Tag Archives: پرویز

ہماری تاریخ – پرویز

(ہم نے جب روایات (احادیث) کے متعلق لکھا کہ وہ کس طرح جمع اور مرتب کی گئیں اور دین کا ذریعہ علم ہونے کی جہت سے وہ کس قدر غیر یقینی اور ظنی ہیں‘ تو بعض احباب نے ہمیں لکھا کہ صدرِ اول (عہدِ نبی اکرمﷺ اور خلافتِ راشدہ) میں اسلامی نظام عملاً قائم ہوا تھا‘ اس لئے اس دور کی تاریخ تو یقینی ذریعہ علم ہو سکتی ہے۔ اس سے ہمیں اس نظام کی عملی تفاصیل معلوم ہو سکتی ہیں۔ ان سے کیوں نہ راہنمائی حاصل کی جائے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ جس طرح ہماری قوم کے دانشوروں نے حدیث سے متعلق لٹریچر کا مطالعہ نہیں کیا‘ اسی طرح انہیں ہماری تاریخ کے متعلق بھی صحیح معلومات حاصل نہیں۔ ذیل کے مقالہ سے یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ ہماری تاریخ‘ اسلام کے صدرِ اول کا کس قسم کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح احادیث میں جامعہ امام بخاریؒ کو اولیت حاصل ہے اسی طرح تاریخ میں اولیت امام ابن جریر طبریؒ کو حاصل ہے۔ اس مقالہ کے مندرجات اکثر و بیشتر‘ بخاریؔ اور طبریؔ پر مشتمل ہیں۔ ان کا غور سے مطالعہ فرمایئے۔)
***
تاریخ بھی عجیب دو دھاری تلوار ہے۔ اگر کسی قوم کے پاس اس کی صحیح تاریخ موجود ہے تو وہ قوم اپنے ماضی کے تجربات کے آئینہ میں اپنے حال کو درخشندہ اور مستقبل کو تابندہ بنا سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کی تاریخ غلط ہے تو وہ غلط فہمیوں اور خوش عقیدتیوں کی ایسی اندوہناک تاریکیوں میں گھری رہتی ہے جن سے اس کا نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ یہی ہوا ہے۔ ہمارے زوال کے اسباب میں بنیادی عنصر ہماری غلط تاریخ ہے۔

قرآن فہمی کے راستہ میں روک

ہمارے پاس خدا کی کتاب ہے جس کے متعلق ہمارا ایمان ہے (اور علیٰ وجہ البصیرت اور مبنی علی الحقیقت ایمان) کہ وہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر گوشے اور ہر زمانے میں ہماری صحیح راہنمائی کرنے کے لئے مکمل اور کافی ہے۔ اگر ہم اس کا اتباع کریں تو ہمیں اقوامِ عالم کی امامت مل سکتی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ قرآن کی راہنمائی ہمارے لئے اسی صورت میں نفع بخش ہو سکتی ہے جب ہم اسے سمجھیں لیکن قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری غلط تاریخ ہے۔ یہ بات شاید آپ کے نزدیک تعجب انگیز اور حیرت خیز ہو لیکن جب حقائق آپ کے سامنے آئیں گے تو آپ اس کی صداقت کو بلا تامل تسلیم کر لیں گے۔ قبل اس کے کہ ہم اس کی کچھ مثالیں آپ کے سامنے پیش کریں‘ تمہیداً یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ تاریخ کس طرح قرآن کا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ مثلاً قرآنِ کریم جس معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے افراد (جماعتِ مومنین) کی خصوصیات میں یہ بھی بتاتا ہے کہ:
مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ-(2:3)
جو کچھ انہیں خدا کی طرف سے سامانِ زیست ملتا ہے وہ اسے نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے کھلا رکھتے ہیں۔
دوسرے مقام پر اس کھلا رکھنے یا دوسروں کو دے دینے کی تصریح ان الفاظ سے کر دی کہ:
یَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ۔۔۔-(2:219)
اے رسول! جماعتِ مومنین کے افراد تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ ہم اپنے مال و دولت میں سے کس قدر دوسروں کو دیں؟
جواب میں کہا گیا۔۔۔
قُلِ الْعَفْوَ۔۔۔-(2:219)
ان سے کہہ دو کہ جس قدر تمہاری ضرورت سے زائد ہے سب کا سب۔
ان آیات سے واضح ہے کہ قرآنی معاشرہ میں افرادِ معاشرہ اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف اسی قدر اپنے پاس رکھ سکتے ہیں جو ان کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اس سے زائد قرآنی نظام (یا اسلامی مملکت) میں چلا جائے گا جو اسے نوعِ انسان کی ربوبیت (پرورش) کے لئے صرف کرے گا۔ ان آیات کا مفہوم سمجھنے میں نہ کوئی دِقت پیش آتی ہے نہ دشواری۔ نہ ان میں کوئی اشکال ہے نہ اغلاق۔ لیکن آپ جب یہ آیات کسی کے سامنے پیش کریں تو وہ جواب میں کہہ دیتا ہے کہ فلاں صحابیؓ کے پاس لاکھوں درہم و دینار تھے۔ فلاں کے پاس چاندی اور سونے کے ڈھیر لگے رہتے تھے۔ فلاں کے پاس کارواں درکارواں سامانِ تجارت رہتا تھا۔ اگر کوئی شخص ضرورت سے زائد دولت اپنے پاس رکھ سکتا تو ان حضرات کے پاس اس قدر دولت کیوں جمع رہتی تھی۔ اس کے بعد سلسلۂ کلام کچھ اس انداز کا ہوتا ہے۔
وہ صاحب:۔ فرمایئے! صحابہ کبارؓ قرآن کو صحیح طور پر سمجھتے تھے یا آپ بہتر سمجھتے ہیں؟
آپ:۔ میں تو کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صحابہ کبارؓ سے زیادہ قرآن سمجھتا ہوں۔
وہ صاحب:۔ کیا صحابہ کبارؓ قرآن کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے یا ان کا عمل اس کے خلاف تھا؟
آپ:۔ معاذ اللہ! میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ ان کا عمل قرآن کے خلاف تھا۔ ان کی زندگی بالکل قرآن کے مطابق تھی۔
وہ صاحب:۔ جب ان کی زندگی قرآن کے مطابق تھی اور ان کے پاس اس قدر مال و دولت جمع رہتا تھا تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کی رو سے زائد از ضرورت مال‘ افراد کے پاس نہیں رہ سکتا۔
اس منطق کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ سننے والے بھی فریقِ مقابل کے ساتھ متفق ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک سر ہلا کر کہہ دیتا ہے کہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ جب صحابہ کبارؓ کے پاس اس قدر مال و دولت تھا تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں دولت جمع کرنا ممنوع ہے؟ کیا (معاذ اللہ) صحابہؓ کو اتنا قرآن بھی نہیں آتا تھا؟

نازک دلیل

آپ نے دیکھا کہ تاریخ کس طرح قرآن کے راستے میں کھڑی ہو گئی؟ آپ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ ہمارا مروجہ اسلام تاریخ کا مرتب کردہ ہے اوراس کا بیشتر حصہ قرآن کے خلاف ہے۔ مروجہ اسلام کی کسی شق کے متعلق آپ سند مانگئے۔ وہ سند تاریخ سے پیش کی جائے گی۔ اگر آپ کہیں کہ اس کی سند قرآن سے پیش کیجئے تو جواب میں کہہ دیا جائے گا کہ:

ہم رسول اللہﷺ کی سیرتِ طیبہ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی سے اس کی سند پیش کر رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر دین میں سند اور کیا ہو سکتی ہے؟ قرآن کے سمجھنے کے لئے سیرتِ رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ کی حیاتِ مقدسہ کا سامنے رکھنا لاینفک ہے۔ اس کے بغیر قرآن سمجھ میں نہیں آسکتا۔
یہ جواب اس قدر مسکت ہے کہ اس کے بعد آپ کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔ نتیجہ اس کا یہ کہ تاریخ‘ دین کی سند بن گئی ہے اور قرآنِ کریم ایصالِ ثواب کے لئے رہ گیا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ تاریخ کے کسی واقعہ کی تائید قرآن کی آیت سے مل جائے تو اس وقت قرآن کو بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا جاتا ہے لیکن جب تاریخ اور قرآن میں تضاد ہو تو سند تاریخ کو حاصل ہو گی۔ قرآن کو نہیں۔

تاریخ کی صحیح پوزیشن

جب تک ہم قرآن اور تاریخ کی صحیح صحیح پوزیشن کو نہیں سمجھتے اور انہیں اپنے اپنے مقام پر نہیں رکھتے‘ دین اپنی حقیقی شکل میں ہمارے سامنے نہیں آسکتا۔ قرآن کا ایک ایک لفظ اپنی اصل شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اس میں شبہ اور شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے (خواہ وہ کتبِ احادیث میں ہو اور خواہ کتب سیر و آثار میں) اس کی پوزیشن یہ ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب نہ رسول اللہﷺ نے مدون کرا کر امت کو دی۔ نہ خلفائے راشدینؓ نے انہیں مرتب کیا۔ نہ ہی ان میں سے کوئی کتاب صحابہؓ کے زمانے میں مرتب ہوئی۔ حدیث کا وہ مجموعہ جسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے۔ (یعنی بخاری شریف) وہ رسول اللہﷺ کی وفات کے قریب اڑھائی سو سال بعد مرتب ہوا اور ’’تاریخ‘‘ کی سب سے پہلی جامع کتاب جسے ام التواریخ کہا جاتا ہے (یعنی تاریخ طبری) رسول اللہﷺ کی وفات کے قریب تین سو سال بعد لکھی گئی۔ اس وقت بھی کوئی تحریری ریکارڈموجود نہیں تھا جن سے ان کتبِ احادیث و تاریخ کو مرتب کیا گیا ہو۔ یہ یکسر ان باتوں پر مشتمل تھیں جو انہوں نے اپنے ہم عصروں کی زبانی سنیں۔ یہ ہے ہماری تاریخ کی اولیں کتابوں کی پوزیشن جن سے سیرتِ رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی سامنے آتی ہے۔ (واضح رہے کہ نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ کا بیشتر حصہ اور صحابہ کبارؓ کی خصوصیاتِ کبریٰ خود قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہیں لیکن اس وقت ہم سیرت و آثار کے اس حصے کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں جو کتبِ احادیث و سیر وغیرہ میں موجود ہے)۔

قرآن اور تاریخ کا باہمی تعلق

قرآن اور تاریخ کی جو پوزیشن اوپر بیان کی گئی ہے۔ اس سے ہر صاحبِ بصیرت اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ جب بھی قرآن کے کسی بیان اور عہدِ محمد رسول اللہﷺ والذینؓ معہ‘ کی تاریخ کے کسی واقعہ میں تضاد نظر آئے تو قرآن کے بیان کو صحیح اور تاریخ کے واقعہ کو غلط قرار دینا چاہئے۔ یہ ایک ایسی حقیقتِ باہرہ ہے جس کے لئے کسی دلیل و شہادت کی ضرورت نہیں۔ یہ اپنی دلیل آپ ہے۔ اب رہے تاریخ کے وہ بیانات جن کے متعلق قرآن خاموش ہے تو ایسی صورت میں بھی ہمارے لئے اصولِ کار واضح ہیں۔ یعنی:۔
(1) ہمارا ایمان ہے (اور قرآن اس کی شہادت دیتا ہے) کہ نبی اکرمﷺ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی قرآن کی تعلیم کے مطابق تھی۔
(2) لہٰذا اگر تاریخ میں نبی اکرمﷺ یا صحابہ کبارؓ کے متعلق کوئی ایسی بات ملتی ہے جو قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے تو ہمیں بلا تامل کہہ دینا چاہئے کہ تاریخ کا وہ بیان صحیح نہیں۔
اس طرح دین کا صحیح تصور بھی قائم ہو جائے گا اور نبی اکرمﷺ اور صحابہ کبارؓ کی سیرت پاکیزہ اور حقیقی شکل میں ہمارے سامنے آجائے گی۔
ایک مثال
جو کچھ ہم نے (نظری طور پر) اوپر کہا ہے وہ واضح انداز میں سمجھ میں نہیں آسکتا۔ جب تک تاریخ سے اس کی کوئی مثال نہ پیش کی جائے۔ ہم عہدِ محمد رسول اللہ والذین معہ‘ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کی تاریخ سے اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کر سکتے ہیں لیکن چونکہ اس مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں (اس کے لئے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے) اس لئے ہم اس ضمن میں صرف ایک واقعہ پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ یہ وہ واقعہ ہے جو اس وقت پیش آیا جب نبی اکرمﷺ نے سفرِ آخرت اختیار فرمایا اور ہنوز آپﷺ کے جسدِ طیب کو سپردِ خاک بھی نہیں کیا گیا اور اس کا تعلق صحابہ کبارؓ کی اس پوری جماعت سے ہے جو اس وقت مدینہ میں موجود تھی۔
قرآن کے غیر متبدل اصول
پہلے اس سلسلہ میں‘ قرآن کی تعلیم کو سامنے لایئے۔ قرآن کا بنیادی اور غیر متبدل اصول یہ ہے کہ:
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ ۔۔۔-(17:70)
ہم نے ہر انسانی بچہ کو‘ محض اس کے انسان ہونے کی جہت سے واجب التکریم پیدا کیا ہے۔
یعنی اس میں حسب نسب‘ امیر‘ غریب۔ رنگ اور وطن‘ مذہب و ملت کی کوئی تفریق نہیں۔
(2) واجب التکریم ہر انسانی بچہ ہے۔ اب رہا مختلف افراد کے مدارج کا تعین‘ سو اس کے لئے اصول یہ ہے کہ:
وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا۔۔۔ -(46:19)
ہر ایک کا درجہ اس کے کاموں کے مطابق متعین کیا جائے گا۔
بالفاظِ دیگر مدارج کا تعین‘ جو ہر ذاتی اور اعمال کی بنا پر ہو گا۔ اس میں بھی خاندان‘ قبیلہ‘ ذات‘ گوت‘ رشتہ داری‘ امارت‘ غرضیکہ کسی اضافی نسبت کا کوئی دخل نہیں ہو گا۔
(3) اسی اصول کے مطابق‘ امت میں سب سے زیادہ واجب التکریم وہ ہو گا جو قوانینِ خداوندی کا سب سے زیادہ پابند ہو گا۔ جس کی سیرت و کردار سب سے زیادہ قرآن کے مطابق ہوں گے۔
إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ۔۔۔ -(49:13)
ان غیرمتبدل اصولوں کی رو سے قرآن نے رنگ‘ نسل‘ خون‘ قبیلہ‘ ذات وغیرہ کے تمام امتیازات ختم کر دیئے اور عزت و تکریم کا صرف ایک معیار باقی رکھا۔ یعنی جوہرِ ذاتی اور حسنِ سیرت و کردار۔
اُمّت کا فریضہ
اب آگے بڑھئے۔ نبی اکرمﷺ نے قرآنی اصولوں کے مطابق ایک معاشرہ متشکل فرمایا۔ ایک مملکت قائم کی۔ جس کا مقصد ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ تھا۔ چونکہ اس نظام کو نبی اکرمﷺ کی زندگی تک ہی نہیں رہنا تھا۔ اسے مسلسل آگے چلنا تھا کیونکہ اسی کا نام دین تھا۔ اس لئے اس مقصد کے لئے ایک امت تیار کی گئی۔ اس امت کے متعلق قرآن میں ہے:
کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ۔۔۔ -(3:110)
تم بہترین امت ہوجسے نوعِ انسان کی بہبود کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ تمہارا فریضۂ حیات امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
یہی وہ امت تھی جسے وراثتِ کتاب کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ قرآن میں ہے:
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا۔۔۔-(35:32)
پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جنہیں اس مقصدِ جلیل کے لئے اپنے بندوں میں سے چنا تھا۔
یہ امت (اس زمانے میں) مہاجرین اور انصار پر مشتمل تھی جس کے پکے اور سچے ہونے کا سرٹیفکیٹ خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔ سورۂ انفال میں ہے:
صحابہؓ کے فضائل
وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَہَاجَرُواْ وَجَاہَدُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالَّذِیْنَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَّہُم مَّغْفِرَۃٌ وَرِزْقٌ کَرِیْمٌ-(8:74)
اور جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے (انہیں) پناہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہ سب سچے اور پکے۔ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ہر قسم کی حفاظت اور عزت کا رزق ہے۔
دوسرے مقام پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی اُلفت ڈال دی تھی اور یہ وہ نعمتِ کبریٰ تھی جو ساری دنیا کی دولت خرچ کرنے پر بھی نہیں مل سکتی تھی -(8:64) سورۂ توبہ میں ان کے متعلق ہے:
أُوْلَءِکَ لَہُمُ الْخَیْْرَاتُ وَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ-(9:88)
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہر قسم کی بھلائیاں ہیں اور یہی ہیں جو کامیاب و کامران ہیں۔
سورۂ فتح میں خالقِ کائنات نے ان ’’پکے اور سچے مومنین‘‘ کی جس والہانہ انداز میں توصیف و تعریف کی ہے وہ ان حضرات کی بلندئ مقام کی زندہ شہادت ہے۔ دیکھئے! کہنے والے نے کس طرح جھوم جھوم کر کہا ہے:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَاناً سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوہِہِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً -(48:29)
اس آیۂ جلیلہ کا مفہوم یہ ہے:
محمد رسول اللہﷺ اور ان کے رفقاء کی جماعت بھی کیا عجیب جماعت ہے۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ وہ مخالفین کے مقابلہ میں چٹان کی طرح سخت ہیں اور آپس میں بڑے نرم دل اور ہمدرد۔ تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ کس طرح ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے جھک جاتے اور قوانینِ خداوندی کے سامنے پیکر تسلیم و رضا بن جاتے ہیں۔ لیکن وہ راہبوں کی جماعت نہیں۔ وہ خدا کے قانون کے مطابق سامانِ زیست کی طلب و جستجو میں بھی مصروفِ عمل رہتے اور زندگی کے ہر معاملہ میں قوانینِ الٰہیہ سے ہم رنگ و ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنے اندر صفاتِ خداوندی منعکس کرتے ہیں۔ ان کے اندر صفاتِ خداوندی کی نمود سے سکون و طمانیت کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے آثار ان کے چہروں سے نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کے یہ خصائص تورات میں بھی مذکور تھے اور انجیل میں بھی۔
انہوں نے جس طرح بتدریج اس نظامِ خداوندی کو قائم کیا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھو جیسے عمدہ بیج سے شگوفہ نکلتا ہے تو پہلی کونپل بڑی نرم و نازک ہوتی ہے۔ پھر وہ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ پھر جب اس کے خوشوں میں دانے پڑنے کا وقت آتا ہے تو وہ خود اپنی نالوں پر محکم اور استوار طریق سے کھڑی ہو جاتی ہے۔ کاشتکار جب اپنی محنت کو یوں ثمربار ہوتے دیکھتا ہے تو وجد و مسرت سے جھوم اٹھتا ہے لیکن یہی چیز اس کے دشمنوں کے سینے پر سانپ بن کر لوٹنے کا موجب بن جاتی ہے۔
اس طرح اللہ ہر اس جماعت سے جو اس کے نظام کے اَن دیکھے نتائج پر یقین رکھ کر‘ صلاحیت بخش پروگرام پر عمل پیرا ہو‘ اس کا وعدہ کرتا ہے کہ ان کی کوششوں کا ننھا سا بیج تمام خطرات سے محفوظ رہے گا اور ان کی کھیتی بہترین ثمرات کی حامل ہو گی۔
یہ تھی وہ جماعت‘ جس نے رسول اللہﷺ کے مقدس ہاتھوں تربیت پائی تھی اور جس نے حضورﷺ کے بعد قرآنی نظام کو آگے چلانا تھا۔ اس مقصد کے لئے ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ:
وَأَمْرُہُمْ شُورَی بَیْْنَہُمْ۔۔۔ -(42:38)
وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کریں۔
تصریحاتِ بالا سے واضح ہے کہ:
(1) قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ عزت و تکریم کا معیار ذاتی جوہر اور حسنِ عمل ہے نہ کہ حسب و نسب اور رشتہ داری کے تعلقات۔
(2) صحابہ کبارؓ پکے اور سچے مومن تھے۔ ان کی سیرت بہت بلند اور کردار بڑا پاکیزہ تھا۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیوست تھی۔
(3) قرآنی نظام کو قائم رکھنا اور آگے چلانا امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ اس کے لئے وہ باہمی مشورہ سے اپنے میں سے بہترین فرد کو (جو معیارِ خداوندی پر پورا اترے) منتخب کر کے‘ رسولﷺ کا جانشین (یعنی مملکت کا سربراہ) بنائیں گے۔ اسے خلافت علیٰ منہاجِ رسالت کہتے ہیں۔
امت کے لئے قرآن کے ان اصولوں پر عمل کرنے کا پہلا موقعہ‘ رسول اللہﷺ کی وفات کے فوری بعد پیدا ہو گیا۔ یعنی خلیفہ کا انتخاب۔
یہ تھی قرآنِ کریم کی تعلیم اور قرآن کی رو سے صحابہ کبارؓ (جماعتِ انصار و مہاجرین) کی خصوصیاتِ کبریٰ۔ اب دیکھئے کہ تاریخ اس باب میں کیا کہتی ہے۔
***

خلافت کے متعلق حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے خیالات

بخاری (باب وفات النبیﷺ) میں حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ کی روایت سے حسبِ ذیل واقعہ بیان کیا گیا ہے:
اس بیماری میں جس میں آپﷺ نے وفات فرمائی۔ علی ابن طالبؓ رسول اللہﷺ کے پاس سے باہر آئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا۔ ابو الحسن! رسول اللہﷺ نے کس حالت میں صبح فرمائی؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ الحمد للہ اچھی حالت میں صبح فرمائی ہے۔ تو عباسؓ بن عبدالمطلب ان کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف کو لے گئے اور ان سے کہنے لگے۔ خدا کی قسم تین دن کے بعد تم لاٹھی کے غلام ہو گے۔ بخدا میرا یہ خیال ہے کہ رسول اللہﷺ کا اپنی اس بیماری میں انتقال ہو جائے گا۔ میں خوب پہچانتا ہوں کہ عبدالمطلب کی اولاد کے چہرے مرتے وقت کیسے ہوتے ہیں۔ چلو رسول اللہﷺ کے پاس چلیں اور آپ سے دریافت کر لیں کہ آپﷺ کے بعد حکومت کن لوگوں میں ہو گی۔ اگر ہم میں ہوئی تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر ہمارے سوا دوسروں میں ہوئی تو بھی ہمیں معلوم ہو جائے گا اور آپﷺ اپنے جانشین کو ہمارے حق میں وصیت فرما دیں گے (اس 1؂ پر حضرت علیؓ نے فرمایا کہ کیا اس امر کی طمع ہمارے سوا کسی دوسرے کو بھی ہو سکتی ہے؟ عباسؓ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ خدا کی قسم ایسا ضرور ہو گا) اس پر علیؓ نے کہا کہ خدا کی قسم اس بارہ میں اگر ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھ لیا اور آپﷺ نے انکار کر دیا تو آپﷺ کے بعد لوگ پھر ہمیں حکومت کبھی بھی نہیں دیں گے۔ خدا کی قسم میں اس بات کو رسول اللہﷺ سے ہرگز نہیں پوچھوں گا۔
(صحیح بخاری‘ باب وفات النبیﷺ)
اس روایت سے ظاہر ہے کہ ابھی حضورﷺ کا انتقال بھی نہیں ہوا تھا کہ حضورﷺ کے چچا حضرت عباسؓ اور چچا زاد بھائی اور داماد حضرت علیؓ کے دل میں خلافت کا خیال پیدا ہو گیا تھا۔ حضرت علیؓ مطمئن تھے کہ خلافت کسی اور کے پاس نہیں جائے گی۔ لیکن حضرت عباسؓ کا اندازہ کچھ اور تھا۔ اس لئے وہ اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے (خلافتِ حضرت علیؓ کے متعلق) توثیق کرا لینا چاہتے تھے۔ اس پر حضرت علیؓ نے جو جواب دیا وہ قابلِ غور ہے۔ یعنی اگر ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھ لیا اور آپﷺ نے انکار کر دیا تو پھر ہمارے لئے کوئی گنجائش (Chance) نہیں رہے گی۔
شیعہ حضرات کے ہاں یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح نبوت خدا کی طرف سے وہبی طور پر ملتی ہے اور اس میں انتخاب اور مشورہ کا کوئی سوال نہیں‘ اسی طرح خلافت (امامت) بھی خدا کی طرف سے موہبت ہے۔ اس میں انتخاب وغیرہ کا کوئی سوال نہیں۔ امام‘ خدا کی طرف سے منصوص اور مامور ہوتا ہے‘ یہ امامت حضرت علیؓ اور آپ کی اولاد‘ خدا کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔
لیکن سُنّی حضرات کا یہ عقیدہ نہیں۔ ان کے نزدیک‘ خلیفہ اُمت کے مشورہ سے منتخب ہوتا ہے۔ نہ ہی خلافت کوئی جائیداد ہے۔ جو متوفی کے بعد اس کے رشتہ داروں کو بطورِ ترکہ مل سکتی ہے۔ یہ تصور کہ حکومت باپ کے بعد بیٹے کو ورثہ میں ملتی ہے‘ ملوکیت ہے جسے مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔
اگر اس روایت کو صحیح مانا جائے تو۔۔۔
جو روایت اوپر درج کی گئی ہے وہ شیعہ حضرات کی نہیں‘ سنیوں کی حدیث کی سب سے معتبر کتاب بخاریؔ میں درج ہے۔ اب آپ غور فرمایئے کہ اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو رسول اللہﷺ کے قریب ترین صحابہؓ (حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ) کے متعلق کیا تصور قائم ہوتا ہے؟ یہ تصور کہ وہ (معاذ اللہ) اسلام کے ابتدائی اور بنیادی اصول کو بھی نہیں سمجھ سکے تھے کہ خلافت بطورِ وراثت یا استحقاق نہیں ملتی۔ یہ معاملہ امت کے باہمی مشورہ سے طے ہوتا ہے‘ پھر جو جواب‘ حضرت علیؓ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اس سے ان کی سیرت و کردار پر جو زد پڑتی ہے وہ بھی کسی تشریح کی محتاج نہیں۔
***
سقیفہ بنی ساعدہ کا اجتماع
اب آگے بڑھیئے۔ نبی اکرمﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ چونکہ خلافت (جانشینئ رسولﷺ) کا معاملہ امت کے باہمی مشورہ سے طے ہونا تھا۔ اس لئے حضورﷺ نے اس کے متعلق کوئی وصیت نہیں فرمائی تاکہ امت کی آزادئ رائے پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ ہو جائے۔ چونکہ یہ معاملہ بہت اہم تھا۔۔۔ مرکزِ ملت کے بغیر دین کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ اس لئے ایسا نظر آتا ہے کہ امت نے حضورﷺ کی تجہیز و تکفین سے بھی پہلے اسے طے کر لینا ضروری سمجھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کا اجتماع ہوا۔ جس میں حضرت سعد بن عبادہؓ کو خلافت کا امیدوار قرار دیا گیا۔ ایک روایت کے مطابق وہاں یہ تجویز بھی سامنے لائی گئی کہ ایک امیر انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے۔ اس وقت مہاجرین (حضرت ابوبکرؓ۔ حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ) بھی وہاں پہنچ گئے۔ اس اجتماع کی جو روئیداد تاریخ میں بیان ہوئی ہے وہ قابلِ غور ہے۔ کہا گیا ہے کہ (انصار میں سے) حضرت حباب بن منذرؓ نے حسبِ ذیل تقریر فرمائی:
حضرت حبابؓ کی تقریر
اے انصار! امارت اپنے ہاتھوں ہی میں رکھو‘ کیونکہ لوگ تمہارے مطیع رہیں۔ کسی شخص میں یہ جرأت نہ ہو گی کہ وہ تمہارے خلاف آواز اٹھا سکے یا تمہاری رائے کے خلاف کوئی کام کر سکے۔ تم اہلِ عزت و ثروت ہو۔ تم تعداد اور تجربے کی بنا پر دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہو۔ تم بہادر اور دلیر ہو‘ لوگوں کی نگاہیں تمہاری طرف لگی ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں تم ایک دوسرے کی مخالفت کر کے اپنا معاملہ خراب نہ کرو۔ یہ لوگ تمہاری بات ماننے پر مجبور ہیں۔ زیادہ سے زیادہ رعایت جو ہم انہیں دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک ان میں سے۔‘‘
(محمد حسین ہیکلؔ کی کتاب۔ ’’ابوبکرؓ صدیقِ اکبر‘‘۔ ص 107) 1؂
آپ نے غور فرمایا۔ ہماری تاریخ کا یہ بیان ان انصار (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے متعلق ہے جن کے مہاجرین کے ساتھ فدائیانہ تعلقات اور بے لوث ایثار کی شہادت خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ (تاریخ کے بیان کے مطابق) ان کی طرف سے ان جذبات کا اظہار اس وقت ہو رہا ہے۔ جب نبی اکرمﷺ کی نعش مبارک بھی ہنوز آنکھوں کے سامنے ہے۔

حضرت عمرؓ کی تقریر

یہ تو رہا انصار کے متعلق۔ اب مہاجرین کی بابت سنئے (تاریخ بتاتی ہے کہ) اس کے جواب میں حضرت عمرؓ نے حسبِ ذیل تقریر فرمائی:
ایک میان میں دو تلواریں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اللہ کی قسم! عرب تمہیں امیر بنانے پر ہرگز رضامند نہ ہوں گے۔ جب رسول اللہﷺ تم میں سے نہ تھے۔ ہاں! اگر امارت ان لوگوں کے ہاتھوں میں آئے جن میں رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے تھے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ اگر عربوں کے کسی طبقے نے ہماری امارت اور خلافت سے انکار کیا تو اس کے خلاف ہمارے ہاتھ میں دلائلِ ظاہرہ اور براہین قاطعہ ہوں گے۔ رسول اللہﷺ کی جانشینی اور امارت کے بارے میں کون شخص ہم سے جھگڑا کر سکتا ہے۔ جب ہم آپ کے جاں نثار اور اہلِ عشیرہ ہیں۔ اس معاملہ میں ہم سے جھگڑا کرنے والا وہی شخص ہو سکتا ہے جو باطل کا پیروکار۔ گناہوں سے آلودہ اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے کے لئے تیار ہو۔
(ابوبکر صدیقؓ از ہیکلؔ ‘ ص 108)
اس کے جواب میں حضرت حبابؓ نے انصار سے کہا:
اے انصار!۔۔۔ تم ہمت سے کام لو اور عمرؓ اور اس کے ساتھیوں کی بات نہ سنو! اگر تم نے اس وقت کمزوری دکھائی تو یہ سلطنت میں سے تمہارا حصہ غصب کر لیں گے۔ اگر یہ تمہاری مخالفت کریں تو انہیں یہاں سے جلاوطن کر دو اور سلطنت پر خود قابض ہو جاؤ۔ کیونکہ اللہ کی قسم! تمہی اس کے سب سے زیادہ حقدار ہو۔ تمہاری ہی تلواروں کی بدولت اسلام کو شان و شوکت نصیب ہوئی ہے اس لئے اس کی قدر و منزلت کا موجب تمہی ہو۔ تمہی اسلام کو پناہ دینے والے اور اس کی پشت پناہ ہو اور اگر تم چاہو تو اسے اس کی شان و شوکت سے محروم بھی کر سکتے ہو۔
(ایضاً‘ ص 108-109)
اندازِ گفتگو؟
حضرت عمرؓ نے یہ فقرہ سنا تو کہا:
اگر تم نے اس قسم کی کوشش کی تو اللہ تمہیں ہلاک کر ڈالے گا۔
(ایضاً‘ ص 109)
اس کے جواب میں حضرت حبابؓ نے کہا:
ہمیں نہیں اللہ تمہیں ہلاک کرے گا۔
(ایضاً‘ ص 109)
یہ ہے ہماری تاریخ کے مطابق ان صحابہؓ کے باہمی تعلقات کا نقشہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ سرٹیفکیٹ عطا فرماتا ہے کہ:
أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ۔۔۔-(48:29)
وہ کفار کے مقابلہ میں بڑے سخت اور آپس میں بڑے ہمدرد تھے۔
وہ جن کے متعلق خدا کا ارشاد ہے کہ:
وَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ۔۔۔ -(8:63)
ان کے دلوں میں خدا نے باہمی محبت اور الفت ڈال دی۔ وہ محبت اور الفت جو دنیا بھر کی دولت دے کر بھی خریدی نہیں جا سکتی۔
ان صحابہؓ کے باہمی تعلقات اور اخلاق کے متعلق ہماری تاریخ یہ نقشہ پیش کرتی ہے۔
حضرت عمرؓ کی جو تقریر (تاریخ کے بیان کے مطابق) اوپر درج کی گئی ہے اس میں انہوں نے اپنے (یعنی مہاجرین کے) حقِ خلافت کے متعلق یہ دلیل دی ہے کہ:
رسول اللہﷺ کی جانشینی اور امارت کے بارے میں ہم سے کون جھگڑ سکتا ہے۔ جب ہم آپ کے جاں نثار اور اہلِ عشیرہ (اہل خاندان) ہیں۔
یہ دلیل قابلِ غور ہے۔ اس سے پیشتر ہم دیکھ چکے ہیں کہ تاریخ ہمیں حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے متعلق یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ان کے نزدیک خلافت حضورﷺ کے قرابت داروں کو ورثہ میں ملنی چاہئے تھی۔ اب حضرت عمرؓ کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بھی استحقاقِ خلافت کے لئے یہی دلیل دی کہ ہم رسول اللہﷺ کے اہلِ خاندان ہیں۔ غور کیجئے کہ اس سے ہماری تاریخ ہمیں کہاں لے جانا چاہتی ہے۔
الائمۃ من قریش
لیکن تاریخ یہیں تک نہیں رہتی۔ وہ ایک قدم آگے بڑھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ جب معاملہ زیادہ نزاکت اختیار کر گیا تو حضرت ابوبکرؓ اٹھے اور آپ نے فرمایا کہ اس باب میں انصار کا دعویٰ یکسر بے بنیاد ہے۔ رسول اللہﷺ نے فیصلہ کر دیا ہوا ہے کہ الائمہ من قریش ’’خلافت قریش میں رہے گی‘‘۔ اس پر انصار خاموش ہو گئے اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب کر لئے گئے۔
یہ حدیث‘ متفق علیہ طور پر صحیح مانی جاتی ہے لیکن آپ ذرا اس کی گہرائی میں جایئے اور سوچئے کہ یہ کبھی رسول اللہﷺ کا ارشاد ہو سکتا ہے؟ قرآن مسلسل و متواتر نسل اور خون کے امتیازات مٹا کر مساواتِ انسانیہ اور تکریمِ آدمیت کی تعلیم دیتا رہا۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اس بلند و برتر تعلیم کا عملی نمونہ رہی۔ آپ اس امر کا تصور بھی کر سکتے ہیں کہ اس تعلیم کا حامِل رسولﷺ یہ فیصلہ کرے گا کہ حکومت میرے قبیلہ کے اندر رہے گی۔ یہ ایک روایت قرآن کی بنیادی تعلیم اور نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ کو باطل قرار دے دینے کے لئے کافی ہے۔ لیکن ہماری تاریخ اس روایت کو رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کرتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے انصار اور مہاجرین کے بھرے مجمع میں اسے حق خلافت کے لئے بطور دلیل پیش کیا اور اسے سب نے تسلیم کر لیا۔ یعنی ہماری تاریخ‘ ایک ہی واقعہ میں‘ خدا کے رسولﷺ اور۔۔۔ صحابہ کبارؓ کے متعلق نسل پرستی کا ایسا تصور پیدا کر جاتی ہے جسے مٹانے کے لئے قرآن آیا تھا۔
***
رسول اللہﷺ کی وفات کے فوری بعد‘ صحابہ کبارؓ (انصار و مہاجرین) کا جو پہلا اجتماع ہوا‘ اس میں ہماری تاریخ کے مطابق ان حضرات کے باہمی تعلقات‘ اندازِ گفتگو اور اسلوبِ دلائل کا نقشہ ہمارے سامنے آگیا۔ اب اس سے آگے بڑھیئے۔ (امام) طبریؔ اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
دست و گریباں
سابقہ روایت کے سلسلہ سے عبداللہؓ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ اب ہر طرف سے لوگ آ آ کر ابوبکرؓ کی بیعت کرنے لگے۔ قریب تھا کہ وہ سعدؓ کو روند ڈالتے۔ اس پر سعدؓ کے کسی آدمی نے کہا کہ سعدؓ کو بچاؤ ان کو نہ روندو‘ عمرؓ نے کہا اللہ اسے ہلاک کرے اس کو قتل کر دو اور خود ان کے سرہانے آکر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میں چاہتا ہوں تم کو روند کر ہلاک کر دوں۔ سعدؓ نے عمرؓ کی داڑھی پکڑ لی عمرؓ نے کہا چھوڑو اگر اس کا ایک بال بھی بیکا ہوا تو تمہارے منہ میں ایک دانت نہ رہے گا۔ ابوبکرؓ نے کہا عمرؓ خاموش رہو اس موقع پر نرمی برتنا زیادہ سود مند ہے۔ عمرؓ نے سعدؓ کا پیچھا چھوڑ دیا۔ سعدؓ نے کہا اگر مجھ میں اٹھنے کی بھی طاقت ہوتی تو میں تمام مدینے کے گلی کوچوں کو اپنے حامیوں سے بھر دیتا کہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ہوش و حواس جاتے رہتے اور بخدا اس وقت میں تم کو ایسی قوم کے حوالے کر دیتا جو میری بات نہیں مانتے بلکہ میں ان کا اتباع کرتا۔ اچھا اب مجھے یہاں سے اٹھا لے چلو۔ ان کے آدمیوں نے ان کو اٹھا کر ان کے گھر میں پہنچا دیا۔ چند روز ان سے تعارض نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ان سے کہلا بھیجا کہ چونکہ تمام لوگوں نے اور خود تمہاری قوم نے بھی بیعت کر لی ہے تم بھی آکر بیعت کر لو۔ سعدؓ نے کہا یہ نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ میں تمہارے مقابلہ میں اپنا ترکش خالی نہ کر دوں۔ اپنے نیزے کو تمہارے خون سے رنگین نہ کر لوں اور اپنی تلوار سے جس پر میرا بس چلے وار نہ کر لوں اور اپنے خاندان اور قوم کے ان افراد کے ساتھ جو میرا ساتھ دیں تم سے لڑ نہ لوں‘ ہرگز بیعت نہ کروں گا۔ خدا کی قسم‘ اگر انسانوں کے ساتھ جن بھی تمہارے ساتھ ہو جائیں تب بھی جب تک کہ میں اپنے معاملے کو اپنے رب کے سامنے پیش نہ کر لوں بیعت نہیں کروں گا۔
(تاریخ طبریؔ ‘ جلد اول‘ حصہ چہارم‘ اردو ترجمہ‘ شائع کردہ‘ جامعہ عثمانیہ‘ ص 7)
اس سے ایک صفحہ آگے ہے:
معاذ اللہ!
ضحاک بن خلیفہ سے مروی ہے کہ امارت کے انتخاب کے موقع پر حباب بن المنذرؓ نے کھڑے ہو کر تلوار نکال لی اور کہا کہ میں ابھی اس کا تصفیہ کر دیتا ہوں۔ میں شیر ہوں اور شیر کی کھوہ میں ہوں اور شیر کا بیٹا ہوں۔ عمرؓ نے اس پر حملہ کیا اور اس کے ہاتھ پر وار کیا۔ تلوار گر پڑی‘ عمرؓ نے اسے اٹھا لیا اور پھر سعدؓ پر جھپٹے اور لوگ بھی سعدؓ پر جھپٹے۔ اب سب نے باری باری آکر بیعت کی۔ سعدؓ نے بھی بیعت کی۔ اس وقت عہدِ جاہلیت کا سا منظر پیش آیا اور تو تو میں میں ہونے لگی۔ ابوبکرؓ اس سے دور رہے‘ جس وقت سعدؓ پر لوگ چڑھ گئے کسی نے کہا کہ تم لوگوں نے سعدؓ کو مار ڈالا۔ عمرؓ نے کہا اللہ اسے ہلاک کر دے۔ وہ منافق ہے۔ عمرؓ کی تلوار کے سامنے ایک پتھر آگیا اور ان کی ضرب سے وہ قطع ہو گیا۔
کلیجے پر ہاتھ رکھئے اور اس فقرہ کو پھر پڑھیئے:
اس وقت عہدِ جاہلیت کا سا منظر پیش آیا اور تو تو میں میں ہونے لگی۔
بہرحال‘ حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہو گئے۔ اس کے بعد‘ دوسرے امیدوار‘ حضرت سعدؓ کا کیا طرزِ عمل رہا؟ سنئے:
اس کے بعد سعدؓ نہ ابوبکرؓ کی امامت میں نماز پڑھتے تھے اور نہ جماعت میں شریک ہوتے تھے۔ حج میں بھی مناسک ان کے ساتھ ادا نہیں کرتے تھے۔ ابوبکرؓ کے انتقال تک ان کی یہی روش رہی۔
(طبریؔ ‘ ص 8)
داڑھیاں نوچنا!
ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ سقیفہ کے تنازعے میں‘ حضرت سعدؓ نے حضرت عمرؓ کی داڑھی پکڑلی تھی۔ تاریخ طبریؔ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک دوسرے کی داڑھیاں نوچنا (معاذ اللہ) ان حضرات کا معمول سا ہو گیا تھا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت اسامہؓ کی امارتِ عساکر کے مسئلہ میں حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ میں اختلاف رائے ہوا تو
ابوبکرؓ جو بیٹھے ہوئے تھے غصے سے اچھل پڑے اور بڑھ کر انہوں نے عمرؓ کی داڑھی پکڑ لی اور کہا۔ اے ابنِ خطاب! اللہ تیری ماں کا برا کرے کہ تم مَر جاتے۔ بھلا جس شخص کو رسول اللہﷺ نے اس پر فائز کیا ہے۔ تم مجھ سے کہتے ہو کہ میں اسے علیحدہ کر دوں۔
(ایضاً‘ ص 12)
حضرت علیؓ کا ردِعمل
یہ جملہ معترضہ تھا۔ اب پھر انتخابِ خلیفہ اول کی تاریخی داستان کی طرف آیئے۔ اس تمام واقعہ میں حضرت علیؓ کا ابھی تک ذکر نہیں آیا۔ آپ یقیناًیہ معلوم کرنے کے لئے مشوش ہوں گے کہ جن بزرگوار (یعنی حضرت علیؓ) کے دل میں سب سے پہلے خلافت کا خیال پیدا ہوا تھا‘ حضرت ابوبکرؓ کے انتخاب پر ان کی طرف سے کیا ردِعمل ہوا۔ تاریخ اس کے متعلق تفصیل سے بتاتی ہے۔ سنئے۔ محمد حسین ہیکلؔ (مصری) اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
مہاجرین اور انصار کے چند افراد حضرت ابوبکرؓ کی بیعت میں شامل نہ تھے بلکہ ان کا میلان حضرت علیؓ بن ابی طالب کی طرف تھا۔ ان میں سے مشہور لوگ یہ تھے۔ عباسؓ بن عبدالمطلب‘ فضل بن عباسؓ زبیرؓ بن عوام بن العاص‘ خالد بن سعیدؓ‘ مقداد بن عمروؓ‘ سلمان فارسیؓ‘ ابوذر غفاریؓ‘ عمار بن یاسرؓ ‘ براء بن حازبؓ ‘ ابی بن کعبؓ۔ ابوبکرؓ نے عمرؓ ‘ابو عبیدہؓ بن جراح‘ مغیرہ بن شعبہؓ سے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ عباسؓ بن عبدالمطلب سے ملئے اور خلافت میں ان کا حصہ بھی رکھ دیجئے جو ان کی اولاد کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس طرح ان کے اور ان کے بھتیجے علیؓ بن ابی طالب کے درمیان اختلاف واقع ہو جائے گا اور یہ بات آپ کو علیؓ کے مقابلہ میں فائدہ مند ثابت ہو گی۔
اس مشورہ کے مطابق ابوبکرؓ عباسؓ سے ملے تو دونوں کے درمیان طویل گفتگو ہوئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا۔ ’’آپ رسول اللہﷺ کے چچا ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ خلافت میں آپ کا حصہ بھی موجود ہو۔ جو آپ کے بعد آپ کی اولاد میں منتقل ہوتا رہے۔‘‘ لیکن عباسؓ نے یہ پیشکش رد کر دی کہ اگر خلافت ہمارا حق ہے تو ہم ادھوری خلافت لینے پر رضامند نہیں ہو سکتے۔
(ابوبکرؓ۔ ص119)
اس کے بعد ہیکلؔ لکھتا ہے:
ایک اور روایت میں جسے یعقوبی اور بعض دیگر مؤرخین نے بھی ذکر کیا ہے مذکور ہے کہ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت حضرت علیؓ کی بیعت کرنے کے ارادے سے حضرت فاطمتہ الزہراؓ بنت رسول اللہﷺ کے گھر میں جمع ہوئی۔ ان میں خالد بن سعیدؓ بھی تھے۔ خالدؓ نے حضرت علیؓ سے کہا:
’’اللہ کی قسم! رسول اللہﷺ کی جانشینی کے لئے آپ سے بہتر اور کوئی آدمی نہیں۔ اس لئے آپ ہماری بیعت قبول کیجئے۔‘‘
جب حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو اس اجتماع کی خبر ملی تو وہ چند لوگوں کو لے کر حضرت فاطمہؓ کے گھر پہنچے اور اس پر حملہ کر دیا۔ حضرت علیؓ تلوار ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر نکلے۔ سب سے پہلے ان کی مڈبھیڑ حضرت عمرؓ سے ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے ان کی تلوار توڑ ڈالی اور وہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہو گئے۔ اس پر حضرت فاطمہؓ گھر سے باہر آئیں اور کہا:
’’یا تو تم میرے گھر سے نکل جاؤ ورنہ اللہ کی قسم میں اپنے سر کے بال نوچ لوں گی۔ اور تمہارے خلاف اللہ سے مدد طلب کروں گی۔‘‘ حضرت فاطمہؓ کی زبان سے یہ الفاظ سن کر سب لوگ گھر سے باہر نکل گئے۔‘‘
کچھ روز تک تو مذکورہ بالا اصحاب بیعت سے انکار کرتے رہے لیکن آہستہ آہستہ یکے بعد دیگرے سب نے بیعت کر لی۔ سوا حضرت علیؓ کے جنہوں نے چھ سات مہینے تک بیعت نہ کی۔ مگر حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد انہوں نے بھی بیعت کر لی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے چالیس روز بعد بیعت کر لی تھی۔ ایک اور روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر بنو ہاشم حضرت فاطمہؓ کے گھر میں خفیہ مجالس منعقد کرنے سے باز نہ آئے تو وہ ایندھن جمع کر کے گھر کو آگ لگا دیں گے۔
(ایضاً‘ ص 120)
اس وقت تک جو کچھ سامنے آیا ہے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت علیؓ نے اپنے مؤقف کی تائید میں دلیل کیا پیش کی تھی۔ اب وہ دلیل سنئے۔ ہیکلؔ لکھتا ہے:
حضرت علیؓ کی دلیل
حضرت علیؓ اور دیگر بنی ہاشم کے بیعت نہ کرنے سے متعلق مشہور ترین روایت وہ ہے جو ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ’’الامامتہ والسیامتہ‘‘ میں درج کی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کے بعد حضرت عمرؓ چند لوگوں کو ساتھ لے کر بنی ہاشم کے پاس گئے جو اس وقت حضرت علیؓ کے گھر جمع تھے تاکہ ان سے بھی بیعت کا مطالبہ کریں۔ لیکن سب لوگوں نے حضرت عمرؓ کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔ زبیرؓ بن عوام تو تلوار ہاتھ میں لے کر حضرت عمرؓ کے مقابلہ کے لئے باہر نکل آئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
’’زبیرؓ کو پکڑ لو۔‘‘
لوگوں نے زبیرؓ کو پکڑ کر تلوار ان کے ہاتھ سے چھین لی۔ اس پر مجبوراً زبیرؓ نے جا کر حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ سے بھی بیعت کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا۔ میں تمہاری بیعت نہ کروں گا کیونکہ میں تم سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں اور تمہیں میری بیعت کرنی چاہئے تھی۔ تم نے یہ کہہ کر انصار کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ہم رسول اللہﷺ کے قریبی عزیز ہیں اور آپ کے قریبی عزیز ہی خلافت کے حقدار ہیں۔ اس اصول کے مطابق تمہیں چاہئے تھا کہ خلافت ہمارے حوالے کرتے مگر تم نے اہلِ بیت سے چھین کر خلافت غصب کر لی۔ کیا تم نے انصار کے سامنے یہ دلیل پیش نہ کی تھی کہ ہم خلافت کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ ہم میں سے تھے۔ اس لئے تم ہماری اطاعت قبول کرو اور خلافت ہمارے حوالے کرو؟ وہی دلیل جو تم نے انصارکے مقابلے میں پیش کی تھی اب میں تمہارے مقابلے میں پیش کرتا ہوں۔ ہم تم سے زیادہ رسول اللہﷺ کے قریبی عزیز ہیں۔ اس لئے خلافت ہمارا حق ہے۔ اگر تم میں ذرہ برابر ایمان ہے تو ہم سے انصاف کر کے خلافت ہمارے حوالے کرو۔ لیکن اگر تمہیں ظالم بننا پسند ہے تو جو تمہارا جی چاہے کرو تمہیں اختیار ہے۔
(ایضاً‘ ص 122)
آپ نے غور فرمایا کہ تاریخ نے جو دلیل حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ کی طرف منسوب کی تھی (کہ خلافت قریش میں رہے گی اور ہم رسول اللہﷺ کے اہلِ خاندان ہیں) اسے (تاریخ نے) کس سادگی سے حضرت علیؓ کی طرف لوٹایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دلیل کے بعد‘ سنی حضرات کا موقف اس قدر کمزور ہو جاتا ہے کہ ان سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں بن پاتا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ (تاریخ نے) یہ دلیل اولاً حضرات شیخینؓ کی طرف کیوں منسوب کی تھی!
بہرحال‘ حضرت علیؓ کے اس جواب پر حضرت عمرؓ نے کہا:
میں اس وقت تک آپ کو نہ چھوڑں گا جب تک آپ بیعت نہ کریں گے۔
(ایضاً‘ ص 122)
اس کے بعد:
سرگرمیاں
حضرت علیؓ اس وقت تیزی میں آگئے اور کہنے لگے:
’’عمرؓ تم شوق سے دودھ دوہو جس میں تمہارا بھی حصہ ہے آج تم اس لئے خلافتِ ابوبکرؓ کی حمایت کر رہے ہو کہ کل کو خلافت تمہارے پاس لوٹ آئے گی لیکن میں کبھی ان کی بیعت نہ کروں گا۔‘‘
حضرت ابوبکرؓ کو ڈر پیدا ہوا کہ کہیں بات بڑھ نہ جائے اور درشت کلامی تک نوبت نہ آجائے انہوں نے کہا۔ ’’علیؓ! اگر تم بیعت نہیں کرتے تو میں بھی تمہیں مجبور نہیں کرتا۔‘‘
اس پر ابوعبیدہؓ بن الجراح حضرت علیؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور نہایت نرمی سے کہا۔ بھتیجے! تم ابھی کم عمر ہو اور یہ لوگ بزرگ ہیں۔ نہ تمہیں ان جیسا تجربہ حاصل ہے اور نہ تم ان کی طرح جہاندیدہ ہو۔ اگر قوم میں کوئی شخص رسول اللہﷺ کی جانشینی کے فرائض صحیح طور پر بجا لا سکتا اور خلافت کا بوجھ کماحقہ‘ اٹھا سکتا ہے تو وہ صرف ابوبکرؓ ہیں اس لئے تم ان کی خلافت قبول کر لو۔ اگر تم نے لمبی عمر پائی تو یقیناًاپنے علم و فضل۔ دینی رتبے‘ فہم و ذکاء‘ سابقیتِ اسلام‘ حسب و نسب اور رسول اللہﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہونے کے باعث تمہیں خلافت کے مستحق ٹھہرو گے۔‘‘
یہ سن کر حضرت علیؓ کے جوش کی انتہا نہ رہی اور وہ غصے سے بولے۔ ’’اللہ اللہ اے گروہِ مہاجرین! تم رسول اللہﷺ کی حکومت کو آپ کے گھر سے نکال کر اپنے گھروں میں داخل نہ کرو۔ آپ کے اہلِ بیت کو ان کے صحیح مقام پر سرفراز کرو اور ان کا حق انہیں دو۔ اے مہاجرین! اللہ کی قسم! ہمی خلافت اور حکومت کے مستحق ہیں کیونکہ ہم اہل بیت ہیں۔ ہم اس وقت تک اس کے حقدار ہیں جب تک ہم میں اللہ کی کتاب کا قاری‘ دین کا فقیہہ‘ رسول اللہﷺ کی سنت کا عالم‘ رعایا کی ضرورت سے واقف‘ ان کی تکالیف کو دور کرنے والا اور ان سے مساوات کا سلوک کرنے والا قائم ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ہم میں ان صفات کا حامل موجود ہے‘ اس لئے اپنی خواہشات کی پیروی کر کے اللہ کے راستے سے گمراہی اختیار نہ کرو اور حق کے راستے سے دور نہ چلے جاؤ۔‘‘ راویوں کے بیان کے مطابق بشیر بن سعدؓ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جب انہوں نے حضرت علیؓ کی باتیں سنیں تو کہا۔ ’’اے علیؓ! اگر یہ باتیں جو اس وقت تم نے کہی ہیں انصار کا گروہ ابوبکرؓ کی بیعت سے پہلے سن لیتا تو وہ لوگ تمہارے سوا کسی کی بیعت نہ کرتے۔‘‘
اس گفتگو کے بعد حضرت علیؓ طیش میں بپھرے ہوئے گھر چلے گئے۔ جب رات ہوئی تو وہ حضرت فاطمہؓ کو لے کر باہر آئے اور انہیں ایک خچر پر بٹھا کر انصار کے پاس لے گئے۔ حضرت فاطمہؓ گھر گھر جاتیں اور ان سے حضرت علیؓ کی مدد کرنے کی درخواست کرتیں لیکن ہر جگہ سے انہیں یہی جواب ملتا۔
’’اے بنتِ رسول اللہﷺ! ہم ابوبکرؓ کی بیعت کر چکے ہیں۔ اگر آپ کے خاوند بیعت سے قبل ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی بیعت کر لیتے۔‘‘
یہ سن کر حضرت علیؓ غصہ میں آکر جواب دیتے۔ ’’کیا میں رسول اللہﷺ کی نعش کو بلا تجہیز و تکفین چھوڑ دیتا اور باہر نکل کر آپ کی جانشینی کے متعلق لڑتا جھگڑتا پھرتا؟‘‘
حضرت فاطمہؓ بھی کہتیں۔ ’’ابوالحسن (علیؓ) نے وہی کیا جو ان کے لئے مناسب تھا۔ باقی ان لوگوں نے جو کچھ کیا اللہ ان سے ضرور اس کا حساب لے گا اور بازپُرس کرے گا۔‘‘
(ایضاً‘ ص 122-25)
ہیکلؔ نے ان واقعات کو مختلف حوالوں سے نقل کیا ہے۔ اس باب میں بخاریؔ میں حسبِ ذیل روایت آئی ہے:
بخاریؔ کی حدیث
حضرت فاطمہؓ نبی ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر علیؓ نے رات کو ان کو دفن کر دیا اور ان کے انتقال کی ابوبکرؓ کو اطلاع نہیں دی بلکہ خود ہی نماز پڑھ لی اور جب تک حضرت فاطمہؓ زندہ رہیں لوگوں کی نگاہوں میں حضرت علیؓ کا ایک خاص وقار رہا لیکن جب حضرت فاطمہؓ کا انتقال ہو گیا تو حضرت علیؓ نے محسوس کیا کہ لوگوں کے چہرے اب بدل گئے ہیں تو اب انہوں نے حضرت ابوبکرؓ سے صلح کر لینے اور بیعت کرنے کی خواہش کی۔ ان چھ ماہ تک انہوں نے بیعت 1؂ نہیں کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے ابوبکرؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس تشریف لایئے۔ مگر آپ کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نہ آئے۔ حضرت علیؓ کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ وہ حضرت عمرؓ کو ساتھ لائیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا۔ ’’نہیں خدا کی قسم آپ ان کے ہاں تنہا نہیں جا سکیں گے۔ اس پر حضرت صدیقؓ نے کہا۔ تم کیا سمجھتے ہو۔ وہ میرا کیا کر لیں گے۔ خدا کی قسم میں ان کے پاس ضرور جاؤں گا۔ چنانچہ صدیقِ اکبرؓ تشریف لے گئے تو 1؂ حضرت علیؓ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا۔ ’’ہم آپ کی فضیلت کو اور جو کچھ خدا نے آپ کو عطا کیا ہے اسے پہچانتے ہیں اور کسی بھلائی پر جو حق تعالیٰ آپ کو عطا فرمائے ہم حسد نہیں کرتے لیکن تم نے امرِ خلافت میں ہمارے خلاف استبداد سے کام لیا ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہﷺ سے ہماری قرابت کی وجہ سے اس میں ہمارا حصہ ہے۔ 2؂
ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد ابوبکرؓ صدیق منبر پر چڑھے اور خطبہ دیا‘ اور بیعت سے علیؓ کے تخلف کی صورت کو بیان کیا اور جو عذر انہوں نے بیان کیا تھا اسے پیش کیا پھر مغفرت کی دعا مانگی اور (اس کے بعد) حضرت علیؓ نے خطبہ پڑھا اور حضرت ابوبکرؓ کے حقِ عظمت کو بیان کیا اور کہا کہ اب تک انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ ابوبکرؓ سے کسی حسد کی بنا پر نہیں کیا اور نہ اس فضیلت سے کسی انکار کی بنا پر جو خدا نے انہیں دی ہے بلکہ ہم سمجھتے تھے کہ امرِ خلافت میں ہمارا حصہ ہے اور ابوبکرؓ نے ہمارے خلاف استبداد سے کام لیا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے دلوں میں ناراض تھے۔
(صحیح بخاری‘ کتاب المغازی)
بخاری کی اس روایت میں چند باتیں بڑی غور طلب ہیں۔ مثلاً
(1) حضرت علیؓ حضرت ابوبکرؓ سے اس قدر ناراض تھے کہ انہوں نے حضرت فاطمہؓ کی وفات کی اطلاع تک نہیں دی اور چپکے ہی چپکے انہیں رات کو دفن کر دیا۔
(2) جب تک حضرت فاطمہؓ زندہ رہیں‘ حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہ کی لیکن ان کی وفات کے فوری بعد انہوں نے محسوس کیا کہ لوگوں کی نظروں میں ان کا پہلا سا وقار باقی نہیں رہا۔ اس لئے انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی جائے۔
(3) حضرت علیؓ نے اپنے حقِ خلافت کے لئے یہ دلیل دی کہ وہ رسول اللہﷺ کے قرابت دار ہیں۔
آپ غور کیجئے کہ تاریخ کے اس بیان کو اگر صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے حضرت علیؓ کے متعلق کیا تصور قائم ہوتا ہے؟
صحابہؓ کا اِرتداد؟
تاریخ کے بیان کے مطابق‘ حضرت علیؓ نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں نے انہیں خلافت سے محروم رکھا ہے انہوں نے غصب اور استبداد سے کام لیا ہے۔ یہی وہ ’’جرم‘‘ ہے جس کی بنا پر شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد‘ بجز چند اصحاب (جنہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہیں کی تھی) باقی سب (معاذ اللہ) مرتد ہو گئے تھے۔ اس کے متعلق سُنّی حضرات یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ عقیدہ تعصب پر مبنی ہے لیکن اس کا کیا جواب کہ خود ان کی (حدیث کی) معتبر ترین کتاب‘ بخاری میں حسب ذیل روایت موجود ہے:
حضرت ابنِ عباسؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ برہنہ پا۔ برہنہ بدن۔ بغیر ختنہ کے حشر کئے جاؤ گے۔ آپﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہُ وَعْداً عَلَیْْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ-(21:104) اور قیامت کے دن سب سے پہلے جسے کپڑے پہنائے جائیں گے وہ ابراہیمؑ ہیں۔ اور اس دن میرے چند صحابہؓ بائیں جانب (یعنی جہنم کی طرف) لئے جا رہے ہوں گے۔ میں کہوں گا یہ تو میرے صحابہؓ ہیں۔ پھر اللہ فرمائے گا یہ لوگ اپنے پچھلے دینؔ پر لوٹ گئے تھے۔1؂ جب سے آپ ان کے پاس سے جدا ہوئے۔ پس میں کہوں گا کہ نیک بندے (یعنی عیسٰیؑ ) نے کہا تھا۔ وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ۔۔۔ -(5:117)
(بخاری کتاب الانبیاء‘ ترجمہ شائع کردہ نور محمد‘ تاجر کتب‘ کراچی‘ جلد دوم‘ ص 149)
سوچئے کہ بخاریؔ کی اس حدیث کی رو سے بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے؟ یہ وہ صحابہؓ ہیں جن کے متعلق قرآن شہادت دیتا ہے کہ:
أُولَءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً۔۔۔ -(8:74)
’’یہی لوگ ہیں جو حقیقی مومن ہیں۔‘‘
اگر ان مومنین کے ایمان کی بھی یہ کیفیت تھی کہ اُدھر رسول اللہﷺ نے آنکھیں بند کیں اور اِدھر یہ (معاذ اللہ) ایمان سے پھر گئے‘ تو بہ دیگراں چہ رسد؟ اور اگر کوئی معترض یہ کہہ دے (اور کہنے والے کہتے ہی ہیں) کہ ’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ تو سوچئے کہ (ان روایات کی رُو سے) خود نبی اکرمﷺ کے متعلق (معاذ اللہ) کیا تصور سامنے آتا ہے۔
***
تاریخ‘ دینؔ بن چکی ہے
اس مقام پر آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ جس تاریخ کی یہ کیفیت ہے اسے مسترد کیوں نہ کر دیا جائے؟ ایسا کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟ یہ بات بڑی معقول ہے اور ایسا کرنے میں کوئی دِقت نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہماری تاریخ کو تاریخ کے مقام سے اٹھا کر دینؔ بنا لیا گیا ہے۔ ان احادیث کے متعلق عقیدہ یہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے‘ رسول اللہﷺ کو بذریعہ وحی خفی ملی تھیں۔ اس لئے یہ قرآن کے ساتھ‘ قرآن کی مثل ہیں (مثلہ‘ معہ‘) اتنا ہی نہیں‘ ان کے متعلق یہ بھی عقیدہ ہے کہ اگر قرآن اور حدیث میں تضاد نظر آئے تو قرآن کو منسوخ سمجھو اور حدیث کو برقرار رکھو۔ کراچی کے ’’ادارۂ تحقیقِ حق‘‘ کی طرف سے ایک پمفلٹ شائع ہوا ہے جس کا نام ہے ’’فتنۂ انکارِ حدیث‘‘ اس کے مصنف ہیں ’’علامہ حافظ محمد ایوب صاحب دہلوی‘‘ وہ اس پمفلٹ میں لکھتے ہیں:
اگر کوئی کہے کہ فَاحْکُم بَیْْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ -(5:48) کے کیا معنی ہیں۔ نبی سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تو کتاب اللہ کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کر۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’مَا أَنزَلَ اللّہ‘‘ کے معنی صرف کتاب اللہ نہیں ہے۔ بلکہ ’’مَا أَنزَلَ اللّہ‘‘ کتاب اللہ بھی ہے اور حدیثِ رسول اللہﷺ بھی۔
(ص 52)
اس کے بعد لکھتے ہیں:
حدیث‘ قرآن کو منسوخ کر دیتی ہے
رہی یہ بات کہ قولِ رسولﷺ قرآن کے خلاف ہو تو وہ بھی حجت ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں ہے: کُتِبَ عَلَیْْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَکَ خَیْْراً الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْْنِ۔۔۔ (2:180)۔ تمہارے اوپر والدین کی وصیت فرض ہے۔ اگر کسی نے مال چھوڑا ہے جب کہ اسے موت آئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ لا وصیۃ للوارث۔ وارث کے لئے وصیت نہیں اور تواتر سے ثابت ہے کہ عمل اسی حدیث پر رہا ہے۔ یعنی وارث کے لئے وصیت ناجائز قرار دی گئی۔ حدیث نے قرآن کی آیت کو منسوخ کر دیا اور قولِ رسولﷺ قرآن کی آیت کے خلاف حجت اور موجبِ عمل رہا۔
(ص 85)
اس کے بعد لکھتے ہیں:
اب اگر کہا جائے کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ رسولﷺ کا کوئی قول قرآن کے خلاف ہو اور رسولﷺ کا قول قرآن کو فسخ کر دے! تو پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ رسولﷺ کا قول اس کا اپنا قول نہیں ہوتا۔ وہ درحقیقت خدا کا قول ہوتا ہے۔ جس طرح قرآن خدا کا قول ہے اسی طرح رسولﷺ کا قول بھی خدا کا قول ہے۔ اور جس طرح قرآن کی ایک آیت قرآن کی دوسرے آیت کو منسوخ کر دیتی ہے۔ اسی طرح خدا کا ایک قول (یعنی قولِ رسولﷺ) دوسرے قول (یعنی قرآن) کو منسوخ کر دیتا ہے۔
(ص 86)
ہم نے یہ کہا تھا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم قرنِ اول (عہدِ محمد رسولﷺ اللہ والذین معہ‘) کی تاریخ 1؂ کے ذخیرہ کو قرآن کی روشنی میں پرکھ لیں۔ جو باتیں قرآن کے مطابق ہوں انہیں صحیح تسلیم کر لیا جائے۔ جو اس کے خلاف ہوں انہیں مسترد کر دیا جائے۔ اس کے جواب میں حافظ ایوب صاحب نے فرمایا:
قرآن اور حدیث میں اختلاف ہو سکتا ہے
جس طرح خدا کے قول کے حجت ہونے میں یہ شرط نہیں کہ وہ عقل کے مطابق ہو۔ بالکل اسی طرح نبیﷺ کے قول کے حجت ہونے میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ قرآن کے مطابق ہو۔ اس لئے کہ نبی کا قول بھی قول اللہ ہے اور قرآن بھی قول اللہ ہے اور اللہ کے دونوں قول ہیں۔ قرآن بھی اور حدیثِ رسول بھی۔ تو اللہ کے قول کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس میں تنوع نہ ہو۔ جس طرح کہ اس کے ایک فعل کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ دوسرے فعل کے مطابق ہو۔ ایک طرف پہاڑ کی چوٹی فلک تک پہنچ رہی ہے۔ دوسری طرف کھڈ کی گہرائی تحت الثریٰ تک پہنچ رہی ہے۔ جس طرح اس کے ایک فعل کا دوسرے فعل کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح اس کے ایک قول کا (یعنی حدیثِ رسولﷺ کا) اس کے دوسرے قول (یعنی قرآن) کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔
(ص 51)
***
ایک حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے:
یکثر لکم الاحادیث من بعدی۔ فاذا روی عنی حدیث فاعرضوہ علیٰ کتاب اللہ۔ فما وافق فاقبلوہ۔ وما خالف فردوہ۔
(بحوالہ کتاب التوضیح والتلویح۔ ص 480)
یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:
’’میرے بعد تم سے بہت سی احادیث بیان کی جائیں گی۔ سو جب کوئی حدیث میری طرف سے روایت کی جائے تو اسے کتاب اللہ کے سامنے پیش کرو جو اس کے موافق ہو اسے قبول کر لو۔ جو اس کے خلاف ہو اسے رَد کر دو۔‘‘
اس حدیث کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ یہ قرآن کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔ نبی اکرمﷺ کا کوئی ارشادِ قرآن کے خلاف ہو نہیں سکتا۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ ان حضرات کی طرف سے اس کا کیا جواب ملا؟ جماعتِ اہلِ حدیث کے ترجمان ماہنامہ‘ رحیق‘ نے اپنی اپریل 1958ء ؁ کی اشاعت میں لکھا:
حدیث کو قرآن کے مطابق ہونا چاہئے یہ عقیدہ مُلحِدوں کا ہے!
اس حدیث کو ملحدوں نے وضع کیا تھا اور انہی ملحدوں کے خیالات کی خوشہ چینی بکواس ازم کے یہ ممبران کر رہے ہیں۔ امام خطابی ؒ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
وضعہ الزنادقۃ الذین مقصودھم افساد الدین ویدفعہ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم انی اوتیت الکتاب و مثلہ معہ۔
(ظفر الامانی علی مختصر الجرجانی۔ ص 267)
یعنی ’’یہ روایت ان زندیقوں اور حدیث دشمنوں کی خود ساختہ حدیث ہے جن کا مقصد احادیث کو رد کر دینے سے دینی نظام کا فاسد و باطل کر دینا ہے اور اس حدیث کا بطلان آنحضرتﷺ کے اس ارشاد سے خود ہو جاتا ہے جس میں ارشاد ہے کہ میں قرآن دیا گیا ہوں اور قرآن کے مانند بھی دیا گیا ہوں۔ پس ’’حدیث‘‘ ہی قرآن کی مانند ہے۔ کیونکہ دوسری روایت میں تشریح ہے کہ ’’قرآن کے مانند‘‘ کا نام ’’حدیث‘‘ ہے۔ وہ روایت یہ ہے:
لا الفین احدکم متکئاً علیٰ اریکتہٖ یصل الیہ عنی الحدیث فیقول لانجد ھٰذا الحکم فی القراٰن الاوانی اوتیت القراٰن و مثلہ و معہ۔
(ظفر الامانی‘ ص 267)
دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
لیوشک الرجل متکئاً علیٰ اریکتہٖ یحدث بحدیثی فیقول بیننا و بینکم کتاب اللہ الحدیث۔ (دارمی‘ جلد اول‘ طبع مصر‘ ص 140)
اس قسم کی روایات الکفایہ (ص 1009) میں خطیبؒ نے ذکر کی ہیں جن میں صاف تصریح ہے کہ حدیث کو رد نہ کرو۔ مجھے قرآن کی طرح اور اس کی مانند ’’حدیث‘‘ بھی دی گئی ہے۔ امام خطابی ؒ کی طرح امام شافعیؒ ۔۔۔ امام لمحدثین عبدالرحمنؓ ابن مہدی وغیرہ نے بھی اس حدیث کو زندیقوں کا وضع کردہ لکھا ہے۔ امام بیہقی ؒ نے بھی فرمایا ہے کہ جو روایت سنتِ نبویہﷺ کو قرآن پر پیش کرنے کی خاطر بنائی گئی ہے وہ باطل ہے۔ علامہ مبشمیؒ نے لکھا ہے کہ اس میں ایک راوی متروک منکر الحدیث ہے۔ (مجمع الزوائد‘ جلد اول‘ ص68)
یعنی یہ مسلک کہ جو کچھ قرآن کے مطابق ہو اسے صحیح سمجھو۔ جو اس کے خلاف ہو‘ اسے غلط قرار دو‘ (ان حضرات کے نزدیک) ملحدین اور زنادقہ کا وضع کردہ ہے!
خِرد کا نام جنوں رکھ دیا‘ جنوں کا خِرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
***
گذشتہ اوراق جو آپ کی نظروں سے گذرے ہیں‘ ان سے یہ حقیقت آپ کے سامنے آچکی ہے کہ ہماری کتبِ احادیث و سیرو آثار میں ایسی باتیں موجود ہیں جو
(1) قرآنِ کریم کی واضح تعلیم کے یکسر خلاف ہیں۔
(2) جن سے نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی پر حرف آتا ہے۔
(3) جن سے صحابہ کبارؓ کی سیرت و کردار مطعون ہو جاتے ہیں۔
(4) جو علم و عقل کے بھی خلاف ہیں۔
اس کے بعد آپ کے دل میں لازماً یہ سوال ابھرے گا کہ:
یہ کیسے ہوا
(الف) اس قسم کی باتیں ان کتابوں میں آکیسے گئیں؟
(ب) ہزار برس سے یہ متواتر آگے منتقل کیسے ہوتی رہیں۔ یعنی لوگوں نے اس قسم کی باتوں کو ان کتابوں سے خارج کیوں نہ کر دیا؟ اور
(ج) آج بھی ہمارا قدامت پرست طبقہ ان باتوں کو صحیح ماننے اور صحیح منوانے پر اس قدر مصر کیوں ہے؟ اور
یہ سوالات ہر اس شخص کے دل میں پیدا ہونے چاہئیں جو ذرا بھی عقل و بصیرت سے کام لے اور ان امور پر غور و فکر کرے۔ جہاں تک پہلی دو شقوں کا تعلق ہے (یعنی اس قسم کی باتیں ہمارے لٹریچر میں آ کیسے گئیں اور قوم نے انہیں ان کتابوں سے خارج کیوں نہ کر دیا؟)اس کے متعلق تفصیلی بحث کی ضرورت ہے اور اس کے لئے مناسب موقعہ وہ ہے جب ہم اپنی پوری تاریخ کا ازسرِنو جائزہ لیں اور اس کے ایک ایک گوشے کے متعلق ریسرچ کریں۔۔۔ ظاہر ہے کہ ایک مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ ہم سرِدست صرف اس نکتہ کو پیش کریں گے کہ آج بھی اس قسم کی باتوں کو صحیح ماننے اور صحیح منوانے پر اس قدر زور کیوں دیا جا رہا ہے؟ اس نقطہ کی وضاحت ایک واقعہ سے ہو جائے گی۔ اسے غور سے سنئے۔
1958ء ؁ کی بات ہے کہ جماعتِ اسلامی کے اربابِ بست و کشاد کا ایک حلقہ۔۔۔۔۔۔ جماعت سے الگ ہو گیا۔ ان الگ ہونے والے حضرات نے اپنی علیحدگی کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہ بتائی تھی کہ جماعت کے دعوتی اور اشاعتی دَور میں جن اصولوں کو دین کی محکم اساس کے طور پر پیش کیا جاتا تھا‘ نظام کے عملی قیام کے وقت ان سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ 1؂ ظاہر ہے کہ یہ اعتراض بڑا وقیع اور یہ جرم بڑا سنگین تھا لیکن (مرحوم) مودودیؔ صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ میں نے یہ کونسا انوکھا کام کیا ہے۔
ایسا (معاذ اللہ) رسولﷺ اللہ نے بھی کیا تھا!
(معاذ اللہ۔ معاذ اللہ) خود نبی اکرمﷺ نے اسلام کے اشاعتی دور میں جو اصول بیان فرمائے تھے اس کے عملی قیام کے وقت ان میں لچک پیدا کر لی تھی۔ مثلاً
اسلامی نظام کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تمام نسلی اور قبائلی امتیازات کو ختم کر کے اس برادری میں شامل ہونے والے سب لوگوں کو یکساں حقوق دیئے جائیں اور تقویٰ کے سوا فرق مراتب کی کوئی بنیاد نہ رہنے دی جائے۔ اس چیز کو قرآن مجید میں بھی پیش کیا گیا اور حضورﷺ نے بھی بار بار اس کو نہ صرف زبانِ مبارک سے بیان فرمایا بلکہ عملاً موالی اور غلام زادوں کو امارت کے مناصب دے کر واقعی مساوات قائم کرنے کی کوشش بھی فرمائی۔ لیکن
جب پوری مملکت کی فرمانروائی کا مسئلہ سامنے آیا تو آپ نے ہدایت دی کہ ’’الائمۃ من قریش‘‘ امام قریش میں سے ہوں۔
ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اس خاص مسئلہ میں یہ ہدایت مساوات کے اس عام اصول کے خلاف پڑتی ہے جو کلیہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
آپ نے غور فرمایا کہ اس وضعی روایت سے جو ہماری کتبِ تاریخ میں درج ہے (اور جس کا ذکر پہلے آچکا ہے) مودودیؔ (مرحوم) نے کس طرح فائدہ اٹھایا۔ ظاہر ہے کہ اگر معاملہ صرف قرآن تک رہتا اور دین میں اسی کو سند مانا جاتا تو مرحوم کو اپنی روش کی تائید میں کوئی دلیل و سند نہ مل سکتی۔ لیکن چونکہ تاریخ کو (قرآن کے برابر بلکہ اس سے بھی افضل) سند مان لیا گیا ہے اور اس میں ہر قسم کا رطب و یابس مسالہ موجود ہے۔ اس لئے اس سے ہر شخص کو اس کے ہر فیصلے اور عمل کی سند مل سکتی ہے۔
جماعت سے الگ ہونے والوں نے اس کے جواب میں کہا:
غور فرمایئے۔ اگر یہ طریقِ کار خدا کے آخری نبیﷺ نے اختیار فرمایا تھا اور اگر اسلامی تحریک اس اسوۂ حسنہ کے مطابق اس طریقِ کار کو اپنا معمول بناتی ہے اور ہر کوئی ایسی جماعت جو اقامتِ دین کی علمبردار ہو وہ اس اصول کو بطور فلسفہ اور عقیدہ کے طے کر لیتی ہے کہ اسلامی نظام کے دعوتی اور اشاعتی دور میں جو اصول بیان کئے جائیں اور جن پر لوگوں کو جمع کیا جائے۔ جب اسلامی نظام کو عملاً قائم کرنے کا وقت آئے گا تو اس تحریک کے قائد کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ توحید و رسالت ایسے اساسی اصولوں کے علاوہ‘ تحریک کے مفاد کے لئے جس اصول میں ضروری خیال کرے استثناء پیدا کر لے۔ اس پر عمل کرنے سے اپنی جماعت کو روک دے۔ جو ضمانت اس تحریک نے عوام کو اپنے ابتدائی دور میں دی ہو اس میں سے جس جزو کو وہ دین کی مصلحت کے لئے مُضر خیال کرے ساقط کر دے (جیسا کہ مبینہ مثال میں حضورﷺ نے مساوات اور حقِ خلافت ایسے اصول اور ضمانت پر صحابہؓ کو عمل کرنے سے روک دیا تھا) تو اس اسلامی تحریک اور اقامتِ دین کی جدوجہد‘ اور ان طالع آزما سیاست دانوں کی تحریکات کے مابین کیا فرق باقی رہ جائے گا جو حصولِ اقتدار سے پہلے نہایت پاکیزہ اصول بیان کرتے ہیں۔ بہت حسین وعدے عوام سے کرتے ہیں اور انہی اصولوں اور وعدوں کی بنیاد پر وہ لوگوں کی حمایت و تائید حاصل کرتے ہیں۔ جب انہیں اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو وہ اقتدار کو قائم رکھنے کی عملی مشکلات سے مجبور ہو کر ان وعدوں اور اصولوں کی خلاف ورزی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جھوٹ بولنا بھی جائز ہے
اس پر مودودیؔ (مرحوم) ایک قدم اور آگے بڑھے اور فرمایا کہ اقامتِ دین جیسے اہم مقصد کے حصول کے لئے اصولوں میں لچک اور استثنیٰ تو ایک طرف ان کے لئے جھوٹ بولنا بھی نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا:
راستبازی اور صداقت شعاری اسلام کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے اور جھوٹ اس کی نگاہ میں ایک بدترین برائی ہے۔ لیکن عملی زندگی کی بعض ضرورتیں ایسی ہیں جن کی خاطر جھوٹ کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ بعض حالات میں اس کے وجوب تک کا فتویٰ دیا گیا ہے۔
(ترجمان القرآن۔ مئی 1958ء ؁)
حدیث سے اس کا ثبوت
آپ حیران ہوں گے کہ مرحوم نے ایسا کہنے کی جرأت کیسے کر لی اور اس کی تائید میں ان کے پاس کون سی سند ہو سکتی تھی؟ لیکن جس تاریخ سے انہوں نے پہلی سند پیش کی تھی اسی سے انہیں اس کی سند بھی مل گئی۔ چنانچہ انہوں نے ’’جھوٹ کے وجوب‘‘ میں دو تین حدیثیں نقل کر دیں۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ:
اسماء بنت یزید نبی اکرمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ جھوٹ جائز نہیں ہے۔ مگر تین چیزوں میں۔ مرد کی بات عورت سے تاکہ وہ اسے راضی کرے۔ جنگ اور اصلاحِ بین الناس۔
(ترمذی)
اس کے بعد انہوں نے (معاذ اللہ) نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ سے بھی اس کی مثالیں پیش کر دیں۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
اس کی عملی مثالیں بھی احادیث میں موجود ہیں۔ کعب بن اشرف کے قتل کے لئے محمد بن مسلم کو جب حضورﷺ نے مامور کیا تو انہوں نے اجازت مانگی کہ اگر کچھ جھوٹ بولنا پڑے تو بول سکتا ہوں؟ حضورﷺ نے بالفاظِ صریح انہیں اس کی اجازت دی۔
(بخاری)
اسلام اور نظامِ سرمایہ داری
امید ہے کہ اس سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہو گی کہ یہ حضرات تاریخ اور روایات کے اس قسم کے بیانات اور واقعات کو (جن کا خلافِ قرآن اور غلط ہونا بدیہیات میں سے ہے) سچا اور دین میں سند تسلیم کرانے پر کیوں زور دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ (جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے) اگر سند قرآن رہے اور اس اصول کو تسلیم کرا لیا جائے کہ قرنِ اول کی تاریخ کا جو بیان قرآن کے خلاف ہے وہ غلط ہے‘ تو کسی کو اپنی فریب کاریوں اور کذب تراشیوں کے لئے دینی سند نہیں مل سکتی۔ ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس قسم کے تاریخی بیانات کو دین میں سند تسلیم کرا لیا جائے اور پھر انہیں اپنے فیصلوں کی تائید میں پیش کر دیا جائے۔ اس سے ہمارا مطلب یہ نہیں کہ اس طبقہ کے تمام افرادِ اسی جذبہ کے تحت ان باتوں کو صحیح مانتے اور صحیح منواتے ہیں۔ ان میں بیشتر حصہ ان افراد پر مشتمل ہے جو ان باتوں کو نیک نیتی سے سچا مانتا ہے۔ یہ اس لئے کہ صدیوں کی تقلید سے ان میں سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ ان کے نزدیک دین کے معاملات میں غور و فکر سے کام لینا جائز نہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ ہوتا چلا آرہا ہے۔ وہی صحیح ہے اس پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی جا سکتی۔ یہ حضرات اس تاریخ کی حفاظت و ترویج کو عین دینی خدمت سمجھتے ہیں۔ مفاد پرست طبقہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے اس قسم کی باتیں وضع کر کے انہیں ابتداًء ہماری تاریخ میں شامل کیا تھا۔ یہی اسے صدیوں سے مسلسل و متوارث آگے بڑھائے چلا آرہا ہے اور یہی آج اس کے تحفظ کا سب سے بڑا علمبردار بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کی ایک مثال سنئے۔ ہم شروع میں بتا چکے ہیں کہ قرآن نے جس نظام کو الدینؔ کہا ہے اس میں فاضلہ دولت کسی کے پاس جمع نہیں رہتی۔ وہ نوعِ انسانی کی بہبود کے لئے امت (یا نظام) کی تحویل میں چلی جاتی ہے۔ اس باب میں قرآن کی تعلیم ایسی واضح‘ بین اور صاف ہے کہ اس میں کسی قسم کی تاویل و تعبیر کی گنجائش نہیں۔ ظاہر ہے کہ عہدِ محمد رسول اللہﷺ والذین معہ‘ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) میں قرآن کی اسی تعلیم پر عمل ہوتا رہا۔ لیکن اس کے بعد جب خلافت ملوکیت میں بدل گئی اور سرمایہ دارانہ نظام ہجوم کر کے آگیا تو اس کی ضرورت پڑی کہ اس کی تائید اور جواز کے لئے سندیں وضع کی جائیں۔ یہ اسناد قرآن سے تو مل نہیں سکتی تھیں کیونکہ اس میں تغیر و تبدل اور حک و اضافہ کی گنجائش نہیں تھی۔ اس کے لئے تاریخ کا چور دروازہ ہی کام دے سکتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس سے کام لیا اور اس قسم کی روایات وضع کیں۔ جن سے نظامِ سرمایہ داری‘ زمینداری اور جاگیرداری کا نظام عین مطابقِ سنتِ رسول اللہﷺ و سنتِ صحابہؓ قرار پا جائے۔ مثلاً ایک روایت میں ہے:

مشکوٰۃ کی ایک حدیث
ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ-(9:34)o
’’جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں اور اسے خدا کی راہ میں کُھلا نہیں رکھتے۔ اے رسولﷺ تو انہیں دردناک عذاب سے آگاہ کر دے۔‘‘
تو مسلمانوں پر اس کا خاص اثر ہوا یعنی انہوں نے اس حکم کو گراں خیال کیا۔ حضرت عمرؓ نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہاری اس فکر کو دُور کر دُوں گا اور اِس مشکل کو حل کروں گا۔ پس عمرؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا‘ یا نبیؐ اللہ یہ آیت آپﷺ کے صحابہؓ پر گراں ہوئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا خداوند تعالیٰ نے زکوٰۃ اس لئے فرض کی ہے کہ وہ تمہارے باقی مال کو پاک کر دے اور میراث کو اس لئے فرض کیا ہے کہ جو لوگ تمہارے بعد رہ جائیں ان کو مال مل جائے۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کا یہ بیان سُن کر عمرؓ نے جوشِ مسرت سے اللہ اکبر کہا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو ایک ایسی بہترین چیز کا پتہ نہ دوں جس کو انسان جمع کر کے خوش ہو اور وہ چیز نیک بخت عورت ہے۔ اس کی طرف مرد دیکھے تو اس کا دل خوش ہو اور جب مرد اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جب وہ غائب ہو تو اس کے مال و دولت کی حفاظت کرے۔
(ابوداؤد)‘ (مشکوٰۃ‘ جلد اول‘ اردو ترجمہ‘ ص 309)
یہ روایت زبانِ حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یہ وضع کردہ ہے۔ یہ کبھی تصور میں بھی نہیں آسکتا ہے کہ خدا کا ایک حکم ہو اور صحابہؓ پر وہ گراں گذرے؟ پھر ان میں سے (کوئی اور بھی نہیں) حضرت عمرؓ اس حکم کو بدلوانے کے لئے رسول اللہﷺ کے پاس جائیں۔ اور رسول اللہﷺ خدا کے اس حکم کو یوں بدل دیں کہ اگر تم اڑھائی فیصد سالانہ ادا کر دو تو تمہیں اجازت ہے کہ سونے چاندی کے ڈھیر جمع کرتے رہو۔ روایت کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ بعد کے دور کی وضع کردہ ہے۔ لیکن چونکہ اس سے سرمایہ دارانہ نظام کا تحفظ ہوتا ہے اس لئے مفاد پرست گروہ اسے صحیح ترین حدیث قرار دے کر برابر آگے بڑھائے چلا جا رہا ہے۔ اسی قسم کی روایات ہیں جو آج بھی سرمایہ داری۔ زمینداری اور جاگیرداری کی تائید میں بڑھ چڑھ کر پیش کی جاتی ہیں اور جب کوئی یہ کہے کہ یہ چیزیں قرآن کے خلاف ہیں تو اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ تم قرآن کو زیادہ سمجھتے ہو یا رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ زیادہ سمجھتے تھے!
***
چونکہ اس مقالہ میں پوری تاریخ کا استقصاء مقصود نہیں اس لئے ہم انہی مثالوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ آپ ان واقعات کو پھر سے سامنے لایئے جو خلیفہ اول کے انتخاب کے ضمن میں ہماری کتبِ احادیث و آثار میں بیان ہوئے ہیں اور پھر سوچئے کہ اگر اس تاریخ کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو دنیا میں اسلام اور متبعینِ اسلام کی پوزیشن کیا رہ جاتی ہے؟
پَس چہ بَاید کرد؟
سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کیا کیا جائے؟ اس کا جواب آسان ہے یعنی:
(1) ہمارا ایمان ہے کہ قرآنِ کریم خدا کی کتاب ہے جو حرفاً حرفاً اپنی حقیقی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔
(2) رسول اللہﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کبارؓ کی زندگی قرآن کے مطابق تھی۔ لہٰذا
(3) اگر اس دَور کی تاریخ میں ہمیں کوئی بات ایسی ملے جو قرآنی تعلیم کے خلاف ہے تو ہمیں بلا تامل کہہ دینا چاہئے کہ تاریخ کا وہ بیان غلط ہے۔ خواہ وہ حدیث کے کسی مجموعہ میں ہو‘ یا کسی اور کتاب میں۔
(4) مندرجہ بالا اصول کی روشنی میں ہمیں قرنِ اول کی تاریخ کو ازسرِنو مرتب کرنا چاہئے۔ اس تاریخ سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ اس دَور میں قرآنِ کریم پر اس طرح عمل ہوا تھا۔
(5) اس دَور کے بعد قرآنی نظام باقی نہیں رہا تھا‘ اس لئے اس وقت سے آج تک کی تاریخ مسلمان قوم کی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ نہ اسلام کی صحیح تعبیر کہلا سکتی ہے‘ نہ ہمارے لئے دلیل اور حجت بن سکتی۔ نہ ہی ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ان لوگوں کی مدافعت میں اپنا وقت اور توانائیاں صرف کریں۔ جنہیں اسلاف کہا جاتا ہے ان کے متعلق ہم اس سے زیادہ ماننے کے مکلف نہیں کہ
تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُم مَّا کَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ-(2:141)
یہ وہ لوگ ہیں جو گذر چکے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا اس کا نتیجہ ان کے لئے تھا۔ تم جو کچھ کرو گے اس کا نتیجہ تمہارے لئے ہو گا۔ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا کیا تھا؟
(6) جہاں تک قرآنِ کریم کے سمجھنے کا تعلق ہے اسے ہر زمانہ میں براہِ راست سمجھا جا سکتا ہے۔ دین میں سند اور حجت قرآن ہے اور یہی ہمارے لئے غلط اور صحیح
حق اور باطل کا معیار ہے۔ جو اس کے مطابق ہے وہ حق ہے جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے۔
جب تک ہم اس مسلک پر عمل پیرا نہیں ہوتے‘ دین ہمارے سامنے نہیں آسکتا۔
***
تکملہ:۔ یہ مقالہ آج سے قریب بائیس سال 1؂ پہلے کا نوشتہ ہے۔ اسے اس موقعہ پر دوبارہ شائع کرنے کا ایک خاص مقصد ہے۔ آج کل ہمارے ہاں ’’اسلامی نظام‘‘ کا خاص چرچا ہے اور اس موضوع پر بڑی کثرت سے لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ ان میں سے ہر محققؔ کی تان اس پر ٹوٹتی ہے کہ اسلامی نظام کا جو نقشہ صدرِ اول میں قائم ہوا تھا‘ ہمیں اسی قسم کا نظام اپنے ہاں قائم کرنا چاہئے۔ اس کے لئے ہر ایک‘ اپنے اپنے نقشہ کی تائید میں تاریخی شواہد پیش کرتا ہے‘ اور چونکہ ان نقشوں میں باہمی اختلاف ہوتا ہے اس لئے ملک میں عجیب قسم کا ذہنی انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ اندریں حالات‘ ہم نے مناسب سمجھا کہ صدرِ اول کی جو تاریخ ہم تک پہنچی ہے اس کی ایک خفیف سے جھلک قوم کے سامنے لائی جائے تاکہ اسے اندازہ ہو جائے کہ روایات کی طرح تاریخ بھی یقینی ذریعہ علم نہیں۔
یاد رکھئے! دینؔ کے متعلق یقینی اور مبنی برحقیقت علم‘ خدا کی کتاب (قرآنِ مجید) کے اندر محفوظ ہے جس میں ایک حرف کا بھی تغیر و تبدل نہیں ہوا۔ اس لئے وہی نظریہ‘ عقیدہ‘ مسلک‘ قانون یا نظام اسلامی کہلا سکتا ہے جس کی سند قرآن سے حاصل ہو۔
حق وہی ہے جو قرآن کے مطابق ہے۔ جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے خواہ اس کی نسبت کسی کی طرف کیوں نہ کر دی جائے۔ اس مقالہ میں بھی جو تاریخی بیانات قرآن کے خلاف ہیں‘ انہیں ہم وضعی قرار دیتے ہیں۔
***

940 total views, 2 views today

(Visited 263 times, 2 visits today)

اِلزامات اور اُن کی حقیقت – اِدارہ طلوعِ اِسلام

بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جس نے اپنی زندگی کا مشن یہ قرار دے رکھا ہے کہ طلوع اسلام کے خلاف بے بنیاد الزامات تراشے جائیں اور پھر انہیں ملک میں اس شد و مد سے پھیلایا جائے کہ لوگ اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر‘ طلوع اسلام کی بات سننا گوارا نہ کریں۔ چونکہ اس جھوٹے پروپیگنڈہ میں اس طبقہ کے سامنے ایک خاص مقصد ہے‘ اور وہ ایسا دانستہ کرتے ہیں‘ اس لئے ان لوگوں سے کچھ کہنا سننا بیکار ہے۔ البتہ جو سادہ لوح اور نیک نیت انسان ان کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر دل میں غلط خیال قائم کر لیتے ہیں‘ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ مختصر الفاظ میں‘ اصل حقیقت ان کے سامنے پیش کر دی جائے۔ تاکہ وہ اس بدظنی سے بچ جائیں جسے قرآن مجید نے یہ کہہ کر گناہ قرار دیا ہے کہ
یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۔ (49:12)
اے ایمان والو! کسی کے خلاف بدظنی سے بہت زیادہ بچو ‘ اس لئے کہ بعض بدظنی (انسان کو) گناہ (تک پہنچا دیتی) ہے۔

پہلا اِلزام – طلوعِ اِسلام منکرِ حدیث ہے

یہ الزام قطعاً غلط ہے۔ ہم جو کہتے ہیں صرف اس قدر ہے کہ نبی اکرمؐ کی سیرتِ مقدسہ‘ انسانی شرف اور کردار کی انتہائی بلندی پر ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری کتبِ روایات میں ایسی باتیں بھی آگئی ہیں جن سے حضورؐ کی سیرت پر طعن پڑتا ہے۔ غیر مسلم انہی روایات کی بنا پر آئے دن حضورؐ کی ذاتِ اقدس پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس قسم کی روایات وضعی ہیں۔ ان کے متعلق ہمیں صاف الفاظ میں کہہ دینا چاہئے کہ وہ رسولؐ اللہ کے اقوال و افعال نہیں ہیں۔ یہی ہیں وہ روایات جن کے صحیح ہونے سے ہم انکار کرتے ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمؑ نے تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا (بخاری) ہم اسے صحیح حدیث نہیں مانتے‘ اور ہمارا خیال ہے کہ آپ بھی صحیح نہیں مانتے ہوں گے۔ اس قسم کی حدیثوں کے متعلق ہم کہتے یہ ہیں کہ یہ رسولؐ اللہ کی ہو نہیں سکتیں۔ یہ وضعی ہیں اور حضورؐ کی طرف یونہی منسوب کر دی گئی ہیں۔ یعنی ہم رسولؐ اللہ کی حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ کہتے یہ ہیں کہ اس قسم کی احادیث کی حضورؐ کی طرف نسبت صحیح نہیں ہے۔
ایسی روایات کو چھوڑ کر‘ وہ احادیث جو نہ قرآن مجید کے خلاف ہوں اور نہ جن سے نبی اکرمؐ یا صحابہ کرامؓ کی شان کے خلاف کوئی طعن پڑتا ہو‘ ہم انہیں صحیح تسلیم کرتے ہیں۔
*********

دوسرا اِلزام – طلوعِ اِسلام منکرِ سنت ہے

اس سنگین ترین الزام کی تردید میں ہم اس سے زیادہ کچھ اور کہنا ضروری نہیں سمجھتے کہ پرویز صاحب کی مایہ ناز کتاب‘ معراج انسانیت1؂ ‘ کا ایک اقتباس درج کر دیں جو طلوع اسلام کے صفحات میں کئی بار پیش کیا جا چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں -:
خدائے جلیل نے اپنے بندوں سے جو کچھ کہنا تھا آخری مرتبہ کہہ دیا۔ شرفِ انسانیت کی تکمیل کے لئے جو قوانین دیئے جانے تھے وہ اپنی انتہائی شکل میں دے دیئے گئے۔ اس کے بعد انسان کو اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لئے کسی دوسری مشعلِ راہ کی ضرورت‘ اور کسی اور ہادئ طریقت کی احتیاج نہ رہی۔ اب انسانیت کے مقامِ بلند تک پہنچنے کے لئے وہی ایک صراط مستقیم ہے جس پر اس ذاتِ اقدس و اعظمؐ کے نقوشِ قدم جگمگ جگمگ کر رہے ہیں اور جس کو دیکھ کر ہر خبیر و بصیر پکار اٹھتا ہے کہ؂
مقامِ خویش اگر خواہی دریں دیر
بحق دل بند و راہِ مصطفی رَو
(معراج انسانیت ص 175)
جس کا یہ ایمان ہو کیا اُسے منکرِ سُنت کہا جا سکتا ہے؟
*********

تیسرا اِلزام – طلوعِ اِسلام رسالت پر ایمان ضروری نہیں سمجھتا

اس الزام کی تردید میں بھی ہم پرویز صاحب کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کر دینا کافی سمجھتے ہیں۔ وہ ’’سلیم کے نام خطوط‘‘ (جلد اول ص 84) میں لکھتے ہیں
ذرا سوچو کہ جب ایک مسلمان کہتا ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے تو اس کے پاس اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے کہ قرآن واقعی خدا کا کلام ہے (معاذ اللہ! رسولؐ اللہ کا خود ساختہ نہیں۔) تاریخ شاہد ہے (اور اس کا ہمیں بھی اقرار ہے) کہ دنیا کو قرآن محمدؐ ابن عبداللہ نے دیا تھا۔ پھر یہ خدا کا کلام کیسے ہوا؟ اس کا صرف ایک ہی ثبوت ہے کہ خود محمدؐ ابن عبداللہ نے یہ کہا ہے کہ یہ کلام میرا نہیں‘ خدا کا ہے۔ اس لئے جب تک کوئی شخص محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت پر ایمان نہ لائے‘ قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان نہیں لا سکتا۔
*********

چوتھا اِلزام – طلوعِ اِسلام سنتِ رسول اللہ کو حُجت نہیں مانتا

جیسا کہ ’’الزام نمبر 6‘‘ کے تحت آپ دیکھیں گے‘ طلوع اسلام کا عقیدہ اور مسلک یہ ہے کہ مختلف ارکانِ اسلام (نماز روزہ وغیرہ) کو اُمت کے مختلف فرقے‘ جس جس طریقے سے ادا کرتے چلے آرہے ہیں‘ کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ ان میں کسی قسم کا رد و بدل کر سکے‘ یا کوئی نیا طریقہ وضع کرے۔
اب سوچئے کہ جو شخص (مثلاً) نماز کے مروجہ طریقہ میں نہ خود رد و بدل کرتا ہے نہ کسی اور شخص کو اس کا حق دیتا ہے‘ وہ سنتِ رسولؐ اللہ کو حجت نہیں مانتا تو اور کیا کرتا ہے۔ حجت کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ اسے مستند سمجھا جائے اور کسی شخص کو اس میں رد و بدل کرنے کا مجاز نہ سمجھا جائے۔
*********

پانچواں اِلزام – طلوعِ اِسلام حکومت کی اِطاعت کو خدا اور رسول کی اِطاعت قرار دیتا ہے

اس الزام کی تردید میں ہم پر پرویز صاحب کے اس خط کا متعلقہ اقتباس درج کر دینا کافی سمجھتے ہیں جو انہوں نے (کفر کے فتویٰ کے جواب میں) مفتی محمد شفیع صاحب کے نام لکھا تھا۔

اطاعتِ رسول اور اطاعتِ خدا کے متعلق جو کچھ میں کہتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صورت یہ نہیں تھی کہ ہر شخص اپنے اپنے مفہوم کے مطابق خدا اور رسولؐ کی اطاعت کر لیتا تھا۔ اس کی صحیح شکل تھی کہ حضورؐ کے بعد جو خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہوئی تھی اس سے پوچھا جاتا تھا کہ فلاں معاملہ میں خدا اور رسولؐ کی اطاعت کس طرح کی جائے گی جو فیصلہ وہاں سے ملتا اسے خدا اور رسول کی اطاعت سمجھا جاتا۔ اسی سے وحدتِ امت قائم تھی۔ جب خلافت باقی نہ رہی تو خدا اور رسولؐ کی اطاعت انفرادی طور پر ہونے لگی۔ اس سے امت میں افتراق پیدا ہوا۔ امت میں دوبارہ وحدت پیدا کرنے کی صورت یہ ہے کہ پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم کی جائے اور اس کے فیصلوں کے مطابق خدا اور رسولؐ کی اطاعت کی جائے۔ اسی خلافت کو بغرضِ اختصار‘ مرکزِ ملت یا اسلامی نظام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور میں اس کی بار بار وضاحت کر چکا ہوں۔ میں نہ ہر نظامِ حکومت کو اسلامی نظام کہتا ہوں اور نہ اس کے فیصلوں کی اطاعت کو خدا اور رسولؐ کی اطاعت۔۔ میرے نزدیک خلافت علیٰ منہاج نبوت کے علاوہ کوئی نظام اسلامی نہیں کہلا سکتا۔ اور نہ اسے مرکزِ ملت قرار دیا جا سکتا ہے۔
(طلوع اسلام۔ مئی جون 62 ؁ء ص 152-153)
جہاں تک ہمارا تعلق ہے‘ ہم اپنے آپ کو نہ اس وقت ان طریقوں میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا مجاز سمجھتے ہیں جن پر اُمت کاربند ہے نہ خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس کا مجاز سمجھیں گے۔ ہم اس وقت اس طریقے کے مطابق چلیں گے جس پر وہ خلافت ہمیں چلائے گی۔ البتہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر دین کی حکمت اور امت کی بہتری کی خاطر وہ خلافت کسی سابقہ فیصلہ میں کچھ تبدیلی کرنا چاہے‘ تو وہ ایسا کرنے کی مجاز ہو گی (مثلاً) نبی اکرمؐ کے زمانہ میں تمام مفتوحہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کر دی جاتی تھیں‘ لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں اس طریق کو بدل دیا اور مفتوحہ زمینوں کو‘ حکومت کی تحویل میں لے لیا‘ تاکہ اس سے افراد مملکت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب پھر اسی قسم کی خلافت قائم ہو جائے‘ جیسی حضرت عمرؓ کے زمانے میں تھی‘ تو وہ اس قسم کے فیصلے کرنے کی مجاز ہو گی۔
*********

چھٹا اِلزام – تین نمازیں – نو دن کے روزے

کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام کہتا ہے کہ نمازیں صرف تین وقت کی ہیں اور روزے نو دن کے۔

یہ سرتاسر جھوٹ ہے۔ طلوع اسلام نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ اس کے برعکس ہم نے بار بار اعلان کیا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز‘ روزہ وغیرہ کی ادائیگی کرتے چلے آرہے ہیں‘ ہمیں ان میں کسی قسم کے تغیر و تبدل کا حق حاصل نہیں‘ نہ ہی کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنے کا۔۔ البتہ ہم یہ ضروری کہتے ہیں کہ
(1) ان باتوں میں مختلف فرقوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے ان کی بنا پر آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہئے۔۔۔ اور
(2) نماز‘ روزہ وغیرہ کو محض رسمی طور پر ادا نہیں کر لینا چاہئے۔ اس روح اور مقصد کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جن کے لئے یہ احکام دیئے گئے تھے۔ رسمی نمازیں اور بے روح روزے‘ وہ انقلاب نہیں پیدا کر سکتے جو انقلاب محمد رسولؐ اللہ والذین معہؓ نے دنیا میں پید اکر کے دکھایا تھا۔
*********

ساتواں اِلزام – اُردو میں نماز

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام نے اُردو میں نماز پڑھنے کا طریقہ ایجاد کیا ہے‘ یہ طلوع اسلام کے خلاف کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ کچھ سال اُدھر کا ذکر ہے کہ لاہور میں کسی صاحب نے عید کی نماز اُردو میں پڑھائی۔ جب اس واقعہ کی خبر طلوع اسلام کو پہنچی (جس کا دفتر اُس زمانہ میں کراچی میں تھا) تو اُس نے‘ سب سے پہلے اس کی مخالفت کی اور لاہور میں بڑے بڑے پوسٹر اس کے خلاف لگوائے۔ اس کے بعد یہ آج تک اس تحریک کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے۔
اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایئے کہ طلوع اِسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے کس دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں۔
*********

آٹھواں اِلزام – طلوعِ اِسلام ایک نیا فرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے

طلوع اسلام پہلے دن سے اعلان کرتا چلا آرہا ہے کہ اسلام دُنیا میں امتِ واحدہ پیدا کرنے کے لئے آیا تھا اور نبی اکرمؐ نے ایسی اُمت پیدا کر کے دکھا دی تھی جس میں کوئی فرقہ نہیں تھا۔ قرآن کی رُو سے فرقہ بندی شرک ہے۔
اب ظاہر ہے کہ جس بات کو طلوع اسلام‘ خلافِ اسلام اور شرک قرار دیتا ہے کیا وہ خود اس کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ طلوع اسلام کا تعلق نہ کسی سیاسی پارٹی سے ہے نہ کسی مذہبی فرقہ سے‘ نہ ہی وہ کوئی اپنی سیاسی پارٹی بنانا چاہتا ہے نہ مذہبی فرقہ۔ وہ امت میں اتحاد کا علمبردار ہے اور پوری نوع انسانی کا ایک عالمگیر برادری بنانے کا داعی۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
*********

نواں اِلزام – طلوعِ اِسلام قرآن کو نئے معنی پہناتا ہے

اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو حکم دیا ہے کہ وہ قرآن کریم میں غور و فکر کرے وہ اس میں غور و تدبر نہ کرنے والوں کو بڑی سخت سرزنش کرتا ہے۔ وہ عقل و فکر سے کام نہ لینے والوں کو حیوانات سے بھی بدتر قرار دیتا ہے۔
طلوع اسلام‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق‘ قرآن کریم میں غور و تدبر کرتا ہے اور اس کے نتائج دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ جو کچھ کہتا ہے اس کی سند خود قرآن سے پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد بھی وہ کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ بالضرور اس کے پیش کردہ مفہوم کو صحیح سمجھے‘ نہ ہی وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے‘ غلطی سے مبرا اور حرفِ آخر ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے انفرادی غور و فکر کا حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔ آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں‘ لیکن اسے غور و فکر کرنے سے نہیں روک سکتے؟ اگر کسی کو غور و فکر کا حق دیا جانا مقصود نہ ہوتا‘ تو اللہ تعالیٰ غور و فکر کرنے کا حکم کیوں دیتا؟
*********

دسواں اِلزام – اِسلام کی مُخالفت

اس سلسلے میں عوام کو یہ کہہ کر بھڑکایا جاتا ہے کہ دیکھو‘ یہ شخص (پرویز) یہ کہتا ہے کہ
(1) قرآن کو آج تک میرے سوا کسی نے نہیں سمجھا۔
(2) جو کچھ ہمارے پاس اسلاف سے آرہا ہے‘ اس کو دریا بُرد کر دینا چاہئے۔
(3) تمہارے ائمہ اور اسلاف سب (معاذ اللہ) جاہل تھے۔ وغیرہ وغیرہ
یہ کچھ نہ کبھی پرویز صاحب نے کہا ہے‘ نہ طلوع اسلام نے‘ وہ کھلے الفاظ میں کہتا ہے کہ
’’ہمارا یہ مطلب نہیں کہ سلف سے جو کچھ تمہارے پاس آیا ہے وہ (معاذ اللہ) سب کا سب گمراہ کن ہے۔ ایسا کون کہہ سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں ان سے ملا ہے‘ آنکھیں بند کر کے اس کی پیروی مت کرو بلکہ شمع قرآنی کی روشنی میں ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھو۔ وہ بھی ہماری طرح انسان تھے‘ غلطی کر سکتے تھے‘ لیکن قرآن کی کسوٹی کبھی غلطی نہیں کر سکتی۔‘‘
(طلوع اسلام۔ بابت اکتوبر 49 ؁ء)
اس کا کہنا صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ اسلاف سے چلا آرہا ہے ہمیں چاہئے کہ اسے قرآن کریم کی روشنی میں پرکھ کر دیکھ لیں‘ جو کچھ اس کے مطابق ہو اسے صحیح تسلیم کر لیں۔ جو اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیں۔
جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ ہماری کتب روایات میں اور اسلاف کی کتابوں میں بعض باتیں ایسی آگئی ہیں جو قرآن کے خلاف جاتی ہیں۔ ان باتوں کے متعلق طلوع اسلام کا مسلک وہ ہے جسے پرویز صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
میرے نزدیک نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی بات (معاذ اللہ) قرآن کے خلاف فرما سکتے تھے اور نہ ہی میں ان بزرگوں کے متعلق ایسا گمان کر سکتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کے خلاف کچھ پیش کیا ہو۔ لہٰذا یہ چیزیں رسولؐ اللہ اور ائمہ ملت کی طرف غلط منسوب کر دی گئی ہیں (اور یہی عجم کی سازش تھی) اگر اس پر بھی کسی کو اصرار ہے کہ نہیں! یہ باتیں رسولؐ اللہ (اور ائمہ کرامؒ ) ہی کی ہیں تو میں صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ یہ جرأت آپ کو مبارک ہو۔ میں تو اس کے تصور سے بھی کانپتا ہوں کہ کسی ایسی بات کو جو قرآن مجید کے خلاف ہو‘ (معاذ اللہ) رسولؐ اللہ یا حضورؐ کے کسی سچے متبع کی طرف منسوب کیا جائے۔
(اسباب زوال امت ص 174)
سوچئے کہ کیا یہ شخص اسلاف کا زیادہ احترام کرتا ہے‘ یا وہ جو اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ باتیں جو قرآن کے خلاف ہیں ہمارے اسلاف نے ضرور کہی ہیں۔
*********

گیارھواں اِلزام – دعوائے نبوت

جب ان لوگوں سے کوئی اور بات بن نہیں پڑتی تو کہہ دیتے ہیں کہ تم دیکھ لینا۔ پرویز صاحب ایک دن نبوت کا دعویٰ کر دیں گے۔
پرویز صاحب کا عقیدہ یہ ہے (جس کا وہ سینکڑوں مقامات پر شرح و بسط سے اعلان کر چکے ہیں) کہ
(1) نبی وہ ہے جسے خدا کی طرف سے وحی ملے۔
(2) وحی سے مطلب ہے خدا کی طرف سے براہ راست حقیقت کا علم حاصل ہونا۔
(3) نبی اکرمؐ کے بعد خدا کی طرف سے وحی کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔
(4) ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ اب کسی شخص کو خدا کی طرف سے براہ راست کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس نے انسانوں کی راہنمائی کے لئے جو کچھ دینا تھا‘ قرآن کریم میں دے دیا اور اسے قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا۔
(5) ہمارے ہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وحی کا دروازہ بند ہو گیا لیکن کشف اور الہام کا دروازہ کھلا ہے۔ کشف اور الہام کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خدا کی طرف سے براہِ راست علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ چیز ختم نبوت کے منافی ہے اور وہ سیڑھی ہے جس سے لوگ نبوت تک کا دعویٰ کرنے لگ جاتے ہیں اس لئے ان راستوں کا بند کرنا نہایت ضروری ہے۔
اب آپ سوچئے کہ جو شخص ختمِ نبوت کے بعد وحی تو ایک طرف‘ کشف و الہام کا بھی قائل نہ ہو وہ نبوت کا دعویٰ کس طرح کر سکتا ہے۔ پرویز صاحب کا ’’دعویٰ‘‘ صرف اس قدر ہے کہ وہ قرآن کے ایک ادنیٰ طالب علم ہیں اور بس۔
*********

بارھواں اِلزام – کمیونسٹ

ان پر جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے والوں کی دیدہ دلیری کی انتہا ہو جاتی ہے۔ جب یہ لوگوں میں مشہور کرتے ہیں کہ طلوع اسلام‘ ملک میں کمیونزم پھیلاتا ہے۔ یہ کچھ ا س طلوع اسلام کے خلاف کہا جاتا ہے جس نے‘ تشکیل پاکستان سے اس وقت تک کمیونزم کے خلاف مسلسل جہاد شروع کر رکھا ہے اس نے مختلف انداز میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کے لئے سب سے بڑا چیلنج کمیونزم ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں۔ اس لئے۔۔۔
نہ کوئی مسلمان کبھی کمیونسٹ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی کمیونسٹ مسلمان ہو سکتا ہے۔
(طلوع اسلام۔ ستمبر 1962 ؁ء ص 33)
اس لئے وہ دورِ حاضر میں کمیونزم کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے۔
البتہ وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ قرآن کریم جس قسم کا نظام قائم کرتا ہے اس میں کوئی شخص نہ بھوکا رہ سکتا ہے‘ نہ ننگا۔ اس میں ہر فردِ معاشرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی ذمہ داری‘ مملکت پر ہوتی ہے۔ مملکت اپنی اس اہم اور عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے‘ ضرورت سمجھے تو ملک کے ذرائع پیداوار کو اپنی تحویل میں لے سکتی ہے لیکن مملکت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی جس سے کسی فرد کی انفرادیت (Individuality) سلب ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام میں افراد کو طبعی ضروریاتِ زندگی کی طرف سے اطمینان ہی اس لئے دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی وحی خداوندی کے تابع رکھ کر‘ اپنی ذات (انسانی صلاحیتوں) کی نشوونما کر سکیں اور اس طرح دنیا میں بھی سرفرازی و سربلندی کی زندگی بسر کریں اور حیاتِ اخروی میں زندگی کی مزید ارتقائی منازل طے کرنے کے قابل ہو سکیں۔ سوچئے کہ کمیونزم کو‘ جو نہ وحی خداوندی کو مانتی ہے اور نہ حیاتِ اخروی کو‘ اس نظام حیات سے کیا واسطہ؟
*********
یہ ہیں مختصر الفاظ میں وہ الزامات‘ جو طلوع اسلام کے خلاف تراشے جاتے ہیں اور جن کا اس قدر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کی روشنی میں دیکھئے کہ کیا ان الزامات میں کوئی صداقت ہے؟ یہ لوگ طلوع اسلام کے خلاف اس قدر جھوٹا پراپیگنڈہ اس لئے کرتے ہیں کہ طلوع اسلام اس تھیاکریسی کی مخالفت کرتا ہے جسے یہ لوگ یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں اور جس میں انسانیت کا گلا گھٹ کر رہ جاتا ہے۔
یہ حضرات طلوع اسلام کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے تک ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہر قسم کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اس باب میں آپ مولانا مودودی صاحب کے ایک ممتاز اور پرانے معتقد حکیم عبدالرحیم اشرف کا ایک بیان سن لیجئے‘ جو ان کے اخبار ’’المنیر‘‘ بابت 19 ستمبر 1958 ؁ء میں شائع ہوا تھا (اشرف صاحب اب مودودی صاحب سے الگ ہو چکے ہیں) انہوں نے لکھا تھا -:
میں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب سے 17 دسمبر 1957 ؁ء کو ملتان جیل میں ملاقات کی۔ اس موقعہ پر منجملہ دیگر امور کے ’’منکرین سنت‘‘ اور ان کے فتنے کا بھی ذکر آگیا۔ اس پر مولانا ممدوح نے اشاعتِ لٹریچر کی ایک اسکیم بتلائی اور اس کی تکمیل کے سلسلے میں فرمایا کہ آپ چودھری غلام محمد صاحب سے کہیں (جو اس زمانہ میں جماعت اسلامی سندھ کے قیم تھے) کہ وہ دفتر طلوع اسلام سے رابطہ پیدا کریں اور وہاں کسی شخص کی تالیف قلب کر کے طلوع اسلام کے پتے حاصل کریں۔
آپ اندازہ لگا لیجئے کہ جو لوگ رشوت دے کر پتے حاصل کرنے تک سے بھی گریز نہ کریں وہ الزام تراشی اور کذب بافی میں کیا باک محسوس کریں گے؟
*********

ایک درخواست

اس سلسلہ میں ہماری آپ سے صرف ایک درخواست ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ سے کوئی شخص طلوع اسلام کے خلاف کوئی بات کہے۔ تو آپ اس سے اتنا کہئے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کی تائید میں طلوع اسلام یا پرویز صاحب کی کوئی تحریر دکھا دیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد وہ کس طرح اپنا سا مُنہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا یہ پروپیگنڈہ کامیاب ہی اس لئے ہو رہا ہے کہ لوگ ان سے اس کا مطالبہ نہیں کرتے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کی تائید میں طلوع اسلام یا پرویز صاحب کی تحریر دکھا دیجئے۔
یا آپ کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جو کچھ آپ سے کہا جائے اس کے متعلق طلوع اسلام یا پرویز صاحب سے خود دریافت کر لیجئے کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔
*********

درسِ قرآن

اس کے جواب میں بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ پرویز صاحب اپنے درسِ قرآن میں اس قسم کی قابلِ اعتراض باتیں کہتے ہیں۔ پرویز صاحب کا درس ہر اتوار کی صبح ان کے مکان (واقعہ 25 بی‘ گلبرگ 2‘ لاہور) میں ہوتا ہے۔ جس کا جی چاہے اسے آکر سُن لے اور اپنا اطمینان کر لے کہ اس میں کون سی بات قابلِ اعتراض ہوتی ہے۔
پھر اتنا ہی نہیں کہ وہاں درس دیا گیا اور بات ہوا میں اڑ گئی۔ ان کا ہر درس ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور یہ ٹیپ (ہر اتوار کی صبح‘ لاہور) میں 25بی‘ گلبرگ 2‘ میں سنایا جاتا ہے اس کے بعد دیگر مقامات میں اسے دہرایا جاتا ہے۔ آپ ان مقامات میں سے کسی جگہ اس درس کو سنئے اور پھر خود فیصلہ کیجئے کہ آیا اس میں کوئی قابل اعتراض بات ہوتی ہے۔۔؟ محض سنی سنائی باتوں پر نہ جایئے کیونکہ خدا کا حکم ہے کہ
لا تقف ما لیس لک بہ علم۔ (17:36)
جس بات کا تمہیں ذاتی طور پر علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ لگ جایا کرو۔


744 total views, 2 views today

(Visited 164 times, 4 visits today)

نماز کی اہمیت – پرویز

طلوع اسلام کے خلاف مسلسل ہونے والے منفی پروپیگنڈا کے زیر اثر ہمارے نئے قارئین کی طرف سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ طلوع اسلام یا پرویز صاحب کا نماز سے متعلق نظریہ کیا تھا؟ سو ان احباب کے استفادہ کے لئے نماز سے متعلق پرویز علیہ الرحمتہ کی وہ تحریریں جو طلوع اسلام کے مختلف پرانے شماروں اور کتابوں میں شامل ہیں‘ ان کو یکجا کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔ امید ہے آپ اس کاوش کو مفید پائیں گے۔

***

ایک صاحب نے مجھ سے حسب ذیل سوالات دریافت کئے ہیں۔
(1) آپ کہتے ہیں کہ اسلام قوانین خداوندی کا نام ہے۔ اس میں نماز کی اہمیت اور مقام کیا ہے؟
(2) نماز اور صلوٰۃ میں کیا فرق ہے۔ آپ نے کہیں اس کی صراحت کی ہے کہ صلوٰۃ سے مراد نماز ہے؟
(3) کیا آپ نماز کی موجودہ شکل کے علاوہ کوئی اور شکل تجویز کرتے ہیں؟

جواب

(1) اسلام نام ہے زندگی کے ہر شعبے میں احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کر دینے کا۔ ان کی پوری پوری اطاعت کرنے کا۔ نماز‘ اس طرح سر تسلیم خم کرنے کا عملی اعتراف اور محسوس مظاہرہ ہے۔ خدا کے سامنے سر جھکا دینے (سجدہ ریز ہو جانے) سے انسان اس امر کا اقرار (یا اظہار) کرتا ہے کہ وہ اپنے ہر ارادے‘ فیصلے اور عمل میں اس کے احکام کی اطاعت کرے گا۔ جس کا دل‘ جذبات فرماں پذیری اور اطاعت گزاری سے لبریز ہو‘ اس کا سر خود بخود خدا کے حضور جھک جائے گا اور جو خدا کے حضور سر جھکانے میں عار یا سبکی محسوس کرتا ہے وہ اس کی اطاعت کیا کرے گا؟ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ جو شخص زندگی کے مختلف شعبوں میں قوانین خداوندی سے سرکشی برتتا ہے‘ اس کا نماز میں رسمی طور پر سر جھکا دینا‘ مقصد صلوٰۃ کو پورا نہیں کر سکتا۔
(2) نماز فارسی (بلکہ پہلوی) زبان کا لفظ ہے جو اہل ایران کے قدیم طریق پرستش کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں یہ لفظ‘ اجتماعات صلوٰۃ کے لئے استعمال کر لیا گیا اور اب ہمارے ہاں یہی لفظ مروج ہے (میں سمجھتا ہوں کہ جو اصطلاحات قرآن کریم نے مقرر کی ہیں انہیں اسی طرح استعمال کرنا زیادہ اچھا ہے) قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ آیا ہے جو معنوی اعتبار سے بڑا وسیع اور جامع ہے۔ اس کے بنیادی معنی کسی کا اتباع یا اطاعت و محکومیت اختیار کرنا ہیں۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو نماز کے اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ لہٰذا جب ہم نماز کا لفظ بولیں گے تو اس کا مطلب صرف نماز ہو گا۔ لیکن جب صلوٰۃ کا لفظ استعمال کریں گے تو اس میں نماز بھی آجائے گی اور اس کے علاوہ اور مفہوم بھی۔ میں نے اکثر مقامات پر اس کی صراحت کر دی ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ نماز کے اجتماعات کے لئے بھی قرآن کریم میں آیا ہے۔ مثلاً لغات القرآن میں لفظ صلوٰۃ (مادہ ص۔ل۔و (ی) کے تحت آپ کو یہ عبارت ملے گی۔
صلوٰۃ کے جو مختلف مفاہیم اوپر بیان ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ ایک عبد مومن‘ زندگی کے جس گوشے میں بھی قوانین خداوندی کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کرتا ہے وہ فریضہ صلوٰۃ ہی کو ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے لئے وقت‘ مقام یا شکل کا تعین ضروری نہیں۔ لیکن قرآن کریم میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں صلوٰۃ کا لفظ ایک خاص قسم کے عمل کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
اس کے بعد قرآن کریم کی وہ آیات دی گئی ہیں جن میں صلوٰۃ کا لفظ نماز کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے۔
تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ ان اجتماعات کے لئے بھی آیا ہے جنہیں عام طور پر نماز کے اجتماعات کہا جاتا ہے۔ (نماز کا لفظ عربی زبان کا نہیں پہلوی زبان کا ہے)۔

اس کے بعد ارکان صلوٰۃ کی اہمیت کے سلسلے میں لکھا ہے۔
انسان اپنے جذبات کا اظہار جسم کے اعضا کی محسوس حرکات سے بھی کرتا ہے اور یہ چیز اس میں ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ اس سے یہ حرکات خود بخود سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ غم و غصہ‘ خوشی‘ تعجب‘ عزم و ارادہ‘ ہاں اور نہ‘ وغیرہ قسم کے جذبات اور فیصلوں کا اظہار‘ انسان کی طبیعی حرکات سے بلا ساختہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی کیفیت جذبات عزت و احترام اور اطاعت و انقیاد کے اظہار کی ہے۔ تعظیم کے لئے انسان کا سر بلا اختیار نیچے جھک جاتا ہے۔ اطاعت کے لئے ’’سرتسلیم خم‘‘ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن کریم عمل کی روح اور حقیقت پر نگاہ رکھتا ہے اور محض (Formalism) کو کوئی وزن نہیں دیتا‘ لیکن جہاں کسی جذبہ کی روح اور حقیقت کے اظہار کے لئے (Form) کی ضرورت ہو‘ اس سے روکتا بھی نہیں۔ بشرطیکہ اس (Form) ہی کو مقصود بالذات نہ سمجھ لیا جائے۔ صلوٰۃ کے سلسلہ میں قیام و سجدہ وغیرہ کی جو عملی شکل ہمارے سامنے آتی ہے وہ اسی مقصد کے لئے ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ان جذبات کا اظہار اجتماعی شکل میں ہو گا تو اظہار جذبات کی محسوس حرکات میں ہم آہنگی کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے‘ ورنہ اجتماع میں انتشار ابھرتا دکھائی دے گا۔ احترام و عظمت‘ انقیاد و اطاعت اور فرماں پذیری و خود سپردگی کے والہانہ جذبات کے اظہار میں نظم و ضبط کا ملحوظ رکھنا بجائے خویش بہت بڑی تربیت نفس ہے۔

مفہوم القرآن میں قرآنی اصطلاحات کے ضمن میں لکھا گیا ہے۔
قرآن کریم کی ایک خاص اصطلاح ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ ہے جس کے عام معانی نماز قائم کرنا یا نماز پڑھنا کے ہیں۔ اس لئے صلوٰۃ میں‘ قوانین خداوندی کے اتباع کا مفہوم شامل ہو گا۔ بنا بریں اقامت صلوٰۃ سے مفہوم ہو گا ایسے نظام یا معاشرہ کا قیام جس میں قوانین خداوندی کا اتباع کیا جائے۔ یہ اس اصطلاح کا وسیع اور جامع مفہوم ہے۔ نماز کے اجتماعات میں قوانین خداوندی کے اتباع کا تصور‘ محسوس اور سمٹی ہوئی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس اصطلاح کو ان اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کس مقام پر اقامت صلوٰۃ سے مراد اجتماعات نماز ہیں اور کس مقام پر قرآنی نظام یا معاشرہ کا قیام۔ مفہوم القرآن میں یہ معانی اپنے اپنے مقام پر واضح کر دیئے گئے ہیں۔
ان تصریحات سے واضح ہے کہ میں نے صلوٰۃ کے معنی نماز اور اقامت صلوٰۃ کے معنی اجتماعات صلوٰۃ کا قیام واضح الفاظ میں دیئے ہیں اور اس سے مراد وہی نماز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں۔
(3) ایک مقام پر نہیں‘ متعدد مقامات پر اور ایک مرتبہ نہیں‘ متعدد بار اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز پڑھتے چلے آرہے ہیں ان میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اسی وجہ سے میں فرقہ اہل قرآن سے بھی اختلاف رکھتا ہوں جنہوں نے اپنے لئے الگ نماز تجویز کر رکھی ہے۔ البتہ میں یہ ضرورکہتا ہوں کہ اگر مسلمانوں میں پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت کا قیام ہو جائے اور وہ تمام امت کے لئے نماز کی ایک ہی شکل تجویز کر دے تو یہ امت میں وحدت پیدا کرنے کے لئے بڑا موثر اقدام ہو گا۔ یہ تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ عہد رسالت مآب اور خلافت راشدہ میں‘ امت ایک ہی طریق پر نماز ادا کرتی ہو گی۔ اس وقت امت میں وحدت تھی۔ اس لئے جب ہم پھر سے اسی عہد سعادت مہد کی طرف رخ کریں گے تو امت میں وحدت پیدا کرنے کی کوشش بھی ضرورکرنی ہو گی اور نماز اس کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اب امت میں وحدت پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں‘ تو میں اس سے بحث نہیں کرتا۔
(’’طلوع اسلام‘‘ نومبر و دسمبر 1961ء ؁‘ ص 12)

نماز کی اہمیت

میں نے ایسی باتیں بھی سنی ہیں کہ بعض اراکین بزم یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اب جو اسلام کو سمجھا ہے‘ اس کی بناء پر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا ’’طلوع اسلام‘‘ نے آپ کو یہی تعلیم دی ہے کہ نماز نہ پڑھنے پر فخر کرو؟ آپ نے غیر قرآنی روش زندگی کو تو نہ چھوڑا‘ اور اس کے بجائے اس قسم کی باتیں کرنے لگ گئے اور ستم بالائے ستم کہ اپنے آپ کو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستہ ظاہر کر کے ایسی باتیں کرنے لگے۔ طلوع اسلام پر آخر یہ کتنا بڑا الزام ہے جو آپ نے عائد کر دیا۔
ذاتی طور پر مجھ میں بھی کمزوریاں ہیں اور میں ہمیشہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہوں۔ لیکن یہ انتہائی ظلم ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کے لئے جواز کی صورتیں تلاش کرنے لگ جائیں۔ آپ قرآنی نظریات کے خلاف سب کچھ کر رہے ہیں۔ تجارت‘ کاروبار‘ شادی‘ رشتے ناطے سب کچھ ہو رہا ہے۔ بینک بیلنس برابر قائم ہیں۔ قرآن کے مطابق انہیں بدلنے کے لئے آپ کے ذہن میں کبھی کچھ نہیں آیا۔ پھر نماز کے بارے میں ایسا کیوں ہے؟ (بعض گوشوں سے آوازیں آئیں کہ یہ بھی ہمارے مخالفین کا پروپیگنڈہ ہے جو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستگی ظاہر کر کے اس قسم کی باتیں مشہور کرتے رہتے ہیں۔ محترم پرویز صاحب نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا) ہم معاشرے میں اصلاح کا آغاز اپنے گھروں سے ہی کر سکتے ہیں لیکن اگر پہلے خود ہی نماز روزہ چھوڑ دیں تو پھر اصلاح کس طرح ہو گی؟ خدارا اپنے قول و عمل کو بصیرت‘ علم اور خلوص پر مبنی رکھئے۔ ’’مقدس بہانے‘‘ تلاش نہ کیجئے بلکہ اعتراف کیجئے اپنی کمزوریوں کا۔ ہم نے قرآنی معاشرہ قائم کرنا ہے جو صرف نیک اور پاکباز زندگی بسر کرنے سے قائم ہو سکے گا۔ (منزل بہ منزل از پرویز‘ ص 35-36)

غلط فہمی کا ازالہ

ہماری ہر محفل میں الصلوٰۃ کا بحیثیت نظام جس طرح بار بار ذکر آتا ہے اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہ ہونے پائے کہ ہم نماز کے وقت اجتماعات کی اہمیت کے قائل نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ صلوٰۃ کا وقتی اجتماع بھی قرآن ہی کا ارشاد ہے اور یہ الصلوٰۃ کے عالم آرا نظام ہی کی سمٹی ہوئی تصویر ہے۔ جو شخص نماز کی اہمیت کو کم کرتا ہے وہ طلوع اسلام کے خلاف فتنہ و شرارت کا محرک ہے اور ایسی مذموم حرکت کسی طرف سے نہ تو دانستہ ہونی چاہئے اور نہ نادانستہ۔
(ماہنامہ طلوع اسلام‘ مئی 1959ء ؁ ص 14)

2,621 total views, 4 views today

(Visited 546 times, 11 visits today)

Jihad Is Not Terrorism – Parwez

jihad is not terrorism

Jihad is not terrorism

 

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.


Jihad – Parwez (جہاد کا مفہوم قرانِ کریم کی روشنی میں – پرویز)

500 total views, no views today

(Visited 63 times, 1 visits today)

Kitabut Taqdeer New Edition – Parwez (کتاب التقدیر – پرویز)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.

12,443 total views, 5 views today

(Visited 3,665 times, 35 visits today)

Meraje Insaniat – Parwez (معراجِ اِنسانیت – پرویز)

Please Click Here for full page version or if you find any difficulty in browsing the book.

1,825 total views, no views today

(Visited 454 times, 2 visits today)