Tag Archives: اِدارہ طلوعِ اِسلام

اِلزامات اور اُن کی حقیقت – اِدارہ طلوعِ اِسلام

بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جس نے اپنی زندگی کا مشن یہ قرار دے رکھا ہے کہ طلوع اسلام کے خلاف بے بنیاد الزامات تراشے جائیں اور پھر انہیں ملک میں اس شد و مد سے پھیلایا جائے کہ لوگ اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر‘ طلوع اسلام کی بات سننا گوارا نہ کریں۔ چونکہ اس جھوٹے پروپیگنڈہ میں اس طبقہ کے سامنے ایک خاص مقصد ہے‘ اور وہ ایسا دانستہ کرتے ہیں‘ اس لئے ان لوگوں سے کچھ کہنا سننا بیکار ہے۔ البتہ جو سادہ لوح اور نیک نیت انسان ان کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر دل میں غلط خیال قائم کر لیتے ہیں‘ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ مختصر الفاظ میں‘ اصل حقیقت ان کے سامنے پیش کر دی جائے۔ تاکہ وہ اس بدظنی سے بچ جائیں جسے قرآن مجید نے یہ کہہ کر گناہ قرار دیا ہے کہ
یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۔ (49:12)
اے ایمان والو! کسی کے خلاف بدظنی سے بہت زیادہ بچو ‘ اس لئے کہ بعض بدظنی (انسان کو) گناہ (تک پہنچا دیتی) ہے۔

پہلا اِلزام – طلوعِ اِسلام منکرِ حدیث ہے

یہ الزام قطعاً غلط ہے۔ ہم جو کہتے ہیں صرف اس قدر ہے کہ نبی اکرمؐ کی سیرتِ مقدسہ‘ انسانی شرف اور کردار کی انتہائی بلندی پر ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری کتبِ روایات میں ایسی باتیں بھی آگئی ہیں جن سے حضورؐ کی سیرت پر طعن پڑتا ہے۔ غیر مسلم انہی روایات کی بنا پر آئے دن حضورؐ کی ذاتِ اقدس پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس قسم کی روایات وضعی ہیں۔ ان کے متعلق ہمیں صاف الفاظ میں کہہ دینا چاہئے کہ وہ رسولؐ اللہ کے اقوال و افعال نہیں ہیں۔ یہی ہیں وہ روایات جن کے صحیح ہونے سے ہم انکار کرتے ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمؑ نے تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا (بخاری) ہم اسے صحیح حدیث نہیں مانتے‘ اور ہمارا خیال ہے کہ آپ بھی صحیح نہیں مانتے ہوں گے۔ اس قسم کی حدیثوں کے متعلق ہم کہتے یہ ہیں کہ یہ رسولؐ اللہ کی ہو نہیں سکتیں۔ یہ وضعی ہیں اور حضورؐ کی طرف یونہی منسوب کر دی گئی ہیں۔ یعنی ہم رسولؐ اللہ کی حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ کہتے یہ ہیں کہ اس قسم کی احادیث کی حضورؐ کی طرف نسبت صحیح نہیں ہے۔
ایسی روایات کو چھوڑ کر‘ وہ احادیث جو نہ قرآن مجید کے خلاف ہوں اور نہ جن سے نبی اکرمؐ یا صحابہ کرامؓ کی شان کے خلاف کوئی طعن پڑتا ہو‘ ہم انہیں صحیح تسلیم کرتے ہیں۔
*********

دوسرا اِلزام – طلوعِ اِسلام منکرِ سنت ہے

اس سنگین ترین الزام کی تردید میں ہم اس سے زیادہ کچھ اور کہنا ضروری نہیں سمجھتے کہ پرویز صاحب کی مایہ ناز کتاب‘ معراج انسانیت1؂ ‘ کا ایک اقتباس درج کر دیں جو طلوع اسلام کے صفحات میں کئی بار پیش کیا جا چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں -:
خدائے جلیل نے اپنے بندوں سے جو کچھ کہنا تھا آخری مرتبہ کہہ دیا۔ شرفِ انسانیت کی تکمیل کے لئے جو قوانین دیئے جانے تھے وہ اپنی انتہائی شکل میں دے دیئے گئے۔ اس کے بعد انسان کو اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لئے کسی دوسری مشعلِ راہ کی ضرورت‘ اور کسی اور ہادئ طریقت کی احتیاج نہ رہی۔ اب انسانیت کے مقامِ بلند تک پہنچنے کے لئے وہی ایک صراط مستقیم ہے جس پر اس ذاتِ اقدس و اعظمؐ کے نقوشِ قدم جگمگ جگمگ کر رہے ہیں اور جس کو دیکھ کر ہر خبیر و بصیر پکار اٹھتا ہے کہ؂
مقامِ خویش اگر خواہی دریں دیر
بحق دل بند و راہِ مصطفی رَو
(معراج انسانیت ص 175)
جس کا یہ ایمان ہو کیا اُسے منکرِ سُنت کہا جا سکتا ہے؟
*********

تیسرا اِلزام – طلوعِ اِسلام رسالت پر ایمان ضروری نہیں سمجھتا

اس الزام کی تردید میں بھی ہم پرویز صاحب کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کر دینا کافی سمجھتے ہیں۔ وہ ’’سلیم کے نام خطوط‘‘ (جلد اول ص 84) میں لکھتے ہیں
ذرا سوچو کہ جب ایک مسلمان کہتا ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے تو اس کے پاس اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے کہ قرآن واقعی خدا کا کلام ہے (معاذ اللہ! رسولؐ اللہ کا خود ساختہ نہیں۔) تاریخ شاہد ہے (اور اس کا ہمیں بھی اقرار ہے) کہ دنیا کو قرآن محمدؐ ابن عبداللہ نے دیا تھا۔ پھر یہ خدا کا کلام کیسے ہوا؟ اس کا صرف ایک ہی ثبوت ہے کہ خود محمدؐ ابن عبداللہ نے یہ کہا ہے کہ یہ کلام میرا نہیں‘ خدا کا ہے۔ اس لئے جب تک کوئی شخص محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت پر ایمان نہ لائے‘ قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان نہیں لا سکتا۔
*********

چوتھا اِلزام – طلوعِ اِسلام سنتِ رسول اللہ کو حُجت نہیں مانتا

جیسا کہ ’’الزام نمبر 6‘‘ کے تحت آپ دیکھیں گے‘ طلوع اسلام کا عقیدہ اور مسلک یہ ہے کہ مختلف ارکانِ اسلام (نماز روزہ وغیرہ) کو اُمت کے مختلف فرقے‘ جس جس طریقے سے ادا کرتے چلے آرہے ہیں‘ کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ ان میں کسی قسم کا رد و بدل کر سکے‘ یا کوئی نیا طریقہ وضع کرے۔
اب سوچئے کہ جو شخص (مثلاً) نماز کے مروجہ طریقہ میں نہ خود رد و بدل کرتا ہے نہ کسی اور شخص کو اس کا حق دیتا ہے‘ وہ سنتِ رسولؐ اللہ کو حجت نہیں مانتا تو اور کیا کرتا ہے۔ حجت کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ اسے مستند سمجھا جائے اور کسی شخص کو اس میں رد و بدل کرنے کا مجاز نہ سمجھا جائے۔
*********

پانچواں اِلزام – طلوعِ اِسلام حکومت کی اِطاعت کو خدا اور رسول کی اِطاعت قرار دیتا ہے

اس الزام کی تردید میں ہم پر پرویز صاحب کے اس خط کا متعلقہ اقتباس درج کر دینا کافی سمجھتے ہیں جو انہوں نے (کفر کے فتویٰ کے جواب میں) مفتی محمد شفیع صاحب کے نام لکھا تھا۔

اطاعتِ رسول اور اطاعتِ خدا کے متعلق جو کچھ میں کہتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صورت یہ نہیں تھی کہ ہر شخص اپنے اپنے مفہوم کے مطابق خدا اور رسولؐ کی اطاعت کر لیتا تھا۔ اس کی صحیح شکل تھی کہ حضورؐ کے بعد جو خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہوئی تھی اس سے پوچھا جاتا تھا کہ فلاں معاملہ میں خدا اور رسولؐ کی اطاعت کس طرح کی جائے گی جو فیصلہ وہاں سے ملتا اسے خدا اور رسول کی اطاعت سمجھا جاتا۔ اسی سے وحدتِ امت قائم تھی۔ جب خلافت باقی نہ رہی تو خدا اور رسولؐ کی اطاعت انفرادی طور پر ہونے لگی۔ اس سے امت میں افتراق پیدا ہوا۔ امت میں دوبارہ وحدت پیدا کرنے کی صورت یہ ہے کہ پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم کی جائے اور اس کے فیصلوں کے مطابق خدا اور رسولؐ کی اطاعت کی جائے۔ اسی خلافت کو بغرضِ اختصار‘ مرکزِ ملت یا اسلامی نظام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور میں اس کی بار بار وضاحت کر چکا ہوں۔ میں نہ ہر نظامِ حکومت کو اسلامی نظام کہتا ہوں اور نہ اس کے فیصلوں کی اطاعت کو خدا اور رسولؐ کی اطاعت۔۔ میرے نزدیک خلافت علیٰ منہاج نبوت کے علاوہ کوئی نظام اسلامی نہیں کہلا سکتا۔ اور نہ اسے مرکزِ ملت قرار دیا جا سکتا ہے۔
(طلوع اسلام۔ مئی جون 62 ؁ء ص 152-153)
جہاں تک ہمارا تعلق ہے‘ ہم اپنے آپ کو نہ اس وقت ان طریقوں میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا مجاز سمجھتے ہیں جن پر اُمت کاربند ہے نہ خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس کا مجاز سمجھیں گے۔ ہم اس وقت اس طریقے کے مطابق چلیں گے جس پر وہ خلافت ہمیں چلائے گی۔ البتہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر دین کی حکمت اور امت کی بہتری کی خاطر وہ خلافت کسی سابقہ فیصلہ میں کچھ تبدیلی کرنا چاہے‘ تو وہ ایسا کرنے کی مجاز ہو گی (مثلاً) نبی اکرمؐ کے زمانہ میں تمام مفتوحہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کر دی جاتی تھیں‘ لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں اس طریق کو بدل دیا اور مفتوحہ زمینوں کو‘ حکومت کی تحویل میں لے لیا‘ تاکہ اس سے افراد مملکت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب پھر اسی قسم کی خلافت قائم ہو جائے‘ جیسی حضرت عمرؓ کے زمانے میں تھی‘ تو وہ اس قسم کے فیصلے کرنے کی مجاز ہو گی۔
*********

چھٹا اِلزام – تین نمازیں – نو دن کے روزے

کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام کہتا ہے کہ نمازیں صرف تین وقت کی ہیں اور روزے نو دن کے۔

یہ سرتاسر جھوٹ ہے۔ طلوع اسلام نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ اس کے برعکس ہم نے بار بار اعلان کیا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز‘ روزہ وغیرہ کی ادائیگی کرتے چلے آرہے ہیں‘ ہمیں ان میں کسی قسم کے تغیر و تبدل کا حق حاصل نہیں‘ نہ ہی کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنے کا۔۔ البتہ ہم یہ ضروری کہتے ہیں کہ
(1) ان باتوں میں مختلف فرقوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے ان کی بنا پر آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہئے۔۔۔ اور
(2) نماز‘ روزہ وغیرہ کو محض رسمی طور پر ادا نہیں کر لینا چاہئے۔ اس روح اور مقصد کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جن کے لئے یہ احکام دیئے گئے تھے۔ رسمی نمازیں اور بے روح روزے‘ وہ انقلاب نہیں پیدا کر سکتے جو انقلاب محمد رسولؐ اللہ والذین معہؓ نے دنیا میں پید اکر کے دکھایا تھا۔
*********

ساتواں اِلزام – اُردو میں نماز

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام نے اُردو میں نماز پڑھنے کا طریقہ ایجاد کیا ہے‘ یہ طلوع اسلام کے خلاف کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ کچھ سال اُدھر کا ذکر ہے کہ لاہور میں کسی صاحب نے عید کی نماز اُردو میں پڑھائی۔ جب اس واقعہ کی خبر طلوع اسلام کو پہنچی (جس کا دفتر اُس زمانہ میں کراچی میں تھا) تو اُس نے‘ سب سے پہلے اس کی مخالفت کی اور لاہور میں بڑے بڑے پوسٹر اس کے خلاف لگوائے۔ اس کے بعد یہ آج تک اس تحریک کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے۔
اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایئے کہ طلوع اِسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے کس دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں۔
*********

آٹھواں اِلزام – طلوعِ اِسلام ایک نیا فرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے

طلوع اسلام پہلے دن سے اعلان کرتا چلا آرہا ہے کہ اسلام دُنیا میں امتِ واحدہ پیدا کرنے کے لئے آیا تھا اور نبی اکرمؐ نے ایسی اُمت پیدا کر کے دکھا دی تھی جس میں کوئی فرقہ نہیں تھا۔ قرآن کی رُو سے فرقہ بندی شرک ہے۔
اب ظاہر ہے کہ جس بات کو طلوع اسلام‘ خلافِ اسلام اور شرک قرار دیتا ہے کیا وہ خود اس کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ طلوع اسلام کا تعلق نہ کسی سیاسی پارٹی سے ہے نہ کسی مذہبی فرقہ سے‘ نہ ہی وہ کوئی اپنی سیاسی پارٹی بنانا چاہتا ہے نہ مذہبی فرقہ۔ وہ امت میں اتحاد کا علمبردار ہے اور پوری نوع انسانی کا ایک عالمگیر برادری بنانے کا داعی۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
*********

نواں اِلزام – طلوعِ اِسلام قرآن کو نئے معنی پہناتا ہے

اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو حکم دیا ہے کہ وہ قرآن کریم میں غور و فکر کرے وہ اس میں غور و تدبر نہ کرنے والوں کو بڑی سخت سرزنش کرتا ہے۔ وہ عقل و فکر سے کام نہ لینے والوں کو حیوانات سے بھی بدتر قرار دیتا ہے۔
طلوع اسلام‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق‘ قرآن کریم میں غور و تدبر کرتا ہے اور اس کے نتائج دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ جو کچھ کہتا ہے اس کی سند خود قرآن سے پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد بھی وہ کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ بالضرور اس کے پیش کردہ مفہوم کو صحیح سمجھے‘ نہ ہی وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے‘ غلطی سے مبرا اور حرفِ آخر ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے انفرادی غور و فکر کا حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔ آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں‘ لیکن اسے غور و فکر کرنے سے نہیں روک سکتے؟ اگر کسی کو غور و فکر کا حق دیا جانا مقصود نہ ہوتا‘ تو اللہ تعالیٰ غور و فکر کرنے کا حکم کیوں دیتا؟
*********

دسواں اِلزام – اِسلام کی مُخالفت

اس سلسلے میں عوام کو یہ کہہ کر بھڑکایا جاتا ہے کہ دیکھو‘ یہ شخص (پرویز) یہ کہتا ہے کہ
(1) قرآن کو آج تک میرے سوا کسی نے نہیں سمجھا۔
(2) جو کچھ ہمارے پاس اسلاف سے آرہا ہے‘ اس کو دریا بُرد کر دینا چاہئے۔
(3) تمہارے ائمہ اور اسلاف سب (معاذ اللہ) جاہل تھے۔ وغیرہ وغیرہ
یہ کچھ نہ کبھی پرویز صاحب نے کہا ہے‘ نہ طلوع اسلام نے‘ وہ کھلے الفاظ میں کہتا ہے کہ
’’ہمارا یہ مطلب نہیں کہ سلف سے جو کچھ تمہارے پاس آیا ہے وہ (معاذ اللہ) سب کا سب گمراہ کن ہے۔ ایسا کون کہہ سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں ان سے ملا ہے‘ آنکھیں بند کر کے اس کی پیروی مت کرو بلکہ شمع قرآنی کی روشنی میں ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھو۔ وہ بھی ہماری طرح انسان تھے‘ غلطی کر سکتے تھے‘ لیکن قرآن کی کسوٹی کبھی غلطی نہیں کر سکتی۔‘‘
(طلوع اسلام۔ بابت اکتوبر 49 ؁ء)
اس کا کہنا صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ اسلاف سے چلا آرہا ہے ہمیں چاہئے کہ اسے قرآن کریم کی روشنی میں پرکھ کر دیکھ لیں‘ جو کچھ اس کے مطابق ہو اسے صحیح تسلیم کر لیں۔ جو اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیں۔
جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ ہماری کتب روایات میں اور اسلاف کی کتابوں میں بعض باتیں ایسی آگئی ہیں جو قرآن کے خلاف جاتی ہیں۔ ان باتوں کے متعلق طلوع اسلام کا مسلک وہ ہے جسے پرویز صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
میرے نزدیک نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی بات (معاذ اللہ) قرآن کے خلاف فرما سکتے تھے اور نہ ہی میں ان بزرگوں کے متعلق ایسا گمان کر سکتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کے خلاف کچھ پیش کیا ہو۔ لہٰذا یہ چیزیں رسولؐ اللہ اور ائمہ ملت کی طرف غلط منسوب کر دی گئی ہیں (اور یہی عجم کی سازش تھی) اگر اس پر بھی کسی کو اصرار ہے کہ نہیں! یہ باتیں رسولؐ اللہ (اور ائمہ کرامؒ ) ہی کی ہیں تو میں صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ یہ جرأت آپ کو مبارک ہو۔ میں تو اس کے تصور سے بھی کانپتا ہوں کہ کسی ایسی بات کو جو قرآن مجید کے خلاف ہو‘ (معاذ اللہ) رسولؐ اللہ یا حضورؐ کے کسی سچے متبع کی طرف منسوب کیا جائے۔
(اسباب زوال امت ص 174)
سوچئے کہ کیا یہ شخص اسلاف کا زیادہ احترام کرتا ہے‘ یا وہ جو اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ باتیں جو قرآن کے خلاف ہیں ہمارے اسلاف نے ضرور کہی ہیں۔
*********

گیارھواں اِلزام – دعوائے نبوت

جب ان لوگوں سے کوئی اور بات بن نہیں پڑتی تو کہہ دیتے ہیں کہ تم دیکھ لینا۔ پرویز صاحب ایک دن نبوت کا دعویٰ کر دیں گے۔
پرویز صاحب کا عقیدہ یہ ہے (جس کا وہ سینکڑوں مقامات پر شرح و بسط سے اعلان کر چکے ہیں) کہ
(1) نبی وہ ہے جسے خدا کی طرف سے وحی ملے۔
(2) وحی سے مطلب ہے خدا کی طرف سے براہ راست حقیقت کا علم حاصل ہونا۔
(3) نبی اکرمؐ کے بعد خدا کی طرف سے وحی کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔
(4) ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ اب کسی شخص کو خدا کی طرف سے براہ راست کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس نے انسانوں کی راہنمائی کے لئے جو کچھ دینا تھا‘ قرآن کریم میں دے دیا اور اسے قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا۔
(5) ہمارے ہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وحی کا دروازہ بند ہو گیا لیکن کشف اور الہام کا دروازہ کھلا ہے۔ کشف اور الہام کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خدا کی طرف سے براہِ راست علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ چیز ختم نبوت کے منافی ہے اور وہ سیڑھی ہے جس سے لوگ نبوت تک کا دعویٰ کرنے لگ جاتے ہیں اس لئے ان راستوں کا بند کرنا نہایت ضروری ہے۔
اب آپ سوچئے کہ جو شخص ختمِ نبوت کے بعد وحی تو ایک طرف‘ کشف و الہام کا بھی قائل نہ ہو وہ نبوت کا دعویٰ کس طرح کر سکتا ہے۔ پرویز صاحب کا ’’دعویٰ‘‘ صرف اس قدر ہے کہ وہ قرآن کے ایک ادنیٰ طالب علم ہیں اور بس۔
*********

بارھواں اِلزام – کمیونسٹ

ان پر جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے والوں کی دیدہ دلیری کی انتہا ہو جاتی ہے۔ جب یہ لوگوں میں مشہور کرتے ہیں کہ طلوع اسلام‘ ملک میں کمیونزم پھیلاتا ہے۔ یہ کچھ ا س طلوع اسلام کے خلاف کہا جاتا ہے جس نے‘ تشکیل پاکستان سے اس وقت تک کمیونزم کے خلاف مسلسل جہاد شروع کر رکھا ہے اس نے مختلف انداز میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کے لئے سب سے بڑا چیلنج کمیونزم ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں۔ اس لئے۔۔۔
نہ کوئی مسلمان کبھی کمیونسٹ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی کمیونسٹ مسلمان ہو سکتا ہے۔
(طلوع اسلام۔ ستمبر 1962 ؁ء ص 33)
اس لئے وہ دورِ حاضر میں کمیونزم کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے۔
البتہ وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ قرآن کریم جس قسم کا نظام قائم کرتا ہے اس میں کوئی شخص نہ بھوکا رہ سکتا ہے‘ نہ ننگا۔ اس میں ہر فردِ معاشرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی ذمہ داری‘ مملکت پر ہوتی ہے۔ مملکت اپنی اس اہم اور عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے‘ ضرورت سمجھے تو ملک کے ذرائع پیداوار کو اپنی تحویل میں لے سکتی ہے لیکن مملکت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی جس سے کسی فرد کی انفرادیت (Individuality) سلب ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام میں افراد کو طبعی ضروریاتِ زندگی کی طرف سے اطمینان ہی اس لئے دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی وحی خداوندی کے تابع رکھ کر‘ اپنی ذات (انسانی صلاحیتوں) کی نشوونما کر سکیں اور اس طرح دنیا میں بھی سرفرازی و سربلندی کی زندگی بسر کریں اور حیاتِ اخروی میں زندگی کی مزید ارتقائی منازل طے کرنے کے قابل ہو سکیں۔ سوچئے کہ کمیونزم کو‘ جو نہ وحی خداوندی کو مانتی ہے اور نہ حیاتِ اخروی کو‘ اس نظام حیات سے کیا واسطہ؟
*********
یہ ہیں مختصر الفاظ میں وہ الزامات‘ جو طلوع اسلام کے خلاف تراشے جاتے ہیں اور جن کا اس قدر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کی روشنی میں دیکھئے کہ کیا ان الزامات میں کوئی صداقت ہے؟ یہ لوگ طلوع اسلام کے خلاف اس قدر جھوٹا پراپیگنڈہ اس لئے کرتے ہیں کہ طلوع اسلام اس تھیاکریسی کی مخالفت کرتا ہے جسے یہ لوگ یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں اور جس میں انسانیت کا گلا گھٹ کر رہ جاتا ہے۔
یہ حضرات طلوع اسلام کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے تک ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہر قسم کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اس باب میں آپ مولانا مودودی صاحب کے ایک ممتاز اور پرانے معتقد حکیم عبدالرحیم اشرف کا ایک بیان سن لیجئے‘ جو ان کے اخبار ’’المنیر‘‘ بابت 19 ستمبر 1958 ؁ء میں شائع ہوا تھا (اشرف صاحب اب مودودی صاحب سے الگ ہو چکے ہیں) انہوں نے لکھا تھا -:
میں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب سے 17 دسمبر 1957 ؁ء کو ملتان جیل میں ملاقات کی۔ اس موقعہ پر منجملہ دیگر امور کے ’’منکرین سنت‘‘ اور ان کے فتنے کا بھی ذکر آگیا۔ اس پر مولانا ممدوح نے اشاعتِ لٹریچر کی ایک اسکیم بتلائی اور اس کی تکمیل کے سلسلے میں فرمایا کہ آپ چودھری غلام محمد صاحب سے کہیں (جو اس زمانہ میں جماعت اسلامی سندھ کے قیم تھے) کہ وہ دفتر طلوع اسلام سے رابطہ پیدا کریں اور وہاں کسی شخص کی تالیف قلب کر کے طلوع اسلام کے پتے حاصل کریں۔
آپ اندازہ لگا لیجئے کہ جو لوگ رشوت دے کر پتے حاصل کرنے تک سے بھی گریز نہ کریں وہ الزام تراشی اور کذب بافی میں کیا باک محسوس کریں گے؟
*********

ایک درخواست

اس سلسلہ میں ہماری آپ سے صرف ایک درخواست ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ سے کوئی شخص طلوع اسلام کے خلاف کوئی بات کہے۔ تو آپ اس سے اتنا کہئے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کی تائید میں طلوع اسلام یا پرویز صاحب کی کوئی تحریر دکھا دیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد وہ کس طرح اپنا سا مُنہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا یہ پروپیگنڈہ کامیاب ہی اس لئے ہو رہا ہے کہ لوگ ان سے اس کا مطالبہ نہیں کرتے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کی تائید میں طلوع اسلام یا پرویز صاحب کی تحریر دکھا دیجئے۔
یا آپ کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جو کچھ آپ سے کہا جائے اس کے متعلق طلوع اسلام یا پرویز صاحب سے خود دریافت کر لیجئے کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔
*********

درسِ قرآن

اس کے جواب میں بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ پرویز صاحب اپنے درسِ قرآن میں اس قسم کی قابلِ اعتراض باتیں کہتے ہیں۔ پرویز صاحب کا درس ہر اتوار کی صبح ان کے مکان (واقعہ 25 بی‘ گلبرگ 2‘ لاہور) میں ہوتا ہے۔ جس کا جی چاہے اسے آکر سُن لے اور اپنا اطمینان کر لے کہ اس میں کون سی بات قابلِ اعتراض ہوتی ہے۔
پھر اتنا ہی نہیں کہ وہاں درس دیا گیا اور بات ہوا میں اڑ گئی۔ ان کا ہر درس ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور یہ ٹیپ (ہر اتوار کی صبح‘ لاہور) میں 25بی‘ گلبرگ 2‘ میں سنایا جاتا ہے اس کے بعد دیگر مقامات میں اسے دہرایا جاتا ہے۔ آپ ان مقامات میں سے کسی جگہ اس درس کو سنئے اور پھر خود فیصلہ کیجئے کہ آیا اس میں کوئی قابل اعتراض بات ہوتی ہے۔۔؟ محض سنی سنائی باتوں پر نہ جایئے کیونکہ خدا کا حکم ہے کہ
لا تقف ما لیس لک بہ علم۔ (17:36)
جس بات کا تمہیں ذاتی طور پر علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ لگ جایا کرو۔


1,953 total views, no views today

(Visited 264 times, 1 visits today)