامن جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
***
پابندئ عہد
اب مؤمنین کی مثبت صفات کی طرف آیئے۔ ان کے متعلق سورۂ المومنون میں کہا گیا ہے کہ: ہُمْ لِأَمَانَاتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُونَ-(23:8) یہ لوگ امانات کی حفاظت کرتے ہیں اور عہد کی پابندی۔ حفظِ امانت کے معنی یہی نہیں کہ جو چیز تمہارے پاس بطورِ امانت رکھی جائے اسے بحفاظت واپس کر دو۔ ہر وہ بات جسے کسی نے‘ تم پر بھروسہ کر کے تمہارے سپرد کی ہے وہ امانت میں داخل ہے۔ خواہ وہ اس کا کوئی راز ہو یا اس کی عزت و آبرو کی رکھوالی۔ جہاں تک عہد‘ معاہدہ کا تعلق ہے‘ اس کے معنی یہی نہیں کہ جو اقرار نامہ کسی کو لکھ کر دو اس پر قائم رہو۔ اس میں ہر قسم کا وعدہ بھی شامل ہے جو ایک انسان دوسرے سے کرتا ہے۔ یہ بڑی اہم صفت ہے اور ا س کی قرآن کریم نے بڑی شدت سے تاکید کی ہے۔ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ-(5:1) میں ہر قسم کا عہد اور وعدہ آجاتا ہے۔ آپ غور کیجئے کہ وعدہ کے معنی کیا ہیں۔ آپ کسی سے کہتے ہیں کہ ’’بھائی! اس وقت مجھے جانے دو۔ میں ٹھیک چار بجے آجاؤں گا‘‘۔ تو وہ آپ پر اعتماد کر کے آپ کی بات مان لیتا ہے۔ اگر آپ اپنے وعدے کے مطابق آتے نہیں تو آپ اپنا اعتماد کھو دیتے ہیں۔۔۔ اور یہ ظاہر ہے کہ دنیا میں بدترین قسم کا معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں کسی کو دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ نہ ہو۔ ایسے معاشرہ میں ہر شخص عدم اطمینان کے جہنم میں رہتا ہے۔ بعض لوگ تو وعدہ کرتے ہی منافقت سے ہیں یعنی انہوں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ انہوں نے وعدہ پورا نہیں کرنا لیکن اکثر جذباتی (یا Impulsive) لوگ‘ شدتِ جذبات میں آگے بڑھ کر ایک وعدہ کر لیتے ہیں اور اس کے بعد‘ جب جذبات کی شدت ماند پڑ جاتی ہے تو اس وعدہ سے پھر جانے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اس سے جو نقصان دوسروں کو پہنچتا ہے اسے تو چھوڑیئے۔ خود ایسے لوگوں کی سوسائٹی میں کوئی عزت نہیں رہتی۔ مومنؔ کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ وہ وعدہ کرتا ہے تو سوچ سمجھ کر اور جب وعدہ کر لیتا ہے تو پھر کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ اسے پورا کرتا ہے۔
جذباتی لوگ
بَلَی مَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ وَاتَّقَی فَإِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْن-(3:76) جو اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے اور یوں قانونِ خداوندی کی پاسداری کرتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک پسندیدہ اطوار و کردار کے مالک ہوتے ہیں لہٰذا‘ وعدہ شکنی‘ خواہ وہ شروع ہی میں بدنیتی کا نتیجہ ہو۔ یا بعد میں پھر جانے کی وجہ سے‘ اس فرد کو ذلیل اور معاشرہ کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسی لئے قرآن نے تاکیداً کہا ہے کہ: أَوْفُواْ بِالْعَہْدِ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْءُوْلاً-(17:34) اپنے وعدہ کو ہمیشہ پورا کرو۔ اس کے متعلق تم سے پوچھا جائے گا اور یہ پُرسش تو اسی و قت شروع ہو جاتی ہے جب وعدہ خلافی کرنے والے کو ہر نگاہِ حقارت اور نفرت سے دیکھنے لگتی ہے‘ خواہ وہ بظاہر کتنا ہی معتبر اور معزز کیوں نہ ہو۔
عَدل کے علمبردار
اب آگے بڑھئے۔ قرآنِ کریم نے مؤمنین کے متعلق کہا ہے کہ وہ قَآءِمَاً بِالْقِسْطِ(3:17) ہوتے ہیں یعنی ہمیشہ انصاف پر ڈٹ کر کھڑے رہنے والے۔ عدل و انصاف وہ بنیاد ہے‘ جس پر انسانی سیرت کی عمارت استوار ہوتی ہے اس لئے قرآن کریم اس باب میں مؤمنین کے سامنے ایسا بلند معیار رکھتا ہے جس پر پورا اترنے سے معاشرہ فی الواقعہ جنت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔۔۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ۔۔۔ اے ایمان والو! دنیا میں عدل و انصاف کے علمبردار بن کر رہو۔ اس باب میں کسی جذبے کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دو۔ یہ کچھ خالصتہً لِللّٰہ کرو۔ اس مقصد کے لئے شہادت دینی پڑے تو نہ مدعی کی طرف سے گواہ بن کر جاؤ نہ مدعا علیہ کی طرف سے۔ بلکہ شُہَدَاء لِلّہِ۔ تم خدا کی طرف سے گواہ بن کر جاؤ اور سچی سچی گواہی دو۔ وَلَوْ عَلَی أَنفُسِکُمْ۔ خواہ وہ تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ جائے۔ أَوِ الْوَالِدَیْْنِ۔ یا تمہارے والدین کے خلاف جائے۔ وَالأَقْرَبِیْنَ۔ یا تمہارے دیگر رشتہ داروں کے خلاف۔۔۔ إِن یَکُنْ غَنِیّاً أَوْ فَقَیْراً۔ وہ دولت مند ہو یا غریب ہو‘ اس کا بھی تم پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ اس لئے کہ فَاللّہُ أَوْلَی بِہِمَا۔ اللہ کا حق ان دونوں سے زیادہ ہے۔ اس لئے یاد رکھو۔
فَلاَ تَتَّبِعُواْ الْہَوَی أَن تَعْدِلُواْ۔ تم اپنے جذبات کے پیچھے مت چلو۔ اس باب میں‘ اپنے قلبی رجحانات کو اثر انداز مت ہونے دو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے جذبات تمہیں عدل کرنے سے روک دیں۔ وَإِن تَلْوُواْ۔ نہ ہی تم کوئی پیچدار۔ ذومعنی بات کرو۔ أَوْ تُعْرِضُواْ۔ نہ ہی اس سے اعراض برتو۔ پہلو تہی کرو۔ اس لئے کہ فَإِنَّ اللّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً-(4:135) جو کچھ تم کرتے ہو‘ خدا کو اس کی خبر ہوتی ہے۔ تم اس سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔۔۔ یہ ہے عدل کا وہ معیار جو ایک مومن کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ ذرا سوچئے کہ جو معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل ہو گا جو اس صفت کے حامل ہوں‘ اس معاشرہ کی کیفیت کیا ہو گی۔ اس میں یہ نہیں ہو گا کہ اپنی پارٹی کا آدمی ہے تو اس کے لئے میزان اور ہو گی اور دوسری پارٹی کے آدمی کے لئے اور۔۔۔ اس میں‘ تو دشمن سے بھی عدل کیا جائے گا۔
وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ-(5:8) دیکھنا! ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ کر دے کہ تم اس کے ساتھ عدل نہ کرو۔ اس سے بھی عدل کرو۔ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی -(5:8) تقویٰ سے قریب ترین رَوش یہی ہے۔
قانونِ عدل
عدل کے سلسلہ میں اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ اس کی ایک شکل وہ ہے‘ جسے عدالتی عدل کہا جاتا ہے‘ یعنی لوگوں کے متنازعہ فیہ معاملات کا فیصلہ کرنا۔ اس کے متعلق قرآنِ کریم کا حکم ہے کہ: إِذَا حَکَمْتُم بَیْْنَ النَّاسِ أَن تَحْکُمُواْ بِالْعَدْلِ -(4:58) جب تم لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو‘ تو ہمیشہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ عدالتی عدل کے معنی یہ ہیں کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہو۔ لیکن قرآن کریم اس باب میں ایک قدم آگے جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر وہ قانون جس کے مطابق فیصلہ کیا جا رہا ہے‘ خود ہی عدل پر مبنی نہ ہو تو اس کی رو سے کیا ہوا فیصلہ کس طرح مبنی برعدل کہلا سکے گا۔‘‘ لہٰذا‘ جماعتِ مومنین کے متعلق قرآنِ کریم میں ہے: أُمَّۃٌ یَہْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ-(7:181) یہ جماعت ’’الحق‘‘ کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتی ہے اور اسی (الحق) کے ساتھ عدل کرتی ہے۔ یعنی ان کے قوانین‘ الحقؔ پر مبنی ہوتے ہیں اور انہی قوانین کے مطابق یہ لوگوں کے فیصلے کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ الحقؔ قرآن کریم ہے کیونکہ خود خدا کا ارشاد ہے کہ: وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ-(5:44) جو لوگ معاملات کے فیصلے قرآن کے مطابق نہیں کرتے‘ سو وہی کافر ہیں۔
واجب حق
عدل کی دوسری شکل یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کا واجب حق ادا کر دیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے۔ یہ وہ عدل ہے جو ہر شخص کی زندگی میں قدم قدم پر سامنے آتا ہے اور مومن اس میں ہر مقام پر پورا اترتا ہے۔ آپ سوچئے کہ جس معاشرہ میں ہر شخص کو اس کا حق‘ بلا کدو کاوش اور بلا پریشانی و تشویش ملتا چلا جائے۔ اس میں زندگی کس قدر خوشگوار گزرے گی۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے ایسے جامع الفاظ استعمال کئے ہیں جنہیں پھیلانے سے زندگی کا ہر گوشہ اس کے دائرے کے اندر آجاتا ہے۔ اس نے کہا ہے: وَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ-(6:152) ’’ماپ اور تول کو عدل و انصاف کے ساتھ پورا کرو۔‘‘ ماپ اور تول میں ہر قسم کے واجبات آجاتے ہیں۔
احسان
لیکن قرآنِ کریم عدل سے بھی ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور اس کے ساتھ احسان کا حکم دیتا ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے‘ عدل کے معنی ہیں جو کچھ کسی کا واجب ہے وہ ادا کر دینا لیکن اگر اس سے دوسرے کی ضرورت پوری نہ ہوتی ہو تو قرآن کی تاکید یہ ہے کہ اسے‘ اس کے واجب سے زیادہ دے کر‘ اس کی کمی کو پورا کر دیا جائے۔ اسے احسان کہتے ہیں جس کے معنی ہیں کسی کے بگڑتے ہوئے توازن کو برقرار کر دینا اور اس طرح معاشرہ میں حسن پیدا کر دینا۔
والدین سے احسان
اس ’’احسان‘‘ کی ابتداء اپنے گردوپیش سے کی جائے گی اور اس میں سرِفہرست والدین کا نام آئے گا۔ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً-(4:36) آپ حیوانات پر غور کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہاں‘ ماں باپ اپنے بچے کی پرورش تو کرتے ہیں لیکن بچے اپنے والدین کو پوچھتے تک نہیں۔ وہ انہیں جانتے پہچانتے بھی نہیں۔ یہ خصوصیت انسانی زندگی میں آکر پیدا ہوتی ہے کہ جب ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو اولاد ان کی خبرگیری کرے۔ والدینؔ کے بعد‘ دوسرے لوگ بھی اسی زمرے میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے: وَبِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ۔ یہی احسان دیگر اقربا سے بھی کرو اور ان لوگوں سے بھی جو معاشرہ میں کسی وجہ سے تنہا رہ گئے ہوں یا جو حرکت کے قابل نہ رہیں اور ان کا چلتا ہوا کاروبار رک جائے۔ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبَی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ۔ نیز ہمسایہ سے بھی‘ خواہ وہ قریب کا ہو یا دور کا۔ اپنوں میں سے ہو یا بیگانوں میں سے۔ نیز اپنے رفقائے کار کے ساتھ بھی اور ان مسافروں کے ساتھ بھی جن کے پاس زادِ راہ نہ رہا ہو‘ یا وہ ویسے ہی تمہارے حسنِ سلوک کے متمنی ہوں۔ وَمَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ-(4:36) اور ان لوگوں کے ساتھ بھی جو تمہارے ماتحت کام کریں۔ ان سب کے ساتھ عدل کرو۔ ان کے حق میں کسی قسم کی کمی نہ کرو اور اگر اس کے باوجود‘ ان میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کمی کو بھی پورا کرو۔ اور اس کا دل میں خیال تک بھی نہ لاؤ کہ تم نے ان پر کوئی احسان کیا ہے‘ چہ جائیکہ اس احسان کی وجہ سے تم ان پر بارگراں بن جاؤ اور انہیں خواہ مخواہ قلبی اور ذہنی اذیت پہنچاتے رہو۔ اس لئے کہ مومنین کا شعار یہ ہے کہ: لاَ یُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُواُ مَنّاً وَلاَ أَذًی-(2:262) وہ کسی کو کچھ دے کر اس کے سر پر سوار نہیں ہو جاتے۔ سر پر سوار ہونا تو ایک طرف‘ وہ ان سے کہہ دیتے ہیں کہ:
لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَاء وَلَا شُکُوراً-(76:9) ہم تم سے‘ اس کا بدلہ تو ایک طرف‘ شکریہ تک کے بھی خواہاں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ: ہَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ-(55:60) اس کمی کی وجہ سے تمہارا توازن بگڑ رہا تھا۔ ہم نے اس توازن کو برقرار کر دیا۔ بس یہی اس کا بدلہ ہے۔ دوسروں کی کمی کو پورا کرنے کے سلسلہ میں وہ اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ: وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ-(59:9) وہ خود تنگی میں گزارہ کر لیتے ہیں اور دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے ہیں۔
مقروض سے نرمی
یہ تو احسانؔ کی صورت ہے جس میں کچھ واپس لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اگر کسی کو قرض دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مقروض کی حالت سقیم ہے تو اس پر سختی نہیں کرتے بلکہ اسے اس وقت تک کی مہلت دیتے ہیں جب تک وہ آسانی سے قرض ادا کر دینے کے قابل نہ ہو جائے اور اگر ایسا ہو کہ وہ قرضہ ادا کرنے کے قابل ہی نہیں رہا تو قرض معاف کر دیتے ہیں۔ وَإِن کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلَی مَیْْسَرَۃٍ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ -(2:280)
ناحق مال نہ کھاؤ
ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی یہ خصوصیات ہوں وہ کسی کا مال ناحق کس طرح کھا جائیں گے اور جائز اور ناجائز کی تمیز کو کس طرح مٹا دیں گے؟ انہیں اس کی تاکید کی گئی ہے کہ: لاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ -(2:188) آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریق پر مت کھاؤ۔ یا اگر معاملہ عدالت تک پہنچ چکا ہے تو ایسا نہ کرو کہ حکام کو رشوت دے کر ایسا فیصلہ کرا لو جس سے دوسروں کا کُچھ مال ناجائز طور پر تمہیں مل جائے حالانکہ تم جانتے ہو کہ جو مال اس طرح حاصل کیا جائے اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
***
حفاظتِ عصمت
یہاں تک ضبطِ نفس کی ان حدود کا ذکر آیا ہے جن کا تعلق مال و دولت سے ہے۔ اس کے بعد جنسی جذبات میں ضبط و تحدید کی صورت سامنے آتی ہے۔ اس باب میں مومن انتہائی پاکبازی کا مظہر ہوتے ہیں۔ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ-(23:5) وہ اپنی عصمت کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں عصمت و عفت کا لفظ صرف عورت کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن قرآن کریم اس باب میں‘ مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ وہ مردوں سے بھی اسی طرح عصمت کا مطالبہ کرتا ہے جس طرح عورتوں سے۔ وہ کہتا ہے کہ مومنین‘ زنا تو خیر بہت دور کی بات ہے‘ فواحش (یعنی عام بے حیائی کی باتوں) کے بھی قریب تک نہیں پھٹکتے‘ خواہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی ہو یا پوشیدہ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ -(6:151) خود بھی بچتے ہیں اور اس قسم کی تدابیر اختیار کرتے ہیں جن سے اس قسم کی باتیں معاشرہ میں پھیلنے نہ پائیں -(24:19) وہ اپنی نگاہوں کو کبھی بے باک نہیں ہونے دیتے کیونکہ ان سے کہا گیا ہے کہ: یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ (24:30)۔ اپنی نگاہوں کو بے باک مت ہونے دو۔ وہ جنسی بے راہ روی کے خیال تک کو اپنے دل میں نہیں آتے دیتے‘ اس لئے کہ ان کا ایمان ہے کہ: یَعْلَمُ خَاءِنَۃَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُورُ-(40:19) خدا‘ نگاہ کی خیانت اور دل میں پوشیدہ خیالات تک سے واقف ہے۔
خیالات کی پاکیزگی
علاوہ بریں‘ عام جذبات میں بھی ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ انہیں کبھی بدلگام اور حدود فراموش نہیں ہوتے دیتے۔ اگر کبھی ان میں شدت پیدا بھی ہو تو وہ (تخریب کی بجائے) ان کا رخ تعمیری کاموں کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ اسی لئے مومنین کی خصوصیت کَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ-(3:134) بتائی گئی ہے۔ اس کے معنی ’’غصے کو دبا لینے والے‘‘ نہیں۔ اس کے معنی ہیں‘ اس زائد قوت کو تعمیری کاموں کی طرف منتقل کر دینے والے۔
جذبات پر قابو
اس کے بعد ہے: وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ -(3:134) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے مقامات پر یہ نہیں دیکھتے کہ دوسرے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں (تاکہ وہ بھی ویسا ہی برتاؤ ان کے ساتھ کریں)۔ وہ ان کے برتاؤ سے قطع نظر کر کے‘ دیکھتے یہ ہیں کہ انہیں قوانینِ خداوندی کے مطابق کیا کرنا چاہئے۔ ان کے جذبات کبھی سرکشی اختیار نہیں کرتے۔ وہ انہیں ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ شیطان ان پر کبھی غلبہ نہیں پا سکتا۔ إِنَّ عِبَادِیْ لَیْْسَ لَکَ عَلَیْْہِمْ سُلْطَانٌ -(15:42) حتیٰ کہ اگر کبھی اس قسم کا کوئی خیال یونہی گھومتے پھرتے ان کے دل میں آجائے تو وہ فوراً قانونِ خداوندی کو اپنے سامنے لے آتے ہیں اور اس سے یوں ہوتا ہے گویا ایک دم روشنی ان کے سامنے آگئی اور انہوں نے صحیح راستہ اختیار کر لیا۔ إِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّہُمْ طَاءِفٌ مِّنَ الشَّیْْطَانِ تَذَکَّرُواْ فَإِذَا ہُم مُّبْصِرُونَ-(7:201) زندگی کے ہر شعبے میں‘ قانونِ خداوندی کو اپنے سامنے رکھنا‘ یہ ہے وہ سب سے بڑی قوت جس سے مومنین‘ غلط باتوں کے ارتکاب سے مجتنب رہتے ہیں۔ اس کو ذکر اللہ کہتے ہیں۔
خشیّتِ قلبی
ان قوانین کی خلاف ورزی سے جو تباہیاں آتی ہیں‘ ان کا احساس انہیں کپکپا دیتا ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ إِذَا ذُکِرَ اللّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ مومنین کی خصوصیت یہ ہے کہ جب قوانینِ خداوندی کا مجموعی تصور ان کے سامنے آتا ہے تو ان کی خلاف ورزی سے جو تباہی آتی ہے اس کے احساس سے ان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیْمَاناً وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ-(8:2) اور جب ان قوانین کی تفاصیل ان کے سامنے آتی ہیں تو ان پر عمل پیرا ہونے کے خوشگوار نتائج کے تصور سے ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ ان قوانین کی محکمیت پر پورا پورا اعتماد رکھتے ہیں اور یہی وہ‘ قوانینِ خداوندی پر اعتمادِ کلی اور یقین کامل ہے جس سے انہیں استقامت حاصل ہوتی ہے اور ان کے پاؤں میں کبھی لغزش نہیں آتی۔ اسی لئے انہیں الصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ وَالْقَانِتِیْنَ -(3:17) کہہ کر پکارا گیا ہے۔ یعنی مستقل مزاج۔ مصافِ زندگی میں جم کر کھڑے ہونے والے۔ اپنے دعویٰ ایمان کو اپنے اعمال سے سچ کر دکھانے والے اور قوانین خداوندی کا پورا پورا اتباع کرنے والے۔ اپنی تمام توانائیوں کو ان کے مطابق صرف کرنے والے۔
***
صاحبانِ عقل و بصیرت
جذبات کو کنٹرول میں رکھنے کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ کبھی عقل و فکر سے عاری نہیں ہوتے۔ اپنا دماغی توازن کبھی نہیں کھوتے۔ ہر معاملہ پر نہایت ٹھنڈے دل سے غور و فکر کر کے صحیح نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ اسی لئے قرآن نے انہیں أُوْلُواْ الأَلْبَابِ -(13:19)کہہ کر پکارا ہے یعنی وہ صاحبان عقل و بصیرت یَتَفَکَّرُونَ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِجو کائنات کی تخلیق پر غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً -(3:190) اے ہمارے نشوونما دینے والے! تو نے اس عظیم کارگۂ کائنات کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ ان کے عقل و فکر سے کام لینے کی کیفیت یہ ہے کہ إِذَا ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْْہَا صُمّاً وَعُمْیَاناً -(25:73) اور تو اور‘ جب ان کے سامنے ان کے رب کے احکام و قوانین پیش کئے جاتے ہیں تو وہ ان پر بھی بہرے اور اندھے بن کر نہیں گر پڑتے۔ انہیں غور و فکر سے قبول کرتے‘ اور علم و بصیرت کی رو سے ان پر عمل کرتے ہیں۔ اس طرح وحئ خداوندی پر ایمان لاتے ہیں اور پھر اپنے جذبات کو اس وحی کے تابع رکھتے ہیں‘ کیونکہ قرآن کا ارشاد ہے کہ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوَاہُ بِغَیْْرِ ہُدًی مِّنَ اللَّہِ -(28:50) ’’اس سے بڑھ کر راہ گم کردہ اور کون ہو سکتا ہے جو خدا کی راہنمائی کے بغیر اپنے جذبات کا اتباع کرتا ہے۔۔۔ یوں‘ وحئ خداوندی‘ علم و عقل اور جذبات کے حسین امتزاج سے‘ مرد مومن کا قالب تیار ہوتا ہے۔
دلائل و براہین
اقبالؔ ؒ کے الفاظ میں
بتاؤں تجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہے
یہ ہے نہایت اندیشہ و کمالِ جنوں
عناصر اس کے ہیں‘ روح القدس کا ذوقِ جمال
عجم کا حسنِ طبیعت‘ عرب کا سوز دروں
اور ظاہر ہے کہ جب مومنین خود کسی بات کو سوچے سمجھے بغیر نہ قبول کرتے ہیں نہ تسلیم‘ تو وہ دوسروں سے اپنی بات کس طرح دھاندلی سے منوا سکتے ہیں۔ وہ اپنے ہر دعوے کو دلیل و برہان کی رو سے پیش کرتے اور علم و بصیرت کی رو سے منواتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ سے کہا گیا کہ آپ اعلان کر دیجئے کہ: أَدْعُو إِلَی اللّہِ عَلَی بَصِیْرَۃٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ -(12:108) میں تمہیں جو خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں تو علیٰ وجہ البصیرت ایسا کرتا ہوں۔ میں بھی یہی کرتا ہوں اور میرے متبعین بھی ایسا ہی کریں گے۔ ہماری دعوت علم و بصیرت پر مبنی ہو گی۔ اسی لئے جماعتِ مومنین سے تاکید کی گئی کہ: ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ -(16:125) تم لوگوں کو‘ اپنے رب کے راستے کی طرف اس انداز سے دعوت دو کہ ان کے دل اور دماغ دونوں کی تسکین ہو جائے۔ وہ اسے ذہن اور قلب کی پوری رضامندی کے ساتھ مانیں اور جو اعتراضات وہ پیش کریں ان کا جواب نہایت حسن کارانہ انداز سے دو۔ یوں ہی اندھا دھند مت جھگڑتے چلے جاؤ۔ فرعون جیسے سرکش اور متکبر کو بھی پہلے نرمی اور آشتی سے سمجھانے کی کوشش کرو۔ فَقُولَا لَہُ قَوْلاً لَّیِّناً لَّعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَی-(20:44) ہو سکتا ہے کہ اس طرح بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ اپنی سرکشی کے تباہ کن نتائج سے ڈر جائے لیکن اگر واسطہ ایسے لوگوں سے پڑ جائے جو اپنی ضد اور جہالت پر اڑے رہنا چاہیں اور کسی بات پر دھیان دینے کی کوشش ہی نہ کریں‘ تو ان سے اعراض برتو۔ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْن-(7:199) لیکن اس کے باوجود ایسے موقعہ کی تلاش میں رہو کہ وہ بات سننے پر آمادہ ہوں تو ان تک پھر خدا کا پیغام پہنچاؤ۔ وَذَکِّرْ بِہِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ-(6:70) تاکہ وہ اپنی غلط روی کے باعث قرآن کی راہنمائی سے محروم نہ رہنے پائیں۔
اپنی اصلاح
لیکن دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ کہنے والا خود اپنی اصلاح کرے۔ جماعتِ مومنین کا یہی شیوہ ہوتا ہے۔ وہ پہلے خود عمل کرتے ہیں اور پھر دوسروں کو اس کی دعوت دیتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے خدا کا ارشاد ہے کہ: لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ Oکَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّہِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ -(61:2-3) تم وہ بات کیوں کہتے ہو جسے خود کر کے نہیں دکھاتے۔ اللہ کے نزدیک یہ انداز بڑا ناپسندیدہ ہے کہ تمہارے قول اور فعل میں تضاد ہو۔ ایسی نصیحت جس پر انسان خود عمل نہ کرے‘ محض شاعری بن کر رہ جاتی ہے۔ اور اس قسم کی روش مومن کا شعارِ زندگی نہیں ہو سکتی۔
شاعری مت کرو
اس لئے قرآن میں آیا ہے کہ: وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنبَغِیْ لَہُ -(36:69) ہم نے اپنے رسول کو شاعری نہیں سکھائی۔ شاعری اس کے شایانِ شان ہی نہ تھی اور یہی وجہ ہے کہ قرآن نے شاعر اور مومن کو ایک دوسرے کی ضد بتایا ہے۔ چنانچہ سورۂ شعراء میں‘ شاعروں کی یہ خصوصیات بتائی ہیں کہ وہ اپنے تصورات کی دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ کبھی اس وادی میں۔ کبھی اس بیابان میں۔ ایک ایسے اونٹ کی طرح جسے جھوٹی پیاس اِدھر اُدھر لئے پھرے اور ان کی ساری عمر باتیں کرنے میں گزر جاتی ہے اور وہ عمل کے قریب تک نہیں پھٹکتے۔ ان خصوصیات کا ذکر کرنے کے بعد کہا: إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ -(26:227) لیکن مومنین اس قسم کے نہیں ہوتے۔ وہ ابدی صداقتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے مطابق کام کر کے دکھاتے ہیں۔ واضح رہے کہ قرآنِ کریم نے جب شاعری کی مذمت کی ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بات کلامِ موزوں میں پیش کرے تو وہ قابلِ مذمت ہے اور اگر وہ اسے نثر میں بیان کرے تو قرآن کی رُو سے مستحسن۔ بات نثر اور نظم کی نہیں بات اس ذہنیت کی ہے جسے قرآن نے ’’شاعری‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس ذہنیت کے معنی یہ ہیں کہ انسان کے سامنے زندگی کا کوئی متعین مقصد اور نصب العین نہ ہو۔ وہ اپنے جذبات کی رو میں جو جی میں آئے کہتا چلا جائے اور جو کچھ کہے اس میں بھی تصنع اور بناوٹ ہو اور دوسرے یہ کہ وہ ساری عمر باتیں کرتا رہے ان پر عمل کبھی نہ کرے۔ ذہنیت اس کی یہ ہو اور وہ اسے نوائے سروش سے تعبیر کرے اپنے آپ کو صاحبِ وجدان قرار دے۔ یہ ہے وہ ذہنیت جسے مومن کی ذہنیت کی ضد قرار دیا گیا ہے‘ خواہ اس ذہنیت کا حامل‘ نثر میں بات کرے یا نظم میں۔ مومن کے سامنے ایک متعین نصب العین حیات ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے۔
چھوٹی موٹی لغزشیں
اس میں شبہ نہیں کہ چھوٹی موٹی لغزشیں مومنین سے بھی ہو جاتی ہیں۔ یہ معصوم عن الخطاء نہیں ہوتے۔لیکن یہ لغزشیں ان سے سہو و خطا کی بناء پر نادانستہ سرزد ہوتی ہیں جن سے وہ فوراً تائب ہو جاتے ہیں۔ وہ بنیادی غلط روی سے‘ جسے قرآن نے کبائر سے تعبیر کیا ہے‘ ہمیشہ مجتنب رہتے ہیں۔ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُونَ کَبَاءِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ -(53:32) مومن وہ ہیں جو بنیادی غلط کاریوں اور بے حیائی کی باتوں سے ہمیشہ بچتے ہیں۔ ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے کبھی کبھار‘ نادانستہ کوئی چھوٹی موٹی لغزش ہو جائے۔ لہٰذا مومن کا انداز یہ ہے کہ وہ جس بات کی دوسروں کو نصیحت کرتا ہے اس پر پہلے خود عمل کرتا ہے۔
اعتراض کی بجائے اصلاح
لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کو اس کی غلطی پر ٹوکے تو وہ اسے یہ کہہ کر جھٹک دے کہ میاں! پہلے اپنی اصلاح تو کرو۔ پھر دوسروں سے کہنا۔۔۔ نہیں! مومن کا یہ شعار نہیں۔ وہ کہنے والے کی بات کو توجہ سے سنتا ہے۔ پھر اپنا جائزہ لیتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ اس میں واقعی وہ کمزوری موجود ہے تو اس کی اصلاح کر لیتا ہے اس لئے کہ وہ اس اصول کو پیشِ نظر رکھتا ہے جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ: عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ -(5:105) ’’تم اپنی اصلاح کی فکر کرو۔ اگر تم صحیح راستے پر جا رہے ہو‘ تو غلط راستے پر چلنے والا تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ اس لئے جو شخص تمہاری غلط روی پر ٹوکتا ہے اس کی بات سننے سے یہ کہہ کر انکار نہ کر دو کہ جب تم خود اس پر عمل نہیں کرتے تو تمہیں دوسروں کو نصیحت کرنے کا کیا حق ہے؟ تمہیں تمہاری غلط روی کا نقصان پہنچے گا۔ اس کی غلط روی کا نہیں۔ اس لئے کہ: وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی -(6:164) ہر شخص اپنی غلط روی کا خمیازہ خود بھگتے گا۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا‘ کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اپنی پاکبازی کی دھونس نہ جماؤ
لیکن اپنی اصلاح کرنے کے بعد‘ مومن کی یہ کیفیت نہیں ہوتی کہ وہ ہر ایک پر اپنی نیکیوں کی دھونس جماتا رہتا ہے اور معاشرہ میں بڑا پاکباز بن کر‘ اپنے آپ کو فریب دیتا اور دوسروں پر رعب گانٹھتا ہے۔ قطعاً نہیں۔ اس لئے کہ اس کے سامنے یہ اصول ہوتا ہے کہ: فَلَا تُزَکُّوا أَنفُسَکُمْ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَی -(53:32) یونہی اپنے آپ کو پاکباز نہ ٹھہراتے پھرو۔ اس کا فیصلہ میزانِ خداوندی کی رو سے ہوتا ہے کہ تم میں سے کون تقویٰ شعار ہے۔ مومن کا تو شعار یہ ہے کہ اس میں جس قدر زیادہ خوبیاں پیدا ہوتی جاتی ہیں‘ وہ اسی قدر (شاخ ثمردار کی طرح) اور جھکتا چلا جاتا ہے۔ وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً -(25:63) اللہ کے بندوں کا انداز یہ ہے کہ وہ اپنے اندر جھوٹا تکبّر پیدا نہیں ہونے دیتے۔ خوبیوں کا وزن انہیں اور جھکا دیتا ہے۔
***
باطل کا مقابلہ کرتے ہیں
لیکن جھکنے کے معنی یہ نہیں کہ وہ ہر ایک سے دبتے چلے جاتے ہیں۔ قطعاً نہیں۔ وہ جھکتے ہیں حقؔ کے سامنے۔ لیکن جو حقؔ کی مخالفت کرتا اور اس سے سرکشی برتتا ہے‘ اس کا ڈت کر مقابلہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں محمد رسول اللہ والذین معہ‘ کو رحماء بینھم کہا ہے (یعنی آپس میں‘ ایک دوسرے کے ساتھ‘ بڑی محبت اور نرمی سے سلوک کرنے والے) وہاں انہیں أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ -(48:29) بھی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی حقؔ کی مخالفت کرنے والوں کے مقابلہ میں چٹان کی طرح سخت۔ مومن کی کیفیت یہ ہے کہ:
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
منافق کی مخالفت
خود نبی اکرمﷺ کے متعلق قرآن میں ہے کہ ’’یہ خدا کی رحمت ہے کہ آپﷺ اس قدر نرم دِل واقع ہوئے ہیں۔ اگر آپﷺ سخت مزاج اور سنگدل ہوتے تو آپ کی جماعت کے افراد آپ سے الگ ہو جاتے‘‘ -(3:158) لیکن اس کے ساتھ ہی حضورﷺ سے تاکیداً کہا گیا کہ: یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْْہِمْ -(9:73) اے نبیﷺ! جو لوگ حق کی مخالفت کرتے ہیں۔ یا جو تمہارے ساتھ رہتے ہوئے‘ منافقانہ روش اختیار کرتے ہیں‘ ان سے جہاد کرو۔ اور ان کے خلاف شدت اختیار کرو۔ یعنی جو لوگ کھلے بندوں حق کی مخالفت کریں اور سرکشی اختیار کریں۔ یا جو لوگ منافقت برتیں‘ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ نہیں کیا جائے گا۔ ان کی مخالفت یا منافقت کو سختی سے روکا جائے گا۔ یاد رکھئے! مومنین کے معاشرہ میں‘ منافقین کا وجود۔۔۔ یعنی وہ لوگ جو بظاہر کچھ اور بات کریں اور ان کے دل میں کچھ اور ہو۔۔۔ ایک زہر آلود پھانس ہوتی ہے‘ جس کا علاج نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے اگر نوکِ نشتر کی بھی ضرورت پڑے تو اس میں بھی تامل نہیں کرنا چاہئے۔ مومنؔ کی نرم مزاجی کے یہ معنی نہیں کہ وہ منافقین کے سامنے بھی جھک کر رہتا ہے۔ ایسا کرنا تو خود منافقت اور مداہنت ہو گی۔ وہ منافق سے برملا کہہ دیتا ہے کہ تم منافقت برتتے ہو۔ ہم تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ اور دوسروں کو بھی اس کی منافقت سے آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ کسی کو دھوکا نہ دے سکے۔ اس باب میں قرآن کی تعلیم بڑی واضح اور اس کی تاکید بڑی سخت ہے۔ اس لئے مومنین‘ حق کے مخالفین اور منافقین سے برملا کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ تم ہمارے دوست اور رازدار نہیں ہو سکتے۔ سورۂ توبہ میں ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ آبَاء کُمْ وَإِخْوَانَکُمْ أَوْلِیَاء إَنِ اسْتَحَبُّواْ الْکُفْرَ عَلَی الإِیْمَانِ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ-(9:23) O
اے جماعتِ مومنین! اگر تمہارے باپ اور بھائی بھی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں‘ تو انہیں اپنا دوست مت بناؤ۔ تم میں سے جو کوئی انہیں اپنا دوست رکھے گا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جو قوانینِ خداوندی سے سرکشی برتتے ہیں۔
ایمان کے معنی
اتنا ہی نہیں۔ عزیز سے عزیز دوست۔ قریبی سے قریبی رشتہ دار۔ بیوی بچے۔ مال و دولت۔ سامانِ زیست۔ متاعِ حیات۔ غرضیکہ دنیا کی کوئی چیز بھی‘ مومن کے نزدیک‘ ایمان اور اسلامی نظام کے مقابلہ میں عزیز نہیں ہو سکتی۔ یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ
وجۂ جاذبیت ہیں لیکن جب ان میں اور ایمان کے کسی تقاضے میں تصادم ہو‘ تو ان میں سے کسی شے کو بھی ایمانی تقاضے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے اور مومنین کا شعار۔ ان کے خدا کا حکم یہ ہے کہ: قُلْ إِن کَانَ آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَآؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا -(9:24) اے رسولﷺ! ان سے کہہ دو کہ اگر تمہارے ماں باپ۔ بہن بھائی۔ بیوی بچے۔ عزیز رشتہ دار۔ وہ مال و دولت جسے تم اتنی محنت سے کماتے ہو۔ وہ کاروبار جس کے مندا پڑ جانے سے تم خائف رہتے ہو اور وہ محلات (وِلاز) جو تمہیں اس قدر پسند ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی چیز أَحَبَّ إِلَیْْکُم مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہِ۔ تمہیں خدا اور اس کے رسول اور خدا کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہو گئی۔ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّیٰ یَأْتِیَ اللّہُ بِأَمْرِہِ ط۔ تو تم انتظار کرو۔ تاآنکہ خدا کا قانونِ مکافات تمہاری اس روش کا تباہ کن نتیجہ تمہارے سامنے لے آئے۔ تمہاری یہ روش مومنین کی روش نہیں۔ فاسقین کی ہو گی۔ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ-(9:24) اور خدا کا قانون یہ ہے کہ فاسقین پر۔۔۔ یعنی جو صحیح راستہ چھوڑ کر غلط راہوں پر چل نکلیں۔ کبھی کامیابیوں کی راہ کشادہ نہیں ہوتی۔
مال اور جان خُدا کے
مومن کی تو کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنا مال اور جان‘ سب خدا کے ہاتھ بیچ دیے ہوتے ہیں۔ جس دن وہ خدا پر ایمان لاتا ہے خدا اس معاہدہ کا اعلان کر دیتا ہے کہ: إِنَّ اللّہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ -(9:111) سُن رکھو کہ اللہ نے مومنین کا جان اور مال‘ جنت کے عوض خرید لیا ہے۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ: یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ-(9:111) وہ خدا کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ پھر یا تو فاتح و منصور واپس لوٹتے ہیں اور یا میدانِ جنگ میں جان دے دیتے ہیں۔
مومنین کی صفات
ان مومنین کی صفات یہ ہیں کہ التَّاءِبُونَ۔ سفر حیات میں وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ ان کا قدم غلط سمت کی طرف اٹھ گیا ہے‘ وہ وہیں رُک جاتے ہیں اور جہاں سے قدم غلط اٹھا تھا وہاں واپس آکر صحیح راستے پر ہو لیتے ہیں۔ الْعَابِدُونَ۔ وہ قوانینِ خداوندی کی پوری پوری اطاعت کرتے ہیں۔ الْحَامِدُونَ۔ وہ انفس و آفاق کی ہر شے پر غور و فکر کرنے کے بعد علیٰ وجہ البصیرت اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کارگہ کائنات کی ایک ایک شے اپنے خالق کی حمد و ستائش کی منہ بولتی تصویر ہے۔ السَّاءِحُونَ۔ وہ اس مقصد کے لئے دنیا بھر کا سفر کرتے ہیں۔ الرَّاکِعُونَ السَّاجِدونَ۔ وہ ہمیشہ قانونِ خداوندی کے سامنے جھکے رہتے ہیں اور دل کے پورے جھکاؤ سے‘ اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ الآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاہُونَ عَنِ الْمُنکَرِ وہ ان باتوں کا حکم دیتے ہیں جنہیں قانونِ خداوندی صحیح تسلیم کرتا ہے اور ان سے روکتے ہیں جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّہِ۔ وہ ان تمام حدود کی نگہداشت کرتے ہیں جنہیں قانون خداوندی نے متعین کیا ہے‘ اور ان کے اندر رہتے ہوئے صحیح آزادی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ -(9:112) یہ ہیں وہ مومن جن کے لئے دنیا اور آخرت کی زندگی کی خوشگواریوں کی بشارتیں ہیں۔
مردوں اور عورتوں دونوں کی خصوصیات
یہ ہیں مختصر الفاظ میں‘ وہ صفات جن کے حامل انسان کو مومنؔ کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ان تمام صفات میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ قرآنِ کریم میں مومن کی کوئی ایک خصوصیت بھی ایسی نہیں جو صرف مردوں کے لئے مخصوص ہو اور اس میں عورتیں شامل نہ ہوں۔ اگرچہ خود لفظ ’’مومنین‘‘ کے اندر مرد اور عورتیں ازخود شامل ہیں لیکن قرآنِ کریم نے ایک مقام پر مومن مردوں اور مومن عورتوں کا ذکر اس طرح شانہ بشانہ کیا ہے کہ مصافِ زندگی میں دونوں‘ ایک ہی صف میں‘ ساتھ ساتھ چلتے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ سورۂ احزاب کی آیت (33:35) کو دیکھئے۔ اس میں کس وضاحت اور صراحت سے کہا گیا ہے کہ اگر مردوں میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ قانونِ خداوندی کی اطاعت سے اپنی تکمیلِ ذات کر سکتے ہیں تو عورتوں میں بھی اس کی صلاحیت ہے (الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ) اگر مرد اس پارٹی (جماعت) کے رکن بن سکتے ہیں جو خدا کے قانون کے اٹل نتائج پر یقین رکھتے ہوئے امنِ عالم کی ذمہ دار ہو تو عورتیں بھی اس جماعت کی اسی طرح رکن ہو سکتی ہیں (الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ) اگر مردوں میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی استعداد کو اس طرح سنبھال کر رکھیں کہ ان کا استعمال صرف قانونِ خداوندی کے مطابق ہو تو یہی صلاحیت عورتوں میں بھی ہے (وَالْقَانِتِیْنَ وَالْقَانِتَاتِ) اگر مرد اپنے دعوٰئے ایمان کو اعمال سے سچ کر دکھانے کے اہل ہیں تو عورتیں بھی اس کے اہل ہیں (وَالصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقَاتِ) اگر مرد ثابت قدم رہ سکتے ہیں تو عورتیں بھی رہ سکتی ہیں (وَالصَّابِرِیْنَ وَالصَّابِرَاتِ) اگر مرد اس خصوصیت کے حامل ہو سکتے ہیں کہ جوں جوں ان کی صلاحیتیں بڑھتی جائیں وہ شاخ ثمردار کی طرح قانونِ خداوندی کی اطاعت میں اور جھکتے چلے جائیں تو یہی خصوصیت عورتوں میں بھی ہے۔ (وَالْخَاشِعِیْنَ وَالْخَاشِعَاتِ) اگر مردوں میں ایثار کا مادہ ہے تو عورتوں میں بھی ہے (وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ) اگر مرد اپنے آپ پر ایسا کنٹرول رکھ سکتے ہیں کہ انہیں جہاں سے روکا جائے وہ رک جائیں‘ تو عورتوں میں بھی اس کی صلاحیت ہے (وَالصَّاءِمِیْنَ وَالصَّاءِمَاتِ)۔ اگر مرد! اپنے جنسی میلانات کو ضوابط کی پابندی میں رکھ سکتے ہیں تو عورتیں بھی ایسا کر سکتی ہیں (وَالْحَافِظِیْنَ فُرُوجَہُمْ وَالْحَافِظَاتِ)۔ اگر مرد قانونِ خداوندی کو شعوری طور پر سمجھنے اور اسے ہر وقت پیشِ نظر رکھنے کے اہل ہیں تو عورتوں میں بھی اس کی اہلیت ہے (وَالذَّاکِرِیْنَ اللَّہَ کَثِیْراً وَالذَّاکِرَاتِ) جب یہ صلاحیتیں دونوں میں موجود ہیں تو ان کے نتائج بھی دونوں کے لئے یکساں طور پر موجود ہونے چاہئیں۔فلہٰذا نظامِ خداوندی میں دونوں کے لئے حفاظت کا سامان اور اجرِ عظیم موجود ہے ( أَعَدَّ اللَّہُ لَہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً)۔ سورۂ توبہؔ میں مومنین کی جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے (اور جنہیں پہلے بیان کیا جا چکا ہے) ان میں ایک صفت السائحون بھی ہے۔ یعنی دنیا کا سفر‘ یا سیر و سیاحت‘ کرنے والے۔ عورت کے متعلق جو نظریہ ہمارے ذہنوں میں راسخ ہے‘ اس کے پیشِ نظر خیال گزر سکتا تھا کہ کم از کم اس صفت میں مومن عورتیں شریک نہیں ہوں گی۔ قرآنِ کریم نے سٰئحٰت -(66:5) کا ذکر خاص طور پر کر کے‘ اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کر دیا اور اس کی وضاحت کر دی کہ اس صفت میں بھی مومن عورتیں مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔
***
اقامتِ صلوٰۃ و ایتائے زکوٰۃ
یہ ہیں وہ صفات و خصائص جن کے حامل افراد سے قرآن وہ امت تشکیل کرتا ہے جو تمام عالم انسانیت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاء عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً -(2:143) اس طرح ہم نے تمہیں ایک مرکزی امت بنا دیا۔ تاکہ تم عالم انسانیت کے اعمال کی نگرانی کرو (کہ وہ حق و انصاف پر قائم رہیں) اور تمہارا رسول تمہارے اعمال کی نگرانی کرے کہ تم نظامِ خداوندی کے مطابق چلتے رہو۔ دوسری جگہ ہے: کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔-(3:110) تم ایک بہترین قوم ہو جسے نوعِ انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔۔۔ یہ بھلائی کیا ہے؟ یہ کہ: تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ -(3:110) تم ان باتوں کا حکم دیتے ہو جنہیں وحی خداوندی مستحسن قرار دیتی ہے اور ان سے روکتے ہو جنہیں وہ ناپسندیدہ ٹھہراتی ہے۔ یعنی یہ لوگ (مومنین) پہلے اپنی زندگی وحئ خداوندی کے قالب میں ڈھالتے ہیں۔ پھر ایسا نظام قائم کرتے ہیں جس سے دوسرے لوگ بھی وحی کا اتباع کرتے جائیں۔۔۔ اسے قرآن کی اصطلاح میں نظامِ صلوٰۃ کہتے ہیں اور مقصد اس تگ و تاز سے یہ ہے کہ تمام افرادِ انسانیہ کو وہ ذرائع اور سامان میسر آتا رہے جس سے اس کی طبیعی زندگی اور ذات کی نشوونما ہوتی چلی جائے۔ اسے ایتائے زکوٰۃ کہتے ہیں۔ یعنی نوعِ انسان کو سامانِ نشوونما بہم پہنچانا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں جماعتِ مومنین کے ان ہر دو فرائض (ذمہ داریوں) کو بار بار دہرایا گیا ہے۔۔۔ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ -(9:71) حتیٰ کہ ان کی مملکت اور حکومت کی غرض و غایت بھی یہی بتائی گئی ہے۔ سورۂ حج میں ہے۔ الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِ -(22:41) یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر انہیں ملک میں اختیار و اقتدار حاصل ہو گیا تو یہ نظامِ صلوٰۃ قائم کریں گے اور نوعِ انسان کی نشوونما کا انتظام کریں گے۔ ان باتوں کا حکم دیں گے جنہیں قرآن صحیح تسلیم کرتا ہے اور ان سے روکیں گے جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے اور ان کے تمام معاملات منشائے خداوندی کے مطابق طے ہوں گے۔ اس مقام پر‘ ایک نکتہ کی وضاحت ضروری نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ خیال عام کیا جاتا ہے کہ اسلام میں‘ عورتوں کو نظامِ مملکت میں شریک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظریہ قرآنِ کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔ جو آیت ابھی ابھی آپ کے سامنے آئی ہے اس میں اسلامی حکومت کا فریضہ
امر بالمعروف و نہی عن المنکر بتایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر اس کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ یہ فریضہ مردوں اور عورتوں دونوں کا ہے۔ تنہا مردوں کا نہیں۔ سورۂ توبہ میں ہے۔ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ۔۔۔ -(9:71) مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ان کا فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
شمشیر زن مومن
بہرحال‘ کہا یہ جا رہا تھا کہ جماعتِ مومنین کا فریضہ ہے کہ وہ دنیا سے برائیوں کی روک تھام کا انتظام کریں۔ لیکن یہ روک تھام اندھی قوت کے زور سے نہیں ہو گی۔ وہ بھلائیوں کو اس قدر عام کرتے چلے جائیں گے کہ برائیاں خود بخود اپنی جگہ چھوڑتی جائیں‘ جس طرح تاریکی دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ روشنی لے آیئے۔ وَیَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّءَۃَ -(28:54) البتہ جو لوگ نظام حق و صداقت کے خلاف سرکشی پر اتر آئیں اور ظلم و استبداد سے کسی طرح باز ہی نہ آئیں‘ تو خلقِ خدا کو ان کے جور و ستم سے محفوظ رکھنے کے لئے‘ قوت کا استعمال ناگزیر ہو گا۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج-(57:25) ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا کہ وہ لوگوں کو علم و بصیرت کی رُو سے حق کی دعوت دیں۔ پھر ان کے ساتھ ضوابط قانون بھی نازل کئے کہ دنیا میں عدل قائم رکھا جا سکے۔ لیکن جو لوگ نہ دلائل و براہین کی رو سے مانیں۔ نہ قانونِ عدل و انصاف کی پابندی اور احترام کریں‘ تو ان کے لئے: وَأَنزَلْنَا الْحَدِیْدَ -(57:25) ہم نے شمشیرِ خاراشگاف بھی نازل کی ۔ جماعتِ مومنین‘ شمشیر کا استعمال مظلوم کی حمایت اور ظالم کے ظلم کی مدافعت کے لئے کرتی ہے۔
تعاون
اس مقصد کے لئے اگر دنیا کی کوئی اور قوم کسی قسم کی کوشش کرتی ہے تو جماعتِ مومنین ان کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ لیکن غلط کاموں میں کسی کا ساتھ نہیں دیتی۔ وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ -(5:2) ان کا شعار ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ: مَّن یَشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَکُن لَّہُ نَصِیْبٌ مِّنْہَا وَمَن یَشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّءَۃً یَکُن لَّہُ کِفْلٌ مِّنْہَا -(4:85) جو کسی اچھے کام میں دوسرے کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی خوشگوار نتائج میں اس کا بھی حصہ ہوتا ہے اور جو کسی خراب کام میں کسی کا ساتھ دیتا ہے‘ تو اس کے مضر نتائج کی ذمہ داری اس پر بھی عائد ہوتی ہے۔
ربط باہمی
یہ ہیں وہ بلند مقاصدِ حیات جن کے لئے جماعتِ مومنین کے افراد ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے‘ زندگی کی متلاطم ندیوں کو ’’مردانہ وار‘‘ پار کئے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ انہیں تعلیم ہی یہ دی گئی ہے کہ: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ-(3:200) تم اپنے مسلک پر نہایت استقامت سے جمے رہو اور ایک دوسرے کی استقامت کا موجب بنو۔ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ کر رہو اور ہر قدم پر قانونِ خداوندی کی نگہداشت کرو۔ یہی وہ روش ہے جس سے تمہیں سفرِ حیات میں کامیابی حاصل ہو گی۔ اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر‘ کَأَنَّہُم بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ-(61:4) گویا ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے کہ حوادثِ زمانہ کی سرکش موجیں اس سے آکر ٹکرائیں تو اپنا سر پھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں ان کے اس ارتباطِ باہمی اور باہمدگر پیوستگی کا ذریعہ‘ تمسک بالقرآن (خدا کی کتاب کے ساتھ وابستگی) ہوتا ہے کہ ان سے کہا گیا ہے کہ: وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ -(3:103) تم خدا کی کتاب کے ساتھ‘ سب کے سب مل کر‘ پوری مضبوطی سے وابستہ رہو اور آپس میں تفرقہ پیدا مت کرو۔ اس لئے کہ باہمی تفرقہ۔۔۔ امت کا فرقوں میں بٹ جانا۔۔۔ توحید نہیں‘ شرک ہے۔
تفرقہ شرک ہے
وَلَا تَکُونُوا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَO مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوا دِیْنَہُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْْہِمْ فَرِحُونَ -(30:31) دیکھنا! تم کہیں (اسلام لانے کے بعد پھر) مشرک نہ بن جانا۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے دین میں فرقے پیدا کر لئے اور خود بھی ایک گروہ بن گئے۔ اس سے کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ ہر فرقہ سمجھتا ہے کہ میں حق پر ہوں (اور باقی سب باطل پر ہیں) اور یوں امت کی اجتماعیت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔
نزولِ ملائکہ
اس کے برعکس امت کی وحدت اور استقامت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر رحمتوں کے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ جو انہیں دنیا اور آخرت میں زندگی کی خوشگواریوں کی بشارتیں دیتے ہیں۔ إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَاءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ۔ یہ واقعہ ہے کہ جو لوگ اس حقیقت پر ایمان لاتے ہیں کہ ہمارا نشوونما دینے والا اللہ ہے اور پھر اس دعویٰ پر جم کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ کسی قسم کا خوف کھاؤ۔ نہ افسردہ خاطر ہو اور اس جنتی زندگی کی خوشخبری لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ۔ ہم دنیا میں بھی تمہارے رفیق اور ساتھی ہیں اور آخرت کی زندگی میں بھی۔ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ أَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُونَ۔ -(41:30-31) تمہیں‘ دنیا اور آخرت میں‘ جو تمہارا جی چاہے گا ملے گا۔ جو مانگو گے‘ پاؤ گے۔ ہر قسم کی سربلندیاں اور سرفرازیاں تمہارے حصے میں آئیں گی اور یہ سب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوں گی۔۔۔ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ أُورِثْتُمُوہَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُون-(7:43) یہ وہ جنت ہے جس کے تم‘ اپنے اعمال کی وجہ سے‘ مالک بنائے گئے ہو۔
نیکی کا صحیح مفہوم
یہ ہیں وہ خصوصیات جن کے حامل انسانوں کو مومنؔ کہا گیا ہے۔ انہیں زندگی کی جن خوشگواریوں اور سربلندیوں کی بشارت دی گئی ہے‘ وہ انہی خصوصیات کا فطری نتیجہ ہوتی ہیں۔ محض مومنؔ کہلانے اور مسلمان نام رکھا لینے سے یہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ لَّیْْسَ بِأَمَانِیِّکُمْ وَلا أَمَانِیِّ أَہْلِ الْکِتَابِ-(4:123) یہ نتائج نہ تمہاری خوش فہمیوں سے حاصل ہو سکتے ہیں نہ ان اہلِ کتاب کی خالی تمناؤں سے۔ یہ تو صرف ان خصوصیات کے پیدا کرنے سے حاصل ہوں گے جنہیں مومنین کی صفات کہہ کر پکارا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کسی میں یہ خصوصیات موجود نہ ہوں‘ اور وہ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ جیسے ’’دینی اعمال‘‘ پر بھی محض میکانکی طور پر کاربند ہو‘ تو بھی یہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ: لَّیْْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔ نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف کرتے ہو یا مغرب کی طرف۔ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلآءِکَۃِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّیْنَ۔ اس کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ تم ان بلند حقیقتوں پر علیٰ وجہ البصیرت یقین رکھو جنہیں اجزائے ایمان کہا گیا ہے۔۔۔ یعنی خدا اور اس کے قانونِ مکافات پر ایمان۔ زندگی کے تسلسل پر ایمان۔ وحی کی رو سے دیئے ہوئے ضابطۂ قوانین پر ایمان۔ انبیاء اور ملائکہ پر ایمان۔۔۔ نیکی اس کی ہے جو ان حقیقتوں پر یقین محکم رکھے اور پھر وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآءِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ۔ مال و دولت کی محبت کے باوجود اسے دوسروں کی پرورش کے لئے دے دے۔ وہ رشتے دار ہوں یا ایسے لوگ جو معاشرہ میں تنہا رہ جائیں یا وہ لوگ جن کا چلتا ہوا کاروبار رک جائے یا ان میں کام کاج کی استطاعت نہ رہے۔ یا ایسے مسافر جو زادِ سفر سے محروم رہ جائیں یا وہ لوگ جن کی کمائی ان کی ضروریات کے لئے کافی نہ ہو یا وہ دوسروں کے پنجۂ استبداد میں گرفتار ہوں۔ ان مقاصد کے لئے مال و دولت کا پیش کر دینا یہ نیکی ہے۔ مختصر الفاظ میں نیکی یہ ہے کہ:
وَأَقَامَ الصَّلاۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ۔ ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں تمام افرادِ معاشرہ قوانینِ خداوندی کا اتباع کریں اس وقت فریضہ صلوٰۃ کی پابندی کریں اور نوعِ انسان کی پرورش کا سامان مہیا کریں۔ وَالْمُوفُونَ بِعَہْدِہِمْ إِذَا عَاہَدُواْ۔ نیکی ان کی ہے جو اپنے
عہد و پیمان کا احترام کریں اور قول اقرار کے پکے ہوں۔ وَالصَّابِرِیْنَ فِیْ الْبَأْسَاء والضَّرَّاء وَحِیْنَ الْبَأْسِ۔ اور جب مشکلات کا سامنا ہو تو نہایت ثابت قدمی سے ان کا مقابلہ کریں۔ أُولَءِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَأُولَءِکَ ہُمُ الْمُتَّقُونَ-(2:177) O یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دعویٰ ایمان کو اپنے اعمال سے سچا ثابت کر دکھاتے ہیں اور یہی ہیں وہ جو متقی کہلانے کے مستحق ہیں۔ نہ وہ جو محض رسمی طور پر نماز روزہ کی پابندی کر کے اس فریب میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم پکے مومن ہیں اور بڑے نیک کام کر رہے ہیں۔
خیرات کے کام
یہی نہیں۔ بلکہ ایسے خیراتی کام جنہیں عام طور پر ’’کارِخیر‘‘ سمجھا جاتا ہے‘ وہ بھی نظامِ خداوندی کے قیام کے لئے جدوجہد کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سورۂ توبہ میں ہے: أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَجَاہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ حاجیوں کے لئے سبیلیں لگا دینے والا یا خانہ کعبہ کی زیبائش و آرائش اور آباد کاری کے کاموں میں حصہ لینے والا‘ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو خدا اور اس کے قانونِ مکافات اور حیاتِ اخروی پر ایمان رکھے اور نظامِ خداوندی کے قیام کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا رہے!تم اپنی خوش عقیدگی کی بناء پر کچھ ہی کیوں نہ سمجھو۔ لاَ یَسْتَوُونَ عِندَ اللّہِ۔ میزانِ خداوندی میں یہ دونوں کبھی ہم وزن نہیں ہو سکتے۔ ایسا سمجھنا بڑی زیادتی ہے۔ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْن-(9:19) O اور خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ اس قسم کی زیادتی کرنے والوں پر کامیابی کی راہیں کبھی نہیں کھلا کرتیں۔ یہودیوں کے متعلق قرآن نے کہا ہے کہ وہ اسی قسم کی خود فریبی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے معاشرہ کا نظام ایسا قائم کر رکھا تھا جس میں کمزور‘ غریب‘ ناتواں افراد‘ اپنا گھر بار چھوڑ کر باہر نکل جانے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ جب وہ اس طرح باہر نکل کر‘ غیر محفوظ ہو جاتے اور دوسروں کے چنگل میں پھنس جاتے تو پھر وہی ان کے ابنائے وطن‘ جن کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر وہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے‘ خیرات کے پیسوں سے ان کا فدیہ ادا کرتے اور سمجھتے کہ ہم بڑا ثواب کا کام کر رہے ہیں۔ وَہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْْکُمْ إِخْرَاجُہُمْ-(2:85) حالانکہ ایسا نظام قائم کرنا جس میں معاشرہ کے غریب اور کمزور افراد‘ مظلومیت کا شکار ہو جائیں‘ ایسا جرمِ عظیم ہے جس کا کفارہ اس قسم کے خیرات کے کام کبھی نہیں بن سکتے۔ جماعتِ مومنین اس قسم کی خود فریبی کا شکار نہیں ہوتی۔ وہ نظام ایسا قائم کرتے ہیں جس میں اس قسم کے انفرادی خیراتی کاموں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ قرآن تسلیم کرتا ہے کہ اہلِ کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انفرادی طور پر دیانتدار ہیں لیکن اس کے باوجود وہ انہیں نظامِ خداوندی کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لئے کہ ان کا نظامِ معاشرہ اس قسم کا ہوتا ہے جس میں ان کی انفرادی نیکیاں خوشگوار نتائج پیدا نہیں کر سکتیں۔ دیکھئے قرآن اس حقیقت کو کیسے واضح اور بلیغ انداز میں پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ: وَمِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْہُ بِقِنطَارٍ یُؤَدِّہِ إِلَیْْکَ وَمِنْہُم مَّنْ إِن تَأْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لاَّ یُؤَدِّہِ إِلَیْْکَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْْہِ قَآءِماً۔ ان اہلِ کتاب میں وہ بھی ہے جس کے پاس اگر چاندی سونے کا ڈھیر بھی بطور امانت رکھ دیا جائے تو وہ اسے جوں کا توں واپس کر دے اور ایسا بھی کہ اگر اس پر ایک روپے کا بھی اعتماد کرو تو وہ اسے کبھی واپس نہ کرے بجز اس کے کہ تم اس کے سر پر ڈنڈا لے کر سوار رہو۔ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُواْ لَیْْسَ عَلَیْْنَا فِیْ الأُمِّیِّیْنَ سَبِیْلٌ۔ یہ اس لئے کہ ان کا نظامِ معاشرہ قومی عصبیت کی بنیادوں پر قائم ہے جس میں یہ عقیدہ دل کی گہرائیوں میں راسخ کر دیا جاتا ہے کہ تم دوسری اقوام کے لوگوں کے ساتھ جو جی میں آئے کرو۔ اس سے تم پر کوئی الزام نہیں ہو گا اور تماشا یہ کہ ان کے مذہبی پیشوا انہیں یہ بتاتے ہیں کہ یہ شریعتِ خداوندی کے عین مطابق ہے حالانکہ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُونَ-(3:74) O یہ خدا کے خلاف صریح کذب و افترا ہے اور ایسا کہنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔
قرآنِ کریم نے مثال تو یہودیوں کی دی ہے کہ وہ ایسا معاشرہ قائم کرتے تھے جس میں ان کے کمزور اور غریب بھائی گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور ہو جائیں اور اس طرح جب وہ دوسروں کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے تھے تو انہیں چھڑانے کے لئے فنڈ اکٹھا کرتے تھے اور اسے بڑا ثواب کا کام سمجھتے تھے لیکن اس سے اس نے اصول بہت بلند پیش کیا ہے یعنی ایسا معاشرہ قائم کرنا جس میں غریب لوگ محتاج سے محتاج تر ہوتے جائیں اور اس کے بعد ان کی طرف خیرات کے چند ٹکے پھینک کر یہ سمجھنا کہ ہم نے بڑا ثواب کا کام کیا ہے جرمِ عظیم ہے: فَمَا جَزَاء مَن یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرَدُّونَ إِلَی أَشَدِّ الْعَذَابِ۔۔۔-(2:85) جو قوم بھی ایسا کرے گی اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہو گی اور آخرت میں بھی سخت عذاب کی مستحق۔
***
مومن اور مسلم کا فرق
المختصر‘ یہ ہیں وہ خصوصیات جن کے حاملین کو مومنؔ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے مومن اور مسلمؔ کے الفاظ اکثر مقامات پر ہم معنی استعمال کئے ہیں لیکن ایک جگہ ایسی تشریح بھی کی گئی ہے جس سے‘ بعض گوشوں میں‘ ان دونوں کا فرق سامنے آجاتا ہے۔ سورۂ حجرات میں ہے: قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا۔ یہ بدوی قبائل‘ جو اسلامی مملکت کے قیام کے بعد‘ مسلمان ہوئے ہیں‘ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں۔ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِن قُولُوا أَسْلَمْنَا۔ ان سے کہو کہ یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور اس طرح مومن بن گئے ہیں بلکہ یہ کہو کہ ہم اس مملکت کے سامنے جھک گئے ہیں: وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیْمَانُ فِیْ قُلُوبِکُمْ۔ ابھی تک ایمان تمہارے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔۔۔ (49:14)۔ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَجَاہَدُوا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ أُوْلَءِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ-(49:15) O مومن کہلانے کے مستحق وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر‘ دل کی کامل رضامندی سے ایمان لاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں کسی قسم کے شک و شبہ کا گزر تک نہیں ہوتا۔ پھر وہ‘ اپنی جان اور مال سے‘ خدا کی راہ میں جہاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہیں وہ جو اپنے دعوےٰ ایمان میں سچے ہوتے ہیں۔
نفسیاتی تبدیلی
اس سے ہمارے سامنے مسلم اور مومن کا فرق آجاتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ مسلم وہ ہے جس سے احکامِ خداوندی کی اطاعت‘ قانون کے ذریعے جبراً کرائی جاتی ہے اور ان احکام کی اطاعت کا جذبہ جس کے دل کی گہرائیوں سے ابھرتا ہے اسے مومنؔ کہتے ہیں۔ مومن کی ذات (Personality) کی نشوونما اس طرح ہو جاتی ہے کہ وہ تمام صفات و خصوصیات جن کا ذکر گزشتہ اوراق میں کیا گیا ہے‘ اس کے مختلف گوشے (Facets) بن جاتے ہیں‘ اس لئے وہ ان صفات کا فطری مظہر ہوتا ہے‘ جس طرح سورج‘ روشنی اور حرارت کا فطری مظہر ہے۔ اسلامی معاشرہ کے اندر اگر ’’مسلم‘‘ ان قوانین کی اطاعت سے ان کے اثرات کو اپنے دل میں جذب کرتا جاتا ہے‘ اور یوں اس کی ذات کی نشوونما ہوتی چلی جاتی ہے۔ تو وہ بھی مقامِ مومن تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے جہاں اعرابؔ سے کہا گیا کہ وہ ابھی اپنے آپ کو مومنؔ نہ کہیں کیونکہ ہنوز ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا‘ وہاں ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ: وَإِن تُطِیْعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ لَا یَلِتْکُم مِّنْ أَعْمَالِکُمْ شَیْْئاً إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ-(49:14) O اگر تم نظامِ خداوندی کی اطاعت کرتے جاؤ گے تو تمہارے اعمال میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ انکے نتائج مرتب ہوتے چلے جائیں گے۔ اس طرح تخریبی عناصر سے تمہاری ذات کی حفاظت ہو جائے گی اور اس کی نشوونما کا سامان بھی تمہیں ملتا جائے گا۔ بشرطیکہ تم نے یہ اطاعت‘ محض رسمی طور پر نہ کی۔ اگر ایسا کرو گے تو مسلم کے مسلم ہی رہو گے۔ مومن نہیں بن سکو گے اسلامی نظام درحقیقت‘ اس تبدیلی سے قائم ہوتا ہے جو جماعتِ مومنین کے قلب میں پیدا ہوتی ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی تبدیلی کے بغیر‘ نظامِ خداوندی متشکل ہی نہیں ہو سکتا۔ إِنَّ اللّہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ(13:11)۔۔۔ یعنی خدا کسی قوم کی حالت میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک اس قوم کے اندر نفسیاتی تبدیلی نہ پیدا ہو جائے۔۔۔ یہ ایسی سنت اللہ (خدا کا اٹل قانون) ہے جس میں کبھی تغیر نہیں ہوتا۔ جماعتِ مومنین‘ اسی نفسیاتی تبدیلی کا مظہر ہوتی ہے اور یہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے اس قرآن کے مطابق زندگی بسر کرنے سے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ ؂
چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود
جاں چوں دیگر شد جہاں دیگر شود
(یہ قرآن) جب ’’جان‘‘ کے اندر (سرایت کر) جاتا ہے تو ’’جان‘‘ وہ جان نہیں رہتی اَور ہو جاتی ہے۔ جب ’’جان‘‘ اور ہو جاتی ہے تو جہان بھی اَور ہو جاتا ہے۔ (ترجمہ از سلیم)
اس حقیقت کو ایک بار پھر سمجھ لینا چاہئے کہ یہ بات قرآن کریم کی صحیح تعلیم اور اس کے مطابق تربیت سے پیدا ہوتی ہے ایک چیز ہے اسلام کی دعوت کا فکری طور پر سمجھنا اور اس طرح ذہنی طور پر اس کی صداقت کا معترف ہو جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے‘ کہ انسان کے دماغ میں اس دعوت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا نہیں ہوتے اور اس کے خلاف منطقی دلائل اور فلسفیانہ اعتراضات اسے ڈگمگا نہیں دیتے لیکن ایمان کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے‘ جب اس دعوت کے کسی تقاضے (یعنی مستقل قدر) اور انسان کی طبیعی زندگی کے کسی تقاضے میں (خواہ وہ محض جذباتی بات ہو یا محسوس مفاد کا سوال) تصادم ہو اور وہ طبیعی زندگی کے تقاضے پر‘ مستقل قدر کے تقاضے کو ترجیح دے۔ یہ ہے وہ ایمان جو دل کی گہرائیوں میں جاگزیں ہوتا ہے۔ اسی کے حاملین کو مومن کہتے ہیں جن کے متعلق خدا کا ارشاد ہے کہ: أُولَءِکَ عَلَیْْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ وَأُولَءِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ-(2:157) O
میں اس حقیقت کو پھر دہرا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ ابھی ابھی کہا ہے اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ قرآنِ کریم نے مومن اور مسلم میں مستقل طور پر یہ تفریق کی ہے۔ بالکل نہیں۔ اس نے مومن اور مسلم کے الفاظ مرادف معنوں میں بھی استعمال کئے ہیں اور مومنوں کی عظیم ترین شخصیتوں۔۔۔ حتیٰ کہ حضرات انبیاء کرامؑ منجملہ نبی اکرمﷺ۔۔۔ کو مسلمؔ کہہ کر پکارا ہے۔ اس نے فرق یہ بتایا ہے کہ جو لوگ کسی مصلحت کی خاطر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں یا محض مسلمانوں کے گھر پیدا ہو جانے سے مسلمان کہلائیں۔ انہیں اپنے آپ کو مومن نہیں کہنا چاہئے تاآنکہ ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں پیوست نہ ہو جائے۔ ورنہ‘ عام معنوں میں‘ مومن اور مسلم دونوں وہ ہیں: مَنْ أَسْلَمَ وَجْہَہُ لِلّہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہُ أَجْرُہُ عِندَ رَبِّہِ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ(2:112) O جنہوں نے اپنی تمام خواہشات اور توجہات کو قوانینِ خداوندی کے تابع رکھا اور اس طرح نہایت متوازن زندگی بسر کی۔ سو اس کے اعمال کا اجر اس کے نشوونما دینے والے کے پاس ہے اور اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ انہیں نہ کسی قسم کا خوف ہو گا نہ حزن۔ لہٰذا‘ مومن اور مسلم وہ ہے جسے نہ خارج سے کسی قسم کے خطرہ کا خوف ہو اور نہ داخلی طور پر اس کے دل میں یاس و حزن کا گزر ہو۔ یہ ہے مقامِ مومن اور اندازِ مسلم۔ علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں ؂
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں‘ کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان قیامت میں بھی میزان
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
(ضربِ کلیم)

1,346 total views, 1 views today

(Visited 534 times, 34 visits today)

The Quranic System of Sustenance – Parwez (Translated & Edited: Saleena Karim)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.


For Urdu Version – Nizame Rabubiyyat New Edition – G A Parwez (نظامِ ربوبیت – پرویز)

607 total views, no views today

(Visited 116 times, 1 visits today)

Meraje Insaniat – Parwez (معراجِ اِنسانیت – پرویز)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.

1,728 total views, no views today

(Visited 451 times, 1 visits today)

Matalibul Furqan 3 – Parwez (مطالب الفرقان جلد سوم – پرویز)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.

1,224 total views, 1 views today

(Visited 341 times, 3 visits today)

Matalibul Furqan 2 – Parwez (مطالب الفرقان جلد دوم – پرویز)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.

1,535 total views, 1 views today

(Visited 816 times, 10 visits today)

Tabveebul Quran Printing Project – Working Copy Sample

  1. Computer Composing completed
  2. Proof Reading Completed
  3. Reference rechecked and corrected
  4. New Design and Layout Finalized
  5. Quranic Text Proof Read and Corrected by Govt. Registered Quran Proof Reader
  6. Pre-Pinting Phase under process

Contact us at tolueislam@gmail.com if you want to

  • Know further detail of this project
  • Contribute in this or some other project

 

Prof. Dr. Zahida Durrani
Executive Head
Tolue Islam Trust

 



424 total views, no views today

(Visited 98 times, 1 visits today)

Lughatul Quran English Translation Project (Working Copy – Flipbook Format)

 (Working Copy – Flipbook Format)

Lughatul Quran English Translation Volume 1

(IntroductionABTThJ)

Lughatul Quran English Translation Volume 2

(HKhaDDhRZSSh)

Lughatul Quran English Translation Volume 3

(SdZdAinGhFQK)

Lughatul Quran English Translation Volume 4

(LMNHeWY)





556 total views, 1 views today

(Visited 201 times, 1 visits today)

Qurani Faisley 1 – Tolue Islam Trust (قرآنی فیصلے جلد اول)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.

709 total views, 1 views today

(Visited 94 times, 1 visits today)

Khuda Aur Sarmayadar – Parwez (خدا اور سرمایہ دار – پرویز)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.

903 total views, no views today

(Visited 265 times, 2 visits today)

Matalibul Furqan 1 – Parwez (مطالب الفرقان جلد اول – پرویز)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.

1,772 total views, 1 views today

(Visited 769 times, 2 visits today)