Tag Archives: ادارہ طلوع اسلام

مومن کی زندگی: قرآن کے آئینے میں – پرویز

قرآن کریم کی تعلیم‘ انسان کو کیا بنا دیتی ہے‘ اس کی تفصیل میں جایئے تو کئی مجلدات درکار ہوں گی لیکن اگر اسے اجمالی طور پر بیان کرنا چاہیں تو اس سے بہتر‘ جامع اور حسین انداز میں کچھ اور نہیں کہا جا سکتا جسے علامہ اقبالؒ نے اس ایک مصرعہ میں سمو دیا ہے کہ
آنچہ حق می خواہد‘ آں سازد ترا
اِنسان اور حیوان میں فرق
’’قرآن کی تعلیم انسان کو وہ کچھ بنا دیتی ہے جو کچھ خدا چاہتا ہے کہ یہ بن جائے‘‘ یعنی جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے‘ وہ مقصد پورا ہو جائے۔ اس کے سفر حیات کے لئے‘ جو منزل مقرر کی گئی ہے‘ یہ اس منزل و منتہیٰ تک پہنچ جائے۔ انسان اور دیگر حیوانات کی تخلیق میں ایک بنیادی فرق ہے۔ دنیا کے ہر حیوان نے جو کچھ بننا ہوتا ہے‘ وہ ازخود وہ کچھ بن جاتا ہے۔ اس کے لئے اسے نہ کسی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے‘ نہ سعی و کاوش کی حاجت۔ فطرت نے اس کے اندر جو کچھ بننے کے امکانات رکھے ہیں‘ وہ امکانات ازخود بتدریج‘ مشہود ہوتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ ایک عمر تک پہنچ کر‘ وہ حیوانی بچہ‘ اپنی نوع کا مکمل فرد بن جاتا ہے۔۔۔ شیر کا بچہ شیر بن جاتا ہے۔ بکری کا بچہ بکری۔ لیکن انسانی بچے میں فطرت نے جو مضمر صلاحیتیں رکھی ہوتی ہیں‘ ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حیوانی یا طبیعی صلاحیتیں۔ یہ دیگر حیوانات کی طرح ازخود نشوونما پا کر‘ ایک منتہیٰ تک پہنچ جاتی ہیں اور وہ بچہ بالآخر آدمی بن جاتا ہے۔ دوسری صلاحیتیں انسانی ہیں۔ یہ ازخود نشوونما نہیں پاتیں۔ انہیں مناسب تعلیم و تربیت سے نشوونما دے کر اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ قرآن کریم وہ پروگرام دیتا ہے جس سے فرد کی وہ مضمر صلاحیتیں پوری پوری نشوونما پا کر مشہود ہو جاتی ہیں اور پھر وہ انہیں ان مقاصد کے لئے صرف کرتا ہے جو اس کے لئے متعین کئے گئے ہیں۔ جب وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ انسان وہ کچھ بن گیا جو کچھ بننا اس کے لئے مقصود و مطلوب تھا۔ قرآن نے ایسے فرد کو مرد مومن کہہ کر پکارا ہے اور انسان کی اس ہیئت کو احسن تقویم قرار دیا ہے -(95:4) یعنی ایسی ہیئت جو حسن و توازن میں انتہا تک پہنچ گئی ہو۔
مومن
جن خصوصیات کے مظہر یہ افراد ہوں انہیں صفاتِ مومنین کہا جاتا ہے اور جب یہ خصوصیات‘ محسوس شکل میں سامنے آئیں تو انہیں اعمالِ صالح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی ایسے کام جو اس فرد کی بھرپور انسانی صلاحیتوں کے اثمار و نتائج ہوں اور جن سے عالمِ انسانیت کے بگڑے ہوئے معاملات سنور جائیں۔ جو معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل ہو‘ اسے قرآن نے خَیْْرَ أُمَّۃٍ (3:110) ’’بہترین قوم جسے نوع انسان کی بہود کے لئے پیدا کیا گیا ہے‘‘ قرار دیا ہے اور أُمَّۃً وَسَطاً (2:143) ’’یعنی ایسی قوم جسے عالمِ انسانیت میں مرکزی حیثیت حاصل ہو‘‘ کا مقام دیا ہے۔ سطحی نظر سے دیکھئے تو معاشرہ‘ جماعت یا امت‘ افراد ہی کے مجموعہ کا نام ہوتی ہے لیکن اجتماعی نفسیات پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ جماعت‘ افراد کی حاصل جمع (Sum Total) کا نام نہیں ہوتی۔ اس کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔
اُمّت کی خصوصیات
اس لئے قرآن‘ افراد کی خصوصیات کے علاوہ۔ جماعتِ مومنین کی خصوصیات کا ذکر بھی خاص طور پر کرتا ہے۔ یا یوں کہئے کہ وہ افراد کی تعلیم۔ تربیت اور نشوونما کے علاوہ‘ ان اصول و ضوابط کی بھی وضاحت کرتا ہے جن کے مطابق ان افراد نے اجتماعی امور سرانجام دینے ہوتے ہیں اور جن کی بناء پر وہ ایک منفرد جماعت بنتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تعلیم کی انفرادیت اور بے مثالیت نکھر کر سامنے آتی ہے اور اسی مقام کے سامنے نہ ہونے سے‘ اچھے اچھے سمجھدار لوگوں کو بھی یہ دھوکا لگ جاتا ہے کہ ’’عالمگیر سچائیاں تمام مذاہب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہیں*۔‘‘
نظام اور فرد
’’عالمگیر سچائیوں‘‘ سے ان کی مراد ہوتی ہے عام اخلاقی اصول۔۔۔ مثلاً جھوٹ نہ بولو۔ چوری نہ کرو۔ کسی کو ستاؤ نہیں۔ وغیرہ ۔وغیرہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہی اخلاقی اصول قرآن پیش کرتا ہے اور یہی تعلیم دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی پائی جاتی ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ’’عالمگیر سچائیاں تمام مذاہب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہیں‘‘۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس اجتماعی نظام میں ان اخلاقی اصولوں کے حامل افراد زندگی بسر کرتے ہیں‘ اس نظام کے اصول کیا ہیں۔ مثال کے طور پر سمجھئے کہ ایک برہمن جھوٹ نہیں بولتا۔ چوری نہیں کرتا۔ انسان تو ایک طرف‘ کیڑوں مکوڑوں تک کو بھی نہیں ستاتا لیکن جس اجتماعی نظام کا وہ فرد ہے اس کا اصول یہ ہے کہ پیدائش کے اعتبار سے انسان اور انسان میں اس قدر گہرا اور بنیادی فرق ہوتا ہے کہ برہمن کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ ساری عمر دوسروں سے اپنی پرستش کراتا ہے اور شودر کے ہاں جنم لینے والا بچہ‘ تمام عمر‘ دوسروں کی خدمت اور بیگار میں بسر کر دیتا ہے اور یہ فرق اس قدر غیر متبدل ہوتا ہے کہ شودرؔ کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کے جوہر ذاتی اور اس کی ہزار محنت اور کوشش اس فرق کو مٹا نہیں سکتی۔ آپ کہئے کہ جو معاشرہ اس اجتماعی اصول کے مطابق متشکل ہو‘ اس میں افراد کی اس قسم کی ’’نیکیاں‘‘ محدود سے انفرادی حلقہ میں قدرے سکون پیدا کر سکتی ہیں لیکن نہ تو یہ انسان کو اس کا صحیح مقام دینے کے قابل بن سکتی ہیں اور نہ ہی عالمگیر انسانیت کی فوز و فلاح کا موجب۔ حتیٰ کہ یہ اس باطل نظام کو تباہی سے بچا سکنے کے قابل بھی نہیں ہو سکتیں جس کے اندر وہ ’’نیک انسان‘‘ زندگی بسر کرتا ہے۔ یا مثلاً جس معاشرہ کا اصول یہ ہو کہ جو بچہ بنی اسرائیل (یہودیوں) کے ہاں پیدا نہ ہو‘ وہ نجات و سعادت حاصل نہیں کر سکتا۔ اس معاشرہ میں افراد کی اس قسم کی نیکیاں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے اور چوری نہیں کرتے۔ عالمِ انسانیت کے کس کام آسکتی ہیں؟ یا جس معاشرہ میں عقیدہ یہ ہو کہ ہر انسانی بچہ‘ پیدائشی طور پر گنہگار پیدا ہوتا ہے اور اس کے گناہوں کا یہ داغ‘ ’’خدا کے بیٹے‘‘ (حضرت مسیحؑ ) کے کفارہ پر ایمان سے ہی دھل سکتا ہے۔ اس کے سوا‘ اس داغ کے مٹنے کی کوئی صورت نہیں‘ اس معاشرہ میں لوگوں کا رحمدل‘ حلیم الطبع اور منکسر المزاج ہونا‘ شرفِ انسانیت کی دلیل کیسے بن سکتا ہے؟
باطل کا نظام اور انفرادی نیکیاں
دنیائے مذاہب سے الگ ہٹ کر دیکھئے اور سوچئے کہ کیا نظامِ ملوکیت میں‘ ایک بادشاہ کے لئے‘ جو کروڑوں انسانوں پر اپنی مرضی چلاتا ہے‘ یہ بات موجبِ فخر قرار پا سکتی ہے کہ اس نے ساری عمر تہجد قضا نہیں کی یا شراب نہیں پی؟ نظامِ سرمایہ داری میں‘ اگر ایک جاگیردار۔ زمیندار یا کارخانہ دار‘ جو ہزاروں محنت کش غریبوں کے گاڑھے پسینے کی کمائی سمیٹ کر لے جاتا ہے‘ یہ کہتا ہے کہ اس نے کبھی چوری نہیں کی‘ تو کیا اسے نیک انسان کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایک مذہبی پیشوا‘ جو دن رات عوام کو اس قسم کے عقائد کی تعلیم دیتا رہتا ہے کہ امیری اور غریبی انسان کی تقدیر سے وابستہ ہے جسے خود خدا نے مقرر کیا ہے اور خدا کے لکھے کو کوئی مٹا نہیں سکتا‘ اور اس کے ساتھ کہتا ہے کہ اس نے ساری عمر جھوٹ نہیں بولا‘ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی یہ انفرادی نیکی‘ انسانیت کی اجتماعی میزان میں کوئی وزن رکھے گی؟ ان مثالوں سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ جن انفرادی اخلاقی خوبیوں کو ’’عالمگیر سچائیاں‘‘ کہہ کر اسلام کو مذاہبِ عالم کی صف میں ہم دوش کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ غلط اجتماعی نظام میں ان کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ اصل یہ ہے کہ مذہب اور دین میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مذہب‘ انفرادی ضابطہ اخلاق کا علمبردار ہوتا ہے اجتماعی نظام سے اسے سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس‘ دین‘ اجتماعی نظامِ انسانیت کو سامنے رکھتا ہے اور افراد کی اخلاقی خوبیوں کو اس لئے ضروری قرار دیتا ہے کہ اس سے اس معاشرہ کا توازن قائم رہے جو عالمگیر انسانیت کی سلامتی اور ارتقاء کا ضامن ہے‘ اور یوں انسان وہ کچھ بن جائے جو کچھ بن سکنے کا اس میں امکان ہے۔
قرآن کی جامع تعلیم
جو کچھ اوپر کہا گیا ہے اس سے واضح ہے کہ:
(1) جس معاشرہ میں افراد‘ عام اخلاقی ضوابط کی پابندی نہیں کرتے‘ اس معاشرہ میں کسی کو امن اور سکون نصیب نہیں ہو سکتا اور خود معاشرہ کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔
(2) جس معاشرہ میں‘ افراد عام اخلاقی ضوابط کے پابند ہوں‘ لیکن خود معاشرہ‘ غلط اجتماعی اصولوں پر متشکل ہو‘ اس میں عام معاشرتی روابط میں تو قدرے سکون حاصل ہو سکتا ہے لیکن نہ تو اس معاشرہ کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں‘ اور نہ ہی اس کا وجود عالمگیر انسانیت کے لئے موجبِ رحمت بن سکتا ہے۔ اور
(3) جس معاشرہ میں افراد‘ عام اخلاقی ضوابط کے پابند ہوں‘ اور خود معاشرہ بھی صحیح اجتماعی اصولوں کا علمبردار ہو‘ اس میں‘ افراد معاشرہ کو حقیقی امن و سکون میسر ہوتا ہے۔ ان کی طبیعی اور انسانی صلاحیتیں نشوونما پا کر برومند ہوتی چلی جاتی ہیں اور اس کا وجود عالمگیر انسانیت کے لئے موجبِ فلاح و سعادت ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم اسی قسم کا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے‘ جس میں افرادِ معاشرہ عام اخلاقی اصولوں کے شدت کے ساتھ پابند ہوں اور جو معاشرہ ان افراد پر مشتمل ہو‘ وہ ان مستقل اقدار کا حامل ہو جو عالمگیر انسانیت کو اس کی منزلِ مقصود تک لے جائے اور یہ ہے قرآن کا وہ نظام جس کی مثال کسی اور جگہ نہیں مل سکتی۔ قرآنی تعلیم اپنی اس خصوصیتِ کبریٰ کی بناء پر بے مثل و منفرد ہے۔ قرآن میں مومنین کی ان انفرادی اور اجتماعی خصوصیات کا ذکر اس تفصیل‘ کثرت اور تکرار سے آیا ہے کہ اس سے افراد کی سیرت و کردار کا صحیح نقشہ اور جماعتِ مومنین (اسلامی معاشرہ) کا بیّن اور واضح تصور سامنے آجاتا ہے۔ اکثر مقامات پر ان انفرادی اور اجتماعی خصوصیات کا ذکر الگ الگ آیا ہے لیکن بعض مقامات پر یہ ایک دوسرے میں یوں سموئی ہوئی سامنے آتی ہیں جیسے ایک حسین و شاداب شجرِ طیّب کہ اگر اس کی شاخوں‘ پتیوں‘ پھولوں اور شگوفوں کو الگ الگ بھی دیکھا جائے تو پورے کا پورا درخت باعثِ شادابئ قلب و نظر ہو جائے اور اگر‘ اس سرسبز و شاداب درخت پر بہ ہیئتِ مجموعی نگاہ ڈالی جائے تو اس کی تمام پھول پتیوں کی نزہت و نظافت وجۂ نشاط روح بن جائے۔ آئندہ سطور میں‘ ان افراد کی بعض نمایاں خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے جنہیں قرآن مومن کہہ کر پکارتا ہے۔ اس مقصد کے لئے کہ ہم ان خصوصیات کی روشنی میں‘ اپنی سیرت و کردار پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں کہ وہ کس حد تک ان کے آئینہ دار ہیں۔ اس لئے کہ جس طرح عرق گلاب اسے کہا جائے گا جس میں گلاب کی خوشبو اور خصوصیات ہوں۔ اگر اس میں یہ صفات نہ ہوں تو وہ عرق گلاب نہیں ہو گا پانی کا پانی ہو ا‘ خواہ اس بوتل پر کیسے ہی خوبصورت لیبل پر سنہرے حروف میں ’’عرق گلاب‘‘ لکھا ہو۔ اسی طرح مومن وہ کہلائے گا جو مومن کی صفات کا حامل ہو۔ یہی وہ معیار ہے‘ جس پر ہم اپنے مومن ہونے کے دعوے کو پرکھ سکتے ہیں اور ان صفات کے تذکرہ سے یہی مقصود ہے۔
تمسخر نہ اڑاؤ
سب سے پہلے معاشرہ کے روزمرہ کے معاملات اور روابط کو لیجئے اور دیکھئے کہ قرآنِ کریم ان امور کو بھی کس قدر اہمیت دیتا ہے جنہیں عام طور پر قابلِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا لیکن جن سے معاشرہ میں بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ وہ جماعتِ مومنین سے تاکید کرتا ہے کہ:
لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ -(49:11)
کوئی جماعت‘ دوسری جماعت کا تمسخر نہ اڑائے۔
آپ جانتے ہیں کہ تمسخر‘ جسے ہمارے ہاں بڑا (Lightly) لیا جاتا ہے‘ کتنے بڑے فساد کا موجب بن جاتا ہے۔ تمسخر درحقیقت ایک گہری نفسیاتی کیفیت کا مظاہرہ ہوتا ہے‘ جو نفرت۔ حسد اور انتقام کے جذبات کی پید اکردہ ہوتی ہے‘ لیکن اس شخص میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ ان جذبات کا اظہا رکھلے بندوں کرے۔ وہ انہیں تمسخر کے فریب کارانہ پردوں میں چھپا کر پیش کرتا ہے۔ تمسخر کے تیز تر نشتر کی شکل وہ ہوتی ہے جسے کسی کا ’’نام رکھنا‘‘ کہتے ہیں۔ قرآن نے یہ کہہ کر اس سے بھی روک دیا کہ:
وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ-(49:11)
ایک دوسرے کے بُرے بُرے نام مت رکھا کرو۔
(2) اس کے بعد ہے:
وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ -(49:11)
اور آپس میں ایک دوسرے پر الزام مت لگاؤ۔
الزام تراشی
الزام تراشی کس قدر سنگین جرم ہے اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ قرآن کی رُو سے زنا کی سزا سو کوڑے ہے اور پاک دامن عورتوں کے خلاف الزام تراشی کی سزا اسّی کوڑے۔ ہوتا یہ ہے کہ دوسرے پر الزام لگانے والا‘ خود تو معتبر بن جاتا ہے اور فریق مقابل کو خواہ مخواہ ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے کہ وہ اپنی بریّت ثابت کرے۔ اس سے اور کچھ نہیں تو اکثر لوگوں کے دل میں اس شخص کے خلاف بدظنی ضرور پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بھائی! بالآخر کچھ نہ کچھ بات تو ہو گی ہی جس کی بنا پر یہ الزام لگایا گیا ہے!
تانہ باشد چیز کے گویند مرداں چیز ہا
بدظنی سے بچو
قرآن کریم نے ایک طرف الزام تراشی اور بہتان بافی کی اس قدر سخت سزا مقرر کی‘ اور دوسری طرف جماعتِ مومنین سے تاکید کی۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ -(49:12)
اے جماعتِ مومنین! بدظنی سے بہت زیادہ بچو۔ یاد رکھو! بعض بدظنی بدترین گناہ تک پہنچ جاتی ہے۔
اسلامی معاشرہ کے افراد کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہمیشہ خیر سگالی کے جذبات ہونے چاہئیں۔ لیکن جس دل میں‘ کسی کے متعلق بدظنی پیدا ہو جاتی ہے‘ اس میں خیر سگالی کے جذبات باقی نہیں رہتے۔ اس کا علاج قرآن نے یہ بتایا ہے کہ (1) ہر شخص کے متعلق تمہارا پہلا ردِ عمل (First Reaction) نیک ہونا چاہئے۔ اس کا ارشاد ہے کہ: وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً -(4:94) جو تمہیں سلام کہے اس کے متعلق‘ یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔ اگرچہ یہ آیت‘ جنگ کے سلسلہ میں ایک اور اہم اصول کی وضاحت کرتی ہے لیکن جب اس کا اطلاق عام معاشرتی روابط پر کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ (تحقیق سے پہلے)‘ تمہارا پہلا ردِ عمل‘ ہمیشہ نیک ہونا چاہئے۔ قرآن کے اسی حکم پر مبنی عدل کا یہ اہم اصول قائم ہوتا ہے کہ جب تک کسی کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے اسے بے گناہ سمجھنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں اس نے کہا کہ جب کوئی شخص‘ تم سے کسی کے خلاف کوئی بات کہے تو تمہارا پہلا ردِعمل یہ ہونا چاہئے کہ: ہَذَا إِفْکٌ مُّبِیْنٌ -(24:12) یہ صریح جھوٹ ہے۔ ہَذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ-(24:16) یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ اپنے دل میں ردِعمل یہ پیدا کرو اور پھر اس بات کا چرچا مت کرو۔ -(24:19) اگر بات ایسی ہے کہ وہ بالبداہت غلط نظر آتی ہے تو اس کے متعلق خواہ مخواہ کی کرید مت کرو۔ وَلَا تَجَسَّسُوا -(49:12) لیکن اگر اس کے متعلق کسی حتمی نتیجہ تک پہنچنا ضروری ہے تو اس کی تحقیق کرو۔ اس تحقیق کے متعلق قرآن نے خصوصیت سے کہا ہے کہ:
وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُولاً -(17:36)
جس معاملہ کی تم خود تحقیق نہ کرو اس کے پیچھے مت لگا کرو۔ یاد رکھو! تمہاری سماعت‘ بصارت‘ قلب (کان‘ آنکھ اور دل) ہر ایک سے پوچھا جائے گا (کہ آیا تم نے ان سے کام لے کر اس معاملہ کی تحقیق کر لی تھی یا نہیں)۔
غیبت مت کرو
اور اگر معاملہ ایسا ہے جس کا اثر جماعتی زندگی پر بھی پڑتا ہے تو اسے متعلقہ حکام تک پہنچاؤ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنبِطُونَہُ مِنْہُمْ -(4:83) تاکہ وہ تحقیق کر کے بات کی تہ تک پہنچ جائیں (نیز 49:6)۔ اسی سلسلہ میں قرآنِ کریم نے یہ کہا ہے: وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً -(49:12) تم ایک دوسرے کی غیبت مت کرو۔ کسی کی پیٹھ پیچھے اس کے خلاف کوئی بات نہ کرو۔ جو بات کرنی ہو اس کے سامنے کہو۔ اگر آپ سے کوئی شخص‘ کسی کی غیر حاضری میں‘ اس کے خلاف کوئی بات کہتا ہے تو آپ کا فریضہ ہے کہ اس سے کہو کہ چلو! یہ بات اس شخص کے سامنے چل کر کرو۔ آپ دیکھیں گے کہ اس سے آپ کتنے بڑے فساد کا رخنہ بند کر دیتے ہیں۔
اذیّت مت پہنچاؤ
کسی کے خلاف جھوٹے الزام لگانے‘ یا اس کی غیبت کرنے سے اسے جس قدر قلبی اذیّت پہنچ سکتی ہے‘ اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ مومن ایک دوسرے کے لئے قلبی سکون اور مسرت کا موجب ہونے چاہئیں‘ نہ کہ باعثِ اذیت و کوفت۔ اسی لئے فرمایا:
وَالَّذِیْنَ یُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْْرِ مَا اکْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُہْتَاناً وَإِثْماً مُّبِیْناً -(33:58)
جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بلا جرم و خطا‘ ناحق اذیّت پہنچاتے ہیں‘ تو وہ بہتان تراشی کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اور کھلے ہوئے گناہ کا کام کرتے ہیں۔
اس نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ:
لاَّ یُحِبُّ اللّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوَءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ -(4:148)
اللہ اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ تم خواہ مخواہ کسی بات کی تشہیر کرتے پھرو۔ ہاں مگر جو مظلوم ہو اسے اس کی اجازت ہے کہ وہ اپنے ظلم کے مداوا کے لئے داد فریاد کرے۔
***
دِل کا شفاف ہونا
آپ نے غور فرمایا کہ قرآنِ کریم روزمرہ کی زندگی سے متعلق ان چھوٹی چھوٹی احتیاطی تدابیر سے‘ کس طرح ایسی خرابیوں کا سدِباب کر دیتا ہے‘ جو معاشرہ میں بہت بڑے فتنہ اور فساد کا موجب بن جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم‘ ان (بظاہر) معمولی سی تدابیر پر عمل کرنا شروع کر دیں تو معاشرہ میں کس قدر امن اور سکون پیدا ہو جائے! لیکن قرآن‘ ان چیزوں پر بھی محض میکانکی طور پر عمل نہیں کراتا۔ وہ افراد کے اندر ایسی نفسیاتی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ جس سے یہ تمام باتیں ان کے دل کی گہرائیوں سے ابھرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جماعتِ مومنین کے جنتی معاشرہ کے متعلق کہا ہے کہ: وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ -(7:43) ان کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں رہے گی جسے وہ دوسروں سے چھپا کر رکھنا چاہیں۔ آپ غور کیجئے کہ وہ معاشرہ فی الواقعہ کس قدر جنتی ہو گا جس میں افراد معاشرہ کے دل اس قدر آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں کہ ان میں غبار اور کدورت کا نشان تک نہ ہو اور ہر ایک کا ظاہر و باطن یکساں طور پر سب کے سامنے ہو۔
اُلفت اور اخوّت
اسی کو قرآن نے ’’دلوں میں باہمی اُلفت پیدا کرنے‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور جماعتِ مومنین کو جس نعمتِ خداوندی کی یاد دلائی ہے وہ یہی باہمی اُلفت ہے۔ چنانچہ اس جماعت کو مخاطب کر کے کہا گیا وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاء ۔تم خدا کی اس نعمتِ کبریٰ کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ فَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِکُمْ۔ خدا نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی اُلفت ڈال دی۔ الفت‘ اس قسم کے تعلق کو کہتے ہیں جس میں ایک دوسرے کے دل یوں باہمدگر مدغم ہو جائیں جس طرح بادل کا ایک ٹکڑا دوسرے ٹکڑے کے اندر ضم ہو جاتا ہے۔۔۔ تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگرے۔۔۔ اس باہمی الُفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ: فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَاناً۔ تم اس نوازش خداوندی سے‘ ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے۔ وَکُنتُمْ عَلَیَ شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا۔ تم (اس سے پہلے) جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے۔ بس اس میں گرنے ہی والے تھے کہ خدا نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ -(3:103) اس طرح اللہ اپنے احکام کو واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ زندگی کا صحیح راستہ کون سا ہے۔ یہ ’’باہمی الفت‘‘ ایسی گراں بہا متاع اور نایاب جنس تھی‘ کہ نبی اکرمﷺ سے کہا گیا۔۔۔۔ کہ اگر تو چاہتا کہ ساری دنیا کی دولت خرچ کر کے‘ ان کے دلوں میں ایسی الفت پیدا کر دے‘ تو بھی ایسا نہ ہو سکتا -(8:63)
اعتصام بحبل اللہ
یہ متاع‘ باہر سے خرید کر دلوں میں داخل نہیں کی جا سکتی۔ یہ تو دلوں کے اندر تبدیلی سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی یہ نتیجہ ہوتی ہے قران کے ساتھ وابستگی کا۔ اسی لئے‘ اسے قائم رکھنے کے لئے فرمایا کہ: وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ -(3:103) خدا کی اس رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ مت پیدا کرو۔ یہی وہ رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے کے بعد کہا کہ: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَۃٌ -(49:10) مومن ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ بھائی بھی ایسے جن کی کیفیت یہ ہے کہ: رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ -(48:29) آپس میں ایک دوسرے کے ہمدرد ار غمگسار أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ -(5:54) ایک دوسرے کے سامنے جھکے ہوئے۔۔۔
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
لیکن اس نرمی کے یہ معنی نہیں کہ کوئی غلط کام کرے تو اسے روکا ٹوکا بھی نہ جائے۔
بُرائی سے روکو
قرآن کریم نے یہودیوں کی تباہی کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ: کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ -(5:79) وہ ایک دوسرے کو بری باتوں سے روکتے نہیں تھے۔ جب جماعتِ مومنین کا عام فریضہ‘ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے (9:71-72, 3:103-109) یعنی لوگوں کو ان باتوں کے کرنے کا حکم دینا جنہیں قرآن نے اچھا قرار دیا ہے اور ان امور سے روکنا جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے تو اس کے یہ معنی تھوڑے ہیں کہ یہ جماعت‘ دوسروں کو تو ایسا کہے گی لیکن خود اپنے معاشرے میں یہ کچھ نہیں کرے گی؟ وہ تو سب سے پہلے‘ ان امور کو خود اپنے ہاں عام کرے گی اور اس کے بعد انہیں دوسروں تک پھیلائے گی۔ اسی لئے جماعتِ مومنین کی خصوصیت یہ بتائی کہ: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ -(103:3) وہ ایک دوسرے کو حقؔ (قرآنی احکام و قوانین) کے ساتھ تمسک اور استقامت پذیر رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور اس طرح باہمی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔۔۔
باہمی صلح کراؤ
اس لئے کہ: وَأَصْلِحُواْ ذَاتَ بِیْْنِکُمْ -(8:1) ان کے خدا کا ارشاد ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ اگر سوء اتفاق سے ان کی دو جماعتوں میں کہیں لڑائی جھگڑا ہو جائے تو فَأَصْلِحُوا بَیْْنَہُمَا -(49:9) ان میں باہمی صلح کراؤ اور اگر ان میں سے کوئی پارٹی سرکشی پر اتر آئے تو اسے اس سے‘ بزور روکو اور جب وہ اپنی اس روش سے باز آجائے تو ان دونوں میں عدل و انصاف کے مطابق صلح کرا دو۔
توبہ کا مفہوم
یہیں سے ہمارے سامنے‘ ایک اور اہم اصول آتا ہے اور وہ ہے توبہؔ ۔ ایک شخص کا عام کردار اچھا ہے لیکن کسی وقت اس سے نادانستہ کوئی غلط حرکت سرزد ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اسے اس کا احساس ہوتا ہے تو وہ اپنے کئے پر نادم ہوتا ہے۔ اگر اس کی اس غلط حرکت سے کسی کو اذیت یا نقصان پہنچا ہے تو اس سے معافی مانگتا ہے اور آئندہ کے لئے اس کی پوری پوری احتیاط برتتا ہے کہ کبھی اس قسم کی حرکت سرزد نہ ہو۔ اسے قرآن نے تاب و اصلح سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی جس مقام سے نادانستہ غلط قدم اٹھا تھا‘ اس مقام پر واپس آجانا اور اس کے بعد اپنی ایسی اصلاح کرنا کہ پھر ایسی غلطی نہ ہو۔ جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے‘ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ حرکت‘ نادانستہ۔ غلطی‘ سہو اور خطا سے سرزد ہوئی ہو۔ عمداً ایسا نہ کیا ہو۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس کی تصریح کر دی ہے کہ: إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السُّوَءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِن قَرِیْبٍ فَأُوْلَءِکَ یَتُوبُ اللّہُ عَلَیْْہِمْ -(4:17) توبہ اسی کی ہے جس سے کوئی غلطی نادانستہ سرزد ہو جائے اور اس کے بعد‘ وہ فوراً اس کی تلافی کر دے۔ اس میں نادانستہ (بجھالۃٍ) اور فوراً (من قریبٍ) کے الفاظ غور طلب ہیں۔ یہی چیز قرآن کریم نے دیگر مقامات پر بھی بیان کی ہے مثلاً (16:119 میں)۔
عمداً جرائم
اس کے برعکس‘ ایک شخص دیدہ دانستہ‘ عمداً۔ ارادۃً۔ غلط حرکات کا ارتکاب کرتا ہے‘ جھوٹ بولتا ہے‘ دوسروں کے خلاف جھوٹے الزام لگاتا ہے‘ غیبت کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور جب وہ کہیں گھر جاتا ہے۔ اپنی مدافعت کی کوئی شکل نہیں دیکھتا‘ تو کہہ دیتا ہے کہ مجھے معاف کر دو۔ تو اس کا نام توبہ نہیں۔ اس کے دیدۂ و دانستہ ارتکاب نے یہ واضح کر دیا کہ یہ چیزیں اس کے کردار کا جزو بن چکی ہیں۔ یونہی نادانستہ سرزد نہیں ہوئیں۔ اس لئے‘ جب تک وہ اپنے کردار میں تبدیلی نہیں پیدا کرے گا‘ ان باتوں سے باز نہیں آسکے گا۔ وہ توبہ کرنے اور معافی مانگنے کے بعد بھی ایسا کچھ کرتا رہے گا۔ اسی لئے قرآن نے وضاحت سے کہہ دیا کہ: وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السَّیِّءَاتِ حَتَّی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الآنَ -(4:18) توبہ ان لوگوں کی نہیں ہے جو بری حرکات کرتے رہتے ہیں تاآنکہ جب ان کے سامنے موت آکھڑی ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میں توبہ کرتا ہوں۔۔۔ ’’موت کے سامنے آجانے‘‘ سے مفہوم یہ ہے کہ جب اسے اس کا یقین ہو جائے کہ جو کچھ اس نے کیا ہے وہ بے نقاب ہو جائے گا اور وہ اس کے مؤاخذہ سے بچ نہیں سکتا تو پھر معافی مانگنے لگ جائے۔ یہ منافقت ہے اور بدترین کردار کی علامت۔ یہی وجہ ہے کہ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اس نے کہا کہ میں خدا پر ایمان لاتا ہوں تو اس سے کہا گیا کہ اب ایمان سے کیا فائدہ؟ یہ بھی واضح ہے کہ ایسے شخص نے اپنی اس قسم کی حرکات سے جس شخص کو اذیت یا نقصان پہنچایا ہے‘ اگر و ہ اسے معاف بھی کر دے تو اس سے اتنا ہی ہو گا کہ اس سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔ لیکن اس کی اصلاح تو اسی صورت میں ہو سکے گی جب وہ اپنے کردار میں خود تبدیلی پیدا کرے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے مغربی مفکر‘ نیٹشے نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:
’’جو برائی تم نے میرے ساتھ کی ہے اسے تو میں معاف کر دوں گا لیکن اس سے جو برائی تم نے خود اپنی ذات کے خلاف کی ہے‘ اسے کون معاف کر سکتا ہے؟‘‘
***
چھچورا پن
اب آگے چلئے۔ مردِ مومن اپنے جوہرِ ذاتی اور بلندئِ سیرت و کردار کی بناء پر اپنے اندر وزن رکھتا ہے اور یہ وزن‘ ہر مقام پر اس کا توازن برقرار رکھتا ہے لیکن جب انسان میں یہ خوبیاں نہ ہوں اور اس کا ایغوؔ جھوٹی تسکین چاہے تو اس سے اس کے اندر غرور‘ نخوت اور پندار کے غلط جذبات ابھر آتے ہیں جس سے اس میں چھچورا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ قرآن کی تعلیم مردِ مومن میں یہ چیز پیدا نہیں ہونے دیتی۔ چھچورے پن کا مظاہرہ انسان کی گفتار۔ چال ڈھال سے ہوتا ہے۔
نخوت و تکبّر
اس لئے قرآن اس کی تاکید کرتا ہے کہ: وَلَا تَمْشِ فِیْ الْأَرْضِ مَرَحاً -(31:18) زمین پر یوں ہی اکڑ کر نہ چلو۔ وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ -(31:19) اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرو۔ اسی طرح وَاغْضُضْ مِن صَوْتِکَ -(31:19) اپنی آواز بھی نیچی رکھو۔ چلّا چلّا کر مت بولو۔ بیجا تکبّر اور نخوت سے‘ لوگوں سے ترش روئی سے پیش نہ آؤ۔ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ -(31:18) اس لئے کہ: إِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ-(31:18) خدا‘ خود پسند‘ شیخی خورے انسان کو پسند نہیں کرتا۔ یہ مومنین کی نشانی نہیں ہے۔
حسد نہیں
مومن کی صفت یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں سے حسد نہیں کرتا۔ (4:54) بلکہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے اپنے اندر زیادہ سے زیادہ خوبیاں پیدا ہوں اور اس باب میں وہ دوسروں سے آگے نکل جائے۔ اس لئے کہ اس کے خدا کا حکم ہے کہ: فَاسْتَبِقُواْ الْخَیْْرَاتِ -(2:148) بھلائی کی باتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ جاؤ۔ ان کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ: ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ -(23:3) وہ ہر قسم کے لغویات سے پرہیز کرتے ہیں‘ اور اگر کہیں اتفاق سے اس قسم کی باتیں ان کے سامنے آجائیں تو وہ ان سے دامن بچاتے ہوئے شریفانہ انداز سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَاماً-(25:72)
صاف۔ سیدھی بات کرو
ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ: وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ-(22:30) ہر قسم کے مکر و فریب کی ملمع دار باتوں سے اجتناب کرو۔ قُولُوا قَوْلاً سَدِیْداً-(33:70) ہمیشہ صاف‘ سیدھی‘ واضح‘ محکم‘ دو ٹوک بات کرو۔ یَقُولُواْ الَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ-(17:53) بڑے خوبصورت انداز سے اعتدال کے مطابق۔ اچھی اچھی باتیں کرو۔ لاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ-(2:42) حق اور باطل۔ غلط اور صحیح۔ جھوٹ اور سچ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو۔ وَتَکْتُمُواْ الْحَقَّ-(2:42) نہ ہی حق کو چھپاؤ۔
عزۃ الاثم
انسان کے اندر ایک بدترین جذبہ ایسا ہے جو اس کی تمام خوبیوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اسے کبھی صحیح راستے کی طرف آنے نہیں دیتا۔ یہ ہے اس کے ایغوؔ کا جذبۂ پندار یعنی (False Prestige) کا احساس۔ اسے قرآن نے عزۃ الاثم کی جامع اصطلاح سے تعبیر کیا ہے۔ ایک شخص دل میں محسوس کرتا ہے کہ اس نے غلطی کی ہے لیکن اس کے ایغوؔ کا جذبۂ پندار اسے اس کے اعتراف پر آمادہ نہیں ہونے دیتا۔ وہ اس کے لئے اعذار باردہ (Justificatory Reasons) وضع کرتا ہے حالانکہ اس کا دل جانتا ہے کہ یہ دلائل جھوٹے اور یہ وجوہات وضعی ہیں‘ ایسے شخص پر سعادت کی راہیں کبھی نہیں کھل سکتیں۔ یہ چیز پارٹی بازی میں اکثر حق و صداقت کے راستے میں روک بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اپنی پارٹی کا فرد صریحاً غلطی پر ہو‘ لیکن ’’پارٹی بازی‘‘ کا تقاضا ہے کہ آپ اس کی بہرحال تائید اور مدافعت کریں۔ ایک ڈاکو ہر روز مسافروں کے گلے کاٹے اور غریبوں کو لوٹے۔ اس کی پارٹی کے دوسرے ڈاکو‘ اسے کبھی بُرا نہیں کہیں گے لیکن اگر وہ لوٹ کے مال میں کچھ خورد برد کرے اور اس کی تقسیم منصفانہ نہ کرے‘ تو پھر پارٹی والے اسے بے ایمان اور بددیانت قرار دیں گے۔ پارٹی بازی میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ اپنی پارٹی کا آدمی جب تک دوسروں کے خلاف کچھ کرتا رہے اسے کبھی نہیں ٹوکا جاتا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس سے رفتہ رفتہ اس کے دل کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اس میں کسی بات کو (On Merit) پرکھنے اور عدل و انصاف کی رو سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ یہ ہے وہ مسخ شدہ ذہنیت جس کے متعلق قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ: وَإِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّہَ أَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالإِثْمِ -(2:206) جب اس سے کہا جاتا ہے کہ قوانین خداوندی کی نگہداشت کرو تو جھوٹی عزت کا احساس اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ فَحَسْبُہُ جَہَنَّمُ -(2:206) نتیجہ اس کا یہ کہ اس کی انسانی صلاحیتیں جھلس کر راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔
مومن‘ نفس (ایغوؔ ) کے اس فریب میں نہیں آتا۔ یہ اس کے راستے میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ دامن جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
***
پابندئ عہد
اب مؤمنین کی مثبت صفات کی طرف آیئے۔ ان کے متعلق سورۂ المومنون میں کہا گیا ہے کہ: ہُمْ لِأَمَانَاتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُونَ-(23:8) یہ لوگ امانات کی حفاظت کرتے ہیں اور عہد کی پابندی۔ حفظِ امانت کے معنی یہی نہیں کہ جو چیز تمہارے پاس بطورِ امانت رکھی جائے اسے بحفاظت واپس کر دو۔ ہر وہ بات جسے کسی نے‘ تم پر بھروسہ کر کے تمہارے سپرد کی ہے وہ امانت میں داخل ہے۔ خواہ وہ اس کا کوئی راز ہو یا اس کی عزت و آبرو کی رکھوالی۔ جہاں تک عہد‘ معاہدہ کا تعلق ہے‘ اس کے معنی یہی نہیں کہ جو اقرار نامہ کسی کو لکھ کر دو اس پر قائم رہو۔ اس میں ہر قسم کا وعدہ بھی شامل ہے جو ایک انسان دوسرے سے کرتا ہے۔ یہ بڑی اہم صفت ہے اور ا س کی قرآن کریم نے بڑی شدت سے تاکید کی ہے۔ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ-(5:1) میں ہر قسم کا عہد اور وعدہ آجاتا ہے۔ آپ غور کیجئے کہ وعدہ کے معنی کیا ہیں۔ آپ کسی سے کہتے ہیں کہ ’’بھائی! اس وقت مجھے جانے دو۔ میں ٹھیک چار بجے آجاؤں گا‘‘۔ تو وہ آپ پر اعتماد کر کے آپ کی بات مان لیتا ہے۔ اگر آپ اپنے وعدے کے مطابق آتے نہیں تو آپ اپنا اعتماد کھو دیتے ہیں۔۔۔ اور یہ ظاہر ہے کہ دنیا میں بدترین قسم کا معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں کسی کو دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ نہ ہو۔ ایسے معاشرہ میں ہر شخص عدم اطمینان کے جہنم میں رہتا ہے۔ بعض لوگ تو وعدہ کرتے ہی منافقت سے ہیں یعنی انہوں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ انہوں نے وعدہ پورا نہیں کرنا لیکن اکثر جذباتی (یا Impulsive) لوگ‘ شدتِ جذبات میں آگے بڑھ کر ایک وعدہ کر لیتے ہیں اور اس کے بعد‘ جب جذبات کی شدت ماند پڑ جاتی ہے تو اس وعدہ سے پھر جانے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اس سے جو نقصان دوسروں کو پہنچتا ہے اسے تو چھوڑیئے۔ خود ایسے لوگوں کی سوسائٹی میں کوئی عزت نہیں رہتی۔ مومنؔ کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ وہ وعدہ کرتا ہے تو سوچ سمجھ کر اور جب وعدہ کر لیتا ہے تو پھر کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ اسے پورا کرتا ہے۔
جذباتی لوگ
بَلَی مَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ وَاتَّقَی فَإِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْن-(3:76) جو اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے اور یوں قانونِ خداوندی کی پاسداری کرتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک پسندیدہ اطوار و کردار کے مالک ہوتے ہیں لہٰذا‘ وعدہ شکنی‘ خواہ وہ شروع ہی میں بدنیتی کا نتیجہ ہو۔ یا بعد میں پھر جانے کی وجہ سے‘ اس فرد کو ذلیل اور معاشرہ کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسی لئے قرآن نے تاکیداً کہا ہے کہ: أَوْفُواْ بِالْعَہْدِ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْءُوْلاً-(17:34) اپنے وعدہ کو ہمیشہ پورا کرو۔ اس کے متعلق تم سے پوچھا جائے گا اور یہ پُرسش تو اسی و قت شروع ہو جاتی ہے جب وعدہ خلافی کرنے والے کو ہر نگاہِ حقارت اور نفرت سے دیکھنے لگتی ہے‘ خواہ وہ بظاہر کتنا ہی معتبر اور معزز کیوں نہ ہو۔
عَدل کے علمبردار
اب آگے بڑھئے۔ قرآنِ کریم نے مؤمنین کے متعلق کہا ہے کہ وہ قَآءِمَاً بِالْقِسْطِ(3:17) ہوتے ہیں یعنی ہمیشہ انصاف پر ڈٹ کر کھڑے رہنے والے۔ عدل و انصاف وہ بنیاد ہے‘ جس پر انسانی سیرت کی عمارت استوار ہوتی ہے اس لئے قرآن کریم اس باب میں مؤمنین کے سامنے ایسا بلند معیار رکھتا ہے جس پر پورا اترنے سے معاشرہ فی الواقعہ جنت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔۔۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ۔۔۔ اے ایمان والو! دنیا میں عدل و انصاف کے علمبردار بن کر رہو۔ اس باب میں کسی جذبے کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دو۔ یہ کچھ خالصتہً لِللّٰہ کرو۔ اس مقصد کے لئے شہادت دینی پڑے تو نہ مدعی کی طرف سے گواہ بن کر جاؤ نہ مدعا علیہ کی طرف سے۔ بلکہ شُہَدَاء لِلّہِ۔ تم خدا کی طرف سے گواہ بن کر جاؤ اور سچی سچی گواہی دو۔ وَلَوْ عَلَی أَنفُسِکُمْ۔ خواہ وہ تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ جائے۔ أَوِ الْوَالِدَیْْنِ۔ یا تمہارے والدین کے خلاف جائے۔ وَالأَقْرَبِیْنَ۔ یا تمہارے دیگر رشتہ داروں کے خلاف۔۔۔ إِن یَکُنْ غَنِیّاً أَوْ فَقَیْراً۔ وہ دولت مند ہو یا غریب ہو‘ اس کا بھی تم پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ اس لئے کہ فَاللّہُ أَوْلَی بِہِمَا۔ اللہ کا حق ان دونوں سے زیادہ ہے۔ اس لئے یاد رکھو۔
فَلاَ تَتَّبِعُواْ الْہَوَی أَن تَعْدِلُواْ۔ تم اپنے جذبات کے پیچھے مت چلو۔ اس باب میں‘ اپنے قلبی رجحانات کو اثر انداز مت ہونے دو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے جذبات تمہیں عدل کرنے سے روک دیں۔ وَإِن تَلْوُواْ۔ نہ ہی تم کوئی پیچدار۔ ذومعنی بات کرو۔ أَوْ تُعْرِضُواْ۔ نہ ہی اس سے اعراض برتو۔ پہلو تہی کرو۔ اس لئے کہ فَإِنَّ اللّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً-(4:135) جو کچھ تم کرتے ہو‘ خدا کو اس کی خبر ہوتی ہے۔ تم اس سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔۔۔ یہ ہے عدل کا وہ معیار جو ایک مومن کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ ذرا سوچئے کہ جو معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل ہو گا جو اس صفت کے حامل ہوں‘ اس معاشرہ کی کیفیت کیا ہو گی۔ اس میں یہ نہیں ہو گا کہ اپنی پارٹی کا آدمی ہے تو اس کے لئے میزان اور ہو گی اور دوسری پارٹی کے آدمی کے لئے اور۔۔۔ اس میں‘ تو دشمن سے بھی عدل کیا جائے گا۔
وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ-(5:8) دیکھنا! ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ کر دے کہ تم اس کے ساتھ عدل نہ کرو۔ اس سے بھی عدل کرو۔ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی -(5:8) تقویٰ سے قریب ترین رَوش یہی ہے۔
قانونِ عدل
عدل کے سلسلہ میں اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ اس کی ایک شکل وہ ہے‘ جسے عدالتی عدل کہا جاتا ہے‘ یعنی لوگوں کے متنازعہ فیہ معاملات کا فیصلہ کرنا۔ اس کے متعلق قرآنِ کریم کا حکم ہے کہ: إِذَا حَکَمْتُم بَیْْنَ النَّاسِ أَن تَحْکُمُواْ بِالْعَدْلِ -(4:58) جب تم لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو‘ تو ہمیشہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ عدالتی عدل کے معنی یہ ہیں کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہو۔ لیکن قرآن کریم اس باب میں ایک قدم آگے جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر وہ قانون جس کے مطابق فیصلہ کیا جا رہا ہے‘ خود ہی عدل پر مبنی نہ ہو تو اس کی رو سے کیا ہوا فیصلہ کس طرح مبنی برعدل کہلا سکے گا۔‘‘ لہٰذا‘ جماعتِ مومنین کے متعلق قرآنِ کریم میں ہے: أُمَّۃٌ یَہْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ-(7:181) یہ جماعت ’’الحق‘‘ کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتی ہے اور اسی (الحق) کے ساتھ عدل کرتی ہے۔ یعنی ان کے قوانین‘ الحقؔ پر مبنی ہوتے ہیں اور انہی قوانین کے مطابق یہ لوگوں کے فیصلے کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ الحقؔ قرآن کریم ہے کیونکہ خود خدا کا ارشاد ہے کہ: وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ-(5:44) جو لوگ معاملات کے فیصلے قرآن کے مطابق نہیں کرتے‘ سو وہی کافر ہیں۔
واجب حق
عدل کی دوسری شکل یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کا واجب حق ادا کر دیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے۔ یہ وہ عدل ہے جو ہر شخص کی زندگی میں قدم قدم پر سامنے آتا ہے اور مومن اس میں ہر مقام پر پورا اترتا ہے۔ آپ سوچئے کہ جس معاشرہ میں ہر شخص کو اس کا حق‘ بلا کدو کاوش اور بلا پریشانی و تشویش ملتا چلا جائے۔ اس میں زندگی کس قدر خوشگوار گزرے گی۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے ایسے جامع الفاظ استعمال کئے ہیں جنہیں پھیلانے سے زندگی کا ہر گوشہ اس کے دائرے کے اندر آجاتا ہے۔ اس نے کہا ہے: وَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ-(6:152) ’’ماپ اور تول کو عدل و انصاف کے ساتھ پورا کرو۔‘‘ ماپ اور تول میں ہر قسم کے واجبات آجاتے ہیں۔
احسان
لیکن قرآنِ کریم عدل سے بھی ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور اس کے ساتھ احسان کا حکم دیتا ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے‘ عدل کے معنی ہیں جو کچھ کسی کا واجب ہے وہ ادا کر دینا لیکن اگر اس سے دوسرے کی ضرورت پوری نہ ہوتی ہو تو قرآن کی تاکید یہ ہے کہ اسے‘ اس کے واجب سے زیادہ دے کر‘ اس کی کمی کو پورا کر دیا جائے۔ اسے احسان کہتے ہیں جس کے معنی ہیں کسی کے بگڑتے ہوئے توازن کو برقرار کر دینا اور اس طرح معاشرہ میں حسن پیدا کر دینا۔
والدین سے احسان
اس ’’احسان‘‘ کی ابتداء اپنے گردوپیش سے کی جائے گی اور اس میں سرِفہرست والدین کا نام آئے گا۔ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً-(4:36) آپ حیوانات پر غور کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہاں‘ ماں باپ اپنے بچے کی پرورش تو کرتے ہیں لیکن بچے اپنے والدین کو پوچھتے تک نہیں۔ وہ انہیں جانتے پہچانتے بھی نہیں۔ یہ خصوصیت انسانی زندگی میں آکر پیدا ہوتی ہے کہ جب ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو اولاد ان کی خبرگیری کرے۔ والدینؔ کے بعد‘ دوسرے لوگ بھی اسی زمرے میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے: وَبِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ۔ یہی احسان دیگر اقربا سے بھی کرو اور ان لوگوں سے بھی جو معاشرہ میں کسی وجہ سے تنہا رہ گئے ہوں یا جو حرکت کے قابل نہ رہیں اور ان کا چلتا ہوا کاروبار رک جائے۔ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبَی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ۔ نیز ہمسایہ سے بھی‘ خواہ وہ قریب کا ہو یا دور کا۔ اپنوں میں سے ہو یا بیگانوں میں سے۔ نیز اپنے رفقائے کار کے ساتھ بھی اور ان مسافروں کے ساتھ بھی جن کے پاس زادِ راہ نہ رہا ہو‘ یا وہ ویسے ہی تمہارے حسنِ سلوک کے متمنی ہوں۔ وَمَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ-(4:36) اور ان لوگوں کے ساتھ بھی جو تمہارے ماتحت کام کریں۔ ان سب کے ساتھ عدل کرو۔ ان کے حق میں کسی قسم کی کمی نہ کرو اور اگر اس کے باوجود‘ ان میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کمی کو بھی پورا کرو۔ اور اس کا دل میں خیال تک بھی نہ لاؤ کہ تم نے ان پر کوئی احسان کیا ہے‘ چہ جائیکہ اس احسان کی وجہ سے تم ان پر بارگراں بن جاؤ اور انہیں خواہ مخواہ قلبی اور ذہنی اذیت پہنچاتے رہو۔ اس لئے کہ مومنین کا شعار یہ ہے کہ: لاَ یُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُواُ مَنّاً وَلاَ أَذًی-(2:262) وہ کسی کو کچھ دے کر اس کے سر پر سوار نہیں ہو جاتے۔ سر پر سوار ہونا تو ایک طرف‘ وہ ان سے کہہ دیتے ہیں کہ:
لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَاء وَلَا شُکُوراً-(76:9) ہم تم سے‘ اس کا بدلہ تو ایک طرف‘ شکریہ تک کے بھی خواہاں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ: ہَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ-(55:60) اس کمی کی وجہ سے تمہارا توازن بگڑ رہا تھا۔ ہم نے اس توازن کو برقرار کر دیا۔ بس یہی اس کا بدلہ ہے۔ دوسروں کی کمی کو پورا کرنے کے سلسلہ میں وہ اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ: وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ-(59:9) وہ خود تنگی میں گزارہ کر لیتے ہیں اور دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے ہیں۔
مقروض سے نرمی
یہ تو احسانؔ کی صورت ہے جس میں کچھ واپس لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اگر کسی کو قرض دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مقروض کی حالت سقیم ہے تو اس پر سختی نہیں کرتے بلکہ اسے اس وقت تک کی مہلت دیتے ہیں جب تک وہ آسانی سے قرض ادا کر دینے کے قابل نہ ہو جائے اور اگر ایسا ہو کہ وہ قرضہ ادا کرنے کے قابل ہی نہیں رہا تو قرض معاف کر دیتے ہیں۔ وَإِن کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلَی مَیْْسَرَۃٍ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ -(2:280)
ناحق مال نہ کھاؤ
ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی یہ خصوصیات ہوں وہ کسی کا مال ناحق کس طرح کھا جائیں گے اور جائز اور ناجائز کی تمیز کو کس طرح مٹا دیں گے؟ انہیں اس کی تاکید کی گئی ہے کہ: لاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ -(2:188) آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریق پر مت کھاؤ۔ یا اگر معاملہ عدالت تک پہنچ چکا ہے تو ایسا نہ کرو کہ حکام کو رشوت دے کر ایسا فیصلہ کرا لو جس سے دوسروں کا کُچھ مال ناجائز طور پر تمہیں مل جائے حالانکہ تم جانتے ہو کہ جو مال اس طرح حاصل کیا جائے اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
***
حفاظتِ عصمت
یہاں تک ضبطِ نفس کی ان حدود کا ذکر آیا ہے جن کا تعلق مال و دولت سے ہے۔ اس کے بعد جنسی جذبات میں ضبط و تحدید کی صورت سامنے آتی ہے۔ اس باب میں مومن انتہائی پاکبازی کا مظہر ہوتے ہیں۔ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ-(23:5) وہ اپنی عصمت کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں عصمت و عفت کا لفظ صرف عورت کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن قرآن کریم اس باب میں‘ مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ وہ مردوں سے بھی اسی طرح عصمت کا مطالبہ کرتا ہے جس طرح عورتوں سے۔ وہ کہتا ہے کہ مومنین‘ زنا تو خیر بہت دور کی بات ہے‘ فواحش (یعنی عام بے حیائی کی باتوں) کے بھی قریب تک نہیں پھٹکتے‘ خواہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی ہو یا پوشیدہ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ -(6:151) خود بھی بچتے ہیں اور اس قسم کی تدابیر اختیار کرتے ہیں جن سے اس قسم کی باتیں معاشرہ میں پھیلنے نہ پائیں -(24:19) وہ اپنی نگاہوں کو کبھی بے باک نہیں ہونے دیتے کیونکہ ان سے کہا گیا ہے کہ: یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ (24:30)۔ اپنی نگاہوں کو بے باک مت ہونے دو۔ وہ جنسی بے راہ روی کے خیال تک کو اپنے دل میں نہیں آتے دیتے‘ اس لئے کہ ان کا ایمان ہے کہ: یَعْلَمُ خَاءِنَۃَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُورُ-(40:19) خدا‘ نگاہ کی خیانت اور دل میں پوشیدہ خیالات تک سے واقف ہے۔
خیالات کی پاکیزگی
علاوہ بریں‘ عام جذبات میں بھی ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ انہیں کبھی بدلگام اور حدود فراموش نہیں ہوتے دیتے۔ اگر کبھی ان میں شدت پیدا بھی ہو تو وہ (تخریب کی بجائے) ان کا رخ تعمیری کاموں کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ اسی لئے مومنین کی خصوصیت کَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ-(3:134) بتائی گئی ہے۔ اس کے معنی ’’غصے کو دبا لینے والے‘‘ نہیں۔ اس کے معنی ہیں‘ اس زائد قوت کو تعمیری کاموں کی طرف منتقل کر دینے والے۔
جذبات پر قابو
اس کے بعد ہے: وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ -(3:134) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے مقامات پر یہ نہیں دیکھتے کہ دوسرے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں (تاکہ وہ بھی ویسا ہی برتاؤ ان کے ساتھ کریں)۔ وہ ان کے برتاؤ سے قطع نظر کر کے‘ دیکھتے یہ ہیں کہ انہیں قوانینِ خداوندی کے مطابق کیا کرنا چاہئے۔ ان کے جذبات کبھی سرکشی اختیار نہیں کرتے۔ وہ انہیں ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ شیطان ان پر کبھی غلبہ نہیں پا سکتا۔ إِنَّ عِبَادِیْ لَیْْسَ لَکَ عَلَیْْہِمْ سُلْطَانٌ -(15:42) حتیٰ کہ اگر کبھی اس قسم کا کوئی خیال یونہی گھومتے پھرتے ان کے دل میں آجائے تو وہ فوراً قانونِ خداوندی کو اپنے سامنے لے آتے ہیں اور اس سے یوں ہوتا ہے گویا ایک دم روشنی ان کے سامنے آگئی اور انہوں نے صحیح راستہ اختیار کر لیا۔ إِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّہُمْ طَاءِفٌ مِّنَ الشَّیْْطَانِ تَذَکَّرُواْ فَإِذَا ہُم مُّبْصِرُونَ-(7:201) زندگی کے ہر شعبے میں‘ قانونِ خداوندی کو اپنے سامنے رکھنا‘ یہ ہے وہ سب سے بڑی قوت جس سے مومنین‘ غلط باتوں کے ارتکاب سے مجتنب رہتے ہیں۔ اس کو ذکر اللہ کہتے ہیں۔
خشیّتِ قلبی
ان قوانین کی خلاف ورزی سے جو تباہیاں آتی ہیں‘ ان کا احساس انہیں کپکپا دیتا ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ إِذَا ذُکِرَ اللّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ مومنین کی خصوصیت یہ ہے کہ جب قوانینِ خداوندی کا مجموعی تصور ان کے سامنے آتا ہے تو ان کی خلاف ورزی سے جو تباہی آتی ہے اس کے احساس سے ان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیْمَاناً وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ-(8:2) اور جب ان قوانین کی تفاصیل ان کے سامنے آتی ہیں تو ان پر عمل پیرا ہونے کے خوشگوار نتائج کے تصور سے ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ ان قوانین کی محکمیت پر پورا پورا اعتماد رکھتے ہیں اور یہی وہ‘ قوانینِ خداوندی پر اعتمادِ کلی اور یقین کامل ہے جس سے انہیں استقامت حاصل ہوتی ہے اور ان کے پاؤں میں کبھی لغزش نہیں آتی۔ اسی لئے انہیں الصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ وَالْقَانِتِیْنَ -(3:17) کہہ کر پکارا گیا ہے۔ یعنی مستقل مزاج۔ مصافِ زندگی میں جم کر کھڑے ہونے والے۔ اپنے دعویٰ ایمان کو اپنے اعمال سے سچ کر دکھانے والے اور قوانین خداوندی کا پورا پورا اتباع کرنے والے۔ اپنی تمام توانائیوں کو ان کے مطابق صرف کرنے والے۔
***
صاحبانِ عقل و بصیرت
جذبات کو کنٹرول میں رکھنے کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ کبھی عقل و فکر سے عاری نہیں ہوتے۔ اپنا دماغی توازن کبھی نہیں کھوتے۔ ہر معاملہ پر نہایت ٹھنڈے دل سے غور و فکر کر کے صحیح نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ اسی لئے قرآن نے انہیں أُوْلُواْ الأَلْبَابِ -(13:19)کہہ کر پکارا ہے یعنی وہ صاحبان عقل و بصیرت یَتَفَکَّرُونَ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِجو کائنات کی تخلیق پر غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً -(3:190) اے ہمارے نشوونما دینے والے! تو نے اس عظیم کارگۂ کائنات کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ ان کے عقل و فکر سے کام لینے کی کیفیت یہ ہے کہ إِذَا ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْْہَا صُمّاً وَعُمْیَاناً -(25:73) اور تو اور‘ جب ان کے سامنے ان کے رب کے احکام و قوانین پیش کئے جاتے ہیں تو وہ ان پر بھی بہرے اور اندھے بن کر نہیں گر پڑتے۔ انہیں غور و فکر سے قبول کرتے‘ اور علم و بصیرت کی رو سے ان پر عمل کرتے ہیں۔ اس طرح وحئ خداوندی پر ایمان لاتے ہیں اور پھر اپنے جذبات کو اس وحی کے تابع رکھتے ہیں‘ کیونکہ قرآن کا ارشاد ہے کہ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوَاہُ بِغَیْْرِ ہُدًی مِّنَ اللَّہِ -(28:50) ’’اس سے بڑھ کر راہ گم کردہ اور کون ہو سکتا ہے جو خدا کی راہنمائی کے بغیر اپنے جذبات کا اتباع کرتا ہے۔۔۔ یوں‘ وحئ خداوندی‘ علم و عقل اور جذبات کے حسین امتزاج سے‘ مرد مومن کا قالب تیار ہوتا ہے۔
دلائل و براہین
اقبالؔ ؒ کے الفاظ میں
بتاؤں تجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہے
یہ ہے نہایت اندیشہ و کمالِ جنوں
عناصر اس کے ہیں‘ روح القدس کا ذوقِ جمال
عجم کا حسنِ طبیعت‘ عرب کا سوز دروں
اور ظاہر ہے کہ جب مومنین خود کسی بات کو سوچے سمجھے بغیر نہ قبول کرتے ہیں نہ تسلیم‘ تو وہ دوسروں سے اپنی بات کس طرح دھاندلی سے منوا سکتے ہیں۔ وہ اپنے ہر دعوے کو دلیل و برہان کی رو سے پیش کرتے اور علم و بصیرت کی رو سے منواتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ سے کہا گیا کہ آپ اعلان کر دیجئے کہ: أَدْعُو إِلَی اللّہِ عَلَی بَصِیْرَۃٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ -(12:108) میں تمہیں جو خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں تو علیٰ وجہ البصیرت ایسا کرتا ہوں۔ میں بھی یہی کرتا ہوں اور میرے متبعین بھی ایسا ہی کریں گے۔ ہماری دعوت علم و بصیرت پر مبنی ہو گی۔ اسی لئے جماعتِ مومنین سے تاکید کی گئی کہ: ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ -(16:125) تم لوگوں کو‘ اپنے رب کے راستے کی طرف اس انداز سے دعوت دو کہ ان کے دل اور دماغ دونوں کی تسکین ہو جائے۔ وہ اسے ذہن اور قلب کی پوری رضامندی کے ساتھ مانیں اور جو اعتراضات وہ پیش کریں ان کا جواب نہایت حسن کارانہ انداز سے دو۔ یوں ہی اندھا دھند مت جھگڑتے چلے جاؤ۔ فرعون جیسے سرکش اور متکبر کو بھی پہلے نرمی اور آشتی سے سمجھانے کی کوشش کرو۔ فَقُولَا لَہُ قَوْلاً لَّیِّناً لَّعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَی-(20:44) ہو سکتا ہے کہ اس طرح بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ اپنی سرکشی کے تباہ کن نتائج سے ڈر جائے لیکن اگر واسطہ ایسے لوگوں سے پڑ جائے جو اپنی ضد اور جہالت پر اڑے رہنا چاہیں اور کسی بات پر دھیان دینے کی کوشش ہی نہ کریں‘ تو ان سے اعراض برتو۔ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْن-(7:199) لیکن اس کے باوجود ایسے موقعہ کی تلاش میں رہو کہ وہ بات سننے پر آمادہ ہوں تو ان تک پھر خدا کا پیغام پہنچاؤ۔ وَذَکِّرْ بِہِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ-(6:70) تاکہ وہ اپنی غلط روی کے باعث قرآن کی راہنمائی سے محروم نہ رہنے پائیں۔
اپنی اصلاح
لیکن دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ کہنے والا خود اپنی اصلاح کرے۔ جماعتِ مومنین کا یہی شیوہ ہوتا ہے۔ وہ پہلے خود عمل کرتے ہیں اور پھر دوسروں کو اس کی دعوت دیتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے خدا کا ارشاد ہے کہ: لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ Oکَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّہِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ -(61:2-3) تم وہ بات کیوں کہتے ہو جسے خود کر کے نہیں دکھاتے۔ اللہ کے نزدیک یہ انداز بڑا ناپسندیدہ ہے کہ تمہارے قول اور فعل میں تضاد ہو۔ ایسی نصیحت جس پر انسان خود عمل نہ کرے‘ محض شاعری بن کر رہ جاتی ہے۔ اور اس قسم کی روش مومن کا شعارِ زندگی نہیں ہو سکتی۔
شاعری مت کرو
اس لئے قرآن میں آیا ہے کہ: وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنبَغِیْ لَہُ -(36:69) ہم نے اپنے رسول کو شاعری نہیں سکھائی۔ شاعری اس کے شایانِ شان ہی نہ تھی اور یہی وجہ ہے کہ قرآن نے شاعر اور مومن کو ایک دوسرے کی ضد بتایا ہے۔ چنانچہ سورۂ شعراء میں‘ شاعروں کی یہ خصوصیات بتائی ہیں کہ وہ اپنے تصورات کی دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ کبھی اس وادی میں۔ کبھی اس بیابان میں۔ ایک ایسے اونٹ کی طرح جسے جھوٹی پیاس اِدھر اُدھر لئے پھرے اور ان کی ساری عمر باتیں کرنے میں گزر جاتی ہے اور وہ عمل کے قریب تک نہیں پھٹکتے۔ ان خصوصیات کا ذکر کرنے کے بعد کہا: إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ -(26:227) لیکن مومنین اس قسم کے نہیں ہوتے۔ وہ ابدی صداقتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے مطابق کام کر کے دکھاتے ہیں۔ واضح رہے کہ قرآنِ کریم نے جب شاعری کی مذمت کی ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بات کلامِ موزوں میں پیش کرے تو وہ قابلِ مذمت ہے اور اگر وہ اسے نثر میں بیان کرے تو قرآن کی رُو سے مستحسن۔ بات نثر اور نظم کی نہیں بات اس ذہنیت کی ہے جسے قرآن نے ’’شاعری‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس ذہنیت کے معنی یہ ہیں کہ انسان کے سامنے زندگی کا کوئی متعین مقصد اور نصب العین نہ ہو۔ وہ اپنے جذبات کی رو میں جو جی میں آئے کہتا چلا جائے اور جو کچھ کہے اس میں بھی تصنع اور بناوٹ ہو اور دوسرے یہ کہ وہ ساری عمر باتیں کرتا رہے ان پر عمل کبھی نہ کرے۔ ذہنیت اس کی یہ ہو اور وہ اسے نوائے سروش سے تعبیر کرے اپنے آپ کو صاحبِ وجدان قرار دے۔ یہ ہے وہ ذہنیت جسے مومن کی ذہنیت کی ضد قرار دیا گیا ہے‘ خواہ اس ذہنیت کا حامل‘ نثر میں بات کرے یا نظم میں۔ مومن کے سامنے ایک متعین نصب العین حیات ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے۔
چھوٹی موٹی لغزشیں
اس میں شبہ نہیں کہ چھوٹی موٹی لغزشیں مومنین سے بھی ہو جاتی ہیں۔ یہ معصوم عن الخطاء نہیں ہوتے۔لیکن یہ لغزشیں ان سے سہو و خطا کی بناء پر نادانستہ سرزد ہوتی ہیں جن سے وہ فوراً تائب ہو جاتے ہیں۔ وہ بنیادی غلط روی سے‘ جسے قرآن نے کبائر سے تعبیر کیا ہے‘ ہمیشہ مجتنب رہتے ہیں۔ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُونَ کَبَاءِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ -(53:32) مومن وہ ہیں جو بنیادی غلط کاریوں اور بے حیائی کی باتوں سے ہمیشہ بچتے ہیں۔ ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے کبھی کبھار‘ نادانستہ کوئی چھوٹی موٹی لغزش ہو جائے۔ لہٰذا مومن کا انداز یہ ہے کہ وہ جس بات کی دوسروں کو نصیحت کرتا ہے اس پر پہلے خود عمل کرتا ہے۔
اعتراض کی بجائے اصلاح
لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کو اس کی غلطی پر ٹوکے تو وہ اسے یہ کہہ کر جھٹک دے کہ میاں! پہلے اپنی اصلاح تو کرو۔ پھر دوسروں سے کہنا۔۔۔ نہیں! مومن کا یہ شعار نہیں۔ وہ کہنے والے کی بات کو توجہ سے سنتا ہے۔ پھر اپنا جائزہ لیتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ اس میں واقعی وہ کمزوری موجود ہے تو اس کی اصلاح کر لیتا ہے اس لئے کہ وہ اس اصول کو پیشِ نظر رکھتا ہے جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ: عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ -(5:105) ’’تم اپنی اصلاح کی فکر کرو۔ اگر تم صحیح راستے پر جا رہے ہو‘ تو غلط راستے پر چلنے والا تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ اس لئے جو شخص تمہاری غلط روی پر ٹوکتا ہے اس کی بات سننے سے یہ کہہ کر انکار نہ کر دو کہ جب تم خود اس پر عمل نہیں کرتے تو تمہیں دوسروں کو نصیحت کرنے کا کیا حق ہے؟ تمہیں تمہاری غلط روی کا نقصان پہنچے گا۔ اس کی غلط روی کا نہیں۔ اس لئے کہ: وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی -(6:164) ہر شخص اپنی غلط روی کا خمیازہ خود بھگتے گا۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا‘ کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اپنی پاکبازی کی دھونس نہ جماؤ
لیکن اپنی اصلاح کرنے کے بعد‘ مومن کی یہ کیفیت نہیں ہوتی کہ وہ ہر ایک پر اپنی نیکیوں کی دھونس جماتا رہتا ہے اور معاشرہ میں بڑا پاکباز بن کر‘ اپنے آپ کو فریب دیتا اور دوسروں پر رعب گانٹھتا ہے۔ قطعاً نہیں۔ اس لئے کہ اس کے سامنے یہ اصول ہوتا ہے کہ: فَلَا تُزَکُّوا أَنفُسَکُمْ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَی -(53:32) یونہی اپنے آپ کو پاکباز نہ ٹھہراتے پھرو۔ اس کا فیصلہ میزانِ خداوندی کی رو سے ہوتا ہے کہ تم میں سے کون تقویٰ شعار ہے۔ مومن کا تو شعار یہ ہے کہ اس میں جس قدر زیادہ خوبیاں پیدا ہوتی جاتی ہیں‘ وہ اسی قدر (شاخ ثمردار کی طرح) اور جھکتا چلا جاتا ہے۔ وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً -(25:63) اللہ کے بندوں کا انداز یہ ہے کہ وہ اپنے اندر جھوٹا تکبّر پیدا نہیں ہونے دیتے۔ خوبیوں کا وزن انہیں اور جھکا دیتا ہے۔
***
باطل کا مقابلہ کرتے ہیں
لیکن جھکنے کے معنی یہ نہیں کہ وہ ہر ایک سے دبتے چلے جاتے ہیں۔ قطعاً نہیں۔ وہ جھکتے ہیں حقؔ کے سامنے۔ لیکن جو حقؔ کی مخالفت کرتا اور اس سے سرکشی برتتا ہے‘ اس کا ڈت کر مقابلہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں محمد رسول اللہ والذین معہ‘ کو رحماء بینھم کہا ہے (یعنی آپس میں‘ ایک دوسرے کے ساتھ‘ بڑی محبت اور نرمی سے سلوک کرنے والے) وہاں انہیں أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ -(48:29) بھی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی حقؔ کی مخالفت کرنے والوں کے مقابلہ میں چٹان کی طرح سخت۔ مومن کی کیفیت یہ ہے کہ:
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
منافق کی مخالفت
خود نبی اکرمﷺ کے متعلق قرآن میں ہے کہ ’’یہ خدا کی رحمت ہے کہ آپﷺ اس قدر نرم دِل واقع ہوئے ہیں۔ اگر آپﷺ سخت مزاج اور سنگدل ہوتے تو آپ کی جماعت کے افراد آپ سے الگ ہو جاتے‘‘ -(3:158) لیکن اس کے ساتھ ہی حضورﷺ سے تاکیداً کہا گیا کہ: یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْْہِمْ -(9:73) اے نبیﷺ! جو لوگ حق کی مخالفت کرتے ہیں۔ یا جو تمہارے ساتھ رہتے ہوئے‘ منافقانہ روش اختیار کرتے ہیں‘ ان سے جہاد کرو۔ اور ان کے خلاف شدت اختیار کرو۔ یعنی جو لوگ کھلے بندوں حق کی مخالفت کریں اور سرکشی اختیار کریں۔ یا جو لوگ منافقت برتیں‘ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ نہیں کیا جائے گا۔ ان کی مخالفت یا منافقت کو سختی سے روکا جائے گا۔ یاد رکھئے! مومنین کے معاشرہ میں‘ منافقین کا وجود۔۔۔ یعنی وہ لوگ جو بظاہر کچھ اور بات کریں اور ان کے دل میں کچھ اور ہو۔۔۔ ایک زہر آلود پھانس ہوتی ہے‘ جس کا علاج نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے اگر نوکِ نشتر کی بھی ضرورت پڑے تو اس میں بھی تامل نہیں کرنا چاہئے۔ مومنؔ کی نرم مزاجی کے یہ معنی نہیں کہ وہ منافقین کے سامنے بھی جھک کر رہتا ہے۔ ایسا کرنا تو خود منافقت اور مداہنت ہو گی۔ وہ منافق سے برملا کہہ دیتا ہے کہ تم منافقت برتتے ہو۔ ہم تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ اور دوسروں کو بھی اس کی منافقت سے آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ کسی کو دھوکا نہ دے سکے۔ اس باب میں قرآن کی تعلیم بڑی واضح اور اس کی تاکید بڑی سخت ہے۔ اس لئے مومنین‘ حق کے مخالفین اور منافقین سے برملا کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ تم ہمارے دوست اور رازدار نہیں ہو سکتے۔ سورۂ توبہ میں ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ آبَاء کُمْ وَإِخْوَانَکُمْ أَوْلِیَاء إَنِ اسْتَحَبُّواْ الْکُفْرَ عَلَی الإِیْمَانِ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ-(9:23) O
اے جماعتِ مومنین! اگر تمہارے باپ اور بھائی بھی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں‘ تو انہیں اپنا دوست مت بناؤ۔ تم میں سے جو کوئی انہیں اپنا دوست رکھے گا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جو قوانینِ خداوندی سے سرکشی برتتے ہیں۔
ایمان کے معنی
اتنا ہی نہیں۔ عزیز سے عزیز دوست۔ قریبی سے قریبی رشتہ دار۔ بیوی بچے۔ مال و دولت۔ سامانِ زیست۔ متاعِ حیات۔ غرضیکہ دنیا کی کوئی چیز بھی‘ مومن کے نزدیک‘ ایمان اور اسلامی نظام کے مقابلہ میں عزیز نہیں ہو سکتی۔ یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ
وجۂ جاذبیت ہیں لیکن جب ان میں اور ایمان کے کسی تقاضے میں تصادم ہو‘ تو ان میں سے کسی شے کو بھی ایمانی تقاضے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے اور مومنین کا شعار۔ ان کے خدا کا حکم یہ ہے کہ: قُلْ إِن کَانَ آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَآؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا -(9:24) اے رسولﷺ! ان سے کہہ دو کہ اگر تمہارے ماں باپ۔ بہن بھائی۔ بیوی بچے۔ عزیز رشتہ دار۔ وہ مال و دولت جسے تم اتنی محنت سے کماتے ہو۔ وہ کاروبار جس کے مندا پڑ جانے سے تم خائف رہتے ہو اور وہ محلات (وِلاز) جو تمہیں اس قدر پسند ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی چیز أَحَبَّ إِلَیْْکُم مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہِ۔ تمہیں خدا اور اس کے رسول اور خدا کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہو گئی۔ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّیٰ یَأْتِیَ اللّہُ بِأَمْرِہِ ط۔ تو تم انتظار کرو۔ تاآنکہ خدا کا قانونِ مکافات تمہاری اس روش کا تباہ کن نتیجہ تمہارے سامنے لے آئے۔ تمہاری یہ روش مومنین کی روش نہیں۔ فاسقین کی ہو گی۔ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ-(9:24) اور خدا کا قانون یہ ہے کہ فاسقین پر۔۔۔ یعنی جو صحیح راستہ چھوڑ کر غلط راہوں پر چل نکلیں۔ کبھی کامیابیوں کی راہ کشادہ نہیں ہوتی۔
مال اور جان خُدا کے
مومن کی تو کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنا مال اور جان‘ سب خدا کے ہاتھ بیچ دیے ہوتے ہیں۔ جس دن وہ خدا پر ایمان لاتا ہے خدا اس معاہدہ کا اعلان کر دیتا ہے کہ: إِنَّ اللّہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ -(9:111) سُن رکھو کہ اللہ نے مومنین کا جان اور مال‘ جنت کے عوض خرید لیا ہے۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ: یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ-(9:111) وہ خدا کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ پھر یا تو فاتح و منصور واپس لوٹتے ہیں اور یا میدانِ جنگ میں جان دے دیتے ہیں۔
مومنین کی صفات
ان مومنین کی صفات یہ ہیں کہ التَّاءِبُونَ۔ سفر حیات میں وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ ان کا قدم غلط سمت کی طرف اٹھ گیا ہے‘ وہ وہیں رُک جاتے ہیں اور جہاں سے قدم غلط اٹھا تھا وہاں واپس آکر صحیح راستے پر ہو لیتے ہیں۔ الْعَابِدُونَ۔ وہ قوانینِ خداوندی کی پوری پوری اطاعت کرتے ہیں۔ الْحَامِدُونَ۔ وہ انفس و آفاق کی ہر شے پر غور و فکر کرنے کے بعد علیٰ وجہ البصیرت اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کارگہ کائنات کی ایک ایک شے اپنے خالق کی حمد و ستائش کی منہ بولتی تصویر ہے۔ السَّاءِحُونَ۔ وہ اس مقصد کے لئے دنیا بھر کا سفر کرتے ہیں۔ الرَّاکِعُونَ السَّاجِدونَ۔ وہ ہمیشہ قانونِ خداوندی کے سامنے جھکے رہتے ہیں اور دل کے پورے جھکاؤ سے‘ اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ الآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاہُونَ عَنِ الْمُنکَرِ وہ ان باتوں کا حکم دیتے ہیں جنہیں قانونِ خداوندی صحیح تسلیم کرتا ہے اور ان سے روکتے ہیں جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّہِ۔ وہ ان تمام حدود کی نگہداشت کرتے ہیں جنہیں قانون خداوندی نے متعین کیا ہے‘ اور ان کے اندر رہتے ہوئے صحیح آزادی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ -(9:112) یہ ہیں وہ مومن جن کے لئے دنیا اور آخرت کی زندگی کی خوشگواریوں کی بشارتیں ہیں۔
مردوں اور عورتوں دونوں کی خصوصیات
یہ ہیں مختصر الفاظ میں‘ وہ صفات جن کے حامل انسان کو مومنؔ کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ان تمام صفات میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ قرآنِ کریم میں مومن کی کوئی ایک خصوصیت بھی ایسی نہیں جو صرف مردوں کے لئے مخصوص ہو اور اس میں عورتیں شامل نہ ہوں۔ اگرچہ خود لفظ ’’مومنین‘‘ کے اندر مرد اور عورتیں ازخود شامل ہیں لیکن قرآنِ کریم نے ایک مقام پر مومن مردوں اور مومن عورتوں کا ذکر اس طرح شانہ بشانہ کیا ہے کہ مصافِ زندگی میں دونوں‘ ایک ہی صف میں‘ ساتھ ساتھ چلتے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ سورۂ احزاب کی آیت (33:35) کو دیکھئے۔ اس میں کس وضاحت اور صراحت سے کہا گیا ہے کہ اگر مردوں میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ قانونِ خداوندی کی اطاعت سے اپنی تکمیلِ ذات کر سکتے ہیں تو عورتوں میں بھی اس کی صلاحیت ہے (الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ) اگر مرد اس پارٹی (جماعت) کے رکن بن سکتے ہیں جو خدا کے قانون کے اٹل نتائج پر یقین رکھتے ہوئے امنِ عالم کی ذمہ دار ہو تو عورتیں بھی اس جماعت کی اسی طرح رکن ہو سکتی ہیں (الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ) اگر مردوں میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی استعداد کو اس طرح سنبھال کر رکھیں کہ ان کا استعمال صرف قانونِ خداوندی کے مطابق ہو تو یہی صلاحیت عورتوں میں بھی ہے (وَالْقَانِتِیْنَ وَالْقَانِتَاتِ) اگر مرد اپنے دعوٰئے ایمان کو اعمال سے سچ کر دکھانے کے اہل ہیں تو عورتیں بھی اس کے اہل ہیں (وَالصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقَاتِ) اگر مرد ثابت قدم رہ سکتے ہیں تو عورتیں بھی رہ سکتی ہیں (وَالصَّابِرِیْنَ وَالصَّابِرَاتِ) اگر مرد اس خصوصیت کے حامل ہو سکتے ہیں کہ جوں جوں ان کی صلاحیتیں بڑھتی جائیں وہ شاخ ثمردار کی طرح قانونِ خداوندی کی اطاعت میں اور جھکتے چلے جائیں تو یہی خصوصیت عورتوں میں بھی ہے۔ (وَالْخَاشِعِیْنَ وَالْخَاشِعَاتِ) اگر مردوں میں ایثار کا مادہ ہے تو عورتوں میں بھی ہے (وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ) اگر مرد اپنے آپ پر ایسا کنٹرول رکھ سکتے ہیں کہ انہیں جہاں سے روکا جائے وہ رک جائیں‘ تو عورتوں میں بھی اس کی صلاحیت ہے (وَالصَّاءِمِیْنَ وَالصَّاءِمَاتِ)۔ اگر مرد! اپنے جنسی میلانات کو ضوابط کی پابندی میں رکھ سکتے ہیں تو عورتیں بھی ایسا کر سکتی ہیں (وَالْحَافِظِیْنَ فُرُوجَہُمْ وَالْحَافِظَاتِ)۔ اگر مرد قانونِ خداوندی کو شعوری طور پر سمجھنے اور اسے ہر وقت پیشِ نظر رکھنے کے اہل ہیں تو عورتوں میں بھی اس کی اہلیت ہے (وَالذَّاکِرِیْنَ اللَّہَ کَثِیْراً وَالذَّاکِرَاتِ) جب یہ صلاحیتیں دونوں میں موجود ہیں تو ان کے نتائج بھی دونوں کے لئے یکساں طور پر موجود ہونے چاہئیں۔فلہٰذا نظامِ خداوندی میں دونوں کے لئے حفاظت کا سامان اور اجرِ عظیم موجود ہے ( أَعَدَّ اللَّہُ لَہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً)۔ سورۂ توبہؔ میں مومنین کی جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے (اور جنہیں پہلے بیان کیا جا چکا ہے) ان میں ایک صفت السائحون بھی ہے۔ یعنی دنیا کا سفر‘ یا سیر و سیاحت‘ کرنے والے۔ عورت کے متعلق جو نظریہ ہمارے ذہنوں میں راسخ ہے‘ اس کے پیشِ نظر خیال گزر سکتا تھا کہ کم از کم اس صفت میں مومن عورتیں شریک نہیں ہوں گی۔ قرآنِ کریم نے سٰئحٰت -(66:5) کا ذکر خاص طور پر کر کے‘ اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کر دیا اور اس کی وضاحت کر دی کہ اس صفت میں بھی مومن عورتیں مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔
***
اقامتِ صلوٰۃ و ایتائے زکوٰۃ
یہ ہیں وہ صفات و خصائص جن کے حامل افراد سے قرآن وہ امت تشکیل کرتا ہے جو تمام عالم انسانیت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاء عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً -(2:143) اس طرح ہم نے تمہیں ایک مرکزی امت بنا دیا۔ تاکہ تم عالم انسانیت کے اعمال کی نگرانی کرو (کہ وہ حق و انصاف پر قائم رہیں) اور تمہارا رسول تمہارے اعمال کی نگرانی کرے کہ تم نظامِ خداوندی کے مطابق چلتے رہو۔ دوسری جگہ ہے: کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔-(3:110) تم ایک بہترین قوم ہو جسے نوعِ انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔۔۔ یہ بھلائی کیا ہے؟ یہ کہ: تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ -(3:110) تم ان باتوں کا حکم دیتے ہو جنہیں وحی خداوندی مستحسن قرار دیتی ہے اور ان سے روکتے ہو جنہیں وہ ناپسندیدہ ٹھہراتی ہے۔ یعنی یہ لوگ (مومنین) پہلے اپنی زندگی وحئ خداوندی کے قالب میں ڈھالتے ہیں۔ پھر ایسا نظام قائم کرتے ہیں جس سے دوسرے لوگ بھی وحی کا اتباع کرتے جائیں۔۔۔ اسے قرآن کی اصطلاح میں نظامِ صلوٰۃ کہتے ہیں اور مقصد اس تگ و تاز سے یہ ہے کہ تمام افرادِ انسانیہ کو وہ ذرائع اور سامان میسر آتا رہے جس سے اس کی طبیعی زندگی اور ذات کی نشوونما ہوتی چلی جائے۔ اسے ایتائے زکوٰۃ کہتے ہیں۔ یعنی نوعِ انسان کو سامانِ نشوونما بہم پہنچانا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں جماعتِ مومنین کے ان ہر دو فرائض (ذمہ داریوں) کو بار بار دہرایا گیا ہے۔۔۔ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ -(9:71) حتیٰ کہ ان کی مملکت اور حکومت کی غرض و غایت بھی یہی بتائی گئی ہے۔ سورۂ حج میں ہے۔ الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِ -(22:41) یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر انہیں ملک میں اختیار و اقتدار حاصل ہو گیا تو یہ نظامِ صلوٰۃ قائم کریں گے اور نوعِ انسان کی نشوونما کا انتظام کریں گے۔ ان باتوں کا حکم دیں گے جنہیں قرآن صحیح تسلیم کرتا ہے اور ان سے روکیں گے جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے اور ان کے تمام معاملات منشائے خداوندی کے مطابق طے ہوں گے۔ اس مقام پر‘ ایک نکتہ کی وضاحت ضروری نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ خیال عام کیا جاتا ہے کہ اسلام میں‘ عورتوں کو نظامِ مملکت میں شریک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظریہ قرآنِ کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔ جو آیت ابھی ابھی آپ کے سامنے آئی ہے اس میں اسلامی حکومت کا فریضہ
امر بالمعروف و نہی عن المنکر بتایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر اس کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ یہ فریضہ مردوں اور عورتوں دونوں کا ہے۔ تنہا مردوں کا نہیں۔ سورۂ توبہ میں ہے۔ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ۔۔۔ -(9:71) مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ان کا فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
شمشیر زن مومن
بہرحال‘ کہا یہ جا رہا تھا کہ جماعتِ مومنین کا فریضہ ہے کہ وہ دنیا سے برائیوں کی روک تھام کا انتظام کریں۔ لیکن یہ روک تھام اندھی قوت کے زور سے نہیں ہو گی۔ وہ بھلائیوں کو اس قدر عام کرتے چلے جائیں گے کہ برائیاں خود بخود اپنی جگہ چھوڑتی جائیں‘ جس طرح تاریکی دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ روشنی لے آیئے۔ وَیَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّءَۃَ -(28:54) البتہ جو لوگ نظام حق و صداقت کے خلاف سرکشی پر اتر آئیں اور ظلم و استبداد سے کسی طرح باز ہی نہ آئیں‘ تو خلقِ خدا کو ان کے جور و ستم سے محفوظ رکھنے کے لئے‘ قوت کا استعمال ناگزیر ہو گا۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج-(57:25) ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا کہ وہ لوگوں کو علم و بصیرت کی رُو سے حق کی دعوت دیں۔ پھر ان کے ساتھ ضوابط قانون بھی نازل کئے کہ دنیا میں عدل قائم رکھا جا سکے۔ لیکن جو لوگ نہ دلائل و براہین کی رو سے مانیں۔ نہ قانونِ عدل و انصاف کی پابندی اور احترام کریں‘ تو ان کے لئے: وَأَنزَلْنَا الْحَدِیْدَ -(57:25) ہم نے شمشیرِ خاراشگاف بھی نازل کی ۔ جماعتِ مومنین‘ شمشیر کا استعمال مظلوم کی حمایت اور ظالم کے ظلم کی مدافعت کے لئے کرتی ہے۔
تعاون
اس مقصد کے لئے اگر دنیا کی کوئی اور قوم کسی قسم کی کوشش کرتی ہے تو جماعتِ مومنین ان کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ لیکن غلط کاموں میں کسی کا ساتھ نہیں دیتی۔ وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ -(5:2) ان کا شعار ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ: مَّن یَشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَکُن لَّہُ نَصِیْبٌ مِّنْہَا وَمَن یَشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّءَۃً یَکُن لَّہُ کِفْلٌ مِّنْہَا -(4:85) جو کسی اچھے کام میں دوسرے کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی خوشگوار نتائج میں اس کا بھی حصہ ہوتا ہے اور جو کسی خراب کام میں کسی کا ساتھ دیتا ہے‘ تو اس کے مضر نتائج کی ذمہ داری اس پر بھی عائد ہوتی ہے۔
ربط باہمی
یہ ہیں وہ بلند مقاصدِ حیات جن کے لئے جماعتِ مومنین کے افراد ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے‘ زندگی کی متلاطم ندیوں کو ’’مردانہ وار‘‘ پار کئے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ انہیں تعلیم ہی یہ دی گئی ہے کہ: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ-(3:200) تم اپنے مسلک پر نہایت استقامت سے جمے رہو اور ایک دوسرے کی استقامت کا موجب بنو۔ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ کر رہو اور ہر قدم پر قانونِ خداوندی کی نگہداشت کرو۔ یہی وہ روش ہے جس سے تمہیں سفرِ حیات میں کامیابی حاصل ہو گی۔ اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر‘ کَأَنَّہُم بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ-(61:4) گویا ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے کہ حوادثِ زمانہ کی سرکش موجیں اس سے آکر ٹکرائیں تو اپنا سر پھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں ان کے اس ارتباطِ باہمی اور باہمدگر پیوستگی کا ذریعہ‘ تمسک بالقرآن (خدا کی کتاب کے ساتھ وابستگی) ہوتا ہے کہ ان سے کہا گیا ہے کہ: وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ -(3:103) تم خدا کی کتاب کے ساتھ‘ سب کے سب مل کر‘ پوری مضبوطی سے وابستہ رہو اور آپس میں تفرقہ پیدا مت کرو۔ اس لئے کہ باہمی تفرقہ۔۔۔ امت کا فرقوں میں بٹ جانا۔۔۔ توحید نہیں‘ شرک ہے۔
تفرقہ شرک ہے
وَلَا تَکُونُوا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَO مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوا دِیْنَہُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْْہِمْ فَرِحُونَ -(30:31) دیکھنا! تم کہیں (اسلام لانے کے بعد پھر) مشرک نہ بن جانا۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے دین میں فرقے پیدا کر لئے اور خود بھی ایک گروہ بن گئے۔ اس سے کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ ہر فرقہ سمجھتا ہے کہ میں حق پر ہوں (اور باقی سب باطل پر ہیں) اور یوں امت کی اجتماعیت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔
نزولِ ملائکہ
اس کے برعکس امت کی وحدت اور استقامت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر رحمتوں کے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ جو انہیں دنیا اور آخرت میں زندگی کی خوشگواریوں کی بشارتیں دیتے ہیں۔ إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَاءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ۔ یہ واقعہ ہے کہ جو لوگ اس حقیقت پر ایمان لاتے ہیں کہ ہمارا نشوونما دینے والا اللہ ہے اور پھر اس دعویٰ پر جم کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ کسی قسم کا خوف کھاؤ۔ نہ افسردہ خاطر ہو اور اس جنتی زندگی کی خوشخبری لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ۔ ہم دنیا میں بھی تمہارے رفیق اور ساتھی ہیں اور آخرت کی زندگی میں بھی۔ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ أَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُونَ۔ -(41:30-31) تمہیں‘ دنیا اور آخرت میں‘ جو تمہارا جی چاہے گا ملے گا۔ جو مانگو گے‘ پاؤ گے۔ ہر قسم کی سربلندیاں اور سرفرازیاں تمہارے حصے میں آئیں گی اور یہ سب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوں گی۔۔۔ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ أُورِثْتُمُوہَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُون-(7:43) یہ وہ جنت ہے جس کے تم‘ اپنے اعمال کی وجہ سے‘ مالک بنائے گئے ہو۔
نیکی کا صحیح مفہوم
یہ ہیں وہ خصوصیات جن کے حامل انسانوں کو مومنؔ کہا گیا ہے۔ انہیں زندگی کی جن خوشگواریوں اور سربلندیوں کی بشارت دی گئی ہے‘ وہ انہی خصوصیات کا فطری نتیجہ ہوتی ہیں۔ محض مومنؔ کہلانے اور مسلمان نام رکھا لینے سے یہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ لَّیْْسَ بِأَمَانِیِّکُمْ وَلا أَمَانِیِّ أَہْلِ الْکِتَابِ-(4:123) یہ نتائج نہ تمہاری خوش فہمیوں سے حاصل ہو سکتے ہیں نہ ان اہلِ کتاب کی خالی تمناؤں سے۔ یہ تو صرف ان خصوصیات کے پیدا کرنے سے حاصل ہوں گے جنہیں مومنین کی صفات کہہ کر پکارا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کسی میں یہ خصوصیات موجود نہ ہوں‘ اور وہ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ جیسے ’’دینی اعمال‘‘ پر بھی محض میکانکی طور پر کاربند ہو‘ تو بھی یہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ: لَّیْْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔ نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف کرتے ہو یا مغرب کی طرف۔ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلآءِکَۃِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّیْنَ۔ اس کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ تم ان بلند حقیقتوں پر علیٰ وجہ البصیرت یقین رکھو جنہیں اجزائے ایمان کہا گیا ہے۔۔۔ یعنی خدا اور اس کے قانونِ مکافات پر ایمان۔ زندگی کے تسلسل پر ایمان۔ وحی کی رو سے دیئے ہوئے ضابطۂ قوانین پر ایمان۔ انبیاء اور ملائکہ پر ایمان۔۔۔ نیکی اس کی ہے جو ان حقیقتوں پر یقین محکم رکھے اور پھر وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآءِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ۔ مال و دولت کی محبت کے باوجود اسے دوسروں کی پرورش کے لئے دے دے۔ وہ رشتے دار ہوں یا ایسے لوگ جو معاشرہ میں تنہا رہ جائیں یا وہ لوگ جن کا چلتا ہوا کاروبار رک جائے یا ان میں کام کاج کی استطاعت نہ رہے۔ یا ایسے مسافر جو زادِ سفر سے محروم رہ جائیں یا وہ لوگ جن کی کمائی ان کی ضروریات کے لئے کافی نہ ہو یا وہ دوسروں کے پنجۂ استبداد میں گرفتار ہوں۔ ان مقاصد کے لئے مال و دولت کا پیش کر دینا یہ نیکی ہے۔ مختصر الفاظ میں نیکی یہ ہے کہ:
وَأَقَامَ الصَّلاۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ۔ ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں تمام افرادِ معاشرہ قوانینِ خداوندی کا اتباع کریں اس وقت فریضہ صلوٰۃ کی پابندی کریں اور نوعِ انسان کی پرورش کا سامان مہیا کریں۔ وَالْمُوفُونَ بِعَہْدِہِمْ إِذَا عَاہَدُواْ۔ نیکی ان کی ہے جو اپنے
عہد و پیمان کا احترام کریں اور قول اقرار کے پکے ہوں۔ وَالصَّابِرِیْنَ فِیْ الْبَأْسَاء والضَّرَّاء وَحِیْنَ الْبَأْسِ۔ اور جب مشکلات کا سامنا ہو تو نہایت ثابت قدمی سے ان کا مقابلہ کریں۔ أُولَءِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَأُولَءِکَ ہُمُ الْمُتَّقُونَ-(2:177) O یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دعویٰ ایمان کو اپنے اعمال سے سچا ثابت کر دکھاتے ہیں اور یہی ہیں وہ جو متقی کہلانے کے مستحق ہیں۔ نہ وہ جو محض رسمی طور پر نماز روزہ کی پابندی کر کے اس فریب میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم پکے مومن ہیں اور بڑے نیک کام کر رہے ہیں۔
خیرات کے کام
یہی نہیں۔ بلکہ ایسے خیراتی کام جنہیں عام طور پر ’’کارِخیر‘‘ سمجھا جاتا ہے‘ وہ بھی نظامِ خداوندی کے قیام کے لئے جدوجہد کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سورۂ توبہ میں ہے: أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَجَاہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ حاجیوں کے لئے سبیلیں لگا دینے والا یا خانہ کعبہ کی زیبائش و آرائش اور آباد کاری کے کاموں میں حصہ لینے والا‘ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو خدا اور اس کے قانونِ مکافات اور حیاتِ اخروی پر ایمان رکھے اور نظامِ خداوندی کے قیام کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا رہے!تم اپنی خوش عقیدگی کی بناء پر کچھ ہی کیوں نہ سمجھو۔ لاَ یَسْتَوُونَ عِندَ اللّہِ۔ میزانِ خداوندی میں یہ دونوں کبھی ہم وزن نہیں ہو سکتے۔ ایسا سمجھنا بڑی زیادتی ہے۔ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْن-(9:19) O اور خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ اس قسم کی زیادتی کرنے والوں پر کامیابی کی راہیں کبھی نہیں کھلا کرتیں۔ یہودیوں کے متعلق قرآن نے کہا ہے کہ وہ اسی قسم کی خود فریبی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے معاشرہ کا نظام ایسا قائم کر رکھا تھا جس میں کمزور‘ غریب‘ ناتواں افراد‘ اپنا گھر بار چھوڑ کر باہر نکل جانے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ جب وہ اس طرح باہر نکل کر‘ غیر محفوظ ہو جاتے اور دوسروں کے چنگل میں پھنس جاتے تو پھر وہی ان کے ابنائے وطن‘ جن کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر وہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے‘ خیرات کے پیسوں سے ان کا فدیہ ادا کرتے اور سمجھتے کہ ہم بڑا ثواب کا کام کر رہے ہیں۔ وَہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْْکُمْ إِخْرَاجُہُمْ-(2:85) حالانکہ ایسا نظام قائم کرنا جس میں معاشرہ کے غریب اور کمزور افراد‘ مظلومیت کا شکار ہو جائیں‘ ایسا جرمِ عظیم ہے جس کا کفارہ اس قسم کے خیرات کے کام کبھی نہیں بن سکتے۔ جماعتِ مومنین اس قسم کی خود فریبی کا شکار نہیں ہوتی۔ وہ نظام ایسا قائم کرتے ہیں جس میں اس قسم کے انفرادی خیراتی کاموں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ قرآن تسلیم کرتا ہے کہ اہلِ کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انفرادی طور پر دیانتدار ہیں لیکن اس کے باوجود وہ انہیں نظامِ خداوندی کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لئے کہ ان کا نظامِ معاشرہ اس قسم کا ہوتا ہے جس میں ان کی انفرادی نیکیاں خوشگوار نتائج پیدا نہیں کر سکتیں۔ دیکھئے قرآن اس حقیقت کو کیسے واضح اور بلیغ انداز میں پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ: وَمِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْہُ بِقِنطَارٍ یُؤَدِّہِ إِلَیْْکَ وَمِنْہُم مَّنْ إِن تَأْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لاَّ یُؤَدِّہِ إِلَیْْکَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْْہِ قَآءِماً۔ ان اہلِ کتاب میں وہ بھی ہے جس کے پاس اگر چاندی سونے کا ڈھیر بھی بطور امانت رکھ دیا جائے تو وہ اسے جوں کا توں واپس کر دے اور ایسا بھی کہ اگر اس پر ایک روپے کا بھی اعتماد کرو تو وہ اسے کبھی واپس نہ کرے بجز اس کے کہ تم اس کے سر پر ڈنڈا لے کر سوار رہو۔ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُواْ لَیْْسَ عَلَیْْنَا فِیْ الأُمِّیِّیْنَ سَبِیْلٌ۔ یہ اس لئے کہ ان کا نظامِ معاشرہ قومی عصبیت کی بنیادوں پر قائم ہے جس میں یہ عقیدہ دل کی گہرائیوں میں راسخ کر دیا جاتا ہے کہ تم دوسری اقوام کے لوگوں کے ساتھ جو جی میں آئے کرو۔ اس سے تم پر کوئی الزام نہیں ہو گا اور تماشا یہ کہ ان کے مذہبی پیشوا انہیں یہ بتاتے ہیں کہ یہ شریعتِ خداوندی کے عین مطابق ہے حالانکہ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُونَ-(3:74) O یہ خدا کے خلاف صریح کذب و افترا ہے اور ایسا کہنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔
قرآنِ کریم نے مثال تو یہودیوں کی دی ہے کہ وہ ایسا معاشرہ قائم کرتے تھے جس میں ان کے کمزور اور غریب بھائی گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور ہو جائیں اور اس طرح جب وہ دوسروں کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے تھے تو انہیں چھڑانے کے لئے فنڈ اکٹھا کرتے تھے اور اسے بڑا ثواب کا کام سمجھتے تھے لیکن اس سے اس نے اصول بہت بلند پیش کیا ہے یعنی ایسا معاشرہ قائم کرنا جس میں غریب لوگ محتاج سے محتاج تر ہوتے جائیں اور اس کے بعد ان کی طرف خیرات کے چند ٹکے پھینک کر یہ سمجھنا کہ ہم نے بڑا ثواب کا کام کیا ہے جرمِ عظیم ہے: فَمَا جَزَاء مَن یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرَدُّونَ إِلَی أَشَدِّ الْعَذَابِ۔۔۔-(2:85) جو قوم بھی ایسا کرے گی اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہو گی اور آخرت میں بھی سخت عذاب کی مستحق۔
***
مومن اور مسلم کا فرق
المختصر‘ یہ ہیں وہ خصوصیات جن کے حاملین کو مومنؔ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے مومن اور مسلمؔ کے الفاظ اکثر مقامات پر ہم معنی استعمال کئے ہیں لیکن ایک جگہ ایسی تشریح بھی کی گئی ہے جس سے‘ بعض گوشوں میں‘ ان دونوں کا فرق سامنے آجاتا ہے۔ سورۂ حجرات میں ہے: قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا۔ یہ بدوی قبائل‘ جو اسلامی مملکت کے قیام کے بعد‘ مسلمان ہوئے ہیں‘ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں۔ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِن قُولُوا أَسْلَمْنَا۔ ان سے کہو کہ یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور اس طرح مومن بن گئے ہیں بلکہ یہ کہو کہ ہم اس مملکت کے سامنے جھک گئے ہیں: وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیْمَانُ فِیْ قُلُوبِکُمْ۔ ابھی تک ایمان تمہارے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔۔۔ (49:14)۔ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَجَاہَدُوا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ أُوْلَءِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ-(49:15) O مومن کہلانے کے مستحق وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر‘ دل کی کامل رضامندی سے ایمان لاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں کسی قسم کے شک و شبہ کا گزر تک نہیں ہوتا۔ پھر وہ‘ اپنی جان اور مال سے‘ خدا کی راہ میں جہاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہیں وہ جو اپنے دعوےٰ ایمان میں سچے ہوتے ہیں۔
نفسیاتی تبدیلی
اس سے ہمارے سامنے مسلم اور مومن کا فرق آجاتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ مسلم وہ ہے جس سے احکامِ خداوندی کی اطاعت‘ قانون کے ذریعے جبراً کرائی جاتی ہے اور ان احکام کی اطاعت کا جذبہ جس کے دل کی گہرائیوں سے ابھرتا ہے اسے مومنؔ کہتے ہیں۔ مومن کی ذات (Personality) کی نشوونما اس طرح ہو جاتی ہے کہ وہ تمام صفات و خصوصیات جن کا ذکر گزشتہ اوراق میں کیا گیا ہے‘ اس کے مختلف گوشے (Facets) بن جاتے ہیں‘ اس لئے وہ ان صفات کا فطری مظہر ہوتا ہے‘ جس طرح سورج‘ روشنی اور حرارت کا فطری مظہر ہے۔ اسلامی معاشرہ کے اندر اگر ’’مسلم‘‘ ان قوانین کی اطاعت سے ان کے اثرات کو اپنے دل میں جذب کرتا جاتا ہے‘ اور یوں اس کی ذات کی نشوونما ہوتی چلی جاتی ہے۔ تو وہ بھی مقامِ مومن تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے جہاں اعرابؔ سے کہا گیا کہ وہ ابھی اپنے آپ کو مومنؔ نہ کہیں کیونکہ ہنوز ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا‘ وہاں ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ: وَإِن تُطِیْعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ لَا یَلِتْکُم مِّنْ أَعْمَالِکُمْ شَیْْئاً إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ-(49:14) O اگر تم نظامِ خداوندی کی اطاعت کرتے جاؤ گے تو تمہارے اعمال میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ انکے نتائج مرتب ہوتے چلے جائیں گے۔ اس طرح تخریبی عناصر سے تمہاری ذات کی حفاظت ہو جائے گی اور اس کی نشوونما کا سامان بھی تمہیں ملتا جائے گا۔ بشرطیکہ تم نے یہ اطاعت‘ محض رسمی طور پر نہ کی۔ اگر ایسا کرو گے تو مسلم کے مسلم ہی رہو گے۔ مومن نہیں بن سکو گے اسلامی نظام درحقیقت‘ اس تبدیلی سے قائم ہوتا ہے جو جماعتِ مومنین کے قلب میں پیدا ہوتی ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی تبدیلی کے بغیر‘ نظامِ خداوندی متشکل ہی نہیں ہو سکتا۔ إِنَّ اللّہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ(13:11)۔۔۔ یعنی خدا کسی قوم کی حالت میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک اس قوم کے اندر نفسیاتی تبدیلی نہ پیدا ہو جائے۔۔۔ یہ ایسی سنت اللہ (خدا کا اٹل قانون) ہے جس میں کبھی تغیر نہیں ہوتا۔ جماعتِ مومنین‘ اسی نفسیاتی تبدیلی کا مظہر ہوتی ہے اور یہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے اس قرآن کے مطابق زندگی بسر کرنے سے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ ؂
چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود
جاں چوں دیگر شد جہاں دیگر شود
(یہ قرآن) جب ’’جان‘‘ کے اندر (سرایت کر) جاتا ہے تو ’’جان‘‘ وہ جان نہیں رہتی اَور ہو جاتی ہے۔ جب ’’جان‘‘ اور ہو جاتی ہے تو جہان بھی اَور ہو جاتا ہے۔ (ترجمہ از سلیم)
اس حقیقت کو ایک بار پھر سمجھ لینا چاہئے کہ یہ بات قرآن کریم کی صحیح تعلیم اور اس کے مطابق تربیت سے پیدا ہوتی ہے ایک چیز ہے اسلام کی دعوت کا فکری طور پر سمجھنا اور اس طرح ذہنی طور پر اس کی صداقت کا معترف ہو جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے‘ کہ انسان کے دماغ میں اس دعوت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا نہیں ہوتے اور اس کے خلاف منطقی دلائل اور فلسفیانہ اعتراضات اسے ڈگمگا نہیں دیتے لیکن ایمان کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے‘ جب اس دعوت کے کسی تقاضے (یعنی مستقل قدر) اور انسان کی طبیعی زندگی کے کسی تقاضے میں (خواہ وہ محض جذباتی بات ہو یا محسوس مفاد کا سوال) تصادم ہو اور وہ طبیعی زندگی کے تقاضے پر‘ مستقل قدر کے تقاضے کو ترجیح دے۔ یہ ہے وہ ایمان جو دل کی گہرائیوں میں جاگزیں ہوتا ہے۔ اسی کے حاملین کو مومن کہتے ہیں جن کے متعلق خدا کا ارشاد ہے کہ: أُولَءِکَ عَلَیْْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ وَأُولَءِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ-(2:157) O
میں اس حقیقت کو پھر دہرا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ ابھی ابھی کہا ہے اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ قرآنِ کریم نے مومن اور مسلم میں مستقل طور پر یہ تفریق کی ہے۔ بالکل نہیں۔ اس نے مومن اور مسلم کے الفاظ مرادف معنوں میں بھی استعمال کئے ہیں اور مومنوں کی عظیم ترین شخصیتوں۔۔۔ حتیٰ کہ حضرات انبیاء کرامؑ منجملہ نبی اکرمﷺ۔۔۔ کو مسلمؔ کہہ کر پکارا ہے۔ اس نے فرق یہ بتایا ہے کہ جو لوگ کسی مصلحت کی خاطر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں یا محض مسلمانوں کے گھر پیدا ہو جانے سے مسلمان کہلائیں۔ انہیں اپنے آپ کو مومن نہیں کہنا چاہئے تاآنکہ ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں پیوست نہ ہو جائے۔ ورنہ‘ عام معنوں میں‘ مومن اور مسلم دونوں وہ ہیں: مَنْ أَسْلَمَ وَجْہَہُ لِلّہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہُ أَجْرُہُ عِندَ رَبِّہِ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ(2:112) O جنہوں نے اپنی تمام خواہشات اور توجہات کو قوانینِ خداوندی کے تابع رکھا اور اس طرح نہایت متوازن زندگی بسر کی۔ سو اس کے اعمال کا اجر اس کے نشوونما دینے والے کے پاس ہے اور اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ انہیں نہ کسی قسم کا خوف ہو گا نہ حزن۔ لہٰذا‘ مومن اور مسلم وہ ہے جسے نہ خارج سے کسی قسم کے خطرہ کا خوف ہو اور نہ داخلی طور پر اس کے دل میں یاس و حزن کا گزر ہو۔ یہ ہے مقامِ مومن اور اندازِ مسلم۔ علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں ؂
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں‘ کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان قیامت میں بھی میزان
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
(ضربِ کلیم)

4,736 total views, no views today

(Visited 1,980 times, 21 visits today)

قُربانی ۔ پرویز – اِدارہ طلوعِ اِسلام

طلوعِ اِسلام میں قربانی کے متعلق جو کچھ شائع ہوتا رہا‘ قارئین کی نظروں سے گذر چکا ہے۔ اس کے جواب میں جو کچھ دیگر جرائد و رسائل میں شائع ہوا وہ بھی انہوں نے دیکھ لیا ہو گا۔ جب یہ چیزیں ہمارے سامنے آئی تھیں تو ہم نے محسوس کیا تھا کہ اس موضوع پر ذرا تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ پھر قربانی کی عید قریب آرہی ہے‘ اس مسئلہ سے متعلق استفسارات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سے تفصیلی گفتگو کی اہمیت اور بھی نمایاں طور پر سامنے آگئی ہے۔
پہلے یہ متعین کر لیجئے کہ مسئلہ زیر غور کیا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ:
(i) حج کے موقع پر حاجی مکہ معظمہ میں جانور ذبح کرتے ہیں جسے قربانی کہا جاتا ہے۔
(ii) ایک ایک حاجی متعدد جانور ذبح کرتا ہے۔ ان جانوروں کو گڑھے کھود کھود کر دبانا پڑتا ہے۔
(iii) عید کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان اپنی اپنی جگہ پر جانور ذبح کرتے ہیں۔ اسے بھی قربانی کہا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بات کا حکم قرآن کریم سے بھی ملتا ہے یا یہ چیزیں یونہی رسماً چلی آرہی ہیں؟
***
اصل سوال تک پہنچنے سے پہلے‘ ایک چیز تمہیداً عرض کر دینا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں‘ مختلف وجوہات کی بنا پر صورت یہ پیدا ہو چکی ہے کہ آپ ’’مذہب‘‘ سے متعلق کوئی بات‘ فلسفہ‘ منطق‘ تصوف‘ تفاسیر‘ روایات وغیرہ میں سے کسی کے حوالہ سے بھی کریں‘ اس پر کوئی معترض نہیں ہو گا لیکن جہاں آپ نے کسی موضوع کے متعلق یہ کہا کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ قرآن اس کی بابت کیا کہتا ہے تو اس کے سنتے ہی اس قسم کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں گویا آپ نے الحاد اور بے دینی کی کوئی بدترین بات کہہ دی۔ ہم ’’مذہب‘‘ کے معاملہ میں یہودیوں کے افسانے‘ قصہ گوؤں کی داستانیں‘ یونانی فلسفہ کی قیاس آرائیاں‘ مجوسیوں کی آتش نوائیاں‘ ویدانت کے مہلات‘ برہمو سماجی قسم کے خرافات‘ حتیٰ کہ کسی مجذوب کی بڑ تک سننا تو گوارا کر لیں گے اور ان لغویات میں معانی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن جونہی کسی نے کہا کہ آؤ دیکھیں‘ اس بارے میں قرآن کی کیا تعلیم ہے‘ تو ہم کوشش کریں گے کہ کوئی اس کی سننے نہ پائے‘ کیونکہ اس سے ایمان کی خرابی کا خطرہ اور عاقبت برباد ہو جانے کا اندیشہ محسوس ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم متعدد بار لکھ چکے ہیں‘ یہ نتیجہ ہے اس منظم سازش کا جسے عجمی عناصر‘ اسلام سے اپنا انتقام لینے کے لئے‘ روبعمل لائے اور جس سے ہوا یہ کہ (اقبال کے الفاظ میں)
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امّت روایات میں کھو گئی
رفتہ رفتہ مسلمانوں کو قرآن سے اس قدر چِڑ ہو گئی کہ ان کے نزدیک خالص قرآن کی طرف دعوت‘ الحاد اور زندیقیت کے مرادف قرار پا گئی۔ اس سے بڑا انقلاب سورج کی آنکھ نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ ایسی کامیاب سازش آسمان کے تاروں کی نگاہوں سے گذری ہو گی کہ جس کی رو سے ایک قوم اپنی آسمانی کتاب پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھے لیکن جب یہ کہا جائے کہ اپنے معاملات میں اس کتاب کو حَکم قرار دو تو ایسا کہنے والے کو گردن زدنی اور کشتنی قرار دے دیا جائے۔ ہماری بدقسمتی سے ہزار برس سے ہماری مساجد کے منبر اور خانقاہوں کے حجرے‘ نادانستہ طور پر اس سازش کی آماجگاہ بنے چلے آرہے ہیں اور اپنی سادہ لوحی سے اس سازش کو محکم سے محکم تر بنانے کی ہر کوشش کو ’’دین کی خدمت‘‘ تصور کر کے امت سے اس کے اجر کا مطالبہ کرتے ہیں اور فریب خوردہ امت اس مطالبہ کے پورا کرنے میں سعادتِ دارین محسوس کرتی ہے۔ اس قسم کی سادہ لوحی کی مثال تاریخ کے صفحات میں شاید ہی کہیں اور مل سکے۔
بناء بریں جو لوگ ابھی تک (دانستہ یا نادانستہ) اس سازش کے علمبردار یا اس کے دامِ فریب میں گرفتار ہیں‘ ان سے تخاطب بیکار ہے۔ لیکن جو سعید روحیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو قیامت تک محفوظ رکھنے کا ذمہ اس لئے لیا تھا کہ اسے قیامت تک مسلمانوں کا ضابطۂ حیات بننا تھا‘ ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ قرآن کا اس باب میں کیا حکم ہے اس تفصیلی گفتگو کا محرک یہی جذبہ ہے۔
***
سوال آپ کے سامنے آچکا۔ اب دیکھئے کہ اس باب میں قرآن کیا کہتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ قرآن نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے لئے کہیں ’’قربانی‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ نہ ہی اس نے اسے خاص طور پر قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔1؂ یہ تصور کہ جانوروں کے خون بہانے سے خدا خوش ہو جاتا ہے اس لئے قربانی وجۂ تقربِ خداوندی ہوتی ہے‘ غیر قرآنی تصور ہے۔ آج ہمارے ہاں قربانی کے ساتھ یہی تصور وابستہ ہے اور یہ اسی سازش کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے اور جس نے اسلام جیسے زندگی بخش نظام حیات کو محض رسومات کا مجموعہ بنا چھوڑا ہے۔
قرآن جس تمدنی نظام (Social Order) کی تشکیل چاہتا ہے اس کا نقطۂ آغاز الصلوٰۃ ہے اور منتہیٰ حج۔ یعنی ملت کی چھوٹی چھوٹی وحدتوں (Units) کی صحیح تعمیر سے شروع کر کے‘ پوری کی پوری ملت کو ایک مرکزِ وحدانیت پر جمع کرنا‘ انہیں قوانینِ خداوندی کے مطابق چلانا اور اس کے بعد اس ضابطہ حیات کو ساری دنیا میں نافذ کرنے کا ذریعہ بنانا۔ حج‘ ملت کے اس عظیم القدر اجتماع کا نام ہے جس میں قرآنی نظام حیات کے پروگرام پر غور و خوض کر کے اسے نافذ العمل بنانے کی تراکیب کو سوچا جاتا ہے۔ اس اجتماع کا مرکز ’’بیت الحرام‘‘ (خانہ کعبہ) ہے جو ملتِ اسلامیہ کا مرکزِ محسوس ہے۔ اس عظیم الشان اجتماع کو کامیاب بنانے میں ہر کوشش مبارک اور ہر اقدام مسعود ہے۔ قرآن کریم میں جانوروں کے ذبح کرنے کا ذکر اسی اجتماع کے سلسلہ میں آیا ہے اور وہ آیات حسب ذیل ہیں۔ (ان آیات پر الگ الگ نمبر بھی دے دیئے گئے ہیں تاکہ آئندہ حوالہ میں سہولت ہو۔ نیز ان کا ترجمہ مروجہ ترجموں کے مطابق ہی کر دیا گیا ہے تاکہ یہ اعتراض نہ پیدا کر دیا جائے کہ ہم نے (خدانکردہ) اپنے مطلب کے مطابق معانی پیدا کرنے کے لئے ترجمہ کچھ سے کچھ کر دیا ہے)۔
سورۂ الحج میں ہے:
(1) وَاَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَاْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍO لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَی مَا رَزَقَہُم مِّن بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاءِسَ الْفَقِیْرَ -(22:27-28)
او ر لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز رستوں سے پہنچی ہونگی۔ تاکہ لوگ اپنے فوائد کے لئے آموجود ہوں اور تاکہ ایام مقررہ میں ان چوپاؤں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کئے ہیں۔ سو جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلاؤ۔
ان جانوروں کے متعلق آگے چل کر یوں ارشاد ہے۔
(2) لَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ اِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَا اِلَی الْبَیْْتِ الْعَتِیْقِ -(22:33)
ان جانوروں میں تمہارے لئے ایک مدتِ معینہ تک فائدہ اٹھانا ہے۔ اس کے بعد ان کے حلال کرنے کی جگہ بیت عتیق (خانہ کعبہ) کے قریب ہے۔
اس سے آگے ہے:
(3) وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُم مِّن شَعَاءِرِ اللَّہِ لَکُمْ فِیْہَا خَیْْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْْہَا صَوَافَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا فَکُلُوا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَلِکَ سَخَّرْنَاہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ -(22:36)
اور قربانی کے اونٹوں1؂ کو ہم نے اللہ کے دین کی یادگار 2؂ بنایا ہے ان جانوروں میں تمہارے لئے (اور بھی) فائدے ہیں۔ سو تم انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لیا کرو۔ پس جب وہ کسی کروٹ گر پڑیں تو تم خود بھی کھاؤ اور سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے محتاج کو بھی کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔
اور اس کے بعد ہے:
(4) لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُمْ کَذَلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ-(22:37)
اللہ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون۔ ولیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس پر جس کی اس نے تمہیں ہدایت کی ہے اور محسنین کے لئے بشارت ہے۔
یہ سورۂ حج کی آیات ہیں۔ انہیں دیکھئے اور پھر غور کیجئے کہ یہ مسئلہ پیش نظر کے متعلق کس قدر صاف اور واضح ہیں۔
آیت (1) میں سلسلۂ کلام کا آغاز ہی اعلانِ حج سے ہوتا ہے اور اسی ضمن میں فرمایا ہے کہ جانوروں کو ذبح کرو اور ان میں سے خود بھی کھاؤ اور حاجتمندوں کو بھی کھلاؤ۔
آیت (2) سے واضح ہے کہ یہ وہ جانور ہیں جن سے پہلے عام جانوروں کا کام لیا جاتا ہے۔ ان پر سواری کر کے یا بوجھ لاد کر‘ حج کے لئے آیا جاتا ہے اور پھر انہیں حج کی تقریب پر مکہ معظمہ میں ذبح کیا جاتا ہے۔
آیت (3) بھی آیت (2) کے مضمون کی تائید کر رہی ہے۔ یعنی ان جانوروں کے فوائد (خیر) اور اس کے بعد ذبح کر کے خود بھی کھانا اور محتاجوں کو بھی کھلانا۔ (ان کے شعائر اللہ ہونے کا بیان آگے چل کر آئے گا)۔
آیت (4) میں اس غلط تصور کا بطلان کیا گیا ہے جس کی رو سے سمجھا جاتا تھا کہ قربانی کی حیثیت افادی نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی ہے جو خون بہانے سے حاصل ہوتی ہے اس لئے قربانی کے جانور ذبح کر کے چھوڑ دینے چاہئیں۔ اس کے برعکس یہ واضح کر دیا گیا کہ ان جانوروں کے ذبح کرنے سے مقصود خون بہا کر خدا کو خوش کرنا نہیں بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ ان کا گوشت تمہارے اور دیگر ضرورتمندوں کے کام آئے۔ اللہ کے نزدیک قابل قدر چیز تمہارا تقویٰ ہے۔ تقویٰ کی تشریح اگلے الفاظ سے کر دی جن میں بتا دیا گیا کہ تمہارا مقصود حیات یہ ہے کہ جس ضابطۂ حیات کی طرف تمہاری راہنمائی کی گئی ہے اسے متشکل اور مستحکم کرو اور اس طرح دنیا میں قانونِ خداوندی کی عظمت اور کبریائی کو ثبت کر کے دکھا دو۔ اجتماع حج اسی مقصد کے حصول کی کڑی ہے اور یہ جانور اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کے خور و نوش کا ذریعہ بنتے ہیں۔
قرآن کی رو سے دنیا میں دو ہی قومیں ہیں۔ ایک وہ جو ضابطۂ خداوندی کے مطابق زندگی بسر کریں (مُسلم) اور دوسری وہ جو اس کے علاوہ دیگر ضوابط زندگی کو اپنا مسلک بنائیں (غیر مُسلم)۔ قرآن ان دونوں جماعتوں میں واضح اور غیر مبہم امتیازی خطوط قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں بآسانی پہچانے جا سکیں۔ چنانچہ ہر وہ عمل یا وہ شے جو اس قسم کی پہچان کرا سکے شعائر اللہ کہلاتی ہے۔ شعار اس خاص نشان کو کہتے ہیں جو جنگ میں استعمال کیا جائے تاکہ اس سے اپنے رفیق اور دوست پہچانے جا سکیں۔ حج تمام دنیا کے مسلمانوں کا مرکزی اجتماع اور یک قلبی اور یک نگہی کا عملی مظاہرہ اور ایک ضابطۂ قانون کے تابع زندگی بسر کرنے والوں کی تعارفی تقریب ہے۔ اس سے بڑا دوستوں اور رفیقوں کا اجتماع اور کونسا ہو سکتا ہے۔ اس لئے حج کے تضمنات (صفا و مرویٰ اور بُدن وغیرہ) کو خصوصیت سے شعائر اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورۂ مائدہ میں ہے:
(5) یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآءِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآءِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً -(5:2)
اے ایمان والو۔ بے حرمتی نہ کرو شعائر اللہ کی اور نہ حرمت والے مہینے کی‘ نہ حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں‘ اور نہ ان لوگوں کی جو بیت الحرام کے مقصد سے جا رہے ہوں اور اپنے رب کے فضل اور رضامندی کے طالب ہوں۔
چونکہ حج سے مقصود‘ دنیا میں قوانینِ خداوندی کا عملی نفاذ ہے‘ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نوع انسانی میں صحیح توازن پیدا ہو جائے گا اور اس طرح انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گی‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں بیت الحرام کو وجۂ قیام انسانیت قرار دیا ہے اس کے ساتھ ہی تضمنات کو بھی انہی الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا:
(6) جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَءِدَ۔۔۔ -(5:97)
اللہ نے کعبہ کو‘ جو کہ حرمت والا مکان ہے‘ لوگوں کے قیام کا باعث قرار دیا ہے اور عزت والے مہینے کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں۔
آیات نمبر 1 تا 4 کو پھر سے سامنے لایئے۔ ان سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ قرآن کی رو سے
ً (1) قربانی صرف حج کے موقع پر ہے۔
(2) قربانی کا مقام مکہ معظمہ ہے جہاں حج ہوتا ہے۔
(3) قربانی سے مقصود یہ ہے کہ ان جانوروں کا گوشت کھایا جائے۔
(4) یہ سمجھنا کہ جانور ذبح کرنے سے قرب الٰہی حاصل ہو جاتا ہے‘ غلط ہے۔
ان حقائق سے یہ واضح ہو گیا کہ:
(ا) حج کے علاوہ اور کسی تقریب پر قربانی کا ذکر نہیں۔
(ب) مکہ معظمہ کے علاوہ اور کسی مقام پر قربانی نہیں۔
(ج) جس جانور کا گوشت کھانے کے کام نہ آئے اُسے قربانی نہیں کہا جا سکتا
کیونکہ اس کا صرف خون بہایا گیا ہے اور خون اللہ تک نہیں پہنچتا۔ لہٰذا ایسا
کرنا اسراف ہے۔ یعنی بے نتیجہ اور بے مصرف ایک جانور کا ضائع کر دینا۔
فلہٰذا۔۔۔
(i) حج کی تقریب پر جانوروں کو ذبح کر کے مٹی میں دبائے جانا منشائے قرآن
کے یکسر خلاف ہے۔ اور
(ii) یہ جو عید کی تقریب پر دنیا بھر کے شہروں میں قربانیاں دی جاتی ہیں ان کا حکم
تو ایک طرف کہیں ذکر تک بھی قرآن میں نہیں۔ بلکہ یہ قرآن کے حکم کے
خلاف ہے کیونکہ جب قرآن نے قربانی کے مقام کو بالتصریح معین کر دیا
ہے تو اس معین کو عام کر دینا قرآنی منشا کے خلاف ہے۔ مثلاً قرآن نے نماز
کے لئے سمت قبلہ کو معین کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہر طرف منہ کر کے نماز
پڑھنا قرآنی حکم کے خلاف ہو گا۔
***
اب دیگر آیات دیکھئے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:
(7) وَاَتِمُّواْ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔
اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔ پھر اگر تم (کسی وجہ سے) روک دیئے جاؤ تو قربانی کا جانور جو بھی میسر آئے (خانہ کعبہ کو بھیج دیا کرو)۔
وَلاَ تَحْلِقُواْ رُؤُوسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ۔
اور اپنے سروں کو اس وقت تک مت منڈواؤ جب تک قربانی کا جانور اپنے موقع پر نہ پہنچ جائے (اور وہ موقع حرم ہے)۔
فَمَن کَانَ مِنکُم مَّرِیْضاً اَوْ بِہِ اَذًی مِّن رَّاْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِّن صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ۔
اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کا فدیہ روزے ہے یا صدقہ یا نسک (قربانی)
فَاِذَا اَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔
پھر جب امن کی حالت ہو جائے تو جو شخص عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر دونوں سے متمتع ہو تو جو کچھ قربانی میسر ہو ذبح کرے۔
فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاثَۃِ اَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذَلِکَ لِمَن لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہُ حَاضِرِیْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ -(2:196)
پھر جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ آئے تو اس کے ذمے تین دن کے روزے ایام حج میں‘ اور سات دن کے جب حج سے لوٹنے کا وقت ہو‘ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ اس کے لئے ہے جس کے اہل و عیال کعبہ کے قریب نہ رہتے ہوں۔
ان آیات میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ حج اور عمرہ1؂ میں‘ عام حالات میں قربانی کا حکم نہیں۔ ضرورت کے مطابق‘ باہمی مشاورت سے خور و نوش کے لئے جانور ذبح کئے جائیں گے۔
لیکن حسب ذیل اسباب میں سے کوئی سبب پیدا ہو جائے تو ھدی یا نسک کا حکم ہے (ان الفاظ کے معانی آگے چل کر آتے ہیں)۔
(1) کسی شخص نے حج یا عمرہ کا ارادہ کر لیا لیکن وہ محصور ہو گیا اور خانہ کعبہ تک نہیں پہنچ سکا تو اسے چاہئے کہ اپنے ھدی کو کسی کے ساتھ بھیج دے۔ جب ھدی مکہ میں پہنچ جائے پھر حجامت بنوا کر احرام سے باہر نکل آئے اس سے پہلے حجامت نہ بنوائے۔
(2) دوسرا سبب یہ ہے کہ حالت احرام میں (جبکہ حجامت بنوانا منع ہے) کسی تکلیف کے سبب حجامت بنوانے کے لئے مجبور ہو جائے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا نُسُک۔
(3) تیسرا یہ کہ حج اور عمرہ ایک ساتھ کرے تو اس صورت میں ھدی دے۔ اور اگر یہ میسر نہ ہو تو دس دن کے روزے رکھے۔
آپ غور کریں گے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان مقامات پر بھی صرف قربانی کا حکم نہیں ہے۔ سبب اول کے ماتحت اتنا بتا دیا گیا ہے کہ عازمِ حج بحالتِ معذوری (محصور ہو جانے کی شکل میں) کیا کرے۔ اس صورت میں وہ اپنے ھدی کو کعبہ تک بھیج دے۔ سبب دوم میں روزے یا صدقہ یا نسک کا حکم ہے اور سبب سوم میں ھدی کا حکم ہے بشرطیکہ وہ میسر آجائے۔ اگر میسر نہ آئے تو پھر روزے رکھ لے۔
ان آیات میں ھدی اور نسک کے الفاظ آئے ہیں۔ ھدی جمع ہے ھَدِیَّۃ کی جس کے معنی ہیں تحفہ۔ خود قرآن میں ہے بَلْ اَنتُم بِہَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُونَ-(27:36) اس لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ ھدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔ ’’فما استیسر من الھدی‘‘ نے اس حقیقت کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔ یعنی تحائف میں سے جو کچھ بھی میسر آجائے اسے کعبہ بھیج دے تاکہ وہاں جمع ہونے والوں کے کام آئے عربوں کے ہاں بہترین تحائف ان کے جانور تھے۔ اس لئے وہ جانوروں کو بطور تحائف پیش کرتے تھے لیکن ضروری نہیں کہ تحائف صرف جانور ہی ہوں۔ لہٰذا آیاتِ بالا سے مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی عازم حج راستہ میں گھر جائے تو اپنے تحائف کعبہ بھیج دے۔ اسی طرح جو شخص حج اور عمرہ سے اکٹھا متمتع ہو اور اسے کوئی تحفہ میسر آسکے تو اسے پیش کر دے ورنہ روزے رکھ لے۔ اسی طرح نسک کے معنی بھی صرف قربانی نہیں۔ نسک چاندی کے خالص ٹکڑوں کو کہتے ہیں۔ اخلاص کی بنا پر اس سے مفہوم عام عبادات لیا جاتا ہے (تفصیل آگے چل کر آئے گی) پھر ذبیحہ کو بھی نسک کہنے لگ گئے۔
لیکن قطع نظر اس کے‘ اگر ھدی اور نسک سے مراد قربانی کے جانور ہی لئے جائیں تو بھی آیاتِ بالا سے یہ واضح ہے کہ ان کا مقام کعبہ ہی ہے۔ انہیں وہیں پہنچانا ہو گا۔ (حتی یبلغ الھدی محلہ) اور وہیں یہ ذبح ہوں گے تاکہ ان سے اجتماع حج میں شریک ہونے والے خور و نوش کا کام لیں۔ اس حقیقت کو دوسرے مقام پر اور بھی واضح کر دیا گیا ہے جہاں فرمایا کہ حالتِ احرام میں شکار جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص دانستہ کسی جان کا قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اس کی مثل ایک ایسا جانور دے جس کا فیصلہ دو صاحبِ عدل کر دیں۔ ہَدْیْاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ -(5:95) اس ہدیہ1؂ کو کعبہ تک پہنچایا جائے۔ اس سے بھی واضح ہے کہ ھدیہ کو کعبہ ہی پہنچانا ہو گا۔
آیاتِ بالا سے پھر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ قربانی کا مقام کعبہ ہے۔ کعبہ کے علاوہ اور کوئی مقام نہیں۔
***
اب ایک آیت اور دیکھئے جس سے اس حقیقت کی مزید تصدیق ہو جاتی ہے کہ قربانی کا مقام خانہ کعبہ ہی ہے۔ 6ھ میں رسول اللہﷺ عمرہ ادا کرنے کے ارادہ سے مدینہ سے عازم مکہ ہوئے لیکن قریش مکہ نے حضورﷺ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ حدیبیہ کا مقام تھا جہاں وہ مشہور صلح نامہ لکھا گیا جسے قرآن نے فتح مبین سے تعبیر کیا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم میں ہے:
(8) ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفاً اَن یَبْلُغَ مَحِلَّہُ -(48:25)
یہ (قریش مکہ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا۔ نیز قربانی کے جانوروں (ھدی) کو روک دیا کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ تک نہ پہنچ سکیں۔
ہمارے پیش نظر سوال یہ تھا کہ کیا قرآن نے قربانی کے مقام کو معین کر دیا ہے یا اسے غیر معین چھوڑ دیا ہے کہ مسلمان جہاں چاہیں (اپنے اپنے مکانوں اور گلی کوچوں میں) قربانی دے دیا کریں۔ قرآن کی تمام متعلقہ آیات آپ کے سامنے آچکی ہیں آپ انہیں ایک مرتبہ پھر دیکھ لیں اور خود فیصلہ کر لیں کہ اس باب میں قرآن کا حکم معین ہے یا اس نے اس چیز کو غیر معین چھوڑ دیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ:
(i) آیت نمبر 2 میں قربانی کے جانوروں کے متعلق تصریح موجود ہے کہ:
ثم محلھا الی البیت العتیق۔
ان کے حلال کرنے کی جگہ خانہ کعبہ ہے۔
(ii) آیت نمبر 7 میں (اگر ھدی سے مراد قربانی کے جانور کئے جائیں تو) بہ صراحت فرما دیا کہ:
حتی یبلغ الھدی محلہ۔
جب تک قربانی کے جانور اپنے ذبح ہونے کے مقام
پر نہ پہنچ جائیں۔
(iii) آیت 5:95 میں فرمایا:
ھدیا بالغ الکعبتہ۔
قربانی کے جانور کو کعبہ تک پہنچایا جائے۔
(iv) آیت نمبر 8 میں ارشاد ہے کہ قریش مکہ نے قربانی کے جانوروں کو روک دیا۔
ان یبلغ محلہ۔
کہ وہ اپنے ذبح ہونے کے مقام تک نہ پہنچنے پائیں۔
(v) باقی آیات میں قربانی کا ذکر حج کے ضمن میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ کہیں نہیں۔
ان حقائق کو سامنے رکھئے اور پھر سوچئے کہ قرآن کریم کی ایسی کھلی ہوئی صراحت کے بعد‘ اس بات کے متعلق کسی شک و شبہ کی گنجائش بھی باقی رہ سکتی ہے کہ قربانی کا مقام کونسا ہے؟ اگر قرآن صرف اتنا ہی کرتا کہ قربانی کے جانوروں کا ذکر حج کی تقریب کے ضمن میں کر دیتا تو بھی اس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہوتی کہ قربانی مکہ ہی میں ہوتی ہے لیکن اس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ بار بار اس کی بھی تصریح فرما دی کہ قربانی کا مقام کعبہ ہے۔ اگر اس کے بعد بھی اس باب میں کسی کو شبہ ہو سکتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ نہیں! قربانی ہر گلی کوچے میں ہو سکتی ہے‘ تو اس کا علاج کسی کے پاس نہیں۔
ومن یضلل اللہ فلا ھادی لہ‘۔
***
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ جو حضرات‘ قرآن کی ان تصریحات کے باوجود قربانی کو ہر گلی کوچے میں عام کرتے ہیں‘ ان کے دلائل اور قرآن کی مندرجہ صدر کھلی ہوئی حقیقت کے خلاف ان کے اعتراضات کیا ہیں۔ اس باب میں اس وقت ہمارے سامنے سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کا وہ مضمون ہے جس میں انہوں نے سالِ گذشتہ‘ قرآن کی مذکورہ صدر تصریحات کو ’’فتنہ‘‘ قرار دے کر ان کی تردید فرمائی تھی ]اور جو روزنامہ انجامؔ (کراچی) کے عید ایڈیشن (مورخہ 4 ستمبر 1950ء) میں شائع ہوا تھا[۔ اس مضمون میں انہوں نے خاص طور پر یہ احتیاط برتی ہے کہ اس میں ان آیات کا کوئی ذکر تک نہ آنے پائے جن میں قرآن کریم نے بہ صراحت قربانی کے مقام کو مکہ معظمہ کے ساتھ مختص کیا ہے اور جنہیں ہم نے اوپر نقل کر دیا ہے۔ اس خصوصی احتیاط کے بعد وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں:
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ قربانی کے متعلق قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ کیا وہ قربانی کو صرف حج اور متعلقات حج تک محدود رکھتا ہے یا دوسرے حالات میں بھی اس کا حکم دیتا ہے۔ اس باب میں دو آیتیں بالکل صاف ہیں جن کا حج سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلی آیت سورۂ انعام کے آخری رکوع میں ہے۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
اے نبی کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت خم کرنے والا ہوں۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا اور نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے اور اس میں کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس حکم سے مراد حج میں قربانی کرنا ہے۔ نسک کا لفظ جو اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے‘ قرآن مجید میں دوسری جگہ قربانی ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو البقرہ نمبر 22۔
تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو صدقے میں روزے رکھے یا صدقہ یا قربانی کرے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 7 جس میں لفظ نسک آیا ہے۔ طلوع اسلام)۔
مودودیؔ صاحب نے جس آیت کا ترجمہ لکھا ہے وہ آیت سیاق و سباق کے ساتھ اس طرح ہے۔ فرمایا:
(9) قُلْ اِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ اِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَO
کہہ دو۔ مجھے تو میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ وہی درست اور صحیح دین ہے۔ ابراہیم کا طریقہ کہ خدا ایک ہے کے لئے ہو جانا اور ابراہیم ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔
’’حَنِیْفاً‘‘ (ایک خدا کے لئے ہو جانا) کی تشریح اگلی آیت میں یوں ہے:
(10) قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَاْ اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔
کہہ دو۔ میری نماز‘ میرا نسک‘ میرا مرنا‘ میرا جینا‘ سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلموں میں (یعنی خدا کے فرمانبرداروں میں) پہلا فرمانبردار ہوں۔
اور اس ’’توحید‘‘ کی مزید تشریح اس طرح فرما دی کہ:
(11) قُلْ اَغَیْْرَ اللّہِ اَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء۔۔۔-(6:161-164)
کہئے! کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور پروردگار ڈھونڈوں حالانکہ وہی ہر شے کا پرورش کرنے والا ہے۔
مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں لفظ نُسُکی کا ترجمہ ہے ’’میری قربانی‘‘۔ اس لئے اس سے قربانی کا حکم ظاہر ہے۔ ہم نے مندرجہ بالا ترجمہ میں (جو ابوالکلام صاحب آزاد کا ترجمہ ہے) لفظ نسک کو علیٰ حالہ رہنے دیا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ اس لفظ کے لغوی معنی ’’چاندی کے خالص کئے ہوئے ٹکڑے‘‘ ہیں۔ اس اخلاص کی جہت سے ’’عبادت گذار کو ناسک کہنے لگے کیونکہ وہ اپنے نفس کو چاندی کے ٹکڑے کی طرح گناہوں کی میل سے صاف کرتا ہے۔‘‘1؂ قرآن کریم میں نسک‘ منسک‘ مناسک کے الفاظ (ان دو آیتوں کے علاوہ جن کا ترجمہ مودودی صاحب نے لکھا ہے) حسب ذیل مقامات پر آئے ہیں:
(12) سورۂ بقرہ میں دعائے ابراہیمی و اسماعیلی۔ وارنا مناسکنا۔ -(2:129)
(13) سورۂ بقرہ میں حج کے ضمن میں۔
فاذا قضیتم مناسککم۔ -(2:200)
(15-14) سورۂ حج میں۔
لکل امۃ جعلنا منسکاًھم ناسکوہ۔ (22:67) و (22:34)۔
دیکھئے کہ ان آیات میں ان الفاظ کا ترجمہ مختلف مترجمین نے کیا کیا ہے۔
آیت نمبر 12 ’’مناسکنا‘‘ کا ترجمہ مختلف تراجم میں اس طرح آیا ہے:
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادات کی طرح۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ طرح عبادت کی۔
جلالین۔ شرائع عبادتنا (یہ اردو ترجمہ نہیں لیکن مفہوم واضح ہے)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ عبادت کے سچے طور طریقے۔
آیت نمبر 13۔ ’’مناسککم‘‘۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادتیں اپنی۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادتیں۔
جلالین۔ عبادات‘ حج۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ حج کے تمام ارکان۔
آیات نمبر 14 و 15۔ ’’منسک‘‘۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ طرح عبادت کی۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادت کی طرح۔
جلالین۔ شریعت (آیت 22:34 میں اس کے ساتھ ’’قربانی کی جگہ‘‘ بھی آیا ہے)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ عبادت کا طور طریقہ۔
اس کے بعد وہ آیت لیجئے جسے مودودی صاحب نے بطور سند پیش کیا ہے۔ یعنی ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ (نمبر 10) اور جس میں انہوں نے نسکی کا ترجمہ ’’میری قربانی‘‘ کیا ہے۔ اس لفظ کا ترجمہ مذکورہ صدر مترجمین نے حسب ذیل کیا ہے۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادتیں۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادتیں۔
جلالین۔ عبادات من حج۔ (حج کی عبادات)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ میرا حج۔
یہ ہیں لفظ نسک کے معانی اس آیت میں جسے مودودی صاحب نے وجوب قربانی میں بطور نصِ قرآنی پیش کیا ہے اور جس کا ترجمہ انہوں نے ’’قربانی‘‘ کیا ہے۔ شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ اس کے معنی ’’عام عبادات‘‘ لیتے ہیں اور تفسیر جلالین اور ترجمان القرآن ابوالکلام صاحب آزاد میں اس کے معنی حج یا حج سے متعلقہ مراسم لکھے ہیں۔ (اور وہ جو کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ بولے) خود مودودی صاحب نسک کا ترجمہ ’’قربانی‘‘ لکھ کر‘ ایک ہی سطر بعد ’’مناسک‘‘ کے معنی ’’حج کے مراسم‘‘ بیان فرماتے ہیں۔ ان کا جو اقتباس اوپر درج کیا گیا ہے اسے ایک بار پھر پڑھئے۔ اس میں آپ کو یہ الفاظ دکھائی دیں گے۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے۔
’’حج کے مراسم و مناسک‘‘ لکھ کر‘ مودودی صاحب نے خود بتا دیا کہ ’’مناسک‘‘ کے معنی عام قربانی نہیں‘ حج کے طور طریقے ہیں۔ لہٰذا اگر ’’مناسک‘‘ کے معنی خود مودودی صاحب کے الفاظ میں ’’حج کے عام طور طریقے‘‘ ہیں تو آیت ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ میں نسک کے معنی عیدالاضحی کی قربانی کس طرح کئے جا سکتے ہیں؟
اب مودودی صاحب کی دوسری دلیل ملاحظہ فرمایئے جس میں ارشاد ہے کہ:
نسک کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اسے قرآن مجید میں دوسری جگہ ’’قربانی ہی‘‘ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو البقرہ نمبر 24۔
تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو فدیہ میں روزے رکھے یا صدقہ یا قربانی کرے۔
(اس آیت کے الفاظ آیت نمبر 7 میں دیکھئے)۔
پہلے تو یہ دیکھئے کہ مودودی صاحب نے نسک کے لفظ کے لئے قرآن کریم کی صرف وہی آیت نقل فرمائی ہے جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ نسک سے مفہوم قربانی لیا جا سکتا ہے۔ دیگر مقامات کا‘ (جہاں واضح ہے کہ نسک یا منسک یا مناسک کے معنی قربانی نہیں لئے جا سکتے) انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا۔
آیت نمبر 7 میں ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ نسک کے معنی ضروری نہیں کہ قربانی ہی لئے جائیں۔ لہٰذا ایک ایسے مقام کو بطور سند پیش کرنا جس میں مختلف معانی کی گنجائش ہو‘ دلیل قطعی نہیں قرار دی جا سکتی۔ لیکن آیت نمبر 7 میں نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ ہی لئے جائیں تو وہیں یہ بھی تو موجود ہے کہ یہ حج کے احکام ہیں۔ اس لئے ’’قربانی‘‘ سے مراد وہ قربانی ہے جو خانہ کعبہ میں حج کے موقع پر دی جاتی ہے۔ لہٰذا اگر نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ لئے جائیں تو اس کے صحیح معنی ہوں گے ’’وہ قربانی جو حج میں کی جائے‘‘۔ اس لئے کہ جب قرآن خود کسی مفہوم کو معین کر دے تو اس مفہوم کو اسی طرح سے لینا چاہئے جس طرح قرآن بیان کرتا ہے۔ لہٰذا یہ ظاہر ہے کہ:
(i) ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ میں نسکی کے معنی ’’میری قربانی‘‘ نہیں۔ اس لئے یہ آیت قربانی کے حکم کے لئے بطور نص قرآنی پیش نہیں کی جا سکتی۔ اور
(ii) اگر اس لفظ کا ترجمہ ’’قربانی‘‘ ہی کرنا ہو تو اس سے مراد ہو گی وہ قربانی جو حج میں کی جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن کی جس آیت نمبر 7 سے نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ لئے گئے ہیں وہاں نسک کے معنی وہ قربانی ہے جو حج میں کی جاتی ہے۔ نہ کہ ہر گلی کوچے کی قربانی۔ چنانچہ علامہ حمید الدین فراہیؒ جنہوں نے اس آیت میں نسکی کے معنی ’’میری قربانی‘‘ لئے ہیں فرماتے ہیں:
بالاتفاق تمام مفسرین کے نزدیک اس آیت میں نسک سے مراد حج اور عمرہ میں قربانی کرنا ہے۔ لغت عرب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
باقی رہی مودودی صاحب کی یہ دلیل کہ چونکہ یہ آیت (ان صلاتی و نسکی۔۔۔) مکہ میں نازل ہوئی تھی جب حج فرض نہیں ہوا تھا‘ اس لئے اس سے مراد حج کی قربانی نہیں۔ سو اس کے متعلق پہلی چیز قابل غور یہ ہے کہ قرآن کریم کی ترتیب نزولی نہیں ہے اس لئے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ کونسی آیت کب نازل ہوئی تھی۔ خود یہ حقیقت کہ قرآن کی ترتیب نزولی نہیں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ترتیب نزولی کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ کہا جا سکتا ہے کہ نزول کی ترتیب سے ہم قرآنی تعلیم کے ’’تدریجی ارتقا‘‘ کو معلوم کر سکتے ہیں۔ سو اول تو یہ کہ‘ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے‘ اگر یہ چیز ایسی اہم ہوتی تو خود اللہ تعالیٰ قرآن کی ترتیب نزولی رہنے دیتا۔ قرآنی تعلیم زمان اور مکان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ وہ ہر زمانے اور ہر حالات میں زندگی بخش ہونے کے لئے دی گئی ہے۔ اس لئے وہ ترتیب نزول اور شانِ نزول وغیرہ کے اختصاصات میں مقید نہیں رکھی جا سکتی۔ جو کچھ قرآن میں موجود ہے وہ ہر زمانے کے لئے ضابطۂ حیات ہے۔ جس قسم کے حالات ہوں گے اسی قسم کے احکام نافذ ہو جائیں گے۔ لہٰذا ترتیب نزول کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ دوسرے یہ کہ ترتیب نزول کے متعلق جو روایات ملتی ہیں وہ باہمدگر مختلف ہوتی ہیں۔ چنانچہ آپ کتب تفاسیر اٹھا کر ان میں کسی سورت کے نزول کے متعلق دیکھئے۔ آپ کو کئی مختلف روایات ملیں گی۔ کبھی پوری کی پوری سورت کے متعلق اختلافات ہوتے ہیں کہ وہ مکہ میں نازل ہوئی تھی یا مدینہ میں۔ کبھی ایک سورت کی مختلف آیات کے متعلق اختلاف ہوتا ہے۔ کہیں یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض آیات ہجرت کے بعد‘ مکہ کے قریب نازل ہوئیں تو انہیں مکی لکھ دیا گیا۔ خود سورۂ انعام (جس میں آیت ’’ان صلاتی و نسکی۔۔۔ ہے) کی بعض آیات کے متعلق اختلاف ہے کہ مکی ہیں یا مدنی۔ اس لئے اس سورت کو مکی قرار دے کر اس سے نتیجہ زیر نظر اخذ کرنا‘ محکم دلیل قرار نہیں پا سکتا۔ بہرحال یہ سورت مکی ہو یا مدنی۔ جو حضرات اس سے ’’قربانی‘‘ مراد لیتے ہیں وہ (جیسا کہ علامہ فراہیؒ نے لکھا ہے) اس امر پر متفق ہیں کہ نسک سے مراد وہ قربانی ہے جو حج اور عمرہ میں کی جاتی ہے۔
لیکن قطع نظر اور دلائل کے‘ مودودی صاحب کا یہ بیان کہ یہ سورت مکی ہے خود ہمارے دعوے کی تائید کر رہا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جیسا کہ قرآن نے بہ صراحت فرما دیا ہے قربانی کا محل مکہ معظمہ ہے۔ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ قربانی کا ذکر اس سورت میں آیا ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی اس لئے اس سے مراد حج کی قربانی نہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہجرت سے پہلے رسول اللہﷺ مکہ میں تشریف فرما تھے اس لئے حضورﷺ لامحالہ مکہ ہی میں قربانی کرتے ہوں گے۔ اور یہی ہم کہتے ہیں۔
باقی رہا یہ کہ اس زمانہ میں ابھی حج فرض نہیں ہوا تھا۔ تو اس سے مسئلہ زیرنظر پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ حج فرض ہونے سے پہلے بھی حضورﷺ‘ سنتِ ابراہیمیؑ کی اتباع میں اپنے طور پر حج کرتے تھے۔ (سارا عرب حج کیا کرتا تھا اگرچہ اس کا حقیقی مقصد ان کی نگاہوں سے فوت ہو چکا تھا اور اس کے مناسک میں مشرکانہ رسوم داخل ہو چکی تھیں) لہٰذا جب رسول اللہﷺ حج کرتے تھے تو قربانی بھی حج کی تقریب پر ہی ہوتی ہو گی۔ مشرکین‘ بتوں کے استہانوں پر جانور ذبح کرتے تھے۔ حضورﷺ انہیں اللہ کے نام پر ذبح کر کے خود کھاتے اور محتاجوں کو کھلاتے ہوں گے۔
لہٰذا اس دلیل سے بھی واضح ہے کہ قربانی مکہ ہی میں ہوتی تھی اور حج کی تقریب پر۔ (اس باب میں ابھی ایک نکتہ باقی ہے جو ’’وانحر‘‘ کے سلسلہ میں ذرا آگے چل کر بیان ہو گا۔)
***
اب وہ دوسری آیت دیکھئے جسے مودودی صاحب نے اپنے دعوے کی دلیل میں پیش فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:
دوسری آیت سورۂ کوثر میں ہے جس کا ترجمہ ہے۔
پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
یہ آیت بھی مکی ہے اور اس میں بھی کوئی اشارہ یا قرینہ ایسا نہیں کہ جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قربانی کا یہ حکم حج کے لئے خاص ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اہلِ لغت نے نحر کے معنی سینے پر ہاتھ باندھنے‘ قبلہ رخ ہونے اور اول وقت نماز پڑھنے کے بھی بیان کئے ہیں لیکن یہ سب دور کے معنی ہیں۔ عام فہم عربی میں اس لفظ کا مفہوم قربانی کرنا ہی لیا جاتا ہے (اس کے بعد مودودی صاحب نے احکام القرآن کا حوالہ دیا ہے)۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مترجمین شاہ ولی اللہؒ ‘ شاہ عبدالقادر صاحبؒ ‘ شاہ رفیع الدین صاحبؒ ‘ مولانا محمود الحسن صاحبؒ ‘ مولانا اشرف علی صاحبؒ ‘ ڈپٹی نذیر احمد صاحبؒ وغیرہم نے بالاتفاق اس لفظ کا ترجمہ قربانی ہی کیا ہے۔1؂
یہ سورۂ کوثر کی آیت ہے جس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
ان اعطینک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ھوالابترO
اس میں لفظ نحر قابل غور ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ روایات سے قرآن کا صحیح صحیح مفہوم متعین ہو جاتا ہے۔ اگر ان سے مدد نہ لی جائے تو قرآن کا صحیح مطلب سمجھ میں نہیں آسکتا۔ نحر کا لفظ قرآن میں اسی مقام پر استعمال ہوا ہے۔ اب دیکھئے کہ روایات اس کا کیا مفہوم ’’متعین کرتی ہیں۔‘‘
(1) حضرت علیؓ نے فرمایا کہ نحر سے مراد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو نماز میں اپنے سینے پر رکھنا ہے۔
(2) حضرت علیؓ سے دوسری روایت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے جبریلؑ سے پوچھا کہ یہ نحیرہ کیا ہے جس کا میرے رب نے حکم دیا ہے۔ جبریلؑ نے کہا نحیرہ نہیں۔ لیکن حکم یہ ہے کہ آپ نماز کی پہلی تکبیر‘ رکوع‘ بعد رکوع اور سجود کے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کریں۔ یہ ہماری نماز ہے اور ملائکہ کی نماز ہے جو سات آسمانوں میں رہتے ہیں۔ ہر ایک چیز کی ایک نیت ہے اور نماز کی نیت ہر تکبیر کے نزدیک رفع یدین کرنا ہے۔
(3) حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ نحر کے معنی ہیں ’’اپنی گردن قبلہ کے مقابل کر‘‘۔
(4) امام باقر ؒ کا ارشاد ہے کہ اس سے مراد نماز کے شروع کے وقت رفع یدین کرنا ہے۔
(5) حضرت عطا خراسانیؒ فرماتے ہیں کہ وانحر سے مراد یہ ہے کہ اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاؤ تو اعتدال کرو اور سینے کو ظاہر کرو یعنی اطمینان حاصل کرو۔
ان روایات کے علاوہ دیگر اقوال ملاحظہ فرمایئے:
(ا) ابن الاعرابیؒ نے کہا ہے کہ نحر کا مطلب نماز میں محراب کے سامنے سیدھا کھڑا ہونا ہے۔
(ب) ضحاکؒ کا بیان ہے کہ اس کے معنی ہیں دونوں ہاتھ دعا کے بعد چھاتی کے اوپر کے حصہ تک بلند کر۔
(ج) امام راغبؒ (مفردات) میں لکھتے ہیں کہ نحر چھاتی کے اوپر گلوبند کے مقام کو کہتے ہیں۔ اس لئے وانحر میں حکم ہے ہاتھوں کو نحر کے مقام پر رکھنے کا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے شہوت کی بیخ کنی کر کے نفس کشی کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
آپ نے نحر کے لفظ کی تحقیق ملاحظہ فرمائی۔ امام رازیؒ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ذبحِ شتر ہے۔ اس لئے اس کے معنی قربانی ہو گئے۔ فصل لربک وانحر۔ اپنے رب کی نماز پڑھ اور قربانی کر۔
اب اس آیت کے مقام نزول کے متعلق دیکھئے۔ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ محمد علی صاحب لاہوری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
اس سورت کے نزول کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض اسے مکی کہتے ہیں اور بعض مدنی اور بعض نے یہ خیال کیا ہے کہ اس کا نزول دو دفعہ ہوا ہے۔ ایک مکہ میں اور ایک مدینہ میں۔ مگر صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی!1؂
لیکن علامہ فراہیؒ فرماتے ہیں کہ یہ صلح حدیبیہ کے دن نازل ہوئی۔ ارشاد ہے:
یہ سورت صلح حدیبیہ کے دن نازل ہوئی جو فتح مکہ‘ حج‘ نماز‘ قربانی‘ غلبہ اسلام اور کثرت امت کا فتح باب ہے۔
ذرا آگے چل کر پوری کی پوری سورہ (سورۂ کوثر) کی حکمت کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
سادہ لفظوں میں گویا یوں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز پڑھنے والی اور راہِ خدا میں خرچ کرنے والی ایک عظیم الشان امت دی ہے جو بیت الحرام کا حج کرے گی۔
یعنی وانحر سے مراد ’’بیت الحرام کا حج‘‘ کرنا ہے۔
ابن جریرؒ نے اس باب میں لکھا ہے:
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ فصل لربک وانحر والی آیت حدیبیہ کے دن نازل ہوئی۔ جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ قربانی کر کے لوٹ جاؤ۔ آنحضرتﷺ اٹھے اور عیدالفطر یا عیدالاضحی (راوی کو شبہ ہے) کا خطبہ دیا۔ پھر دو رکعت نماز ادا کی اور قربانی دی اس وقت حضرت جبریلؑ نے فصل لربک کا پیام دیا۔
یعنی جب کفار مکہ نے حضورﷺ کے قافلہ کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو بھی مکہ تک جانے سے روک دیا گیا (جیسا کہ سورۂ فتح میں مذکور ہے) تو سوال یہ پیدا ہوا کہ قربانی کے جانوروں کو کیا کیا جائے۔ اس وقت جبریلؑ آئے اور کہا کہ ان کی یہیں قربانی دے کر دو رکعت نماز پڑھ لیجئے۔
***
وانحر کے معنی بھی آپ نے دیکھ لئے اور مقامِ نزول کے متعلق بھی بیانات ملاحظہ کر لئے۔ ذرا غور کیجئے کہ ان سے کسی طرح بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وانحر سے مراد ہے دنیا کے ہر گلی کوچے میں قربانی کے جانور ذبح کرنا! اگر یہ سورت (سورۂ کوثر) مکہ میں نازل ہوئی تھی تو اندازہ یہ ہے کہ یہ ہجرت کے قریب کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے کیونکہ موجودہ ترتیب کے لحاظ سے یہ جن سورتوں کے درمیان رکھی گئی ہے ان کا تعلق ہجرت کے واقعہ سے ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں پر شدائد و مصائب ہجوم کر کے آچکے تھے۔ نظر بظاہر‘ ہر طرف مایوسی دکھائی دیتی تھی۔ وقت وہ آچکا تھا کہ انہیں اپنے گھر بار کو بھی چھوڑنا تھا۔ مستقبل میں بھی کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ان یاس انگیز حالات میں انا اعطینٰک الکوثر (یقیناًہم نے تمہیں اپنے انعامات سے بڑی کثرت سے نوازا ہے) کا مژدۂ درخشندہ بڑا حیات بخش (اور مخالفین کے لئے حیرت انگیز) تھا۔ اس کے لئے ارشاد یہ ہوا کہ یہ کثرتِ نعماء نتیجہ ہوں گی اس نظام کی تشکیل و تنفیذ کا جس کا آغاز صلوٰۃ سے ہوتا ہے اور انتہا حج کے اجتماع سے۔ (فصل لربک وانحر)۔ نحر کے معنی اگر قربانی لئے جائیں تو یہ اونٹ کی قربانی کے لئے مختص ہے۔ ’’اونٹ کے ذبیحہ‘‘ میں ایک اور اہم حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا۔ مدینہ میں اس وقت یہودیوں کا غلبہ تھا۔ ہو سکتا تھا کہ کسی کو خیال پیدا ہو جائے کہ اب ’’کمزور اور ناتواں‘‘ مسلمانوں کا یہ قافلہ‘ ہجرت کے بعد‘ مدینہ کے یہودیوں سے مفاہمت (Compromise) کر کے‘ قریش مکہ کا مقابلہ کرے۔1؂ وانحر کے لفظ سے اس شبہ کو بھی مٹا دیا۔ یہودیوں کے ہاں اونٹ حرام تھا۔ مسلمانوں کو اونٹ ذبح کرنے کے لئے کہا گیا۔ یعنی یہود کے علی الرغم۔ یوں سمجھئے جس طرح آج ہندوستان کے شکستہ حال مسلمانوں کو کوئی ’’اشارۂ غیبی‘‘ یہ کہہ دے کہ ’’اٹھو اور گائے ذبح کرو‘‘۔ اور اگر یہ سورت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس وقت بھی حالات سخت نامساعد تھے۔ نظر بظاہر‘ وہ صلح شکست ہی کے مرادف تھی لیکن قرآن نے عین اس وقت ’’عطائے کوثر‘‘ کا مژدہ حوصلہ افزا سنایا اور وانحر2؂ سے یہ بتا دیا کہ اگر انہوں نے آج تمہیں مکہ تک پہنچنے سے روک دیا ہے اور تمہاری قربانیوں کو بھی ان کی قربان گاہ (کعبہ) تک نہیں پہنچنے دیا‘ تو اس کا کیا غم! تم عنقریب وہاں پہنچ کر قربانیاں کرو گے۔
ان تصریحات کے بعد آپ سوچئے کہ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں وانحر سے عید کے دن ہر گلی کوچے میں قربانی کا وجوب کس طرح سے ثابت ہوتا ہے؟
لیکن اگر آپ کو اس پر اصرار ہے کہ وانحر سے مراد ہر گلی کوچے میں قربانی ہے تو ذرا حسب ذیل امور پر بھی غور کیجئے۔ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں فصل (نماز پڑھ) امر کا صیغہ ہے جس سے مطلب یہ ہے کہ نماز فرض ہے۔ اسی طرح وانحر امر کا صیغہ ہے‘ لہٰذا نحر بھی فرض ہوئی۔ یعنی جو حیثیت نماز کی ہے وہی حیثیت قربانی کی ہو گی۔ دونوں برابر کی فرض ہوں گی کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے۔ فصل (نماز) کے فرض ہونے کے متعلق تو کسی کو کلام نہیں۔ لیکن دیکھئے کہ وانحر (قربانی) کے متعلق کیا عقیدہ ہے۔ خود مودودی صاحب کے الفاظ میں ملاحظہ فرمایئے۔ تحریر فرماتے ہیں:
قرآن و حدیث کے ان دلائل کی بنا پر فقہائے امت نے بقر عید کی قربانی کے متعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سنن اسلام میں سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں۔ مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی‘ فتح الباری میں مذاہب فقہاء کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
اور اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ بقر عید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیہ اور جمہور کے نزدیک یہ سنت موکدہ بطریق کفایت اور شافعیوں میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوشحال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالکؒ کی رائے بھی ایک روایت کی رو سے یہی ہے مگر انہوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی۔ اوزاعی اور ربیعہ کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں سے ابو یوسفؒ اور مالکیوں میں سے اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے۔ اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑ دینے کی اجازت نہیں۔
آپ نے غور فرمایا کہ عید کی قربانی کسی کے نزدیک بھی فرض نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سنت ہے اور وہ بھی ایسی کہ امام احمدؒ کے نزدیک اگر باوجود قدرت (استطاعت) کے قربانی نہ کی جائے تو یہ مکروہ ہو گا۔ آپ ذرا سوچئے کہ قرآن میں ’’فصل لربک وانحر‘‘ کا حکم آتا ہے۔ صل (نماز پڑھ) کے متعلق ہر ایک کا اتفاق ہے کہ یہ فرض عین ہے لیکن اسی حکم کے دوسرے ٹکڑے کے متعلق یہ کیفیت ہے کہ اسے کوئی بھی فرض قرار نہیں دیتا۔ صلوٰۃ کا تارک دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے لیکن استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا‘ مکروہ فعل کا مرتکب گردانا جاتا ہے اور بس! اسی سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ وانحر سے مراد عید کی قربانی لینا کس طرح قرآنی مفہوم کہلا سکتا ہے۔
پھر‘ ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ اگر وانحر سے مراد قربانی ہے تو نحر صرف اونٹ کی قربانی کے لئے مخصوص ہے۔ گائے‘ بھیڑ‘ بکری کی قربانی اس میں قطعاً شامل نہیں۔
ایک قدم اور آگے۔ قرآن نے ’’فصل لربک وانحر‘‘ فرمایا صل کے معنی ہوئے ’’نماز پڑھ‘‘ اور وانحر کے ان کے نزدیک ’’قربانی کر‘‘۔ اب ظاہر ہے کہ صل کے حکم کی ادائیگی اسی شکل میں اور انہی شرائط کے ساتھ ہو گی جو قرآن میں دوسرے مقامات پر مذکور ہیں۔ مثلاً قرآن نے حکم دے دیا کہ صلوٰۃ کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ لہٰذا جب صل کہا جائے گا تو اس کے ساتھ یہ تمام شرائط مستلزم ہوں گی۔ جس طرح صل کے لئے یہ ضروری ہے اسی طرح وانحر کے لئے بھی یہ ضروری ہے۔ صل کے لئے قرآن نے سمتِ قبلہ کا تعین فرما دیا ہے۔ اسی طرح وانحر کے لئے قرآن ہی نے کعبہ کے مقام کی تعیین کر دی ہے۔ لہٰذا جس طرح صل (نماز) کے لئے سمت قبلہ ضروری ہے اسی طرح نحر (قربانی) کے لئے مقامِ کعبہ ضروری ہے۔ نہ سمتِ قبلہ کے بغیر (ہر طرف رخ کر کے) صلوٰۃ ہو سکتی ہے نہ مقامِ کعبہ کے بغیر (ہر مقام پر) قربانی۔ صل (صلوٰۃ) کے متعلق قرآن کی تمام حدود و قیود کا التزام ضروری قرار دینا لیکن وانحر (قربانی) کے متعلق‘ قرآن کی متعین کردہ شرط کے یکسر خلاف‘ دنیا کے ہر گلی کوچے کو قربان گاہ تصور کر لینا‘ اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ -(2:85) (کتاب کے ایک حصہ پر ایمان اور دوسرے حصہ سے انکار) کے مرادف نہیں تو اور کیا ہے؟
***
آپ یقیناًحیران ہوں گے کہ جب قرآن میں قربانی کے متعلق ایسی تصریحات موجود ہیں تو پھر وہ کونسی وجہ ہے جس کی بنا پر یہ تمام حضرات اس پر مُصر ہیں کہ قربانی کی جگہ مختص نہیں۔ یہ ہر گلی کوچے میں ہو سکی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو دین کے دوسرے شعبوں کو قرآن کے خلاف لے جانے کی وجہ بنی ہے۔ یعنی روایات!! کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے عید قرباں کے دن اپنے طور پر قربانی کی۔ چونکہ ہمارے ہاں ’’دین‘‘ کی بنیاد قرآن نہیں‘ بلکہ احادیث ہیں‘ اور احادیث‘ قرآن کی ناسخ بھی ہو سکتی ہیں اور اس پر قاضی بھی‘ اس لئے جس معاملہ میں قرآن اور احادیث میں اختلاف ہو گا‘ ان لوگوں کا عمل حدیث کے مطابق ہو گا‘ قرآن کے مطابق نہیں۔ قرآن میں تصریح موجود ہے کہ قربانی حج کے موقع پر کعبہ میں کی جاتی ہے لیکن چونکہ چند ایک روایات میں آچکا ہے کہ رسول اللہﷺ عید کے دن قربانی کیا کرتے تھے اس لئے قرآن جو کچھ کہتا ہے اسے کہنے دیجئے۔ عمل حدیث پر ہو گا!
لیکن جیسا کہ روایات میں عام طور پر ہوتا ہے‘ اس باب میں بھی دونوں قسم کی روایات موجود ہیں۔ ایسی بھی جن سے مترشح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے عید کے دن قربانی کی اور ایسی بھی جن سے ظاہر ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود مکہ میں قربانی کی یا اپنے قربانی کے جانور مکہ معظمہ میں بھیجے۔ روایت پرست حضرات کی کیفیت یہ ہے کہ یہ ان احادیث کو تو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں جن میں عید قرباں کی قربانی کا ذکر ہے لیکن ان دوسری قسم کی احادیث کا کبھی ذکر تک نہیں کرتے۔ علاوہ بریں‘ حدیث کو حجتِ دین قرار دینے میں ایک بہت بڑا ’’فائدہ‘‘ یہ بھی ہے کہ احادیث کے متناقض وغیرہ میں سے جو حدیث آپ کے مطلب کی ہو اسے آپ مستند قرار دے دیجئے اور جو آپ کے خلاف جائے اسے ضعیف ٹھہرا دیجئے۔ مودودی صاحب نے اپنے لئے اس باب میں اور بھی آسانیاں پیدا کر لی ہیں کیونکہ ان کا فیصلہ یہ ہے کہ حدیث کو مستند یا ضعیف قرار دینے کا معیار اس شخص کا فیصلہ ہے جو ’’مزاج شناسِ رسول اللہﷺ‘‘ ہو۔1؂ اسی مسلک کے پیش نظر مودودی صاحب نے اپنے محولہ بالا مضمون میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’اس باب میں جو مستند روایات ہیں ان میں سے چند یہ ہیں‘‘ (اس کے بعد کچھ روایات درج فرمائی ہیں)۔ لیکن جہاں اس قسم کی احادیث ہیں وہاں اس قسم کی احادیث بھی انہی کتابوں میں موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ قربانی کے جانوروں کو مکہ بھیجا کرتے تھے۔ مثلاً
(1) بخاری‘ مسلم‘ ابوداؤد‘ ترمذی‘ مالک‘ نسائی‘ سب کے سب اس حدیث کے راوی ہیں جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: آنحضرتﷺ کا معمول تھا کہ آپ مدینہ سے ہدی کو مکہ روانہ فرماتے تھے تو آپ کے ہدی کے ہار میں بنایا کرتی تھی۔
(2) حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حدیبیہ کے سال بہت سے اونٹ بطور ھدی مکہ کو روانہ کئے۔ ان میں ایک اونٹ چاندی کی نتھنی والا بھی تھا۔
(3) حضرت نافع ؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ اپنی قربانی کے جانوروں کو قباطی‘ انماط اور حلل کی جھول پہناتے پھر کعبہ کی طرف روانہ کر دیتے۔2؂
(4) زادالمعاد میں علامہ ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ حج 9ھ میں فرض ہوا۔ اس سال غزوۂ تبوک سے واپسی پر رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو کم و بیش تین سو مسلمانوں کے ہمراہ حج کے لئے بھیجا اور اپنے قربانی کے بیس اونٹ جن کے گلوں میں خود اپنے ہاتھ سے قلاوے پہنائے تھے ان کے ساتھ کر دیئے۔ دوسرے سال (10ھ میں) حضور اکرمﷺ نے خود حج کیا اور مکہ میں سو جانوروں کی قربانی کی۔ الغرض حج کی فرضیت کے بعد دو سال آپ زندہ رہے اور دونوں سال آپ کی طرف سے قربانی مکہ میں ہوئی۔
روایت پرست حضرات کہتے رہتے ہیں کہ کسی روایت کی صحت اور سقم جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ قرآن کے خلاف نہ ہو۔ بہت اچھا! قرآن نے قربانی کے لئے کعبہ کا مقام متعین کر دیا۔ روایات دونوں قسم کی موجود ہیں۔ وہ بھی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود کعبہ میں قربانی کی اور یا اپنی قربانی کے جانور مکہ بھیجے اور وہ بھی جو قرآن کے خلاف یہ بتاتی ہیں کہ حضورﷺ نے عید کے موقع پر کہیں اور بھی قربانی کی۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ جو احادیث قرآن کے مطابق ہیں وہ صحیح ہیں لیکن یہ مولوی صاحبان مُصر ہیں کہ نہیں! جو احادیث قرآن کے خلاف ہیں وہ صحیح ہیں اور انہی کے مطابق وہ قربانی کو ہر گلی کوچہ میں واجب قرار دیتے ہیں۔ یہ ہے ان حضرات کا مذہب!
ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہئے
***
چلئے! ہم یہ بھی مانے لیتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مکہ کے علاوہ اور جگہ بھی قربانی کی ہے۔ لیکن قرآن کے تعیینِ مقام کے پیش نظر‘ ہم یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایسا اُس زمانے میں کیا ہو گا جب قرآن نے اس امر کی تعیین نہیں کی ہو گی۔ قرآن کے حکم کے بعد ایسا کبھی نہیں کیا ہو گا کیونکہ رسول اللہﷺ قرآن کی کامل اتباع فرماتے تھے۔ لہٰذا قرآن کی تعیین کے بعد رسول اللہﷺ کا وہ عمل جو قرآنی حکم سے پہلے کا ہو‘ سند نہیں قرار پا سکتا۔ مثلاً رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ لیکن کب؟ اس وقت جب ہنوز قرآن نے سمتِ قبلہ کا تعین نہیں کیا تھا۔ جب قرآن نے سمت متعین کر دی تو اس کے بعد رسول اللہﷺ قبلہ کی سمت نماز پڑھنے لگ گئے۔ اب اگر کوئی شخص‘ ان روایات کی بنا پر جن میں لکھا ہے کہ رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے‘ یہ کہے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا مسنون ہے کیونکہ۔۔۔ رسول اللہﷺ سے ایسا ثابت ہے تو کیا آپ اس ’’سنتِ‘‘ رسول اللہﷺ پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟ آپ ایسا نہیں کریں گے ۔ لیکن سوچئے کہ قربانی کے بارے میں آپ ایسا ہی کر رہے ہیں! جب قرآن نے مقامِ قربانی کا تعین کر دیا تو اس کے بعد رسول اللہﷺ کا وہ عمل جس میں آپﷺ نے (اس حکم سے پہلے) دوسرے مقامات پر قربانی کی ہو‘ سنت رسول اللہﷺ قرار نہیں پائے گا!
لیکن اگر آپ اس کے بعد بھی اسی پر مُصر ہیں کہ رسول اللہﷺ نے قرآنی تعیین کے بعد بھی‘ دوسری جگہ قربانی کی ہے‘ تو معاف فرمایئے! ہم حضورﷺ کے متعلق اس قسم کے خیال کی جرأت قطعاً نہیں کر سکتے۔ ہم اسے حضورﷺ کے خلاف بہت بڑا افترا سمجھتے ہیں اور افک عظیم۔ ایسا ہی افترا جیسے کوئی کہے کہ سمتِ قبلہ کے تعین کے بعد بھی حضورﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ کوئی روایت جو رسول اللہﷺ کے کسی عمل کو قرآنی تصریحات کے خلاف بتاتی ہے ہمارے نزدیک قطعاً وضعی ہے اور بہتان عظیم۔
***
قربانی کو عام طور پر ’’سنتِ ابراہیمیؑ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ قرآن میں صرف اتنا مذکور ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس خواب کو حقیقی سمجھا اور حضرت اسمٰعیلؑ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ جب اُنہیں لٹا دیا تو خدا نے آواز دی کہ اے ابراہیم تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا!1؂ قرآن میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی جگہ ایک مینڈھا جنت سے بھیجا گیا جس کی قربانی حضرت ابراہیمؑ نے کر دی۔ یہ بیان تورات کا ہے۔ قرآن کا نہیں۔ لہٰذا بکروں کی قربانی سنتِ ابراہیمیؑ بھی نہیں۔ اگر کسی کو سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل پیرا ہونا ہے تو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لٹائے۔ اس کے بعد اگر اسے خدا کی طرف سے آواز آجائے کہ بیٹے کو چھوڑ دو‘ توچھوڑ دے اور اگر ایسی آواز نہ آئے تو اُسے ذبح کر ڈالے! بیٹے کی جگہ بکرا ذبح کر دینا اور اسے قرار دینا سنتِ ابراہیمیؑ کا اتباع! تلاعب بالدین ہے۔
***
بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ قرآن میں ہے کہ خدا نے حضرت اسمٰعیلؑ کو ’’ذبح عظیم‘‘ کے فدیہ میں چھڑا لیا اور وہ ’’ذبح عظیم‘‘ یہی (بکروں اور مینڈھوں کی) قربانیاں ہیں جو ہر سال دی جاتی ہیں۔ یہ عقیدہ بھی خود تراشیدہ ہے۔ اول تو اس منطق پر غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے (حضرت) اسمٰعیلؑ کو چھری سے ذبح ہونے سے بچا کر ’’ذبح عظیم‘‘ (بہت بڑی قربانی) کے لئے مختص کر لیا۔ اور ہمارے ہاں اس سے مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی کے مقابلہ میں بھیڑوں بکریوں کی قربانی ’’ذبح عظیم‘‘ ہے۔ غور کیجئے کہ اس سے کیسی بلند حقیقت کو کتنی پست سطح پر لایا جاتا ہے۔ حضرت اسمٰعیلؑ باپ کے پہلوٹھے بیٹے (اور منصب سرداری کے مستحق) ہونے کی جہت سے شام کی سرسبز و شاداب وادیوں کے حکمران بننے والے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ انہیں‘ اپنے خیال کے مطابق خدا کی راہ میں ذبح کر رہے تھے۔ چھری گلے تک آپہنچی تھی۔ بس ایک لمحہ میں یہ قربانی ختم ہو جانے والی تھی۔ اللہ نے انہیں چھری سے بچا کر حکم دیا کہ مکہ کی بے برگ و گیاہ وادی میں ’’ہمارا گھر‘‘ بناؤ اور حضرت اسمٰعیلؑ کو اس گھر کی پاسبانی کے لئے وقف کر دو۔ آپ غور کیجئے۔ سرزمین شام کی شادابیوں اور شگفتگیوں کی جگہ صحرائے عرب کا مسکن اور منصب سرداری اور حکمرانی کے بجائے عبادت گاہ کی تولیت! یہ تھی وہ بڑی قربانی جس کے لئے حضرت اسمٰعیلؑ کو چھڑا لیا گیا تھا۔ وہ قربانی جسے ایک لمحہ میں ختم نہیں ہو جانا تھا بلکہ ساری عمر ساتھ رہنا تھا۔ یہ ایک ایک سانس کی قربانی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ قربانی تھی۔ مسلسل و متواتر قربانی تھی۔ عمر بھر کی قربانی تھی۔ بلکہ یوں کہئے کہ پشتوں تک کی قربانی تھی۔ حضرت اسحٰقؑ کی نسل کے حصہ میں شوکتِ سلیمانی اور دارائے داؤدی آگیا اور حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد کے حصہ میں صحرائے عرب کی عبادت گاہ کی رکھوالی۔ کہئے! یہ قربانی بڑی تھی یا ایک لمحہ میں رگِ جان کا کٹ جانا! یہ تھی وہ عظیم الشان قربانی جس کے اثرات صدیوں تک تولیتِ کعبہ کی شکل میں متوارث آگے بڑھتے رہے تآنکہ‘ شاخِ اسرائیلی کے بے نم ہو جانے کے بعد‘ یہ شاخ اسمٰعیلی‘ اس حسن و شادابی کے ساتھ گلبار و ثمر ریز ہوئی کہ اس کی تازگی اور شگفتگی میں قیامت تک فرق نہیں آئے گا۔ یہ تھا ثمرہ اس ’’ذبح عظیم‘‘ کا جس کے لئے حضرت اسمٰعیلؑ کو خدا نے وقف کر لیا تھا۔ اس حقیقت کے بعد سوچئے کہ ’’ذبح عظیم‘‘ سے مراد بھیڑوں‘ بکریوں کی قربانی لینا‘ قرآنی عظمتوں کو کن پستیوں تک لے جانا ہے۔
***
اب آخر میں دیکھئے مودودی صاحب کی وہ دلیل‘ جو اس وقت دی جاتی ہے جب کوئی دلیل نہیں سوجھتی۔ وہ دلیل جس کے متعلق قرآن کریم نے ہر نبی کے واقعات کے سلسلہ میں بیان کیا ہے۔ یعنی جب بھی اللہ کا کوئی رسول آتا اور لوگوں کو وحی خداوندی کی طرف دعوت دیتا تو سامنے سے جواب یہ ملتا کہ ہم اس علم و بصیرت کی اتباع نہیں کریں گے جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو۔ بلکہ
اِنَّا وَجَدْنَا آبَاء نَا عَلَی اُمَّۃٍ وَاِنَّا عَلَی آثَارِہِم مُّہْتَدُونَ-(43:22)
ہم نے اپنے اسلاف کو ایک مسلک پر چلتے پایا ہے۔ ہم انہی کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔
مترفین قوم یہ کہہ کر عوام کو بھڑکا دیتے اور پھر عوام ان مدعیانِ حق و صداقت کے پیچھے پڑ جاتے۔ یہی سابقہ انبیائے کرامؑ کی وحی کے ساتھ ہوتا رہا اور یہی نبی اکرمﷺ کی طرف آمدہ وحی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چنانچہ مودودی صاحب اس باب میں فرماتے ہیں:
سب سے بڑا ثبوت اس کے سنت اور مشروع ہونے کا یہ ہے کہ نبیﷺ کے عہد مبارک1؂ سے لے کر آج تک مسلمانوں کی نسل اس پر عمل کرتی چلی آئی ہے۔ دوچار یا دس پانچ آدمیوں نے نہیں بلکہ ہر پشت کے لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں نے اس طریقہ کو اخذ کیا ہے اور اپنے بعد والی پشت تک کے لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں تک اسے پہنچایا ہے۔
اس کے بعد مودودی صاحب اس حربہ پر اتر آتے ہیں جس سے عوام کے جذبات کو مشتعل کیا جاتا ہے۔
اگر تاریخ اسلام کے کسی مرحلہ پر کسی نے اسے ایجاد کر کے دین میں شامل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ عام مسلمان بالاتفاق رائے اسے قبول کرتے اور کہیں کوئی بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا۔ آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری امت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہماری پچھلی نسلیں ایسی ہی منافق تھیں تو معاملہ قربانی تک کب محدود رہتا ہے۔ پھر تو نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ بلکہ خود رسالت محمدیہﷺ اور قرآن تک سب ہی کچھ مشکوک و مشتبہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
اس کے بعد ارشاد ہے:
افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ نہ خدا کا خوف رکھتے ہیں‘ نہ خلق کی شرم‘ علم اور سمجھ بوجھ کے بغیر جو شخص جس دینی مسئلہ پر چاہتا ہے۔ بے تکلف تیشہ چلا دیتا ہے پھر اسے کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس ضرب سے صرف اسی ایک مسئلہ کی جڑ کٹتی ہے یا ساتھ ہی ساتھ دین کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے۔
یہ ہے وہ آخری دلیل محکم جو سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی طرف سے قربانی کے ثبوت میں پیش ہوئی ہے۔ اس دلیل کا جواب اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے جو خود خدا نے دیا ہے جب فرمایا کہ:
وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْْہِ آبَاء نَا اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْْطَانُ یَدْعُوہُمْ اِلَی عَذَابِ السَّعِیْرِ -(31:21)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں! ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے اسلاف کو دیکھا ہے۔ خواہ انہیں شیطان جلتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف ہی کیوں نہ بلا رہا ہو۔
یا خود مودودی صاحب کے الفاظ میں کہ:
جو چیز قرآن کے الفاظ یا اسپرٹ کے خلاف ہو گی اسے ہم یقیناًرد کر دیں گے۔ (تفہیمات‘ حصہ اول‘ ص329)۔
مودودی صاحب عوام کو بھڑکانے کی خاطر فرماتے ہیں کہ:
’’آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری امت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے؟‘‘
یعنی مودودی صاحب کے نزدیک یہ امر محال ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد کوئی ایسی چیز دین میں داخل کر دی گئی ہو جو خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہو اور وہ امت میں اس طرح رائج ہو جائے کہ پھر تمام مسلمان اسی مسلک پر چل پڑیں۔ یہ دلیل (بظاہر) بڑی وزنی معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا جواب ہم سے نہیں‘ خود مودودی صاحب کی زبان سے سنئے۔ مودودی صاحب نے آج سے کچھ عرصہ پہلے‘ رسالہ الفرقان (بریلی) کے شاہ ولی اللہ نمبر میں ’’منصب تجدید کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے پہلے یہ بتایا تھا کہ اصلی اسلام کیا تھا اور اسے رسول اللہﷺ نے کس طرح متشکل فرمایا۔ اس کے بعد انہوں نے لکھا تھا کہ اس اصلی اسلام پر کیا گذری اور کس طرح گذری۔ سنئے کہ وہ اس باب میں کیا فرماتے ہیں۔ (اقتباس طویل ہے لیکن ایسا ناگزیر تھا)۔ آپ لکھتے ہیں:
خاتم النبیین سیدنا محمدﷺ نے یہ سارا کام 23 سال کی مدت میں تکمیل کو پہنچا دیا۔ آپ کے بعد ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ دو ایسے کامل لیڈر اسلام کو میسر آئے جنہوں نے اسی جامعیت کے ساتھ آپ کے کام کو جاری رکھا۔ پھر زمام قیادت حضرت عثمانؓ کی طرف منتقل ہوئی اور ابتداً چند سال تک وہ پورا نقشہ بدستور جما رہا جو نبیﷺ نے قائم کیا تھا۔
جاہلیت کا حملہ: مگر ایک طرف حکومت اسلامی۔۔۔ کی تیز رفتار وسعت کی وجہ سے کام روز بروز زیادہ سخت ہوتا جا رہا تھا اور دوسری طرف حضرت عثمانؓ‘ جن پر اس کارعظیم کا بار رکھا گیا تھا‘ ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطا ہوئی تھیں‘ اس لئے جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔ حضرت عثمانؓ نے اپنا سر دے کر اس خطرے کا راستہ روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رُکا۔ ان کے بعد حضرت علیؓ آگے بڑھے اور انہوں نے اسلام کے سیاسی اقتدار کو جاہلیت کے تسلط سے بچانے کی انتہائی کوشش کی مگر ان کی جان کی قربانی بھی اس انقلاب معکوس کو نہ روک سکی۔ آخر کار خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دور ختم ہو گیا‘ ’’ملک۔۔۔ ‘‘ نے اس کی جگہ لے لی‘ اور اس طرح حکومت کی اساس اسلام کی بجائے پھر جاہلیت پر قائم ہو گئی۔
حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جاہلیت نے مرض سرطان کی طرح اجتماعی زندگی میں اپنے ریشے بتدریج پھیلانے شروع کر دیئے‘ کیونکہ اقتدار کی کنجی اب اسلام کی بجائے اس کے ہاتھ میں تھی اور اسلام زور حکومت سے محروم ہونے کے بعد اس کے نفوذ و اثر کو بڑھنے سے نہ روک سکتا تھا۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہ آئی تھی بلکہ ’’مسلمان‘‘ بن کر آئی تھی۔ کھلے دہریئے یا مشرکین و کفار سامنے ہوتے تو مقابلہ شاید آسان ہوتا‘ مگر وہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار‘ رسالت کا اقرار‘ صوم و صلوٰۃ پر عمل‘ قرآن و حدیث سے استشہاد تھا اور اس کے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی تھی۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے عہدہ برآ ہونا ہمیشہ جاہلیتِ صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لئے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سے لڑنے جایئے تو منافقین ہی نہیں‘ بہت سے اصلی مسلمان بھی اس کی حمایت پر کمربستہ ہو جائیں گے اور الٹا آپ کو مورد الزام بنا ڈالیں گے۔ جاہلی امارت کی مسند اور جاہلی سیاست کی رہنمائی پر ’’مسلمان‘‘ کا جلوہ افروز ہونا‘ جاہلی تعلیم کے مدرسے میں ’’مسلمان‘‘ کا معلم ہونا‘ جاہلیت کے سجادہ پر ’’مسلمان‘‘ کا مرشد بن کر بیٹھنا وہ زبردست دھوکا ہے جس کے فریب میں آنے سے کم ہی لوگ بچ سکتے ہیں۔
اس معکوس انقلاب کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہی تھا کہ اسلام کا نقاب اوڑھ کر تینوں قسم کی جاہلیتوں نے اپنی جڑیں پھیلانی شروع کر دیں اور ان کے اثرات روز بروز زیادہ پھیلتے چلے گئے۔
جاہلیت خالصہ نے حکومت اور دولت پر تسلط جما لیا۔ نام خلافت کا تھا اور اصل میں وہی پادشاہی تھی جس کو مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔ بادشاہوں کو الٰہ کہنے کی ہمت کسی میں باقی نہ تھی اس لئے ’’السلطان ظل اللہ‘‘ کا بہانہ اختیار کیا گیا اور اس بہانے سے وہی مطاع مطلق کی حیثیت بادشاہوں نے اختیار کی جو الٰہ کی ہوتی ہے۔ اس شاہی کی سرپرستی میں امراء‘ حکام‘ ولاۃ‘ اہل لشکر اور مترفین کی زندگیوں میں کم و بیش خالص جاہلیت کا نقطۂ نظر پھیل گیا اور اس نے ان کے اخلاق اور معاشرت کو پوری طرح ماؤف کر دیا۔ پھر یہ بالکل ایک طبعی امر تھا کہ اس کے ساتھ ہی جاہلیت خالصہ کا فلسفہ‘ ادب اور ہنر بھی پھیلنا شروع ہو‘ اور علوم و فنون بھی اسی طرز پر مرتب و مدون ہوں‘ کیونکہ یہ سب چیزیں دولت اور حکومت کی سرپرستی چاہتی ہیں‘ اور جہاں دولت اور حکومت جاہلیت کے قبضہ میں ہوں وہاں ان پر بھی جاہلیت کا تسلط ناگزیر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یونان اور عجم کے فلسفے اور علوم و آداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی‘ اور اس کی دراندازی سے ’’کلامیات‘‘ کی بحثیں شروع ہوئیں‘ اعتزال کا مسلک نکلا‘ زندقہ اور الحاد‘ پَر پُرزے نکالنے لگا اور ’’عقائد‘‘ کی موشگافیوں نے نئے نئے فرقے پیدا کر دیئے۔ اسی پر بس نہیں رقص‘ موسیقی اور تصویر کشی جیسے خالص جاہلی آرٹ بھی ازسرِنو ان قوموں میں بار پانے لگے جن کو اسلام نے ان فتنوں سے بچا لیا تھا۔
جاہلیت مشرکانہ نے عوام پر حملہ کیا اور توحید کے راستے سے ہٹا کر ان کو ضلالت کی بے شمار راہوں میں بھٹکا دیا۔ ایک صریح بت پرستی تو نہ ہو سکی باقی کوئی قسم شرک کی ایسی نہ رہی جس نے ’’مسلمانوں‘‘ میں رواج نہ پایا ہو۔ پرانی جاہل قوموں کے جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے وہ اپنے ساتھ بہت سے مشرکانہ تصورات لئے چلے آئے اور یہاں ان کو صرف اتنی تکلیف کرنی پڑی کہ پرانے معبودوں کی جگہ مقابر اولیاء سے کام لیں اور پرانی عبادات کی رسموں کو بدل کر نئی رسمیں ایجاد کریں۔ اس کام میں دنیا پرست علماء نے ان کی بڑی مدد کی اور وہ بہت سی مشکلات ان کے راستہ سے دور کر دیں جو شرک کو اسلام کے اندر نصب کرنے میں پیش آسکتی تھیں۔ انہوں نے بڑی دیدہ ریزی سے آیات اور احادیث کو توڑ مروڑ کر اسلام میں اولیا پرستی اور قبر پرستی کی جگہ نکالی‘ مشرکانہ اعمال کے لئے اسلام کی اصطلاحی زبان میں سے الفاظ بہم پہنچائے اور اس نئی شریعت کے لئے رسموں کی ایسی صورتیں تجویز کیں کہ شرکِ جلی کی تعریف میں نہ آسکیں۔ اس فنی امداد کے بغیر اسلام کے دائرے میں شرک بیچارہ کہاں بار پا سکتا تھا؟
جاہلیتِ راہبانہ نے علماء مشائخ‘ زھاد اور پاک باز لوگوں پر حملہ کیا اور ان میں وہ خرابیاں پھیلانی شروع کیں جن کی طرف میں اس سے پہلے اشارہ کر آیا ہوں۔ اس جاہلیت کے اثر سے اشراقی فلسفہ‘ راہبانہ اخلاقیات اور زندگی کے ہر پہلو میں مایوسانہ نقطۂ نظر مسلم سوسائٹی میں پھیلا اور اس نے نہ صرف یہ کہ ادبیات اور علوم کو متاثر کیا‘ بلکہ فی الواقع سوسائٹی کے اچھے عناصر کو مارفیا کا انجکشن دے کر سست کر دیا‘ پادشاہی کے جاہلی نظام کو مضبوط کیا‘ اسلامی علوم و فنون میں جمود اور تنگ خیالی پیدا کی اور ساری دین داری کو چند خاص مذہبی اعمال میں محدود کر دیا۔
مودودی صاحب کے بیان کے مطابق‘ رسول اللہﷺ کی وفات کے تھوڑے عرصہ بعد ’’جاہلیت‘‘ اسلام میں گھس آئی اور اس نے مرض سرطان کی طرح مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اپنے ریشے بتدریج پھیلانے شروع کر دیئے اور اس کے بعد ہو یہ گیا کہ امارت کی مسند اور سیاست کی راہنمائی پر‘ جاہلیت مسلمان کا نقاب اوڑھ کر بیٹھ گئی۔ تعلیم کی مدد سے جاہلیت مسلمان کے لباس میں معلم بن کر متمکن ہو گئی اور خانقاہوں کے سجادوں پر جاہلیت مرشد و مربی کے خرقوں سے مسلط ہو گئی۔ غرضیکہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد زندگی کے عناصر ثلاثہ‘ سیاست‘ شریعت اور تصوف‘ سب پر غیر اسلامی تصورات چھا گئے اور چھا گئے خالص اسلام کا نقاب اوڑھ کر۔
ہم مودودی صاحب سے پوچھتے یہ ہیں کہ جب سرے سے پورے کے پورے اسلام کی جگہ ایک جدید اسلام نے لے لی تھی اور غیر اسلامی معتقدات و اعمال‘ یکسر اسلامی شعائر و مناسک بن کر مسلمانوں میں مروج ہو گئے تھے۔ تو اس سیلاب جاہلیت میں اگر یہ خیال بھی بہ کر آگیا ہو کہ ہر گلی کوچے میں قربانی امرِ مشروع ہے‘ تو اس میں کونسی بات وجۂ استعجاب ہے!
اصل یہ ہے کہ مودودی صاحب کرتے یہ ہیں (اور یہ مسلک ہر شخص کا ہوتا ہے جو ایک نئی پارٹی (فرقہ) کا مرکز بن رہا ہو) کہ جب انہیں یہ (Suit) کرے کہ مسلمانوں کو گمراہ اور برباطل قرار دیا جائے تو وہ بے محابا ایسا کہتے چلے جائیں گے۔ لیکن اس استثناء کے ساتھ کہ ’’اس گمراہی و ضلالت کے باوجود‘ ہر زمانے میں کچھ لوگ ایسے رہتے ہیں جو حق پر ہوتے ہیں‘‘ تاکہ اس سے وہ اپنی پارٹی کو برسرِ حق ثابت کر سکیں لیکن جب کوئی دوسرا شخص یہ کہے کہ مسلمانوں میں فلاں بات غلط چلی آرہی ہے تو وہ جھٹ جمہور کے بہی خواہ بن بیٹھیں گے اور انہیں یہ کہہ کر بھڑکائیں گے کہ ’’دیکھو! یہ شخص تمہارے اسلاف کے متعلق کہتا ہے کہ وہ سب گمراہ تھے۔ استغفراللہ۔ توبہ توبہ‘ ایسی جرأت!‘‘ مثلاً پچھلے دنوں مودودی صاحب نے ایک اصول بیان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی منصب کے لئے امیدوار ہو اسے اس منصب سے محروم کر دینا چاہئے کیونکہ ان کے نزدیک کسی منصب کے لئے اپنے آپ کو بطور امیدوار پیش کرنا قرآن اور حدیث دونوں کے خلاف ہے۔ اس پر کسی صاحب نے اعتراض کیا کہ حضرت علیؓ نے اپنے آپ کو خلافت کے لئے خود بطور امیدوار پیش کیا تھا۔ اس کے جواب میں مودودی صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ:
آخری فیصلہ کن بات اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اگر صحابہ کرامؓ یا بزرگانِ سلف میں سے کسی کا عمل ایک طرف ہو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ارشادات دوسری طرف تو ہمارے لئے یہ کسی طرح جائز نہیں کہ خدا اور رسولﷺ کے فرمان کو چھوڑ کر کسی بزرگ کے عمل کو اپنے لئے قانونِ زندگی قرار دیں۔ جس کا جو عمل بھی فرمانِ خدا اور رسولﷺ سے مختلف ہو وہ ایک لغزش ہے نہ کہ حجت۔ ان بزرگوں کی خوبیاں اور خدمات تو اتنی زیادہ تھیں کہ ان کی لغزشیں معاف ہو جائیں گی مگر ہم سے زیادہ بدقسمت کون ہو گا اگر ہم اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ پچھلے بزرگوں کی لغزشیں بھی چن چن کر اپنی زندگی میں جمع کر لیں۔
اگر یہی چیز کہیں طلوع اسلام میں شائع ہو جاتی تو آپ دیکھتے کہ اس پر کس طرح سب و شتم کی پوچھار ہوتی اور جمہور کو کس طرح یہ کہہ کر ابھارا جاتا کہ دیکھو! اب‘ اور تو اور‘ حضرت علیؓ کی ذاتِ گرامی پر بھی حملے ہونے لگ گئے ہیں!
بہرحال‘ آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ مودودی صاحب نے اپنے اس اعتراض کا جواب‘ کہ امت میں اس قسم کا خلافِ اسلام مسلک کیسے رائج ہو سکتا تھا‘ خود ہی کس طرح دے دیا ہے۔ مودودی صاحب نے یہ تو بتا دیا کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد کس طرح پورے کا پورا اسلام ایک دوسری قسم کے اسلام سے بدلا گیا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ جاہلیت‘ جو اسلام کا نقاب اوڑھ کر اندر گھسی تھی‘ آئی کن کن راہوں سے تھی اور اس کا طریقِ کار کیا تھا؟ مودودی صاحب کے لئے یہ بتانا مشکل تھا۔ مجرد گفتگو (Abstract talk) میں انسان کے لئے بڑی گنجائش رہتی ہے لیکن متعین گفتگو (Definite talk) میں آپ کو نتھر کر سامنے آنا پڑتا ہے۔ مودودی صاحب جانتے ہیں کہ ’’جاہلی اسلام‘‘ نے یہ سب کچھ روایات کی آڑ میں کیا۔ طلوع اسلام اس کو وہ سازش قرار دیتا ہے جس کا ذکر اس کے صفحات پربار بار ہوتا چلا آرہا ہے اور اس طرح مسلمانوں کے دامن کو روایات کی جھاڑیوں سے چھڑانا چاہتا ہے۔ مودودی صاحب بھی روایات کو ویسا ہی غیر یقینی مانتے ہیں جیسا طلوع اسلام۔ روایات کے متعلق ان کے یہ خیالات اس سے قبل انہی صفحات پر پیش کئے جا چکے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں۔
(1) صداقت کے ساتھ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ پہلی صدی کے
آخر سے حدیث کے ذخیرے میں ایک حصہ ایسی روایات کا بھی داخل ہونے لگا تھا جو موضوع تھیں اور یہ کہ بعد کی نسلوں کو جو احادیث پہنچیں ان میں صحیح اور غلط اور مشکوک سب ملی جلی تھیں۔
(2) یہ بات ناقابلِ انکار ہے کہ علم کا جیسا مستند اور معتبر ذریعہ قرآن مجید ہے ویسا مستند اور معتبر ذریعہ حدیث نہیں ہے۔
(3) محدثین کرام نے اسماء الرجال کا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا جو بلاشبہ نہایت بیش قیمت ہے۔ مگر ان میں کونسی چیز ہے جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو۔۔۔ نفس ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا تھا اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ اشخاص کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کرنے میں ان کے ذاتی رجحانات کا بھی کسی حد تک دخل ہو جائے۔ یہ امکان محض عقلی نہیں بلکہ اس امر کا ثبوت موجود ہے۔
(4) وہ بھی تو آخر انسان تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں۔ کیا ضروری ہے کہ جس کو انہوں نے ثقہ قرار دیا ہو وہ بالیقین ثقہ اور تمام روایتوں میں ثقہ ہو اور جس کو انہوں نے غیر ثقہ ٹھہرایا ہو وہ بالیقین غیر ثقہ ہو۔
(5) یہ مواد اس حد تک قابل اعتماد ضرور ہے کہ سنت نبویﷺ اور آثار صحابہؓ کی تحقیق میں اس سے مدد لی جائے اور اس کا مناسب لحاظ کیا جائے مگر اس قابل نہیں ہے کہ بالکل اسی پر اعتماد کر لیا جائے۔
(6) حقیقت یہ ہے کہ روایات کے لحاظ سے نقد حدیث کے جس قدر ذرائع ہمارے پاس ہیں وہ مفید علم و یقین نہیں ہیں بلکہ ظن غالب ہی تک ہمیں پہنچاتے ہیں۔1؂
لیکن اس کے بعد‘ طلوعِ اسلام تو کھلے کھلے کہہ دے گا کہ حق (قرآن) کی موجودگی میں ظن و تخمین (روایات) دین میں حجت نہیں قرار دی جا سکتیں۔ لیکن مودودی صاحب ایسا نہیں کہیں گے۔ اس لئے کہ ایسا کہنے سے وہ بھی ’’منکرِ حدیث‘‘ قرار پا جائیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ منکر حدیث کبھی اسلامی جماعت کا امیر نہیں رہ سکتا نہ ہی عوام میں مقبول رہ سکتا ہے۔ وہ روایات کو غیر یقینی قرار دے کر ماڈرن طبقہ کے نزدیک ماڈرن بن جائیں گے اور اپنی تحریروں میں ’’کتاب و سنت‘‘۔ ’’کتاب و سنت‘‘ کے الفاظ دہرا دہرا کر‘ عوام میں حامی سنت رسول اللہﷺ قرار پائیں گے۔
اس کے علاوہ‘ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے‘ احادیث کو دین قرار دینے میں گنجائش بڑی نکل آتی ہے۔ حدیثوں کے مجموعہ میں ہر قسم کی روایات مل جاتی ہیں۔ جس حدیث کو آپ اپنے مطلب کے مطابق سمجھیں اسے ’’مستند‘‘ کہہ دیں۔ جو اس کے خلاف ہو‘ اسے ضعیف قرار دے دیں؟ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ ماہ قبل یہ بحث چلی تھی کہ اسلام میں زمین کی انفرادی ملکیت جائز ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں بعض حضرات نے ایسی احادیث پیش کیں جن سے مترشح ہوتا تھا کہ زمین پر انفرادی ملکیت جائز نہیں اور زمین بٹائی پر نہیں دی جا سکتی۔ مودودی صاحب زمین پر زمینداروں کی ملکیت رکھنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہہ دیا کہ جو احادیث بٹائی کو ناجائز قرار دیتی ہیں سب غیر مستند ہیں اور جو احادیث میں بٹائی کے حق میں پیش کر رہا ہوں بالکل ثقہ اور صحیح ہیں۔
***
گذشتہ اوراق میں جو کچھ آپ کی نظروں سے گذر چکا ہے اسے بغور دیکھئے۔ یہ حقیقت آپ کے سامنے آجائے گی کہ:
(i) قرآن کریم نے قربانی کا ذکر حج کے سلسلہ میں کیا ہے۔
(ii) ایک جگہ نہیں‘ متعدد مقامات پر اس کی تخصیص اور تعیین کر
دی ہے کہ قربانیوں کا مقام خانہ کعبہ ہے۔
(iii) قربانی کے متعلق واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اس سے
مقصود سامانِ خور و نوش کا مہیا کرنا ہے۔
(iv) قرآن میں کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں جس سے ثابت
ہوتا ہو کہ عید کے دن‘ اپنی اپنی جگہ‘ ہر گلی‘ کوچے میں
قربانیاں دینے کا حکم ہے۔
اس سے یہ واضح ہے کہ قرآن کی رُو سے
(ا) قربانی حج کی تقریب پر کرنی چاہئے اور وہ بھی صرف اسی
قدر جس سے خور و نوش کا سامان ہو جائے۔ لہٰذا
(ب) نہ تو حج میں ایسی قربانیوں کی اجازت ہے جنہیں زمین
میں دبا دیا جائے اور نہ ہی حج سے باہر قربانی کا کوئی
سوال پیدا ہوتا ہے۔
یہ ہے قرآن کی کھلی کھلی اور واضح تعلیم۔ باقی رہیں احادیث۔ سو
(i) ان میں دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں۔ وہ بھی جن سے مترشح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے عید کے دن قربانی کی اور وہ بھی جن سے ظاہر ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود مکہ معظمہ میں بتقریب حج قربانی کی یا قربانی کے جانوروں کو مکہ معظمہ بھیجا۔
(ii) لہٰذا قرآن کی تخصیص و تعیینِ مقام و تقریب کے بعد‘ اول قسم کی احادیث کے متعلق یہی سمجھنا چاہئے کہ وہ
(ا) یا تو اس زمانے سے متعلق ہیں جب قرآن میں ہنوز حج کی قربانی کے احکام نہیں آئے تھے۔ اس لئے جب وہ احکام آگئے تو رسول اللہﷺ کا یہ عمل‘ سند نہ رہا۔ اور
(ب) اگر شق (ا)ناقابلِ تسلیم ہو تو پھر لامحالہ اسی نتیجہ پر پہنچا جائے گا کہ یہ روایات وضعی ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ کا کوئی عمل قرآن کے خلاف ہو نہیں سکتا۔
لیکن اگر اس کے باوجود آپ کو اس پر اصرار ہے کہ حج میں ہر حاجی کو ایک‘ ایک‘ دو دو‘ چار چار‘ دس دس‘ سو سو جانور ذبح کرنے کی اجازت ہے اور ہر جانور کے ذبح کرنے کا ثواب ملتا ہے اور نیز یہ کہ دنیا کے ہر گلی کوچے میں عید کے دن جانور ذبح کرنا امر مشروع ہے۔ تو ہم اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا کام راستہ دکھا دینا ہے۔ راستے پر لگا دینا نہیں۔
مشکل یہ ہے کہ جب انسان کے ذہن میں کوئی بات اندھی تقلید کی بنا پر بطور عقیدہ جم جائے تو اس میں خالی الذہن ہو کر سوچنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔ اگر ان حضرات میں خالی الذہن ہو کر سوچنے کی صلاحیت ہوتی تو ہم ان سے کہتے کہ آپ ذرا تصور میں لایئے کہ کسی جگہ قریب ایک لاکھ انسان جمع ہوں اور ان میں سے ہر ایک دو‘ دو۔ چار چار‘ بھیڑوں بکریوں کو ذبح کر کے زمین پر تڑپتا چھوڑ دے اور اس کے بعد ان تمام تین چار لاکھ لاشوں کو گڑھے کھود کھود کر دبا دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا میں ہر مقام پر کروڑوں کی تعداد میں اسی طرح جانور ذبح کئے جائیں اور دن بھر ان جانوروں کا گوشت اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر گھومتا پھرے اور اس کے بعد یہ قوم اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے ایک بہت بڑا کارنمایاں سرانجام دے دیا جس کا انہیں خدا کے ہاں بہت بڑا اجر ملے گا اور یہ جانور انہیں جہنم سے پار لگانے کا موجب بنیں گے۔ یہ منظر تصور میں لایئے اور پھر سوچئے کہ ان چار روایتوں نے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے‘ آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا اور کیا سے کیا بنا دیا ہے۔ روایات نے کیا یہ ہے کہ اسلام جیسے زندگی بخش نظامِ حیات کو رسومات کا مجموعہ بنا دیا ہے (اور یہی ان لوگوں کا مقصود تھا جنہوں نے مسلمانوں کو قرآن سے ہٹا کر روایات میں الجھا دیا۔ رسومات سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کو نتائج کے اعتبار سے نہیں پرکھتا بلکہ انہی کو بجائے خویش مقصود قرار دے لیتا ہے۔ ان کے برعکس دین (نظامِ زندگی) میں ہر عمل ایک مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے اس لئے اسے ہمیشہ نتائج کے لحاظ سے پرکھا جاتا ہے چونکہ رسومات‘ غور و فکر کے معیار پر کبھی پوری نہیں اترتیں اس لئے ان کے ساتھ ہی یہ عقیدہ پیدا کر دیا جاتا ہے کہ مذہب میں عقل کا کوئی کام نہیں۔ دین کو رسومات میں بدلنے کے لئے شروع میں ضرور کاوش کرنی پڑتی ہے لیکن جب ایک دو نسلوں تک یہ سلسلہ چل جائے تو اس کے بعد سابقہ نسل کا عمل (اسلاف کا مسلک) آنے والی نسل کے لئے سند قرار پا جاتا ہے اور اس طرح یہ گاڑی خود اپنے زور (Momentum) سے خود بخود آگے بڑھتی جاتی ہے اور جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے ’’اسلاف کے مسلک‘‘ کی سند پختہ سے پختہ تر ہوتی جاتی ہے کیونکہ اس طرح نسلاً بعد نسلٍ اسلاف کی تعداد میں بھی تو اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے حتی زرتم المقابر۔ قوم زندگی کی تمام صلاحیتوں سے محروم ہو جاتی ہے۔ ہم اسی (Momentum) کے زور میں بہے چلے جا رہے ہیں‘ ورنہ اگر کسی وقت بھی‘ تھوڑی دیر کے لئے کھڑے ہو کرسوچ لیا جائے تو بات کچھ ایسی مشکل نہیں جو سمجھ میں نہ آسکے۔ رسول اللہﷺ کا عہد ہمایوں نہایت مختصر سا عرصہ تھا۔ اس وقت یہی دین تھا اور یہی اس کے احکام‘ جن کے ہم آج مدعی ہیں۔ اس نے جو نتائج پیدا کر دیئے وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔ اس کے بعد تیرہ سو برس سے مسلمانوں میں یہ تمام ’’اعمال‘‘ (نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ کلمہ وغیرہ) مسلسل چلے آرہے ہیں لیکن یہ واقعہ ہے کہ اس عہد کے بعد ان اعمال و معتقدات نے کبھی وہ نتائج پیدا نہیں کئے جو اس عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس کے بعد ان ’’اعمال‘‘ کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پھل دینا ہی بند کر دیا؟ اس باب میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ :
(1) اس وقت خود رسول اللہﷺ موجود تھے اور ان کی وجہ
سے ان اعمال نے ایسے ثمرات مرتب کر دیئے۔
(2) وہ دور صحابہؓ کا تھا۔ اس کے بعد ویسے مسلمان کہاں
سے آئیں۔
ذرا سوچئے کہ یہ دلائل کس قدر خود فریبی کا موجب ہیں۔ اگر ان اعمال کے نتیجہ خیز ہونے کے لئے خود رسول کی موجودگی ضروری تھی تو پھر سلسلۂ نبوت ختم کیوں کر دیا گیا؟ میر زائی‘ نبوتِ میرزا کے جواز میں یہی دلیل پیش کرتے ہیں لیکن قرآن اس دلیل کی صاف تردید کرتا ہے۔ وہ برملا کہتا ہے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُولٌ۔ محمدﷺ صرف خدا کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ۔ اس سے پہلے بہت سے پیغامبر ہو گذرے ہیں۔ اَفَاِن مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَی اَعْقَابِکُمْ -(3:144) اگر یہ وفات پا جائے یا قتل کر دیا جائے تو کیا تم اس کے بعد اُلٹے پاؤں لوٹ جاؤ گے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کے پیش کردہ نظام حیات کے نتیجہ خیز اور ثمربار ہونے کے لئے رسول کی موجودگی ضروری نہیں۔ نبوت کو ختم کر کے‘ قرآن کو قیامت تک کے لئے محفوظ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب پیغام‘ نبی کے بغیر‘ وہی نتائج پیدا کرے گا جو اس نے نبی کی موجودگی میں پیدا کئے تھے۔ باقی رہی دوسری دلیل۔ سو وہ پہلی دلیل سے بھی زیادہ رکیک ہے۔ صحابہؓ کو صحابہؓ ‘ نظام قرآن پر عمل پیرا ہونے نے بنا دیا تھا۔ اس لئے نظام قرآنی جو نتائج اس وقت پیدا کر سکتا تھا وہی نتائج ہر زمانہ میں مرتب کر سکتا ہے۔ اس نظام کی تو خصوصیت ہی یہ ہے کہ یہ مکان اور زمان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ ہر زمانہ اور ہر مقام میں وہی زندگی بخش نتائج پیدا کر دے جو اس نے ایک دفعہ پیدا کئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دلائل‘ روایت پرستوں نے فریب دہی کے لئے وضع کئے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ اب رسول اللہﷺ کے عہد مبارک کی سی شوکت و عظمت کیوں حاصل نہیں ہوتی تو وہ پوچھنے والوں کو یہ کہہ کر جھوٹا اطمینان دلا دیتے کہ تم اپنا مقابلہ اُس دور سے کیسے کر سکتے ہو؟ کیا تم اپنے آپ کو صحابہؓ جیسا سمجھتے ہو؟ حالانکہ ہوا یہ تھا کہ صحابہؓ کے زمانہ میں ہر عمل‘ اس کے نتائج سے پہچانا جاتا تھا اور اب روایت پرستی نے دین کو رسومات میں تبدیل کر کے یہ عقیدہ پیدا کر دیا تھا کہ مذہب کے یہ ارکان‘ مقصود بالذات ہیں۔ تم جب ان رسومات کو ادا کر دیتے ہو تو یہ اللہ کے ہاں مقبول ہو جاتے ہیں اور ان کا ’’ثواب‘‘ تمہارے نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے جو قیامت کے دن میزان میں تلے گا۔ اس سے ہر شخص مطمئن ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اب بھی یہ حالت ہے کہ جو شخص حج کر کے آتا ہے اُسے اطمینان ہوتا ہے کہ بحمداللہ میں ایک اہم فریضہ سے سبکدوش ہو گیا اور جو شخص قربانی دے دیتا ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے اپنی نجات کا سامان مہیا کر لیا۔ قربانی کے مقبول ہونے کے لئے بس اتنی شرط ہے کہ جانور کان کٹا اور دم بریدہ نہ ہو۔ اگر اس کے کان اور دم ثابت ہیں اور وہ کانا اور لنگڑا نہیں ہے تو بس قربانی کا فریضہ مع جملہ شرائط کے ادا ہو گیا۔ دین کے متعلق یہ تصور پیدا کر دیجئے اور اس کے بعد صحابہؓ تو ایک طرف‘ فرشتوں کو بھی لے آیئے۔ دین کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا! دنیا کے باقی مذاہب کے ساتھ یہی ہوا تھا اور اسی تصور کو مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔ لیکن عجم کی اُس سازش نے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ (اور جسے مودودی صاحب نے ’’جاہلی اسلام‘‘ سے تعبیر کیا ہے) اسلام کو بھی دیگر مذاہب کی صف میں لاکھڑا کیا اور اس کے زندہ نظامِ حیات کو‘ جو اُمتِ وسطیٰ کے لئے امامتِ اقوام (Leadership of Nations) کا ضامن تھا‘ مجموعۂ رسومات بنا دیا اور یہ سب کچھ کیا گیا روایات کے زور پر۔ رسول اللہﷺ نے جس طرح اپنی صداقت کی ایک دلیل محکم پیش کی تھی اور وہ یہ کہ: فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُراً مِّن قَبْلِہِ اَفَلاَ تَعْقِلُونَ-(10:16) ’’میں نے اس سے قبل تمہارے اندر اپنی عمر گذاری ہے۔ کیا تم اس سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ میں سچا ہوں یا جھوٹا۔‘‘ اسی طرح حضورﷺ نے اپنے دین کی صداقت کے لئے بھی ایک ہی دلیل پیش کی تھی اور وہ یہ کہ:
قُلْ یَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَکُونُ لَہُ عَاقِبَۃُ الدِّارِ اِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ-(6:135)
ان سے کہو کہ اے میری قوم! (اس بات کا فیصلہ کہ تم جس نہج پر زندگی بسر کر رہے ہو وہ کامیابی کی راہ ہے یا جس مسلک کی طرف میں دعوت دیتا ہوں وہ خوشگواریوں کا راستہ ہے‘ بالکل آسان ہے۔ اس میں کسی بحث و جدل کی ضرورت ہی نہیں) تم اپنے نظامِ زندگی کے مطابق کام کئے جاؤ اور میں اپنے پروگرام کے مطابق کام کئے جاتا ہوں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے لئے ہے؟ نتائج خود بخود بتا دیں گے کہ خدا کے نظام کو چھوڑ کر دوسری راہوں پر چلنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
غور فرمایا آپ نے کہ دین کی صداقت کا معیار کیا تھا؟ یہ معیار تھا اس کے نظامِ حیات کے نتائج جو کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کر دینے کے لئے کافی تھے۔ وہ نتائج جو جلدی سامنے آجانے والے تھے۔ صرف قیامت کے دن نہیں بلکہ یہیں۔ اسی دنیا میں۔ تھوڑے سے وقت کے بعد۔ یہ تھا دین کا وہ استنتاجی معیار (Pragmatic test) جو قرآن نے پیش کیا تھا۔ ہم پوچھتے یہ ہیں کہ کیا آج دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان کسی قوم کے مقابلہ میں بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ تم اپنے طریق کے مطابق کام کئے جاؤ۔ ہم نمازیں پڑھتے ہیں‘ روزے رکھتے ہیں‘ حج کرتے ہیں۔ قربانیاں دیتے ہیں۔ اس کے بعد نتائج خود بخود بتا دیں گے کہ کامیابی کس کے ہاتھ میں رہتی ہے؟ ہماری ہزار برس کی نمازوں اور روزوں نے کیا نتائج پیدا کر دیئے ہیں جو اب پیدا ہو جائیں گے۔ یہ سب اس لئے کہ ہم نے روایات کی رو سے اعمال کو رسومات میں بدل دیا ہے اور اب جب ان رسومات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو روایات ہمیں یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی ہیں کہ یہ اعمال رائیگاں نہیں جا رہے۔ ان کا نتیجہ قیامت میں نکلے گا۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی یہی صوم و صلوٰۃ اور حج اور زکوٰۃ دین کے ارکان تھے لیکن رسول اللہﷺ کا چیلنج یہ تھا کہ ان اعمال کے نتائج ابھی سامنے آئے جاتے ہیں اور وہ نتائج سامنے آگئے لیکن جب ہماری رسومات کوئی نتائج پیدا نہیں کرتیں تو ہم یہ کہہ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ نہیں! ان کے نتائج اگلی دنیا میں جا کر مرتب ہوں گے! کتنا بڑآ ہے یہ فریب جس میں امت مبتلا چلی آرہی ہے۔ اس فریب کی رو سے‘ اعمال کے نتائج اس دنیا میں نہیں‘ صرف اگلی دنیا میں جا کر مرتب ہوں گے۔ ان نتائج سے مفہوم یہ ہے کہ ’’نجات‘‘ کس طرح سے ہو گی؟ اس نجات کے لئے روایات نے بہت سی آسان راہیں بتا دیں۔ اس کے لئے کسی جدوجہد‘ کسی سعی و عمل‘ کسی تگ و تاز‘ کسی کدو کاوش کی ضرورت نہیں۔ مطلب گناہوں کی معافی سے ہے تاکہ جنت مل جائے۔ سو اس کے لئے بڑے سے بڑے سہل نسخے کتب روایات میں موجود ہیں۔ موطا امام مالکؒ میں ہے کہ:
من قال سبحان اللہ و بحمدہ فی یوم ماۃ مرۃ حطت منہ خطایاہ وان کانت مثل زبدۃ البحر۔
جس نے دن میں سو مرتبہ ’’سبحان اللہ و بحمدہ‘‘ کا ورد کر لیا اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے خواہ وہ سمندر کے جھاگ جتنے بھی کیوں نہ ہوں۔
اس سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ روایات نے تو جنت کو یہاں تک سستا کر دیا ہے کہ: من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ۔1؂ جس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا جنت میں داخل ہو گیا۔ اس کے برعکس قرآن یہ کہتا ہے کہ:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّہُ الَّذِیْنَ جَاہَدُواْ مِنکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِیْنَ-(3:142)
کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم لوگوں میں سے انہیں پرکھا ہی نہیں جو جہاد کرنے والے ہیں اور مشکلات میں ثابت قدم رہنے والے۔
فرمایئے! کہ روایات کی جنت کو چھوڑ کر‘ قرآن کی جنت کی طرف کون آئے گا! قرآن نے حج کے متعلق کہا تھا کہ یہ دنیا میں قیاما للناس کا موجب ہے۔ یعنی اس سے نوع انسانی میں توازن قائم ہو جائے گا اور انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گی۔ اس کے معنی صاف ہیں کہ حج کا اجتماع اس مقصد کے لئے ہے کہ یہ امت‘ جس کا منصب شھداء علی الناس (تمام نوع انسانی کے اعمال کی نگرانی) ہے‘ ایک مرکزی مقام پر جمع ہو کر سوچے کہ دنیا میں قوانینِ خداوندی کا نفاذ کس طرح سے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قیامِ انسانیت‘ قوانینِ خداوندی کے بغیر ناممکن ہے۔ اسے سوچے اور اس کے بعد وہ تدابیر اختیار کرے جس سے دنیا میں نظامِ خداوندی عملاً نافذ ہو سکے۔ یہ تھا قرآنی حج۔ اسی اجتماع کے خور و نوش کے لئے قربانی کے جانوروں کی ضرورت تھی لیکن روایات نے یہ کہہ دیا کہ اگر فلاں فلاں رسومات ادا کر دی جائیں تو حج ہو جاتا ہے اور فلاں فلاں انداز کا جانور ذبح کر دیا جائے تو قربانی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہی حج جسے وجۂ قیامِ انسانیت بننا تھا‘ یکسر یاترا بن کر رہ گیا۔ یہ ہے جو کچھ روایات نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ اگر ہم قرآن ہی کو دین سمجھتے تو جب تک ہمارے اعمال وہ نتائج مرتب نہ کرتے جنہیں قرآن نے ان کا فطری ثمر قرار دیا ہے‘ ہم کبھی اطمینان سے نہ بیٹھتے۔ لیکن جب ہم نے روایات کو دین بنا لیا تو پھر نتائج کا سوال ہی باقی نہ رہا۔ پھر محض رسومات کی پابندی رہ گئی۔ اب آپ قربانی کے ہزار فلسفے تراشتے رہئے‘ اس سے کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ ان اعمال سے اسی وقت نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جب آپ قرآن سے پوچھیں کہ انہیں کن نتائج کے لئے متعین کیا گیا تھا۔
***
یہ ہیں قرآن کی رُو سے قربانی کے احکام۔ یعنی
(i) قربانی اجتماعِ حج کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کا مقصد اس اجتماع میں شریک ہونے والوں کے لئے خوراک بہم پہنچانا ہے۔ لہٰذا اس ضرورت سے زیادہ جس قدر جانور ذبح کئے جاتے ہیں وہ اہلاکِ نسل ہے۔ جسے قرآن نے فساد سے تعبیر کیا ہے۔ (ویھلک الحرث والنسل۔ 2:205)۔
(ii) حج کے علاوہ قربانی اور کہیں نہیں‘ لہٰذا یہ جو دنیا کے ہر قریہ اور ہر بستی کے ہر گلی کوچے میں جانور ذبح کئے جاتے ہیں قرآن کی رُو سے اس کی شرعی حیثیت کچھ نہیں۔
ذالک الدین القیم ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون۔
جن حضرات کو اللہ نے نور بصیرت عطا کیا ہے اور وہ قرآن کو ضابطۂ ہدایت مانتے ہیں‘ ہمارا خیال ہے کہ انہیں حقیقت تک پہنچنے میں کوئی دقت نہیں محسوس ہو گی۔ لیکن جو لوگ ابھی تک اُس سازش کے شکار چلے آتے ہیں‘ اور اس دامِ فریب سے نکلنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں‘ ان کے لئے اس قدر صراحت اور وضاحت بھی کچھ نفع رساں نہیں ہو سکتی۔ انہیں ان کا مولوی ایک ہی خطبہ میں بتا دے گا کہ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے جو تمہیں ’’اتباعِ رسول اللہﷺ‘‘ سے باز رکھنا چاہتا ہے۔ وہ اس عجمی سازش کو ’’اتباعِ رسول اللہﷺ‘‘ کے نقاب میں پیش کرے گا اور پھر حجاز کے میدان میں لاکھوں بھیڑیں بکریاں ذبح کر کے چھوڑی جائیں گی اور پھر مسلمانوں کی تمام بستیوں میں‘ ہر گلی اور کوچہ میں جانور ذبح کر کے‘ ان کے ایک ایک بال کے عوض دس دس نیکیاں حاصل کی جائیں گی اور اس طرح ’’پل صراط‘‘ سے ’’صحیح و سالم‘‘ گذرنے کا ذریعہ فراہم کیا جائے گا۔ اس جاہلیت کی پیدا کردہ سازش کا مقابلہ آسان نہیں۔ اس لئے کہ:
سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہیں آتی۔ بلکہ ’’مسلمان‘‘ بن کر آتی ہے۔ کھلے دہریئے‘ مشرکین یا کفار سامنے ہوں تو مقابلہ آسان ہوتا ہے۔ مگر یہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار‘ رسالت کا اقرار‘ صوم و صلوٰۃ پر عمل‘ قرآن و حدیث سے استشہاد ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے عہدہ برا ہونا ہمیشہ جاہلیت صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مسلمان مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لئے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سے لڑنے جایئے تو منافقین ہی نہیں بہت سے اصلی مسلمان بھی اس کی حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں گے اور الٹا آپ کو موردِ الزام بنا ڈالیں گے۔
(مودودی صاحب)۔
طلوع اسلام کا مقصد اسی ’’مرکب جاہلیت‘‘ سے جنگ کرنا ہے۔ وہ مقابلہ کی سختی سے آگاہ اور ان ساحرین کی شعبدہ بازیوں کے اثرات سے اچھی طرح واقف ہے۔ لیکن‘ بایں ہمہ:
اسے کیا غم کہ اس کی آستیں میں ہے یدِبیضا؟
***

تعارف: غلام احمد پرویز
بٹالہ/ لاہور
(بشکریہ تحریک پاکستان گولڈ میڈل 1989ء
شعبہ تحریک پاکستان‘ محکمہ اطلاعات و ثقافت‘ حکومت پنجاب)
علامہ غلام احمد پرویز مرحوم کی تاریخ پیدائش 9/جولائی 1903ء ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مرکزی حکومت ہند کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی وہ مرکزی حکومت پاکستان میں منتقل ہو گئے اور 1955ء میں اسسٹنٹ سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
شیدائیء اقبالؒ ہونے کے ناطے‘ آپ 1930ء سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے اس تصور کو آگے بڑھاتے رہے جسے حضرت علامہ اقبالؒ نے الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبہ میں پیش کیا تھا۔
1937ء کے موسم گرما میں‘ علامہ اقبالؒ کے ایماء پر حضرت قائداعظمؒ نے اپنے قیامِ شملہ کے دوران علامہ پرویز کو بلا کر فرمایا کہ یہ مولوی صاحبان تحریک پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‘ اس کی مدافعت کے محاذ کو میں تمھارے سپرد کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ حضرت قائداعظمؒ کی ہدایت پر وہ تمام ضروری اقدامات کئے گئے جن کے نتیجہ کے طور پر ماہنامہ ’’طلوع اسلام‘‘ کے دور جدید کا اجراء‘ مئی 1938ء کے شمارے کے ساتھ عمل میں آیا۔ اس ماہنامہ میں پرویز صاحب نے قرآن کریم کے عطا فرمودہ ’’دو قومی نظریہ‘‘ اسلامی مملکت کی ضرورت اور اس کے بنیادی تقاضوں پر گرانقدر مقالات لکھے۔ اس دوران کانگرسی اور نیشنلسٹ علماء کی طرف سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے خلاف جو کچھ لکھا جاتا رہا‘ اس کا آپ نے موثر دفاع کیا۔
علامہ موصوف اس وقت سرکاری ملازمت میں تھے‘ اس لئے مسلم لیگ کے سٹیج سے بات کرنا تو ان کے لئے دشوار تھا تاہم دہلی اور اس کے گردونواح کے ایسے تمام شہروں میں جہاں شام کو جا کر اگلے روز علی الصبح واپس آیا جا سکے‘ مسلم لیگ کے شبانہ جلسوں کے فوراً بعد اسی سٹیج سے بزمِ اقبال کی محفل آراستہ کی جاتی جس میں پرویز صاحب قرآن کریم اور فکر اقبالؒ کی روشنی میں تحریک پاکستان اور مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے تصور کو واضح طور پر قوم کے سامنے پیش کرتے۔
یہ عملی جدوجہد قیام پاکستان تک جاری رہی۔ حتیٰ کہ جب 1946ء میں سرخ پوشوں اور کانگرس کی ملی بھگت سے مسلم اکثریت کے صوبہ سرحد میں‘ پاکستان میں شمولیت/عدم شمولیت کے سوال پر ریفرنڈم کرانا طے پایا گیا تو پرویز صاحب صوبہ سرحد میں تشریف لے گئے اور اس وقت کے سرحد مسلم لیگ کے صوبائی صدر خان بخت جمال خان اور ان کے رفقاء کی معاونت سے صوبہ کی کانگرسی وزارت اور سرخپوش لیڈر خان عبدالغفار خان کو ہمہ جہت مخالفتوں کے علی الرغم سرحد کے مسلم عوام کا فیصلہ کن ووٹ پاکستان کے حق میں ڈلوانے میں کامیاب ہوئے۔
علامہ پرویز 1937-38ء سے حضرت قائداعظم علیہ الرحمتہ کے‘ تحریک پاکستان کی دینی اساس کے موضوع پر ذاتی مشیر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ یہی وہ واحد شخصیت تھی جنہیں حضرت قائداعظمؒ سے پیشگی وقت لئے بغیر ان کی خدمت میں‘ کسی وقت بھی باریابی کا شرف حاصل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائداعظمؒ نے قرآنی ہدایات سامنے آجانے کے بعد ہمیشہ انہی کے مطابق عمل کیا۔ پرویز صاحب ان معدودے چند دانشوروں میں شامل ہیں جنہوں نے بقول پیر علی محمد راشدی‘ پاکستان کی سکیم کی تیاری میں مدد کی تھی۔
حضرت قائداعظمؒ ‘ علامہ پرویز پر غایت اعتماد رکھتے تھے اور ان کی رائے کو اس قدر اہمیت دیتے تھے کہ جب اس کا وقت آیا تو ان سے پاکستان کے سیکرٹریٹ کے لئے مناسب افسروں کے انتخاب کے لئے سفارش طلب کی۔
قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک جب کسی دریدہ دہن نے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ یا ان کے رفقاء کے خلاف ہرزہ سرائی کی ناپاک کوشش کی تو یہی مرد مجاہد آڑے آیا اور ہر موقع پر ایسے مدلل مقالات سپرد قلم کئے جن سے تحریک پاکستان کے ان زعماء کی عظمت کردار نکھر اور ابھر کر قوم کے سامنے آتی رہی۔
علامہ غلام احمد پرویز نے 24 فروری 1985ء کو وفات پائی۔
قرآنی معاشرہ میں کیا ہو گا۔۔۔۔۔؟
-1 قرآنی معاشرہ میں ہر شخص کی عزت بلا تمیز قوم‘ رنگ‘ نسل‘ پیشہ‘ محض اس کے انسان ہونے کی جہت سے ہو گی۔ کسی کو پست یا ذلیل نہیں سمجھا جائے گا۔ برتری کا معیار یہ ہو گا کہ کوئی شخص اپنے فرائض کی بجا آوری میں کس قدر محنت اور دیانت سے کام لیتا ہے اور نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کیا کرتا ہے۔
-2 کوئی شخص بے کس و لاچار اور بے یارو مددگار نہیں ہو گا۔ ہر ایک کی بات سنی جائے گی اور تکلیف رفع کی جائے گی۔ ہر شخص کو انصاف ملے گا اور بغیر کچھ خرچ کئے ملے گا۔ کوئی صاحب اثر انصاف کے پلڑے کو اپنی طرف نہیں جھکا سکے گا۔
-3 کوئی فرد بھوکا ننگا یا بے گھر نہیں رہے گا۔ تمام افراد کے لئے خوراک‘ لباس اور مکان کا انتظام کرنا معاشرہ کے ذمہ ہو گا۔ یعنی قرآنیِ معاشرہ ہر شخص کی اور اس کی اولاد کی ضروریات زندگی بہم پہنچانے کا ذمہ دار ہو گا۔
-4 معاشرہ کی یہ بھی ذمہ داری ہو گی کہ ہر شخص کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا انتظام کرے جس سے انسان کی صلاحیتوں کی نشوونما ہو۔ بالفاظ دیگر معاشرہ کا وجود فرد کی ذات کی تکمیل کے لئے ہو گا۔
-5 ہر شخص اپنی پوری استعداد و محنت سے کام کرے گا۔ صرف وہ افراد کام نہیں کریں گے جو کسی وجہ سے کام کرنے سے معذور ہو گئے ہوں۔ یہ نہیں ہو گا کہ کچھ لوگ تو محنت کرتے کرتے ہلکان ہو جائیں اور باقی لوگ ان کی کمائی پر مفت میں عیش اڑائیں۔
-6 ہر شخص اپنی محنت کے ماحصل میں سے اپنے لئے صرف اتنا رکھے گا جس سے اس کی مناسب ضروریات پوری ہوں۔ باقی اپنے دل کی رضامندی سے حاجت مندوں کی ضروریات کے لئے کھلا رکھے گا۔ بلکہ عندالضرورت دوسروں کو اپنے آپ پر ترجیح دے گا۔ کیونکہ انسانی ذات کی نشوونما کا یہی طریق ہے۔
-7 رزق کے سرچشمے (خواہ زمین کی شکل میں ہوں یا کارخانوں کی صورت میں) قرآنی معاشرہ کی تحویل میں رہیں گے تاکہ وہ افراد معاشرہ کی پرورش کے کام آئیں۔ جب افراد کی ضروریات زندگی کی ذمہ داری معاشرہ کے سر ہو گی اور رزق کے سرچشمے حاجت مندوں کے لئے کھلے رہیں گے تو کسی کے لئے دولت سمیٹ کر جمع کرنے اور جائدادیں بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔
-8 ہر معاملہ کا فیصلہ خدا کے احکام (قرآنِ کریم) کے مطابق ہو گا نہ کہ کسی خاص گروہ یا طبقہ کی مرضی کے مطابق (اس معاشرہ میں گروہوں‘ لیڈروں اور پارٹیوں کا وجود ہی نہیں ہو گا) اس لئے اس میں نہ کسی قسم کا جور ہو گا نہ استبداد‘ نہ ظلم ہو گا نہ زیادتی۔ اسے نظام خداوندی یا قرآنی نظام معاشرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
-9 ہر شخص کھل کر بات کرے گا۔ اس کے دل میں نہ کسی طرف سے نقصان پہنچنے کا ڈر ہو گا نہ کسی کو نقصان پہنچانے کا خیال۔ ایک دوسرے پر اعتماد بھروسہ ہو گا اور فریب کی گنجائش نہیں ہو گی۔ اس طرح گھروں کے اندر سکون اور معاشرہ کے اندر اطمینان ہو گا۔
-10 یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہو گا کہ ہر شخص قوانین خداوندی کے محکم اور مکافات عمل کے برحق ہونے پر یقین رکھے گا۔ یہ نظام قائم ہی ان بنیادوں پر ہو گا۔ اس میں اس قسم کے نظام کی تشکیل کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نوع انسان کی مشکلات اور مصیبتوں کا حل اسی قسم کے نظام کے قیام میں مضمر ہے تو اس کے قیام و عمل کے لئے اپنا فریضہ ادا کیجئے اور ہم سے تعاون فرمایئے۔
*******

3,969 total views, no views today

(Visited 887 times, 3 visits today)

نماز کی اہمیت – پرویز

طلوع اسلام کے خلاف مسلسل ہونے والے منفی پروپیگنڈا کے زیر اثر ہمارے نئے قارئین کی طرف سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ طلوع اسلام یا پرویز صاحب کا نماز سے متعلق نظریہ کیا تھا؟ سو ان احباب کے استفادہ کے لئے نماز سے متعلق پرویز علیہ الرحمتہ کی وہ تحریریں جو طلوع اسلام کے مختلف پرانے شماروں اور کتابوں میں شامل ہیں‘ ان کو یکجا کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔ امید ہے آپ اس کاوش کو مفید پائیں گے۔

***

ایک صاحب نے مجھ سے حسب ذیل سوالات دریافت کئے ہیں۔
(1) آپ کہتے ہیں کہ اسلام قوانین خداوندی کا نام ہے۔ اس میں نماز کی اہمیت اور مقام کیا ہے؟
(2) نماز اور صلوٰۃ میں کیا فرق ہے۔ آپ نے کہیں اس کی صراحت کی ہے کہ صلوٰۃ سے مراد نماز ہے؟
(3) کیا آپ نماز کی موجودہ شکل کے علاوہ کوئی اور شکل تجویز کرتے ہیں؟

جواب

(1) اسلام نام ہے زندگی کے ہر شعبے میں احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کر دینے کا۔ ان کی پوری پوری اطاعت کرنے کا۔ نماز‘ اس طرح سر تسلیم خم کرنے کا عملی اعتراف اور محسوس مظاہرہ ہے۔ خدا کے سامنے سر جھکا دینے (سجدہ ریز ہو جانے) سے انسان اس امر کا اقرار (یا اظہار) کرتا ہے کہ وہ اپنے ہر ارادے‘ فیصلے اور عمل میں اس کے احکام کی اطاعت کرے گا۔ جس کا دل‘ جذبات فرماں پذیری اور اطاعت گزاری سے لبریز ہو‘ اس کا سر خود بخود خدا کے حضور جھک جائے گا اور جو خدا کے حضور سر جھکانے میں عار یا سبکی محسوس کرتا ہے وہ اس کی اطاعت کیا کرے گا؟ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ جو شخص زندگی کے مختلف شعبوں میں قوانین خداوندی سے سرکشی برتتا ہے‘ اس کا نماز میں رسمی طور پر سر جھکا دینا‘ مقصد صلوٰۃ کو پورا نہیں کر سکتا۔
(2) نماز فارسی (بلکہ پہلوی) زبان کا لفظ ہے جو اہل ایران کے قدیم طریق پرستش کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں یہ لفظ‘ اجتماعات صلوٰۃ کے لئے استعمال کر لیا گیا اور اب ہمارے ہاں یہی لفظ مروج ہے (میں سمجھتا ہوں کہ جو اصطلاحات قرآن کریم نے مقرر کی ہیں انہیں اسی طرح استعمال کرنا زیادہ اچھا ہے) قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ آیا ہے جو معنوی اعتبار سے بڑا وسیع اور جامع ہے۔ اس کے بنیادی معنی کسی کا اتباع یا اطاعت و محکومیت اختیار کرنا ہیں۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو نماز کے اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ لہٰذا جب ہم نماز کا لفظ بولیں گے تو اس کا مطلب صرف نماز ہو گا۔ لیکن جب صلوٰۃ کا لفظ استعمال کریں گے تو اس میں نماز بھی آجائے گی اور اس کے علاوہ اور مفہوم بھی۔ میں نے اکثر مقامات پر اس کی صراحت کر دی ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ نماز کے اجتماعات کے لئے بھی قرآن کریم میں آیا ہے۔ مثلاً لغات القرآن میں لفظ صلوٰۃ (مادہ ص۔ل۔و (ی) کے تحت آپ کو یہ عبارت ملے گی۔
صلوٰۃ کے جو مختلف مفاہیم اوپر بیان ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ ایک عبد مومن‘ زندگی کے جس گوشے میں بھی قوانین خداوندی کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کرتا ہے وہ فریضہ صلوٰۃ ہی کو ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے لئے وقت‘ مقام یا شکل کا تعین ضروری نہیں۔ لیکن قرآن کریم میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں صلوٰۃ کا لفظ ایک خاص قسم کے عمل کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
اس کے بعد قرآن کریم کی وہ آیات دی گئی ہیں جن میں صلوٰۃ کا لفظ نماز کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے۔
تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ ان اجتماعات کے لئے بھی آیا ہے جنہیں عام طور پر نماز کے اجتماعات کہا جاتا ہے۔ (نماز کا لفظ عربی زبان کا نہیں پہلوی زبان کا ہے)۔

اس کے بعد ارکان صلوٰۃ کی اہمیت کے سلسلے میں لکھا ہے۔
انسان اپنے جذبات کا اظہار جسم کے اعضا کی محسوس حرکات سے بھی کرتا ہے اور یہ چیز اس میں ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ اس سے یہ حرکات خود بخود سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ غم و غصہ‘ خوشی‘ تعجب‘ عزم و ارادہ‘ ہاں اور نہ‘ وغیرہ قسم کے جذبات اور فیصلوں کا اظہار‘ انسان کی طبیعی حرکات سے بلا ساختہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی کیفیت جذبات عزت و احترام اور اطاعت و انقیاد کے اظہار کی ہے۔ تعظیم کے لئے انسان کا سر بلا اختیار نیچے جھک جاتا ہے۔ اطاعت کے لئے ’’سرتسلیم خم‘‘ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن کریم عمل کی روح اور حقیقت پر نگاہ رکھتا ہے اور محض (Formalism) کو کوئی وزن نہیں دیتا‘ لیکن جہاں کسی جذبہ کی روح اور حقیقت کے اظہار کے لئے (Form) کی ضرورت ہو‘ اس سے روکتا بھی نہیں۔ بشرطیکہ اس (Form) ہی کو مقصود بالذات نہ سمجھ لیا جائے۔ صلوٰۃ کے سلسلہ میں قیام و سجدہ وغیرہ کی جو عملی شکل ہمارے سامنے آتی ہے وہ اسی مقصد کے لئے ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ان جذبات کا اظہار اجتماعی شکل میں ہو گا تو اظہار جذبات کی محسوس حرکات میں ہم آہنگی کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے‘ ورنہ اجتماع میں انتشار ابھرتا دکھائی دے گا۔ احترام و عظمت‘ انقیاد و اطاعت اور فرماں پذیری و خود سپردگی کے والہانہ جذبات کے اظہار میں نظم و ضبط کا ملحوظ رکھنا بجائے خویش بہت بڑی تربیت نفس ہے۔

مفہوم القرآن میں قرآنی اصطلاحات کے ضمن میں لکھا گیا ہے۔
قرآن کریم کی ایک خاص اصطلاح ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ ہے جس کے عام معانی نماز قائم کرنا یا نماز پڑھنا کے ہیں۔ اس لئے صلوٰۃ میں‘ قوانین خداوندی کے اتباع کا مفہوم شامل ہو گا۔ بنا بریں اقامت صلوٰۃ سے مفہوم ہو گا ایسے نظام یا معاشرہ کا قیام جس میں قوانین خداوندی کا اتباع کیا جائے۔ یہ اس اصطلاح کا وسیع اور جامع مفہوم ہے۔ نماز کے اجتماعات میں قوانین خداوندی کے اتباع کا تصور‘ محسوس اور سمٹی ہوئی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس اصطلاح کو ان اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کس مقام پر اقامت صلوٰۃ سے مراد اجتماعات نماز ہیں اور کس مقام پر قرآنی نظام یا معاشرہ کا قیام۔ مفہوم القرآن میں یہ معانی اپنے اپنے مقام پر واضح کر دیئے گئے ہیں۔
ان تصریحات سے واضح ہے کہ میں نے صلوٰۃ کے معنی نماز اور اقامت صلوٰۃ کے معنی اجتماعات صلوٰۃ کا قیام واضح الفاظ میں دیئے ہیں اور اس سے مراد وہی نماز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں۔
(3) ایک مقام پر نہیں‘ متعدد مقامات پر اور ایک مرتبہ نہیں‘ متعدد بار اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز پڑھتے چلے آرہے ہیں ان میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اسی وجہ سے میں فرقہ اہل قرآن سے بھی اختلاف رکھتا ہوں جنہوں نے اپنے لئے الگ نماز تجویز کر رکھی ہے۔ البتہ میں یہ ضرورکہتا ہوں کہ اگر مسلمانوں میں پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت کا قیام ہو جائے اور وہ تمام امت کے لئے نماز کی ایک ہی شکل تجویز کر دے تو یہ امت میں وحدت پیدا کرنے کے لئے بڑا موثر اقدام ہو گا۔ یہ تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ عہد رسالت مآب اور خلافت راشدہ میں‘ امت ایک ہی طریق پر نماز ادا کرتی ہو گی۔ اس وقت امت میں وحدت تھی۔ اس لئے جب ہم پھر سے اسی عہد سعادت مہد کی طرف رخ کریں گے تو امت میں وحدت پیدا کرنے کی کوشش بھی ضرورکرنی ہو گی اور نماز اس کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اب امت میں وحدت پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں‘ تو میں اس سے بحث نہیں کرتا۔
(’’طلوع اسلام‘‘ نومبر و دسمبر 1961ء ؁‘ ص 12)

نماز کی اہمیت

میں نے ایسی باتیں بھی سنی ہیں کہ بعض اراکین بزم یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اب جو اسلام کو سمجھا ہے‘ اس کی بناء پر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا ’’طلوع اسلام‘‘ نے آپ کو یہی تعلیم دی ہے کہ نماز نہ پڑھنے پر فخر کرو؟ آپ نے غیر قرآنی روش زندگی کو تو نہ چھوڑا‘ اور اس کے بجائے اس قسم کی باتیں کرنے لگ گئے اور ستم بالائے ستم کہ اپنے آپ کو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستہ ظاہر کر کے ایسی باتیں کرنے لگے۔ طلوع اسلام پر آخر یہ کتنا بڑا الزام ہے جو آپ نے عائد کر دیا۔
ذاتی طور پر مجھ میں بھی کمزوریاں ہیں اور میں ہمیشہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہوں۔ لیکن یہ انتہائی ظلم ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کے لئے جواز کی صورتیں تلاش کرنے لگ جائیں۔ آپ قرآنی نظریات کے خلاف سب کچھ کر رہے ہیں۔ تجارت‘ کاروبار‘ شادی‘ رشتے ناطے سب کچھ ہو رہا ہے۔ بینک بیلنس برابر قائم ہیں۔ قرآن کے مطابق انہیں بدلنے کے لئے آپ کے ذہن میں کبھی کچھ نہیں آیا۔ پھر نماز کے بارے میں ایسا کیوں ہے؟ (بعض گوشوں سے آوازیں آئیں کہ یہ بھی ہمارے مخالفین کا پروپیگنڈہ ہے جو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستگی ظاہر کر کے اس قسم کی باتیں مشہور کرتے رہتے ہیں۔ محترم پرویز صاحب نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا) ہم معاشرے میں اصلاح کا آغاز اپنے گھروں سے ہی کر سکتے ہیں لیکن اگر پہلے خود ہی نماز روزہ چھوڑ دیں تو پھر اصلاح کس طرح ہو گی؟ خدارا اپنے قول و عمل کو بصیرت‘ علم اور خلوص پر مبنی رکھئے۔ ’’مقدس بہانے‘‘ تلاش نہ کیجئے بلکہ اعتراف کیجئے اپنی کمزوریوں کا۔ ہم نے قرآنی معاشرہ قائم کرنا ہے جو صرف نیک اور پاکباز زندگی بسر کرنے سے قائم ہو سکے گا۔ (منزل بہ منزل از پرویز‘ ص 35-36)

غلط فہمی کا ازالہ

ہماری ہر محفل میں الصلوٰۃ کا بحیثیت نظام جس طرح بار بار ذکر آتا ہے اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہ ہونے پائے کہ ہم نماز کے وقت اجتماعات کی اہمیت کے قائل نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ صلوٰۃ کا وقتی اجتماع بھی قرآن ہی کا ارشاد ہے اور یہ الصلوٰۃ کے عالم آرا نظام ہی کی سمٹی ہوئی تصویر ہے۔ جو شخص نماز کی اہمیت کو کم کرتا ہے وہ طلوع اسلام کے خلاف فتنہ و شرارت کا محرک ہے اور ایسی مذموم حرکت کسی طرف سے نہ تو دانستہ ہونی چاہئے اور نہ نادانستہ۔
(ماہنامہ طلوع اسلام‘ مئی 1959ء ؁ ص 14)

5,461 total views, no views today

(Visited 995 times, 3 visits today)

صرف ایک سوال – پرویز

یہ شکایت آج کی نہیں‘ صدیوں سے چلی آرہی ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے —  کسی خاص فرقہ، خاص گروہ، خاص ملک کے مسلمانوں نے نہیں، پوری کی پوری اُمتِ مسلمہ نے–  بات ہے تو درست‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کبھی کسی نے اس پر بھی غور کیا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ یہ کیا ہوا کہ پوری کی پوری قوم نے اسلام چھوڑ دیا اور یہ ایک آدھ دن کی بات نہیں صدیوں سے اس کی یہی حالت ہے تو ایسا کیوں ہے؟ ایک بات تو بالکل واضح ہے۔۔ پہلے اسی پر غور کرنا چاہئے۔

آپ کسی کمیونسٹ سے پوچھئے کہ کمیونزم کسے کہتے ہیں۔ وہ صاف‘ واضح اور متعین الفاظ میں اس کا جواب دے دے گا۔۔۔ آپ یہ سوال متعدد کمیونسٹوں سے پوچھئے۔ ہر ایک کا جواب ایک ہی ہو گا۔ اس جواب کی روشنی میں آپ کے لئے یہ متعین کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہو گا کہ فلاں شخص کمیونسٹ ہے یا نہیں۔ یا فلاں قوم نے کمیونزم کو چھوڑ دیا ہے یا وہ اس پر عمل پیرا ہے۔
اسی طرح آپ سوشلسٹوں سے‘ سوشلزم کے متعلق پوچھئے ان کے ہاں سے بھی متعین جواب مل جائے گا کہ سوشلزم کسے کہتے ہیں اور اس کے جواب کی روشنی میں آپ بآسانی یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ فلاں شخص یا قوم نے سوشلزم کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟
اس قسم کا سوال آپ مغربی جمہوریت کے متعلق پوچھئے۔ وہاں سے بھی آپ کو متعین جواب مل جائے گا۔
اس کے بعد آپ کسی مسلمان سے پوچھئے کہ اسلام کیا ہے اور پھر دیکھئے کہ وہ کیا جواب دیتا ہے‘ اور جب آپ یہی سوال مختلف مسلمانوں سے پوچھیں تو اس کے بعد دیکھئے کہ ان میں سے ایک کا جواب دوسرے سے نہیں ملے گا۔ یہ بات ہم عوام کے متعلق نہیں کر رہے۔ حضرات علماء کرام سے یہ سوال کیجئے اور پھر دیکھئے کہ ان کے ہاں سے کیا جواب ملتا ہے اور ایک کا جواب دوسرے سے کس قدر مختلف ہوتا ہے۔ ہم یہ بات محض نظری طور پر نہیں کہہ رہے۔ عملاً ایسا ہو چکا ہے۔ ۱۹۵۳ء کے (ختمِ نبوت تحریک کے سلسلہ میں) فساداتِ پنجاب کی تحقیقاتی کمیٹی نے (جسے عرفِ عام میں منیر کمیٹی کہا جاتا ہے) مختلف علماء کرام سے پوچھا کہ ’’مسلمان کسے کہتے ہیں‘‘ کمیٹی کی رپورٹ مطبوعہ شکل میں موجود ہے اس میں آپ دیکھئے کہ ان حضرات کی طرف سے اس سوال کا جواب کیا ملا تھا! ان میں سے بعض نے تو کہہ دیا کہ اس سوال کا جواب دو چار فقروں میں دیا نہیں جا سکتا۔ اس کے لئے صفحات در صفحات درکار ہوں گے۔ جنہوں نے جواب دیا۔ ان کے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:۔
ان علماء میں سے کسی دو کے جواب بھی ایک دوسرے سے ملتے نہیں تھے۔ (انگریزی رپورٹ۔ ص ۲۱۸)۔
آپ اس رپورٹ پر نہ جایئے۔ مختلف فرقوں کے علماء حضرات سے خود یہ سوال پوچھئے کہ اسلام کسے کہتے ہیں اور مسلمان کی تعریف (Definition) کیا ہے۔ ان کے جواب خود‘ اس رپورٹ کی تائید کر دیں گے۔ ان حقائق کی روشنی میں آپ سوچئے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے‘ تو اس کا متعین مفہوم کیا ہے؟ جب ہم متعین اور متفق طور پر یہی نہیں بتا سکتے کہ مسلمان کسے کہتے ہیں اور اسلام کیا ہے تو ایسا کہنے کا مفہوم کیا ہو گا کہ ’’مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔‘‘ یہ وجہ ہے جو ہم صدیوں سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور مسلمان ہیں کہ اسلام کو اختیار کرنے کا سوچتے تک نہیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ انہوں نے کیا چھوڑ دیا ہے اور انہیں کیا اختیار کرنا چاہئے۔ ہم اتنا واضح کر دیں کہ مختلف فرقے اپنے اپنے فرقہ کے تصور کا اسلام تو بتا دیں گے۔ لیکن وہ اسلام جو ساری امت میں قدر مشترک ہے‘ جس کی طرف نسبت سے وہ امت‘ امت مسلمہ کہلاتی ہے اور جس کے متعلق شکایت ہے کہ اس نے اسے چھوڑ دیا ہے‘ اس کی بابت کوئی کچھ نہیں بتا سکے گا کہ وہ ہے کیا؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقام پر اور تو اور‘ آپ خود بھی وقف تعجب ہو جائیں گے کہ جس بات کے متعلق کبھی ہم نے اتنا سوچنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی تھی کہ یہ بھی ایسا سوال ہے جس پر غور کرنا چاہئے‘ وہ بات کس قدر اہم اور بنیادی نکلی۔ اس کے بعد آپ کے دل میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ ہم تو خیر عامی ہیں۔ دین کے متعلق ہماری معلومات بہت کم ہیں‘ اس لئے ہم اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ لیکن ہمارے علماء کرام کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ بھی اس سوال کا متفق علیہ جواب نہیں دے سکتے۔ اور جب ان کی یہ کیفیت ہے تو پھر وہ امت میں اپنی موجودہ پوزیشن کو کس طرح قائم رکھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو اسلام کے متعلق مطمئن کس طرح کر دیتے ہیں؟
اس کی ایک خاص ٹیکنیک ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے کچھ اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں جن کا تقدس عوام کے دلوں میں راسخ کر دیتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو مبہم رکھا جاتا ہے۔ یعنی ان کا واضح مفہوم بیان نہیں کیا جاتا۔ ہر موقع پر اس اصطلاح کو استعمال کر دیتے ہیں اور بس۔۔ مثلاً ان میں بنیادی اصطلاح خود اسلام ہے۔ آپ آئے دن ان حضرات کی زبانی اس قسم کے الفاظ سنتے رہتے ہیں کہ ’’اسلام کا حکم یہ ہے‘‘ اس معاملہ میں ’’اسلام کا منشاء یہ ہے‘‘۔ اس باب میں ’’اسلام یہ کہتا ہے۔‘‘ اب ظاہر ہے کہ ’’اسلام‘‘ کسی شخص کا نام نہیں جس کے متعلق سمجھا جا سکے کہ وہ ایسا کہتا ہے یا اس کا حکم یہ ہے۔ اس کے لئے کوئی سند یا حوالہ ہونا چاہئے جہاں سے معلوم ہو سکے کہ کون ایسا کہتا ہے۔ یہ کس کا حکم ہے۔ لیکن یہ حضرات کبھی حوالہ نہیں دیں گے‘ اسے ہمیشہ مبہم رکھیں گے۔ اس لئے کہ جب یہ کہیں گے کہ ’’اسلام کا یہ فیصلہ ہے‘‘ تو اکثر و بیشتر یہ فیصلہ ان کا اپنا ہو گا جسے یہ اسلام کا فیصلہ کہہ کر پیش کر دیں گے اور یا ان کے فرقہ کا فیصلہ۔ اب ظاہر ہے کہ کسی فرقہ کا فیصلہ تو اسلام کا فیصلہ نہیں کہلا سکتا۔ لیکن یہ اسے دانستہ مبہم رکھیں گے۔
اس قسم کی ایک اصطلاح ہے ’’اسلامی شریعت‘‘ یا ’’شریعتِ حقہ‘‘۔ آئے دن اس قسم کے الفاظ سننے میں آتے ہیں کہ شریعت کا یہ حکم ہے۔ شریعت کا یہ فیصلہ ہے۔ یہ از روئے شریعت ناجائز ہے۔ آپ دل میں سمجھتے ہوں گے کہ یہ اسلام کا فیصلہ ہے۔ لیکن یہ بھی درحقیقت کسی فرقہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر فرقہ کی شریعت الگ الگ ہے۔ جسے آپ ’’اسلام کی شریعت‘‘ کہیں گے۔۔۔ یعنی وہ شریعت جسے تمام مسلمان متفقہ طور پر اسلامی تسلیم کریں‘ اس کا کہیں وجود نہیں۔
ایک اصطلاح ’’سنت رسولؐ اللہ‘‘ ہے۔ اس کے متعلق تو آپ سمجھتے ہوں گے کہ یہ تمام مسلمانوں میں متفقہ علیہ ہو گی کیونکہ حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی تو ایک ہی تھی اس لئے حضورﷺ کی سنت بھی ایک ہی ہو گی۔ لیکن ایسا نہیں۔ سنت رسولؐ اللہ بھی ہر فرقہ کی الگ الگ ہے۔ حتیٰ کہ ’’سنت‘‘ کی تعریف (Definition) تک بھی مختلف۔
یہ (اور اسی قسم کی کئی ایک اور) اصطلاحات ہمارے ہاں صدیوں سے رائج چلی آرہی ہیں۔ لیکن ہمارے زمانے میں چونکہ سیاست کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے اس لئے اب قدیم اصطلاحات کے بجائے‘ جن کا تعلق ’’مذہب‘‘ سے سمجھا جاتا ہے‘ نئی نئی اصطلاحات وضع کی جا رہی ہیں۔ ان میں ایک اصطلاح ’’اقامت دین‘‘ ہے۔ اس اصطلاح کی پبلسٹی تو بہت زیادہ ہوتی ہے‘ لیکن ا سکا متعین مفہوم آج تک نہیں بتایا گیا۔ اگر اس اصطلاح کے مدعی اس کا مفہوم واضح کر دیں تو مختلف فرقوں کے علماء شور مچا دیں کہ جسے تم دین کہتے ہو‘ وہ دین ہے ہی نہیں۔ لہٰذا‘ ان حضرات نے بھی اسی میں خیریت سمجھ رکھی ہے کہ اس اصطلاح کو مبہم رکھا جائے۔
اب ’’دین‘‘ کے بجائے نظام کا لفظ زیادہ پاپولر ہو رہا ہے۔ ا سکی بنا پر ایک اصطلاح ’’اسلامی نظام‘‘ ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے ہاں خود اسلام کا مفہوم ہی متعین نہیں‘ اس لئے ’’اسلامی نظام‘‘ کی اصطلاح بھی شرمندۂ معنی نہیں ہوئی‘ نہ ہو سکتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ عصرِ حاضر کی سیاست میں جس مقصد کے لئے سلوگن وضع اور اختیار کئے جاتے ہیں اس مقصد کے لئے ہمارے ہاں کے مذہبی طبقہ میں اس قسم کی اصطلاحات وضع کی جاتی ہیں۔ سلوگن سے مراد ہوتی ہے ایسے الفاظ جن کا مفہوم متعین نہ ہو لیکن جنہیں عوام میں پاپولر بنا کر فریقِ مقابل کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اگر ذرا بنظرِ تعمق دیکھا جائے تو یہ حقیقت سمجھ میں آجائے گی کہ زمانۂ قدیم کے عصرِ سحر (Age of Magic) میں جو کام‘ جنتر منتر‘ ٹونا ٹوٹکا سے لیا جاتا تھا‘ وہی کام عصرِ رواں میں سلوگن سے لیا جاتا ہے۔ جنتر منتر یا ٹونے ٹوٹکے ایسے الفاظ پر مشتمل ہوتے تھے جن کے متعلق یہ کہ دیا جاتا تھا کہہ اگر تم ان الفاظ کو اس طرح اتنی مرتبہ دہراتے جاؤ گے تو تمہارا دشمن مغلوب ہو جائے گا۔ بعینہٖ یہی پوزیشن ہمارے زمانے میں سلوگن نے لے رکھی ہے اور اب یہی کام ہمارے ہاں اصطلاحات سے لے لیا جاتا ہے۔ پھر جس طرح ایک سلوگن کچھ عرصہ کے بعد‘ کثرتِ استعمال سے غیر مؤثر ہو جاتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں کی اصطلاحات بھی کچھ عرصہ کے بعد اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ کسی زمانے میں جو اثر‘ اقامت دین۔ حکومت الٰہیہ۔ اسلامی نظام وغیرہ قسم کی اصطلاحات پیدا کیا کرتی تھیں‘ اب یہ اس قسم کا اثر پیدا نہیں کرتیں۔ اس بنا پر ضرورت تھی کہ ایک نئی اصطلاح وضع کی جائے اور وہ اصطلاح ہے ’’نظامِ مصطفیٰؐ‘ ‘ چونکہ حضورؐ کی ذاتِ گرامی کا تعلق ہمارے نہایت گہرے قلبی جذبات سے ہے‘ س لئے یہ اصطلاح‘ سابقہ اصطلاحات کے مقابلہ میں‘ عوام کے لئے زیادہ مؤثر اور پرکشش ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس اصطلاح کو بھی مبہم رکھا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ سنت رسولؐ اللہ کی طرح ہر فرقہ کا نظامِ مصطفیٰؐ کا تصور اپنا اپنا ہے۔
مختلف فرقوں کے علماء تو ایک طرف‘ خود حنفیوں میں بریلوی اور دیوبندی حضرات کے نزدیک اس کا مفہوم الگ الگ ہے۔ موجودہ ہنگاموں میں‘ بریلوی فرقہ کی نمائندگی مولانا نورانی کر رہے ہیں اور دیوبندی فرقہ کی مفتی محمود صاحب اور ان دونوں میں ’’نظام مصطفیٰؐ‘ ‘ تو ایک طرف ’’مقام مصطفیؐ‘‘ تک میں شدید اختلاف ہے۔ لہٰذا ان کی سیاسی مصلحت کا تقاضا ہے کہ اس اصطلاح (نظام مصطفیؐ) کو مبہم رکھا جائے۔۔۔ اس کا کوئی ایسا مفہوم پیش ہی نہیں کیا جا سکتا جسے تمام فرقوں کے علماء متفقہ طور پر اسلامی تسلیم کر لیں۔ اس کی وضاحت کا تقاضا کیا جائے تو اسے بلند آہنگ الفاظ کے پردوں میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔ مثلاً حال ہی میں ’’نوائے وقت‘‘ میں اس عنوان پر کہ ’’نظام مصطفیؐ کیا ہے‘‘۔۔۔ دو مبسوط مقالات شائع ہوئے ہیں۔ ایک مقالہ میں کہا گیا ہے کہ نظام مصطفیؐ:۔
اخلاقی لحاظ سے نظامِ مساوات۔۔ سیاسی لحاظ سے نظامِ حفاظت و عدل۔۔ معاشی لحاظ سے نظامِ عدل و کفالت۔۔ روحانی لحاظ سے نظام ذکر و فکر اور للہیت۔۔ معاشرتی لحاظ سے نظامِ اخوت ہے۔ (نوائے وقت۔ ۲۹ جولائی ۱۹۷۷ء)۔
دوسرے مقالہ میں کہا گیا ہے۔۔۔ نظامِ مصطفیؐ کیا ہے؟
کائنات گیر علم۔۔ یزداں شعار عبادت۔۔ پاکیزہ اخلاق۔۔ عظیم سیاست۔۔ علم خوفِ خدا کا سبب‘ اور خوفِ خدا دانش کی انتہا۔ (نوائے وقت‘ ۵ اگست ۱۹۷۷ء)۔
اس قسم کے ہیں حریر و اطلس کے وہ نرم و نازک پردے جن میں اس مصلحت (یا حکمت عملی) کو چھپایا جاتا ہے کہ اس نظام کا متعین مفہوم عوام کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔۔ کیونکہ اس کی وضاحت سے اس دعویٰ کا پردہ چاک ہو جاتا ہے کہ اس مطالبہ میں تمام فرقوں کے نمائندے متفق ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔۔۔ یہ کتمانِ حقیقت کی اسی قسم کی سعئ ناکام ہے جس کی مثال پہلے بھی ہمارے سامنے آچکی ہے۔ ۱۹۵۱ء میں مختلف فرقوں پر مشتمل اکیس علماء نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ مملکت کا ضابطۂ قوانین ’’کتاب و سنت‘‘ کے مطابق مرتب کیا جائے گا اور اس کے بیس برس بعد‘ ’’متفقہ مطالبہ‘‘ کا پردہ خود ان ہاتھوں کو‘ جنہوں نے یہ پردہ لٹکایا تھا‘ یہ کہہ کر اٹھانا پڑا کہ:
کتاب و سنت کی رو سے پبلک لاز کا کوئی ایسا ضابطہ مرتب نہیں کیا جا سکتا جسے مختلف فرقے متفق طور پر اسلامی تسلیم کر لیں۔ (مودودی صاحب)
اس سے‘ اکتیس علماء کے اس مطالبہ کا بھانڈا پھوٹ گیا جسے وہ ۱۹۵۱ء سے متفقہ طور پر اسلامی کہہ کر پیش کرتے چلے آرہے تھے۔ یہ بیس پچیس برس تو خیر‘ نظری بحثوں میں گذر گئے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اب یہ مطالبہ عملی شکل اختیار کر لے اور اس وقت اس اصطلاح کا متعین مفہوم سامنے لائے بغیر چارہ نہ رہے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر اکتوبر ۷۷ء کے مجوزہ انتخابات کے نتیجے میں‘ زمامِ حکومت نظام مصطفیؐ کے مدعیوں کے ہاتھ میں آگئی تو سب سے پہلا مرحلہ‘ پبلک لاز کا متفق علیہ ضابطہ مرتب کرنے کا درپیش ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ مختلف فرقوں کے یہ نمائندے ایسا ضابطہ مرتب کر ہی نہیں سکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت کیا ہو گا؟
تحریک پاکستان کی بنیاد دو اصولوں پر استوار تھی۔ (۱) دو قومی نظریہ اور (۲) نظریۂ پاکستان یعنی اسلام کی بنیادوں پر ایک آزاد مملکت کا قیام۔ ہندو (اور ان کی ہمنوائی میں دنیا بھر کی دیگر اقوام) کہتے تھے کہ ان بنیادوں پر کوئی مملکت استوار نہیں ہو سکتی۔ وہ زمانہ لد گیا جب مذہب کی بنیاد پر سلطنتیں قائم کی جایا کرتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہو سکتا۔
سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر ہندو‘ اور ان کے ہم نواؤں نے‘ ببانگِ دہل اعلانات کئے کہ دیکھا ناں! جو کچھ ہم کہتے تھے وہ کس طرح سچ ثابت ہوا۔ دو قومی نظریہ کس طرح ناکام رہا؟ اور اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ جس طرح دو قومی نظریہ ناکام ثابت ہوا ہے‘ تم دیکھو گے کہ تمہارا دوسرا نظریہ‘ یعنی مذہب کی بنیادوں پر مملکت کی تشکیل۔۔ بھی اسی طرح ناکام ثابت ہو گا۔
اب‘ جب مختلف فرقوں کے علماء پر مشتمل پارلیمان‘ ایک متفق علیہ اسلامی ضابطۂ قوانین مرتب کرنے میں ناکام رہی‘ تو ہمارے یہی دشمن ڈھول پیٹ پیٹ کر اعلان کریں گے کہ دیکھا! جو کچھ ہم کہتے تھے وہ بالآخر سچ ثابت ہو کر رہا یا نہیں!
یہ اسی روزِ بد کا لرزہ انگیز احساس ہے جو ہمیں ان حضرات کی خدمت میں گذارش کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر آپ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ مملکت کا استحکام اور اسلام کا احیاء ہو گا‘ تو آپ جس قدر جلد اس غلط فہمی کو دور کر دیں گے اتنا ہی اچھا ہو گا۔ آپ کی موجودہ روش سے مملکت کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں گی اور اسلام دنیا کی نظروں میں اضحوکہ بن جائے گا۔ اگر آپ فی الواقعہ اسلام کا احیاء چاہتے ہیں تو پہلے یہ طے کر لیجئے کہ اگر قانون سازی کے اختیارات آپ کے ہاتھ میں آگئے تو آپ وہ ضابطہ حیات کس طرح مرتب کریں گے جو آپ سب کے نزدیک متفقہ طور پر اسلامی قرار پائے۔
اگر یہ حضرات ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوں‘ تو ہم قوم سے بزور گذارش کریں گے کہ وہ آنکھیں بند کر کے ان کے سلوگنوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے‘ ان سے مطالبہ کرے کہ وہ اس سوال کا واضح الفاظ میں جواب دیں۔
اس سوال کا جواب کچھ بھی مشکل نہیں۔ اسے غور سے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔
(۱) جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ نظام مصطفیؐ کے مدعی مختلف فرقوں سے متعلق ہیں۔ ان میں‘ ہر فرقہ کی فقہ (ضابطۂ قوانین) الگ الگ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب تک یہ حضرات اپنی اپنی فقہ کو غیر متبدل اسلامی شریعت قرار دیتے رہیں گے‘ کوئی ایسا ضابطۂ قوانین مرتب نہیں ہو سکے گا جسے یہ سب اسلامی تسلیم کر لیں۔ ان کے باہمی اختلافات کی شدت کا یہ عالم ہے کہ ان میں سے ہر فرقہ نے دوسرے فرقوں کے خلاف کفر کے فتوے لگا رکھے ہیں۔
(۲) ان سب میں صرف ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے قرآن مجید۔ لہٰذا‘ ان کے ایک نقطہ پر جمع ہونے کا‘ اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ اپنی اپنی فقہ سے صرف نظر کر کے‘ قرآن مجید کو ضابطۂ قوانین کی بنیاد قرار دیں اور اسے قول فیصل اور حرف آخر تسلیم کریں۔
(۳) قرآن کریم سلوگن نہیں دیتا۔ وہ ہر بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ تبیانا لکل شئ (۸۹/۱۶) اس کا دعویٰ ہے۔ یعنی ہر بات کو نکھار اور ابھار کر بیان کرنے والی کتاب۔
(۴) اس میں کوئی اختلافی بات نہیں۔ اس نے اپنے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہی یہ دی ہے۔ ولو کان من عند غیر اللہ لوجد وافیہ اختلافا کثیرا (۸۲/۴)۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ ا سمیں بکثرت اختلافات پاتے۔ لہٰذا قرآن مجید کو قدر مشترک تسلیم کر لینے کے بعد کوئی اختلاف باقی نہیں رہ سکتا۔
(۵) الدین۔ یعنی نظام خداوندی۔ کے معنی ہیں خدا کو حاکم یا حَکم (ہر معاملہ میں فیصلہ دینے والا) تسلیم کرنا۔ ان الحکم الا للہ۔ حکم صرف خدا کا واجب الاطاعت ہے۔۔۔ امر الا تعبدوا الا ایاہ۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی محکومیت (اطاعت) اختیار نہ کرو۔
(۶) خدا کو حاکم یا حَکم تسلیم کرنے کا عملی طریق اس کی کتاب کو حَکم تسلیم کرنا ہے۔ (رسولؐ اللہ کی زبانِ مبارک سے قرآن کریم میں اعلان کرایا گیا کہ) افغیر اللہ ابتغی حکما و ھو الذی انزل الیکم الکتاب مفصلا (۱۱۵/۶) کیا میں خدا کے سوا کسی اور کو حَکم تسلیم کروں‘ درآں حالیکہ اس نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کر دی ہے جو تمام معاملات کو نکھار کر بیان کر دیتی ہے۔۔۔ ا سکے معنی یہ ہیں کہ کتاب اللہ کو حَکم ماننے سے خدا کو حَکم مانا جاتا ہے۔
(۷) یہی کتاب کفر اور اسلام میں حدِ امتیاز ہے۔ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون (۴۴/۵)۔ جو کتاب خداوندی کو حَکم تسلیم نہیں کرتا‘ تو ایسے ہی لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے۔
(۸) خود رسولؐ اللہ کو بھی یہی حُکم دیا گیا تھا کہ:
فاحکم بینھم بما انزل اللہ۔ (۴۸/۵)۔
اے رسول! تو ان میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کیا کرو۔
(۹) یہی دین اللہ ہے۔ (۸۲/۳)۔ اسی کا نام الاسلام ہے۔ یعنی کتاب اللہ کو حَکم تسلیم کرنا۔ ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔ (۸۴/۳)۔ جو شخص اس کے سوا کوئی اور دین (نظام) اختیار کرے گا‘ تو بارگاہ خداوندی میں اسے شرف قبولیت حاصل نہیں ہو گا۔ وہ مردود قرار پائے گا۔
واضح رہے کہ چونکہ خدا نے اسلام کو دین اللہ کہا ہے اس لئے اس کا ترجمہ دین خداوندی ہی کرنا چاہئے خدا کے رسول‘ دین اللہ کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث ہوتے تھے۔ خود کوئی دین وضع نہیں کرتے تھے۔ اس لئے اسلام کو دین مصطفیؐ کہنا صحیح نہیں ہو گا۔ اسے دین اللہ ہی کہنا چاہئے۔
(۱۰) سوال پیدا ہو گا کہ اس کی پہچان کیا ہو گی کہ ہم میں دین اللہ (یا نظام خداوندی) قائم ہے یا نہیں؟ اس کی اولین پہچان یہ ہے کہ جس قوم میں دین اللہ قائم ہو اس میں مذہبی فرقے نہیں رہ سکتے۔ جہاں مذہبی فرقے ہوں گے نہ وہاں دین اللہ (نظام خداوندی) ہو گا اور نہ ہی ان کے ساتھ رسولؐ اللہ کا کوئی تعلق۔ اس باب میں خدا کا ارشاد نہایت واضح ہے کہ:۔
ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شئ (۱۶۰/۶)۔
جو لوگ دین میں تفرقہ پیدا کر دیں اور خود بھی ایک گروہ بن کر بیٹھ جائیں۔ اے رسول! تیرا ان لوگوں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں رہے گا۔
جو لوگ فرقوں پر قائم رہتے ہوئے ’’نظام مصطفیؐ‘‘ کے مدعی ہیں‘ انہیں اس ارشادِ خداوندی پر غور کرنا چاہئے۔ جب (فرمانِ خداوندی کی رو سے) مصطفیؐ کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں رہتا‘ تو انہیں ’’نظام مصطفیؐ‘‘ کے دعوے دار ہونے کا حق کس طرح پہنچ سکتا ہے؟
ملک میں جو لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ ہماری ان سے گذارش ہے کہ وہ ان ارشاداتِ خداوندی پر غور کریں اور سوچیں کہ مختلف فرقوں کے نمائندوں کا یہ دعویٰ کہ وہ ’’نظام مصطفیؐ‘‘ (یا اسلامی نظام) قائم کریں گے‘ کس طرح حق پر مبنی ہو سکتا ہے؟
(طلوع اسلام‘ ستمبر 1977ء)

2,099 total views, no views today

(Visited 194 times, 2 visits today)