Category Archives: Urdu Pamphlets – Idara Tolu-e-Islam

فرقہ اہلِ قرآن کی پھیلائی ہوئی گمراہیاں: پرویز

فرقہ اہلِ قرآن کی پھیلائی ہوئی گمراہیاں

قرآن کے نام پر ۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن سے دشمنی

میں شروع ہی میں اس حقیقت کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ (۱) نہ میرا تعلق کسی فرقہ سے ہے، نہ ہی میں نے کوئی اپنا فرقہ کھڑا کیا ہے۔ میں قرآن کریم کی رو سے فرقہ بندی کو شرک سمجھتا ہوں۔ (۲) نماز، روزہ وغیرہ جملہ ارکان اسلام کی ادائیگی عام مسلمانوں کی طرح کرتا ہوں، کسی فرد یا فرقہ کو ان میں تغیر و تبدل کا مجاز نہیں سمجھتا۔ نہ ہی کسی نئے طریق کے وضع کرنے کا مختار۔ (۳) تحفظ ناموس رسالتؐ و عظمتِ قرآن کریم میرا جزوِ ایمان اور زندگی کا مشن ہے۔ جہاں ان پر کسی قسم کی زد پڑتی ہے، اس کی مدافعت میرا تقاضائے ایمان اور دینی فریضہ ہوتا ہے۔ (۴) ہمارے زمانے میں ناموس رسالتؐ کو سب سے زیادہ نقصان تحریک ‘‘احمدیت’’ نے پہنچایا اور عظمت قرآن کو (نام نہاد) اہل قرآن نے (۵)فرقہ اہل قرآن کو چنداں اہمیت حاصل نہیں۔ یہ چند گنتی کے نفوس پر مشتمل ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ اب یہ اپنی گمرہی کے دامن کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے میں نے ان کا نوٹس لینا بھی ضروری خیال کیا ہے۔ (۶)میرے اس مقالہ کے مخاطب، اس فرقہ کے ذمہ دار افراد نہیں کیونکہ تجربہ نے بتایا ہے کہ لیڈری کی ہوس انسان میں ایسا پندار نفس پیدا کر دیتی ہے جو ان کے سمجھنے سوچنے کی صلاحیت سلب کر لیتا ہے۔ میرے مخاطب و سعید افراد ہیں جو ان کی باتوں، پر نہایت نیک نیتی سے یہ سمجھ کر کان دھرتے ہیں کہ یہ قرآن کی طرف دعوت دیتے ہیںَ ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ حقیقت کے سامنے آجانے کے بعد غلط راستہ چھوڑ کر، صحیح راہ اختیار کر لیں۔ (۷) میرا مقصد ان لوگوں سے کسی بحث میں الجھنا نہیں کیونکہ اس کے لیے میرے پاس فالتو وقت ہی نہیں۔ نہ ہی میں ذاتیات پر اتروں گا کہ علمی گفتگو میں ذاتیات پر اترنا پستی فطرت کی دلیل ہوتا ہے۔ میں ذاتیات پر اترا ہی نہیں کرتا۔ میں اپنی زندگی کے باقی ایام کو خدمت قرآن کے تعمیری مقصد کے لیے وقف رکھنا چاہتا ہوں۔ وما توفیقی اللہ باللہ اعلی العظیم

اس تمہیدی وضاحت کے بعد اصل موضوع کی طرف آئیے

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا تو سفرِ حیات میں اس کی راہنمائی بھی اپنے ذمے لی۔ اس راہنمائی کے لیے طریق یہ اختیار کیا گیا کہ خدا اس کا علم، وحی کے ذریعے ، ایک برگزیدہ ہستی کو عطا کر دیتا اور وہ اسے دوسرے انسانوں تک پہنچا دیتی۔ اس برگزیدہ ہستی کو نبی یا رسول کہا جاتا ہے۔ اس راہ نمائی کا انداز کیا تھا۔ اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ خود انسانی زندگی کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ کس اصول کے تابع باقی رہتی ہے اور آگے بڑھتی ہے۔ یہ اصول ہے ثبات و تغیر کا امتزاج۔ اسے ایک مثال کی رو سے سمجھئے جس کا تعلق انسان کی طبعی (یعنی جسمانی) زندگی سے ہے۔

ثبات و تغیر کا امتزاج

یہ ظاہر ہے کہ انسان کی طبیعی زندگی کا دارومدار (منجملہ دیگر عوامل) غذا پر ہے۔ اسے زندگی کے پہلے سانس سے لے کر نفس آخرین تک غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اس غذا کی نوعیت اور طور طریق حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ زمان کے اعتبار سے دیکھئے تو تاریخ کے دور اول کے جنگلوں اور غاروں میں بسنے والے انسانوں کی غذا کی نوعیت کچھ اور تھی اور عصر حاضر کے انسانوں کی کچھ اور ۔ پھر ایک ہی فرد کی عمر کے مختلف ادوار اور جسمانی حالت کو سامنے رکھئے تو اس کی غذا کی نوعیت میں تغیر ضروری ہو گا۔ پیدائش کے بعد بچے کی غذا صرف دودھ ہوتی ہے۔ پھر کوئی زود ہضم ٹھوس غذا، جوانی میں غذا اور انداز کی ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں اور انداز کی، صحت کی حالت میں اس کی نوعیت کچھ اور ہوتی ہے۔ بیماری کی حالت میں کچھ اور۔ ان تمام حالات میں آپ نے دیکھا کہ وہ اصول (کہ زندگی کا دارومدار غذا پر ہے) شروع سے آخر تک غیر متغیر رہتا ہے۔ لیکن اس اصول کے کارفرما ہونے کے انداز بدلتے رہتے ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے کہ ثبات اور تغیر کا امتزاج، نہ یہ اصول تغیر پذیر ہو سکتا ہے اور نہ اس پر عمل ہونے کے طور طریق غیر متغیر۔ اگر غذا کی نوعیت اور اس کے طور طریق بھی غیر متغیر قرار دے دیئے جائیں تو زندگی چار قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے۔

جو اصول انسان کی طبیعی زندگی کو محیط ہے۔ اسی کے مطابق اس کی انسانی اور عمرانی زندگی بھی روبہ عمل رہی ہے۔ اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ کچھ اصول ہوں غیر متغیر اور ان اصولوں کی کارفرمائی کے لیے طور طریق ہوں جو حالات کے ساتھ بدلتے رہیں۔ خدا کی طرف سے وحی کے ذریعے جو راہنمائی ملتی رہی اس کا اندز بھی یہی تھا۔ اس کے اصول تک شروع سے آخر تک غیر متبدل رہے لیکن ان اصولوں کی کارفرمائی کے طور طریق تغیر حالات کے تحت بدلتے رہے۔ ان بدلتے ہوئے طور طریق کو ان اصولوں کی جزئیات کہا جاتا تھا۔ کہ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ   (50/11) ‘‘اے میری قوم صرف اللہ کی محکومیت اور اطاعت اختیار کرو۔ اس کے سوا کوئی ہستی نہیں جو ذی اقتدار ہو’’ یہ دین کا صل الاصول اور بنیاد محکم تھی۔ یہی وہ دین کی اصل تھی جو شروع سے آخر تک ایک ہی رہی اور غیر متبدل رہی۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے۔

  شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ  ۖ   أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ  ۚ   (13/42)

ہم نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم نوح کو دیا گیا تھا اور جواب (اے رسولؐ!) تیری طرف وحی کیا جاتا ہے۔ اور جس کا حکم ہم نے ابراہیمؑ اور موسیٰ اور عیسیٰؑ کو دیا تھا (اور ان سے کہا تھا کہ) اس دین کو محکم اور استوار رکھو اور اس میں تفرقہ مت پیدا ہونے دو۔

یہ تھا دین کا ناقابل تغیر و تبدل اصول۔ جہاں تک اس اصول کو بروئے کار لانے کا تعلق ہے (یعنی دین کی جزئیات) سو شروع شروع میں چونکہ انسانی علم بڑا محدود تھا اس لیے وہ بھی بالعموم خدا ہی کی طرف سے عطا ہوتی تھیں۔ مثلاً حضرت نوحؑ کے زمانے میں انسانوں کو (یا کم از کم اس خطہ زمین کے لوگوں کو) کشتی بنانے کا ہنر بھی نہیں آتا تھا حضرت نوح علیہ اسلام کو یہ طریق بھی وحی کے ذریے بتایا گیا جب ان سے کہا گیاکہ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا(37/11) ‘‘تو ہمارے زیر نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا۔’’جوں جوں انسانی علم بڑھتا گیا، وحی کے ذریعے جزئیات متعین کرنے کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ چنانچہ ہر نئے رسول کے زمانے، میں یہ دیکھا جاتا رہا کہ سابقہ جزئیات میں سے کون کون سی ایسی ہیں جن کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یا جن میں تغیر و تبدل ضروری ہو گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سورۃ بقرہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا  (106/2) یعنی‘‘وحی اکا انداز یہ رہا ہے کہ کسی سابقہ رسول کی وحی کے ایسے احکام جو وقتی طور پر نافذالعمل رہنے کے لیے دیئے گئے تھے۔ انہیں بعد میں آنے والے رسولوں کی وحی کے احکام سے بدل دیا جاتا۔ اور یہ نئے احکام پہلے احکام سے بہتر ہوتے۔ جن سابقہ احکام کا علیٰ حالہٖ رکھا جانا مقصود ہوتا۔ خواہ وہ اس رسول کی امت کے پاس ہوں یا اس نے انہیں فراموش کر دیا ہو۔ ان کی جگہ انہی جیسے احکام جدید وحی میں دے دیئے جاتے ۔ یعنی اصولی احکام غیر متبدل رہتے اور ان کی جزئیات میں بہ تقاضائے حالات تغیر و تبدل ہوتا رہتا۔

خدا کی آخری وحی

خدا کی طرف سے ملنے والی راہنمائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ تاآنکہ وہ زمانہ آ گیا جب مشیت خداوندی نے یہ فیصلہ کیا کہ جو کچھ وحی کی رو سے دیا جانا مقصود ہے اسے آخری مرتبہ دے دیا جائے اور اس کے بعد سلسلہ وحی کوختم کر دیا جائے ۔ یہ وحی، جو قیامت تک تمام نوع انسانی کی راہنمائی کے لیے کافی سمجھی گئی قرآن کریم کے اندر محفوظ کر دی گئی۔ چونکہ زمانہ وہ آ چکا تھا جب علم انسانی بڑی تیزی سے ترقی کرتا چلا جاتا تھاور خدا کے علم میں تھا کہ یہ اسی سرعت کے ساتھ آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ اس لیے اس میں آخری وحی میں غیر متبدل اصول تو تمام کے تمام دے دیئے گئے لیکن ان کی جزئیات بہت کم کر دی گئیں۔ اس لیے کہ اگر جزئیات بھی تمام کی تمام وحی کے ذریعے دے دی جاتیں تو وہ بھی قیامت تک، تمام اقوام عالم کے لیے غیر قرار پا جاتیں۔ لیکن جب وہ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا ساتھ نہ دے سکتیں تو دین پر عمل پیرا ہونا مشکل (بلکہ بعض حالات میں) ناممکن ہو جاتا۔ان جزئیات میں تغیر اس لیے نہ ہو سکتا کہ وحی کا سلسلہ بند ہو چکا تھا۔ لہذا دین کے ہمیشہ کے لیے ممکن العمل رہنے کا طریقہ یہی تھا کہ ان اصولوں کی وہی جزئیات بذریعہ وحی دی جاتیں جن میں تغیر کی ضرورت نہ پرتی۔ قابل تغیر جزئیات وحی کے ذریعے دی ہی نہ جاتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی راہنمائی کو اس قرآن کریم میں محفوظ کر دیا۔ اور اس کے بعد اعلان کر دیا کہ۔ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا  ۚ   لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ  ۚ   وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ   (116/6) خدا کی بات (دینِ خداوندی) صدق اور عدل کے ساتھ تکمیل تک پہنچ گئی۔ اب ان احکامت میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ اس خدا کی طرف سے دیئے گئے ہیں جو سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔ جو کچھ قرآن میں نہیں دیا گیا تھا اس کے متعلق تاکید سے کہہ دیا کہ تم ان کی بابت خوامخواہ کرید اور کاوش نہ کرو کہ وہ کیوں نہیں بتایا گیا۔۔ خدا کا پروگرام یہی تھا کہ انہیں وحی کے ذریعے متعین نہ کر دیا جائے۔ اگر ایسا کر دیا جاتا تو کل کو جب ان میں تغیر کی ضرورت پڑتی تو تم مشکل میں پھنس جاتے کہ ان پر عمل کرنا ناممکن ہو جاتا اور ان میں تم تبدیلی کر نہ سکتے کیونکہ خدا کے متعین کردہ احکام میں تبدیلی تو صرف خدا کی وحی ہی کر سکتی تھی اور وحی کا سلسلہ اب بند ہو چکا۔ لہذا اسے اچھی طرح سمجھ لو کہ جو کچھ قرآن میں دیا گیا ہے وہ مکمل بھی ہے اور غیر متبدل بھی۔ جو اس میں نہیں دیا گیا وہ غیر متبدل نہیں۔

(دیکھئے سورۃ مائدہ آیات 102-101)

جزئیات کا تعین کیسے ہو؟

یہاں سے ایک اہم سوال ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ جب تمام کی تمام جزئیات قرآن کے اندر نہیں دی گئیں تو باقی ماندہ (قابل تغیر) جزئیات کا تعین کس طرح سے کیا جائے گا اور کون ایسا کرنے کا مجاز ہو گا۔ ظاہر ہے کہ ان جزئیات کی ضرورت کسی ایک زمانے میں بھی لاحق ہو گی اور پھر زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ان میں تغیر و تبدل کی ضرورت بھی لاحق ہوتی رہے گی۔ اس کے لیے کیا کیا جائے؟ اس کا جواب خود خدا نے دے دیا۔ (اور اسے ایسا کرنا بھی چاہئے تھا) اس نے کہا کہ دین خداوندی (اسلام) ایک نظام کی شکل میں کارفرما ہو گا۔ اسے دور حاضرہ کی اصطلاح میں مملکت یا نظامِ حکومت کہا جائے گا۔ اس نظام کا انداز مشاورتی ہو گا اور ان جزئیات کا تعین یا ان میں تغیر وتبدل اس نظام کی طرف سے ہو گا۔ اس نظام کے اولیں سربراہ خود نبی اکرمﷺ تھے۔ چنانچہ حضور ﷺ سے فرمایا گیا کہ شاورھم فی الامر (158/3) ‘‘یہ امور باہمی مشورہ سے طے کیا کرو’’چنانچہ عہد رسالتماب ﷺ میں ان جزئیات کا تعین اسی طریق سے ہوتا رہا۔ واضح رہے کہ مقصود بالذات تو دین کے اصولوں پر عمل پیرا رہنا یا انہیں نافذ کرنا تھا۔ جزئیات ان اصولوں کی تنفیذ کا ذریعہ تھیں، اس لیے یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ یہ جزئیات ان اصولوں سے کسی طرح بھی ٹکرائیں۔ بالفاظ دیگر یوں کہیئے کہ یہ جزئیات قرآن کے غیر متبدل اصولوں کی چاردیواری کے اندر رہتے ہوئے باہمی مشاورت سے طے پاتی تھیں۔

یہ کچھ تو رسول اللہ حیات مبارکہ میں ہوتا رہا۔ اس کے بعد سوال یہ سامنے آتا ہے کہ حضور ﷺ کی دنیا سے تشریف براری کے بعد کیا طریق اختیار کرنا مقصود تھا۔ اس کے لیے بھی قرآن کریم میں واضح راہنمائی دے دی گئی ہے جب کہا گیا کہ

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ  ۚ   أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ  ۚ   وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا  ۗ   وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ  (144/3)

‘‘محمدﷺ بجز ایں نیست کہ خدا کا ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول ہو گذرے ہیں۔ سو اب یہ (کل کو) وفات پا جائے یا قتل کر دیا جائے تو کیا تم (یہ سمجھ کر کہ دین کا نظام تو حضورؐ کی ذات سے وابستہ تھا وہ نہیں رہے تو نظام بھی ختم ہو گیا)، پھر اپنے قدیم مسلک کی طرف پلٹ جائو گے۔ جو ایسا کرے گا وہ خدا کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (خود اپنا ہی نقصان کرے گا) لیکن جو نظام کی قدردانی کرے گا تو اللہ اسے اس کا بدلہ دے گا۔’’

یعنی، یہ بتادیا گیا کہ دین کا یہ نظام رسول اللہ کی ذات تک محدود نہیں۔ یہ حضورﷺ کی وفات کے بعد بھی اسی طرح جاری رہے گا اور ان جزئیات کے تعین یا عندالضرورت تغیر و تبدل کے لیے طریق بھی وہی اختیار کیا جائے گا جس کا حکم خود رسول الہ ﷺ کو دیا گیا تھا۔ یعنی وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (38/42)یہ بھی ان امور کو باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔ چنانچہ حضور ﷺ کے بعد بھی یہ سلسلہ بدستور قائم رہا۔ اسے خلافت علیٰ منہاج رسالت یا خلافتِ راشدہ کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں دین کی نئی جزئیات کا بھی تعین ہوا۔ اور جن سابقہ جزئیات میں کسی قسم کی تبدیلی محسوس ہوئی ان میں تغیر و تبدل بھی کیا گیا۔ اگرچہ اس کی ضرورت بہت کم مواقع پر پیش آئی ۔ کیونکہ وہ زمانہ کچھ ایسا لمبا نہیں تھا۔ چند سالوں پر مشتمل تھا۔

خلافتِ راشدہ کے بعد

کچھ عرصہ کے بعد یہ نظام ٹوٹ گیا اور قراان کریم نے جو پہلے وارننگ دی تھی کہ ‘‘کیا تم پھر اپنے سابقہ مسلک کی طرف پلٹ جائو گے’’ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی۔ اور اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوا کہ دین مذہب میں تبدیل ہو گیا۔ یعنی انسانی معاملات دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک حصہ وہ جن کا تعلق امور دنیا سے متعلق سمجھا گیا اور دوسرا وہ جسے مذہبی امور کہہ کر پکارا گیا۔ یہی وہ ‘‘قدیم مسلک’’ تھا جس کے متعلق وارننگ دی گئی تھی کہ تم کہیں ایسا نہ کر بیٹھنا۔ اب امور مملکت (یعنی دنیاوی امور) سلاطین نے سنبھال لیے اور مذہبی امور مذہبی پیشوائیوں کی تحویل میں آ گئے۔ سلاطین کے لیے تو آسان تھا کہ وہ جس طرح چاہتے اپنے احکامات نافذ کرتے۔ مذہبی پیشوائیت کے لیے یہ مسئلہ دقت طلب ہو گیا کہ مذہبی امور کے فیصلوں کے سلسلہ میں کیا طریق عمل اختیار کیا جائے۔ مشاورت کا تو مذہب میں تصور ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے قرآن میں جہاں شوریٰ کا حکم دیا گیا تھا اس کی تاویل یوں کر لی گئی کہ اس کا تعلق امور دنیا سے ہے۔ مذہبی امور سے نہیں۔ مذہبی امور کے لیے ‘‘شریعت’’ کی اصطلاح اختیار کی گئی اور کہا یہ گیا کہ اعتقادات اور نماز، روزہ، حج، زکوۃٰ، نکاح، طلاق وغیرہ سے متعلق مسائل دائرہ شریعت میں آتے ہیں۔ دین کے نظام میں، ہر دنیاوی کام جو احکامِ خداوندی کے مطابق سرانجام دیا جاتا، عبادت (یعنی خدا کی محکومت) قرار پرتا تھا۔ اب عبادت کا مفہوم پرستش قرار پا گیا اور اس کا دنیاوی امور سے کوئی تعلق نہ رہا۔

روایات کے مجموعے

ہم نے ابھی ابھی کہا کہ مذہبی پیشوائیت کے لیے یہ سوال غور طلب تھا کہ جو امور ان کے دائرہ اقتدار میں دے دیئے گئے ہیں ان کےمتعلق فیصلے کس طرح کیے جائیں۔ ظاہر ہے کہ ان امور کی جزئیات نہ تمام کی تمام قرآن کے اندر موجود تھیں اور نہ ہی دین کا نظام باقی تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ جس دور میں دین کا نظام قائم تھا (یعنی عہد رسالتمآبؐ اور خلافت راشدہ) اس میں نافذ العمل جزئیات کا کوئی مستند مجموعہ تحریری طور پر امت کے پاس موجود نہیں تھا۔ بنا بریں، اس کے سوال کوئی مشکل نہیں تھی کہ جو کچھ لوگوں کی زبانی معلوم ہو، اسے جمع، مدون اور مرتب کر دیا جائے۔ یوں روایات کے مجموعے مرتب کیے گئے۔ اور جو جزئیات ان میں سے ملیں انہیں احکامِ شریعت قرار دے کر ۔۔۔۔۔۔۔۔ امت کے لیے واجب العمل ٹھہرا دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ جو روایات اس طریق سے جمع ہوئی تھیں ان میں بہت سے اختلافات اور تضادات تھے۔ ان اختلافات کی بنا پر امت میں تفرقہ پیدا ہو گیا اور مختلف فرقے وجود میں آ گئے۔ بالخصوص اس لیے کہ بے شمار روایات خود وضع کر کے انہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا گیا تھا۔

فِقہ

اس حد تک تو ان روایات نے کام دے دیا لیکن نہ زمانے کے تقاضے تو کسی مقام پر رک نہیں سکتے ۔ وہ آگے بڑھتے گئے اور ان کے لیے نئی جزئیات کی ضرورت پرتی گئی۔ اس سے یہ سوال سامنے آیا کہ اب کیا کیا جائے؟ فقہا نے اس کا حل یہ سوچا کہ جو کچھ شریعت کے نام سے موجود تھا اس پر غور و فکر کے بعد ایسے احکام مستنبط کیے جائیں جو زمانے کے ان بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔ استنباطِ مسائل کے اس طریق کو اجتہاد کہا جاتا ہے اور جو احکام اس طرح مستنبط ہوں وہ فقہ کہلاتی ہے۔ چونکہ فقہ بھی ذاتی طور پر مستنبط اور مرتب ہوئی تھی (یعنی نظام کی طرف سے نہیں بلکہ مختلف آئمہ فقہ نے اسے ذاتی طور پر مرتب کیا تھا۔) اس لیے اس میں بھی اختلاف فطری امر تھا۔ یوں امت میں مزید فرقے پیدا ہو گئے۔ کچھ وقت کے بعد یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ اجتہاد کی رو سے بھی جس قدر فیصلے کیے جانے مقصود تھے وہ سب کیے جا چکے ہیں۔ لہذا اب مزید اجتہاد کا دروازہ بھی بند ہے۔ امت پر یہ جمود صدیوں سے طاری ہے۔

آپ نے دیکھا کہ دین کے نظام کے باقی نہ رہنے سے اسلام کیا سے کیا ہو گیا؟ وحی کا دروازہ خدا نے بند کیا تھا۔ روایات جمع اور مرتب ہو گئیں تو یہ سلسلہ بھی آخری حد تک پہنچ گیا۔ کچھ آگے بڑھنے کے لیے اجتہاد کا طریق اختیار کیا گیا تو کچھ عرصہ کے بعد اس کا دروازہ بھی بند ہو گیا۔ اس کے بعد صورت یہ ہو گئی کہ یہ امت فرقوں میں بٹ گئی، اور قرآن کے الفاظ میں کیفیت یہ ہو گئی کہ ُکلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (32/30) ہر فرقہ مگن ہو کر بیٹھ گیا کہ سچے اسلام پر وہی کاربند ہے۔ باقی سب باطل پر ہیں۔’’ حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ ‘‘سچا اسلام’’ کہیں بھی باقی نہیں رہا تھا۔ سچے اسلام کے معنی تھے ایک امت۔ اس کا ایک نظام۔ نظام کی ایک مرکزی اتھارٹی جو باہمی مشاورت سے احکامِ خداوندی کو نافذ کرتی، جو ان جزئیات کا تعین کرتی جو قرآن میں نہیں تھیں۔ ان میں عندالضرورت اضافہ بھی کرتی اور تغیر و تبدل بھی۔ اس نظام کے نہ رہنے سے امت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اسی تشتت و انتشار کی طغیانیوں اور فقدانِ مرکزیت کی تباہ کن حیرانیوں میں صدیوں سے امت گرفتار چلی آ رہی ہے۔ اس سے بعض (دین کی حقیقت سے ناآشنا ذہن) اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ وحی کا دروازہ بند نہیں ہونا چا ہیے تھا۔ چنانچہ اسی بنا پر بعض لوگ خود مدعی نبوت بن بیٹھے۔

اسی پریشانی فکر و نظر کا پیدا کردہ وہ فرقہ ہے جو ہمارے زمانے میں پنجاب میں نمودار ہوا اور اہل قرآن کے نام سے متعارف ہے۔ اسے اتفاق کہیے یا اہل پنجاب کی بدبختی کہ اہل قرآن اور احمدی دونوں خطہ پنجاب سے نمودار ہوئے اور کم و بیش ایک ہی وقت میں۔ یہ دونوں دین کے بہ حیثیت نظام کے تصور سے ناآشنا اور اسے ایک ‘‘مذہب’’ سمجھتے تھے (اور سمجھتے ہیں)

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

فرقہ اہل قرآن

فرقہ اہل قرآن کے بانی (مولانا) عبداللہ چکڑالوی (مرحوم) تھے۔ مرزا غلام احمد کے متعلق تو معلوم ہے کہ ان کی دعوت حکومت ِ برطانیہ کی مقاصد براری کا ذریعہ تھی اور اس لیے اس کے ہاتھوں کا لگایا ہوا پودا۔ لیکن (مولانا) چکڑالوی کے متعلق اندازاہ ہوتا ہے کہ ان کی نیت نیک تھی اور دل میں اسلام کا درد۔ انہوں نے دیکھا کہ فرقہ بندی نے مسلمانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ فرقہ بندی کے متعلق انہیں معلوم تھا کہ اس کی بنیاد بالواسطہ یا بلا واسطہ روایات پر ہے۔ اس کا علاج انہوں نے یہ سوچا کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو قرآن پر جمع کیا جائے۔ یہاں تک تو بات صحیح بھی تھی اور صاف بھی۔ لیکن اس سے آگے بڑھے تو انہیں الجھائو پیدا ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام پر عمل پیرا ہونے کے لیے خارج از قرآن کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اس طرح انہوں نے احادیث (اور ان پر متفرع فقہ) کو بالکلیہ مسترد کر دیا۔ اس پر مولوی صاحبان کی طرف سے سب سے پہلے وہ اعتراض وارد کیا گیا جسے وہ اسلام کے دین سے مذہب میں تبدیل ہو جانے کے زمانے سے وارد کرتے چلے آ رہے ہی۔ انہوں نے ان سے کہا کہ اگر اسلام پر عمل پیرا ہونے کے لیے قران کافی ہےتو بتائیے کہ ہم نماز کیسے پڑھیں۔ اسلام بہ حیثیت ایک نظام، کا تصور (مولانا) چکڑالوی کے سامنے تھا ہی نہیں۔ جس طرح معترضین اسے ایک مذہب سمجھتے تھے اسی طرح یہ بھی اسے ایک مذہب ہی خیال کرتے تھے۔ لہذا انہیں ضرورت لاحق ہوئی کہ وہ قرآن سے نماز کے جملہ جزئیات نکالیں، اس لیے کہ ان کا دعویٰ تھا کہ

اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کی حقیقت و ماہیت، کیفیت و کمیت، طریقت وغیرہ یعنی جملہ افعال ، حرکات و سکنات وغیرہ وغیرہ تمام امور متعلقہ نماز بہ تفصیل و توضیح و تشریح قرآن مجید میں ہی بیان فرما دیئے ہیں۔

(ترجمہ القرآن۔ پارہ دوئم۔ صفحہ 207)

چکڑالوی صاحب نے قرآن کریم میں نماز کی جملہ حرکات و سکنات و افعال و افکار کی تلاش شروع کر دی۔ وہ صرف و نحو کے عالم نظر آتے ہیں اور قرآنی آیات پر بھی انہیں عبور دکھائی دیتا ہے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ قرآن کے سمندر میں ان موتیوں کی تلاش میں غوطہ زن ہوئے جو وہاں موجود نہیں تھے۔ اس میں شناوری، غیر موجود کو موجود کیسے بنا سکتی تھ۔ لہذا وہ لگے ٹامک ٹوئیاں مارنے۔ فی طغیانھلم یعمھون ۔ اس سعی ناکام میں انہیں جس کھینچا تانی سے کام لینا، اور اس کی وجہ سے جس اضطراب و ہیجان حتیٰ کہ چڑچڑاہٹ اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونا پڑا، وہ ان کی تحریروں سے ظاہر ہے۔ بات چونکہ مناظرانہ دعویٰ کی تھی۔ اس لیے اعترافِ شکست بھی ممکن نہیں تھا۔ اس طرح یہ ‘‘جان مجنوں، دوگونہ عذاب میں مبتلا’’ ہو گئی۔ انہوں نے بزعم خویش، جو کچھ قرآن سے ثابت کیا، وہ پانچ وقتوں کی نماز ،نماز کی دو تین اور چار رکعتیں اور ہر رکعت میں دو سجدے تھے۔ یعنی مروجہ نماز ہی کے ارکان لیکن ان کے ثابت کرنے کا انداز اس قدر رکیک تھا کہ اس پر عقل شرمائے اور علم ماتم کرے۔ مثلاً وہ رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں ‘‘بہ تحقیق انیق’’ پیش فرماتے ہیں کہ:

الْحَمْدُ لِلَّـهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَّثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ   (1/35)

اس کا سیدھا سادھا ترجمہ یہ ہے۔

سب خوبی اللہ تعالیٰ کو ہے جس نے بنا نکالے آسمان اور زمین، جس نے ٹھہرایا فرشتوں کو پیغام لانے والے۔ جن کے پر ہیں دو دو اور تین تین اور چار چار چار۔’’

(ترجمہ مولانا محمود الحسنؒ )

(مولانا) چکڑالوی اس کا حسب ذیل ترجمہ لکھتے ہیں۔

پڑھا کرو اے ہر ایک اہل آسمان و اہل زمین۔ الحمد(یعنی پانچوں نمازیں) واسطے راضی کرنے اللہ تعالیٰ کے، کیونکہ وہ فطرت پاک کرنے والا ہے۔ تم تمام آسمان والوں (فرشتوں کی) اور تم تمام روئے زمین ولوں (جن و انس کی)۔ چونکہ تم فطرت اللہ میں تغیر و تبدیل کرتے رہتے ہو اس لیے نمازیں پڑھا کرو تاکہ جبرو نقصان ہوتا رہے۔ اور اللہ تعالیٰ وہ ہے جو کرنے والا ہے اپنے فرشتوں کو رسول تمہاری طرف۔ جو لانے والے تمہاری صلواتوں یعنی چھ ارکانوں کے ہیں ۔ جن کا حق یہ ہے کہ کسی وقت میں دو دو بار ادا کی جائیں اور کسی وقت میں تین تین اور کسی وقت میں چار چار دفعہ مطابق تعلیم کتاب اللہ۔ (یعنی جس وقت کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دو بار ادا کرنے کا حکم فرمایا، تم بھی اس وقت ان چھ ارکان کو دو ہی بار پڑھا کرو۔ اور جس وقت ان کو تین بار ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔، تم بھی اس وقت میں ان کو تین ہی بار ادا کیا کرو۔ اور جس وقت میں فاطر السموٰت والارض نے تم کو چار بار ان کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے اس وقت چار بار ہی پڑھا کرو۔

(ترجمۃ القران۔ پارہ پان صفحہ ۷۲)

اور اس کے بعد پانچ چھ صفحات میں قرٓان کریم کی مختلف آیا اور ان کی (اپنی) تشریح کرنے کے لکھتے ہیں کہ (یہ کچھ) اس بات کا قطعی اور یقینی فیصلہ کرتا ہے کہ نماز کی رکعتین اس طرح ہیں کہ فجر کی دو، شام کی تین، ظہر و عصر و عشا, میں سے ہر ایک کی چار (ایضاً۔ صفحہ ۸۳)

آپ غور کیجئے کہ یہ قرآن کے ساتھ (معاذاللہ) کھلا ہوامذاق نہیں تو اور کیا ہے؟

یا (مثلاً) انہوں نے قرآن سے (باندازِ بالا) یہ ثابت کیا ہے کہ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنے چاہیئں اس طرح کہ قرآن کریم میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی طرف گئے تو چونکہ معرکہ بڑا صبر آزما تھا، اس لیے ان سے کہا گیا کہ وہاں کسی سے ڈرنا نہیں۔ مضطرب و بیقرار نہ ہونا۔ پوری دلجمعی اور اطمینان سے اپنی بات پیش کرنا۔ اس کے لیے الفاظ یہ استعمال کیے گئے کہ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ  ۖ (32/28) یعنی خوف کی حالت میں پھڑپھڑانا نہیں بلکہ اپنے بازو سمیٹ لینا۔’’ (مولانا) چکڑالوی فرماتے ہیں کہ

اس سے ثابت ہوا کہ حکم خداوندی یہ ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ کہنیوں تک ایک دوسے کے اوپر جمع کر کے اپنے سینے کے ساتھ ملائو۔ (ترجمۃ القرآن پارہ ۲۔ صفحہ ۶۰۲)

غرضیکہ وہ اسی طرح نماز کی جملہ جزئیات قرآن کریم سے ‘‘ثابت’’ کرتے چلے جاتے ہیں اور جو کچھ اس طرح ‘‘ثابت’’ کرتے ہیں اس کے متعلق کہتے ہیں کہ ‘‘یہ اللہ کا حکم ہے۔ اور ان کے خلاف ورزی کتاب اللہ کی سراسر مخالفت ہے’’ (ایضاً پارہ ۳۔ صفحہ ۲۳ ۔ ۲۱)۔ ان الفاظ کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ ان سے ایک اہم نتیجہ سامنے آئے گا۔

حرکات و سکنات کے بعد وہ یہ بتاتے ہیں کہ نماز میں پڑھنا کیا چاہیئے۔ اس میں سوائے سورۃ فاتحہ کے سب کچھ مروجہ نماز سے مختلف ہے۔ اگرچہ و ہیں قرآن ہی کی آیا۔

ایک اہلحدیث کا ‘‘لقمہ’’

یہ ہے وہ طریق جس سے چکڑالوی صاحب نے نماز اور اسی طرح قرآن کریم کے دیگر اصولی احکام کی جزئیات قرآن سے ‘‘ثابت’’کیں۔ جب قرآن سے اثبات و تعین احکام کا انداز یہ ٹھہرا تو پھر اس میں کوئی روک کس طرح پیدا ہو سکتی تھی؟ چنانچہ خود (مولانا) چکڑالوی کی (غالباً)زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد انہی کے ہم خیال ایسے لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے بھانت بھانت کی بولیاں بولنا شروع کر دیں۔ مثلاً چکوال کے مولوی محمد فاضل اور (مولوی محمد عالم۔ گوجرانوالہ کے محمد رمضان اکال گڑھ کے مولوی چراغ دین وغیرہ ان میں سے کسی نے ایک وقت کی نماز اور ہر نماز کی ایک رکعت بتائی۔ کسی نے دو دن کے روزے اور کسی نے نو دن کے۔ کسی نے فلاں چیز کو حلال قرار دیا اور کسی نے فلاں کو حرام۔ غرضیکہ ان کی ان کوششوں سے خدا کی اس کتاب عظیم کی (معاذاللہ) اس طرح دھجیاں فضا میں بکھریں کہ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ان میں سے کسی کی بات پر بھی لوگوں نے دھیان نہ دیا۔ ورنہ جتنے فرقے، بہ ہیت مجموعی، مسلمانون میں اس وقت موجود ہیں ان سے کہیں زیادہ اس ایک نظریہ سے پیدا ہو جاتے۔ ان میں سے صرف ایک گروہ ( جو معدودے چند نفوس پر مشتمل ہے) اس وقت تک موجود ہے جس کا تعارف ان کے ترجمان، ماہنامہ بلاغ القرآن کے ذریعہ ہوتا ہے۔ سمن آباد (لاہور) میں ان کی ایک ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد ہے جس میں وہ (بزعم خویش) تین وقت کی ‘‘قرآنی نمازیں’’ پڑھتے ہیں۔ ان تین نمازوں کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ ہم نے اوپر دیکھا ہے کہ (مولانا) چکڑالوی نے قرآن کریم سے پانچ وقت کی نمازیں ثابت کی تھیں۔ وزیرآباد (ثم گجرات) کے ایک اہلحدیث عالم حافظ عنایت اللہ صاحب نے ان کی تردید کی اور کا کہ قرآن مجید سے تو صڑف تین وقتوں کی نمازیں ثابت ہوتی ہیں۔ آپ پانچ وقتوں کی کس طرح ثابت کرتے ہیں۔ یہ (مولانا) چکڑالوی کی زندگی کے آخری ایام کی بات ہے۔ انہوں نے تو اپنے خیال سے رجوع نہ کیا لیکن ان کے بعد ان کے متبعین کے لاہور گروہ نے حافظ عنایت اللہ صاحب کی بات اچک لی اور کہا کہ قرآن کی رو سے نمازیں تین ہی ہیں۔ ادارہ بلاغ القرآن کی طرف سے ‘‘الصلوٰۃ’’ کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع ہوا ہے جس میں انہون نے (چکڑالوی صاحب کے طریق کے مطابق’’ ثابت کیا ہے کہ قرٓان مجید کی رو سے :

۱۔ نمازوںکی تعدادی تین ہے۔ (چکڑالوی صاحب نے پانچ نمازیں بتائی تھیں)

۲۔ ہر نماز کی صرف دو رکعتیں ہیں۔ (چکڑالوی صاحب نے دو ۔ تین۔ چار رکعتیں کہی تھیں)

۳۔ ہر رکعت میں صرف ایک سجدہ ہے (چکڑالوی صاحب نے ہر رکعت میں دو سجدے بتائے تھے)

۴۔ نماز کے لیے اذا ن کی ضرورت نہیں۔

۵۔ اللہ اکبر کہنا خلافِ قرآن ہے۔

۶۔ السلام علیکم کے بجائے سلامُ علیکم کہنا چاہیئے۔

نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کے یہ بھی قائل ہیں لیکن اس کا اثبات سورۃ الکوثر کی اس آیت سے کرتے ہیں۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2/108) جس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ ‘‘پس اپنے رب کے حضور میں نماز ادا کیا کر اور سینے پر ہاتھ باندھ کر قبلہ رو کھڑا ہوا کر۔’’ (پمفلٹ مذکور صفحہ ۱۸)۔ مولانا چکڑالوی کی طرح ان کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ قرآن کریم کا قطعی فیصلہ ہے (ایضاً صفحہ 22)۔ اس کے خلاف کچھ ثابت کرنا ‘‘صریحاً’’ خلاف قرآن ہے۔ (ایضاً صفحہ 29) خدا نے اپنی تنزیلی کتاب میں یہی حکم دیا ہے۔ (بلاغ القرآن بابت دسمبر 1974 صفحہ 32) جہاں تک اذکار، صلوٰۃ کا تعلق ہے۔ دعائے قبل الصلوٰۃ سے لے کر سلام تک ان کی نماز بھی (بجز سورۃ فاتحہ) باقی مسلمانوں کی نماز سے بالکل الگ ہے۔ مثلاً انہوں نے کہا ہے کہ رکوع میں یہ دعا پڑھنی چاہیئے۔

رب اوزعنی ان اشکر نعمتک اللتی انعمت علیّ و علیٰ والدیّ وان اعمل صالحاً ترضٰہُ واصلح لی فی ذریتی۔ انی تبت الیک و انی المسلمین ربان علیک توکلنا و الیک انبعنا و الیک المصیر ربنا لا تجملنا فتن ۃ الذین کفرو۔ اغفرنا۔ انک انت العزیز الحکیم

اور سجدہ میں یہ دعا

سبحن ربنا ان کان وعدنا ربنا لمفعولا۔ الحمد اللہ الذی لم یتخذ ولدا ولم یکن لہُ شرک فی الملک ولم یکن لہُ ولی من الذل ربنا صرف عنا عذاب جہنم ان عذابہا کان عراما۔ انہا سائت مستقراً و مقاماً ربنا ہب لنا من ازواجنا و زریتنا قر ۃ اعین و جعلنا للمتقین اماماً (پمفلٹ مذکور صفحہ 51)

اس قسم کے دیگر افکار ہیں۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

قرآن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانیوالے

میں کہتا چلا آرہا ہوں اور اسے اب پھر دہرا دینا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے قرآن کو سب سے زیادہ نقصان اس فرقہ نے پہنچایا ہے۔ سطح بین نگاہوں میں میری یہ بات بڑی تعجب انگیز سی دکھائی دے گی کیونکہ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آئے گا کہ جو لوگ دین کے معمالہ میں قراان کو کافی تسلیم کرتے ہیں اور ہر بات کو قرٓان ہی سے ثابت کرتے ہیں وہ قرٓان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے کس طرح ہو سکتے ہیں۔ لہذا یہ نکتہ ٹھنڈے دل اور گہرنے غور اور تدبر سے سمجھنے کے قابل ہے۔ قرٓان کریم میں ہے کہ

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ  ۚ   وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا   (82/4)

‘‘کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سے اختلافات پاتے۔’’

یہ آیہ جلیلہ بڑی اہم اور بنیادی ہے۔ اس میں کہا یہ گیا ہے کہ قراان مجید کے منزل من اللہ ہونے کی دلیل ہی نہیں بلکہ ثبوت یہ ہے کہ اس میں کوئی اختلافی بات نہیں۔ اگر (معاذاللہ) یہ ثابت ہو جائے کہ قرآن ایسے احکام دیتا ہے جن میں باہمدگر اختلاف اور تضاد ہے تو اس سے قراان مجید کے من جانب اللہ ہونے کا دعویٰ باطل ہو جاتاہے اور دین کی ساری عمارت دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے۔

مسلمانوں میں مختلف فرقے ہیں اور ان میں باہمی اختلافات بھی، لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ ان کے اختلافات کی بنیاد قرآن ہے۔ اہل حدیث کے اختلافات کی بنیاد روایات پر ہے۔ حدیث کے متعلق اگرچہ ان کے ہاں یہ عقیدہ بھی موجود ہے کہ ان کی بنیاد وحی خفی پر ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ قال الرسول کو قال اللہ سے الگ رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے اختلافات کی زد براہ است قرآن کریم پر نہیں پڑتی۔

اہلِ حدیث سے اگے بڑھیے تو اہل فقہ سامنے آتے ہیں۔ ان کے اختلافات کی بنیاد ان کے آئمہ کا اجتہاد ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ضرور ہے کہ ان کے آئمہ کے اجتہاد کی بنیاد قرآن اور احادیث ہی پر ہے لیکن وہ اسے قال اللہ نہیں کہتے۔ اپنے ائمہ کے اقوال ہی کہتے ہیں۔ لہذا فقہی اختلافات کی زد بھی قرآن پر نہیں پڑتی۔

لیکن فرقہ اہل قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ خدا کا رشاد ہے۔ وہ قرآن کا حکم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس عقیدے کو ماننے والوں میں سے جب ایک کہتا ہے کہ اس معاملہ کے متعلق قرآن کا حکم یہ ہے کہ اور دوسرا کہتا ہے کہ اس کا حکم یہ ہے جو پہلے حکم کے خلاف ہے تو اس سےثابت ہو جاتا ہے کہ ایک ہی معاملہ کے متعلق قرآن مختلف اور متضاد احکام دیتا ہے۔ اس سے قرآن کے منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ یکسر باطل قرار پاجاتا ہے۔ دیگر احکام کو تو چھوڑیے اس طریقہ کے بانی (مولانا) چکڑالوی، اور ان کے متبعین (بلاغ القرآن والوں) نے صرف نماز کے متلق جو قرآنی احکام بتائے ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثلاً

مولانا چکڑالوی کے مطابق قراان نے کہا ہے بلاغ القرآن والوں کے مطابق قرآن نے کہا ہے

۱۔ نمازیں پانچ وقت کی ہیں ۱۔ نمازیں تین وقت کی ہیں۔

۲۔ نمازوں کی رکعتیں دو دو،تین تین، چار چار ہیں۔ ۲۔ ہر نماز کی صرف دو رکعتیں ہیں۔

۳۔ ہر رکعت میں دو سجدے ہیں ۳۔ ہر رکعت میں صرف ایک سجدہ ہے

آپ غور کیجئے کہ یہ نماز سے متعلق محسوس اور مرئی احکام ہیں جو ایک دوسرے کی بالکل ضد ہیں اور ان دونوں کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کریم نے ایسا کہا ہے۔ جو اس کے خلاف کہتا ہے وہ قراان کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم نے اپنی بصیرت کے مطابق قرآن سے یہ احکام مستبنط کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ قرٓن نے یہ جزئیات خود متعین کی ہیں۔ اب آپ سوچیئے کہ جب یہ چیز غیر مسلموں کے سامنے آئے کہ قرآن نے نماز کے تین وقت بھی بتائے ہیں اور پانچ بھی۔ اس نے نماز کی دو رکعتیں بھی مقرر کی ہیں اور فجر کی نماز کی دو، ظہر ، عصر اور عشا کی چار اور مغرب کی تین رکعتیں بھی۔ اسی قرٓن نے ایک رکعت کے لیے ایک سجدہ مقرر کی ہےا اور اسی نے دو سجدے۔ تو وہ قرآن کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے۔؟ غیر مسلم تو ایک طرف، جب سمجھنے سوچنے والے مسلمان نوجوانوں کے سامنے بھی یہ بات آگئے گی تو ان کا قرآن کریم کے معلق کیا تصور ہو گا؟ اور یہ تو ابھی ہم نے صرف نماز کے متعلق بتایا ہے۔ دیگر احکام کے متعلق بھی ان کی تصریحات سامنے آئیں تو قرآن کے متعلق تصور یہ پیدا ہو گا کہ یہ تو ہے ہی اختلافات کا مجموعہ

اس کے بعد آپ سوچیئے کہ میں نے جو کہا ہے کہ قرآن کو سب سے زیادہ نقصان اس فرقہ نے پہنچایا ہے تو اس میں ذرا بھی مبالغہ ہے؟

اسے ایک دفعہ پھر ذہن نشین کر لیجئے کہ مولانا چکڑالوی اور بلاغ القرآن والے، دونوں کا دعویٰ یہ ے کہ نماز کی جزئیات خود قرآن کی متعین کردہ ہی۔ ان کی مستنبط کردہ نہیں۔ اور صرف نماز کی جزئیات ہی نہیں ۔ قرآن کریم نے تمام احکام کی جزئیات خود متعین کر دی ہیں۔ اس کے لیے ان کی سند اور دلیل یہ ہے کہ قرآن نے اپنے آپ کو ‘‘مفصل’’ اور تفصیل کل شئی کہا ہے۔ یہ ٹھوکر تھی جو مولانا چکڑالوی کو لگی اور جس کے پیچھے ان کے متبعین آنکھیں بند کر کے چلے آ رہے ہیں۔ لہذا یہ سمجھ لینا نہایت ضروری ہے کہ قرآن کریم کے ‘‘مفصل کتاب’’ ہونے کا صحیح مفہوم کیا ہے۔

کتاب فصل کا صحیح مفہوم

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کہیں الکتاب مفصلاً (115/2) کہا ہے۔ کہیں تفصیل الکتاب (37/10)اور کہیں تفصیل کل شئی وغیرہ اردو زبان میں تفصیل، تفاصیل، تفصیلات (جیسے الفاظ) جزئیات کے معنون میں استعمال ہوتے ہیں۔ اور مفصل اسے کہتے ہیں جس میں کسی بات کو مجملاً بیان نہ کیا گیاہو۔ بلکہ اس کی جزئیات بھی دی گئی ہوں۔ انگریزی میں انہیں ( Details ) کہا جاتاہے۔ (مولانا) چکڑالوی کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ قرآن کریم میں بھی یہ الفاظ انہی معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں جن معانی میں یہ اردو زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ بنیادی اینٹ غلط رکھی گئی اس لیے ان کے دعاوی کی دیوار تاثریا ٹیڑھی اٹھتی چلی گئی۔ عربی زبان میں مادہ (ف۔ ص۔ ل) اور اس بننے والے الفاظ ، ان معانی میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس میں اس مادہ کے معنی ہیں۔ ‘‘الگ الگ کر دینا’’ ‘‘فصل الحدبین الارضین’’ کے معینی وہ حد فاصل ہے جو زمین کے دو قطعات کو الگ الگ کر دے۔ فصال بچے کے دودھ چھڑانے کو کہتے ہیں۔ یعنی بچے کو ماں سے الگ کر دینے کو۔ فصل اثلاۃ کے معنی ہیں قصاب نے بکری کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ تفصیل کے معنی ہیں کپڑے کے ٹکڑے الگ الگ کر دینا۔ فصول السنۃ سال کے چار موسموں (فصلوں) کو کہتے ہیں۔ فاصلہ اس منکے کو کہتے ہیں جو ہار میں پروئے ہوئے دو موتیوں کے درمیان پرویا جاتا جائے تاکہ اس سے وہ دو موتی الگ الگ متمیز ہو جائیں۔ ایسے ہار کو عقد مفصل کہا جاتاہے۔ الفاصل، جج کو کہتے ہیں۔ اور فیصلہ اس کے اس حکم کو جو جائز اور ناجائز، حق اور باطل غلط اور صحیح کو الگ الگ کر دے۔ فاصلہ دو مقدمات کو الگ الگ کر دیتا ہے۔ (یہ تمام معانی عربی زمان کی مستند کتب لغت میں موجود ہیں)

اس مادہ کے ان معانی کے لحاظ سے تفصیل کے معنی ہیں، واضح کر دینا۔ کھول کر بیان کر دینا (امام راغب) اور مفصل کے معنی، وہ کتاب جس میں ہر بات نہایت وضاحت سے نکھار کر، الگ الگ کر کے،بیان کی جائے۔ جس کے بیان میں کوئی ابہام نہ ہو۔ التباس نہ ہو۔ الجھن نہ ہو۔ ہر بات نہایت واضح نکھری اور ابھری ہوئی ہو۔ انگریزی میں اسے کہیں گے ( Distinctly Stated ) واضح رہے کہ قرآن کریم میں وضاحت یا واضح (یا اس مادہ سے اور الفاظ) نہیں آئے۔ اس میں وضاحت یا واضح کے لیے تفصیل یا مفصل (وغیرہ) الفاظ آئے ہیں۔

ان تشریحات کے بعد قرآن کریم کی طرف آئیے۔ اس میں اس مادہ (ف۔ ص۔ ل) کے الفاظ حسب ذیل معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔

۱۔ و لما فصلت الغیر (94/13) جب قافلہ وہاں سے روانہ (جدا) ہوا۔

۲۔ فصالہ فی عامین (14/31) بچے کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے۔

۳۔ ان اللہ یفصل بینھم یوم القیم ۃ (17/22) و دیگر مقامات) اللہ تعالیٰ ان میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔

۴۔ یوم الفصل (21/37) و دیگر مقامات) فیصلہ کا دن

۵۔ قول فصل (13/86) فیصلہ کن بات

۶۔ ہو خیر الفاصلین (57/6)

۷۔ سورہ انعام میں کارگہ کائنات کے مختلف عوامل و عناصر کی تگ و تاز کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ قد فصلنا الایاتِ لقوم یعملون (98/6 و 99/6) ہم نے اپنی آیات کی وضاحت ان لوگوں کے لیے کر دی ہے جو علم و بصیرت سے کام لیں۔

۸۔ اسی سورۃ میں ذرا آگے چل کر کفر اور اسلام قبول کنرے کے بنیادی اصولوں کی وضاحت کے بعد فرمایا قد فصلنا الایات لقوم یذکرون (127/6) ہم نے ان آیات کو اس قوم کے لیے واضح کر دیا ہے جو (خدائی راہ نمائی کو) اپنےسامنے رکھنا چاہے۔

۹۔ سورۃ اعراف میں اہل جنت اور جہنم کے اصولی امتیازات کی وضاحت کے بعد کہا۔ ولقد جئنہم بکتب فصلنہُ علیٰ علمٍ ۔۔۔۔۔۔ (53/7) ہم ان کی طرف وہ کتاب لائے ہیں جسے ہم نے ازروئے علم واضح کیا ہے۔

۱۰۔ سورۃ اسرائیل میں گردشِ لیل و نہار اور عدد السین (سالوں کی گنتی) وغیرہ بیان کرنے کے بعد کہا۔ وکل شئی فصلنہُ تفصیلاً (13/17) اور ہم نے ہر شے کی خوب خوب وضاحت کر دی ہے۔

۱۱۔ اسی طرح دیگر مختلف مقامات پر اپنی تعلیم کو واضح طور پر بیان کر دینے کے بعد فرمایا۔ وکذالک نفصل الایت (55/6، 32/7، 174/7، 11/9، 24/10، 28/30، 5/10، 13/2) ان آیات میں احکام کی جزئیات کہیں بھی نہیں آئیں۔ ان کی وضاحت ہی کی گئی ہے۔

۱۲۔ ان معانی کی روشنی میں سورۃ ہود کی پہلی آیت (1/11) کو لیجئے جس میں کہا گیا ہے کہ کتب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر ۔ وہ کتاب جس کے احکام کو نہایت حکم بنایا گیا ہے اور ان کی وضاحت خود خدا کی طرف سے کر دی گئی ہے۔

۱۳۔ سورۃ حٰم السجدہ میں قراناً عربیاً (واضح اور فصیح قرآن) کے ساتھ فصلت اٰیتہُ (3/41) آیا ہے۔مطلب بالکل واضح ہے۔ اسی سورۃ میں آگے چل کر کہا گیا ہے کہ ولو جعلنہُ قراناً اعجمیا لقالو لو لا فصلت اٰیتہُ (44/41) اگر ہم اسے عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ اعتراض کر دیتے کہ اس کی آیات واضح کیوں نہیں کی گئیں یہاں فصلت کا مفہوم نکھر کر سامنے آ گیا ہے۔

۱۴۔ سورۃ صٓ میں ہے کہ (حضرت) داود کی حکمت عطا کی گئی اور فصل الخطاب (20/38) معاملات کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت

۱۵۔ سورۃ شوریٰ میں کلمۃ الفصل (21/42) آیا ہے جس کے معنی ہیں فیصلہ کن بات

۱۶۔ سورۃ یونس میں قرآن کریم کے متعلق ہے۔ تصدیق الذی بین یدیہِ و تفصیل الکتاب (10/35) اس کے معنی صاف ہیں۔ یعنی قوانین خداوندی کی وضاحت کرنے والی۔ سورۃ یوسف میں ہےتفصیل کل شئیٍ (111/12) یعنی جتنی باتیں اسے میں کہی گئی ہیں، سب واضح اور نکھری ہوتی ہیں۔ ان میں کوئی ابہام نہیں۔ سورۃ انعام میں یہی الفاظ کتاب موسیٰ کے متعلق آئے ہیں۔(155/6 نیز 145/7 میں)

۱۷۔ سورہ اعتراف میں حضرت موسیٰ کو دی گئی نشانیوں کو اٰیت مفصلاتٍ کہ کر پکارا گیا ہے (133/7) یعنی وہ نشانیاں جو حق کو باطل سے الگ کر کے بتادیں۔

۱۸۔ ان آیات کے بعد، آخر میں سورۃ انعام کی اس آیت کو سامنے لایئے جس میں کہا گیا ہے کہ   أَفَغَيْرَ اللَّـهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا  ۚ (115/6) کیا میں خدا کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کی تلاش کروں، حالانکہ اس نے تمہاری طرف ایسا ضابطہ قوانین نازل کر دیا ہے جو اپنے مطالب میں بالکل واضھ ہے۔ دوسری جگہ اس کی وضاحت تبیاناً لکلِ شئیٍ کہہ کردی ہے۔ یعنی یہ کتاب مبین بھی ہے۔ یعنی اپنے مطالب کو ابھار کر بیان کرنے والی۔ اور مفصل بھی۔ یعنی انہیں نکھا کر بیان کرنے والی۔ ( Clearly And Distinctly ) بیان کرنے والی (مولانا محمود الحسنؒ نے۔ شاہ عبدالقادرؒ کے ترجمہ کی بنا پر (کتاب مفصل) کا ترجمہ ‘‘کتاب واضح’’ کیا ہے۔ مولانا ابولاکلام آزادؔنے اس کا ترجمہ ‘‘کھول کھول کر باتیں بیان کرنے والی’’ کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ ؒ نے ‘‘واضح کردہ شد’’ کیا ہے۔ ہم اردو زبان میں انتہائی وضاحت کے لیے کہتے ہیں کہ ‘‘وہ ایک ایک لفظ الگ الگ بولتا ہے’’

ان تشریحات کی روشنی میں یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے کہ (مولانا) چکڑالوی کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے قرٓٓن کریم ‘‘کتاب مفصل’’ ہونے کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ اس میں دین کی تمام اصولی احکام کی جزئیات (اردو تفاصیل) بھی دی ہوئی ہیں۔ اسی سے ان کی سوچ کی گاڑی غلط پٹری پر پڑ گئی اور جب مولویں کے ساتھ ان کے مناظرے شروع ہو گئے تو جیسا کہ مناظروں میں ہوتا ہے۔ پندار نفس ضد اور تعصب، بغیاً بینھم (213/2) نے انہیں اس قابل ہی نہ رہنے دیا کہ وہ اپنے مسلک پر نظر ثانی کر سکیں۔ اور ان کی یہی لکیر ان کے متبعین پیٹے جارہے ہیں۔ (ان میں تو کوئی پڑھا لکھا آدمی بھی نظر نہیں آتا) ان کا دعویٰ ان کی زبانی سنیئے۔ کہتے ہیں۔

طلوع اسلام کا مسلک یہ ہے کہ قرآن میں صرف احکام ہیں اور باستثنا کے چندان کی تفصیلات اس میں موجود نہیں۔ مگر بلاغ القرآن کا مسلک یہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں احکام معہ تفصیلات موجود ہیں۔

(بلاغ القرآن ۔ فروری 75، صفحہ 25)

قرآن کاتبئین احکام کا انداز

اس کے بعد آئیے آپ ان کے اس دعوےٰ کی طرف کہ قرآن مجید نے اپنے تمام احکام کی جزئیات خود متعین کر رکھی ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ پہلے یہ دیکھیئے کہ احکامات کے سلسلہ میں قرآن کریم کا طریق اور انداز کیا ہے۔ اس نے اپنی آیات کو دو قسموں میں قایم کر دیا ہے۔ متشابہات اور محکمٰت (6/3)۔ متشابہات وہ فطری اور مابعد الطبیعاتی بسیط حقائق ہیں جنہیں اس نے تشبیہاً بیان کیا ہے۔ان کے متعلق ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔ جہاں تک محکمت کا تعلق ہے یہ قراانی احکام و قوانین ہیں۔ جس طرح احکام و قوانین کی صورت میں ہونا چاہیئے انہیں اس نے بالکل واضح اور محکم انداز میں بیان کر دیا ہے۔ اگر کسی ضابطہ قوانین کے احکام واضح شکل میں نہ ہوں تو وہ ضابطہ قابل عمل نہیں ہو سکتا۔ ان احکام کی یہ شکل نہیں کہ زید ان سے کچھ سمجھے اور بکر کچھ اور۔ دو چار مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی۔

۱۔ سورہ النسآ کی دو تین آیات میں اس نے ان رشتوں کی تفصیل دی ہے (یعنی وضاحت کی ہے) جن سے نکاح حرام ہے۔ آپ ان رشتوں پر نگاہ ڈالیئے اور دیکھیئے کہ انہیں کس قدر متعین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر متعین انداز میں کہ حرمت علیکم امہتکم (تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں) کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ ولا تنکحو ما نکح اٰباکم من النسا (23-22/4) ‘‘جن عورتں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا تھا، ان سے بھی نکاح نہ کرو’’ یعنی امھتکم (مائیں) سے چونکہ یہ بات واضح نہیں تھی کہ ان میں سوتیلی مائیں بھی شامل ہیں یا نہیں، اس نے اس کی بھی وضاحت کر دی۔ اس وضاحت کی موجودگی میں ہر شخص پورے حتم و یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ خدا نے سوتیلی اور حقیقی مائوں (دونوں) سے نکاح حرام قرار دیا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتاہے کہ کوئی کہہ دے کہ سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے اور دوسرا کہہ دے کہ نہیں! قرآن کی رو سے اس سے نکاح جائز ہے۔ یہ ہے محکمٰت کا انداز۔

۲۔ سورۃ النسا ہی میں اس نے وراثت کے حصوں کا تعین کیا ہے۔ دیکھئے کہ اس نے کس طرح مختلف وارثوں کے چھوٹے بڑے تمام حصوں کی جزئیات تک کا تعین کر دیا ہے۔ فلاں کا نصف، فلاں کا تہائی، فلاں کا چھٹا، فلاں کا آٹھواں وغیرہ۔ یہ ہے قرآن کی رو سے جزئیات کا تعین۔ یعنی جن احکام کی اس نے جزئیات خود متعین کی ہیں ان جزئیات کی کیفیت یہ ہے۔

۳۔ سورۃ بقرہ (180/2) میں اس نے وصیت کا اصولی حکم دیا ہے ۔ اس کے بعد سورۃ مائدہ میں اس نے طریق کی وضاحت کر دی جس کے مطابق وصیت کو ضبط میں لانا چاہیئے۔ (108-106/5)ان آیات میں آپ دیکھئے کہ اس نے اس طریق کی جزئیات کا کس وضاحت سے ذکر کر دیا ہے۔

4۔ سورۃ بقرہ میں اس نے لین دین کے معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کا حکم دیا۔ (83-282/2) ان آیات میں آپ دیکھیئے کہ اس نے کس وضاحت سے بتایا ہے کہ اسے کس طرح لکھا جائے۔ کون لکھے، کون لکھوائے، اس پر کس طرح گواہ مقرر کیے جائیں۔ ان کی شہادت کس طرح قلمبند کی جائے۔ اگر تم حالت سفر میں ہو تو کیا کرو ۔۔۔۔ یہ جزئیات اس قدر وضاحت سے اور متعین طور پر مذکور ہیں کہ آیت (282/2) قرآن مجید کی (غالباً) سب سے لمبی آیت ہے۔ یہ ہے تعین، تبیئنِ جزئیات کا قرآنی انداز۔

۵۔ اس نے نکاح، طلاق، مہر ، عدت وغیرہ سے متعلق احکام دیئے تو دیکھئے ان کی جزئیات کو کس متعین انداز سے بیان کر دیا۔ اس نے روزوں کے احکام دیئے تو دیکھے انہیں کس طرح متعین اندازسے بیان کیا ہے۔ ایک مہینے کے روزے۔ صبح کی سیاہ اور سفید دھاری کے نمایوں ہونے سے لے کر رات تک، کھانے پینے اور جنسی اختلاط کی ممانعت۔ مسافر اور بیار کی سورت میں التوا۔ جس کے لیے روزہ ناقابل برداشت ہو اس کی استثنا۔ یہ تمام جزئیات متعین طور پر بیان کر دیں۔

ان مثالوں سے آپ نے دیکھا کہ جن احکام کی جزئیات قراان کریم نے خود متعین کر دی ہیں ان میں انسانی قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ ان میں کا ہر حکم واضح اور متعین ہے اور ہر شخص حتمی طور پر کہہ سکتا ہے کہ اس باب میں خدا نے یہ فرمایا ہے۔ نیز جو کچھ اس نے فرمادیا ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں کسی قسم کا تضاد نہیں۔

۶۔ اب آگے بڑھیئے۔ قرآن کریم نے اپنے تمام احکام کی جزئیات کا تعین خود نہیں کیا۔ اکثر اصولاً بیان کر دیئے گئے ہیں۔ ان میں بعض احکام ایسے ہیں جن کی جزئیات کا تعین قرآن ہی کے دیگر متعلقہ احکام کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً قرآن کریم سے مطلقہ عورت کی عدت کے متعلق کہا گیا ہے کہ عام حالات میں وہ تین حیض ہے۔ (228/2) لیکن اگر وہ حاملہ ہو تو عدت وضعِ حمل تک ہے۔ (4/65)

بیوہ کے معلق ہے کہ اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ (234/2) لیکن بیوہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا۔ اس کے لیے کہا جائے گا کہ مطلقہ حاملہ کی عدت پر قیاس کر کے کہا جا سکتا ہے کہ بیوہ حاملہ کی عدت بھی وضع حمل تک ہو گی۔ لیکن اس کے متعلق ہم یہ کہنے کے مجاز نہیں ہوں گے کہ یہ عدت خدا کی مقرر کردہ ہے۔ ہم یہی کہہ سکیں گے کہ یہ ہمارا استبناط یا اجتہاد ہے۔

۷۔ بعض احکام ایسے بھی ہیں جن کی جزئیات کو بطریق استنباط بھی متعین نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً قرآن میں امت مسلمہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (38/42) ان کے معمالات ان کے باہمی مشورہ سے طے پائیں گے۔ یہاں مشاورت کا اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کا طریق نہیں بتایا گیا۔ یہ طریق قرآن کی کی دیگر آیات سے مستبط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا طریقِ مشاورت امت خود متعین کرے گی۔ اس کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ یہ جزئیات قرآن کریم کے کسی اصول، حکم یا قانون سے ٹرائیں نہیں۔ بالفاظ دیگر یہ جزئیات قرآنی حدود کے اندر رہتے ہوئے متعین کی جائیں گی۔

اس سلسلہ میں اس بنیادی حقیقت کا سمجھ لینا ضرور ی ہو گا کہ ۲۔ اور ۳۔ کی صورت میں استبناطِ احکام یا تعین جزئیات کا حق اور اختیار کسی فرد (یا کسی گروہ) کو نہیں دیا جا سکتا۔ خواہ وہ فرد کتنا ہی بڑا عالم، فقیہ، یا مجتہد کیوں نہ ہو۔ یہ حق اور اختار صرف نظام مملکت (خلافت علیٰ منہاج رسالت)کو حاصل ہو گا۔ وہی نظام ان جزئیات کا تعین کرے گا اور وہی ان میں عندالضرورت تغیر و تبدل کا مجاز ہو گا۔ اس کے فیصلے ساری امت کے لیے واجب العمل ہوں گے۔ کیونکہ ان کی حیثیت قوانینِ حکومت کی ہو گی۔ اس سے امت کی وحدت قائم رہے گی۔

خلافتِ راشدہ کے زمانے میں، کسی شخص کے اپنے طور پر فیصلے دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے بعد بھی، اس بابت میں ارباب فکر و نظر کی احتیاط کا کیا عالم تھا، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ امام اعظمؒ کا فقہ میں جو مقام ہے اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ مورخ ابن خلکان نے لکھا ہے کہ ایک دن ان کی صاحبزادی نے کہا کہ ابا جان! میں روزہ سے ہوں۔ دانتوں سے خون نکلا اور تھوک کے ساتھ گلے میں اتر گیا۔ روزہ جاتا رہا یا باقی رہا۔ آپ نے فرمایا بیٹی! اپنے بھائی حمادؔ سے پوچھو کہ حکومت کی طرف سے فتویٰ دینے کے مجاز وہ ہیں، میں نہیں، ان حضرت کی احتیاط کا یہ عالم تھا۔ اور اب۔۔۔۔ہر بوالہواس نے حسن پرستی شعار کی۔ جس کا جی چاہا فیصلے کرنے کا مجاز بنا بیٹھا۔ مذہب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

اہل قرآن کی جزئیات

ان تصریحات کے بعد، فرقہ اہل قرآن کے مسلک کی طرف آئیے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ تمام احکام کی جزئیات قرآن کریم نے خود ہی متعین کر دی ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک تصریحات بالا میں شق ۲۔ اور ۳۔ (اسلامی نظام کی طرف سے استبناطِ احکام اور تعین جزئیات) خلاف قرآن ہوں گے۔ اس مقام پر ہمارے سامنے ایک دلچسپ حقیقت آتی ہے۔ (مولانا) چکڑالوی نے اپنے ہاں اسلامی نظام یا خلاف علیٰ منہاج رسالت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ وہ خالص مذہب کی سطح پر سوچتے تھے اور مذہب میں نظام کا تصور ہی نہیں ہوتا۔ یہ یکسر انفرادی اور پرائیویٹ معاملہ ہوتا ہے۔ ان کی وفات کے بعد، ہمارے دور میں، اسلامی نظام کا تصور اجاگر ہوا۔ علامہ اقبالؒ نے اس کا تصور پیش کیا، علامہ اسلم جیرج پوریؒ نے اس کے تشکیلی خطوط کی وضاحت کی۔ اور اس کی عام نشرواشاعت کی سعادت طلوع اسلام کے حصہ میں آئی۔ دین کا یہ تصور اس قدر معقول اور اسلام کے آخری اور مکمل دین ہونے کی دلیل اور برہان تھا کہ قدامت پرست مذہبی پیشوائیت کی مخالفت کے علی الرغم، ارباب کر و نطر نے اسے اپنے قلوب سلیم میں جگہ دے دی۔ اس کے بعد محراب منبر بھی ان اصطلاحات کے اختیار و استعمال پر مجبور ہو گئے اور اسی مجبوری کے ماتحت (مولانا) چکڑالوی کے متبعین کو بھی ان الفاظ کو دہرانا پڑا۔ لیکن اس سے یہ عجیب کشمکش میں گرفتار ہو گئے۔ اسلامی نظامؔ کے نظریہ کے معنی یہ ہیں کہ ہم تسلیم کریں کہ جن احکام کی جزئیات قرآن نے متعین نہیں کیں۔ وہ انہیں اصولِ مشاورت کے مطابق متعین کرے گا۔ اہل قراان کا عقیدہ یہ ہے کہ جملہ احکمات کی جزئیات قرآن کے اندر محفوظ ہیں۔ اس سے یہ سوال سامنے آیا کہ پھر اسلامی نظام کرے گا کیا۔ قرآن نے جو مشاورت کا حکم دیا ہے اس پر عمل کس طرح ہو گا۔؟ دیکھئے وہ اس کشمکش سے نکلنے کی صورت کیا اختیار کرتے ہیں۔ کہتے ہیں۔

آنحضورﷺ کو حکم ہوا۔ شاورھم فی الامر (159/3) اور مومنوں کی صفت بیان ہوئی۔ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (38/42)۔ دیکھئے! امرؔ میں مشاورت کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ کے حکم میں نہیں۔ حکم کے متعلق تو ارشاد ہوا ہے۔ ان الحکم الّا للہ (57/6، 47-40/12) حکم صرف اللہ کا ہے۔ لا یشرک فی احکمہِ احدا (26/18) اللہ اپنے حکم میں کسی ایک کو بھی شریک نہیں کرتا۔ اس لیے حکم اللہ کا اور جزئیات بندوں کی؟ (العیاز باللہ)

(بلاغ القرآن۔ بابت فروری ۱۹۷۵، صفحہ ۲۶)

اس کے بعد انہیں یاد آ گیا کہ خود لفظ امر کے معنی حکم ہیں۔ اس کا کیا علاج؟ کیا

لفظ امر کا معنی حکم بھی ہے۔ لیکن چونکہ اللہ کے حکم میں کوئی شریک نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کی جزئیات متعین کرنے بیٹھ جائے، کہ نمازیں پانچ پڑھی جائیں یا تین یا دو ایا ایک۔ اس لیے شاورھم فی الامر(159/3) میں آمدہ لفظ امرؔ سے اللہ کا حکم مراد نہیں بلکہ وہ معاملات مراد ہیں جو آنحضورﷺ اور آپ کے جانشینوں کو داخلی یا خارجی معاملات میں وقتاً فوقتاً ہنگامی طور پر پیش آتے تھے۔

(صفحہ نمبر ۲۷)

آپ نے غور فرمایا کہ ان حضرات کی خالص مذہب پرستانہ ذہنیت کس طرح پھوٹ پھوٹ کر سامنے آ رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپﷺ کے صحابہؓ نے حکومت خداوندی کو قائم فرمایا تھا۔ اور اس حکومت کے جس قدر معاملات تھے ان سب کا تعلق ‘‘حکم خداوندی’’ سے تھا۔ اس میں ‘‘عبادات’’ اور ‘‘امور مملکت’’ میں کوئی تمیز و تفریق نہیں تھی۔ صحنِ مسجد ہو یا ایوانِ حکومت (بلکہ میدانِ جنگ) ان میں کا ہر معاملہ ‘‘حکم خداوندی’’ کے مطابق طے ہوتا تھا۔ ‘‘عبادات’’ اور امور مملکت کی ثنویت اور مغائرت اس دور کی پیدا کردہ ہے جب حکومتِ خداوندی کی جگہ ملوکیت اور مذہبی پیشوائیت نے لے لی تھی۔ اور یہ حضرات (اہل قرآن) بھی اسی ذہنیت کے مالک ہیں۔ ان کے نزدیک بھی اسلام ایک مذہب ہی ہے۔

اور پھر اس پندار نفس پر غور کیجئے! اگر خلاف علیٰ منہاج نبوت ، یہ فیصلہ کرے کہ نمازیں پانچ پڑھی جائیں یا تین یا دو یا ایک، تو یہ شرک ہو گا، اور کوئی عبداللہ چکڑالوی یا ماسٹر محمد علی رسول نگری یہی طے کرنے بیٹھ جائے تو یہ عین مطابق قرآن ہو گا۔ ۔۔ کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا! ۔۔۔۔۔

لیکن اتنا لکھنے کے بعد ان کے دل میں خود ہی کھٹک پیدا ہو گئی کہ یہ ہم نے کیا کہہ دیا۔ اس کے ازالہ کے لیے فرمایا:

جب خلافتِ الٰہیہ قائم ہو گئی وہ قرآن ہی سے فیصلہ دے گی اور اسے قرآنی جزئیات ہی کے نام سے بصمیم قلب تسلیم کرنا ہو گا۔ (بلاغ القرآن۔ فروری ۱۹۷۵ صفحہ ۲۹)

سوال یہ ہے کہ کیا وہ (خلافت الٰہیہ) نماز، روزہ کے متعلق بھی فیصلہ دے گی یا صرف امورِ مملکت کے متعلق ہی فیصلے دے گی؟ کیا نماز، روزہ، حج، زکوۃٰ وغیرہ ‘‘مذہبی امور’’ اس کے حیطہ اقتدار سے باہر ہوں گے؟ قرآن کریم نے تو ان اربابِ خلافت کے متعلق کہا ہے کہ

الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ  ۗ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (41/22) ‘‘جب انہیں تمکن فی الارض حاصل ہو گا تو یہ ‘‘اقامت صلوۃٰ’’ اور ایتائے زکوۃٰ ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کریں گے’’۔ لیکن اگر یہ حضرات اس وقت موجود ہوں تو ان سے کہہ دیں گے کہ تمہیں صلوۃٰ و زکوہٰ کو متعلق فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا دائرہ بھی امور مملکت تک محدود ہے۔ تم اگر اس سے تجاوز کر کے مذہبی امور میں دخیل ہو گے تو مملکت کے خلاف بغاوت کی جائے گی۔ کیونکہ تمہارا ایسا کرنا خلاف قرآن اور شرک ہو گا۔ ان للہ و انا الیہ راجعون

اگر مزید تفصیل میں جانا مقصود ہوتا تو میں بتاتا کہ قرآن کریم میں ‘‘امر’’ دین کے معنوں میں آیا ہے اور اسلامی مملکت دین ہی کی مظہر اور ذریعہ نفاذ ہوتی ہے۔ رسول اللہﷺ سے جب کہا گیا تھا کہ ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (18/45) ‘‘پھر ہم نے تمہیں امر کے ایک راستے پر لگا دیا سو تم اسی کا تباع کرو’’ تو اس سے مراد دین خداوندی تھا نہ کہ محض امور مملکت۔ دوسری طرف جب جماعت مومنین سے استخلاف فی الارض (حکومت و مملکت) کا وعدہ کیا گیا تھا تو اس کی غرض و غایت یہ بتائی گئی تھی کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ (55/24) تاکہ اس سے اس دین کو تمکن حاصل ہو جائے۔ جسے خدا نے ان کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ لہذا امر کو دنیاوی امور تک محدود سمجھنا دین سے بے خبری کی دلیل ہے۔ ان تمام امور کی جزئیات متعین کرنا جن کا تعین قرآن کریم نے نہیں کیا، اسلامی نظام پر چھوڑ دیا گیا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

قرآن کے خلاف سنگین الزام

اسے پھر دہرا دیا جائے کہ ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کریم نے تمام احکام کی جزئیات خود ہی متعین کر دی ہے۔ قرآن کی متعین کردہ جزئیات کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ وہ کس قدر واضح، صاف اور متعین ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔ اس کی مثالیں پہلے دی جا چکی ہیں۔ یہ اس قدر واضح اور متعین ہوتی ہیں کہ ان کے متعلق دو آراکا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً جہاں اس نے کہا ہے کہ فلامہ السدس (11/4) یعنی ماں کا چھٹہ حصہ ہے تو اسے دو نہیں، دو کروڑ آدمی بھی دیکھیں تو اس کے حصہ کو چھٹا حصہ ہی کہیں گے۔ یہ کبھی نہیں ہو گا کہ ایک شخص چھٹا حصہ کہ دے اور دوسرا آٹھواں حصہ۔ اس تصریح کے بعد اب نماز کی ان جزئیات کو لیجئے جسے ان حضرات کے نزدیک قرآن نے متعین کیا ہے۔ (مولانا) چکڑالوی نے قرآن کی آیات (114/11) اور (87/17) سے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقتوں کی نماز کا حکم دیا ہے اور بلاغ القرآن والوں نے انہی دو آیتوں کو درج کرنے کے بعد کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں تین وقتوں کی نماز فرض قرار دی ہے اور دونوں نے کہا ہے کہ یہ قرآن کا قطعی فیصلہ ہے۔ یا مثلاً مولانا چکڑالوی نے سورۃ النسا کی آیات (102-101/4) درج کرنے کے بعد کہا ہے کہ خدا نے ان میں حکم دیا ہے کہ نماز کی چار رکعتیں ہیں اور بلاغ القرآن نے انہیں آیات کے درج کرنے کے بعد کہا ہے کہ خدا نے نماز کی دو رکعتیں مقرر کی ہیں۔ اسی طرح مولانا چکڑالوی نے کہا ہے کہ خدا نے ایک رکعت میں دو سجدوں کا حکم دی اہے۔ اور بلاغ القرآن نے بتایا ہے کہ خدا نے ایک رکعت میں ایک ہی سجدہ کا حکم دیا ہے۔

سوچیئے کہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کر دےکہ کیا آپ کے خدا کو یہ کہنا بھی نہیں آتا کہ نماز کے کتنے اوقات ہیںِ کتنی رکعتیں اور کتنے سجدے ہیں۔ تو اس کا کیا جواب دیا جائے گا؟ اگر قرآن کی یہی حالت ہے کہ اس کی ایک ہی آیت سے پانچ وقت اور تین وقت یا چار رکعتیں اور دو رکعتیں یا دو سجدے اور ایک سجدہ ثابت ہو جاتا ہے تو ایسے قرآن کے متعلق (معاذاللہ) کیا تصور قائم ہو گا؟ لیکن ان حضرات کو اس سے کیا غرض کہ ان کی اس قسم کی حرکتوں سے خدا کے متعلق کیا تصور پیدا ہوتا ہے اور قرآن کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ انہیں تو ایک جدید فرقہ کی تشکیل اور اس کی امامت سے غرض ہے اور بس!

مندرجہ بالا آیات میں تو پھر بھی صلوۃٰ کے الفاظ آتے ہیں لیکن جب ہم ان کے بیان کردہ ‘‘اذکار صلوۃٰ’’ کی طرف آتے ہیں تو وہاں اس سے بھی زیادہ حیرت افزا اور تاسف انگیز صورت سامنے آتی ہے۔ سورہ نمل میں ہے کہ جب حضرت سلیمانؑ کا گزر وادی نمل پر سے ہوا اور اس قوم کی سربراہ نے اپنے لوگوں سے کہا کہ تم اپنے اپنے گھروں میں چھپ جائو ورنہ سلیمان کا لشکر تمہیں کچل دے گا تو حضرت سلیمانؑ اس کی غلط نگہی پر متبسم ہوئے اور اس کے ساتھ ہی خدا سے دعا کی کہ

  رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ (19/27) ‘‘اے میرے رب ! مجھے اس کی توفیق عطا فرما کہ تو نے جس نعمت سے مجھے اور میرے والدین کو نوازہ ہے اس کا شکر اد اکروں اور تیری پسند کے مطابق عمل صالح کروں۔’’ یہی الفاظ کچھ اضافے کے ساتھ سورۃ احقاف (15/46) میں مومنین کی زبان سے کہلوائے گئے ہیں۔ ان مقامات میں نہ کہیں صلوۃٰ کا ذکر ہے، نہ رکوع و سجود کا۔ لیکن ‘‘بلاغ القران’’ والوں کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو رکوع کی حالت میں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ہم نے صرف ایک مثال پیش کی ہے۔ ورنہ انہوں نے دعائے قبل صلوۃٰ سے اذکار بعد صلوۃٰ تک اسی طرح سے مختلف آیتیں درج کی ہیں اور اس کے بعد کہا ہے کہ یہ قرآن کا مقرر کردہ صلوۃٰ کا طریق۔

اگر یہ حضرات یہ کہتے کہ ہم نے قرآن کریم یں غور و فکر کیا ہے جس کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ نماز میں اس قسم کی دعائیں پڑھنی چاہئیں تو یہ اور بات ہوتی۔ لیکن ان کا کہنا تو یہ ہے کہ یہ خدا کا حکم ہے کہ نماز میں حالتِ قیام میں یہ پڑھو، رکوع میں یہ پڑھو اور سجدہ میں یہ کہو۔ اپنے قیاس کو خدا کا حکم کہہ کر پیش کرنا اتنی بڑی جسارت ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔۔ انہیں اس کا بھی قطعاً احساس نہیں ہوتا کہ جب کل کو اللہ تعالیٰ یہ پوچھے گا کہ میں نے کب کہا تھا کہ قیام میں یہ آیتیں پڑھو اور رکوع اور سجدے میں یہ آیتیں ، تو اس کا کیا جواب دیا جائے گا؟ قرآنی آیات کے ساتھ اس قسم کا کھیل میرزا غلام احمد کھیلا کرتے تھے۔ (مثلاً) وہ کہتے تھے کہ قرآنی آیت ۔۔ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ۔۔۔ میں ، مجھے رسول کہہ کر پکارا گیا ہے۔ (براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۵ و اعجاز احمدی) وقس علیٰ ذالک۔ لیکن وہ تو اپنے اس قسم کے دعاوی کی دلیل اور مسند یہ پیش کرتے تھے کہ انہیں اس کی بابت خود خدا نے بذریعہ وحی بتایا ہے۔ معلوم نہیں کہ بلاغؔ القرآن والوں کے پاس اس کی کیا سند اور ثبوت ہے کہ خدا نے بذریعہ وحی بتایا ہے۔ معلوم نہیں کہ بلاغ القرآن والوں کے پاس اس کی کیا سند اور ثبوت ہے کہ خدا نے حکم دی اہے کہ تم نماز میں فلاں آیات پڑھا کرو۔ قرآن کریم میں تو ایسا کہیں نہیں آیا’’

چونکہ قارئین طلوع اسلام کے دل میں یہ خواہش ابھرے گی کہ وہ کون سی آیات ہیں جن پر ان کی وضع کردہ نماز مشتمل ہے، ہم نے مناسب سمجھا کہ اس مقالہ کے آخر میں ان کے بیان کردہ اذکار صلوۃٰ درج کر دیئے جائیں۔ قارئین ان آیات قرآنی کو دیکھیں اور پھر سوچیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق کسی ایک جگہ بھی یہ کہا ہے کہ انہیں نماز میں یوں پڑھو۔ اس کے بعد آپ سوچیئے کہ ان کے متعلق یہ کہنا کہ یہ خدا کی مقرر کردہ جزئیات ہیں، کتنی بڑی جسارت ہے۔ قرآن کریم نے یہودی فقیہوں کے متعلق کہا تھا کہ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـٰذَا مِنْ عِندِ اللَّـهِ (79/2) ‘‘وہ اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے’’ کیا اسی قبیل کی جسارت ان اہل قرآن کی نہیں کہ یہ اپنے ذہن سے تجویز کرتے ہیں کہ فلاں آیات نماز میں پڑھی جانی چاہیئں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کی تجویز کردہ آیتِ صلوۃٰ ہیں۔ (عیاز بااللہ)

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

فرقہ سازی

قرآن کریم نے بالفاظِ صریح فرقہ بندی کو شرک قرار دیا ہے۔ (32-31/30) اور متعدد آیات میں اس کی سخت مخالفت کی ہے۔ ہماری مذہبی پیشوائیت ان ایات کو لوگوں کے سامنے نہیں لاتی۔ طلوع اسلام نے اسے شد و مد سے دہرایا اور ان کا اتنا چرچا کیا کہ لوگوں نے مولوی صاحبان سے پوچھنا شروع کر دیا کہ ان آیات کی موجودگی میں اسلام میں فرقوں کا کیا جواز ہے؟ اس اعتراض کا کوئی جواب ان سے بن نہیں پڑتا تھا۔ اس سے یہ بڑی ضیق میں تھے کہ کسی وسوسہ انداز نے ان کے کان میں پھونک دیا کہ یہ فرقے نہیں مکاتب فکر ہیں۔ اس سے ان کی باچھیں کھل گئیں۔ اور (یہ تو معلوم نہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو فریب دے لیا یا نہیں لیکن)لوگوں کو اس فریب میں مبتلا کرنا شروع کر دیا کہ ہمارے ہاں مذہبی فرقے نہیں، مکاتب فکر ہیں، عوام بیچاروں کو کیا معلوم کہ مکاتب فکر کیا ہوتے ہیں۔ اور مذہبی فرقے کیا۔۔۔۔ آج کل اس کا چرچا عام کیا جا رہا ہے اور اس طرح کبوتر آنکھیں بند کر کے مطمئن ہو بیٹھا ہے کہ بلی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

مکاتب فکر سے کیا مراد ہے۔

پہلے بتایا جا چکا ہے کہ قرآن کریم نے اپنی آیات کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ متشابہات اور محکمات ۔۔۔۔ آیات متشابہات کا تعلق کائنات اور مابعد الطبیعات کے ان بسیط حقائق سے ہے جنہیں تشبیہی انداز ہی میں بیان کیا جا سکتا تھا۔ ان حقائق کا مفہوم ہر شخص اپنی اپنی فکر کے مطابق سمجھ سکتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ فکر انسانی، انسانی علوم کی وسعتوں کے ساتھ ساتھ وسیع اور بلند ہوتی جاتی ہے اس لیے ان آیات میں بیان کردہ حقئاق کا مفہوم بھی ہر دور میں وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان حقائق ، نیز احکامِ قرآنی کے معارف و مصالح پر اس طرح غور و فکر کرنے والوں کو مفکرین کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے فکری اختلافات کی بنا پر کوئی فرقہ وجود میں نہیں آتا۔ مسلم مفکرین میں ابن باجہ، ابن رشد، ابنِ سینا، ابن طفیل، ابن مسکویہ وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ انہوں نے کوئی مذہبی فرقہ پید انہیں کیا۔ ہمارے دور میں سرسیدؒ اور اقبالؒ کا شمار بھی مشہور مفکرین میں ہوتا ہے۔ ان کے مکاتبِ فکر ( School of Thought ) تو اپنے اپنے ہیں لیکن یہ کسی فرقے کے بانی نہیں ہیں۔

اس کے برعکس فرقہ وجود میں آتا ہے محکمات میں اختلاف کی بنا پر۔ اس میں عقائد کے اختلاف بھی شامل ہیں اور عمال کے اختلاف بھی۔ یہی وہ فرقہ بندی ہے جسے قرآن نے شرک قرار دیا ہے کہا س سے امت کی وحدت ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ ان فرقوں کے نشانات تعارف تو الگ الگ ہیں۔ لیکن یہ محسوس طور پر نکھر کر سامنے آتے ہیں۔ نماز کے وقت سے پہلے مسلمانوں کا دو چار ہزار کا مجمع بھی کسی جگہ ہو، تو آپ پہچان نہیں سکیں گے کہ کون کس فرقے سے متعلق ہے۔ لیکن جونہی نماز کی اذان ہو گی تو یہ اٹھ کر الگ الگ مسجدوں کا رخ کر لیں گے اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کون کس فرقے سے متعلق ہے۔ مختلف فرقوں کی نمازوں میں بھی فرق ہوتا ہے لیکن تفرقہ کے لیے یہ فرق بھی ضروری نہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ دو فرقوں کی نمازوں میں کوئی فرق نہ ہو لیکن اس کے باوجود ان میں بعد المشرقین ہو۔ مثلاً ‘‘احمدیوں’’ نے اپنی نماز وہی رکھی جو حنفی مسلمان پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی مسجدیں الگ بنائیں۔ نماز میں فرقہ بندی کی بنیاد یہ ہے کہ ایک فرقہ کے مسلمان دوسرے فرقہ کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھتے۔ یا یوں کہیئے کہ دوسرے فرقہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اس لیے ان کی مسجدیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ اور جماتیں بھی الگ الگ۔ یوں نماز مختلف فرقوں کا تعارفی نشان بن جاتی ہے۔ امت میں تفریق کی جو پہلی اینٹ رکھی گئی تھی وہ مسجد ہی کی اینٹ تھی جسے قرآن نے ‘‘مسجد ضرار’’ کہہ کر پکارا اور کفر قرار دیا ہے۔ (107/9)

جس طرح باقی مذہبی فرقے، فرقے کے نام سے تلملا اٹھتے ہیں اسی طرح اہل قرآن کے لیے بھی یہ لفظ آتش بہ پیرہن ہو جات اہے۔ وہ بھی اٹھتے بیٹھے کہتے رہتے ہیں کہ ہم فرقہ نہیں۔ چنانچہ بلاغ القرآن نے اپنی اشاعت بابت فروری ۱۹۷۵؁ میں لکھا ہے کہ

طلوع اسلام نے جنوری ۱۹۷۵؁ کے صفحہ ۴۸ پر عنوان قائم کیا ہے ۔ ‘‘فرقہ اہل قرآن’’ اور وہ ہمیں فرقہ کہتے کہتے تھکتا نہیںَ حالانکہ ہم بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ ہم فرقہ نہیں ہیں۔

(صفحہ ۲۲)

وہ دوسرے مقام پر لکھتا ہے۔

اگر طلوع اسلام الگ الگ درسوں، الگ کنونشنوں، الگ اسٹیجوں اور الگ بزموں کے باوجود فرقہ نہیں تو بلاغ القرآن صرف قرآن کی فرض کی ہوئی نماز کی ادائیگی کی بدولت فرقہ کس طرح ہو گیا۔

(بلاغ القرآن، بابت دسمبر ۱۹۷۴؁ صفحہ ۳۰)

نماز کے سلسلے میں وہ لکھتا ہے کہ

بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز فرقہ بندی سکھاتی ہے۔ ہر فقہ اپنی نماز سے پہچانا جاتا ہے ، گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں انہیں غلطی لگ چکی ہے۔ کیونکہ فرقہ بندی عقائد کے اختلاف سے پیدا ہوتی ہے، نماز سے نہیں

(پمفلٹ۔۔۔ الصلوۃٰ ، صفحہ ۱۴-۱۵)

یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کون کہتا ہے کہ نماز فرقہ بندی سکھاتی ہے لیکن، جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے، ہر فرقہ نماز کی علیحدگی سے پہچانا جاتا ہے۔ یعنی فرقے کی پہچان یہ ہے کہ وہ دوسرے فرقوں کے ساتھ مل کر یا ان کے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا۔ اسی لیے ان کی جماعت بھی الگ ہوتی ہے اور مسجدیں بھی الگ۔ ہم پوچھتےیہ ہیں کہ کیا اہل قرآن کی نماز کی صوت یہی نہیں کہ وہ نہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ملک کر نماز پڑھتے ہیں نہ کسی دوسرے امام کے پیچھے۔ کیا اسی بنا پر انہوں نےاپنی مسجد الگ نہیں بنائی۔ اور کیا اس میں اسی فرقہ کے لوگوں پر مشتمل الگ نماز کی جماعت نہیں ہوتی۔ اگر یہ فرقہ بندی نہیں تو پھر کیا فرقوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ نماز میں علیحدگی کی کیفیت یہ ہے کہ (مثلاً) اہل حدیث اور حنفی فرقوں کی نمازوں میں اختلاف ہے لیکن وہ اختلاف ایسا معمولی سا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یا دوسرے فرقے کے امام کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن فرقہ اہل قرآن کی نماز کی یہ کیفیت ہے کہ وہ دعائے قبل الصلوۃٰ سے لے کر آخری سلام تک تمام مسلمانوں کی نماز سے یکسر مختلف ہے ٭ ۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے (اور اس مقالہ کے آخر میں آپ دیکھیں گے) سورۃ فاتحہ کے سوا، ان کی نماز اور دوسرے مسلمانوں کی نماز میں کوئی چیز بھی مشترک نہیںَ حتیٰ کہ ان کی نماز جنازہ بھی الگ ہے۔ یہ عجیب دلچسپ بات ہے کہ مسلمانو ں میں پہلا فرقہ اہل تشیع کا وجود میں آیا۔ ان کی نماز، دوسرے مسلمانوں کی نماز سے اس قدر مختلف ہے کہ یہ اگر چاہیں بھی تو آپ میں مل کر نماز پڑھ ہی نہیں سکتے۔

٭ [ان کی نماز اور دیگر مسلموں کی نماز میں سورۃ فاتحہ اس کے بعد کوئی سی قرآنی سورۃ اور رکوع و سجود کی تسبیحات (تھوڑے فرق کے ساتھ) مشترک ہیں۔ باقی جزئیات اس قدر مختلف ہیں کہ شیعہ اور غیر شیعہ اکٹھے نماز پڑھ ہی نہیں سکتے]

اور اس کے بعد اب (سردست) آخری فرقہ اہل قرآن کا وجود میں آیا ۔ یہی کیفیت ان کی نماز کی ہے۔ یہ اگر چاہیں بھی تو دوسروں کے ساتھ مل کر نماز پڑھ ہی نہیں سکتے۔ نہ ہی کوئی دوسرا ان کی نماز میں شریک ہو سکتا ہے۔ کیفیت ان کی یہ ہے اور اس کے باوجود کہا یہ جاتا ہے کہ ہم الگ فرقہ نہیں۔ یہ بعینہٖ وہی شکل ہے جو ‘‘احمدیوں’’ نے اختیار کر رکھی تھی اور قریب سو برس سے کہتے چلے آ رہے تھے کہ ہم مسلمانوں سے الگ نہیں ہیں۔

طلوع اسلام کا ذکر

‘‘بلاغ القرآن’’ والے بار بار طلوع اسلام کا ذکر کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں۔ ان پر واضح ہونا چاہیئے کہ طلوع اسلام الگ اسٹیجوں، الگ بزموں، الگ کنونشنوں اور الگ درسوں کے باوجود کوئی فرقہ نہیں ہے۔ اس لیے اس نے نماز روزہ وغیرہ میں کوئی نیا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ یہ خالص فکری تحریک ہے اس لیے اس میں فرقہ بندی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ اس کے درسوں بزموں کنونشنوں میں ہر فرقہ کے مسلمان شامل ہوتے ہیں اور اپنے اپنے طریقہ پر ارکار اسلام کی ادائیگی کرتے ہیں۔ اس بات میں اس کی شدت احتیاط کا یہ عالم ہے کہ یہ اپنے اجتماعات میں نماز باجماعت کا کوئی اہتمام نہیں کرتا اور ان میں شامل ہونے والوں کو تاکیداً کہتا ہے کہ وہ آس پاس کی مسجدوں میں جا کر نماز پڑھیں۔ وہ ڈرتا ہے کہ آج کا نماز کا الگ اہتمام کل کو کہیں امت سے علیحدگی کا نشان نہ قرار پا جائے۔ ٭

٭ [ہم نے اس گفتگو کو ان لوگوں کی (بزعم خویش) نماز سے متعلق ‘‘قرآنی تفصیلات’’ تک محدود رکھا ہے۔ اسی سے آپ اندازہ کر لیجئے کہ انہوں نے دیگر احکام کی جزئیات کے متعلق بھی کیا گل نہیں کھلائے ہوں گے۔]

ملخص

داستان دراز ہو گئی۔ اس کے سوا چارہ ہی نہیں تھا۔ اس سے آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ اس فرقہ نے قرآن کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے ان کے عقیدہ اور عمل کی رو سے:

۱۔ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہی باطل قرار پاجاتا ہے کہ اس میں کوئی اختلافی بات نہیں اور جب اس کا یہ دعویٰ باطل قرار پا جائے تو وہ خود اپنے بیان کے مطابق منزل من اللہ رہتا ہی نہیں

۲۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ وہ نہایت واضح اور روشن کتاب ہے۔ اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں التباس نہیں، ریب نہیں، تشکیک نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے جس شکل میں قرآن کو پیش کیا ہے اس سے اس کے یہ تمام دعاوی باطل قرار پا جاتے ہیں۔

۳۔ اس سے پہلے کسی فرقہ کے بانی نے بھی اپنے قیاس، اجتہاد یا استبناط کے متعلق یہ نہیں کہا تھا کہ وہ خدا کے ارشادات ہیں (بجز مدعیان نبوت کے) لیکن ان کی صورت یہ ہے کہ یہ اپنے ذہن سے ایک بات تجویز کرتے ہیں ، ویقولون ہذا من عنداللہ اور کہتے یہ ہیں کہ وہ خدا کا حکم اور قرآن کا فیصلہ ہے۔

۴۔ انہوں نے ایک ایسی نماز ایجاد کی ہے جس میں کوئی دوسرا مسلمان ان کے ساتھ شریک ہی نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی یہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کر سکتے ہیں۔ یہ فرقہ بندی کی شدید ترین شکل ہے۔

اس کے بعد آپ سوچیئے کہ قرآن اور ملت کے خلاف اس سے بڑی دشمنی کچھ اور بھی ہو سکتی ہے؟ اس دور میں قرآنی روشنی بہت دور تک پھیل جاتی اگر یہ لوگ اس کے راستے میں روک بن کر کھڑے نہ ہو جاتے۔

میرا نظریہ اور مسلک

آخر میں ، میں اس کی وضاحت بھی ضروری سمجھات ہوں کہ میں نے اپنی بصیرت کے مطابق ان امور کے متعلق کیا سمجھا ہے۔ واضح رہے کہ میں نے اپنے فہم قرآن کو نہ کبھی حرف آخر قرار دیا ہے نہ سہوو خطا سے منزہ۔ میں نے نہ کوئی الگ فرقہ قائم کیا ہے نہ ہی میں کسی فرقے سے متعلق ہوں۔ نہ ہی میرا، قراان کریم کا ایک ادنیٰ طالب علم انہوں نے کے سوا کوئی اور دعویٰ ہے۔ جو کچھ میں سمجھ سکا ہوں اور جس کی میں تبلیغ کرتا چلا آ رہا ہوں وہ حسب ذیل ہے۔

۱۔ قرآن کریم تمام نوع انسان کے لیے قیامت تک مکمل ، غیر متبدل اور محفوظ ضابطہ حیات ہے۔ اس بنا پر یہ خدا کی طرف سے آخری کتاب اور حضور نبی اکرم ﷺ اس کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ وحی کا سلسلہ حضورﷺ کی ذات پر ختم ہو گیا۔

۲۔ قرآن کریم میں احکام و قوانین کے علاوہ کائناتی حقاق بھی بیان کیے گئے ہیں ان حقائق اور احکام قرآنی کے مصالح کو ہر فرد اپنے غور و فکر کی رو سے سمجھ سکتا ہے۔ مختلف افراد اور مختلف زمانوں میں اس فکر میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن اس اختلاف کی وجہ سے امت میں کوئی تفریق نہیں پیدا ہونی چاہیئے۔

۳۔ جہاں تک قرآنی احکام کا تعلق ہے۔ انہیں اس نے نہایت واضح اور محکم انداز میں بیان کر دیا ہےا ن میں نہ کسی قسم کا اختلاف اور تضاد ہے نہ ابہام و التباس

۴۔ ان احکام میں بعض ایسے ہیں جن کی جزئیایت تک بھی قرآن نے خود متعین کر دی ہیں۔ یہ جزئیات بھی نہایت واضح ، روشن اور غیر مبہم ہیں۔ دوسرے احکام ایسے ہیں جنہیں اصولی طور پر دیا گیا ہے۔ اور مقصد اس یہ ہے کہ ان جزئیات اسلامی نظامِ مملکت خود متعین کرے، اس شرط کے ساتھ کہ وہ قرآن کے کسی اصول، حکم یا تعلیم سے ٹکرائیں نہیں۔ ان جزئیات میں زمانے کے تقاضوں کے ساتھ عندالضرورت تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کا تعین ہو یا تغیر و تبدل، اس کا اختیار صرف اسلامی نظام کو حاصل ہے۔ کسی فرد یا کسی گروہ کو نہیں۔

۵۔ ان جزئیات کو سب سے پہلے نظام اسلامی نے عہد رسالتمابﷺ و خلافت راشدہ میں متعین کیا۔ امت کی بدقسمتی سے یہ نظام کچھ عرصہ کے بعد باقی نہ رہا۔ اور اس طرح امت کی مرکزیت ختم ہو گئی۔ اور دین مذہب میں بدل گیا۔ اس زمانے میں بعض حضرات کی ذاتی کوششوں کی بنا پر صدر اول کے ان فیصلوں کو زبانی روایات کی رو سے جمع اور مرتب کیا گیا۔ انہیں روایات کے مجموعے کہا جاتا ہے۔

۶۔ ان مجموعوں میں وضعی روایات بھی شامل ہو گئی ہیں۔ میرے نزدیک ان کے پرکھنے کا معیار یہ ہے کہ جو روایات کسی شکل میں بھی قرآن کریم سے ٹکرائیں، ان کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ رسول ﷺ کے اراشات نہیں۔ انہیں حضورؐ یا صحابہؓ کی طرف غلط منسوب کر دیا گیا ہے۔ جو اقوال واعمال قرآن سے نہ ٹکرائیں، انہیں صحیح تسلیم کر لیا جائے۔ واجح رہے کہ میں احادیث رسول ﷺ کا منکر نہیں۔ میں صرف یہ کہتا ہوں خواہ جو روایات قرآن کے خلاف ہیں، رسول اللہ ﷺ کی طرف ان کی نسبت غلط ہے۔ وہ حضورﷺ کے ارشادات نہیں ہو سکتے۔

۷۔ مسلمانوں میں اس وقت متعدد فرقے پیدا ہو چکے ہیں اور یہ صورت قرآن کے خلاف اور دین کے منافی ہے۔ قرآن کا تصور وحدتِ امت کا ہے۔ لیکن امت میں وحدت صرف اسلامی نظام کے ذریعے پیدا ہو سکتی ہے۔ لہذا ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ وہ نظام پھر سے متشکل ہو جائے۔

۸۔ یہاں سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ جب تک وہ نظام قائم نہ ہو ہم کیا کریں ۔ اس سللہ میں میرا نظریہ اور مسلک یہ ہے کہ مختلف فرقے جس جس طریق سے ارکان اسلام کی پابندی کرتے چلے آ رہے ہیں، ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے۔ نہ ان میں کوئی تبدیلی تجویز کی جائے اور نہ کوئی نیا طریقہ وضع کیا جائے۔ ایسا کرنے سے بجز اس کے کہ امت میں مزید انتشار پیدا ہو کوئی مفید نیتجہ مرتب نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ میں نے ابھی ابھی کہا ہے ، اس قسم کا اختیار صرف اسلامی نظام کو حاصل ہے۔ کسی فرد یافرقے کو حاصل نہیں۔ اپنے اس نظریہ کے مطابق میں خود بھی ارکان اسلام کی پابندی دوسرے مسلمانوں کی طرح کرتا ہوں اور جو لوگ میری بات سنتے ہیں، ان سے بھی یہی تاکید کرتا ہوں کہ وہ ان کی پابندی اسی طریق سے کرتے چلے جائیں، البتہ جو عقائد یا شعائر قراان کے خلاف نظر آئیں ان کی نشاندہی کر جائے اور ان کی جگہ قرآن کی صحیح تعلیم کو عام کیا جائے۔ میں قریب چالیس سال سے یہی کچھ کرتا چلا آ رہا ہوں۔ اور یہی تحریک طلوع اسلام کا مقصود و منتہیٰ ہے۔

۹۔ تحفظ ناموس رسالتﷺ میرے ایمان کا جز اور قرآن کریم کے بلند و بالا و منفرد مقام کا عام کرنا میری زندگی کا مشن ہے۔ جہاں ان پر کسی قسم کی زد پرتی ہے، اپنی استطاعت اور استعداد کے مطابق اس کی مدافعت کی کوشش کرتا ہوں ‘‘ٓاحمدیوں’’ اور فرقہ اہل قرآن کے خلاف میری جدوجہد کا جذبہ محرکہ بھی یہی ہے ارو مقصود و منتہیٰ بھی یہی۔ میری کسی سے نہ ذاتی دشمنی ہے نہ جذبہ انتقام، اس لیے میں ان بحثوں میں ذاتیات پر نہیں اترا کرتا۔

۱۰۔ آخر میں، میں اسے پھر دہرا دوں کہ امت میں دین کے قیام کی صورت قرآنی نظام کے قیام کے سوا کچھ نہیں، وہی امت میں وحدت پیدا کرے گا اور اسے ایک طریق پر چلائے گا۔ امت کا موجودہ انتشار گروہ سازیاں فر قہ بندیاں نئے نئے اختلافات کی نمود و نئی نئی نمازوں کی اختراع ، اردو میں نماز، یہ سب اس لیے ہے کہ امت میں قرآنی نظام باقی نہ رہا۔ وہ نظام قائم ہو گیا تو یہ سب افتراق و انتشار ختم ہو جائے گا۔

رات کے ماتھے پہ افسرہ ستاروں کا ہجوم

صرف خورشیدِ درخشاں کے نکلنے تک ہے!

تتمہ

فرقہ اہل قرآن کی نماز

۱۔ تین وقتوں کی نماز۔ اذان کی ضرورت نہیں۔ اللہ اکبر کہنا خلافِ قرآن ہے۔

۲۔ ایک نماز میں دو رکعتیں

۳۔ ایک رکعت میں ایک سجدہ

۴۔ اذکار صلوٰۃ۔ (جو ان کے شائع کردہ پفلٹ الصلوٰۃ میں درج ہیں)

دعائے قبل صلوٰۃ معہ تکبیر صلوٰۃ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ رب ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق واجعل لی من الدنک سلطانا نصریا ۔ ان اللہ کان علیا کبیرا ہ ۔

اذکارِ قیام

اسما حسنیٰ اور تسبیح

ھواللہ الذی لا الہ الا ہو عالم الغیب والشہاد ۃ ھوالرحمن الرحیم ۔ ھواللہ الذی لا الہ الا ہو ۔ الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر ۔ سبحان الہ عما یشرکون ۔ ھواللہ الخالق الباری المصور لہ الاسما الحسنیٰ یسبح لہ ما فی السموٰت والارض و ہوا لعزیز الحکیم ۔

حمد استعانت و استغفار

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ الحمد للہ رب العالمین ۔ الرحمن الرحیم ہ مالک یوم الدین ایاک نعبدو و ایاک نستعین ہ اھدنا الصراط المستقیم ۔ صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ۔ والضالین ۔ ربنا اٰتنا فی الدنیا حسن ۃ و فی الاٰخر ۃ حسن ۃ وقنا عذاب النار ۔ سمعنا و اطعنا غفرانک ربنا و الیک المصیر ۔ ربنا لا تواحذانا ان نسینا او اخطانا ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما سمعتہ علی الذین من قبلنا ۔ ربنا ولا تحملنا مالا طاق ۃ لنا بہ ۔ واعف عنا ۔ اغفرلنا و ارحمنا انت مولٰنا فانصرنا علی القوم الکٰفرین ۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وہب لنا من لدنک رحم ۃ ۔ انک انت الوھاب ۔ ربنا انک جامع الناس لیوم لا ریب فیہ ۔ ان اللہ لا یخلف المیعاد ۔ ربنا اننا امنا فاغفرلنا و ذنوبنا وقنا عذاب النار ہ ربنا اغفرلنا ذنوبنا و اسرار فی امرنا و ثبت اقدامنا و انصرنا علی القوم الکٰفرین ۔ ربنا افرغ علینا صبرا و توفتا مسلین ۔ ربنا امنا فاغفرلنا و ارحمنا و انت خیر الراحمین ۔ رب اغفر و ارحم و انت خیر الرحمین ۔ مستقرا و مقاما ۔ ربنا وسعت کل شئ رحم ۃ و علمنا فاغفر للذین تابو و اتبعو سبیلک و قھم عذاب الجھیم ۔ ربنا و ادخلھم جنت عدن التی و عدتھم ومن صلح من ابآھم وازواجھم و ذریتھم انک انت العزیز الحکیم ۔ وقھم السیات ومن تق السیات یومئذ فقد رحم ۃ و ذالک ہھو الفوز العظیمہ

اذکار رکوع انابت الی اللہ

رب اوذعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی و علی والذی و ان اعمل صالحا ترضہ و اصلح لی فی ذریتی انی تبن الیک فانی من المسلمین ربنا علیک توکلنا و الیک انینا و الیک المصیر ۔ ربنا لا تجعلنا فتن ۃ الذین کفرو واخفرلنا ربنا ۔ انک انت العزیز الحکیم

اذکار سجدہ۔ تسبیح اور حمد

سبحن ربنا ان کان وعدُ ربنا لمفعولاً ۔ الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا و لم یکن لہ شریک فی الملک و لم یکن ل ۃ ولیٰ من الذی ربنا اصرف عنا عذاب جھنم ان عذابھا کان غراماً ۔ انھا سائات مستقراً و مقاماً ہ ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریتنا قر ۃ اعین واجعلنا للمتقین اماماً ۔

اذکار بعد الصلوٰۃ

رب اعوذبک من ھمزات الشیٰطین ۔ وا عوذبک رب ان یحضرون ۔ ربنا ما خلقت ھذا باطلا ۔ سبحنک فقنا عذاب النار۔ ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ وما للظلمین من انصار۔ ربنا اٰتنا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان اٰمنو بربکم فامنا ربنا فاغفرلنا و ذنوبنا و کفرعنا سیاتنا و توفت معہ الابرار ۔ ربنا و اتنا ماوعدتنا علی رسلک و لا تخذنا یوم القیم ۃ ۔ انک لا تخلف المیعادہ

رسولوں پر سلام

سلام علی المرسلین ۔ الحمد للہ رب العالمین ۔

حاضر مومنوں پر سلام

سلام علیکم کتب ربکم علی نفسہِ الرحم ۃ لا انہ من عمل منکم سو لجھال ۃ ثم تاب من بعدہٖ و اصلح فانہ غفور رحیم ۔

صلوٰۃ میت کے اذکار

ربنا اغفرلنا و لا خواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنو ربنا انک رئوف رحیم (10/59)

طلوع اسلام

ان لوگوں سے صرف اتنا پوچھیئے کہ ان میں سے کسی ایک ذکرؔ کے متعلق بھی خدا نے کہا ہے کہ اسے نماز کے قیام، رکوع، سجدہ وغیرہ میں پڑھا جائے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کہا توآپ کس طرح کہتے ہیں کہ خدا نے ایسا حکم دیا ہے۔ یہ خدائی اختیارات کا حامل بن جاتا نہیں تو اور کیا ہے؟

لیکن ان لوگوں سے قطع نظر، ہم ان سادہ لوح مسلمانوں سے، جو ان کے اس چکر میں پھنس کر ان کی تجویز کردہ نمازؔؔ کو خدا کی مقرر کردہ صلوٰہ سمجھنے لگے ہیں دل کے پورے سوزو گداز کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ نے کبھی سوچا بھی کہ آپ کو ان لوگوں نے کس مقام پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ آپ دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں۔ آپ دنیا کے کسی ملک میں ، کسی مسجد میں بھی مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شامل نہیں ہو سکتے۔ حتیٰ کہ حریم کعبہ میں بھی ان کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھ سکتے۔ کیونکہ آپ کی نماز ہی دنیا جہان سے نرالی ہے۔ حتی کہ آپ نماز جنازہ تک میں باقی مسلمانوں کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے۔ سوچیئے کہ انہوں نے کس چابک دستی سے آپ کا رشتہ ساری امت سے منقطع کر دیا ہے۔ جو نماز جمہور مسلمان پڑھ رہے ہیں وہ کون سی کافرانہ اور مشرکانہ ہے۔ جو انہوں نے آپ یہ پٹی پڑھا کر شجر ملت سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے زمانے میں ‘‘احمدیوں’’ نے اپنا رشتہ مسلمانوں سے منقطع کیا تھا۔ لیکن انہوں نے مسلمانوں سے کٹ کر اپنی الگ امت بنا لی، سوچیئے کہ آپ مسلمانوں سے الگ ہو کر کیاکریں گے؟ لہذا، میری آپ سے درد بھری پکار یہ ہے کہ آپ اپنی حالت پر نظر ثانی کریں۔ اللہ کے حضور اپنے اس جرم عظیم کی معافی مانگیں (کہ اس کے ہاں تفرقہ شرک ہے اور شرک ظلم عظیم) اور شجرِ ملت سے پیوستہ رہیں۔ اس کی اولین علامت نماز میں شرکت ہے۔ جس فرقہ کی نماز بھی آپ کو آتی ہے اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھہیں۔ اور دیگر فرقوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہ سمجھیں، یہی سلامتی کی راہ ہے۔

میں نے یہ مقالہ آپ احباب کی بہی خواہی کے لیے لکھا ہے، ورنہ بلاغ القرآن سے کسی بحث میں الجھنے کی نہ مجھے فرصت ہے، نہ ضرورت۔

والسلام

پرویزؔ

1,118 total views, no views today

(Visited 310 times, 5 visits today)

مومن کی زندگی: قرآن کے آئینے میں – پرویز

قرآن کریم کی تعلیم‘ انسان کو کیا بنا دیتی ہے‘ اس کی تفصیل میں جایئے تو کئی مجلدات درکار ہوں گی لیکن اگر اسے اجمالی طور پر بیان کرنا چاہیں تو اس سے بہتر‘ جامع اور حسین انداز میں کچھ اور نہیں کہا جا سکتا جسے علامہ اقبالؒ نے اس ایک مصرعہ میں سمو دیا ہے کہ
آنچہ حق می خواہد‘ آں سازد ترا
اِنسان اور حیوان میں فرق
’’قرآن کی تعلیم انسان کو وہ کچھ بنا دیتی ہے جو کچھ خدا چاہتا ہے کہ یہ بن جائے‘‘ یعنی جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے‘ وہ مقصد پورا ہو جائے۔ اس کے سفر حیات کے لئے‘ جو منزل مقرر کی گئی ہے‘ یہ اس منزل و منتہیٰ تک پہنچ جائے۔ انسان اور دیگر حیوانات کی تخلیق میں ایک بنیادی فرق ہے۔ دنیا کے ہر حیوان نے جو کچھ بننا ہوتا ہے‘ وہ ازخود وہ کچھ بن جاتا ہے۔ اس کے لئے اسے نہ کسی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے‘ نہ سعی و کاوش کی حاجت۔ فطرت نے اس کے اندر جو کچھ بننے کے امکانات رکھے ہیں‘ وہ امکانات ازخود بتدریج‘ مشہود ہوتے چلے جاتے ہیں تاآنکہ ایک عمر تک پہنچ کر‘ وہ حیوانی بچہ‘ اپنی نوع کا مکمل فرد بن جاتا ہے۔۔۔ شیر کا بچہ شیر بن جاتا ہے۔ بکری کا بچہ بکری۔ لیکن انسانی بچے میں فطرت نے جو مضمر صلاحیتیں رکھی ہوتی ہیں‘ ان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حیوانی یا طبیعی صلاحیتیں۔ یہ دیگر حیوانات کی طرح ازخود نشوونما پا کر‘ ایک منتہیٰ تک پہنچ جاتی ہیں اور وہ بچہ بالآخر آدمی بن جاتا ہے۔ دوسری صلاحیتیں انسانی ہیں۔ یہ ازخود نشوونما نہیں پاتیں۔ انہیں مناسب تعلیم و تربیت سے نشوونما دے کر اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ قرآن کریم وہ پروگرام دیتا ہے جس سے فرد کی وہ مضمر صلاحیتیں پوری پوری نشوونما پا کر مشہود ہو جاتی ہیں اور پھر وہ انہیں ان مقاصد کے لئے صرف کرتا ہے جو اس کے لئے متعین کئے گئے ہیں۔ جب وہ اس مقام پر پہنچ جائے گا کہ انسان وہ کچھ بن گیا جو کچھ بننا اس کے لئے مقصود و مطلوب تھا۔ قرآن نے ایسے فرد کو مرد مومن کہہ کر پکارا ہے اور انسان کی اس ہیئت کو احسن تقویم قرار دیا ہے -(95:4) یعنی ایسی ہیئت جو حسن و توازن میں انتہا تک پہنچ گئی ہو۔
مومن
جن خصوصیات کے مظہر یہ افراد ہوں انہیں صفاتِ مومنین کہا جاتا ہے اور جب یہ خصوصیات‘ محسوس شکل میں سامنے آئیں تو انہیں اعمالِ صالح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یعنی ایسے کام جو اس فرد کی بھرپور انسانی صلاحیتوں کے اثمار و نتائج ہوں اور جن سے عالمِ انسانیت کے بگڑے ہوئے معاملات سنور جائیں۔ جو معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل ہو‘ اسے قرآن نے خَیْْرَ أُمَّۃٍ (3:110) ’’بہترین قوم جسے نوع انسان کی بہود کے لئے پیدا کیا گیا ہے‘‘ قرار دیا ہے اور أُمَّۃً وَسَطاً (2:143) ’’یعنی ایسی قوم جسے عالمِ انسانیت میں مرکزی حیثیت حاصل ہو‘‘ کا مقام دیا ہے۔ سطحی نظر سے دیکھئے تو معاشرہ‘ جماعت یا امت‘ افراد ہی کے مجموعہ کا نام ہوتی ہے لیکن اجتماعی نفسیات پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ جماعت‘ افراد کی حاصل جمع (Sum Total) کا نام نہیں ہوتی۔ اس کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔
اُمّت کی خصوصیات
اس لئے قرآن‘ افراد کی خصوصیات کے علاوہ۔ جماعتِ مومنین کی خصوصیات کا ذکر بھی خاص طور پر کرتا ہے۔ یا یوں کہئے کہ وہ افراد کی تعلیم۔ تربیت اور نشوونما کے علاوہ‘ ان اصول و ضوابط کی بھی وضاحت کرتا ہے جن کے مطابق ان افراد نے اجتماعی امور سرانجام دینے ہوتے ہیں اور جن کی بناء پر وہ ایک منفرد جماعت بنتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآنی تعلیم کی انفرادیت اور بے مثالیت نکھر کر سامنے آتی ہے اور اسی مقام کے سامنے نہ ہونے سے‘ اچھے اچھے سمجھدار لوگوں کو بھی یہ دھوکا لگ جاتا ہے کہ ’’عالمگیر سچائیاں تمام مذاہب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہیں*۔‘‘
نظام اور فرد
’’عالمگیر سچائیوں‘‘ سے ان کی مراد ہوتی ہے عام اخلاقی اصول۔۔۔ مثلاً جھوٹ نہ بولو۔ چوری نہ کرو۔ کسی کو ستاؤ نہیں۔ وغیرہ ۔وغیرہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہی اخلاقی اصول قرآن پیش کرتا ہے اور یہی تعلیم دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی پائی جاتی ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ ’’عالمگیر سچائیاں تمام مذاہب میں یکساں طور پر پائی جاتی ہیں‘‘۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس اجتماعی نظام میں ان اخلاقی اصولوں کے حامل افراد زندگی بسر کرتے ہیں‘ اس نظام کے اصول کیا ہیں۔ مثال کے طور پر سمجھئے کہ ایک برہمن جھوٹ نہیں بولتا۔ چوری نہیں کرتا۔ انسان تو ایک طرف‘ کیڑوں مکوڑوں تک کو بھی نہیں ستاتا لیکن جس اجتماعی نظام کا وہ فرد ہے اس کا اصول یہ ہے کہ پیدائش کے اعتبار سے انسان اور انسان میں اس قدر گہرا اور بنیادی فرق ہوتا ہے کہ برہمن کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ ساری عمر دوسروں سے اپنی پرستش کراتا ہے اور شودر کے ہاں جنم لینے والا بچہ‘ تمام عمر‘ دوسروں کی خدمت اور بیگار میں بسر کر دیتا ہے اور یہ فرق اس قدر غیر متبدل ہوتا ہے کہ شودرؔ کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کے جوہر ذاتی اور اس کی ہزار محنت اور کوشش اس فرق کو مٹا نہیں سکتی۔ آپ کہئے کہ جو معاشرہ اس اجتماعی اصول کے مطابق متشکل ہو‘ اس میں افراد کی اس قسم کی ’’نیکیاں‘‘ محدود سے انفرادی حلقہ میں قدرے سکون پیدا کر سکتی ہیں لیکن نہ تو یہ انسان کو اس کا صحیح مقام دینے کے قابل بن سکتی ہیں اور نہ ہی عالمگیر انسانیت کی فوز و فلاح کا موجب۔ حتیٰ کہ یہ اس باطل نظام کو تباہی سے بچا سکنے کے قابل بھی نہیں ہو سکتیں جس کے اندر وہ ’’نیک انسان‘‘ زندگی بسر کرتا ہے۔ یا مثلاً جس معاشرہ کا اصول یہ ہو کہ جو بچہ بنی اسرائیل (یہودیوں) کے ہاں پیدا نہ ہو‘ وہ نجات و سعادت حاصل نہیں کر سکتا۔ اس معاشرہ میں افراد کی اس قسم کی نیکیاں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے اور چوری نہیں کرتے۔ عالمِ انسانیت کے کس کام آسکتی ہیں؟ یا جس معاشرہ میں عقیدہ یہ ہو کہ ہر انسانی بچہ‘ پیدائشی طور پر گنہگار پیدا ہوتا ہے اور اس کے گناہوں کا یہ داغ‘ ’’خدا کے بیٹے‘‘ (حضرت مسیحؑ ) کے کفارہ پر ایمان سے ہی دھل سکتا ہے۔ اس کے سوا‘ اس داغ کے مٹنے کی کوئی صورت نہیں‘ اس معاشرہ میں لوگوں کا رحمدل‘ حلیم الطبع اور منکسر المزاج ہونا‘ شرفِ انسانیت کی دلیل کیسے بن سکتا ہے؟
باطل کا نظام اور انفرادی نیکیاں
دنیائے مذاہب سے الگ ہٹ کر دیکھئے اور سوچئے کہ کیا نظامِ ملوکیت میں‘ ایک بادشاہ کے لئے‘ جو کروڑوں انسانوں پر اپنی مرضی چلاتا ہے‘ یہ بات موجبِ فخر قرار پا سکتی ہے کہ اس نے ساری عمر تہجد قضا نہیں کی یا شراب نہیں پی؟ نظامِ سرمایہ داری میں‘ اگر ایک جاگیردار۔ زمیندار یا کارخانہ دار‘ جو ہزاروں محنت کش غریبوں کے گاڑھے پسینے کی کمائی سمیٹ کر لے جاتا ہے‘ یہ کہتا ہے کہ اس نے کبھی چوری نہیں کی‘ تو کیا اسے نیک انسان کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایک مذہبی پیشوا‘ جو دن رات عوام کو اس قسم کے عقائد کی تعلیم دیتا رہتا ہے کہ امیری اور غریبی انسان کی تقدیر سے وابستہ ہے جسے خود خدا نے مقرر کیا ہے اور خدا کے لکھے کو کوئی مٹا نہیں سکتا‘ اور اس کے ساتھ کہتا ہے کہ اس نے ساری عمر جھوٹ نہیں بولا‘ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی یہ انفرادی نیکی‘ انسانیت کی اجتماعی میزان میں کوئی وزن رکھے گی؟ ان مثالوں سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ جن انفرادی اخلاقی خوبیوں کو ’’عالمگیر سچائیاں‘‘ کہہ کر اسلام کو مذاہبِ عالم کی صف میں ہم دوش کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ غلط اجتماعی نظام میں ان کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے؟ اصل یہ ہے کہ مذہب اور دین میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مذہب‘ انفرادی ضابطہ اخلاق کا علمبردار ہوتا ہے اجتماعی نظام سے اسے سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس‘ دین‘ اجتماعی نظامِ انسانیت کو سامنے رکھتا ہے اور افراد کی اخلاقی خوبیوں کو اس لئے ضروری قرار دیتا ہے کہ اس سے اس معاشرہ کا توازن قائم رہے جو عالمگیر انسانیت کی سلامتی اور ارتقاء کا ضامن ہے‘ اور یوں انسان وہ کچھ بن جائے جو کچھ بن سکنے کا اس میں امکان ہے۔
قرآن کی جامع تعلیم
جو کچھ اوپر کہا گیا ہے اس سے واضح ہے کہ:
(1) جس معاشرہ میں افراد‘ عام اخلاقی ضوابط کی پابندی نہیں کرتے‘ اس معاشرہ میں کسی کو امن اور سکون نصیب نہیں ہو سکتا اور خود معاشرہ کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔
(2) جس معاشرہ میں‘ افراد عام اخلاقی ضوابط کے پابند ہوں‘ لیکن خود معاشرہ‘ غلط اجتماعی اصولوں پر متشکل ہو‘ اس میں عام معاشرتی روابط میں تو قدرے سکون حاصل ہو سکتا ہے لیکن نہ تو اس معاشرہ کی بنیادیں مستحکم ہوتی ہیں‘ اور نہ ہی اس کا وجود عالمگیر انسانیت کے لئے موجبِ رحمت بن سکتا ہے۔ اور
(3) جس معاشرہ میں افراد‘ عام اخلاقی ضوابط کے پابند ہوں‘ اور خود معاشرہ بھی صحیح اجتماعی اصولوں کا علمبردار ہو‘ اس میں‘ افراد معاشرہ کو حقیقی امن و سکون میسر ہوتا ہے۔ ان کی طبیعی اور انسانی صلاحیتیں نشوونما پا کر برومند ہوتی چلی جاتی ہیں اور اس کا وجود عالمگیر انسانیت کے لئے موجبِ فلاح و سعادت ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم اسی قسم کا معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے‘ جس میں افرادِ معاشرہ عام اخلاقی اصولوں کے شدت کے ساتھ پابند ہوں اور جو معاشرہ ان افراد پر مشتمل ہو‘ وہ ان مستقل اقدار کا حامل ہو جو عالمگیر انسانیت کو اس کی منزلِ مقصود تک لے جائے اور یہ ہے قرآن کا وہ نظام جس کی مثال کسی اور جگہ نہیں مل سکتی۔ قرآنی تعلیم اپنی اس خصوصیتِ کبریٰ کی بناء پر بے مثل و منفرد ہے۔ قرآن میں مومنین کی ان انفرادی اور اجتماعی خصوصیات کا ذکر اس تفصیل‘ کثرت اور تکرار سے آیا ہے کہ اس سے افراد کی سیرت و کردار کا صحیح نقشہ اور جماعتِ مومنین (اسلامی معاشرہ) کا بیّن اور واضح تصور سامنے آجاتا ہے۔ اکثر مقامات پر ان انفرادی اور اجتماعی خصوصیات کا ذکر الگ الگ آیا ہے لیکن بعض مقامات پر یہ ایک دوسرے میں یوں سموئی ہوئی سامنے آتی ہیں جیسے ایک حسین و شاداب شجرِ طیّب کہ اگر اس کی شاخوں‘ پتیوں‘ پھولوں اور شگوفوں کو الگ الگ بھی دیکھا جائے تو پورے کا پورا درخت باعثِ شادابئ قلب و نظر ہو جائے اور اگر‘ اس سرسبز و شاداب درخت پر بہ ہیئتِ مجموعی نگاہ ڈالی جائے تو اس کی تمام پھول پتیوں کی نزہت و نظافت وجۂ نشاط روح بن جائے۔ آئندہ سطور میں‘ ان افراد کی بعض نمایاں خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے جنہیں قرآن مومن کہہ کر پکارتا ہے۔ اس مقصد کے لئے کہ ہم ان خصوصیات کی روشنی میں‘ اپنی سیرت و کردار پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں کہ وہ کس حد تک ان کے آئینہ دار ہیں۔ اس لئے کہ جس طرح عرق گلاب اسے کہا جائے گا جس میں گلاب کی خوشبو اور خصوصیات ہوں۔ اگر اس میں یہ صفات نہ ہوں تو وہ عرق گلاب نہیں ہو گا پانی کا پانی ہو ا‘ خواہ اس بوتل پر کیسے ہی خوبصورت لیبل پر سنہرے حروف میں ’’عرق گلاب‘‘ لکھا ہو۔ اسی طرح مومن وہ کہلائے گا جو مومن کی صفات کا حامل ہو۔ یہی وہ معیار ہے‘ جس پر ہم اپنے مومن ہونے کے دعوے کو پرکھ سکتے ہیں اور ان صفات کے تذکرہ سے یہی مقصود ہے۔
تمسخر نہ اڑاؤ
سب سے پہلے معاشرہ کے روزمرہ کے معاملات اور روابط کو لیجئے اور دیکھئے کہ قرآنِ کریم ان امور کو بھی کس قدر اہمیت دیتا ہے جنہیں عام طور پر قابلِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا لیکن جن سے معاشرہ میں بڑی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ وہ جماعتِ مومنین سے تاکید کرتا ہے کہ:
لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ -(49:11)
کوئی جماعت‘ دوسری جماعت کا تمسخر نہ اڑائے۔
آپ جانتے ہیں کہ تمسخر‘ جسے ہمارے ہاں بڑا (Lightly) لیا جاتا ہے‘ کتنے بڑے فساد کا موجب بن جاتا ہے۔ تمسخر درحقیقت ایک گہری نفسیاتی کیفیت کا مظاہرہ ہوتا ہے‘ جو نفرت۔ حسد اور انتقام کے جذبات کی پید اکردہ ہوتی ہے‘ لیکن اس شخص میں اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ ان جذبات کا اظہا رکھلے بندوں کرے۔ وہ انہیں تمسخر کے فریب کارانہ پردوں میں چھپا کر پیش کرتا ہے۔ تمسخر کے تیز تر نشتر کی شکل وہ ہوتی ہے جسے کسی کا ’’نام رکھنا‘‘ کہتے ہیں۔ قرآن نے یہ کہہ کر اس سے بھی روک دیا کہ:
وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ-(49:11)
ایک دوسرے کے بُرے بُرے نام مت رکھا کرو۔
(2) اس کے بعد ہے:
وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَکُمْ -(49:11)
اور آپس میں ایک دوسرے پر الزام مت لگاؤ۔
الزام تراشی
الزام تراشی کس قدر سنگین جرم ہے اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ قرآن کی رُو سے زنا کی سزا سو کوڑے ہے اور پاک دامن عورتوں کے خلاف الزام تراشی کی سزا اسّی کوڑے۔ ہوتا یہ ہے کہ دوسرے پر الزام لگانے والا‘ خود تو معتبر بن جاتا ہے اور فریق مقابل کو خواہ مخواہ ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتا ہے کہ وہ اپنی بریّت ثابت کرے۔ اس سے اور کچھ نہیں تو اکثر لوگوں کے دل میں اس شخص کے خلاف بدظنی ضرور پیدا ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ بھائی! بالآخر کچھ نہ کچھ بات تو ہو گی ہی جس کی بنا پر یہ الزام لگایا گیا ہے!
تانہ باشد چیز کے گویند مرداں چیز ہا
بدظنی سے بچو
قرآن کریم نے ایک طرف الزام تراشی اور بہتان بافی کی اس قدر سخت سزا مقرر کی‘ اور دوسری طرف جماعتِ مومنین سے تاکید کی۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا کَثِیْراً مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ -(49:12)
اے جماعتِ مومنین! بدظنی سے بہت زیادہ بچو۔ یاد رکھو! بعض بدظنی بدترین گناہ تک پہنچ جاتی ہے۔
اسلامی معاشرہ کے افراد کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہمیشہ خیر سگالی کے جذبات ہونے چاہئیں۔ لیکن جس دل میں‘ کسی کے متعلق بدظنی پیدا ہو جاتی ہے‘ اس میں خیر سگالی کے جذبات باقی نہیں رہتے۔ اس کا علاج قرآن نے یہ بتایا ہے کہ (1) ہر شخص کے متعلق تمہارا پہلا ردِ عمل (First Reaction) نیک ہونا چاہئے۔ اس کا ارشاد ہے کہ: وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً -(4:94) جو تمہیں سلام کہے اس کے متعلق‘ یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔ اگرچہ یہ آیت‘ جنگ کے سلسلہ میں ایک اور اہم اصول کی وضاحت کرتی ہے لیکن جب اس کا اطلاق عام معاشرتی روابط پر کیا جائے گا تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ (تحقیق سے پہلے)‘ تمہارا پہلا ردِ عمل‘ ہمیشہ نیک ہونا چاہئے۔ قرآن کے اسی حکم پر مبنی عدل کا یہ اہم اصول قائم ہوتا ہے کہ جب تک کسی کے خلاف جرم ثابت نہ ہو جائے اسے بے گناہ سمجھنا چاہئے۔ اس سلسلہ میں اس نے کہا کہ جب کوئی شخص‘ تم سے کسی کے خلاف کوئی بات کہے تو تمہارا پہلا ردِعمل یہ ہونا چاہئے کہ: ہَذَا إِفْکٌ مُّبِیْنٌ -(24:12) یہ صریح جھوٹ ہے۔ ہَذَا بُہْتَانٌ عَظِیْمٌ-(24:16) یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ اپنے دل میں ردِعمل یہ پیدا کرو اور پھر اس بات کا چرچا مت کرو۔ -(24:19) اگر بات ایسی ہے کہ وہ بالبداہت غلط نظر آتی ہے تو اس کے متعلق خواہ مخواہ کی کرید مت کرو۔ وَلَا تَجَسَّسُوا -(49:12) لیکن اگر اس کے متعلق کسی حتمی نتیجہ تک پہنچنا ضروری ہے تو اس کی تحقیق کرو۔ اس تحقیق کے متعلق قرآن نے خصوصیت سے کہا ہے کہ:
وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُولاً -(17:36)
جس معاملہ کی تم خود تحقیق نہ کرو اس کے پیچھے مت لگا کرو۔ یاد رکھو! تمہاری سماعت‘ بصارت‘ قلب (کان‘ آنکھ اور دل) ہر ایک سے پوچھا جائے گا (کہ آیا تم نے ان سے کام لے کر اس معاملہ کی تحقیق کر لی تھی یا نہیں)۔
غیبت مت کرو
اور اگر معاملہ ایسا ہے جس کا اثر جماعتی زندگی پر بھی پڑتا ہے تو اسے متعلقہ حکام تک پہنچاؤ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنبِطُونَہُ مِنْہُمْ -(4:83) تاکہ وہ تحقیق کر کے بات کی تہ تک پہنچ جائیں (نیز 49:6)۔ اسی سلسلہ میں قرآنِ کریم نے یہ کہا ہے: وَلَا یَغْتَب بَّعْضُکُم بَعْضاً -(49:12) تم ایک دوسرے کی غیبت مت کرو۔ کسی کی پیٹھ پیچھے اس کے خلاف کوئی بات نہ کرو۔ جو بات کرنی ہو اس کے سامنے کہو۔ اگر آپ سے کوئی شخص‘ کسی کی غیر حاضری میں‘ اس کے خلاف کوئی بات کہتا ہے تو آپ کا فریضہ ہے کہ اس سے کہو کہ چلو! یہ بات اس شخص کے سامنے چل کر کرو۔ آپ دیکھیں گے کہ اس سے آپ کتنے بڑے فساد کا رخنہ بند کر دیتے ہیں۔
اذیّت مت پہنچاؤ
کسی کے خلاف جھوٹے الزام لگانے‘ یا اس کی غیبت کرنے سے اسے جس قدر قلبی اذیّت پہنچ سکتی ہے‘ اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ مومن ایک دوسرے کے لئے قلبی سکون اور مسرت کا موجب ہونے چاہئیں‘ نہ کہ باعثِ اذیت و کوفت۔ اسی لئے فرمایا:
وَالَّذِیْنَ یُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْْرِ مَا اکْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُہْتَاناً وَإِثْماً مُّبِیْناً -(33:58)
جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بلا جرم و خطا‘ ناحق اذیّت پہنچاتے ہیں‘ تو وہ بہتان تراشی کے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں اور کھلے ہوئے گناہ کا کام کرتے ہیں۔
اس نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ:
لاَّ یُحِبُّ اللّہُ الْجَہْرَ بِالسُّوَءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ مَن ظُلِمَ -(4:148)
اللہ اسے بھی پسند نہیں کرتا کہ تم خواہ مخواہ کسی بات کی تشہیر کرتے پھرو۔ ہاں مگر جو مظلوم ہو اسے اس کی اجازت ہے کہ وہ اپنے ظلم کے مداوا کے لئے داد فریاد کرے۔
***
دِل کا شفاف ہونا
آپ نے غور فرمایا کہ قرآنِ کریم روزمرہ کی زندگی سے متعلق ان چھوٹی چھوٹی احتیاطی تدابیر سے‘ کس طرح ایسی خرابیوں کا سدِباب کر دیتا ہے‘ جو معاشرہ میں بہت بڑے فتنہ اور فساد کا موجب بن جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم‘ ان (بظاہر) معمولی سی تدابیر پر عمل کرنا شروع کر دیں تو معاشرہ میں کس قدر امن اور سکون پیدا ہو جائے! لیکن قرآن‘ ان چیزوں پر بھی محض میکانکی طور پر عمل نہیں کراتا۔ وہ افراد کے اندر ایسی نفسیاتی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ جس سے یہ تمام باتیں ان کے دل کی گہرائیوں سے ابھرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جماعتِ مومنین کے جنتی معاشرہ کے متعلق کہا ہے کہ: وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ -(7:43) ان کے دل میں کوئی ایسی بات نہیں رہے گی جسے وہ دوسروں سے چھپا کر رکھنا چاہیں۔ آپ غور کیجئے کہ وہ معاشرہ فی الواقعہ کس قدر جنتی ہو گا جس میں افراد معاشرہ کے دل اس قدر آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں کہ ان میں غبار اور کدورت کا نشان تک نہ ہو اور ہر ایک کا ظاہر و باطن یکساں طور پر سب کے سامنے ہو۔
اُلفت اور اخوّت
اسی کو قرآن نے ’’دلوں میں باہمی اُلفت پیدا کرنے‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور جماعتِ مومنین کو جس نعمتِ خداوندی کی یاد دلائی ہے وہ یہی باہمی اُلفت ہے۔ چنانچہ اس جماعت کو مخاطب کر کے کہا گیا وَاذْکُرُواْ نِعْمَتَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاء ۔تم خدا کی اس نعمتِ کبریٰ کو یاد کرو کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ فَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِکُمْ۔ خدا نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کی اُلفت ڈال دی۔ الفت‘ اس قسم کے تعلق کو کہتے ہیں جس میں ایک دوسرے کے دل یوں باہمدگر مدغم ہو جائیں جس طرح بادل کا ایک ٹکڑا دوسرے ٹکڑے کے اندر ضم ہو جاتا ہے۔۔۔ تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگرے۔۔۔ اس باہمی الُفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ: فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَاناً۔ تم اس نوازش خداوندی سے‘ ایک دوسرے کے بھائی بھائی بن گئے۔ وَکُنتُمْ عَلَیَ شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا۔ تم (اس سے پہلے) جہنم کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے۔ بس اس میں گرنے ہی والے تھے کہ خدا نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ -(3:103) اس طرح اللہ اپنے احکام کو واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ تم جان لو کہ زندگی کا صحیح راستہ کون سا ہے۔ یہ ’’باہمی الفت‘‘ ایسی گراں بہا متاع اور نایاب جنس تھی‘ کہ نبی اکرمﷺ سے کہا گیا۔۔۔۔ کہ اگر تو چاہتا کہ ساری دنیا کی دولت خرچ کر کے‘ ان کے دلوں میں ایسی الفت پیدا کر دے‘ تو بھی ایسا نہ ہو سکتا -(8:63)
اعتصام بحبل اللہ
یہ متاع‘ باہر سے خرید کر دلوں میں داخل نہیں کی جا سکتی۔ یہ تو دلوں کے اندر تبدیلی سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی یہ نتیجہ ہوتی ہے قران کے ساتھ وابستگی کا۔ اسی لئے‘ اسے قائم رکھنے کے لئے فرمایا کہ: وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ -(3:103) خدا کی اس رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ مت پیدا کرو۔ یہی وہ رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے کے بعد کہا کہ: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَۃٌ -(49:10) مومن ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں۔ بھائی بھی ایسے جن کی کیفیت یہ ہے کہ: رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ -(48:29) آپس میں ایک دوسرے کے ہمدرد ار غمگسار أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ -(5:54) ایک دوسرے کے سامنے جھکے ہوئے۔۔۔
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
لیکن اس نرمی کے یہ معنی نہیں کہ کوئی غلط کام کرے تو اسے روکا ٹوکا بھی نہ جائے۔
بُرائی سے روکو
قرآن کریم نے یہودیوں کی تباہی کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی ہے کہ: کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ -(5:79) وہ ایک دوسرے کو بری باتوں سے روکتے نہیں تھے۔ جب جماعتِ مومنین کا عام فریضہ‘ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے (9:71-72, 3:103-109) یعنی لوگوں کو ان باتوں کے کرنے کا حکم دینا جنہیں قرآن نے اچھا قرار دیا ہے اور ان امور سے روکنا جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے تو اس کے یہ معنی تھوڑے ہیں کہ یہ جماعت‘ دوسروں کو تو ایسا کہے گی لیکن خود اپنے معاشرے میں یہ کچھ نہیں کرے گی؟ وہ تو سب سے پہلے‘ ان امور کو خود اپنے ہاں عام کرے گی اور اس کے بعد انہیں دوسروں تک پھیلائے گی۔ اسی لئے جماعتِ مومنین کی خصوصیت یہ بتائی کہ: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ -(103:3) وہ ایک دوسرے کو حقؔ (قرآنی احکام و قوانین) کے ساتھ تمسک اور استقامت پذیر رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور اس طرح باہمی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔۔۔
باہمی صلح کراؤ
اس لئے کہ: وَأَصْلِحُواْ ذَاتَ بِیْْنِکُمْ -(8:1) ان کے خدا کا ارشاد ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ اگر سوء اتفاق سے ان کی دو جماعتوں میں کہیں لڑائی جھگڑا ہو جائے تو فَأَصْلِحُوا بَیْْنَہُمَا -(49:9) ان میں باہمی صلح کراؤ اور اگر ان میں سے کوئی پارٹی سرکشی پر اتر آئے تو اسے اس سے‘ بزور روکو اور جب وہ اپنی اس روش سے باز آجائے تو ان دونوں میں عدل و انصاف کے مطابق صلح کرا دو۔
توبہ کا مفہوم
یہیں سے ہمارے سامنے‘ ایک اور اہم اصول آتا ہے اور وہ ہے توبہؔ ۔ ایک شخص کا عام کردار اچھا ہے لیکن کسی وقت اس سے نادانستہ کوئی غلط حرکت سرزد ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اسے اس کا احساس ہوتا ہے تو وہ اپنے کئے پر نادم ہوتا ہے۔ اگر اس کی اس غلط حرکت سے کسی کو اذیت یا نقصان پہنچا ہے تو اس سے معافی مانگتا ہے اور آئندہ کے لئے اس کی پوری پوری احتیاط برتتا ہے کہ کبھی اس قسم کی حرکت سرزد نہ ہو۔ اسے قرآن نے تاب و اصلح سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی جس مقام سے نادانستہ غلط قدم اٹھا تھا‘ اس مقام پر واپس آجانا اور اس کے بعد اپنی ایسی اصلاح کرنا کہ پھر ایسی غلطی نہ ہو۔ جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے‘ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ حرکت‘ نادانستہ۔ غلطی‘ سہو اور خطا سے سرزد ہوئی ہو۔ عمداً ایسا نہ کیا ہو۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس کی تصریح کر دی ہے کہ: إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السُّوَءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِن قَرِیْبٍ فَأُوْلَءِکَ یَتُوبُ اللّہُ عَلَیْْہِمْ -(4:17) توبہ اسی کی ہے جس سے کوئی غلطی نادانستہ سرزد ہو جائے اور اس کے بعد‘ وہ فوراً اس کی تلافی کر دے۔ اس میں نادانستہ (بجھالۃٍ) اور فوراً (من قریبٍ) کے الفاظ غور طلب ہیں۔ یہی چیز قرآن کریم نے دیگر مقامات پر بھی بیان کی ہے مثلاً (16:119 میں)۔
عمداً جرائم
اس کے برعکس‘ ایک شخص دیدہ دانستہ‘ عمداً۔ ارادۃً۔ غلط حرکات کا ارتکاب کرتا ہے‘ جھوٹ بولتا ہے‘ دوسروں کے خلاف جھوٹے الزام لگاتا ہے‘ غیبت کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اور جب وہ کہیں گھر جاتا ہے۔ اپنی مدافعت کی کوئی شکل نہیں دیکھتا‘ تو کہہ دیتا ہے کہ مجھے معاف کر دو۔ تو اس کا نام توبہ نہیں۔ اس کے دیدۂ و دانستہ ارتکاب نے یہ واضح کر دیا کہ یہ چیزیں اس کے کردار کا جزو بن چکی ہیں۔ یونہی نادانستہ سرزد نہیں ہوئیں۔ اس لئے‘ جب تک وہ اپنے کردار میں تبدیلی نہیں پیدا کرے گا‘ ان باتوں سے باز نہیں آسکے گا۔ وہ توبہ کرنے اور معافی مانگنے کے بعد بھی ایسا کچھ کرتا رہے گا۔ اسی لئے قرآن نے وضاحت سے کہہ دیا کہ: وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السَّیِّءَاتِ حَتَّی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّیْ تُبْتُ الآنَ -(4:18) توبہ ان لوگوں کی نہیں ہے جو بری حرکات کرتے رہتے ہیں تاآنکہ جب ان کے سامنے موت آکھڑی ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میں توبہ کرتا ہوں۔۔۔ ’’موت کے سامنے آجانے‘‘ سے مفہوم یہ ہے کہ جب اسے اس کا یقین ہو جائے کہ جو کچھ اس نے کیا ہے وہ بے نقاب ہو جائے گا اور وہ اس کے مؤاخذہ سے بچ نہیں سکتا تو پھر معافی مانگنے لگ جائے۔ یہ منافقت ہے اور بدترین کردار کی علامت۔ یہی وجہ ہے کہ جب فرعون ڈوبنے لگا اور اس نے کہا کہ میں خدا پر ایمان لاتا ہوں تو اس سے کہا گیا کہ اب ایمان سے کیا فائدہ؟ یہ بھی واضح ہے کہ ایسے شخص نے اپنی اس قسم کی حرکات سے جس شخص کو اذیت یا نقصان پہنچایا ہے‘ اگر و ہ اسے معاف بھی کر دے تو اس سے اتنا ہی ہو گا کہ اس سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا۔ لیکن اس کی اصلاح تو اسی صورت میں ہو سکے گی جب وہ اپنے کردار میں خود تبدیلی پیدا کرے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے مغربی مفکر‘ نیٹشے نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:
’’جو برائی تم نے میرے ساتھ کی ہے اسے تو میں معاف کر دوں گا لیکن اس سے جو برائی تم نے خود اپنی ذات کے خلاف کی ہے‘ اسے کون معاف کر سکتا ہے؟‘‘
***
چھچورا پن
اب آگے چلئے۔ مردِ مومن اپنے جوہرِ ذاتی اور بلندئِ سیرت و کردار کی بناء پر اپنے اندر وزن رکھتا ہے اور یہ وزن‘ ہر مقام پر اس کا توازن برقرار رکھتا ہے لیکن جب انسان میں یہ خوبیاں نہ ہوں اور اس کا ایغوؔ جھوٹی تسکین چاہے تو اس سے اس کے اندر غرور‘ نخوت اور پندار کے غلط جذبات ابھر آتے ہیں جس سے اس میں چھچورا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ قرآن کی تعلیم مردِ مومن میں یہ چیز پیدا نہیں ہونے دیتی۔ چھچورے پن کا مظاہرہ انسان کی گفتار۔ چال ڈھال سے ہوتا ہے۔
نخوت و تکبّر
اس لئے قرآن اس کی تاکید کرتا ہے کہ: وَلَا تَمْشِ فِیْ الْأَرْضِ مَرَحاً -(31:18) زمین پر یوں ہی اکڑ کر نہ چلو۔ وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ -(31:19) اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرو۔ اسی طرح وَاغْضُضْ مِن صَوْتِکَ -(31:19) اپنی آواز بھی نیچی رکھو۔ چلّا چلّا کر مت بولو۔ بیجا تکبّر اور نخوت سے‘ لوگوں سے ترش روئی سے پیش نہ آؤ۔ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ -(31:18) اس لئے کہ: إِنَّ اللَّہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ-(31:18) خدا‘ خود پسند‘ شیخی خورے انسان کو پسند نہیں کرتا۔ یہ مومنین کی نشانی نہیں ہے۔
حسد نہیں
مومن کی صفت یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں سے حسد نہیں کرتا۔ (4:54) بلکہ کوشش کرتا ہے کہ اس کے اپنے اندر زیادہ سے زیادہ خوبیاں پیدا ہوں اور اس باب میں وہ دوسروں سے آگے نکل جائے۔ اس لئے کہ اس کے خدا کا حکم ہے کہ: فَاسْتَبِقُواْ الْخَیْْرَاتِ -(2:148) بھلائی کی باتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ جاؤ۔ ان کی یہ بھی خصوصیت ہے کہ: ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ -(23:3) وہ ہر قسم کے لغویات سے پرہیز کرتے ہیں‘ اور اگر کہیں اتفاق سے اس قسم کی باتیں ان کے سامنے آجائیں تو وہ ان سے دامن بچاتے ہوئے شریفانہ انداز سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا کِرَاماً-(25:72)
صاف۔ سیدھی بات کرو
ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ: وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ-(22:30) ہر قسم کے مکر و فریب کی ملمع دار باتوں سے اجتناب کرو۔ قُولُوا قَوْلاً سَدِیْداً-(33:70) ہمیشہ صاف‘ سیدھی‘ واضح‘ محکم‘ دو ٹوک بات کرو۔ یَقُولُواْ الَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ-(17:53) بڑے خوبصورت انداز سے اعتدال کے مطابق۔ اچھی اچھی باتیں کرو۔ لاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ-(2:42) حق اور باطل۔ غلط اور صحیح۔ جھوٹ اور سچ کو آپس میں خلط ملط نہ کرو۔ وَتَکْتُمُواْ الْحَقَّ-(2:42) نہ ہی حق کو چھپاؤ۔
عزۃ الاثم
انسان کے اندر ایک بدترین جذبہ ایسا ہے جو اس کی تمام خوبیوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اسے کبھی صحیح راستے کی طرف آنے نہیں دیتا۔ یہ ہے اس کے ایغوؔ کا جذبۂ پندار یعنی (False Prestige) کا احساس۔ اسے قرآن نے عزۃ الاثم کی جامع اصطلاح سے تعبیر کیا ہے۔ ایک شخص دل میں محسوس کرتا ہے کہ اس نے غلطی کی ہے لیکن اس کے ایغوؔ کا جذبۂ پندار اسے اس کے اعتراف پر آمادہ نہیں ہونے دیتا۔ وہ اس کے لئے اعذار باردہ (Justificatory Reasons) وضع کرتا ہے حالانکہ اس کا دل جانتا ہے کہ یہ دلائل جھوٹے اور یہ وجوہات وضعی ہیں‘ ایسے شخص پر سعادت کی راہیں کبھی نہیں کھل سکتیں۔ یہ چیز پارٹی بازی میں اکثر حق و صداقت کے راستے میں روک بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ اپنی پارٹی کا فرد صریحاً غلطی پر ہو‘ لیکن ’’پارٹی بازی‘‘ کا تقاضا ہے کہ آپ اس کی بہرحال تائید اور مدافعت کریں۔ ایک ڈاکو ہر روز مسافروں کے گلے کاٹے اور غریبوں کو لوٹے۔ اس کی پارٹی کے دوسرے ڈاکو‘ اسے کبھی بُرا نہیں کہیں گے لیکن اگر وہ لوٹ کے مال میں کچھ خورد برد کرے اور اس کی تقسیم منصفانہ نہ کرے‘ تو پھر پارٹی والے اسے بے ایمان اور بددیانت قرار دیں گے۔ پارٹی بازی میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ اپنی پارٹی کا آدمی جب تک دوسروں کے خلاف کچھ کرتا رہے اسے کبھی نہیں ٹوکا جاتا بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس سے رفتہ رفتہ اس کے دل کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ اس میں کسی بات کو (On Merit) پرکھنے اور عدل و انصاف کی رو سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ یہ ہے وہ مسخ شدہ ذہنیت جس کے متعلق قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ: وَإِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّہَ أَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالإِثْمِ -(2:206) جب اس سے کہا جاتا ہے کہ قوانین خداوندی کی نگہداشت کرو تو جھوٹی عزت کا احساس اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ فَحَسْبُہُ جَہَنَّمُ -(2:206) نتیجہ اس کا یہ کہ اس کی انسانی صلاحیتیں جھلس کر راکھ کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔
مومن‘ نفس (ایغوؔ ) کے اس فریب میں نہیں آتا۔ یہ اس کے راستے میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ دامن جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
***
پابندئ عہد
اب مؤمنین کی مثبت صفات کی طرف آیئے۔ ان کے متعلق سورۂ المومنون میں کہا گیا ہے کہ: ہُمْ لِأَمَانَاتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُونَ-(23:8) یہ لوگ امانات کی حفاظت کرتے ہیں اور عہد کی پابندی۔ حفظِ امانت کے معنی یہی نہیں کہ جو چیز تمہارے پاس بطورِ امانت رکھی جائے اسے بحفاظت واپس کر دو۔ ہر وہ بات جسے کسی نے‘ تم پر بھروسہ کر کے تمہارے سپرد کی ہے وہ امانت میں داخل ہے۔ خواہ وہ اس کا کوئی راز ہو یا اس کی عزت و آبرو کی رکھوالی۔ جہاں تک عہد‘ معاہدہ کا تعلق ہے‘ اس کے معنی یہی نہیں کہ جو اقرار نامہ کسی کو لکھ کر دو اس پر قائم رہو۔ اس میں ہر قسم کا وعدہ بھی شامل ہے جو ایک انسان دوسرے سے کرتا ہے۔ یہ بڑی اہم صفت ہے اور ا س کی قرآن کریم نے بڑی شدت سے تاکید کی ہے۔ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ-(5:1) میں ہر قسم کا عہد اور وعدہ آجاتا ہے۔ آپ غور کیجئے کہ وعدہ کے معنی کیا ہیں۔ آپ کسی سے کہتے ہیں کہ ’’بھائی! اس وقت مجھے جانے دو۔ میں ٹھیک چار بجے آجاؤں گا‘‘۔ تو وہ آپ پر اعتماد کر کے آپ کی بات مان لیتا ہے۔ اگر آپ اپنے وعدے کے مطابق آتے نہیں تو آپ اپنا اعتماد کھو دیتے ہیں۔۔۔ اور یہ ظاہر ہے کہ دنیا میں بدترین قسم کا معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں کسی کو دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ نہ ہو۔ ایسے معاشرہ میں ہر شخص عدم اطمینان کے جہنم میں رہتا ہے۔ بعض لوگ تو وعدہ کرتے ہی منافقت سے ہیں یعنی انہوں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا ہوتا ہے کہ انہوں نے وعدہ پورا نہیں کرنا لیکن اکثر جذباتی (یا Impulsive) لوگ‘ شدتِ جذبات میں آگے بڑھ کر ایک وعدہ کر لیتے ہیں اور اس کے بعد‘ جب جذبات کی شدت ماند پڑ جاتی ہے تو اس وعدہ سے پھر جانے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ اس سے جو نقصان دوسروں کو پہنچتا ہے اسے تو چھوڑیئے۔ خود ایسے لوگوں کی سوسائٹی میں کوئی عزت نہیں رہتی۔ مومنؔ کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ وہ وعدہ کرتا ہے تو سوچ سمجھ کر اور جب وعدہ کر لیتا ہے تو پھر کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ اسے پورا کرتا ہے۔
جذباتی لوگ
بَلَی مَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ وَاتَّقَی فَإِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْن-(3:76) جو اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے اور یوں قانونِ خداوندی کی پاسداری کرتا ہے تو یہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک پسندیدہ اطوار و کردار کے مالک ہوتے ہیں لہٰذا‘ وعدہ شکنی‘ خواہ وہ شروع ہی میں بدنیتی کا نتیجہ ہو۔ یا بعد میں پھر جانے کی وجہ سے‘ اس فرد کو ذلیل اور معاشرہ کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسی لئے قرآن نے تاکیداً کہا ہے کہ: أَوْفُواْ بِالْعَہْدِ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْءُوْلاً-(17:34) اپنے وعدہ کو ہمیشہ پورا کرو۔ اس کے متعلق تم سے پوچھا جائے گا اور یہ پُرسش تو اسی و قت شروع ہو جاتی ہے جب وعدہ خلافی کرنے والے کو ہر نگاہِ حقارت اور نفرت سے دیکھنے لگتی ہے‘ خواہ وہ بظاہر کتنا ہی معتبر اور معزز کیوں نہ ہو۔
عَدل کے علمبردار
اب آگے بڑھئے۔ قرآنِ کریم نے مؤمنین کے متعلق کہا ہے کہ وہ قَآءِمَاً بِالْقِسْطِ(3:17) ہوتے ہیں یعنی ہمیشہ انصاف پر ڈٹ کر کھڑے رہنے والے۔ عدل و انصاف وہ بنیاد ہے‘ جس پر انسانی سیرت کی عمارت استوار ہوتی ہے اس لئے قرآن کریم اس باب میں مؤمنین کے سامنے ایسا بلند معیار رکھتا ہے جس پر پورا اترنے سے معاشرہ فی الواقعہ جنت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔۔۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ۔۔۔ اے ایمان والو! دنیا میں عدل و انصاف کے علمبردار بن کر رہو۔ اس باب میں کسی جذبے کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دو۔ یہ کچھ خالصتہً لِللّٰہ کرو۔ اس مقصد کے لئے شہادت دینی پڑے تو نہ مدعی کی طرف سے گواہ بن کر جاؤ نہ مدعا علیہ کی طرف سے۔ بلکہ شُہَدَاء لِلّہِ۔ تم خدا کی طرف سے گواہ بن کر جاؤ اور سچی سچی گواہی دو۔ وَلَوْ عَلَی أَنفُسِکُمْ۔ خواہ وہ تمہارے اپنے ہی خلاف کیوں نہ جائے۔ أَوِ الْوَالِدَیْْنِ۔ یا تمہارے والدین کے خلاف جائے۔ وَالأَقْرَبِیْنَ۔ یا تمہارے دیگر رشتہ داروں کے خلاف۔۔۔ إِن یَکُنْ غَنِیّاً أَوْ فَقَیْراً۔ وہ دولت مند ہو یا غریب ہو‘ اس کا بھی تم پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ اس لئے کہ فَاللّہُ أَوْلَی بِہِمَا۔ اللہ کا حق ان دونوں سے زیادہ ہے۔ اس لئے یاد رکھو۔
فَلاَ تَتَّبِعُواْ الْہَوَی أَن تَعْدِلُواْ۔ تم اپنے جذبات کے پیچھے مت چلو۔ اس باب میں‘ اپنے قلبی رجحانات کو اثر انداز مت ہونے دو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے جذبات تمہیں عدل کرنے سے روک دیں۔ وَإِن تَلْوُواْ۔ نہ ہی تم کوئی پیچدار۔ ذومعنی بات کرو۔ أَوْ تُعْرِضُواْ۔ نہ ہی اس سے اعراض برتو۔ پہلو تہی کرو۔ اس لئے کہ فَإِنَّ اللّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً-(4:135) جو کچھ تم کرتے ہو‘ خدا کو اس کی خبر ہوتی ہے۔ تم اس سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔۔۔ یہ ہے عدل کا وہ معیار جو ایک مومن کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ ذرا سوچئے کہ جو معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل ہو گا جو اس صفت کے حامل ہوں‘ اس معاشرہ کی کیفیت کیا ہو گی۔ اس میں یہ نہیں ہو گا کہ اپنی پارٹی کا آدمی ہے تو اس کے لئے میزان اور ہو گی اور دوسری پارٹی کے آدمی کے لئے اور۔۔۔ اس میں‘ تو دشمن سے بھی عدل کیا جائے گا۔
وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ-(5:8) دیکھنا! ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ کر دے کہ تم اس کے ساتھ عدل نہ کرو۔ اس سے بھی عدل کرو۔ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی -(5:8) تقویٰ سے قریب ترین رَوش یہی ہے۔
قانونِ عدل
عدل کے سلسلہ میں اتنا سمجھ لینا ضروری ہے کہ اس کی ایک شکل وہ ہے‘ جسے عدالتی عدل کہا جاتا ہے‘ یعنی لوگوں کے متنازعہ فیہ معاملات کا فیصلہ کرنا۔ اس کے متعلق قرآنِ کریم کا حکم ہے کہ: إِذَا حَکَمْتُم بَیْْنَ النَّاسِ أَن تَحْکُمُواْ بِالْعَدْلِ -(4:58) جب تم لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو‘ تو ہمیشہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ عدالتی عدل کے معنی یہ ہیں کہ فیصلہ قانون کے مطابق ہو۔ لیکن قرآن کریم اس باب میں ایک قدم آگے جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر وہ قانون جس کے مطابق فیصلہ کیا جا رہا ہے‘ خود ہی عدل پر مبنی نہ ہو تو اس کی رو سے کیا ہوا فیصلہ کس طرح مبنی برعدل کہلا سکے گا۔‘‘ لہٰذا‘ جماعتِ مومنین کے متعلق قرآنِ کریم میں ہے: أُمَّۃٌ یَہْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ-(7:181) یہ جماعت ’’الحق‘‘ کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کرتی ہے اور اسی (الحق) کے ساتھ عدل کرتی ہے۔ یعنی ان کے قوانین‘ الحقؔ پر مبنی ہوتے ہیں اور انہی قوانین کے مطابق یہ لوگوں کے فیصلے کرتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ الحقؔ قرآن کریم ہے کیونکہ خود خدا کا ارشاد ہے کہ: وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ-(5:44) جو لوگ معاملات کے فیصلے قرآن کے مطابق نہیں کرتے‘ سو وہی کافر ہیں۔
واجب حق
عدل کی دوسری شکل یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کا واجب حق ادا کر دیا جائے۔ اس میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے۔ یہ وہ عدل ہے جو ہر شخص کی زندگی میں قدم قدم پر سامنے آتا ہے اور مومن اس میں ہر مقام پر پورا اترتا ہے۔ آپ سوچئے کہ جس معاشرہ میں ہر شخص کو اس کا حق‘ بلا کدو کاوش اور بلا پریشانی و تشویش ملتا چلا جائے۔ اس میں زندگی کس قدر خوشگوار گزرے گی۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے ایسے جامع الفاظ استعمال کئے ہیں جنہیں پھیلانے سے زندگی کا ہر گوشہ اس کے دائرے کے اندر آجاتا ہے۔ اس نے کہا ہے: وَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ-(6:152) ’’ماپ اور تول کو عدل و انصاف کے ساتھ پورا کرو۔‘‘ ماپ اور تول میں ہر قسم کے واجبات آجاتے ہیں۔
احسان
لیکن قرآنِ کریم عدل سے بھی ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور اس کے ساتھ احسان کا حکم دیتا ہے جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے‘ عدل کے معنی ہیں جو کچھ کسی کا واجب ہے وہ ادا کر دینا لیکن اگر اس سے دوسرے کی ضرورت پوری نہ ہوتی ہو تو قرآن کی تاکید یہ ہے کہ اسے‘ اس کے واجب سے زیادہ دے کر‘ اس کی کمی کو پورا کر دیا جائے۔ اسے احسان کہتے ہیں جس کے معنی ہیں کسی کے بگڑتے ہوئے توازن کو برقرار کر دینا اور اس طرح معاشرہ میں حسن پیدا کر دینا۔
والدین سے احسان
اس ’’احسان‘‘ کی ابتداء اپنے گردوپیش سے کی جائے گی اور اس میں سرِفہرست والدین کا نام آئے گا۔ وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً-(4:36) آپ حیوانات پر غور کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ وہاں‘ ماں باپ اپنے بچے کی پرورش تو کرتے ہیں لیکن بچے اپنے والدین کو پوچھتے تک نہیں۔ وہ انہیں جانتے پہچانتے بھی نہیں۔ یہ خصوصیت انسانی زندگی میں آکر پیدا ہوتی ہے کہ جب ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو اولاد ان کی خبرگیری کرے۔ والدینؔ کے بعد‘ دوسرے لوگ بھی اسی زمرے میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے: وَبِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ۔ یہی احسان دیگر اقربا سے بھی کرو اور ان لوگوں سے بھی جو معاشرہ میں کسی وجہ سے تنہا رہ گئے ہوں یا جو حرکت کے قابل نہ رہیں اور ان کا چلتا ہوا کاروبار رک جائے۔ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبَی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ۔ نیز ہمسایہ سے بھی‘ خواہ وہ قریب کا ہو یا دور کا۔ اپنوں میں سے ہو یا بیگانوں میں سے۔ نیز اپنے رفقائے کار کے ساتھ بھی اور ان مسافروں کے ساتھ بھی جن کے پاس زادِ راہ نہ رہا ہو‘ یا وہ ویسے ہی تمہارے حسنِ سلوک کے متمنی ہوں۔ وَمَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ-(4:36) اور ان لوگوں کے ساتھ بھی جو تمہارے ماتحت کام کریں۔ ان سب کے ساتھ عدل کرو۔ ان کے حق میں کسی قسم کی کمی نہ کرو اور اگر اس کے باوجود‘ ان میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کمی کو بھی پورا کرو۔ اور اس کا دل میں خیال تک بھی نہ لاؤ کہ تم نے ان پر کوئی احسان کیا ہے‘ چہ جائیکہ اس احسان کی وجہ سے تم ان پر بارگراں بن جاؤ اور انہیں خواہ مخواہ قلبی اور ذہنی اذیت پہنچاتے رہو۔ اس لئے کہ مومنین کا شعار یہ ہے کہ: لاَ یُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُواُ مَنّاً وَلاَ أَذًی-(2:262) وہ کسی کو کچھ دے کر اس کے سر پر سوار نہیں ہو جاتے۔ سر پر سوار ہونا تو ایک طرف‘ وہ ان سے کہہ دیتے ہیں کہ:
لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَاء وَلَا شُکُوراً-(76:9) ہم تم سے‘ اس کا بدلہ تو ایک طرف‘ شکریہ تک کے بھی خواہاں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ: ہَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ-(55:60) اس کمی کی وجہ سے تمہارا توازن بگڑ رہا تھا۔ ہم نے اس توازن کو برقرار کر دیا۔ بس یہی اس کا بدلہ ہے۔ دوسروں کی کمی کو پورا کرنے کے سلسلہ میں وہ اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ: وَیُؤْثِرُونَ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ-(59:9) وہ خود تنگی میں گزارہ کر لیتے ہیں اور دوسروں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتے ہیں۔
مقروض سے نرمی
یہ تو احسانؔ کی صورت ہے جس میں کچھ واپس لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ وہ اگر کسی کو قرض دیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ مقروض کی حالت سقیم ہے تو اس پر سختی نہیں کرتے بلکہ اسے اس وقت تک کی مہلت دیتے ہیں جب تک وہ آسانی سے قرض ادا کر دینے کے قابل نہ ہو جائے اور اگر ایسا ہو کہ وہ قرضہ ادا کرنے کے قابل ہی نہیں رہا تو قرض معاف کر دیتے ہیں۔ وَإِن کَانَ ذُو عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلَی مَیْْسَرَۃٍ وَأَن تَصَدَّقُواْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ -(2:280)
ناحق مال نہ کھاؤ
ظاہر ہے کہ جن لوگوں کی یہ خصوصیات ہوں وہ کسی کا مال ناحق کس طرح کھا جائیں گے اور جائز اور ناجائز کی تمیز کو کس طرح مٹا دیں گے؟ انہیں اس کی تاکید کی گئی ہے کہ: لاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ -(2:188) آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریق پر مت کھاؤ۔ یا اگر معاملہ عدالت تک پہنچ چکا ہے تو ایسا نہ کرو کہ حکام کو رشوت دے کر ایسا فیصلہ کرا لو جس سے دوسروں کا کُچھ مال ناجائز طور پر تمہیں مل جائے حالانکہ تم جانتے ہو کہ جو مال اس طرح حاصل کیا جائے اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
***
حفاظتِ عصمت
یہاں تک ضبطِ نفس کی ان حدود کا ذکر آیا ہے جن کا تعلق مال و دولت سے ہے۔ اس کے بعد جنسی جذبات میں ضبط و تحدید کی صورت سامنے آتی ہے۔ اس باب میں مومن انتہائی پاکبازی کا مظہر ہوتے ہیں۔ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حَافِظُونَ-(23:5) وہ اپنی عصمت کی حفاظت کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں عصمت و عفت کا لفظ صرف عورت کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن قرآن کریم اس باب میں‘ مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ وہ مردوں سے بھی اسی طرح عصمت کا مطالبہ کرتا ہے جس طرح عورتوں سے۔ وہ کہتا ہے کہ مومنین‘ زنا تو خیر بہت دور کی بات ہے‘ فواحش (یعنی عام بے حیائی کی باتوں) کے بھی قریب تک نہیں پھٹکتے‘ خواہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی ہو یا پوشیدہ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ -(6:151) خود بھی بچتے ہیں اور اس قسم کی تدابیر اختیار کرتے ہیں جن سے اس قسم کی باتیں معاشرہ میں پھیلنے نہ پائیں -(24:19) وہ اپنی نگاہوں کو کبھی بے باک نہیں ہونے دیتے کیونکہ ان سے کہا گیا ہے کہ: یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ (24:30)۔ اپنی نگاہوں کو بے باک مت ہونے دو۔ وہ جنسی بے راہ روی کے خیال تک کو اپنے دل میں نہیں آتے دیتے‘ اس لئے کہ ان کا ایمان ہے کہ: یَعْلَمُ خَاءِنَۃَ الْأَعْیُنِ وَمَا تُخْفِیْ الصُّدُورُ-(40:19) خدا‘ نگاہ کی خیانت اور دل میں پوشیدہ خیالات تک سے واقف ہے۔
خیالات کی پاکیزگی
علاوہ بریں‘ عام جذبات میں بھی ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ انہیں کبھی بدلگام اور حدود فراموش نہیں ہوتے دیتے۔ اگر کبھی ان میں شدت پیدا بھی ہو تو وہ (تخریب کی بجائے) ان کا رخ تعمیری کاموں کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ اسی لئے مومنین کی خصوصیت کَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ-(3:134) بتائی گئی ہے۔ اس کے معنی ’’غصے کو دبا لینے والے‘‘ نہیں۔ اس کے معنی ہیں‘ اس زائد قوت کو تعمیری کاموں کی طرف منتقل کر دینے والے۔
جذبات پر قابو
اس کے بعد ہے: وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ -(3:134) اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے مقامات پر یہ نہیں دیکھتے کہ دوسرے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں (تاکہ وہ بھی ویسا ہی برتاؤ ان کے ساتھ کریں)۔ وہ ان کے برتاؤ سے قطع نظر کر کے‘ دیکھتے یہ ہیں کہ انہیں قوانینِ خداوندی کے مطابق کیا کرنا چاہئے۔ ان کے جذبات کبھی سرکشی اختیار نہیں کرتے۔ وہ انہیں ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ شیطان ان پر کبھی غلبہ نہیں پا سکتا۔ إِنَّ عِبَادِیْ لَیْْسَ لَکَ عَلَیْْہِمْ سُلْطَانٌ -(15:42) حتیٰ کہ اگر کبھی اس قسم کا کوئی خیال یونہی گھومتے پھرتے ان کے دل میں آجائے تو وہ فوراً قانونِ خداوندی کو اپنے سامنے لے آتے ہیں اور اس سے یوں ہوتا ہے گویا ایک دم روشنی ان کے سامنے آگئی اور انہوں نے صحیح راستہ اختیار کر لیا۔ إِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّہُمْ طَاءِفٌ مِّنَ الشَّیْْطَانِ تَذَکَّرُواْ فَإِذَا ہُم مُّبْصِرُونَ-(7:201) زندگی کے ہر شعبے میں‘ قانونِ خداوندی کو اپنے سامنے رکھنا‘ یہ ہے وہ سب سے بڑی قوت جس سے مومنین‘ غلط باتوں کے ارتکاب سے مجتنب رہتے ہیں۔ اس کو ذکر اللہ کہتے ہیں۔
خشیّتِ قلبی
ان قوانین کی خلاف ورزی سے جو تباہیاں آتی ہیں‘ ان کا احساس انہیں کپکپا دیتا ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ إِذَا ذُکِرَ اللّہُ وَجِلَتْ قُلُوبُہُمْ مومنین کی خصوصیت یہ ہے کہ جب قوانینِ خداوندی کا مجموعی تصور ان کے سامنے آتا ہے تو ان کی خلاف ورزی سے جو تباہی آتی ہے اس کے احساس سے ان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وَإِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِیْمَاناً وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُونَ-(8:2) اور جب ان قوانین کی تفاصیل ان کے سامنے آتی ہیں تو ان پر عمل پیرا ہونے کے خوشگوار نتائج کے تصور سے ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ ان قوانین کی محکمیت پر پورا پورا اعتماد رکھتے ہیں اور یہی وہ‘ قوانینِ خداوندی پر اعتمادِ کلی اور یقین کامل ہے جس سے انہیں استقامت حاصل ہوتی ہے اور ان کے پاؤں میں کبھی لغزش نہیں آتی۔ اسی لئے انہیں الصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ وَالْقَانِتِیْنَ -(3:17) کہہ کر پکارا گیا ہے۔ یعنی مستقل مزاج۔ مصافِ زندگی میں جم کر کھڑے ہونے والے۔ اپنے دعویٰ ایمان کو اپنے اعمال سے سچ کر دکھانے والے اور قوانین خداوندی کا پورا پورا اتباع کرنے والے۔ اپنی تمام توانائیوں کو ان کے مطابق صرف کرنے والے۔
***
صاحبانِ عقل و بصیرت
جذبات کو کنٹرول میں رکھنے کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ کبھی عقل و فکر سے عاری نہیں ہوتے۔ اپنا دماغی توازن کبھی نہیں کھوتے۔ ہر معاملہ پر نہایت ٹھنڈے دل سے غور و فکر کر کے صحیح نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ اسی لئے قرآن نے انہیں أُوْلُواْ الأَلْبَابِ -(13:19)کہہ کر پکارا ہے یعنی وہ صاحبان عقل و بصیرت یَتَفَکَّرُونَ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِجو کائنات کی تخلیق پر غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذا بَاطِلاً -(3:190) اے ہمارے نشوونما دینے والے! تو نے اس عظیم کارگۂ کائنات کو بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ ان کے عقل و فکر سے کام لینے کی کیفیت یہ ہے کہ إِذَا ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْْہَا صُمّاً وَعُمْیَاناً -(25:73) اور تو اور‘ جب ان کے سامنے ان کے رب کے احکام و قوانین پیش کئے جاتے ہیں تو وہ ان پر بھی بہرے اور اندھے بن کر نہیں گر پڑتے۔ انہیں غور و فکر سے قبول کرتے‘ اور علم و بصیرت کی رو سے ان پر عمل کرتے ہیں۔ اس طرح وحئ خداوندی پر ایمان لاتے ہیں اور پھر اپنے جذبات کو اس وحی کے تابع رکھتے ہیں‘ کیونکہ قرآن کا ارشاد ہے کہ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوَاہُ بِغَیْْرِ ہُدًی مِّنَ اللَّہِ -(28:50) ’’اس سے بڑھ کر راہ گم کردہ اور کون ہو سکتا ہے جو خدا کی راہنمائی کے بغیر اپنے جذبات کا اتباع کرتا ہے۔۔۔ یوں‘ وحئ خداوندی‘ علم و عقل اور جذبات کے حسین امتزاج سے‘ مرد مومن کا قالب تیار ہوتا ہے۔
دلائل و براہین
اقبالؔ ؒ کے الفاظ میں
بتاؤں تجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہے
یہ ہے نہایت اندیشہ و کمالِ جنوں
عناصر اس کے ہیں‘ روح القدس کا ذوقِ جمال
عجم کا حسنِ طبیعت‘ عرب کا سوز دروں
اور ظاہر ہے کہ جب مومنین خود کسی بات کو سوچے سمجھے بغیر نہ قبول کرتے ہیں نہ تسلیم‘ تو وہ دوسروں سے اپنی بات کس طرح دھاندلی سے منوا سکتے ہیں۔ وہ اپنے ہر دعوے کو دلیل و برہان کی رو سے پیش کرتے اور علم و بصیرت کی رو سے منواتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ سے کہا گیا کہ آپ اعلان کر دیجئے کہ: أَدْعُو إِلَی اللّہِ عَلَی بَصِیْرَۃٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ -(12:108) میں تمہیں جو خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں تو علیٰ وجہ البصیرت ایسا کرتا ہوں۔ میں بھی یہی کرتا ہوں اور میرے متبعین بھی ایسا ہی کریں گے۔ ہماری دعوت علم و بصیرت پر مبنی ہو گی۔ اسی لئے جماعتِ مومنین سے تاکید کی گئی کہ: ادْعُ إِلِی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ -(16:125) تم لوگوں کو‘ اپنے رب کے راستے کی طرف اس انداز سے دعوت دو کہ ان کے دل اور دماغ دونوں کی تسکین ہو جائے۔ وہ اسے ذہن اور قلب کی پوری رضامندی کے ساتھ مانیں اور جو اعتراضات وہ پیش کریں ان کا جواب نہایت حسن کارانہ انداز سے دو۔ یوں ہی اندھا دھند مت جھگڑتے چلے جاؤ۔ فرعون جیسے سرکش اور متکبر کو بھی پہلے نرمی اور آشتی سے سمجھانے کی کوشش کرو۔ فَقُولَا لَہُ قَوْلاً لَّیِّناً لَّعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَی-(20:44) ہو سکتا ہے کہ اس طرح بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ اپنی سرکشی کے تباہ کن نتائج سے ڈر جائے لیکن اگر واسطہ ایسے لوگوں سے پڑ جائے جو اپنی ضد اور جہالت پر اڑے رہنا چاہیں اور کسی بات پر دھیان دینے کی کوشش ہی نہ کریں‘ تو ان سے اعراض برتو۔ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْن-(7:199) لیکن اس کے باوجود ایسے موقعہ کی تلاش میں رہو کہ وہ بات سننے پر آمادہ ہوں تو ان تک پھر خدا کا پیغام پہنچاؤ۔ وَذَکِّرْ بِہِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ-(6:70) تاکہ وہ اپنی غلط روی کے باعث قرآن کی راہنمائی سے محروم نہ رہنے پائیں۔
اپنی اصلاح
لیکن دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ کہنے والا خود اپنی اصلاح کرے۔ جماعتِ مومنین کا یہی شیوہ ہوتا ہے۔ وہ پہلے خود عمل کرتے ہیں اور پھر دوسروں کو اس کی دعوت دیتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کے خدا کا ارشاد ہے کہ: لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ Oکَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّہِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ -(61:2-3) تم وہ بات کیوں کہتے ہو جسے خود کر کے نہیں دکھاتے۔ اللہ کے نزدیک یہ انداز بڑا ناپسندیدہ ہے کہ تمہارے قول اور فعل میں تضاد ہو۔ ایسی نصیحت جس پر انسان خود عمل نہ کرے‘ محض شاعری بن کر رہ جاتی ہے۔ اور اس قسم کی روش مومن کا شعارِ زندگی نہیں ہو سکتی۔
شاعری مت کرو
اس لئے قرآن میں آیا ہے کہ: وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنبَغِیْ لَہُ -(36:69) ہم نے اپنے رسول کو شاعری نہیں سکھائی۔ شاعری اس کے شایانِ شان ہی نہ تھی اور یہی وجہ ہے کہ قرآن نے شاعر اور مومن کو ایک دوسرے کی ضد بتایا ہے۔ چنانچہ سورۂ شعراء میں‘ شاعروں کی یہ خصوصیات بتائی ہیں کہ وہ اپنے تصورات کی دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ کبھی اس وادی میں۔ کبھی اس بیابان میں۔ ایک ایسے اونٹ کی طرح جسے جھوٹی پیاس اِدھر اُدھر لئے پھرے اور ان کی ساری عمر باتیں کرنے میں گزر جاتی ہے اور وہ عمل کے قریب تک نہیں پھٹکتے۔ ان خصوصیات کا ذکر کرنے کے بعد کہا: إِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ -(26:227) لیکن مومنین اس قسم کے نہیں ہوتے۔ وہ ابدی صداقتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کے مطابق کام کر کے دکھاتے ہیں۔ واضح رہے کہ قرآنِ کریم نے جب شاعری کی مذمت کی ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بات کلامِ موزوں میں پیش کرے تو وہ قابلِ مذمت ہے اور اگر وہ اسے نثر میں بیان کرے تو قرآن کی رُو سے مستحسن۔ بات نثر اور نظم کی نہیں بات اس ذہنیت کی ہے جسے قرآن نے ’’شاعری‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس ذہنیت کے معنی یہ ہیں کہ انسان کے سامنے زندگی کا کوئی متعین مقصد اور نصب العین نہ ہو۔ وہ اپنے جذبات کی رو میں جو جی میں آئے کہتا چلا جائے اور جو کچھ کہے اس میں بھی تصنع اور بناوٹ ہو اور دوسرے یہ کہ وہ ساری عمر باتیں کرتا رہے ان پر عمل کبھی نہ کرے۔ ذہنیت اس کی یہ ہو اور وہ اسے نوائے سروش سے تعبیر کرے اپنے آپ کو صاحبِ وجدان قرار دے۔ یہ ہے وہ ذہنیت جسے مومن کی ذہنیت کی ضد قرار دیا گیا ہے‘ خواہ اس ذہنیت کا حامل‘ نثر میں بات کرے یا نظم میں۔ مومن کے سامنے ایک متعین نصب العین حیات ہوتا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے۔
چھوٹی موٹی لغزشیں
اس میں شبہ نہیں کہ چھوٹی موٹی لغزشیں مومنین سے بھی ہو جاتی ہیں۔ یہ معصوم عن الخطاء نہیں ہوتے۔لیکن یہ لغزشیں ان سے سہو و خطا کی بناء پر نادانستہ سرزد ہوتی ہیں جن سے وہ فوراً تائب ہو جاتے ہیں۔ وہ بنیادی غلط روی سے‘ جسے قرآن نے کبائر سے تعبیر کیا ہے‘ ہمیشہ مجتنب رہتے ہیں۔ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُونَ کَبَاءِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ -(53:32) مومن وہ ہیں جو بنیادی غلط کاریوں اور بے حیائی کی باتوں سے ہمیشہ بچتے ہیں۔ ہاں! یہ ہو سکتا ہے کہ ان سے کبھی کبھار‘ نادانستہ کوئی چھوٹی موٹی لغزش ہو جائے۔ لہٰذا مومن کا انداز یہ ہے کہ وہ جس بات کی دوسروں کو نصیحت کرتا ہے اس پر پہلے خود عمل کرتا ہے۔
اعتراض کی بجائے اصلاح
لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کو اس کی غلطی پر ٹوکے تو وہ اسے یہ کہہ کر جھٹک دے کہ میاں! پہلے اپنی اصلاح تو کرو۔ پھر دوسروں سے کہنا۔۔۔ نہیں! مومن کا یہ شعار نہیں۔ وہ کہنے والے کی بات کو توجہ سے سنتا ہے۔ پھر اپنا جائزہ لیتا ہے اور اگر دیکھتا ہے کہ اس میں واقعی وہ کمزوری موجود ہے تو اس کی اصلاح کر لیتا ہے اس لئے کہ وہ اس اصول کو پیشِ نظر رکھتا ہے جسے قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ: عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ -(5:105) ’’تم اپنی اصلاح کی فکر کرو۔ اگر تم صحیح راستے پر جا رہے ہو‘ تو غلط راستے پر چلنے والا تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘‘ اس لئے جو شخص تمہاری غلط روی پر ٹوکتا ہے اس کی بات سننے سے یہ کہہ کر انکار نہ کر دو کہ جب تم خود اس پر عمل نہیں کرتے تو تمہیں دوسروں کو نصیحت کرنے کا کیا حق ہے؟ تمہیں تمہاری غلط روی کا نقصان پہنچے گا۔ اس کی غلط روی کا نہیں۔ اس لئے کہ: وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی -(6:164) ہر شخص اپنی غلط روی کا خمیازہ خود بھگتے گا۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا‘ کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اپنی پاکبازی کی دھونس نہ جماؤ
لیکن اپنی اصلاح کرنے کے بعد‘ مومن کی یہ کیفیت نہیں ہوتی کہ وہ ہر ایک پر اپنی نیکیوں کی دھونس جماتا رہتا ہے اور معاشرہ میں بڑا پاکباز بن کر‘ اپنے آپ کو فریب دیتا اور دوسروں پر رعب گانٹھتا ہے۔ قطعاً نہیں۔ اس لئے کہ اس کے سامنے یہ اصول ہوتا ہے کہ: فَلَا تُزَکُّوا أَنفُسَکُمْ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَی -(53:32) یونہی اپنے آپ کو پاکباز نہ ٹھہراتے پھرو۔ اس کا فیصلہ میزانِ خداوندی کی رو سے ہوتا ہے کہ تم میں سے کون تقویٰ شعار ہے۔ مومن کا تو شعار یہ ہے کہ اس میں جس قدر زیادہ خوبیاں پیدا ہوتی جاتی ہیں‘ وہ اسی قدر (شاخ ثمردار کی طرح) اور جھکتا چلا جاتا ہے۔ وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً -(25:63) اللہ کے بندوں کا انداز یہ ہے کہ وہ اپنے اندر جھوٹا تکبّر پیدا نہیں ہونے دیتے۔ خوبیوں کا وزن انہیں اور جھکا دیتا ہے۔
***
باطل کا مقابلہ کرتے ہیں
لیکن جھکنے کے معنی یہ نہیں کہ وہ ہر ایک سے دبتے چلے جاتے ہیں۔ قطعاً نہیں۔ وہ جھکتے ہیں حقؔ کے سامنے۔ لیکن جو حقؔ کی مخالفت کرتا اور اس سے سرکشی برتتا ہے‘ اس کا ڈت کر مقابلہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں محمد رسول اللہ والذین معہ‘ کو رحماء بینھم کہا ہے (یعنی آپس میں‘ ایک دوسرے کے ساتھ‘ بڑی محبت اور نرمی سے سلوک کرنے والے) وہاں انہیں أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ -(48:29) بھی قرار دیا گیا ہے۔ یعنی حقؔ کی مخالفت کرنے والوں کے مقابلہ میں چٹان کی طرح سخت۔ مومن کی کیفیت یہ ہے کہ:
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
منافق کی مخالفت
خود نبی اکرمﷺ کے متعلق قرآن میں ہے کہ ’’یہ خدا کی رحمت ہے کہ آپﷺ اس قدر نرم دِل واقع ہوئے ہیں۔ اگر آپﷺ سخت مزاج اور سنگدل ہوتے تو آپ کی جماعت کے افراد آپ سے الگ ہو جاتے‘‘ -(3:158) لیکن اس کے ساتھ ہی حضورﷺ سے تاکیداً کہا گیا کہ: یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْْہِمْ -(9:73) اے نبیﷺ! جو لوگ حق کی مخالفت کرتے ہیں۔ یا جو تمہارے ساتھ رہتے ہوئے‘ منافقانہ روش اختیار کرتے ہیں‘ ان سے جہاد کرو۔ اور ان کے خلاف شدت اختیار کرو۔ یعنی جو لوگ کھلے بندوں حق کی مخالفت کریں اور سرکشی اختیار کریں۔ یا جو لوگ منافقت برتیں‘ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ نہیں کیا جائے گا۔ ان کی مخالفت یا منافقت کو سختی سے روکا جائے گا۔ یاد رکھئے! مومنین کے معاشرہ میں‘ منافقین کا وجود۔۔۔ یعنی وہ لوگ جو بظاہر کچھ اور بات کریں اور ان کے دل میں کچھ اور ہو۔۔۔ ایک زہر آلود پھانس ہوتی ہے‘ جس کا علاج نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے اگر نوکِ نشتر کی بھی ضرورت پڑے تو اس میں بھی تامل نہیں کرنا چاہئے۔ مومنؔ کی نرم مزاجی کے یہ معنی نہیں کہ وہ منافقین کے سامنے بھی جھک کر رہتا ہے۔ ایسا کرنا تو خود منافقت اور مداہنت ہو گی۔ وہ منافق سے برملا کہہ دیتا ہے کہ تم منافقت برتتے ہو۔ ہم تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔ اور دوسروں کو بھی اس کی منافقت سے آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ کسی کو دھوکا نہ دے سکے۔ اس باب میں قرآن کی تعلیم بڑی واضح اور اس کی تاکید بڑی سخت ہے۔ اس لئے مومنین‘ حق کے مخالفین اور منافقین سے برملا کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ تم ہمارے دوست اور رازدار نہیں ہو سکتے۔ سورۂ توبہ میں ہے:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ آبَاء کُمْ وَإِخْوَانَکُمْ أَوْلِیَاء إَنِ اسْتَحَبُّواْ الْکُفْرَ عَلَی الإِیْمَانِ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ-(9:23) O
اے جماعتِ مومنین! اگر تمہارے باپ اور بھائی بھی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں‘ تو انہیں اپنا دوست مت بناؤ۔ تم میں سے جو کوئی انہیں اپنا دوست رکھے گا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جو قوانینِ خداوندی سے سرکشی برتتے ہیں۔
ایمان کے معنی
اتنا ہی نہیں۔ عزیز سے عزیز دوست۔ قریبی سے قریبی رشتہ دار۔ بیوی بچے۔ مال و دولت۔ سامانِ زیست۔ متاعِ حیات۔ غرضیکہ دنیا کی کوئی چیز بھی‘ مومن کے نزدیک‘ ایمان اور اسلامی نظام کے مقابلہ میں عزیز نہیں ہو سکتی۔ یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ
وجۂ جاذبیت ہیں لیکن جب ان میں اور ایمان کے کسی تقاضے میں تصادم ہو‘ تو ان میں سے کسی شے کو بھی ایمانی تقاضے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے اور مومنین کا شعار۔ ان کے خدا کا حکم یہ ہے کہ: قُلْ إِن کَانَ آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَآؤُکُمْ وَإِخْوَانُکُمْ وَأَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا -(9:24) اے رسولﷺ! ان سے کہہ دو کہ اگر تمہارے ماں باپ۔ بہن بھائی۔ بیوی بچے۔ عزیز رشتہ دار۔ وہ مال و دولت جسے تم اتنی محنت سے کماتے ہو۔ وہ کاروبار جس کے مندا پڑ جانے سے تم خائف رہتے ہو اور وہ محلات (وِلاز) جو تمہیں اس قدر پسند ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی چیز أَحَبَّ إِلَیْْکُم مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہِ۔ تمہیں خدا اور اس کے رسول اور خدا کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہو گئی۔ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّیٰ یَأْتِیَ اللّہُ بِأَمْرِہِ ط۔ تو تم انتظار کرو۔ تاآنکہ خدا کا قانونِ مکافات تمہاری اس روش کا تباہ کن نتیجہ تمہارے سامنے لے آئے۔ تمہاری یہ روش مومنین کی روش نہیں۔ فاسقین کی ہو گی۔ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ-(9:24) اور خدا کا قانون یہ ہے کہ فاسقین پر۔۔۔ یعنی جو صحیح راستہ چھوڑ کر غلط راہوں پر چل نکلیں۔ کبھی کامیابیوں کی راہ کشادہ نہیں ہوتی۔
مال اور جان خُدا کے
مومن کی تو کیفیت یہ ہوتی ہے کہ اس نے اپنا مال اور جان‘ سب خدا کے ہاتھ بیچ دیے ہوتے ہیں۔ جس دن وہ خدا پر ایمان لاتا ہے خدا اس معاہدہ کا اعلان کر دیتا ہے کہ: إِنَّ اللّہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ -(9:111) سُن رکھو کہ اللہ نے مومنین کا جان اور مال‘ جنت کے عوض خرید لیا ہے۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ: یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ-(9:111) وہ خدا کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ پھر یا تو فاتح و منصور واپس لوٹتے ہیں اور یا میدانِ جنگ میں جان دے دیتے ہیں۔
مومنین کی صفات
ان مومنین کی صفات یہ ہیں کہ التَّاءِبُونَ۔ سفر حیات میں وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ ان کا قدم غلط سمت کی طرف اٹھ گیا ہے‘ وہ وہیں رُک جاتے ہیں اور جہاں سے قدم غلط اٹھا تھا وہاں واپس آکر صحیح راستے پر ہو لیتے ہیں۔ الْعَابِدُونَ۔ وہ قوانینِ خداوندی کی پوری پوری اطاعت کرتے ہیں۔ الْحَامِدُونَ۔ وہ انفس و آفاق کی ہر شے پر غور و فکر کرنے کے بعد علیٰ وجہ البصیرت اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کارگہ کائنات کی ایک ایک شے اپنے خالق کی حمد و ستائش کی منہ بولتی تصویر ہے۔ السَّاءِحُونَ۔ وہ اس مقصد کے لئے دنیا بھر کا سفر کرتے ہیں۔ الرَّاکِعُونَ السَّاجِدونَ۔ وہ ہمیشہ قانونِ خداوندی کے سامنے جھکے رہتے ہیں اور دل کے پورے جھکاؤ سے‘ اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ الآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاہُونَ عَنِ الْمُنکَرِ وہ ان باتوں کا حکم دیتے ہیں جنہیں قانونِ خداوندی صحیح تسلیم کرتا ہے اور ان سے روکتے ہیں جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے۔ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللّہِ۔ وہ ان تمام حدود کی نگہداشت کرتے ہیں جنہیں قانون خداوندی نے متعین کیا ہے‘ اور ان کے اندر رہتے ہوئے صحیح آزادی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ -(9:112) یہ ہیں وہ مومن جن کے لئے دنیا اور آخرت کی زندگی کی خوشگواریوں کی بشارتیں ہیں۔
مردوں اور عورتوں دونوں کی خصوصیات
یہ ہیں مختصر الفاظ میں‘ وہ صفات جن کے حامل انسان کو مومنؔ کہا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ان تمام صفات میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ قرآنِ کریم میں مومن کی کوئی ایک خصوصیت بھی ایسی نہیں جو صرف مردوں کے لئے مخصوص ہو اور اس میں عورتیں شامل نہ ہوں۔ اگرچہ خود لفظ ’’مومنین‘‘ کے اندر مرد اور عورتیں ازخود شامل ہیں لیکن قرآنِ کریم نے ایک مقام پر مومن مردوں اور مومن عورتوں کا ذکر اس طرح شانہ بشانہ کیا ہے کہ مصافِ زندگی میں دونوں‘ ایک ہی صف میں‘ ساتھ ساتھ چلتے صاف دکھائی دیتے ہیں۔ سورۂ احزاب کی آیت (33:35) کو دیکھئے۔ اس میں کس وضاحت اور صراحت سے کہا گیا ہے کہ اگر مردوں میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ قانونِ خداوندی کی اطاعت سے اپنی تکمیلِ ذات کر سکتے ہیں تو عورتوں میں بھی اس کی صلاحیت ہے (الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ) اگر مرد اس پارٹی (جماعت) کے رکن بن سکتے ہیں جو خدا کے قانون کے اٹل نتائج پر یقین رکھتے ہوئے امنِ عالم کی ذمہ دار ہو تو عورتیں بھی اس جماعت کی اسی طرح رکن ہو سکتی ہیں (الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ) اگر مردوں میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی استعداد کو اس طرح سنبھال کر رکھیں کہ ان کا استعمال صرف قانونِ خداوندی کے مطابق ہو تو یہی صلاحیت عورتوں میں بھی ہے (وَالْقَانِتِیْنَ وَالْقَانِتَاتِ) اگر مرد اپنے دعوٰئے ایمان کو اعمال سے سچ کر دکھانے کے اہل ہیں تو عورتیں بھی اس کے اہل ہیں (وَالصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقَاتِ) اگر مرد ثابت قدم رہ سکتے ہیں تو عورتیں بھی رہ سکتی ہیں (وَالصَّابِرِیْنَ وَالصَّابِرَاتِ) اگر مرد اس خصوصیت کے حامل ہو سکتے ہیں کہ جوں جوں ان کی صلاحیتیں بڑھتی جائیں وہ شاخ ثمردار کی طرح قانونِ خداوندی کی اطاعت میں اور جھکتے چلے جائیں تو یہی خصوصیت عورتوں میں بھی ہے۔ (وَالْخَاشِعِیْنَ وَالْخَاشِعَاتِ) اگر مردوں میں ایثار کا مادہ ہے تو عورتوں میں بھی ہے (وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ) اگر مرد اپنے آپ پر ایسا کنٹرول رکھ سکتے ہیں کہ انہیں جہاں سے روکا جائے وہ رک جائیں‘ تو عورتوں میں بھی اس کی صلاحیت ہے (وَالصَّاءِمِیْنَ وَالصَّاءِمَاتِ)۔ اگر مرد! اپنے جنسی میلانات کو ضوابط کی پابندی میں رکھ سکتے ہیں تو عورتیں بھی ایسا کر سکتی ہیں (وَالْحَافِظِیْنَ فُرُوجَہُمْ وَالْحَافِظَاتِ)۔ اگر مرد قانونِ خداوندی کو شعوری طور پر سمجھنے اور اسے ہر وقت پیشِ نظر رکھنے کے اہل ہیں تو عورتوں میں بھی اس کی اہلیت ہے (وَالذَّاکِرِیْنَ اللَّہَ کَثِیْراً وَالذَّاکِرَاتِ) جب یہ صلاحیتیں دونوں میں موجود ہیں تو ان کے نتائج بھی دونوں کے لئے یکساں طور پر موجود ہونے چاہئیں۔فلہٰذا نظامِ خداوندی میں دونوں کے لئے حفاظت کا سامان اور اجرِ عظیم موجود ہے ( أَعَدَّ اللَّہُ لَہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً)۔ سورۂ توبہؔ میں مومنین کی جن صفات کا ذکر کیا گیا ہے (اور جنہیں پہلے بیان کیا جا چکا ہے) ان میں ایک صفت السائحون بھی ہے۔ یعنی دنیا کا سفر‘ یا سیر و سیاحت‘ کرنے والے۔ عورت کے متعلق جو نظریہ ہمارے ذہنوں میں راسخ ہے‘ اس کے پیشِ نظر خیال گزر سکتا تھا کہ کم از کم اس صفت میں مومن عورتیں شریک نہیں ہوں گی۔ قرآنِ کریم نے سٰئحٰت -(66:5) کا ذکر خاص طور پر کر کے‘ اس غلط فہمی کا بھی ازالہ کر دیا اور اس کی وضاحت کر دی کہ اس صفت میں بھی مومن عورتیں مردوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔
***
اقامتِ صلوٰۃ و ایتائے زکوٰۃ
یہ ہیں وہ صفات و خصائص جن کے حامل افراد سے قرآن وہ امت تشکیل کرتا ہے جو تمام عالم انسانیت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَسَطاً لِّتَکُونُواْ شُہَدَاء عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْْکُمْ شَہِیْداً -(2:143) اس طرح ہم نے تمہیں ایک مرکزی امت بنا دیا۔ تاکہ تم عالم انسانیت کے اعمال کی نگرانی کرو (کہ وہ حق و انصاف پر قائم رہیں) اور تمہارا رسول تمہارے اعمال کی نگرانی کرے کہ تم نظامِ خداوندی کے مطابق چلتے رہو۔ دوسری جگہ ہے: کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ۔-(3:110) تم ایک بہترین قوم ہو جسے نوعِ انسان کی بھلائی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔۔۔ یہ بھلائی کیا ہے؟ یہ کہ: تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ -(3:110) تم ان باتوں کا حکم دیتے ہو جنہیں وحی خداوندی مستحسن قرار دیتی ہے اور ان سے روکتے ہو جنہیں وہ ناپسندیدہ ٹھہراتی ہے۔ یعنی یہ لوگ (مومنین) پہلے اپنی زندگی وحئ خداوندی کے قالب میں ڈھالتے ہیں۔ پھر ایسا نظام قائم کرتے ہیں جس سے دوسرے لوگ بھی وحی کا اتباع کرتے جائیں۔۔۔ اسے قرآن کی اصطلاح میں نظامِ صلوٰۃ کہتے ہیں اور مقصد اس تگ و تاز سے یہ ہے کہ تمام افرادِ انسانیہ کو وہ ذرائع اور سامان میسر آتا رہے جس سے اس کی طبیعی زندگی اور ذات کی نشوونما ہوتی چلی جائے۔ اسے ایتائے زکوٰۃ کہتے ہیں۔ یعنی نوعِ انسان کو سامانِ نشوونما بہم پہنچانا۔ چنانچہ قرآنِ کریم میں جماعتِ مومنین کے ان ہر دو فرائض (ذمہ داریوں) کو بار بار دہرایا گیا ہے۔۔۔ وَیُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ -(9:71) حتیٰ کہ ان کی مملکت اور حکومت کی غرض و غایت بھی یہی بتائی گئی ہے۔ سورۂ حج میں ہے۔ الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ وَلِلَّہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِ -(22:41) یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر انہیں ملک میں اختیار و اقتدار حاصل ہو گیا تو یہ نظامِ صلوٰۃ قائم کریں گے اور نوعِ انسان کی نشوونما کا انتظام کریں گے۔ ان باتوں کا حکم دیں گے جنہیں قرآن صحیح تسلیم کرتا ہے اور ان سے روکیں گے جنہیں وہ ناپسندیدہ قرار دیتا ہے اور ان کے تمام معاملات منشائے خداوندی کے مطابق طے ہوں گے۔ اس مقام پر‘ ایک نکتہ کی وضاحت ضروری نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ خیال عام کیا جاتا ہے کہ اسلام میں‘ عورتوں کو نظامِ مملکت میں شریک نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نظریہ قرآنِ کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔ جو آیت ابھی ابھی آپ کے سامنے آئی ہے اس میں اسلامی حکومت کا فریضہ
امر بالمعروف و نہی عن المنکر بتایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر اس کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ یہ فریضہ مردوں اور عورتوں دونوں کا ہے۔ تنہا مردوں کا نہیں۔ سورۂ توبہ میں ہے۔ وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ یَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ۔۔۔ -(9:71) مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ ان کا فریضہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
شمشیر زن مومن
بہرحال‘ کہا یہ جا رہا تھا کہ جماعتِ مومنین کا فریضہ ہے کہ وہ دنیا سے برائیوں کی روک تھام کا انتظام کریں۔ لیکن یہ روک تھام اندھی قوت کے زور سے نہیں ہو گی۔ وہ بھلائیوں کو اس قدر عام کرتے چلے جائیں گے کہ برائیاں خود بخود اپنی جگہ چھوڑتی جائیں‘ جس طرح تاریکی دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ روشنی لے آیئے۔ وَیَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّءَۃَ -(28:54) البتہ جو لوگ نظام حق و صداقت کے خلاف سرکشی پر اتر آئیں اور ظلم و استبداد سے کسی طرح باز ہی نہ آئیں‘ تو خلقِ خدا کو ان کے جور و ستم سے محفوظ رکھنے کے لئے‘ قوت کا استعمال ناگزیر ہو گا۔ یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے قرآنِ کریم نے کہا ہے کہ: لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج-(57:25) ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا کہ وہ لوگوں کو علم و بصیرت کی رُو سے حق کی دعوت دیں۔ پھر ان کے ساتھ ضوابط قانون بھی نازل کئے کہ دنیا میں عدل قائم رکھا جا سکے۔ لیکن جو لوگ نہ دلائل و براہین کی رو سے مانیں۔ نہ قانونِ عدل و انصاف کی پابندی اور احترام کریں‘ تو ان کے لئے: وَأَنزَلْنَا الْحَدِیْدَ -(57:25) ہم نے شمشیرِ خاراشگاف بھی نازل کی ۔ جماعتِ مومنین‘ شمشیر کا استعمال مظلوم کی حمایت اور ظالم کے ظلم کی مدافعت کے لئے کرتی ہے۔
تعاون
اس مقصد کے لئے اگر دنیا کی کوئی اور قوم کسی قسم کی کوشش کرتی ہے تو جماعتِ مومنین ان کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ لیکن غلط کاموں میں کسی کا ساتھ نہیں دیتی۔ وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ -(5:2) ان کا شعار ہوتا ہے۔ اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ: مَّن یَشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَکُن لَّہُ نَصِیْبٌ مِّنْہَا وَمَن یَشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّءَۃً یَکُن لَّہُ کِفْلٌ مِّنْہَا -(4:85) جو کسی اچھے کام میں دوسرے کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے تو اس کی خوشگوار نتائج میں اس کا بھی حصہ ہوتا ہے اور جو کسی خراب کام میں کسی کا ساتھ دیتا ہے‘ تو اس کے مضر نتائج کی ذمہ داری اس پر بھی عائد ہوتی ہے۔
ربط باہمی
یہ ہیں وہ بلند مقاصدِ حیات جن کے لئے جماعتِ مومنین کے افراد ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے‘ زندگی کی متلاطم ندیوں کو ’’مردانہ وار‘‘ پار کئے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ انہیں تعلیم ہی یہ دی گئی ہے کہ: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ-(3:200) تم اپنے مسلک پر نہایت استقامت سے جمے رہو اور ایک دوسرے کی استقامت کا موجب بنو۔ ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ کر رہو اور ہر قدم پر قانونِ خداوندی کی نگہداشت کرو۔ یہی وہ روش ہے جس سے تمہیں سفرِ حیات میں کامیابی حاصل ہو گی۔ اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر‘ کَأَنَّہُم بُنیَانٌ مَّرْصُوصٌ-(61:4) گویا ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے کہ حوادثِ زمانہ کی سرکش موجیں اس سے آکر ٹکرائیں تو اپنا سر پھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں ان کے اس ارتباطِ باہمی اور باہمدگر پیوستگی کا ذریعہ‘ تمسک بالقرآن (خدا کی کتاب کے ساتھ وابستگی) ہوتا ہے کہ ان سے کہا گیا ہے کہ: وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّہِ جَمِیْعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ -(3:103) تم خدا کی کتاب کے ساتھ‘ سب کے سب مل کر‘ پوری مضبوطی سے وابستہ رہو اور آپس میں تفرقہ پیدا مت کرو۔ اس لئے کہ باہمی تفرقہ۔۔۔ امت کا فرقوں میں بٹ جانا۔۔۔ توحید نہیں‘ شرک ہے۔
تفرقہ شرک ہے
وَلَا تَکُونُوا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَO مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوا دِیْنَہُمْ وَکَانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْْہِمْ فَرِحُونَ -(30:31) دیکھنا! تم کہیں (اسلام لانے کے بعد پھر) مشرک نہ بن جانا۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے دین میں فرقے پیدا کر لئے اور خود بھی ایک گروہ بن گئے۔ اس سے کیفیت یہ ہو جاتی ہے کہ ہر فرقہ سمجھتا ہے کہ میں حق پر ہوں (اور باقی سب باطل پر ہیں) اور یوں امت کی اجتماعیت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔
نزولِ ملائکہ
اس کے برعکس امت کی وحدت اور استقامت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر رحمتوں کے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ جو انہیں دنیا اور آخرت میں زندگی کی خوشگواریوں کی بشارتیں دیتے ہیں۔ إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَاءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ۔ یہ واقعہ ہے کہ جو لوگ اس حقیقت پر ایمان لاتے ہیں کہ ہمارا نشوونما دینے والا اللہ ہے اور پھر اس دعویٰ پر جم کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں جو ان سے کہتے ہیں کہ تم نہ کسی قسم کا خوف کھاؤ۔ نہ افسردہ خاطر ہو اور اس جنتی زندگی کی خوشخبری لو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ۔ ہم دنیا میں بھی تمہارے رفیق اور ساتھی ہیں اور آخرت کی زندگی میں بھی۔ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ أَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُونَ۔ -(41:30-31) تمہیں‘ دنیا اور آخرت میں‘ جو تمہارا جی چاہے گا ملے گا۔ جو مانگو گے‘ پاؤ گے۔ ہر قسم کی سربلندیاں اور سرفرازیاں تمہارے حصے میں آئیں گی اور یہ سب تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوں گی۔۔۔ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ أُورِثْتُمُوہَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُون-(7:43) یہ وہ جنت ہے جس کے تم‘ اپنے اعمال کی وجہ سے‘ مالک بنائے گئے ہو۔
نیکی کا صحیح مفہوم
یہ ہیں وہ خصوصیات جن کے حامل انسانوں کو مومنؔ کہا گیا ہے۔ انہیں زندگی کی جن خوشگواریوں اور سربلندیوں کی بشارت دی گئی ہے‘ وہ انہی خصوصیات کا فطری نتیجہ ہوتی ہیں۔ محض مومنؔ کہلانے اور مسلمان نام رکھا لینے سے یہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ لَّیْْسَ بِأَمَانِیِّکُمْ وَلا أَمَانِیِّ أَہْلِ الْکِتَابِ-(4:123) یہ نتائج نہ تمہاری خوش فہمیوں سے حاصل ہو سکتے ہیں نہ ان اہلِ کتاب کی خالی تمناؤں سے۔ یہ تو صرف ان خصوصیات کے پیدا کرنے سے حاصل ہوں گے جنہیں مومنین کی صفات کہہ کر پکارا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کسی میں یہ خصوصیات موجود نہ ہوں‘ اور وہ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ جیسے ’’دینی اعمال‘‘ پر بھی محض میکانکی طور پر کاربند ہو‘ تو بھی یہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ: لَّیْْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔ نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کی طرف کرتے ہو یا مغرب کی طرف۔ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلآءِکَۃِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّیْنَ۔ اس کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ تم ان بلند حقیقتوں پر علیٰ وجہ البصیرت یقین رکھو جنہیں اجزائے ایمان کہا گیا ہے۔۔۔ یعنی خدا اور اس کے قانونِ مکافات پر ایمان۔ زندگی کے تسلسل پر ایمان۔ وحی کی رو سے دیئے ہوئے ضابطۂ قوانین پر ایمان۔ انبیاء اور ملائکہ پر ایمان۔۔۔ نیکی اس کی ہے جو ان حقیقتوں پر یقین محکم رکھے اور پھر وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآءِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ۔ مال و دولت کی محبت کے باوجود اسے دوسروں کی پرورش کے لئے دے دے۔ وہ رشتے دار ہوں یا ایسے لوگ جو معاشرہ میں تنہا رہ جائیں یا وہ لوگ جن کا چلتا ہوا کاروبار رک جائے یا ان میں کام کاج کی استطاعت نہ رہے۔ یا ایسے مسافر جو زادِ سفر سے محروم رہ جائیں یا وہ لوگ جن کی کمائی ان کی ضروریات کے لئے کافی نہ ہو یا وہ دوسروں کے پنجۂ استبداد میں گرفتار ہوں۔ ان مقاصد کے لئے مال و دولت کا پیش کر دینا یہ نیکی ہے۔ مختصر الفاظ میں نیکی یہ ہے کہ:
وَأَقَامَ الصَّلاۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ۔ ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں تمام افرادِ معاشرہ قوانینِ خداوندی کا اتباع کریں اس وقت فریضہ صلوٰۃ کی پابندی کریں اور نوعِ انسان کی پرورش کا سامان مہیا کریں۔ وَالْمُوفُونَ بِعَہْدِہِمْ إِذَا عَاہَدُواْ۔ نیکی ان کی ہے جو اپنے
عہد و پیمان کا احترام کریں اور قول اقرار کے پکے ہوں۔ وَالصَّابِرِیْنَ فِیْ الْبَأْسَاء والضَّرَّاء وَحِیْنَ الْبَأْسِ۔ اور جب مشکلات کا سامنا ہو تو نہایت ثابت قدمی سے ان کا مقابلہ کریں۔ أُولَءِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَأُولَءِکَ ہُمُ الْمُتَّقُونَ-(2:177) O یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دعویٰ ایمان کو اپنے اعمال سے سچا ثابت کر دکھاتے ہیں اور یہی ہیں وہ جو متقی کہلانے کے مستحق ہیں۔ نہ وہ جو محض رسمی طور پر نماز روزہ کی پابندی کر کے اس فریب میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم پکے مومن ہیں اور بڑے نیک کام کر رہے ہیں۔
خیرات کے کام
یہی نہیں۔ بلکہ ایسے خیراتی کام جنہیں عام طور پر ’’کارِخیر‘‘ سمجھا جاتا ہے‘ وہ بھی نظامِ خداوندی کے قیام کے لئے جدوجہد کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سورۂ توبہ میں ہے: أَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَجَاہَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ حاجیوں کے لئے سبیلیں لگا دینے والا یا خانہ کعبہ کی زیبائش و آرائش اور آباد کاری کے کاموں میں حصہ لینے والا‘ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو خدا اور اس کے قانونِ مکافات اور حیاتِ اخروی پر ایمان رکھے اور نظامِ خداوندی کے قیام کے لئے مسلسل جدوجہد کرتا رہے!تم اپنی خوش عقیدگی کی بناء پر کچھ ہی کیوں نہ سمجھو۔ لاَ یَسْتَوُونَ عِندَ اللّہِ۔ میزانِ خداوندی میں یہ دونوں کبھی ہم وزن نہیں ہو سکتے۔ ایسا سمجھنا بڑی زیادتی ہے۔ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْن-(9:19) O اور خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ اس قسم کی زیادتی کرنے والوں پر کامیابی کی راہیں کبھی نہیں کھلا کرتیں۔ یہودیوں کے متعلق قرآن نے کہا ہے کہ وہ اسی قسم کی خود فریبی میں مبتلا تھے۔ انہوں نے معاشرہ کا نظام ایسا قائم کر رکھا تھا جس میں کمزور‘ غریب‘ ناتواں افراد‘ اپنا گھر بار چھوڑ کر باہر نکل جانے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ جب وہ اس طرح باہر نکل کر‘ غیر محفوظ ہو جاتے اور دوسروں کے چنگل میں پھنس جاتے تو پھر وہی ان کے ابنائے وطن‘ جن کی چیرہ دستیوں سے تنگ آکر وہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے‘ خیرات کے پیسوں سے ان کا فدیہ ادا کرتے اور سمجھتے کہ ہم بڑا ثواب کا کام کر رہے ہیں۔ وَہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْْکُمْ إِخْرَاجُہُمْ-(2:85) حالانکہ ایسا نظام قائم کرنا جس میں معاشرہ کے غریب اور کمزور افراد‘ مظلومیت کا شکار ہو جائیں‘ ایسا جرمِ عظیم ہے جس کا کفارہ اس قسم کے خیرات کے کام کبھی نہیں بن سکتے۔ جماعتِ مومنین اس قسم کی خود فریبی کا شکار نہیں ہوتی۔ وہ نظام ایسا قائم کرتے ہیں جس میں اس قسم کے انفرادی خیراتی کاموں کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ قرآن تسلیم کرتا ہے کہ اہلِ کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو انفرادی طور پر دیانتدار ہیں لیکن اس کے باوجود وہ انہیں نظامِ خداوندی کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لئے کہ ان کا نظامِ معاشرہ اس قسم کا ہوتا ہے جس میں ان کی انفرادی نیکیاں خوشگوار نتائج پیدا نہیں کر سکتیں۔ دیکھئے قرآن اس حقیقت کو کیسے واضح اور بلیغ انداز میں پیش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ: وَمِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْہُ بِقِنطَارٍ یُؤَدِّہِ إِلَیْْکَ وَمِنْہُم مَّنْ إِن تَأْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لاَّ یُؤَدِّہِ إِلَیْْکَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَیْْہِ قَآءِماً۔ ان اہلِ کتاب میں وہ بھی ہے جس کے پاس اگر چاندی سونے کا ڈھیر بھی بطور امانت رکھ دیا جائے تو وہ اسے جوں کا توں واپس کر دے اور ایسا بھی کہ اگر اس پر ایک روپے کا بھی اعتماد کرو تو وہ اسے کبھی واپس نہ کرے بجز اس کے کہ تم اس کے سر پر ڈنڈا لے کر سوار رہو۔ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُواْ لَیْْسَ عَلَیْْنَا فِیْ الأُمِّیِّیْنَ سَبِیْلٌ۔ یہ اس لئے کہ ان کا نظامِ معاشرہ قومی عصبیت کی بنیادوں پر قائم ہے جس میں یہ عقیدہ دل کی گہرائیوں میں راسخ کر دیا جاتا ہے کہ تم دوسری اقوام کے لوگوں کے ساتھ جو جی میں آئے کرو۔ اس سے تم پر کوئی الزام نہیں ہو گا اور تماشا یہ کہ ان کے مذہبی پیشوا انہیں یہ بتاتے ہیں کہ یہ شریعتِ خداوندی کے عین مطابق ہے حالانکہ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُونَ-(3:74) O یہ خدا کے خلاف صریح کذب و افترا ہے اور ایسا کہنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔
قرآنِ کریم نے مثال تو یہودیوں کی دی ہے کہ وہ ایسا معاشرہ قائم کرتے تھے جس میں ان کے کمزور اور غریب بھائی گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور ہو جائیں اور اس طرح جب وہ دوسروں کے ہاتھوں گرفتار ہو جاتے تھے تو انہیں چھڑانے کے لئے فنڈ اکٹھا کرتے تھے اور اسے بڑا ثواب کا کام سمجھتے تھے لیکن اس سے اس نے اصول بہت بلند پیش کیا ہے یعنی ایسا معاشرہ قائم کرنا جس میں غریب لوگ محتاج سے محتاج تر ہوتے جائیں اور اس کے بعد ان کی طرف خیرات کے چند ٹکے پھینک کر یہ سمجھنا کہ ہم نے بڑا ثواب کا کام کیا ہے جرمِ عظیم ہے: فَمَا جَزَاء مَن یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرَدُّونَ إِلَی أَشَدِّ الْعَذَابِ۔۔۔-(2:85) جو قوم بھی ایسا کرے گی اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہو گا کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہو گی اور آخرت میں بھی سخت عذاب کی مستحق۔
***
مومن اور مسلم کا فرق
المختصر‘ یہ ہیں وہ خصوصیات جن کے حاملین کو مومنؔ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے مومن اور مسلمؔ کے الفاظ اکثر مقامات پر ہم معنی استعمال کئے ہیں لیکن ایک جگہ ایسی تشریح بھی کی گئی ہے جس سے‘ بعض گوشوں میں‘ ان دونوں کا فرق سامنے آجاتا ہے۔ سورۂ حجرات میں ہے: قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا۔ یہ بدوی قبائل‘ جو اسلامی مملکت کے قیام کے بعد‘ مسلمان ہوئے ہیں‘ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں۔ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِن قُولُوا أَسْلَمْنَا۔ ان سے کہو کہ یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور اس طرح مومن بن گئے ہیں بلکہ یہ کہو کہ ہم اس مملکت کے سامنے جھک گئے ہیں: وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیْمَانُ فِیْ قُلُوبِکُمْ۔ ابھی تک ایمان تمہارے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔۔۔ (49:14)۔ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِیْنَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَجَاہَدُوا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ أُوْلَءِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ-(49:15) O مومن کہلانے کے مستحق وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر‘ دل کی کامل رضامندی سے ایمان لاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں کسی قسم کے شک و شبہ کا گزر تک نہیں ہوتا۔ پھر وہ‘ اپنی جان اور مال سے‘ خدا کی راہ میں جہاد کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہیں وہ جو اپنے دعوےٰ ایمان میں سچے ہوتے ہیں۔
نفسیاتی تبدیلی
اس سے ہمارے سامنے مسلم اور مومن کا فرق آجاتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ مسلم وہ ہے جس سے احکامِ خداوندی کی اطاعت‘ قانون کے ذریعے جبراً کرائی جاتی ہے اور ان احکام کی اطاعت کا جذبہ جس کے دل کی گہرائیوں سے ابھرتا ہے اسے مومنؔ کہتے ہیں۔ مومن کی ذات (Personality) کی نشوونما اس طرح ہو جاتی ہے کہ وہ تمام صفات و خصوصیات جن کا ذکر گزشتہ اوراق میں کیا گیا ہے‘ اس کے مختلف گوشے (Facets) بن جاتے ہیں‘ اس لئے وہ ان صفات کا فطری مظہر ہوتا ہے‘ جس طرح سورج‘ روشنی اور حرارت کا فطری مظہر ہے۔ اسلامی معاشرہ کے اندر اگر ’’مسلم‘‘ ان قوانین کی اطاعت سے ان کے اثرات کو اپنے دل میں جذب کرتا جاتا ہے‘ اور یوں اس کی ذات کی نشوونما ہوتی چلی جاتی ہے۔ تو وہ بھی مقامِ مومن تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے جہاں اعرابؔ سے کہا گیا کہ وہ ابھی اپنے آپ کو مومنؔ نہ کہیں کیونکہ ہنوز ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں نہیں اترا‘ وہاں ان سے یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ: وَإِن تُطِیْعُوا اللَّہَ وَرَسُولَہُ لَا یَلِتْکُم مِّنْ أَعْمَالِکُمْ شَیْْئاً إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ-(49:14) O اگر تم نظامِ خداوندی کی اطاعت کرتے جاؤ گے تو تمہارے اعمال میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ انکے نتائج مرتب ہوتے چلے جائیں گے۔ اس طرح تخریبی عناصر سے تمہاری ذات کی حفاظت ہو جائے گی اور اس کی نشوونما کا سامان بھی تمہیں ملتا جائے گا۔ بشرطیکہ تم نے یہ اطاعت‘ محض رسمی طور پر نہ کی۔ اگر ایسا کرو گے تو مسلم کے مسلم ہی رہو گے۔ مومن نہیں بن سکو گے اسلامی نظام درحقیقت‘ اس تبدیلی سے قائم ہوتا ہے جو جماعتِ مومنین کے قلب میں پیدا ہوتی ہے۔ اس قسم کی نفسیاتی تبدیلی کے بغیر‘ نظامِ خداوندی متشکل ہی نہیں ہو سکتا۔ إِنَّ اللّہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ(13:11)۔۔۔ یعنی خدا کسی قوم کی حالت میں تبدیلی نہیں کرتا جب تک اس قوم کے اندر نفسیاتی تبدیلی نہ پیدا ہو جائے۔۔۔ یہ ایسی سنت اللہ (خدا کا اٹل قانون) ہے جس میں کبھی تغیر نہیں ہوتا۔ جماعتِ مومنین‘ اسی نفسیاتی تبدیلی کا مظہر ہوتی ہے اور یہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے اس قرآن کے مطابق زندگی بسر کرنے سے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ ؂
چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود
جاں چوں دیگر شد جہاں دیگر شود
(یہ قرآن) جب ’’جان‘‘ کے اندر (سرایت کر) جاتا ہے تو ’’جان‘‘ وہ جان نہیں رہتی اَور ہو جاتی ہے۔ جب ’’جان‘‘ اور ہو جاتی ہے تو جہان بھی اَور ہو جاتا ہے۔ (ترجمہ از سلیم)
اس حقیقت کو ایک بار پھر سمجھ لینا چاہئے کہ یہ بات قرآن کریم کی صحیح تعلیم اور اس کے مطابق تربیت سے پیدا ہوتی ہے ایک چیز ہے اسلام کی دعوت کا فکری طور پر سمجھنا اور اس طرح ذہنی طور پر اس کی صداقت کا معترف ہو جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے‘ کہ انسان کے دماغ میں اس دعوت کے متعلق شکوک و شبہات پیدا نہیں ہوتے اور اس کے خلاف منطقی دلائل اور فلسفیانہ اعتراضات اسے ڈگمگا نہیں دیتے لیکن ایمان کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے‘ جب اس دعوت کے کسی تقاضے (یعنی مستقل قدر) اور انسان کی طبیعی زندگی کے کسی تقاضے میں (خواہ وہ محض جذباتی بات ہو یا محسوس مفاد کا سوال) تصادم ہو اور وہ طبیعی زندگی کے تقاضے پر‘ مستقل قدر کے تقاضے کو ترجیح دے۔ یہ ہے وہ ایمان جو دل کی گہرائیوں میں جاگزیں ہوتا ہے۔ اسی کے حاملین کو مومن کہتے ہیں جن کے متعلق خدا کا ارشاد ہے کہ: أُولَءِکَ عَلَیْْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ وَأُولَءِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُونَ-(2:157) O
میں اس حقیقت کو پھر دہرا دینا چاہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ ابھی ابھی کہا ہے اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ قرآنِ کریم نے مومن اور مسلم میں مستقل طور پر یہ تفریق کی ہے۔ بالکل نہیں۔ اس نے مومن اور مسلم کے الفاظ مرادف معنوں میں بھی استعمال کئے ہیں اور مومنوں کی عظیم ترین شخصیتوں۔۔۔ حتیٰ کہ حضرات انبیاء کرامؑ منجملہ نبی اکرمﷺ۔۔۔ کو مسلمؔ کہہ کر پکارا ہے۔ اس نے فرق یہ بتایا ہے کہ جو لوگ کسی مصلحت کی خاطر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جائیں یا محض مسلمانوں کے گھر پیدا ہو جانے سے مسلمان کہلائیں۔ انہیں اپنے آپ کو مومن نہیں کہنا چاہئے تاآنکہ ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں پیوست نہ ہو جائے۔ ورنہ‘ عام معنوں میں‘ مومن اور مسلم دونوں وہ ہیں: مَنْ أَسْلَمَ وَجْہَہُ لِلّہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَلَہُ أَجْرُہُ عِندَ رَبِّہِ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ(2:112) O جنہوں نے اپنی تمام خواہشات اور توجہات کو قوانینِ خداوندی کے تابع رکھا اور اس طرح نہایت متوازن زندگی بسر کی۔ سو اس کے اعمال کا اجر اس کے نشوونما دینے والے کے پاس ہے اور اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ انہیں نہ کسی قسم کا خوف ہو گا نہ حزن۔ لہٰذا‘ مومن اور مسلم وہ ہے جسے نہ خارج سے کسی قسم کے خطرہ کا خوف ہو اور نہ داخلی طور پر اس کے دل میں یاس و حزن کا گزر ہو۔ یہ ہے مقامِ مومن اور اندازِ مسلم۔ علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں ؂
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں‘ کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
قدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان قیامت میں بھی میزان
جس سے جگر لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
(ضربِ کلیم)

2,089 total views, 8 views today

(Visited 892 times, 32 visits today)

قُربانی ۔ پرویز – اِدارہ طلوعِ اِسلام

طلوعِ اِسلام میں قربانی کے متعلق جو کچھ شائع ہوتا رہا‘ قارئین کی نظروں سے گذر چکا ہے۔ اس کے جواب میں جو کچھ دیگر جرائد و رسائل میں شائع ہوا وہ بھی انہوں نے دیکھ لیا ہو گا۔ جب یہ چیزیں ہمارے سامنے آئی تھیں تو ہم نے محسوس کیا تھا کہ اس موضوع پر ذرا تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ پھر قربانی کی عید قریب آرہی ہے‘ اس مسئلہ سے متعلق استفسارات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سے تفصیلی گفتگو کی اہمیت اور بھی نمایاں طور پر سامنے آگئی ہے۔
پہلے یہ متعین کر لیجئے کہ مسئلہ زیر غور کیا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ:
(i) حج کے موقع پر حاجی مکہ معظمہ میں جانور ذبح کرتے ہیں جسے قربانی کہا جاتا ہے۔
(ii) ایک ایک حاجی متعدد جانور ذبح کرتا ہے۔ ان جانوروں کو گڑھے کھود کھود کر دبانا پڑتا ہے۔
(iii) عید کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان اپنی اپنی جگہ پر جانور ذبح کرتے ہیں۔ اسے بھی قربانی کہا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بات کا حکم قرآن کریم سے بھی ملتا ہے یا یہ چیزیں یونہی رسماً چلی آرہی ہیں؟
***
اصل سوال تک پہنچنے سے پہلے‘ ایک چیز تمہیداً عرض کر دینا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں‘ مختلف وجوہات کی بنا پر صورت یہ پیدا ہو چکی ہے کہ آپ ’’مذہب‘‘ سے متعلق کوئی بات‘ فلسفہ‘ منطق‘ تصوف‘ تفاسیر‘ روایات وغیرہ میں سے کسی کے حوالہ سے بھی کریں‘ اس پر کوئی معترض نہیں ہو گا لیکن جہاں آپ نے کسی موضوع کے متعلق یہ کہا کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ قرآن اس کی بابت کیا کہتا ہے تو اس کے سنتے ہی اس قسم کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں گویا آپ نے الحاد اور بے دینی کی کوئی بدترین بات کہہ دی۔ ہم ’’مذہب‘‘ کے معاملہ میں یہودیوں کے افسانے‘ قصہ گوؤں کی داستانیں‘ یونانی فلسفہ کی قیاس آرائیاں‘ مجوسیوں کی آتش نوائیاں‘ ویدانت کے مہلات‘ برہمو سماجی قسم کے خرافات‘ حتیٰ کہ کسی مجذوب کی بڑ تک سننا تو گوارا کر لیں گے اور ان لغویات میں معانی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن جونہی کسی نے کہا کہ آؤ دیکھیں‘ اس بارے میں قرآن کی کیا تعلیم ہے‘ تو ہم کوشش کریں گے کہ کوئی اس کی سننے نہ پائے‘ کیونکہ اس سے ایمان کی خرابی کا خطرہ اور عاقبت برباد ہو جانے کا اندیشہ محسوس ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم متعدد بار لکھ چکے ہیں‘ یہ نتیجہ ہے اس منظم سازش کا جسے عجمی عناصر‘ اسلام سے اپنا انتقام لینے کے لئے‘ روبعمل لائے اور جس سے ہوا یہ کہ (اقبال کے الفاظ میں)
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امّت روایات میں کھو گئی
رفتہ رفتہ مسلمانوں کو قرآن سے اس قدر چِڑ ہو گئی کہ ان کے نزدیک خالص قرآن کی طرف دعوت‘ الحاد اور زندیقیت کے مرادف قرار پا گئی۔ اس سے بڑا انقلاب سورج کی آنکھ نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ ایسی کامیاب سازش آسمان کے تاروں کی نگاہوں سے گذری ہو گی کہ جس کی رو سے ایک قوم اپنی آسمانی کتاب پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھے لیکن جب یہ کہا جائے کہ اپنے معاملات میں اس کتاب کو حَکم قرار دو تو ایسا کہنے والے کو گردن زدنی اور کشتنی قرار دے دیا جائے۔ ہماری بدقسمتی سے ہزار برس سے ہماری مساجد کے منبر اور خانقاہوں کے حجرے‘ نادانستہ طور پر اس سازش کی آماجگاہ بنے چلے آرہے ہیں اور اپنی سادہ لوحی سے اس سازش کو محکم سے محکم تر بنانے کی ہر کوشش کو ’’دین کی خدمت‘‘ تصور کر کے امت سے اس کے اجر کا مطالبہ کرتے ہیں اور فریب خوردہ امت اس مطالبہ کے پورا کرنے میں سعادتِ دارین محسوس کرتی ہے۔ اس قسم کی سادہ لوحی کی مثال تاریخ کے صفحات میں شاید ہی کہیں اور مل سکے۔
بناء بریں جو لوگ ابھی تک (دانستہ یا نادانستہ) اس سازش کے علمبردار یا اس کے دامِ فریب میں گرفتار ہیں‘ ان سے تخاطب بیکار ہے۔ لیکن جو سعید روحیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو قیامت تک محفوظ رکھنے کا ذمہ اس لئے لیا تھا کہ اسے قیامت تک مسلمانوں کا ضابطۂ حیات بننا تھا‘ ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ قرآن کا اس باب میں کیا حکم ہے اس تفصیلی گفتگو کا محرک یہی جذبہ ہے۔
***
سوال آپ کے سامنے آچکا۔ اب دیکھئے کہ اس باب میں قرآن کیا کہتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ قرآن نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے لئے کہیں ’’قربانی‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ نہ ہی اس نے اسے خاص طور پر قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔1؂ یہ تصور کہ جانوروں کے خون بہانے سے خدا خوش ہو جاتا ہے اس لئے قربانی وجۂ تقربِ خداوندی ہوتی ہے‘ غیر قرآنی تصور ہے۔ آج ہمارے ہاں قربانی کے ساتھ یہی تصور وابستہ ہے اور یہ اسی سازش کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے اور جس نے اسلام جیسے زندگی بخش نظام حیات کو محض رسومات کا مجموعہ بنا چھوڑا ہے۔
قرآن جس تمدنی نظام (Social Order) کی تشکیل چاہتا ہے اس کا نقطۂ آغاز الصلوٰۃ ہے اور منتہیٰ حج۔ یعنی ملت کی چھوٹی چھوٹی وحدتوں (Units) کی صحیح تعمیر سے شروع کر کے‘ پوری کی پوری ملت کو ایک مرکزِ وحدانیت پر جمع کرنا‘ انہیں قوانینِ خداوندی کے مطابق چلانا اور اس کے بعد اس ضابطہ حیات کو ساری دنیا میں نافذ کرنے کا ذریعہ بنانا۔ حج‘ ملت کے اس عظیم القدر اجتماع کا نام ہے جس میں قرآنی نظام حیات کے پروگرام پر غور و خوض کر کے اسے نافذ العمل بنانے کی تراکیب کو سوچا جاتا ہے۔ اس اجتماع کا مرکز ’’بیت الحرام‘‘ (خانہ کعبہ) ہے جو ملتِ اسلامیہ کا مرکزِ محسوس ہے۔ اس عظیم الشان اجتماع کو کامیاب بنانے میں ہر کوشش مبارک اور ہر اقدام مسعود ہے۔ قرآن کریم میں جانوروں کے ذبح کرنے کا ذکر اسی اجتماع کے سلسلہ میں آیا ہے اور وہ آیات حسب ذیل ہیں۔ (ان آیات پر الگ الگ نمبر بھی دے دیئے گئے ہیں تاکہ آئندہ حوالہ میں سہولت ہو۔ نیز ان کا ترجمہ مروجہ ترجموں کے مطابق ہی کر دیا گیا ہے تاکہ یہ اعتراض نہ پیدا کر دیا جائے کہ ہم نے (خدانکردہ) اپنے مطلب کے مطابق معانی پیدا کرنے کے لئے ترجمہ کچھ سے کچھ کر دیا ہے)۔
سورۂ الحج میں ہے:
(1) وَاَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَاْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍO لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَی مَا رَزَقَہُم مِّن بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاءِسَ الْفَقِیْرَ -(22:27-28)
او ر لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز رستوں سے پہنچی ہونگی۔ تاکہ لوگ اپنے فوائد کے لئے آموجود ہوں اور تاکہ ایام مقررہ میں ان چوپاؤں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کئے ہیں۔ سو جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلاؤ۔
ان جانوروں کے متعلق آگے چل کر یوں ارشاد ہے۔
(2) لَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ اِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَا اِلَی الْبَیْْتِ الْعَتِیْقِ -(22:33)
ان جانوروں میں تمہارے لئے ایک مدتِ معینہ تک فائدہ اٹھانا ہے۔ اس کے بعد ان کے حلال کرنے کی جگہ بیت عتیق (خانہ کعبہ) کے قریب ہے۔
اس سے آگے ہے:
(3) وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُم مِّن شَعَاءِرِ اللَّہِ لَکُمْ فِیْہَا خَیْْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْْہَا صَوَافَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا فَکُلُوا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَلِکَ سَخَّرْنَاہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ -(22:36)
اور قربانی کے اونٹوں1؂ کو ہم نے اللہ کے دین کی یادگار 2؂ بنایا ہے ان جانوروں میں تمہارے لئے (اور بھی) فائدے ہیں۔ سو تم انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لیا کرو۔ پس جب وہ کسی کروٹ گر پڑیں تو تم خود بھی کھاؤ اور سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے محتاج کو بھی کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔
اور اس کے بعد ہے:
(4) لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُمْ کَذَلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ-(22:37)
اللہ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون۔ ولیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس پر جس کی اس نے تمہیں ہدایت کی ہے اور محسنین کے لئے بشارت ہے۔
یہ سورۂ حج کی آیات ہیں۔ انہیں دیکھئے اور پھر غور کیجئے کہ یہ مسئلہ پیش نظر کے متعلق کس قدر صاف اور واضح ہیں۔
آیت (1) میں سلسلۂ کلام کا آغاز ہی اعلانِ حج سے ہوتا ہے اور اسی ضمن میں فرمایا ہے کہ جانوروں کو ذبح کرو اور ان میں سے خود بھی کھاؤ اور حاجتمندوں کو بھی کھلاؤ۔
آیت (2) سے واضح ہے کہ یہ وہ جانور ہیں جن سے پہلے عام جانوروں کا کام لیا جاتا ہے۔ ان پر سواری کر کے یا بوجھ لاد کر‘ حج کے لئے آیا جاتا ہے اور پھر انہیں حج کی تقریب پر مکہ معظمہ میں ذبح کیا جاتا ہے۔
آیت (3) بھی آیت (2) کے مضمون کی تائید کر رہی ہے۔ یعنی ان جانوروں کے فوائد (خیر) اور اس کے بعد ذبح کر کے خود بھی کھانا اور محتاجوں کو بھی کھلانا۔ (ان کے شعائر اللہ ہونے کا بیان آگے چل کر آئے گا)۔
آیت (4) میں اس غلط تصور کا بطلان کیا گیا ہے جس کی رو سے سمجھا جاتا تھا کہ قربانی کی حیثیت افادی نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی ہے جو خون بہانے سے حاصل ہوتی ہے اس لئے قربانی کے جانور ذبح کر کے چھوڑ دینے چاہئیں۔ اس کے برعکس یہ واضح کر دیا گیا کہ ان جانوروں کے ذبح کرنے سے مقصود خون بہا کر خدا کو خوش کرنا نہیں بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ ان کا گوشت تمہارے اور دیگر ضرورتمندوں کے کام آئے۔ اللہ کے نزدیک قابل قدر چیز تمہارا تقویٰ ہے۔ تقویٰ کی تشریح اگلے الفاظ سے کر دی جن میں بتا دیا گیا کہ تمہارا مقصود حیات یہ ہے کہ جس ضابطۂ حیات کی طرف تمہاری راہنمائی کی گئی ہے اسے متشکل اور مستحکم کرو اور اس طرح دنیا میں قانونِ خداوندی کی عظمت اور کبریائی کو ثبت کر کے دکھا دو۔ اجتماع حج اسی مقصد کے حصول کی کڑی ہے اور یہ جانور اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کے خور و نوش کا ذریعہ بنتے ہیں۔
قرآن کی رو سے دنیا میں دو ہی قومیں ہیں۔ ایک وہ جو ضابطۂ خداوندی کے مطابق زندگی بسر کریں (مُسلم) اور دوسری وہ جو اس کے علاوہ دیگر ضوابط زندگی کو اپنا مسلک بنائیں (غیر مُسلم)۔ قرآن ان دونوں جماعتوں میں واضح اور غیر مبہم امتیازی خطوط قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں بآسانی پہچانے جا سکیں۔ چنانچہ ہر وہ عمل یا وہ شے جو اس قسم کی پہچان کرا سکے شعائر اللہ کہلاتی ہے۔ شعار اس خاص نشان کو کہتے ہیں جو جنگ میں استعمال کیا جائے تاکہ اس سے اپنے رفیق اور دوست پہچانے جا سکیں۔ حج تمام دنیا کے مسلمانوں کا مرکزی اجتماع اور یک قلبی اور یک نگہی کا عملی مظاہرہ اور ایک ضابطۂ قانون کے تابع زندگی بسر کرنے والوں کی تعارفی تقریب ہے۔ اس سے بڑا دوستوں اور رفیقوں کا اجتماع اور کونسا ہو سکتا ہے۔ اس لئے حج کے تضمنات (صفا و مرویٰ اور بُدن وغیرہ) کو خصوصیت سے شعائر اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورۂ مائدہ میں ہے:
(5) یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآءِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآءِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً -(5:2)
اے ایمان والو۔ بے حرمتی نہ کرو شعائر اللہ کی اور نہ حرمت والے مہینے کی‘ نہ حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں‘ اور نہ ان لوگوں کی جو بیت الحرام کے مقصد سے جا رہے ہوں اور اپنے رب کے فضل اور رضامندی کے طالب ہوں۔
چونکہ حج سے مقصود‘ دنیا میں قوانینِ خداوندی کا عملی نفاذ ہے‘ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نوع انسانی میں صحیح توازن پیدا ہو جائے گا اور اس طرح انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گی‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں بیت الحرام کو وجۂ قیام انسانیت قرار دیا ہے اس کے ساتھ ہی تضمنات کو بھی انہی الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا:
(6) جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَءِدَ۔۔۔ -(5:97)
اللہ نے کعبہ کو‘ جو کہ حرمت والا مکان ہے‘ لوگوں کے قیام کا باعث قرار دیا ہے اور عزت والے مہینے کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں۔
آیات نمبر 1 تا 4 کو پھر سے سامنے لایئے۔ ان سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ قرآن کی رو سے
ً (1) قربانی صرف حج کے موقع پر ہے۔
(2) قربانی کا مقام مکہ معظمہ ہے جہاں حج ہوتا ہے۔
(3) قربانی سے مقصود یہ ہے کہ ان جانوروں کا گوشت کھایا جائے۔
(4) یہ سمجھنا کہ جانور ذبح کرنے سے قرب الٰہی حاصل ہو جاتا ہے‘ غلط ہے۔
ان حقائق سے یہ واضح ہو گیا کہ:
(ا) حج کے علاوہ اور کسی تقریب پر قربانی کا ذکر نہیں۔
(ب) مکہ معظمہ کے علاوہ اور کسی مقام پر قربانی نہیں۔
(ج) جس جانور کا گوشت کھانے کے کام نہ آئے اُسے قربانی نہیں کہا جا سکتا
کیونکہ اس کا صرف خون بہایا گیا ہے اور خون اللہ تک نہیں پہنچتا۔ لہٰذا ایسا
کرنا اسراف ہے۔ یعنی بے نتیجہ اور بے مصرف ایک جانور کا ضائع کر دینا۔
فلہٰذا۔۔۔
(i) حج کی تقریب پر جانوروں کو ذبح کر کے مٹی میں دبائے جانا منشائے قرآن
کے یکسر خلاف ہے۔ اور
(ii) یہ جو عید کی تقریب پر دنیا بھر کے شہروں میں قربانیاں دی جاتی ہیں ان کا حکم
تو ایک طرف کہیں ذکر تک بھی قرآن میں نہیں۔ بلکہ یہ قرآن کے حکم کے
خلاف ہے کیونکہ جب قرآن نے قربانی کے مقام کو بالتصریح معین کر دیا
ہے تو اس معین کو عام کر دینا قرآنی منشا کے خلاف ہے۔ مثلاً قرآن نے نماز
کے لئے سمت قبلہ کو معین کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہر طرف منہ کر کے نماز
پڑھنا قرآنی حکم کے خلاف ہو گا۔
***
اب دیگر آیات دیکھئے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:
(7) وَاَتِمُّواْ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔
اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔ پھر اگر تم (کسی وجہ سے) روک دیئے جاؤ تو قربانی کا جانور جو بھی میسر آئے (خانہ کعبہ کو بھیج دیا کرو)۔
وَلاَ تَحْلِقُواْ رُؤُوسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ۔
اور اپنے سروں کو اس وقت تک مت منڈواؤ جب تک قربانی کا جانور اپنے موقع پر نہ پہنچ جائے (اور وہ موقع حرم ہے)۔
فَمَن کَانَ مِنکُم مَّرِیْضاً اَوْ بِہِ اَذًی مِّن رَّاْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِّن صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ۔
اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کا فدیہ روزے ہے یا صدقہ یا نسک (قربانی)
فَاِذَا اَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔
پھر جب امن کی حالت ہو جائے تو جو شخص عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر دونوں سے متمتع ہو تو جو کچھ قربانی میسر ہو ذبح کرے۔
فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاثَۃِ اَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذَلِکَ لِمَن لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہُ حَاضِرِیْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ -(2:196)
پھر جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ آئے تو اس کے ذمے تین دن کے روزے ایام حج میں‘ اور سات دن کے جب حج سے لوٹنے کا وقت ہو‘ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ اس کے لئے ہے جس کے اہل و عیال کعبہ کے قریب نہ رہتے ہوں۔
ان آیات میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ حج اور عمرہ1؂ میں‘ عام حالات میں قربانی کا حکم نہیں۔ ضرورت کے مطابق‘ باہمی مشاورت سے خور و نوش کے لئے جانور ذبح کئے جائیں گے۔
لیکن حسب ذیل اسباب میں سے کوئی سبب پیدا ہو جائے تو ھدی یا نسک کا حکم ہے (ان الفاظ کے معانی آگے چل کر آتے ہیں)۔
(1) کسی شخص نے حج یا عمرہ کا ارادہ کر لیا لیکن وہ محصور ہو گیا اور خانہ کعبہ تک نہیں پہنچ سکا تو اسے چاہئے کہ اپنے ھدی کو کسی کے ساتھ بھیج دے۔ جب ھدی مکہ میں پہنچ جائے پھر حجامت بنوا کر احرام سے باہر نکل آئے اس سے پہلے حجامت نہ بنوائے۔
(2) دوسرا سبب یہ ہے کہ حالت احرام میں (جبکہ حجامت بنوانا منع ہے) کسی تکلیف کے سبب حجامت بنوانے کے لئے مجبور ہو جائے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا نُسُک۔
(3) تیسرا یہ کہ حج اور عمرہ ایک ساتھ کرے تو اس صورت میں ھدی دے۔ اور اگر یہ میسر نہ ہو تو دس دن کے روزے رکھے۔
آپ غور کریں گے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان مقامات پر بھی صرف قربانی کا حکم نہیں ہے۔ سبب اول کے ماتحت اتنا بتا دیا گیا ہے کہ عازمِ حج بحالتِ معذوری (محصور ہو جانے کی شکل میں) کیا کرے۔ اس صورت میں وہ اپنے ھدی کو کعبہ تک بھیج دے۔ سبب دوم میں روزے یا صدقہ یا نسک کا حکم ہے اور سبب سوم میں ھدی کا حکم ہے بشرطیکہ وہ میسر آجائے۔ اگر میسر نہ آئے تو پھر روزے رکھ لے۔
ان آیات میں ھدی اور نسک کے الفاظ آئے ہیں۔ ھدی جمع ہے ھَدِیَّۃ کی جس کے معنی ہیں تحفہ۔ خود قرآن میں ہے بَلْ اَنتُم بِہَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُونَ-(27:36) اس لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ ھدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔ ’’فما استیسر من الھدی‘‘ نے اس حقیقت کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔ یعنی تحائف میں سے جو کچھ بھی میسر آجائے اسے کعبہ بھیج دے تاکہ وہاں جمع ہونے والوں کے کام آئے عربوں کے ہاں بہترین تحائف ان کے جانور تھے۔ اس لئے وہ جانوروں کو بطور تحائف پیش کرتے تھے لیکن ضروری نہیں کہ تحائف صرف جانور ہی ہوں۔ لہٰذا آیاتِ بالا سے مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی عازم حج راستہ میں گھر جائے تو اپنے تحائف کعبہ بھیج دے۔ اسی طرح جو شخص حج اور عمرہ سے اکٹھا متمتع ہو اور اسے کوئی تحفہ میسر آسکے تو اسے پیش کر دے ورنہ روزے رکھ لے۔ اسی طرح نسک کے معنی بھی صرف قربانی نہیں۔ نسک چاندی کے خالص ٹکڑوں کو کہتے ہیں۔ اخلاص کی بنا پر اس سے مفہوم عام عبادات لیا جاتا ہے (تفصیل آگے چل کر آئے گی) پھر ذبیحہ کو بھی نسک کہنے لگ گئے۔
لیکن قطع نظر اس کے‘ اگر ھدی اور نسک سے مراد قربانی کے جانور ہی لئے جائیں تو بھی آیاتِ بالا سے یہ واضح ہے کہ ان کا مقام کعبہ ہی ہے۔ انہیں وہیں پہنچانا ہو گا۔ (حتی یبلغ الھدی محلہ) اور وہیں یہ ذبح ہوں گے تاکہ ان سے اجتماع حج میں شریک ہونے والے خور و نوش کا کام لیں۔ اس حقیقت کو دوسرے مقام پر اور بھی واضح کر دیا گیا ہے جہاں فرمایا کہ حالتِ احرام میں شکار جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص دانستہ کسی جان کا قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اس کی مثل ایک ایسا جانور دے جس کا فیصلہ دو صاحبِ عدل کر دیں۔ ہَدْیْاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ -(5:95) اس ہدیہ1؂ کو کعبہ تک پہنچایا جائے۔ اس سے بھی واضح ہے کہ ھدیہ کو کعبہ ہی پہنچانا ہو گا۔
آیاتِ بالا سے پھر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ قربانی کا مقام کعبہ ہے۔ کعبہ کے علاوہ اور کوئی مقام نہیں۔
***
اب ایک آیت اور دیکھئے جس سے اس حقیقت کی مزید تصدیق ہو جاتی ہے کہ قربانی کا مقام خانہ کعبہ ہی ہے۔ 6ھ میں رسول اللہﷺ عمرہ ادا کرنے کے ارادہ سے مدینہ سے عازم مکہ ہوئے لیکن قریش مکہ نے حضورﷺ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ حدیبیہ کا مقام تھا جہاں وہ مشہور صلح نامہ لکھا گیا جسے قرآن نے فتح مبین سے تعبیر کیا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم میں ہے:
(8) ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفاً اَن یَبْلُغَ مَحِلَّہُ -(48:25)
یہ (قریش مکہ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا۔ نیز قربانی کے جانوروں (ھدی) کو روک دیا کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ تک نہ پہنچ سکیں۔
ہمارے پیش نظر سوال یہ تھا کہ کیا قرآن نے قربانی کے مقام کو معین کر دیا ہے یا اسے غیر معین چھوڑ دیا ہے کہ مسلمان جہاں چاہیں (اپنے اپنے مکانوں اور گلی کوچوں میں) قربانی دے دیا کریں۔ قرآن کی تمام متعلقہ آیات آپ کے سامنے آچکی ہیں آپ انہیں ایک مرتبہ پھر دیکھ لیں اور خود فیصلہ کر لیں کہ اس باب میں قرآن کا حکم معین ہے یا اس نے اس چیز کو غیر معین چھوڑ دیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ:
(i) آیت نمبر 2 میں قربانی کے جانوروں کے متعلق تصریح موجود ہے کہ:
ثم محلھا الی البیت العتیق۔
ان کے حلال کرنے کی جگہ خانہ کعبہ ہے۔
(ii) آیت نمبر 7 میں (اگر ھدی سے مراد قربانی کے جانور کئے جائیں تو) بہ صراحت فرما دیا کہ:
حتی یبلغ الھدی محلہ۔
جب تک قربانی کے جانور اپنے ذبح ہونے کے مقام
پر نہ پہنچ جائیں۔
(iii) آیت 5:95 میں فرمایا:
ھدیا بالغ الکعبتہ۔
قربانی کے جانور کو کعبہ تک پہنچایا جائے۔
(iv) آیت نمبر 8 میں ارشاد ہے کہ قریش مکہ نے قربانی کے جانوروں کو روک دیا۔
ان یبلغ محلہ۔
کہ وہ اپنے ذبح ہونے کے مقام تک نہ پہنچنے پائیں۔
(v) باقی آیات میں قربانی کا ذکر حج کے ضمن میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ کہیں نہیں۔
ان حقائق کو سامنے رکھئے اور پھر سوچئے کہ قرآن کریم کی ایسی کھلی ہوئی صراحت کے بعد‘ اس بات کے متعلق کسی شک و شبہ کی گنجائش بھی باقی رہ سکتی ہے کہ قربانی کا مقام کونسا ہے؟ اگر قرآن صرف اتنا ہی کرتا کہ قربانی کے جانوروں کا ذکر حج کی تقریب کے ضمن میں کر دیتا تو بھی اس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہوتی کہ قربانی مکہ ہی میں ہوتی ہے لیکن اس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ بار بار اس کی بھی تصریح فرما دی کہ قربانی کا مقام کعبہ ہے۔ اگر اس کے بعد بھی اس باب میں کسی کو شبہ ہو سکتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ نہیں! قربانی ہر گلی کوچے میں ہو سکتی ہے‘ تو اس کا علاج کسی کے پاس نہیں۔
ومن یضلل اللہ فلا ھادی لہ‘۔
***
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ جو حضرات‘ قرآن کی ان تصریحات کے باوجود قربانی کو ہر گلی کوچے میں عام کرتے ہیں‘ ان کے دلائل اور قرآن کی مندرجہ صدر کھلی ہوئی حقیقت کے خلاف ان کے اعتراضات کیا ہیں۔ اس باب میں اس وقت ہمارے سامنے سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کا وہ مضمون ہے جس میں انہوں نے سالِ گذشتہ‘ قرآن کی مذکورہ صدر تصریحات کو ’’فتنہ‘‘ قرار دے کر ان کی تردید فرمائی تھی ]اور جو روزنامہ انجامؔ (کراچی) کے عید ایڈیشن (مورخہ 4 ستمبر 1950ء) میں شائع ہوا تھا[۔ اس مضمون میں انہوں نے خاص طور پر یہ احتیاط برتی ہے کہ اس میں ان آیات کا کوئی ذکر تک نہ آنے پائے جن میں قرآن کریم نے بہ صراحت قربانی کے مقام کو مکہ معظمہ کے ساتھ مختص کیا ہے اور جنہیں ہم نے اوپر نقل کر دیا ہے۔ اس خصوصی احتیاط کے بعد وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں:
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ قربانی کے متعلق قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ کیا وہ قربانی کو صرف حج اور متعلقات حج تک محدود رکھتا ہے یا دوسرے حالات میں بھی اس کا حکم دیتا ہے۔ اس باب میں دو آیتیں بالکل صاف ہیں جن کا حج سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلی آیت سورۂ انعام کے آخری رکوع میں ہے۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
اے نبی کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت خم کرنے والا ہوں۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا اور نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے اور اس میں کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس حکم سے مراد حج میں قربانی کرنا ہے۔ نسک کا لفظ جو اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے‘ قرآن مجید میں دوسری جگہ قربانی ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو البقرہ نمبر 22۔
تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو صدقے میں روزے رکھے یا صدقہ یا قربانی کرے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 7 جس میں لفظ نسک آیا ہے۔ طلوع اسلام)۔
مودودیؔ صاحب نے جس آیت کا ترجمہ لکھا ہے وہ آیت سیاق و سباق کے ساتھ اس طرح ہے۔ فرمایا:
(9) قُلْ اِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ اِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَO
کہہ دو۔ مجھے تو میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ وہی درست اور صحیح دین ہے۔ ابراہیم کا طریقہ کہ خدا ایک ہے کے لئے ہو جانا اور ابراہیم ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔
’’حَنِیْفاً‘‘ (ایک خدا کے لئے ہو جانا) کی تشریح اگلی آیت میں یوں ہے:
(10) قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَاْ اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔
کہہ دو۔ میری نماز‘ میرا نسک‘ میرا مرنا‘ میرا جینا‘ سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلموں میں (یعنی خدا کے فرمانبرداروں میں) پہلا فرمانبردار ہوں۔
اور اس ’’توحید‘‘ کی مزید تشریح اس طرح فرما دی کہ:
(11) قُلْ اَغَیْْرَ اللّہِ اَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء۔۔۔-(6:161-164)
کہئے! کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور پروردگار ڈھونڈوں حالانکہ وہی ہر شے کا پرورش کرنے والا ہے۔
مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں لفظ نُسُکی کا ترجمہ ہے ’’میری قربانی‘‘۔ اس لئے اس سے قربانی کا حکم ظاہر ہے۔ ہم نے مندرجہ بالا ترجمہ میں (جو ابوالکلام صاحب آزاد کا ترجمہ ہے) لفظ نسک کو علیٰ حالہ رہنے دیا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ اس لفظ کے لغوی معنی ’’چاندی کے خالص کئے ہوئے ٹکڑے‘‘ ہیں۔ اس اخلاص کی جہت سے ’’عبادت گذار کو ناسک کہنے لگے کیونکہ وہ اپنے نفس کو چاندی کے ٹکڑے کی طرح گناہوں کی میل سے صاف کرتا ہے۔‘‘1؂ قرآن کریم میں نسک‘ منسک‘ مناسک کے الفاظ (ان دو آیتوں کے علاوہ جن کا ترجمہ مودودی صاحب نے لکھا ہے) حسب ذیل مقامات پر آئے ہیں:
(12) سورۂ بقرہ میں دعائے ابراہیمی و اسماعیلی۔ وارنا مناسکنا۔ -(2:129)
(13) سورۂ بقرہ میں حج کے ضمن میں۔
فاذا قضیتم مناسککم۔ -(2:200)
(15-14) سورۂ حج میں۔
لکل امۃ جعلنا منسکاًھم ناسکوہ۔ (22:67) و (22:34)۔
دیکھئے کہ ان آیات میں ان الفاظ کا ترجمہ مختلف مترجمین نے کیا کیا ہے۔
آیت نمبر 12 ’’مناسکنا‘‘ کا ترجمہ مختلف تراجم میں اس طرح آیا ہے:
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادات کی طرح۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ طرح عبادت کی۔
جلالین۔ شرائع عبادتنا (یہ اردو ترجمہ نہیں لیکن مفہوم واضح ہے)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ عبادت کے سچے طور طریقے۔
آیت نمبر 13۔ ’’مناسککم‘‘۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادتیں اپنی۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادتیں۔
جلالین۔ عبادات‘ حج۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ حج کے تمام ارکان۔
آیات نمبر 14 و 15۔ ’’منسک‘‘۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ طرح عبادت کی۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادت کی طرح۔
جلالین۔ شریعت (آیت 22:34 میں اس کے ساتھ ’’قربانی کی جگہ‘‘ بھی آیا ہے)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ عبادت کا طور طریقہ۔
اس کے بعد وہ آیت لیجئے جسے مودودی صاحب نے بطور سند پیش کیا ہے۔ یعنی ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ (نمبر 10) اور جس میں انہوں نے نسکی کا ترجمہ ’’میری قربانی‘‘ کیا ہے۔ اس لفظ کا ترجمہ مذکورہ صدر مترجمین نے حسب ذیل کیا ہے۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادتیں۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادتیں۔
جلالین۔ عبادات من حج۔ (حج کی عبادات)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ میرا حج۔
یہ ہیں لفظ نسک کے معانی اس آیت میں جسے مودودی صاحب نے وجوب قربانی میں بطور نصِ قرآنی پیش کیا ہے اور جس کا ترجمہ انہوں نے ’’قربانی‘‘ کیا ہے۔ شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ اس کے معنی ’’عام عبادات‘‘ لیتے ہیں اور تفسیر جلالین اور ترجمان القرآن ابوالکلام صاحب آزاد میں اس کے معنی حج یا حج سے متعلقہ مراسم لکھے ہیں۔ (اور وہ جو کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ بولے) خود مودودی صاحب نسک کا ترجمہ ’’قربانی‘‘ لکھ کر‘ ایک ہی سطر بعد ’’مناسک‘‘ کے معنی ’’حج کے مراسم‘‘ بیان فرماتے ہیں۔ ان کا جو اقتباس اوپر درج کیا گیا ہے اسے ایک بار پھر پڑھئے۔ اس میں آپ کو یہ الفاظ دکھائی دیں گے۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے۔
’’حج کے مراسم و مناسک‘‘ لکھ کر‘ مودودی صاحب نے خود بتا دیا کہ ’’مناسک‘‘ کے معنی عام قربانی نہیں‘ حج کے طور طریقے ہیں۔ لہٰذا اگر ’’مناسک‘‘ کے معنی خود مودودی صاحب کے الفاظ میں ’’حج کے عام طور طریقے‘‘ ہیں تو آیت ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ میں نسک کے معنی عیدالاضحی کی قربانی کس طرح کئے جا سکتے ہیں؟
اب مودودی صاحب کی دوسری دلیل ملاحظہ فرمایئے جس میں ارشاد ہے کہ:
نسک کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اسے قرآن مجید میں دوسری جگہ ’’قربانی ہی‘‘ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو البقرہ نمبر 24۔
تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو فدیہ میں روزے رکھے یا صدقہ یا قربانی کرے۔
(اس آیت کے الفاظ آیت نمبر 7 میں دیکھئے)۔
پہلے تو یہ دیکھئے کہ مودودی صاحب نے نسک کے لفظ کے لئے قرآن کریم کی صرف وہی آیت نقل فرمائی ہے جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ نسک سے مفہوم قربانی لیا جا سکتا ہے۔ دیگر مقامات کا‘ (جہاں واضح ہے کہ نسک یا منسک یا مناسک کے معنی قربانی نہیں لئے جا سکتے) انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا۔
آیت نمبر 7 میں ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ نسک کے معنی ضروری نہیں کہ قربانی ہی لئے جائیں۔ لہٰذا ایک ایسے مقام کو بطور سند پیش کرنا جس میں مختلف معانی کی گنجائش ہو‘ دلیل قطعی نہیں قرار دی جا سکتی۔ لیکن آیت نمبر 7 میں نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ ہی لئے جائیں تو وہیں یہ بھی تو موجود ہے کہ یہ حج کے احکام ہیں۔ اس لئے ’’قربانی‘‘ سے مراد وہ قربانی ہے جو خانہ کعبہ میں حج کے موقع پر دی جاتی ہے۔ لہٰذا اگر نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ لئے جائیں تو اس کے صحیح معنی ہوں گے ’’وہ قربانی جو حج میں کی جائے‘‘۔ اس لئے کہ جب قرآن خود کسی مفہوم کو معین کر دے تو اس مفہوم کو اسی طرح سے لینا چاہئے جس طرح قرآن بیان کرتا ہے۔ لہٰذا یہ ظاہر ہے کہ:
(i) ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ میں نسکی کے معنی ’’میری قربانی‘‘ نہیں۔ اس لئے یہ آیت قربانی کے حکم کے لئے بطور نص قرآنی پیش نہیں کی جا سکتی۔ اور
(ii) اگر اس لفظ کا ترجمہ ’’قربانی‘‘ ہی کرنا ہو تو اس سے مراد ہو گی وہ قربانی جو حج میں کی جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن کی جس آیت نمبر 7 سے نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ لئے گئے ہیں وہاں نسک کے معنی وہ قربانی ہے جو حج میں کی جاتی ہے۔ نہ کہ ہر گلی کوچے کی قربانی۔ چنانچہ علامہ حمید الدین فراہیؒ جنہوں نے اس آیت میں نسکی کے معنی ’’میری قربانی‘‘ لئے ہیں فرماتے ہیں:
بالاتفاق تمام مفسرین کے نزدیک اس آیت میں نسک سے مراد حج اور عمرہ میں قربانی کرنا ہے۔ لغت عرب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
باقی رہی مودودی صاحب کی یہ دلیل کہ چونکہ یہ آیت (ان صلاتی و نسکی۔۔۔) مکہ میں نازل ہوئی تھی جب حج فرض نہیں ہوا تھا‘ اس لئے اس سے مراد حج کی قربانی نہیں۔ سو اس کے متعلق پہلی چیز قابل غور یہ ہے کہ قرآن کریم کی ترتیب نزولی نہیں ہے اس لئے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ کونسی آیت کب نازل ہوئی تھی۔ خود یہ حقیقت کہ قرآن کی ترتیب نزولی نہیں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ترتیب نزولی کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ کہا جا سکتا ہے کہ نزول کی ترتیب سے ہم قرآنی تعلیم کے ’’تدریجی ارتقا‘‘ کو معلوم کر سکتے ہیں۔ سو اول تو یہ کہ‘ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے‘ اگر یہ چیز ایسی اہم ہوتی تو خود اللہ تعالیٰ قرآن کی ترتیب نزولی رہنے دیتا۔ قرآنی تعلیم زمان اور مکان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ وہ ہر زمانے اور ہر حالات میں زندگی بخش ہونے کے لئے دی گئی ہے۔ اس لئے وہ ترتیب نزول اور شانِ نزول وغیرہ کے اختصاصات میں مقید نہیں رکھی جا سکتی۔ جو کچھ قرآن میں موجود ہے وہ ہر زمانے کے لئے ضابطۂ حیات ہے۔ جس قسم کے حالات ہوں گے اسی قسم کے احکام نافذ ہو جائیں گے۔ لہٰذا ترتیب نزول کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ دوسرے یہ کہ ترتیب نزول کے متعلق جو روایات ملتی ہیں وہ باہمدگر مختلف ہوتی ہیں۔ چنانچہ آپ کتب تفاسیر اٹھا کر ان میں کسی سورت کے نزول کے متعلق دیکھئے۔ آپ کو کئی مختلف روایات ملیں گی۔ کبھی پوری کی پوری سورت کے متعلق اختلافات ہوتے ہیں کہ وہ مکہ میں نازل ہوئی تھی یا مدینہ میں۔ کبھی ایک سورت کی مختلف آیات کے متعلق اختلاف ہوتا ہے۔ کہیں یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض آیات ہجرت کے بعد‘ مکہ کے قریب نازل ہوئیں تو انہیں مکی لکھ دیا گیا۔ خود سورۂ انعام (جس میں آیت ’’ان صلاتی و نسکی۔۔۔ ہے) کی بعض آیات کے متعلق اختلاف ہے کہ مکی ہیں یا مدنی۔ اس لئے اس سورت کو مکی قرار دے کر اس سے نتیجہ زیر نظر اخذ کرنا‘ محکم دلیل قرار نہیں پا سکتا۔ بہرحال یہ سورت مکی ہو یا مدنی۔ جو حضرات اس سے ’’قربانی‘‘ مراد لیتے ہیں وہ (جیسا کہ علامہ فراہیؒ نے لکھا ہے) اس امر پر متفق ہیں کہ نسک سے مراد وہ قربانی ہے جو حج اور عمرہ میں کی جاتی ہے۔
لیکن قطع نظر اور دلائل کے‘ مودودی صاحب کا یہ بیان کہ یہ سورت مکی ہے خود ہمارے دعوے کی تائید کر رہا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جیسا کہ قرآن نے بہ صراحت فرما دیا ہے قربانی کا محل مکہ معظمہ ہے۔ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ قربانی کا ذکر اس سورت میں آیا ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی اس لئے اس سے مراد حج کی قربانی نہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہجرت سے پہلے رسول اللہﷺ مکہ میں تشریف فرما تھے اس لئے حضورﷺ لامحالہ مکہ ہی میں قربانی کرتے ہوں گے۔ اور یہی ہم کہتے ہیں۔
باقی رہا یہ کہ اس زمانہ میں ابھی حج فرض نہیں ہوا تھا۔ تو اس سے مسئلہ زیرنظر پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ حج فرض ہونے سے پہلے بھی حضورﷺ‘ سنتِ ابراہیمیؑ کی اتباع میں اپنے طور پر حج کرتے تھے۔ (سارا عرب حج کیا کرتا تھا اگرچہ اس کا حقیقی مقصد ان کی نگاہوں سے فوت ہو چکا تھا اور اس کے مناسک میں مشرکانہ رسوم داخل ہو چکی تھیں) لہٰذا جب رسول اللہﷺ حج کرتے تھے تو قربانی بھی حج کی تقریب پر ہی ہوتی ہو گی۔ مشرکین‘ بتوں کے استہانوں پر جانور ذبح کرتے تھے۔ حضورﷺ انہیں اللہ کے نام پر ذبح کر کے خود کھاتے اور محتاجوں کو کھلاتے ہوں گے۔
لہٰذا اس دلیل سے بھی واضح ہے کہ قربانی مکہ ہی میں ہوتی تھی اور حج کی تقریب پر۔ (اس باب میں ابھی ایک نکتہ باقی ہے جو ’’وانحر‘‘ کے سلسلہ میں ذرا آگے چل کر بیان ہو گا۔)
***
اب وہ دوسری آیت دیکھئے جسے مودودی صاحب نے اپنے دعوے کی دلیل میں پیش فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:
دوسری آیت سورۂ کوثر میں ہے جس کا ترجمہ ہے۔
پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
یہ آیت بھی مکی ہے اور اس میں بھی کوئی اشارہ یا قرینہ ایسا نہیں کہ جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قربانی کا یہ حکم حج کے لئے خاص ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اہلِ لغت نے نحر کے معنی سینے پر ہاتھ باندھنے‘ قبلہ رخ ہونے اور اول وقت نماز پڑھنے کے بھی بیان کئے ہیں لیکن یہ سب دور کے معنی ہیں۔ عام فہم عربی میں اس لفظ کا مفہوم قربانی کرنا ہی لیا جاتا ہے (اس کے بعد مودودی صاحب نے احکام القرآن کا حوالہ دیا ہے)۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مترجمین شاہ ولی اللہؒ ‘ شاہ عبدالقادر صاحبؒ ‘ شاہ رفیع الدین صاحبؒ ‘ مولانا محمود الحسن صاحبؒ ‘ مولانا اشرف علی صاحبؒ ‘ ڈپٹی نذیر احمد صاحبؒ وغیرہم نے بالاتفاق اس لفظ کا ترجمہ قربانی ہی کیا ہے۔1؂
یہ سورۂ کوثر کی آیت ہے جس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
ان اعطینک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ھوالابترO
اس میں لفظ نحر قابل غور ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ روایات سے قرآن کا صحیح صحیح مفہوم متعین ہو جاتا ہے۔ اگر ان سے مدد نہ لی جائے تو قرآن کا صحیح مطلب سمجھ میں نہیں آسکتا۔ نحر کا لفظ قرآن میں اسی مقام پر استعمال ہوا ہے۔ اب دیکھئے کہ روایات اس کا کیا مفہوم ’’متعین کرتی ہیں۔‘‘
(1) حضرت علیؓ نے فرمایا کہ نحر سے مراد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو نماز میں اپنے سینے پر رکھنا ہے۔
(2) حضرت علیؓ سے دوسری روایت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے جبریلؑ سے پوچھا کہ یہ نحیرہ کیا ہے جس کا میرے رب نے حکم دیا ہے۔ جبریلؑ نے کہا نحیرہ نہیں۔ لیکن حکم یہ ہے کہ آپ نماز کی پہلی تکبیر‘ رکوع‘ بعد رکوع اور سجود کے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کریں۔ یہ ہماری نماز ہے اور ملائکہ کی نماز ہے جو سات آسمانوں میں رہتے ہیں۔ ہر ایک چیز کی ایک نیت ہے اور نماز کی نیت ہر تکبیر کے نزدیک رفع یدین کرنا ہے۔
(3) حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ نحر کے معنی ہیں ’’اپنی گردن قبلہ کے مقابل کر‘‘۔
(4) امام باقر ؒ کا ارشاد ہے کہ اس سے مراد نماز کے شروع کے وقت رفع یدین کرنا ہے۔
(5) حضرت عطا خراسانیؒ فرماتے ہیں کہ وانحر سے مراد یہ ہے کہ اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاؤ تو اعتدال کرو اور سینے کو ظاہر کرو یعنی اطمینان حاصل کرو۔
ان روایات کے علاوہ دیگر اقوال ملاحظہ فرمایئے:
(ا) ابن الاعرابیؒ نے کہا ہے کہ نحر کا مطلب نماز میں محراب کے سامنے سیدھا کھڑا ہونا ہے۔
(ب) ضحاکؒ کا بیان ہے کہ اس کے معنی ہیں دونوں ہاتھ دعا کے بعد چھاتی کے اوپر کے حصہ تک بلند کر۔
(ج) امام راغبؒ (مفردات) میں لکھتے ہیں کہ نحر چھاتی کے اوپر گلوبند کے مقام کو کہتے ہیں۔ اس لئے وانحر میں حکم ہے ہاتھوں کو نحر کے مقام پر رکھنے کا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے شہوت کی بیخ کنی کر کے نفس کشی کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
آپ نے نحر کے لفظ کی تحقیق ملاحظہ فرمائی۔ امام رازیؒ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ذبحِ شتر ہے۔ اس لئے اس کے معنی قربانی ہو گئے۔ فصل لربک وانحر۔ اپنے رب کی نماز پڑھ اور قربانی کر۔
اب اس آیت کے مقام نزول کے متعلق دیکھئے۔ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ محمد علی صاحب لاہوری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
اس سورت کے نزول کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض اسے مکی کہتے ہیں اور بعض مدنی اور بعض نے یہ خیال کیا ہے کہ اس کا نزول دو دفعہ ہوا ہے۔ ایک مکہ میں اور ایک مدینہ میں۔ مگر صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی!1؂
لیکن علامہ فراہیؒ فرماتے ہیں کہ یہ صلح حدیبیہ کے دن نازل ہوئی۔ ارشاد ہے:
یہ سورت صلح حدیبیہ کے دن نازل ہوئی جو فتح مکہ‘ حج‘ نماز‘ قربانی‘ غلبہ اسلام اور کثرت امت کا فتح باب ہے۔
ذرا آگے چل کر پوری کی پوری سورہ (سورۂ کوثر) کی حکمت کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
سادہ لفظوں میں گویا یوں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز پڑھنے والی اور راہِ خدا میں خرچ کرنے والی ایک عظیم الشان امت دی ہے جو بیت الحرام کا حج کرے گی۔
یعنی وانحر سے مراد ’’بیت الحرام کا حج‘‘ کرنا ہے۔
ابن جریرؒ نے اس باب میں لکھا ہے:
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ فصل لربک وانحر والی آیت حدیبیہ کے دن نازل ہوئی۔ جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ قربانی کر کے لوٹ جاؤ۔ آنحضرتﷺ اٹھے اور عیدالفطر یا عیدالاضحی (راوی کو شبہ ہے) کا خطبہ دیا۔ پھر دو رکعت نماز ادا کی اور قربانی دی اس وقت حضرت جبریلؑ نے فصل لربک کا پیام دیا۔
یعنی جب کفار مکہ نے حضورﷺ کے قافلہ کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو بھی مکہ تک جانے سے روک دیا گیا (جیسا کہ سورۂ فتح میں مذکور ہے) تو سوال یہ پیدا ہوا کہ قربانی کے جانوروں کو کیا کیا جائے۔ اس وقت جبریلؑ آئے اور کہا کہ ان کی یہیں قربانی دے کر دو رکعت نماز پڑھ لیجئے۔
***
وانحر کے معنی بھی آپ نے دیکھ لئے اور مقامِ نزول کے متعلق بھی بیانات ملاحظہ کر لئے۔ ذرا غور کیجئے کہ ان سے کسی طرح بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وانحر سے مراد ہے دنیا کے ہر گلی کوچے میں قربانی کے جانور ذبح کرنا! اگر یہ سورت (سورۂ کوثر) مکہ میں نازل ہوئی تھی تو اندازہ یہ ہے کہ یہ ہجرت کے قریب کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے کیونکہ موجودہ ترتیب کے لحاظ سے یہ جن سورتوں کے درمیان رکھی گئی ہے ان کا تعلق ہجرت کے واقعہ سے ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں پر شدائد و مصائب ہجوم کر کے آچکے تھے۔ نظر بظاہر‘ ہر طرف مایوسی دکھائی دیتی تھی۔ وقت وہ آچکا تھا کہ انہیں اپنے گھر بار کو بھی چھوڑنا تھا۔ مستقبل میں بھی کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ان یاس انگیز حالات میں انا اعطینٰک الکوثر (یقیناًہم نے تمہیں اپنے انعامات سے بڑی کثرت سے نوازا ہے) کا مژدۂ درخشندہ بڑا حیات بخش (اور مخالفین کے لئے حیرت انگیز) تھا۔ اس کے لئے ارشاد یہ ہوا کہ یہ کثرتِ نعماء نتیجہ ہوں گی اس نظام کی تشکیل و تنفیذ کا جس کا آغاز صلوٰۃ سے ہوتا ہے اور انتہا حج کے اجتماع سے۔ (فصل لربک وانحر)۔ نحر کے معنی اگر قربانی لئے جائیں تو یہ اونٹ کی قربانی کے لئے مختص ہے۔ ’’اونٹ کے ذبیحہ‘‘ میں ایک اور اہم حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا۔ مدینہ میں اس وقت یہودیوں کا غلبہ تھا۔ ہو سکتا تھا کہ کسی کو خیال پیدا ہو جائے کہ اب ’’کمزور اور ناتواں‘‘ مسلمانوں کا یہ قافلہ‘ ہجرت کے بعد‘ مدینہ کے یہودیوں سے مفاہمت (Compromise) کر کے‘ قریش مکہ کا مقابلہ کرے۔1؂ وانحر کے لفظ سے اس شبہ کو بھی مٹا دیا۔ یہودیوں کے ہاں اونٹ حرام تھا۔ مسلمانوں کو اونٹ ذبح کرنے کے لئے کہا گیا۔ یعنی یہود کے علی الرغم۔ یوں سمجھئے جس طرح آج ہندوستان کے شکستہ حال مسلمانوں کو کوئی ’’اشارۂ غیبی‘‘ یہ کہہ دے کہ ’’اٹھو اور گائے ذبح کرو‘‘۔ اور اگر یہ سورت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس وقت بھی حالات سخت نامساعد تھے۔ نظر بظاہر‘ وہ صلح شکست ہی کے مرادف تھی لیکن قرآن نے عین اس وقت ’’عطائے کوثر‘‘ کا مژدہ حوصلہ افزا سنایا اور وانحر2؂ سے یہ بتا دیا کہ اگر انہوں نے آج تمہیں مکہ تک پہنچنے سے روک دیا ہے اور تمہاری قربانیوں کو بھی ان کی قربان گاہ (کعبہ) تک نہیں پہنچنے دیا‘ تو اس کا کیا غم! تم عنقریب وہاں پہنچ کر قربانیاں کرو گے۔
ان تصریحات کے بعد آپ سوچئے کہ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں وانحر سے عید کے دن ہر گلی کوچے میں قربانی کا وجوب کس طرح سے ثابت ہوتا ہے؟
لیکن اگر آپ کو اس پر اصرار ہے کہ وانحر سے مراد ہر گلی کوچے میں قربانی ہے تو ذرا حسب ذیل امور پر بھی غور کیجئے۔ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں فصل (نماز پڑھ) امر کا صیغہ ہے جس سے مطلب یہ ہے کہ نماز فرض ہے۔ اسی طرح وانحر امر کا صیغہ ہے‘ لہٰذا نحر بھی فرض ہوئی۔ یعنی جو حیثیت نماز کی ہے وہی حیثیت قربانی کی ہو گی۔ دونوں برابر کی فرض ہوں گی کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے۔ فصل (نماز) کے فرض ہونے کے متعلق تو کسی کو کلام نہیں۔ لیکن دیکھئے کہ وانحر (قربانی) کے متعلق کیا عقیدہ ہے۔ خود مودودی صاحب کے الفاظ میں ملاحظہ فرمایئے۔ تحریر فرماتے ہیں:
قرآن و حدیث کے ان دلائل کی بنا پر فقہائے امت نے بقر عید کی قربانی کے متعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سنن اسلام میں سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں۔ مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی‘ فتح الباری میں مذاہب فقہاء کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
اور اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ بقر عید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیہ اور جمہور کے نزدیک یہ سنت موکدہ بطریق کفایت اور شافعیوں میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوشحال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالکؒ کی رائے بھی ایک روایت کی رو سے یہی ہے مگر انہوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی۔ اوزاعی اور ربیعہ کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں سے ابو یوسفؒ اور مالکیوں میں سے اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے۔ اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑ دینے کی اجازت نہیں۔
آپ نے غور فرمایا کہ عید کی قربانی کسی کے نزدیک بھی فرض نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سنت ہے اور وہ بھی ایسی کہ امام احمدؒ کے نزدیک اگر باوجود قدرت (استطاعت) کے قربانی نہ کی جائے تو یہ مکروہ ہو گا۔ آپ ذرا سوچئے کہ قرآن میں ’’فصل لربک وانحر‘‘ کا حکم آتا ہے۔ صل (نماز پڑھ) کے متعلق ہر ایک کا اتفاق ہے کہ یہ فرض عین ہے لیکن اسی حکم کے دوسرے ٹکڑے کے متعلق یہ کیفیت ہے کہ اسے کوئی بھی فرض قرار نہیں دیتا۔ صلوٰۃ کا تارک دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے لیکن استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا‘ مکروہ فعل کا مرتکب گردانا جاتا ہے اور بس! اسی سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ وانحر سے مراد عید کی قربانی لینا کس طرح قرآنی مفہوم کہلا سکتا ہے۔
پھر‘ ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ اگر وانحر سے مراد قربانی ہے تو نحر صرف اونٹ کی قربانی کے لئے مخصوص ہے۔ گائے‘ بھیڑ‘ بکری کی قربانی اس میں قطعاً شامل نہیں۔
ایک قدم اور آگے۔ قرآن نے ’’فصل لربک وانحر‘‘ فرمایا صل کے معنی ہوئے ’’نماز پڑھ‘‘ اور وانحر کے ان کے نزدیک ’’قربانی کر‘‘۔ اب ظاہر ہے کہ صل کے حکم کی ادائیگی اسی شکل میں اور انہی شرائط کے ساتھ ہو گی جو قرآن میں دوسرے مقامات پر مذکور ہیں۔ مثلاً قرآن نے حکم دے دیا کہ صلوٰۃ کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ لہٰذا جب صل کہا جائے گا تو اس کے ساتھ یہ تمام شرائط مستلزم ہوں گی۔ جس طرح صل کے لئے یہ ضروری ہے اسی طرح وانحر کے لئے بھی یہ ضروری ہے۔ صل کے لئے قرآن نے سمتِ قبلہ کا تعین فرما دیا ہے۔ اسی طرح وانحر کے لئے قرآن ہی نے کعبہ کے مقام کی تعیین کر دی ہے۔ لہٰذا جس طرح صل (نماز) کے لئے سمت قبلہ ضروری ہے اسی طرح نحر (قربانی) کے لئے مقامِ کعبہ ضروری ہے۔ نہ سمتِ قبلہ کے بغیر (ہر طرف رخ کر کے) صلوٰۃ ہو سکتی ہے نہ مقامِ کعبہ کے بغیر (ہر مقام پر) قربانی۔ صل (صلوٰۃ) کے متعلق قرآن کی تمام حدود و قیود کا التزام ضروری قرار دینا لیکن وانحر (قربانی) کے متعلق‘ قرآن کی متعین کردہ شرط کے یکسر خلاف‘ دنیا کے ہر گلی کوچے کو قربان گاہ تصور کر لینا‘ اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ -(2:85) (کتاب کے ایک حصہ پر ایمان اور دوسرے حصہ سے انکار) کے مرادف نہیں تو اور کیا ہے؟
***
آپ یقیناًحیران ہوں گے کہ جب قرآن میں قربانی کے متعلق ایسی تصریحات موجود ہیں تو پھر وہ کونسی وجہ ہے جس کی بنا پر یہ تمام حضرات اس پر مُصر ہیں کہ قربانی کی جگہ مختص نہیں۔ یہ ہر گلی کوچے میں ہو سکی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو دین کے دوسرے شعبوں کو قرآن کے خلاف لے جانے کی وجہ بنی ہے۔ یعنی روایات!! کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے عید قرباں کے دن اپنے طور پر قربانی کی۔ چونکہ ہمارے ہاں ’’دین‘‘ کی بنیاد قرآن نہیں‘ بلکہ احادیث ہیں‘ اور احادیث‘ قرآن کی ناسخ بھی ہو سکتی ہیں اور اس پر قاضی بھی‘ اس لئے جس معاملہ میں قرآن اور احادیث میں اختلاف ہو گا‘ ان لوگوں کا عمل حدیث کے مطابق ہو گا‘ قرآن کے مطابق نہیں۔ قرآن میں تصریح موجود ہے کہ قربانی حج کے موقع پر کعبہ میں کی جاتی ہے لیکن چونکہ چند ایک روایات میں آچکا ہے کہ رسول اللہﷺ عید کے دن قربانی کیا کرتے تھے اس لئے قرآن جو کچھ کہتا ہے اسے کہنے دیجئے۔ عمل حدیث پر ہو گا!
لیکن جیسا کہ روایات میں عام طور پر ہوتا ہے‘ اس باب میں بھی دونوں قسم کی روایات موجود ہیں۔ ایسی بھی جن سے مترشح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے عید کے دن قربانی کی اور ایسی بھی جن سے ظاہر ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود مکہ میں قربانی کی یا اپنے قربانی کے جانور مکہ معظمہ میں بھیجے۔ روایت پرست حضرات کی کیفیت یہ ہے کہ یہ ان احادیث کو تو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں جن میں عید قرباں کی قربانی کا ذکر ہے لیکن ان دوسری قسم کی احادیث کا کبھی ذکر تک نہیں کرتے۔ علاوہ بریں‘ حدیث کو حجتِ دین قرار دینے میں ایک بہت بڑا ’’فائدہ‘‘ یہ بھی ہے کہ احادیث کے متناقض وغیرہ میں سے جو حدیث آپ کے مطلب کی ہو اسے آپ مستند قرار دے دیجئے اور جو آپ کے خلاف جائے اسے ضعیف ٹھہرا دیجئے۔ مودودی صاحب نے اپنے لئے اس باب میں اور بھی آسانیاں پیدا کر لی ہیں کیونکہ ان کا فیصلہ یہ ہے کہ حدیث کو مستند یا ضعیف قرار دینے کا معیار اس شخص کا فیصلہ ہے جو ’’مزاج شناسِ رسول اللہﷺ‘‘ ہو۔1؂ اسی مسلک کے پیش نظر مودودی صاحب نے اپنے محولہ بالا مضمون میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’اس باب میں جو مستند روایات ہیں ان میں سے چند یہ ہیں‘‘ (اس کے بعد کچھ روایات درج فرمائی ہیں)۔ لیکن جہاں اس قسم کی احادیث ہیں وہاں اس قسم کی احادیث بھی انہی کتابوں میں موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ قربانی کے جانوروں کو مکہ بھیجا کرتے تھے۔ مثلاً
(1) بخاری‘ مسلم‘ ابوداؤد‘ ترمذی‘ مالک‘ نسائی‘ سب کے سب اس حدیث کے راوی ہیں جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: آنحضرتﷺ کا معمول تھا کہ آپ مدینہ سے ہدی کو مکہ روانہ فرماتے تھے تو آپ کے ہدی کے ہار میں بنایا کرتی تھی۔
(2) حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حدیبیہ کے سال بہت سے اونٹ بطور ھدی مکہ کو روانہ کئے۔ ان میں ایک اونٹ چاندی کی نتھنی والا بھی تھا۔
(3) حضرت نافع ؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ اپنی قربانی کے جانوروں کو قباطی‘ انماط اور حلل کی جھول پہناتے پھر کعبہ کی طرف روانہ کر دیتے۔2؂
(4) زادالمعاد میں علامہ ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ حج 9ھ میں فرض ہوا۔ اس سال غزوۂ تبوک سے واپسی پر رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو کم و بیش تین سو مسلمانوں کے ہمراہ حج کے لئے بھیجا اور اپنے قربانی کے بیس اونٹ جن کے گلوں میں خود اپنے ہاتھ سے قلاوے پہنائے تھے ان کے ساتھ کر دیئے۔ دوسرے سال (10ھ میں) حضور اکرمﷺ نے خود حج کیا اور مکہ میں سو جانوروں کی قربانی کی۔ الغرض حج کی فرضیت کے بعد دو سال آپ زندہ رہے اور دونوں سال آپ کی طرف سے قربانی مکہ میں ہوئی۔
روایت پرست حضرات کہتے رہتے ہیں کہ کسی روایت کی صحت اور سقم جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ قرآن کے خلاف نہ ہو۔ بہت اچھا! قرآن نے قربانی کے لئے کعبہ کا مقام متعین کر دیا۔ روایات دونوں قسم کی موجود ہیں۔ وہ بھی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود کعبہ میں قربانی کی اور یا اپنی قربانی کے جانور مکہ بھیجے اور وہ بھی جو قرآن کے خلاف یہ بتاتی ہیں کہ حضورﷺ نے عید کے موقع پر کہیں اور بھی قربانی کی۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ جو احادیث قرآن کے مطابق ہیں وہ صحیح ہیں لیکن یہ مولوی صاحبان مُصر ہیں کہ نہیں! جو احادیث قرآن کے خلاف ہیں وہ صحیح ہیں اور انہی کے مطابق وہ قربانی کو ہر گلی کوچہ میں واجب قرار دیتے ہیں۔ یہ ہے ان حضرات کا مذہب!
ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہئے
***
چلئے! ہم یہ بھی مانے لیتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مکہ کے علاوہ اور جگہ بھی قربانی کی ہے۔ لیکن قرآن کے تعیینِ مقام کے پیش نظر‘ ہم یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایسا اُس زمانے میں کیا ہو گا جب قرآن نے اس امر کی تعیین نہیں کی ہو گی۔ قرآن کے حکم کے بعد ایسا کبھی نہیں کیا ہو گا کیونکہ رسول اللہﷺ قرآن کی کامل اتباع فرماتے تھے۔ لہٰذا قرآن کی تعیین کے بعد رسول اللہﷺ کا وہ عمل جو قرآنی حکم سے پہلے کا ہو‘ سند نہیں قرار پا سکتا۔ مثلاً رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ لیکن کب؟ اس وقت جب ہنوز قرآن نے سمتِ قبلہ کا تعین نہیں کیا تھا۔ جب قرآن نے سمت متعین کر دی تو اس کے بعد رسول اللہﷺ قبلہ کی سمت نماز پڑھنے لگ گئے۔ اب اگر کوئی شخص‘ ان روایات کی بنا پر جن میں لکھا ہے کہ رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے‘ یہ کہے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا مسنون ہے کیونکہ۔۔۔ رسول اللہﷺ سے ایسا ثابت ہے تو کیا آپ اس ’’سنتِ‘‘ رسول اللہﷺ پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟ آپ ایسا نہیں کریں گے ۔ لیکن سوچئے کہ قربانی کے بارے میں آپ ایسا ہی کر رہے ہیں! جب قرآن نے مقامِ قربانی کا تعین کر دیا تو اس کے بعد رسول اللہﷺ کا وہ عمل جس میں آپﷺ نے (اس حکم سے پہلے) دوسرے مقامات پر قربانی کی ہو‘ سنت رسول اللہﷺ قرار نہیں پائے گا!
لیکن اگر آپ اس کے بعد بھی اسی پر مُصر ہیں کہ رسول اللہﷺ نے قرآنی تعیین کے بعد بھی‘ دوسری جگہ قربانی کی ہے‘ تو معاف فرمایئے! ہم حضورﷺ کے متعلق اس قسم کے خیال کی جرأت قطعاً نہیں کر سکتے۔ ہم اسے حضورﷺ کے خلاف بہت بڑا افترا سمجھتے ہیں اور افک عظیم۔ ایسا ہی افترا جیسے کوئی کہے کہ سمتِ قبلہ کے تعین کے بعد بھی حضورﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ کوئی روایت جو رسول اللہﷺ کے کسی عمل کو قرآنی تصریحات کے خلاف بتاتی ہے ہمارے نزدیک قطعاً وضعی ہے اور بہتان عظیم۔
***
قربانی کو عام طور پر ’’سنتِ ابراہیمیؑ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ قرآن میں صرف اتنا مذکور ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس خواب کو حقیقی سمجھا اور حضرت اسمٰعیلؑ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ جب اُنہیں لٹا دیا تو خدا نے آواز دی کہ اے ابراہیم تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا!1؂ قرآن میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی جگہ ایک مینڈھا جنت سے بھیجا گیا جس کی قربانی حضرت ابراہیمؑ نے کر دی۔ یہ بیان تورات کا ہے۔ قرآن کا نہیں۔ لہٰذا بکروں کی قربانی سنتِ ابراہیمیؑ بھی نہیں۔ اگر کسی کو سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل پیرا ہونا ہے تو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لٹائے۔ اس کے بعد اگر اسے خدا کی طرف سے آواز آجائے کہ بیٹے کو چھوڑ دو‘ توچھوڑ دے اور اگر ایسی آواز نہ آئے تو اُسے ذبح کر ڈالے! بیٹے کی جگہ بکرا ذبح کر دینا اور اسے قرار دینا سنتِ ابراہیمیؑ کا اتباع! تلاعب بالدین ہے۔
***
بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ قرآن میں ہے کہ خدا نے حضرت اسمٰعیلؑ کو ’’ذبح عظیم‘‘ کے فدیہ میں چھڑا لیا اور وہ ’’ذبح عظیم‘‘ یہی (بکروں اور مینڈھوں کی) قربانیاں ہیں جو ہر سال دی جاتی ہیں۔ یہ عقیدہ بھی خود تراشیدہ ہے۔ اول تو اس منطق پر غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے (حضرت) اسمٰعیلؑ کو چھری سے ذبح ہونے سے بچا کر ’’ذبح عظیم‘‘ (بہت بڑی قربانی) کے لئے مختص کر لیا۔ اور ہمارے ہاں اس سے مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی کے مقابلہ میں بھیڑوں بکریوں کی قربانی ’’ذبح عظیم‘‘ ہے۔ غور کیجئے کہ اس سے کیسی بلند حقیقت کو کتنی پست سطح پر لایا جاتا ہے۔ حضرت اسمٰعیلؑ باپ کے پہلوٹھے بیٹے (اور منصب سرداری کے مستحق) ہونے کی جہت سے شام کی سرسبز و شاداب وادیوں کے حکمران بننے والے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ انہیں‘ اپنے خیال کے مطابق خدا کی راہ میں ذبح کر رہے تھے۔ چھری گلے تک آپہنچی تھی۔ بس ایک لمحہ میں یہ قربانی ختم ہو جانے والی تھی۔ اللہ نے انہیں چھری سے بچا کر حکم دیا کہ مکہ کی بے برگ و گیاہ وادی میں ’’ہمارا گھر‘‘ بناؤ اور حضرت اسمٰعیلؑ کو اس گھر کی پاسبانی کے لئے وقف کر دو۔ آپ غور کیجئے۔ سرزمین شام کی شادابیوں اور شگفتگیوں کی جگہ صحرائے عرب کا مسکن اور منصب سرداری اور حکمرانی کے بجائے عبادت گاہ کی تولیت! یہ تھی وہ بڑی قربانی جس کے لئے حضرت اسمٰعیلؑ کو چھڑا لیا گیا تھا۔ وہ قربانی جسے ایک لمحہ میں ختم نہیں ہو جانا تھا بلکہ ساری عمر ساتھ رہنا تھا۔ یہ ایک ایک سانس کی قربانی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ قربانی تھی۔ مسلسل و متواتر قربانی تھی۔ عمر بھر کی قربانی تھی۔ بلکہ یوں کہئے کہ پشتوں تک کی قربانی تھی۔ حضرت اسحٰقؑ کی نسل کے حصہ میں شوکتِ سلیمانی اور دارائے داؤدی آگیا اور حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد کے حصہ میں صحرائے عرب کی عبادت گاہ کی رکھوالی۔ کہئے! یہ قربانی بڑی تھی یا ایک لمحہ میں رگِ جان کا کٹ جانا! یہ تھی وہ عظیم الشان قربانی جس کے اثرات صدیوں تک تولیتِ کعبہ کی شکل میں متوارث آگے بڑھتے رہے تآنکہ‘ شاخِ اسرائیلی کے بے نم ہو جانے کے بعد‘ یہ شاخ اسمٰعیلی‘ اس حسن و شادابی کے ساتھ گلبار و ثمر ریز ہوئی کہ اس کی تازگی اور شگفتگی میں قیامت تک فرق نہیں آئے گا۔ یہ تھا ثمرہ اس ’’ذبح عظیم‘‘ کا جس کے لئے حضرت اسمٰعیلؑ کو خدا نے وقف کر لیا تھا۔ اس حقیقت کے بعد سوچئے کہ ’’ذبح عظیم‘‘ سے مراد بھیڑوں‘ بکریوں کی قربانی لینا‘ قرآنی عظمتوں کو کن پستیوں تک لے جانا ہے۔
***
اب آخر میں دیکھئے مودودی صاحب کی وہ دلیل‘ جو اس وقت دی جاتی ہے جب کوئی دلیل نہیں سوجھتی۔ وہ دلیل جس کے متعلق قرآن کریم نے ہر نبی کے واقعات کے سلسلہ میں بیان کیا ہے۔ یعنی جب بھی اللہ کا کوئی رسول آتا اور لوگوں کو وحی خداوندی کی طرف دعوت دیتا تو سامنے سے جواب یہ ملتا کہ ہم اس علم و بصیرت کی اتباع نہیں کریں گے جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو۔ بلکہ
اِنَّا وَجَدْنَا آبَاء نَا عَلَی اُمَّۃٍ وَاِنَّا عَلَی آثَارِہِم مُّہْتَدُونَ-(43:22)
ہم نے اپنے اسلاف کو ایک مسلک پر چلتے پایا ہے۔ ہم انہی کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔
مترفین قوم یہ کہہ کر عوام کو بھڑکا دیتے اور پھر عوام ان مدعیانِ حق و صداقت کے پیچھے پڑ جاتے۔ یہی سابقہ انبیائے کرامؑ کی وحی کے ساتھ ہوتا رہا اور یہی نبی اکرمﷺ کی طرف آمدہ وحی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چنانچہ مودودی صاحب اس باب میں فرماتے ہیں:
سب سے بڑا ثبوت اس کے سنت اور مشروع ہونے کا یہ ہے کہ نبیﷺ کے عہد مبارک1؂ سے لے کر آج تک مسلمانوں کی نسل اس پر عمل کرتی چلی آئی ہے۔ دوچار یا دس پانچ آدمیوں نے نہیں بلکہ ہر پشت کے لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں نے اس طریقہ کو اخذ کیا ہے اور اپنے بعد والی پشت تک کے لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں تک اسے پہنچایا ہے۔
اس کے بعد مودودی صاحب اس حربہ پر اتر آتے ہیں جس سے عوام کے جذبات کو مشتعل کیا جاتا ہے۔
اگر تاریخ اسلام کے کسی مرحلہ پر کسی نے اسے ایجاد کر کے دین میں شامل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ عام مسلمان بالاتفاق رائے اسے قبول کرتے اور کہیں کوئی بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا۔ آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری امت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہماری پچھلی نسلیں ایسی ہی منافق تھیں تو معاملہ قربانی تک کب محدود رہتا ہے۔ پھر تو نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ بلکہ خود رسالت محمدیہﷺ اور قرآن تک سب ہی کچھ مشکوک و مشتبہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
اس کے بعد ارشاد ہے:
افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ نہ خدا کا خوف رکھتے ہیں‘ نہ خلق کی شرم‘ علم اور سمجھ بوجھ کے بغیر جو شخص جس دینی مسئلہ پر چاہتا ہے۔ بے تکلف تیشہ چلا دیتا ہے پھر اسے کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس ضرب سے صرف اسی ایک مسئلہ کی جڑ کٹتی ہے یا ساتھ ہی ساتھ دین کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے۔
یہ ہے وہ آخری دلیل محکم جو سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی طرف سے قربانی کے ثبوت میں پیش ہوئی ہے۔ اس دلیل کا جواب اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے جو خود خدا نے دیا ہے جب فرمایا کہ:
وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْْہِ آبَاء نَا اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْْطَانُ یَدْعُوہُمْ اِلَی عَذَابِ السَّعِیْرِ -(31:21)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں! ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے اسلاف کو دیکھا ہے۔ خواہ انہیں شیطان جلتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف ہی کیوں نہ بلا رہا ہو۔
یا خود مودودی صاحب کے الفاظ میں کہ:
جو چیز قرآن کے الفاظ یا اسپرٹ کے خلاف ہو گی اسے ہم یقیناًرد کر دیں گے۔ (تفہیمات‘ حصہ اول‘ ص329)۔
مودودی صاحب عوام کو بھڑکانے کی خاطر فرماتے ہیں کہ:
’’آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری امت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے؟‘‘
یعنی مودودی صاحب کے نزدیک یہ امر محال ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد کوئی ایسی چیز دین میں داخل کر دی گئی ہو جو خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہو اور وہ امت میں اس طرح رائج ہو جائے کہ پھر تمام مسلمان اسی مسلک پر چل پڑیں۔ یہ دلیل (بظاہر) بڑی وزنی معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا جواب ہم سے نہیں‘ خود مودودی صاحب کی زبان سے سنئے۔ مودودی صاحب نے آج سے کچھ عرصہ پہلے‘ رسالہ الفرقان (بریلی) کے شاہ ولی اللہ نمبر میں ’’منصب تجدید کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے پہلے یہ بتایا تھا کہ اصلی اسلام کیا تھا اور اسے رسول اللہﷺ نے کس طرح متشکل فرمایا۔ اس کے بعد انہوں نے لکھا تھا کہ اس اصلی اسلام پر کیا گذری اور کس طرح گذری۔ سنئے کہ وہ اس باب میں کیا فرماتے ہیں۔ (اقتباس طویل ہے لیکن ایسا ناگزیر تھا)۔ آپ لکھتے ہیں:
خاتم النبیین سیدنا محمدﷺ نے یہ سارا کام 23 سال کی مدت میں تکمیل کو پہنچا دیا۔ آپ کے بعد ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ دو ایسے کامل لیڈر اسلام کو میسر آئے جنہوں نے اسی جامعیت کے ساتھ آپ کے کام کو جاری رکھا۔ پھر زمام قیادت حضرت عثمانؓ کی طرف منتقل ہوئی اور ابتداً چند سال تک وہ پورا نقشہ بدستور جما رہا جو نبیﷺ نے قائم کیا تھا۔
جاہلیت کا حملہ: مگر ایک طرف حکومت اسلامی۔۔۔ کی تیز رفتار وسعت کی وجہ سے کام روز بروز زیادہ سخت ہوتا جا رہا تھا اور دوسری طرف حضرت عثمانؓ‘ جن پر اس کارعظیم کا بار رکھا گیا تھا‘ ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطا ہوئی تھیں‘ اس لئے جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔ حضرت عثمانؓ نے اپنا سر دے کر اس خطرے کا راستہ روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رُکا۔ ان کے بعد حضرت علیؓ آگے بڑھے اور انہوں نے اسلام کے سیاسی اقتدار کو جاہلیت کے تسلط سے بچانے کی انتہائی کوشش کی مگر ان کی جان کی قربانی بھی اس انقلاب معکوس کو نہ روک سکی۔ آخر کار خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دور ختم ہو گیا‘ ’’ملک۔۔۔ ‘‘ نے اس کی جگہ لے لی‘ اور اس طرح حکومت کی اساس اسلام کی بجائے پھر جاہلیت پر قائم ہو گئی۔
حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جاہلیت نے مرض سرطان کی طرح اجتماعی زندگی میں اپنے ریشے بتدریج پھیلانے شروع کر دیئے‘ کیونکہ اقتدار کی کنجی اب اسلام کی بجائے اس کے ہاتھ میں تھی اور اسلام زور حکومت سے محروم ہونے کے بعد اس کے نفوذ و اثر کو بڑھنے سے نہ روک سکتا تھا۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہ آئی تھی بلکہ ’’مسلمان‘‘ بن کر آئی تھی۔ کھلے دہریئے یا مشرکین و کفار سامنے ہوتے تو مقابلہ شاید آسان ہوتا‘ مگر وہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار‘ رسالت کا اقرار‘ صوم و صلوٰۃ پر عمل‘ قرآن و حدیث سے استشہاد تھا اور اس کے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی تھی۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے عہدہ برآ ہونا ہمیشہ جاہلیتِ صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لئے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سے لڑنے جایئے تو منافقین ہی نہیں‘ بہت سے اصلی مسلمان بھی اس کی حمایت پر کمربستہ ہو جائیں گے اور الٹا آپ کو مورد الزام بنا ڈالیں گے۔ جاہلی امارت کی مسند اور جاہلی سیاست کی رہنمائی پر ’’مسلمان‘‘ کا جلوہ افروز ہونا‘ جاہلی تعلیم کے مدرسے میں ’’مسلمان‘‘ کا معلم ہونا‘ جاہلیت کے سجادہ پر ’’مسلمان‘‘ کا مرشد بن کر بیٹھنا وہ زبردست دھوکا ہے جس کے فریب میں آنے سے کم ہی لوگ بچ سکتے ہیں۔
اس معکوس انقلاب کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہی تھا کہ اسلام کا نقاب اوڑھ کر تینوں قسم کی جاہلیتوں نے اپنی جڑیں پھیلانی شروع کر دیں اور ان کے اثرات روز بروز زیادہ پھیلتے چلے گئے۔
جاہلیت خالصہ نے حکومت اور دولت پر تسلط جما لیا۔ نام خلافت کا تھا اور اصل میں وہی پادشاہی تھی جس کو مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔ بادشاہوں کو الٰہ کہنے کی ہمت کسی میں باقی نہ تھی اس لئے ’’السلطان ظل اللہ‘‘ کا بہانہ اختیار کیا گیا اور اس بہانے سے وہی مطاع مطلق کی حیثیت بادشاہوں نے اختیار کی جو الٰہ کی ہوتی ہے۔ اس شاہی کی سرپرستی میں امراء‘ حکام‘ ولاۃ‘ اہل لشکر اور مترفین کی زندگیوں میں کم و بیش خالص جاہلیت کا نقطۂ نظر پھیل گیا اور اس نے ان کے اخلاق اور معاشرت کو پوری طرح ماؤف کر دیا۔ پھر یہ بالکل ایک طبعی امر تھا کہ اس کے ساتھ ہی جاہلیت خالصہ کا فلسفہ‘ ادب اور ہنر بھی پھیلنا شروع ہو‘ اور علوم و فنون بھی اسی طرز پر مرتب و مدون ہوں‘ کیونکہ یہ سب چیزیں دولت اور حکومت کی سرپرستی چاہتی ہیں‘ اور جہاں دولت اور حکومت جاہلیت کے قبضہ میں ہوں وہاں ان پر بھی جاہلیت کا تسلط ناگزیر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یونان اور عجم کے فلسفے اور علوم و آداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی‘ اور اس کی دراندازی سے ’’کلامیات‘‘ کی بحثیں شروع ہوئیں‘ اعتزال کا مسلک نکلا‘ زندقہ اور الحاد‘ پَر پُرزے نکالنے لگا اور ’’عقائد‘‘ کی موشگافیوں نے نئے نئے فرقے پیدا کر دیئے۔ اسی پر بس نہیں رقص‘ موسیقی اور تصویر کشی جیسے خالص جاہلی آرٹ بھی ازسرِنو ان قوموں میں بار پانے لگے جن کو اسلام نے ان فتنوں سے بچا لیا تھا۔
جاہلیت مشرکانہ نے عوام پر حملہ کیا اور توحید کے راستے سے ہٹا کر ان کو ضلالت کی بے شمار راہوں میں بھٹکا دیا۔ ایک صریح بت پرستی تو نہ ہو سکی باقی کوئی قسم شرک کی ایسی نہ رہی جس نے ’’مسلمانوں‘‘ میں رواج نہ پایا ہو۔ پرانی جاہل قوموں کے جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے وہ اپنے ساتھ بہت سے مشرکانہ تصورات لئے چلے آئے اور یہاں ان کو صرف اتنی تکلیف کرنی پڑی کہ پرانے معبودوں کی جگہ مقابر اولیاء سے کام لیں اور پرانی عبادات کی رسموں کو بدل کر نئی رسمیں ایجاد کریں۔ اس کام میں دنیا پرست علماء نے ان کی بڑی مدد کی اور وہ بہت سی مشکلات ان کے راستہ سے دور کر دیں جو شرک کو اسلام کے اندر نصب کرنے میں پیش آسکتی تھیں۔ انہوں نے بڑی دیدہ ریزی سے آیات اور احادیث کو توڑ مروڑ کر اسلام میں اولیا پرستی اور قبر پرستی کی جگہ نکالی‘ مشرکانہ اعمال کے لئے اسلام کی اصطلاحی زبان میں سے الفاظ بہم پہنچائے اور اس نئی شریعت کے لئے رسموں کی ایسی صورتیں تجویز کیں کہ شرکِ جلی کی تعریف میں نہ آسکیں۔ اس فنی امداد کے بغیر اسلام کے دائرے میں شرک بیچارہ کہاں بار پا سکتا تھا؟
جاہلیتِ راہبانہ نے علماء مشائخ‘ زھاد اور پاک باز لوگوں پر حملہ کیا اور ان میں وہ خرابیاں پھیلانی شروع کیں جن کی طرف میں اس سے پہلے اشارہ کر آیا ہوں۔ اس جاہلیت کے اثر سے اشراقی فلسفہ‘ راہبانہ اخلاقیات اور زندگی کے ہر پہلو میں مایوسانہ نقطۂ نظر مسلم سوسائٹی میں پھیلا اور اس نے نہ صرف یہ کہ ادبیات اور علوم کو متاثر کیا‘ بلکہ فی الواقع سوسائٹی کے اچھے عناصر کو مارفیا کا انجکشن دے کر سست کر دیا‘ پادشاہی کے جاہلی نظام کو مضبوط کیا‘ اسلامی علوم و فنون میں جمود اور تنگ خیالی پیدا کی اور ساری دین داری کو چند خاص مذہبی اعمال میں محدود کر دیا۔
مودودی صاحب کے بیان کے مطابق‘ رسول اللہﷺ کی وفات کے تھوڑے عرصہ بعد ’’جاہلیت‘‘ اسلام میں گھس آئی اور اس نے مرض سرطان کی طرح مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اپنے ریشے بتدریج پھیلانے شروع کر دیئے اور اس کے بعد ہو یہ گیا کہ امارت کی مسند اور سیاست کی راہنمائی پر‘ جاہلیت مسلمان کا نقاب اوڑھ کر بیٹھ گئی۔ تعلیم کی مدد سے جاہلیت مسلمان کے لباس میں معلم بن کر متمکن ہو گئی اور خانقاہوں کے سجادوں پر جاہلیت مرشد و مربی کے خرقوں سے مسلط ہو گئی۔ غرضیکہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد زندگی کے عناصر ثلاثہ‘ سیاست‘ شریعت اور تصوف‘ سب پر غیر اسلامی تصورات چھا گئے اور چھا گئے خالص اسلام کا نقاب اوڑھ کر۔
ہم مودودی صاحب سے پوچھتے یہ ہیں کہ جب سرے سے پورے کے پورے اسلام کی جگہ ایک جدید اسلام نے لے لی تھی اور غیر اسلامی معتقدات و اعمال‘ یکسر اسلامی شعائر و مناسک بن کر مسلمانوں میں مروج ہو گئے تھے۔ تو اس سیلاب جاہلیت میں اگر یہ خیال بھی بہ کر آگیا ہو کہ ہر گلی کوچے میں قربانی امرِ مشروع ہے‘ تو اس میں کونسی بات وجۂ استعجاب ہے!
اصل یہ ہے کہ مودودی صاحب کرتے یہ ہیں (اور یہ مسلک ہر شخص کا ہوتا ہے جو ایک نئی پارٹی (فرقہ) کا مرکز بن رہا ہو) کہ جب انہیں یہ (Suit) کرے کہ مسلمانوں کو گمراہ اور برباطل قرار دیا جائے تو وہ بے محابا ایسا کہتے چلے جائیں گے۔ لیکن اس استثناء کے ساتھ کہ ’’اس گمراہی و ضلالت کے باوجود‘ ہر زمانے میں کچھ لوگ ایسے رہتے ہیں جو حق پر ہوتے ہیں‘‘ تاکہ اس سے وہ اپنی پارٹی کو برسرِ حق ثابت کر سکیں لیکن جب کوئی دوسرا شخص یہ کہے کہ مسلمانوں میں فلاں بات غلط چلی آرہی ہے تو وہ جھٹ جمہور کے بہی خواہ بن بیٹھیں گے اور انہیں یہ کہہ کر بھڑکائیں گے کہ ’’دیکھو! یہ شخص تمہارے اسلاف کے متعلق کہتا ہے کہ وہ سب گمراہ تھے۔ استغفراللہ۔ توبہ توبہ‘ ایسی جرأت!‘‘ مثلاً پچھلے دنوں مودودی صاحب نے ایک اصول بیان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی منصب کے لئے امیدوار ہو اسے اس منصب سے محروم کر دینا چاہئے کیونکہ ان کے نزدیک کسی منصب کے لئے اپنے آپ کو بطور امیدوار پیش کرنا قرآن اور حدیث دونوں کے خلاف ہے۔ اس پر کسی صاحب نے اعتراض کیا کہ حضرت علیؓ نے اپنے آپ کو خلافت کے لئے خود بطور امیدوار پیش کیا تھا۔ اس کے جواب میں مودودی صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ:
آخری فیصلہ کن بات اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اگر صحابہ کرامؓ یا بزرگانِ سلف میں سے کسی کا عمل ایک طرف ہو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ارشادات دوسری طرف تو ہمارے لئے یہ کسی طرح جائز نہیں کہ خدا اور رسولﷺ کے فرمان کو چھوڑ کر کسی بزرگ کے عمل کو اپنے لئے قانونِ زندگی قرار دیں۔ جس کا جو عمل بھی فرمانِ خدا اور رسولﷺ سے مختلف ہو وہ ایک لغزش ہے نہ کہ حجت۔ ان بزرگوں کی خوبیاں اور خدمات تو اتنی زیادہ تھیں کہ ان کی لغزشیں معاف ہو جائیں گی مگر ہم سے زیادہ بدقسمت کون ہو گا اگر ہم اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ پچھلے بزرگوں کی لغزشیں بھی چن چن کر اپنی زندگی میں جمع کر لیں۔
اگر یہی چیز کہیں طلوع اسلام میں شائع ہو جاتی تو آپ دیکھتے کہ اس پر کس طرح سب و شتم کی پوچھار ہوتی اور جمہور کو کس طرح یہ کہہ کر ابھارا جاتا کہ دیکھو! اب‘ اور تو اور‘ حضرت علیؓ کی ذاتِ گرامی پر بھی حملے ہونے لگ گئے ہیں!
بہرحال‘ آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ مودودی صاحب نے اپنے اس اعتراض کا جواب‘ کہ امت میں اس قسم کا خلافِ اسلام مسلک کیسے رائج ہو سکتا تھا‘ خود ہی کس طرح دے دیا ہے۔ مودودی صاحب نے یہ تو بتا دیا کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد کس طرح پورے کا پورا اسلام ایک دوسری قسم کے اسلام سے بدلا گیا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ جاہلیت‘ جو اسلام کا نقاب اوڑھ کر اندر گھسی تھی‘ آئی کن کن راہوں سے تھی اور اس کا طریقِ کار کیا تھا؟ مودودی صاحب کے لئے یہ بتانا مشکل تھا۔ مجرد گفتگو (Abstract talk) میں انسان کے لئے بڑی گنجائش رہتی ہے لیکن متعین گفتگو (Definite talk) میں آپ کو نتھر کر سامنے آنا پڑتا ہے۔ مودودی صاحب جانتے ہیں کہ ’’جاہلی اسلام‘‘ نے یہ سب کچھ روایات کی آڑ میں کیا۔ طلوع اسلام اس کو وہ سازش قرار دیتا ہے جس کا ذکر اس کے صفحات پربار بار ہوتا چلا آرہا ہے اور اس طرح مسلمانوں کے دامن کو روایات کی جھاڑیوں سے چھڑانا چاہتا ہے۔ مودودی صاحب بھی روایات کو ویسا ہی غیر یقینی مانتے ہیں جیسا طلوع اسلام۔ روایات کے متعلق ان کے یہ خیالات اس سے قبل انہی صفحات پر پیش کئے جا چکے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں۔
(1) صداقت کے ساتھ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ پہلی صدی کے
آخر سے حدیث کے ذخیرے میں ایک حصہ ایسی روایات کا بھی داخل ہونے لگا تھا جو موضوع تھیں اور یہ کہ بعد کی نسلوں کو جو احادیث پہنچیں ان میں صحیح اور غلط اور مشکوک سب ملی جلی تھیں۔
(2) یہ بات ناقابلِ انکار ہے کہ علم کا جیسا مستند اور معتبر ذریعہ قرآن مجید ہے ویسا مستند اور معتبر ذریعہ حدیث نہیں ہے۔
(3) محدثین کرام نے اسماء الرجال کا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا جو بلاشبہ نہایت بیش قیمت ہے۔ مگر ان میں کونسی چیز ہے جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو۔۔۔ نفس ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا تھا اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ اشخاص کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کرنے میں ان کے ذاتی رجحانات کا بھی کسی حد تک دخل ہو جائے۔ یہ امکان محض عقلی نہیں بلکہ اس امر کا ثبوت موجود ہے۔
(4) وہ بھی تو آخر انسان تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں۔ کیا ضروری ہے کہ جس کو انہوں نے ثقہ قرار دیا ہو وہ بالیقین ثقہ اور تمام روایتوں میں ثقہ ہو اور جس کو انہوں نے غیر ثقہ ٹھہرایا ہو وہ بالیقین غیر ثقہ ہو۔
(5) یہ مواد اس حد تک قابل اعتماد ضرور ہے کہ سنت نبویﷺ اور آثار صحابہؓ کی تحقیق میں اس سے مدد لی جائے اور اس کا مناسب لحاظ کیا جائے مگر اس قابل نہیں ہے کہ بالکل اسی پر اعتماد کر لیا جائے۔
(6) حقیقت یہ ہے کہ روایات کے لحاظ سے نقد حدیث کے جس قدر ذرائع ہمارے پاس ہیں وہ مفید علم و یقین نہیں ہیں بلکہ ظن غالب ہی تک ہمیں پہنچاتے ہیں۔1؂
لیکن اس کے بعد‘ طلوعِ اسلام تو کھلے کھلے کہہ دے گا کہ حق (قرآن) کی موجودگی میں ظن و تخمین (روایات) دین میں حجت نہیں قرار دی جا سکتیں۔ لیکن مودودی صاحب ایسا نہیں کہیں گے۔ اس لئے کہ ایسا کہنے سے وہ بھی ’’منکرِ حدیث‘‘ قرار پا جائیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ منکر حدیث کبھی اسلامی جماعت کا امیر نہیں رہ سکتا نہ ہی عوام میں مقبول رہ سکتا ہے۔ وہ روایات کو غیر یقینی قرار دے کر ماڈرن طبقہ کے نزدیک ماڈرن بن جائیں گے اور اپنی تحریروں میں ’’کتاب و سنت‘‘۔ ’’کتاب و سنت‘‘ کے الفاظ دہرا دہرا کر‘ عوام میں حامی سنت رسول اللہﷺ قرار پائیں گے۔
اس کے علاوہ‘ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے‘ احادیث کو دین قرار دینے میں گنجائش بڑی نکل آتی ہے۔ حدیثوں کے مجموعہ میں ہر قسم کی روایات مل جاتی ہیں۔ جس حدیث کو آپ اپنے مطلب کے مطابق سمجھیں اسے ’’مستند‘‘ کہہ دیں۔ جو اس کے خلاف ہو‘ اسے ضعیف قرار دے دیں؟ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ ماہ قبل یہ بحث چلی تھی کہ اسلام میں زمین کی انفرادی ملکیت جائز ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں بعض حضرات نے ایسی احادیث پیش کیں جن سے مترشح ہوتا تھا کہ زمین پر انفرادی ملکیت جائز نہیں اور زمین بٹائی پر نہیں دی جا سکتی۔ مودودی صاحب زمین پر زمینداروں کی ملکیت رکھنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہہ دیا کہ جو احادیث بٹائی کو ناجائز قرار دیتی ہیں سب غیر مستند ہیں اور جو احادیث میں بٹائی کے حق میں پیش کر رہا ہوں بالکل ثقہ اور صحیح ہیں۔
***
گذشتہ اوراق میں جو کچھ آپ کی نظروں سے گذر چکا ہے اسے بغور دیکھئے۔ یہ حقیقت آپ کے سامنے آجائے گی کہ:
(i) قرآن کریم نے قربانی کا ذکر حج کے سلسلہ میں کیا ہے۔
(ii) ایک جگہ نہیں‘ متعدد مقامات پر اس کی تخصیص اور تعیین کر
دی ہے کہ قربانیوں کا مقام خانہ کعبہ ہے۔
(iii) قربانی کے متعلق واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اس سے
مقصود سامانِ خور و نوش کا مہیا کرنا ہے۔
(iv) قرآن میں کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں جس سے ثابت
ہوتا ہو کہ عید کے دن‘ اپنی اپنی جگہ‘ ہر گلی‘ کوچے میں
قربانیاں دینے کا حکم ہے۔
اس سے یہ واضح ہے کہ قرآن کی رُو سے
(ا) قربانی حج کی تقریب پر کرنی چاہئے اور وہ بھی صرف اسی
قدر جس سے خور و نوش کا سامان ہو جائے۔ لہٰذا
(ب) نہ تو حج میں ایسی قربانیوں کی اجازت ہے جنہیں زمین
میں دبا دیا جائے اور نہ ہی حج سے باہر قربانی کا کوئی
سوال پیدا ہوتا ہے۔
یہ ہے قرآن کی کھلی کھلی اور واضح تعلیم۔ باقی رہیں احادیث۔ سو
(i) ان میں دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں۔ وہ بھی جن سے مترشح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے عید کے دن قربانی کی اور وہ بھی جن سے ظاہر ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود مکہ معظمہ میں بتقریب حج قربانی کی یا قربانی کے جانوروں کو مکہ معظمہ بھیجا۔
(ii) لہٰذا قرآن کی تخصیص و تعیینِ مقام و تقریب کے بعد‘ اول قسم کی احادیث کے متعلق یہی سمجھنا چاہئے کہ وہ
(ا) یا تو اس زمانے سے متعلق ہیں جب قرآن میں ہنوز حج کی قربانی کے احکام نہیں آئے تھے۔ اس لئے جب وہ احکام آگئے تو رسول اللہﷺ کا یہ عمل‘ سند نہ رہا۔ اور
(ب) اگر شق (ا)ناقابلِ تسلیم ہو تو پھر لامحالہ اسی نتیجہ پر پہنچا جائے گا کہ یہ روایات وضعی ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ کا کوئی عمل قرآن کے خلاف ہو نہیں سکتا۔
لیکن اگر اس کے باوجود آپ کو اس پر اصرار ہے کہ حج میں ہر حاجی کو ایک‘ ایک‘ دو دو‘ چار چار‘ دس دس‘ سو سو جانور ذبح کرنے کی اجازت ہے اور ہر جانور کے ذبح کرنے کا ثواب ملتا ہے اور نیز یہ کہ دنیا کے ہر گلی کوچے میں عید کے دن جانور ذبح کرنا امر مشروع ہے۔ تو ہم اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا کام راستہ دکھا دینا ہے۔ راستے پر لگا دینا نہیں۔
مشکل یہ ہے کہ جب انسان کے ذہن میں کوئی بات اندھی تقلید کی بنا پر بطور عقیدہ جم جائے تو اس میں خالی الذہن ہو کر سوچنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔ اگر ان حضرات میں خالی الذہن ہو کر سوچنے کی صلاحیت ہوتی تو ہم ان سے کہتے کہ آپ ذرا تصور میں لایئے کہ کسی جگہ قریب ایک لاکھ انسان جمع ہوں اور ان میں سے ہر ایک دو‘ دو۔ چار چار‘ بھیڑوں بکریوں کو ذبح کر کے زمین پر تڑپتا چھوڑ دے اور اس کے بعد ان تمام تین چار لاکھ لاشوں کو گڑھے کھود کھود کر دبا دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا میں ہر مقام پر کروڑوں کی تعداد میں اسی طرح جانور ذبح کئے جائیں اور دن بھر ان جانوروں کا گوشت اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر گھومتا پھرے اور اس کے بعد یہ قوم اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے ایک بہت بڑا کارنمایاں سرانجام دے دیا جس کا انہیں خدا کے ہاں بہت بڑا اجر ملے گا اور یہ جانور انہیں جہنم سے پار لگانے کا موجب بنیں گے۔ یہ منظر تصور میں لایئے اور پھر سوچئے کہ ان چار روایتوں نے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے‘ آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا اور کیا سے کیا بنا دیا ہے۔ روایات نے کیا یہ ہے کہ اسلام جیسے زندگی بخش نظامِ حیات کو رسومات کا مجموعہ بنا دیا ہے (اور یہی ان لوگوں کا مقصود تھا جنہوں نے مسلمانوں کو قرآن سے ہٹا کر روایات میں الجھا دیا۔ رسومات سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کو نتائج کے اعتبار سے نہیں پرکھتا بلکہ انہی کو بجائے خویش مقصود قرار دے لیتا ہے۔ ان کے برعکس دین (نظامِ زندگی) میں ہر عمل ایک مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے اس لئے اسے ہمیشہ نتائج کے لحاظ سے پرکھا جاتا ہے چونکہ رسومات‘ غور و فکر کے معیار پر کبھی پوری نہیں اترتیں اس لئے ان کے ساتھ ہی یہ عقیدہ پیدا کر دیا جاتا ہے کہ مذہب میں عقل کا کوئی کام نہیں۔ دین کو رسومات میں بدلنے کے لئے شروع میں ضرور کاوش کرنی پڑتی ہے لیکن جب ایک دو نسلوں تک یہ سلسلہ چل جائے تو اس کے بعد سابقہ نسل کا عمل (اسلاف کا مسلک) آنے والی نسل کے لئے سند قرار پا جاتا ہے اور اس طرح یہ گاڑی خود اپنے زور (Momentum) سے خود بخود آگے بڑھتی جاتی ہے اور جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے ’’اسلاف کے مسلک‘‘ کی سند پختہ سے پختہ تر ہوتی جاتی ہے کیونکہ اس طرح نسلاً بعد نسلٍ اسلاف کی تعداد میں بھی تو اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے حتی زرتم المقابر۔ قوم زندگی کی تمام صلاحیتوں سے محروم ہو جاتی ہے۔ ہم اسی (Momentum) کے زور میں بہے چلے جا رہے ہیں‘ ورنہ اگر کسی وقت بھی‘ تھوڑی دیر کے لئے کھڑے ہو کرسوچ لیا جائے تو بات کچھ ایسی مشکل نہیں جو سمجھ میں نہ آسکے۔ رسول اللہﷺ کا عہد ہمایوں نہایت مختصر سا عرصہ تھا۔ اس وقت یہی دین تھا اور یہی اس کے احکام‘ جن کے ہم آج مدعی ہیں۔ اس نے جو نتائج پیدا کر دیئے وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔ اس کے بعد تیرہ سو برس سے مسلمانوں میں یہ تمام ’’اعمال‘‘ (نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ کلمہ وغیرہ) مسلسل چلے آرہے ہیں لیکن یہ واقعہ ہے کہ اس عہد کے بعد ان اعمال و معتقدات نے کبھی وہ نتائج پیدا نہیں کئے جو اس عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس کے بعد ان ’’اعمال‘‘ کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پھل دینا ہی بند کر دیا؟ اس باب میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ :
(1) اس وقت خود رسول اللہﷺ موجود تھے اور ان کی وجہ
سے ان اعمال نے ایسے ثمرات مرتب کر دیئے۔
(2) وہ دور صحابہؓ کا تھا۔ اس کے بعد ویسے مسلمان کہاں
سے آئیں۔
ذرا سوچئے کہ یہ دلائل کس قدر خود فریبی کا موجب ہیں۔ اگر ان اعمال کے نتیجہ خیز ہونے کے لئے خود رسول کی موجودگی ضروری تھی تو پھر سلسلۂ نبوت ختم کیوں کر دیا گیا؟ میر زائی‘ نبوتِ میرزا کے جواز میں یہی دلیل پیش کرتے ہیں لیکن قرآن اس دلیل کی صاف تردید کرتا ہے۔ وہ برملا کہتا ہے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُولٌ۔ محمدﷺ صرف خدا کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ۔ اس سے پہلے بہت سے پیغامبر ہو گذرے ہیں۔ اَفَاِن مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَی اَعْقَابِکُمْ -(3:144) اگر یہ وفات پا جائے یا قتل کر دیا جائے تو کیا تم اس کے بعد اُلٹے پاؤں لوٹ جاؤ گے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کے پیش کردہ نظام حیات کے نتیجہ خیز اور ثمربار ہونے کے لئے رسول کی موجودگی ضروری نہیں۔ نبوت کو ختم کر کے‘ قرآن کو قیامت تک کے لئے محفوظ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب پیغام‘ نبی کے بغیر‘ وہی نتائج پیدا کرے گا جو اس نے نبی کی موجودگی میں پیدا کئے تھے۔ باقی رہی دوسری دلیل۔ سو وہ پہلی دلیل سے بھی زیادہ رکیک ہے۔ صحابہؓ کو صحابہؓ ‘ نظام قرآن پر عمل پیرا ہونے نے بنا دیا تھا۔ اس لئے نظام قرآنی جو نتائج اس وقت پیدا کر سکتا تھا وہی نتائج ہر زمانہ میں مرتب کر سکتا ہے۔ اس نظام کی تو خصوصیت ہی یہ ہے کہ یہ مکان اور زمان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ ہر زمانہ اور ہر مقام میں وہی زندگی بخش نتائج پیدا کر دے جو اس نے ایک دفعہ پیدا کئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دلائل‘ روایت پرستوں نے فریب دہی کے لئے وضع کئے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ اب رسول اللہﷺ کے عہد مبارک کی سی شوکت و عظمت کیوں حاصل نہیں ہوتی تو وہ پوچھنے والوں کو یہ کہہ کر جھوٹا اطمینان دلا دیتے کہ تم اپنا مقابلہ اُس دور سے کیسے کر سکتے ہو؟ کیا تم اپنے آپ کو صحابہؓ جیسا سمجھتے ہو؟ حالانکہ ہوا یہ تھا کہ صحابہؓ کے زمانہ میں ہر عمل‘ اس کے نتائج سے پہچانا جاتا تھا اور اب روایت پرستی نے دین کو رسومات میں تبدیل کر کے یہ عقیدہ پیدا کر دیا تھا کہ مذہب کے یہ ارکان‘ مقصود بالذات ہیں۔ تم جب ان رسومات کو ادا کر دیتے ہو تو یہ اللہ کے ہاں مقبول ہو جاتے ہیں اور ان کا ’’ثواب‘‘ تمہارے نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے جو قیامت کے دن میزان میں تلے گا۔ اس سے ہر شخص مطمئن ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اب بھی یہ حالت ہے کہ جو شخص حج کر کے آتا ہے اُسے اطمینان ہوتا ہے کہ بحمداللہ میں ایک اہم فریضہ سے سبکدوش ہو گیا اور جو شخص قربانی دے دیتا ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے اپنی نجات کا سامان مہیا کر لیا۔ قربانی کے مقبول ہونے کے لئے بس اتنی شرط ہے کہ جانور کان کٹا اور دم بریدہ نہ ہو۔ اگر اس کے کان اور دم ثابت ہیں اور وہ کانا اور لنگڑا نہیں ہے تو بس قربانی کا فریضہ مع جملہ شرائط کے ادا ہو گیا۔ دین کے متعلق یہ تصور پیدا کر دیجئے اور اس کے بعد صحابہؓ تو ایک طرف‘ فرشتوں کو بھی لے آیئے۔ دین کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا! دنیا کے باقی مذاہب کے ساتھ یہی ہوا تھا اور اسی تصور کو مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔ لیکن عجم کی اُس سازش نے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ (اور جسے مودودی صاحب نے ’’جاہلی اسلام‘‘ سے تعبیر کیا ہے) اسلام کو بھی دیگر مذاہب کی صف میں لاکھڑا کیا اور اس کے زندہ نظامِ حیات کو‘ جو اُمتِ وسطیٰ کے لئے امامتِ اقوام (Leadership of Nations) کا ضامن تھا‘ مجموعۂ رسومات بنا دیا اور یہ سب کچھ کیا گیا روایات کے زور پر۔ رسول اللہﷺ نے جس طرح اپنی صداقت کی ایک دلیل محکم پیش کی تھی اور وہ یہ کہ: فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُراً مِّن قَبْلِہِ اَفَلاَ تَعْقِلُونَ-(10:16) ’’میں نے اس سے قبل تمہارے اندر اپنی عمر گذاری ہے۔ کیا تم اس سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ میں سچا ہوں یا جھوٹا۔‘‘ اسی طرح حضورﷺ نے اپنے دین کی صداقت کے لئے بھی ایک ہی دلیل پیش کی تھی اور وہ یہ کہ:
قُلْ یَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَکُونُ لَہُ عَاقِبَۃُ الدِّارِ اِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ-(6:135)
ان سے کہو کہ اے میری قوم! (اس بات کا فیصلہ کہ تم جس نہج پر زندگی بسر کر رہے ہو وہ کامیابی کی راہ ہے یا جس مسلک کی طرف میں دعوت دیتا ہوں وہ خوشگواریوں کا راستہ ہے‘ بالکل آسان ہے۔ اس میں کسی بحث و جدل کی ضرورت ہی نہیں) تم اپنے نظامِ زندگی کے مطابق کام کئے جاؤ اور میں اپنے پروگرام کے مطابق کام کئے جاتا ہوں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے لئے ہے؟ نتائج خود بخود بتا دیں گے کہ خدا کے نظام کو چھوڑ کر دوسری راہوں پر چلنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
غور فرمایا آپ نے کہ دین کی صداقت کا معیار کیا تھا؟ یہ معیار تھا اس کے نظامِ حیات کے نتائج جو کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کر دینے کے لئے کافی تھے۔ وہ نتائج جو جلدی سامنے آجانے والے تھے۔ صرف قیامت کے دن نہیں بلکہ یہیں۔ اسی دنیا میں۔ تھوڑے سے وقت کے بعد۔ یہ تھا دین کا وہ استنتاجی معیار (Pragmatic test) جو قرآن نے پیش کیا تھا۔ ہم پوچھتے یہ ہیں کہ کیا آج دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان کسی قوم کے مقابلہ میں بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ تم اپنے طریق کے مطابق کام کئے جاؤ۔ ہم نمازیں پڑھتے ہیں‘ روزے رکھتے ہیں‘ حج کرتے ہیں۔ قربانیاں دیتے ہیں۔ اس کے بعد نتائج خود بخود بتا دیں گے کہ کامیابی کس کے ہاتھ میں رہتی ہے؟ ہماری ہزار برس کی نمازوں اور روزوں نے کیا نتائج پیدا کر دیئے ہیں جو اب پیدا ہو جائیں گے۔ یہ سب اس لئے کہ ہم نے روایات کی رو سے اعمال کو رسومات میں بدل دیا ہے اور اب جب ان رسومات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو روایات ہمیں یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی ہیں کہ یہ اعمال رائیگاں نہیں جا رہے۔ ان کا نتیجہ قیامت میں نکلے گا۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی یہی صوم و صلوٰۃ اور حج اور زکوٰۃ دین کے ارکان تھے لیکن رسول اللہﷺ کا چیلنج یہ تھا کہ ان اعمال کے نتائج ابھی سامنے آئے جاتے ہیں اور وہ نتائج سامنے آگئے لیکن جب ہماری رسومات کوئی نتائج پیدا نہیں کرتیں تو ہم یہ کہہ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ نہیں! ان کے نتائج اگلی دنیا میں جا کر مرتب ہوں گے! کتنا بڑآ ہے یہ فریب جس میں امت مبتلا چلی آرہی ہے۔ اس فریب کی رو سے‘ اعمال کے نتائج اس دنیا میں نہیں‘ صرف اگلی دنیا میں جا کر مرتب ہوں گے۔ ان نتائج سے مفہوم یہ ہے کہ ’’نجات‘‘ کس طرح سے ہو گی؟ اس نجات کے لئے روایات نے بہت سی آسان راہیں بتا دیں۔ اس کے لئے کسی جدوجہد‘ کسی سعی و عمل‘ کسی تگ و تاز‘ کسی کدو کاوش کی ضرورت نہیں۔ مطلب گناہوں کی معافی سے ہے تاکہ جنت مل جائے۔ سو اس کے لئے بڑے سے بڑے سہل نسخے کتب روایات میں موجود ہیں۔ موطا امام مالکؒ میں ہے کہ:
من قال سبحان اللہ و بحمدہ فی یوم ماۃ مرۃ حطت منہ خطایاہ وان کانت مثل زبدۃ البحر۔
جس نے دن میں سو مرتبہ ’’سبحان اللہ و بحمدہ‘‘ کا ورد کر لیا اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے خواہ وہ سمندر کے جھاگ جتنے بھی کیوں نہ ہوں۔
اس سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ روایات نے تو جنت کو یہاں تک سستا کر دیا ہے کہ: من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ۔1؂ جس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا جنت میں داخل ہو گیا۔ اس کے برعکس قرآن یہ کہتا ہے کہ:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّہُ الَّذِیْنَ جَاہَدُواْ مِنکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِیْنَ-(3:142)
کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم لوگوں میں سے انہیں پرکھا ہی نہیں جو جہاد کرنے والے ہیں اور مشکلات میں ثابت قدم رہنے والے۔
فرمایئے! کہ روایات کی جنت کو چھوڑ کر‘ قرآن کی جنت کی طرف کون آئے گا! قرآن نے حج کے متعلق کہا تھا کہ یہ دنیا میں قیاما للناس کا موجب ہے۔ یعنی اس سے نوع انسانی میں توازن قائم ہو جائے گا اور انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گی۔ اس کے معنی صاف ہیں کہ حج کا اجتماع اس مقصد کے لئے ہے کہ یہ امت‘ جس کا منصب شھداء علی الناس (تمام نوع انسانی کے اعمال کی نگرانی) ہے‘ ایک مرکزی مقام پر جمع ہو کر سوچے کہ دنیا میں قوانینِ خداوندی کا نفاذ کس طرح سے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قیامِ انسانیت‘ قوانینِ خداوندی کے بغیر ناممکن ہے۔ اسے سوچے اور اس کے بعد وہ تدابیر اختیار کرے جس سے دنیا میں نظامِ خداوندی عملاً نافذ ہو سکے۔ یہ تھا قرآنی حج۔ اسی اجتماع کے خور و نوش کے لئے قربانی کے جانوروں کی ضرورت تھی لیکن روایات نے یہ کہہ دیا کہ اگر فلاں فلاں رسومات ادا کر دی جائیں تو حج ہو جاتا ہے اور فلاں فلاں انداز کا جانور ذبح کر دیا جائے تو قربانی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہی حج جسے وجۂ قیامِ انسانیت بننا تھا‘ یکسر یاترا بن کر رہ گیا۔ یہ ہے جو کچھ روایات نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ اگر ہم قرآن ہی کو دین سمجھتے تو جب تک ہمارے اعمال وہ نتائج مرتب نہ کرتے جنہیں قرآن نے ان کا فطری ثمر قرار دیا ہے‘ ہم کبھی اطمینان سے نہ بیٹھتے۔ لیکن جب ہم نے روایات کو دین بنا لیا تو پھر نتائج کا سوال ہی باقی نہ رہا۔ پھر محض رسومات کی پابندی رہ گئی۔ اب آپ قربانی کے ہزار فلسفے تراشتے رہئے‘ اس سے کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ ان اعمال سے اسی وقت نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جب آپ قرآن سے پوچھیں کہ انہیں کن نتائج کے لئے متعین کیا گیا تھا۔
***
یہ ہیں قرآن کی رُو سے قربانی کے احکام۔ یعنی
(i) قربانی اجتماعِ حج کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کا مقصد اس اجتماع میں شریک ہونے والوں کے لئے خوراک بہم پہنچانا ہے۔ لہٰذا اس ضرورت سے زیادہ جس قدر جانور ذبح کئے جاتے ہیں وہ اہلاکِ نسل ہے۔ جسے قرآن نے فساد سے تعبیر کیا ہے۔ (ویھلک الحرث والنسل۔ 2:205)۔
(ii) حج کے علاوہ قربانی اور کہیں نہیں‘ لہٰذا یہ جو دنیا کے ہر قریہ اور ہر بستی کے ہر گلی کوچے میں جانور ذبح کئے جاتے ہیں قرآن کی رُو سے اس کی شرعی حیثیت کچھ نہیں۔
ذالک الدین القیم ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون۔
جن حضرات کو اللہ نے نور بصیرت عطا کیا ہے اور وہ قرآن کو ضابطۂ ہدایت مانتے ہیں‘ ہمارا خیال ہے کہ انہیں حقیقت تک پہنچنے میں کوئی دقت نہیں محسوس ہو گی۔ لیکن جو لوگ ابھی تک اُس سازش کے شکار چلے آتے ہیں‘ اور اس دامِ فریب سے نکلنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں‘ ان کے لئے اس قدر صراحت اور وضاحت بھی کچھ نفع رساں نہیں ہو سکتی۔ انہیں ان کا مولوی ایک ہی خطبہ میں بتا دے گا کہ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے جو تمہیں ’’اتباعِ رسول اللہﷺ‘‘ سے باز رکھنا چاہتا ہے۔ وہ اس عجمی سازش کو ’’اتباعِ رسول اللہﷺ‘‘ کے نقاب میں پیش کرے گا اور پھر حجاز کے میدان میں لاکھوں بھیڑیں بکریاں ذبح کر کے چھوڑی جائیں گی اور پھر مسلمانوں کی تمام بستیوں میں‘ ہر گلی اور کوچہ میں جانور ذبح کر کے‘ ان کے ایک ایک بال کے عوض دس دس نیکیاں حاصل کی جائیں گی اور اس طرح ’’پل صراط‘‘ سے ’’صحیح و سالم‘‘ گذرنے کا ذریعہ فراہم کیا جائے گا۔ اس جاہلیت کی پیدا کردہ سازش کا مقابلہ آسان نہیں۔ اس لئے کہ:
سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہیں آتی۔ بلکہ ’’مسلمان‘‘ بن کر آتی ہے۔ کھلے دہریئے‘ مشرکین یا کفار سامنے ہوں تو مقابلہ آسان ہوتا ہے۔ مگر یہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار‘ رسالت کا اقرار‘ صوم و صلوٰۃ پر عمل‘ قرآن و حدیث سے استشہاد ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے عہدہ برا ہونا ہمیشہ جاہلیت صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مسلمان مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لئے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سے لڑنے جایئے تو منافقین ہی نہیں بہت سے اصلی مسلمان بھی اس کی حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں گے اور الٹا آپ کو موردِ الزام بنا ڈالیں گے۔
(مودودی صاحب)۔
طلوع اسلام کا مقصد اسی ’’مرکب جاہلیت‘‘ سے جنگ کرنا ہے۔ وہ مقابلہ کی سختی سے آگاہ اور ان ساحرین کی شعبدہ بازیوں کے اثرات سے اچھی طرح واقف ہے۔ لیکن‘ بایں ہمہ:
اسے کیا غم کہ اس کی آستیں میں ہے یدِبیضا؟
***

تعارف: غلام احمد پرویز
بٹالہ/ لاہور
(بشکریہ تحریک پاکستان گولڈ میڈل 1989ء
شعبہ تحریک پاکستان‘ محکمہ اطلاعات و ثقافت‘ حکومت پنجاب)
علامہ غلام احمد پرویز مرحوم کی تاریخ پیدائش 9/جولائی 1903ء ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مرکزی حکومت ہند کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی وہ مرکزی حکومت پاکستان میں منتقل ہو گئے اور 1955ء میں اسسٹنٹ سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
شیدائیء اقبالؒ ہونے کے ناطے‘ آپ 1930ء سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے اس تصور کو آگے بڑھاتے رہے جسے حضرت علامہ اقبالؒ نے الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبہ میں پیش کیا تھا۔
1937ء کے موسم گرما میں‘ علامہ اقبالؒ کے ایماء پر حضرت قائداعظمؒ نے اپنے قیامِ شملہ کے دوران علامہ پرویز کو بلا کر فرمایا کہ یہ مولوی صاحبان تحریک پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‘ اس کی مدافعت کے محاذ کو میں تمھارے سپرد کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ حضرت قائداعظمؒ کی ہدایت پر وہ تمام ضروری اقدامات کئے گئے جن کے نتیجہ کے طور پر ماہنامہ ’’طلوع اسلام‘‘ کے دور جدید کا اجراء‘ مئی 1938ء کے شمارے کے ساتھ عمل میں آیا۔ اس ماہنامہ میں پرویز صاحب نے قرآن کریم کے عطا فرمودہ ’’دو قومی نظریہ‘‘ اسلامی مملکت کی ضرورت اور اس کے بنیادی تقاضوں پر گرانقدر مقالات لکھے۔ اس دوران کانگرسی اور نیشنلسٹ علماء کی طرف سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے خلاف جو کچھ لکھا جاتا رہا‘ اس کا آپ نے موثر دفاع کیا۔
علامہ موصوف اس وقت سرکاری ملازمت میں تھے‘ اس لئے مسلم لیگ کے سٹیج سے بات کرنا تو ان کے لئے دشوار تھا تاہم دہلی اور اس کے گردونواح کے ایسے تمام شہروں میں جہاں شام کو جا کر اگلے روز علی الصبح واپس آیا جا سکے‘ مسلم لیگ کے شبانہ جلسوں کے فوراً بعد اسی سٹیج سے بزمِ اقبال کی محفل آراستہ کی جاتی جس میں پرویز صاحب قرآن کریم اور فکر اقبالؒ کی روشنی میں تحریک پاکستان اور مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے تصور کو واضح طور پر قوم کے سامنے پیش کرتے۔
یہ عملی جدوجہد قیام پاکستان تک جاری رہی۔ حتیٰ کہ جب 1946ء میں سرخ پوشوں اور کانگرس کی ملی بھگت سے مسلم اکثریت کے صوبہ سرحد میں‘ پاکستان میں شمولیت/عدم شمولیت کے سوال پر ریفرنڈم کرانا طے پایا گیا تو پرویز صاحب صوبہ سرحد میں تشریف لے گئے اور اس وقت کے سرحد مسلم لیگ کے صوبائی صدر خان بخت جمال خان اور ان کے رفقاء کی معاونت سے صوبہ کی کانگرسی وزارت اور سرخپوش لیڈر خان عبدالغفار خان کو ہمہ جہت مخالفتوں کے علی الرغم سرحد کے مسلم عوام کا فیصلہ کن ووٹ پاکستان کے حق میں ڈلوانے میں کامیاب ہوئے۔
علامہ پرویز 1937-38ء سے حضرت قائداعظم علیہ الرحمتہ کے‘ تحریک پاکستان کی دینی اساس کے موضوع پر ذاتی مشیر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ یہی وہ واحد شخصیت تھی جنہیں حضرت قائداعظمؒ سے پیشگی وقت لئے بغیر ان کی خدمت میں‘ کسی وقت بھی باریابی کا شرف حاصل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائداعظمؒ نے قرآنی ہدایات سامنے آجانے کے بعد ہمیشہ انہی کے مطابق عمل کیا۔ پرویز صاحب ان معدودے چند دانشوروں میں شامل ہیں جنہوں نے بقول پیر علی محمد راشدی‘ پاکستان کی سکیم کی تیاری میں مدد کی تھی۔
حضرت قائداعظمؒ ‘ علامہ پرویز پر غایت اعتماد رکھتے تھے اور ان کی رائے کو اس قدر اہمیت دیتے تھے کہ جب اس کا وقت آیا تو ان سے پاکستان کے سیکرٹریٹ کے لئے مناسب افسروں کے انتخاب کے لئے سفارش طلب کی۔
قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک جب کسی دریدہ دہن نے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ یا ان کے رفقاء کے خلاف ہرزہ سرائی کی ناپاک کوشش کی تو یہی مرد مجاہد آڑے آیا اور ہر موقع پر ایسے مدلل مقالات سپرد قلم کئے جن سے تحریک پاکستان کے ان زعماء کی عظمت کردار نکھر اور ابھر کر قوم کے سامنے آتی رہی۔
علامہ غلام احمد پرویز نے 24 فروری 1985ء کو وفات پائی۔
قرآنی معاشرہ میں کیا ہو گا۔۔۔۔۔؟
-1 قرآنی معاشرہ میں ہر شخص کی عزت بلا تمیز قوم‘ رنگ‘ نسل‘ پیشہ‘ محض اس کے انسان ہونے کی جہت سے ہو گی۔ کسی کو پست یا ذلیل نہیں سمجھا جائے گا۔ برتری کا معیار یہ ہو گا کہ کوئی شخص اپنے فرائض کی بجا آوری میں کس قدر محنت اور دیانت سے کام لیتا ہے اور نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کیا کرتا ہے۔
-2 کوئی شخص بے کس و لاچار اور بے یارو مددگار نہیں ہو گا۔ ہر ایک کی بات سنی جائے گی اور تکلیف رفع کی جائے گی۔ ہر شخص کو انصاف ملے گا اور بغیر کچھ خرچ کئے ملے گا۔ کوئی صاحب اثر انصاف کے پلڑے کو اپنی طرف نہیں جھکا سکے گا۔
-3 کوئی فرد بھوکا ننگا یا بے گھر نہیں رہے گا۔ تمام افراد کے لئے خوراک‘ لباس اور مکان کا انتظام کرنا معاشرہ کے ذمہ ہو گا۔ یعنی قرآنیِ معاشرہ ہر شخص کی اور اس کی اولاد کی ضروریات زندگی بہم پہنچانے کا ذمہ دار ہو گا۔
-4 معاشرہ کی یہ بھی ذمہ داری ہو گی کہ ہر شخص کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا انتظام کرے جس سے انسان کی صلاحیتوں کی نشوونما ہو۔ بالفاظ دیگر معاشرہ کا وجود فرد کی ذات کی تکمیل کے لئے ہو گا۔
-5 ہر شخص اپنی پوری استعداد و محنت سے کام کرے گا۔ صرف وہ افراد کام نہیں کریں گے جو کسی وجہ سے کام کرنے سے معذور ہو گئے ہوں۔ یہ نہیں ہو گا کہ کچھ لوگ تو محنت کرتے کرتے ہلکان ہو جائیں اور باقی لوگ ان کی کمائی پر مفت میں عیش اڑائیں۔
-6 ہر شخص اپنی محنت کے ماحصل میں سے اپنے لئے صرف اتنا رکھے گا جس سے اس کی مناسب ضروریات پوری ہوں۔ باقی اپنے دل کی رضامندی سے حاجت مندوں کی ضروریات کے لئے کھلا رکھے گا۔ بلکہ عندالضرورت دوسروں کو اپنے آپ پر ترجیح دے گا۔ کیونکہ انسانی ذات کی نشوونما کا یہی طریق ہے۔
-7 رزق کے سرچشمے (خواہ زمین کی شکل میں ہوں یا کارخانوں کی صورت میں) قرآنی معاشرہ کی تحویل میں رہیں گے تاکہ وہ افراد معاشرہ کی پرورش کے کام آئیں۔ جب افراد کی ضروریات زندگی کی ذمہ داری معاشرہ کے سر ہو گی اور رزق کے سرچشمے حاجت مندوں کے لئے کھلے رہیں گے تو کسی کے لئے دولت سمیٹ کر جمع کرنے اور جائدادیں بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔
-8 ہر معاملہ کا فیصلہ خدا کے احکام (قرآنِ کریم) کے مطابق ہو گا نہ کہ کسی خاص گروہ یا طبقہ کی مرضی کے مطابق (اس معاشرہ میں گروہوں‘ لیڈروں اور پارٹیوں کا وجود ہی نہیں ہو گا) اس لئے اس میں نہ کسی قسم کا جور ہو گا نہ استبداد‘ نہ ظلم ہو گا نہ زیادتی۔ اسے نظام خداوندی یا قرآنی نظام معاشرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
-9 ہر شخص کھل کر بات کرے گا۔ اس کے دل میں نہ کسی طرف سے نقصان پہنچنے کا ڈر ہو گا نہ کسی کو نقصان پہنچانے کا خیال۔ ایک دوسرے پر اعتماد بھروسہ ہو گا اور فریب کی گنجائش نہیں ہو گی۔ اس طرح گھروں کے اندر سکون اور معاشرہ کے اندر اطمینان ہو گا۔
-10 یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہو گا کہ ہر شخص قوانین خداوندی کے محکم اور مکافات عمل کے برحق ہونے پر یقین رکھے گا۔ یہ نظام قائم ہی ان بنیادوں پر ہو گا۔ اس میں اس قسم کے نظام کی تشکیل کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نوع انسان کی مشکلات اور مصیبتوں کا حل اسی قسم کے نظام کے قیام میں مضمر ہے تو اس کے قیام و عمل کے لئے اپنا فریضہ ادا کیجئے اور ہم سے تعاون فرمایئے۔
*******

2,293 total views, 5 views today

(Visited 704 times, 6 visits today)

ہماری تاریخ – پرویز

(ہم نے جب روایات (احادیث) کے متعلق لکھا کہ وہ کس طرح جمع اور مرتب کی گئیں اور دین کا ذریعہ علم ہونے کی جہت سے وہ کس قدر غیر یقینی اور ظنی ہیں‘ تو بعض احباب نے ہمیں لکھا کہ صدرِ اول (عہدِ نبی اکرمﷺ اور خلافتِ راشدہ) میں اسلامی نظام عملاً قائم ہوا تھا‘ اس لئے اس دور کی تاریخ تو یقینی ذریعہ علم ہو سکتی ہے۔ اس سے ہمیں اس نظام کی عملی تفاصیل معلوم ہو سکتی ہیں۔ ان سے کیوں نہ راہنمائی حاصل کی جائے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ جس طرح ہماری قوم کے دانشوروں نے حدیث سے متعلق لٹریچر کا مطالعہ نہیں کیا‘ اسی طرح انہیں ہماری تاریخ کے متعلق بھی صحیح معلومات حاصل نہیں۔ ذیل کے مقالہ سے یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ ہماری تاریخ‘ اسلام کے صدرِ اول کا کس قسم کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح احادیث میں جامعہ امام بخاریؒ کو اولیت حاصل ہے اسی طرح تاریخ میں اولیت امام ابن جریر طبریؒ کو حاصل ہے۔ اس مقالہ کے مندرجات اکثر و بیشتر‘ بخاریؔ اور طبریؔ پر مشتمل ہیں۔ ان کا غور سے مطالعہ فرمایئے۔)
***
تاریخ بھی عجیب دو دھاری تلوار ہے۔ اگر کسی قوم کے پاس اس کی صحیح تاریخ موجود ہے تو وہ قوم اپنے ماضی کے تجربات کے آئینہ میں اپنے حال کو درخشندہ اور مستقبل کو تابندہ بنا سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کی تاریخ غلط ہے تو وہ غلط فہمیوں اور خوش عقیدتیوں کی ایسی اندوہناک تاریکیوں میں گھری رہتی ہے جن سے اس کا نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ یہی ہوا ہے۔ ہمارے زوال کے اسباب میں بنیادی عنصر ہماری غلط تاریخ ہے۔

قرآن فہمی کے راستہ میں روک

ہمارے پاس خدا کی کتاب ہے جس کے متعلق ہمارا ایمان ہے (اور علیٰ وجہ البصیرت اور مبنی علی الحقیقت ایمان) کہ وہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر گوشے اور ہر زمانے میں ہماری صحیح راہنمائی کرنے کے لئے مکمل اور کافی ہے۔ اگر ہم اس کا اتباع کریں تو ہمیں اقوامِ عالم کی امامت مل سکتی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ قرآن کی راہنمائی ہمارے لئے اسی صورت میں نفع بخش ہو سکتی ہے جب ہم اسے سمجھیں لیکن قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری غلط تاریخ ہے۔ یہ بات شاید آپ کے نزدیک تعجب انگیز اور حیرت خیز ہو لیکن جب حقائق آپ کے سامنے آئیں گے تو آپ اس کی صداقت کو بلا تامل تسلیم کر لیں گے۔ قبل اس کے کہ ہم اس کی کچھ مثالیں آپ کے سامنے پیش کریں‘ تمہیداً یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ تاریخ کس طرح قرآن کا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ مثلاً قرآنِ کریم جس معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے افراد (جماعتِ مومنین) کی خصوصیات میں یہ بھی بتاتا ہے کہ:
مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ-(2:3)
جو کچھ انہیں خدا کی طرف سے سامانِ زیست ملتا ہے وہ اسے نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے کھلا رکھتے ہیں۔
دوسرے مقام پر اس کھلا رکھنے یا دوسروں کو دے دینے کی تصریح ان الفاظ سے کر دی کہ:
یَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ۔۔۔-(2:219)
اے رسول! جماعتِ مومنین کے افراد تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ ہم اپنے مال و دولت میں سے کس قدر دوسروں کو دیں؟
جواب میں کہا گیا۔۔۔
قُلِ الْعَفْوَ۔۔۔-(2:219)
ان سے کہہ دو کہ جس قدر تمہاری ضرورت سے زائد ہے سب کا سب۔
ان آیات سے واضح ہے کہ قرآنی معاشرہ میں افرادِ معاشرہ اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف اسی قدر اپنے پاس رکھ سکتے ہیں جو ان کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اس سے زائد قرآنی نظام (یا اسلامی مملکت) میں چلا جائے گا جو اسے نوعِ انسان کی ربوبیت (پرورش) کے لئے صرف کرے گا۔ ان آیات کا مفہوم سمجھنے میں نہ کوئی دِقت پیش آتی ہے نہ دشواری۔ نہ ان میں کوئی اشکال ہے نہ اغلاق۔ لیکن آپ جب یہ آیات کسی کے سامنے پیش کریں تو وہ جواب میں کہہ دیتا ہے کہ فلاں صحابیؓ کے پاس لاکھوں درہم و دینار تھے۔ فلاں کے پاس چاندی اور سونے کے ڈھیر لگے رہتے تھے۔ فلاں کے پاس کارواں درکارواں سامانِ تجارت رہتا تھا۔ اگر کوئی شخص ضرورت سے زائد دولت اپنے پاس رکھ سکتا تو ان حضرات کے پاس اس قدر دولت کیوں جمع رہتی تھی۔ اس کے بعد سلسلۂ کلام کچھ اس انداز کا ہوتا ہے۔
وہ صاحب:۔ فرمایئے! صحابہ کبارؓ قرآن کو صحیح طور پر سمجھتے تھے یا آپ بہتر سمجھتے ہیں؟
آپ:۔ میں تو کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صحابہ کبارؓ سے زیادہ قرآن سمجھتا ہوں۔
وہ صاحب:۔ کیا صحابہ کبارؓ قرآن کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے یا ان کا عمل اس کے خلاف تھا؟
آپ:۔ معاذ اللہ! میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ ان کا عمل قرآن کے خلاف تھا۔ ان کی زندگی بالکل قرآن کے مطابق تھی۔
وہ صاحب:۔ جب ان کی زندگی قرآن کے مطابق تھی اور ان کے پاس اس قدر مال و دولت جمع رہتا تھا تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کی رو سے زائد از ضرورت مال‘ افراد کے پاس نہیں رہ سکتا۔
اس منطق کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ سننے والے بھی فریقِ مقابل کے ساتھ متفق ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک سر ہلا کر کہہ دیتا ہے کہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ جب صحابہ کبارؓ کے پاس اس قدر مال و دولت تھا تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں دولت جمع کرنا ممنوع ہے؟ کیا (معاذ اللہ) صحابہؓ کو اتنا قرآن بھی نہیں آتا تھا؟

نازک دلیل

آپ نے دیکھا کہ تاریخ کس طرح قرآن کے راستے میں کھڑی ہو گئی؟ آپ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ ہمارا مروجہ اسلام تاریخ کا مرتب کردہ ہے اوراس کا بیشتر حصہ قرآن کے خلاف ہے۔ مروجہ اسلام کی کسی شق کے متعلق آپ سند مانگئے۔ وہ سند تاریخ سے پیش کی جائے گی۔ اگر آپ کہیں کہ اس کی سند قرآن سے پیش کیجئے تو جواب میں کہہ دیا جائے گا کہ:

ہم رسول اللہﷺ کی سیرتِ طیبہ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی سے اس کی سند پیش کر رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر دین میں سند اور کیا ہو سکتی ہے؟ قرآن کے سمجھنے کے لئے سیرتِ رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ کی حیاتِ مقدسہ کا سامنے رکھنا لاینفک ہے۔ اس کے بغیر قرآن سمجھ میں نہیں آسکتا۔
یہ جواب اس قدر مسکت ہے کہ اس کے بعد آپ کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔ نتیجہ اس کا یہ کہ تاریخ‘ دین کی سند بن گئی ہے اور قرآنِ کریم ایصالِ ثواب کے لئے رہ گیا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ تاریخ کے کسی واقعہ کی تائید قرآن کی آیت سے مل جائے تو اس وقت قرآن کو بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا جاتا ہے لیکن جب تاریخ اور قرآن میں تضاد ہو تو سند تاریخ کو حاصل ہو گی۔ قرآن کو نہیں۔

تاریخ کی صحیح پوزیشن

جب تک ہم قرآن اور تاریخ کی صحیح صحیح پوزیشن کو نہیں سمجھتے اور انہیں اپنے اپنے مقام پر نہیں رکھتے‘ دین اپنی حقیقی شکل میں ہمارے سامنے نہیں آسکتا۔ قرآن کا ایک ایک لفظ اپنی اصل شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اس میں شبہ اور شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے (خواہ وہ کتبِ احادیث میں ہو اور خواہ کتب سیر و آثار میں) اس کی پوزیشن یہ ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب نہ رسول اللہﷺ نے مدون کرا کر امت کو دی۔ نہ خلفائے راشدینؓ نے انہیں مرتب کیا۔ نہ ہی ان میں سے کوئی کتاب صحابہؓ کے زمانے میں مرتب ہوئی۔ حدیث کا وہ مجموعہ جسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے۔ (یعنی بخاری شریف) وہ رسول اللہﷺ کی وفات کے قریب اڑھائی سو سال بعد مرتب ہوا اور ’’تاریخ‘‘ کی سب سے پہلی جامع کتاب جسے ام التواریخ کہا جاتا ہے (یعنی تاریخ طبری) رسول اللہﷺ کی وفات کے قریب تین سو سال بعد لکھی گئی۔ اس وقت بھی کوئی تحریری ریکارڈموجود نہیں تھا جن سے ان کتبِ احادیث و تاریخ کو مرتب کیا گیا ہو۔ یہ یکسر ان باتوں پر مشتمل تھیں جو انہوں نے اپنے ہم عصروں کی زبانی سنیں۔ یہ ہے ہماری تاریخ کی اولیں کتابوں کی پوزیشن جن سے سیرتِ رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی سامنے آتی ہے۔ (واضح رہے کہ نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ کا بیشتر حصہ اور صحابہ کبارؓ کی خصوصیاتِ کبریٰ خود قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہیں لیکن اس وقت ہم سیرت و آثار کے اس حصے کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں جو کتبِ احادیث و سیر وغیرہ میں موجود ہے)۔

قرآن اور تاریخ کا باہمی تعلق

قرآن اور تاریخ کی جو پوزیشن اوپر بیان کی گئی ہے۔ اس سے ہر صاحبِ بصیرت اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ جب بھی قرآن کے کسی بیان اور عہدِ محمد رسول اللہﷺ والذینؓ معہ‘ کی تاریخ کے کسی واقعہ میں تضاد نظر آئے تو قرآن کے بیان کو صحیح اور تاریخ کے واقعہ کو غلط قرار دینا چاہئے۔ یہ ایک ایسی حقیقتِ باہرہ ہے جس کے لئے کسی دلیل و شہادت کی ضرورت نہیں۔ یہ اپنی دلیل آپ ہے۔ اب رہے تاریخ کے وہ بیانات جن کے متعلق قرآن خاموش ہے تو ایسی صورت میں بھی ہمارے لئے اصولِ کار واضح ہیں۔ یعنی:۔
(1) ہمارا ایمان ہے (اور قرآن اس کی شہادت دیتا ہے) کہ نبی اکرمﷺ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی قرآن کی تعلیم کے مطابق تھی۔
(2) لہٰذا اگر تاریخ میں نبی اکرمﷺ یا صحابہ کبارؓ کے متعلق کوئی ایسی بات ملتی ہے جو قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے تو ہمیں بلا تامل کہہ دینا چاہئے کہ تاریخ کا وہ بیان صحیح نہیں۔
اس طرح دین کا صحیح تصور بھی قائم ہو جائے گا اور نبی اکرمﷺ اور صحابہ کبارؓ کی سیرت پاکیزہ اور حقیقی شکل میں ہمارے سامنے آجائے گی۔
ایک مثال
جو کچھ ہم نے (نظری طور پر) اوپر کہا ہے وہ واضح انداز میں سمجھ میں نہیں آسکتا۔ جب تک تاریخ سے اس کی کوئی مثال نہ پیش کی جائے۔ ہم عہدِ محمد رسول اللہ والذین معہ‘ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کی تاریخ سے اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کر سکتے ہیں لیکن چونکہ اس مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں (اس کے لئے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے) اس لئے ہم اس ضمن میں صرف ایک واقعہ پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ یہ وہ واقعہ ہے جو اس وقت پیش آیا جب نبی اکرمﷺ نے سفرِ آخرت اختیار فرمایا اور ہنوز آپﷺ کے جسدِ طیب کو سپردِ خاک بھی نہیں کیا گیا اور اس کا تعلق صحابہ کبارؓ کی اس پوری جماعت سے ہے جو اس وقت مدینہ میں موجود تھی۔
قرآن کے غیر متبدل اصول
پہلے اس سلسلہ میں‘ قرآن کی تعلیم کو سامنے لایئے۔ قرآن کا بنیادی اور غیر متبدل اصول یہ ہے کہ:
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ ۔۔۔-(17:70)
ہم نے ہر انسانی بچہ کو‘ محض اس کے انسان ہونے کی جہت سے واجب التکریم پیدا کیا ہے۔
یعنی اس میں حسب نسب‘ امیر‘ غریب۔ رنگ اور وطن‘ مذہب و ملت کی کوئی تفریق نہیں۔
(2) واجب التکریم ہر انسانی بچہ ہے۔ اب رہا مختلف افراد کے مدارج کا تعین‘ سو اس کے لئے اصول یہ ہے کہ:
وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا۔۔۔ -(46:19)
ہر ایک کا درجہ اس کے کاموں کے مطابق متعین کیا جائے گا۔
بالفاظِ دیگر مدارج کا تعین‘ جو ہر ذاتی اور اعمال کی بنا پر ہو گا۔ اس میں بھی خاندان‘ قبیلہ‘ ذات‘ گوت‘ رشتہ داری‘ امارت‘ غرضیکہ کسی اضافی نسبت کا کوئی دخل نہیں ہو گا۔
(3) اسی اصول کے مطابق‘ امت میں سب سے زیادہ واجب التکریم وہ ہو گا جو قوانینِ خداوندی کا سب سے زیادہ پابند ہو گا۔ جس کی سیرت و کردار سب سے زیادہ قرآن کے مطابق ہوں گے۔
إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ۔۔۔ -(49:13)
ان غیرمتبدل اصولوں کی رو سے قرآن نے رنگ‘ نسل‘ خون‘ قبیلہ‘ ذات وغیرہ کے تمام امتیازات ختم کر دیئے اور عزت و تکریم کا صرف ایک معیار باقی رکھا۔ یعنی جوہرِ ذاتی اور حسنِ سیرت و کردار۔
اُمّت کا فریضہ
اب آگے بڑھئے۔ نبی اکرمﷺ نے قرآنی اصولوں کے مطابق ایک معاشرہ متشکل فرمایا۔ ایک مملکت قائم کی۔ جس کا مقصد ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ تھا۔ چونکہ اس نظام کو نبی اکرمﷺ کی زندگی تک ہی نہیں رہنا تھا۔ اسے مسلسل آگے چلنا تھا کیونکہ اسی کا نام دین تھا۔ اس لئے اس مقصد کے لئے ایک امت تیار کی گئی۔ اس امت کے متعلق قرآن میں ہے:
کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ۔۔۔ -(3:110)
تم بہترین امت ہوجسے نوعِ انسان کی بہبود کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ تمہارا فریضۂ حیات امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
یہی وہ امت تھی جسے وراثتِ کتاب کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ قرآن میں ہے:
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا۔۔۔-(35:32)
پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جنہیں اس مقصدِ جلیل کے لئے اپنے بندوں میں سے چنا تھا۔
یہ امت (اس زمانے میں) مہاجرین اور انصار پر مشتمل تھی جس کے پکے اور سچے ہونے کا سرٹیفکیٹ خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔ سورۂ انفال میں ہے:
صحابہؓ کے فضائل
وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَہَاجَرُواْ وَجَاہَدُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالَّذِیْنَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَّہُم مَّغْفِرَۃٌ وَرِزْقٌ کَرِیْمٌ-(8:74)
اور جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے (انہیں) پناہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہ سب سچے اور پکے۔ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ہر قسم کی حفاظت اور عزت کا رزق ہے۔
دوسرے مقام پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی اُلفت ڈال دی تھی اور یہ وہ نعمتِ کبریٰ تھی جو ساری دنیا کی دولت خرچ کرنے پر بھی نہیں مل سکتی تھی -(8:64) سورۂ توبہ میں ان کے متعلق ہے:
أُوْلَءِکَ لَہُمُ الْخَیْْرَاتُ وَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ-(9:88)
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہر قسم کی بھلائیاں ہیں اور یہی ہیں جو کامیاب و کامران ہیں۔
سورۂ فتح میں خالقِ کائنات نے ان ’’پکے اور سچے مومنین‘‘ کی جس والہانہ انداز میں توصیف و تعریف کی ہے وہ ان حضرات کی بلندئ مقام کی زندہ شہادت ہے۔ دیکھئے! کہنے والے نے کس طرح جھوم جھوم کر کہا ہے:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَاناً سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوہِہِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً -(48:29)
اس آیۂ جلیلہ کا مفہوم یہ ہے:
محمد رسول اللہﷺ اور ان کے رفقاء کی جماعت بھی کیا عجیب جماعت ہے۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ وہ مخالفین کے مقابلہ میں چٹان کی طرح سخت ہیں اور آپس میں بڑے نرم دل اور ہمدرد۔ تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ کس طرح ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے جھک جاتے اور قوانینِ خداوندی کے سامنے پیکر تسلیم و رضا بن جاتے ہیں۔ لیکن وہ راہبوں کی جماعت نہیں۔ وہ خدا کے قانون کے مطابق سامانِ زیست کی طلب و جستجو میں بھی مصروفِ عمل رہتے اور زندگی کے ہر معاملہ میں قوانینِ الٰہیہ سے ہم رنگ و ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنے اندر صفاتِ خداوندی منعکس کرتے ہیں۔ ان کے اندر صفاتِ خداوندی کی نمود سے سکون و طمانیت کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے آثار ان کے چہروں سے نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کے یہ خصائص تورات میں بھی مذکور تھے اور انجیل میں بھی۔
انہوں نے جس طرح بتدریج اس نظامِ خداوندی کو قائم کیا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھو جیسے عمدہ بیج سے شگوفہ نکلتا ہے تو پہلی کونپل بڑی نرم و نازک ہوتی ہے۔ پھر وہ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ پھر جب اس کے خوشوں میں دانے پڑنے کا وقت آتا ہے تو وہ خود اپنی نالوں پر محکم اور استوار طریق سے کھڑی ہو جاتی ہے۔ کاشتکار جب اپنی محنت کو یوں ثمربار ہوتے دیکھتا ہے تو وجد و مسرت سے جھوم اٹھتا ہے لیکن یہی چیز اس کے دشمنوں کے سینے پر سانپ بن کر لوٹنے کا موجب بن جاتی ہے۔
اس طرح اللہ ہر اس جماعت سے جو اس کے نظام کے اَن دیکھے نتائج پر یقین رکھ کر‘ صلاحیت بخش پروگرام پر عمل پیرا ہو‘ اس کا وعدہ کرتا ہے کہ ان کی کوششوں کا ننھا سا بیج تمام خطرات سے محفوظ رہے گا اور ان کی کھیتی بہترین ثمرات کی حامل ہو گی۔
یہ تھی وہ جماعت‘ جس نے رسول اللہﷺ کے مقدس ہاتھوں تربیت پائی تھی اور جس نے حضورﷺ کے بعد قرآنی نظام کو آگے چلانا تھا۔ اس مقصد کے لئے ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ:
وَأَمْرُہُمْ شُورَی بَیْْنَہُمْ۔۔۔ -(42:38)
وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کریں۔
تصریحاتِ بالا سے واضح ہے کہ:
(1) قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ عزت و تکریم کا معیار ذاتی جوہر اور حسنِ عمل ہے نہ کہ حسب و نسب اور رشتہ داری کے تعلقات۔
(2) صحابہ کبارؓ پکے اور سچے مومن تھے۔ ان کی سیرت بہت بلند اور کردار بڑا پاکیزہ تھا۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیوست تھی۔
(3) قرآنی نظام کو قائم رکھنا اور آگے چلانا امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ اس کے لئے وہ باہمی مشورہ سے اپنے میں سے بہترین فرد کو (جو معیارِ خداوندی پر پورا اترے) منتخب کر کے‘ رسولﷺ کا جانشین (یعنی مملکت کا سربراہ) بنائیں گے۔ اسے خلافت علیٰ منہاجِ رسالت کہتے ہیں۔
امت کے لئے قرآن کے ان اصولوں پر عمل کرنے کا پہلا موقعہ‘ رسول اللہﷺ کی وفات کے فوری بعد پیدا ہو گیا۔ یعنی خلیفہ کا انتخاب۔
یہ تھی قرآنِ کریم کی تعلیم اور قرآن کی رو سے صحابہ کبارؓ (جماعتِ انصار و مہاجرین) کی خصوصیاتِ کبریٰ۔ اب دیکھئے کہ تاریخ اس باب میں کیا کہتی ہے۔
***

خلافت کے متعلق حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے خیالات

بخاری (باب وفات النبیﷺ) میں حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ کی روایت سے حسبِ ذیل واقعہ بیان کیا گیا ہے:
اس بیماری میں جس میں آپﷺ نے وفات فرمائی۔ علی ابن طالبؓ رسول اللہﷺ کے پاس سے باہر آئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا۔ ابو الحسن! رسول اللہﷺ نے کس حالت میں صبح فرمائی؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ الحمد للہ اچھی حالت میں صبح فرمائی ہے۔ تو عباسؓ بن عبدالمطلب ان کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف کو لے گئے اور ان سے کہنے لگے۔ خدا کی قسم تین دن کے بعد تم لاٹھی کے غلام ہو گے۔ بخدا میرا یہ خیال ہے کہ رسول اللہﷺ کا اپنی اس بیماری میں انتقال ہو جائے گا۔ میں خوب پہچانتا ہوں کہ عبدالمطلب کی اولاد کے چہرے مرتے وقت کیسے ہوتے ہیں۔ چلو رسول اللہﷺ کے پاس چلیں اور آپ سے دریافت کر لیں کہ آپﷺ کے بعد حکومت کن لوگوں میں ہو گی۔ اگر ہم میں ہوئی تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر ہمارے سوا دوسروں میں ہوئی تو بھی ہمیں معلوم ہو جائے گا اور آپﷺ اپنے جانشین کو ہمارے حق میں وصیت فرما دیں گے (اس 1؂ پر حضرت علیؓ نے فرمایا کہ کیا اس امر کی طمع ہمارے سوا کسی دوسرے کو بھی ہو سکتی ہے؟ عباسؓ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ خدا کی قسم ایسا ضرور ہو گا) اس پر علیؓ نے کہا کہ خدا کی قسم اس بارہ میں اگر ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھ لیا اور آپﷺ نے انکار کر دیا تو آپﷺ کے بعد لوگ پھر ہمیں حکومت کبھی بھی نہیں دیں گے۔ خدا کی قسم میں اس بات کو رسول اللہﷺ سے ہرگز نہیں پوچھوں گا۔
(صحیح بخاری‘ باب وفات النبیﷺ)
اس روایت سے ظاہر ہے کہ ابھی حضورﷺ کا انتقال بھی نہیں ہوا تھا کہ حضورﷺ کے چچا حضرت عباسؓ اور چچا زاد بھائی اور داماد حضرت علیؓ کے دل میں خلافت کا خیال پیدا ہو گیا تھا۔ حضرت علیؓ مطمئن تھے کہ خلافت کسی اور کے پاس نہیں جائے گی۔ لیکن حضرت عباسؓ کا اندازہ کچھ اور تھا۔ اس لئے وہ اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے (خلافتِ حضرت علیؓ کے متعلق) توثیق کرا لینا چاہتے تھے۔ اس پر حضرت علیؓ نے جو جواب دیا وہ قابلِ غور ہے۔ یعنی اگر ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھ لیا اور آپﷺ نے انکار کر دیا تو پھر ہمارے لئے کوئی گنجائش (Chance) نہیں رہے گی۔
شیعہ حضرات کے ہاں یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح نبوت خدا کی طرف سے وہبی طور پر ملتی ہے اور اس میں انتخاب اور مشورہ کا کوئی سوال نہیں‘ اسی طرح خلافت (امامت) بھی خدا کی طرف سے موہبت ہے۔ اس میں انتخاب وغیرہ کا کوئی سوال نہیں۔ امام‘ خدا کی طرف سے منصوص اور مامور ہوتا ہے‘ یہ امامت حضرت علیؓ اور آپ کی اولاد‘ خدا کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔
لیکن سُنّی حضرات کا یہ عقیدہ نہیں۔ ان کے نزدیک‘ خلیفہ اُمت کے مشورہ سے منتخب ہوتا ہے۔ نہ ہی خلافت کوئی جائیداد ہے۔ جو متوفی کے بعد اس کے رشتہ داروں کو بطورِ ترکہ مل سکتی ہے۔ یہ تصور کہ حکومت باپ کے بعد بیٹے کو ورثہ میں ملتی ہے‘ ملوکیت ہے جسے مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔
اگر اس روایت کو صحیح مانا جائے تو۔۔۔
جو روایت اوپر درج کی گئی ہے وہ شیعہ حضرات کی نہیں‘ سنیوں کی حدیث کی سب سے معتبر کتاب بخاریؔ میں درج ہے۔ اب آپ غور فرمایئے کہ اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو رسول اللہﷺ کے قریب ترین صحابہؓ (حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ) کے متعلق کیا تصور قائم ہوتا ہے؟ یہ تصور کہ وہ (معاذ اللہ) اسلام کے ابتدائی اور بنیادی اصول کو بھی نہیں سمجھ سکے تھے کہ خلافت بطورِ وراثت یا استحقاق نہیں ملتی۔ یہ معاملہ امت کے باہمی مشورہ سے طے ہوتا ہے‘ پھر جو جواب‘ حضرت علیؓ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اس سے ان کی سیرت و کردار پر جو زد پڑتی ہے وہ بھی کسی تشریح کی محتاج نہیں۔
***
سقیفہ بنی ساعدہ کا اجتماع
اب آگے بڑھیئے۔ نبی اکرمﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ چونکہ خلافت (جانشینئ رسولﷺ) کا معاملہ امت کے باہمی مشورہ سے طے ہونا تھا۔ اس لئے حضورﷺ نے اس کے متعلق کوئی وصیت نہیں فرمائی تاکہ امت کی آزادئ رائے پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ ہو جائے۔ چونکہ یہ معاملہ بہت اہم تھا۔۔۔ مرکزِ ملت کے بغیر دین کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ اس لئے ایسا نظر آتا ہے کہ امت نے حضورﷺ کی تجہیز و تکفین سے بھی پہلے اسے طے کر لینا ضروری سمجھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کا اجتماع ہوا۔ جس میں حضرت سعد بن عبادہؓ کو خلافت کا امیدوار قرار دیا گیا۔ ایک روایت کے مطابق وہاں یہ تجویز بھی سامنے لائی گئی کہ ایک امیر انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے۔ اس وقت مہاجرین (حضرت ابوبکرؓ۔ حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ) بھی وہاں پہنچ گئے۔ اس اجتماع کی جو روئیداد تاریخ میں بیان ہوئی ہے وہ قابلِ غور ہے۔ کہا گیا ہے کہ (انصار میں سے) حضرت حباب بن منذرؓ نے حسبِ ذیل تقریر فرمائی:
حضرت حبابؓ کی تقریر
اے انصار! امارت اپنے ہاتھوں ہی میں رکھو‘ کیونکہ لوگ تمہارے مطیع رہیں۔ کسی شخص میں یہ جرأت نہ ہو گی کہ وہ تمہارے خلاف آواز اٹھا سکے یا تمہاری رائے کے خلاف کوئی کام کر سکے۔ تم اہلِ عزت و ثروت ہو۔ تم تعداد اور تجربے کی بنا پر دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہو۔ تم بہادر اور دلیر ہو‘ لوگوں کی نگاہیں تمہاری طرف لگی ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں تم ایک دوسرے کی مخالفت کر کے اپنا معاملہ خراب نہ کرو۔ یہ لوگ تمہاری بات ماننے پر مجبور ہیں۔ زیادہ سے زیادہ رعایت جو ہم انہیں دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک ان میں سے۔‘‘
(محمد حسین ہیکلؔ کی کتاب۔ ’’ابوبکرؓ صدیقِ اکبر‘‘۔ ص 107) 1؂
آپ نے غور فرمایا۔ ہماری تاریخ کا یہ بیان ان انصار (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے متعلق ہے جن کے مہاجرین کے ساتھ فدائیانہ تعلقات اور بے لوث ایثار کی شہادت خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ (تاریخ کے بیان کے مطابق) ان کی طرف سے ان جذبات کا اظہار اس وقت ہو رہا ہے۔ جب نبی اکرمﷺ کی نعش مبارک بھی ہنوز آنکھوں کے سامنے ہے۔

حضرت عمرؓ کی تقریر

یہ تو رہا انصار کے متعلق۔ اب مہاجرین کی بابت سنئے (تاریخ بتاتی ہے کہ) اس کے جواب میں حضرت عمرؓ نے حسبِ ذیل تقریر فرمائی:
ایک میان میں دو تلواریں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اللہ کی قسم! عرب تمہیں امیر بنانے پر ہرگز رضامند نہ ہوں گے۔ جب رسول اللہﷺ تم میں سے نہ تھے۔ ہاں! اگر امارت ان لوگوں کے ہاتھوں میں آئے جن میں رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے تھے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ اگر عربوں کے کسی طبقے نے ہماری امارت اور خلافت سے انکار کیا تو اس کے خلاف ہمارے ہاتھ میں دلائلِ ظاہرہ اور براہین قاطعہ ہوں گے۔ رسول اللہﷺ کی جانشینی اور امارت کے بارے میں کون شخص ہم سے جھگڑا کر سکتا ہے۔ جب ہم آپ کے جاں نثار اور اہلِ عشیرہ ہیں۔ اس معاملہ میں ہم سے جھگڑا کرنے والا وہی شخص ہو سکتا ہے جو باطل کا پیروکار۔ گناہوں سے آلودہ اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے کے لئے تیار ہو۔
(ابوبکر صدیقؓ از ہیکلؔ ‘ ص 108)
اس کے جواب میں حضرت حبابؓ نے انصار سے کہا:
اے انصار!۔۔۔ تم ہمت سے کام لو اور عمرؓ اور اس کے ساتھیوں کی بات نہ سنو! اگر تم نے اس وقت کمزوری دکھائی تو یہ سلطنت میں سے تمہارا حصہ غصب کر لیں گے۔ اگر یہ تمہاری مخالفت کریں تو انہیں یہاں سے جلاوطن کر دو اور سلطنت پر خود قابض ہو جاؤ۔ کیونکہ اللہ کی قسم! تمہی اس کے سب سے زیادہ حقدار ہو۔ تمہاری ہی تلواروں کی بدولت اسلام کو شان و شوکت نصیب ہوئی ہے اس لئے اس کی قدر و منزلت کا موجب تمہی ہو۔ تمہی اسلام کو پناہ دینے والے اور اس کی پشت پناہ ہو اور اگر تم چاہو تو اسے اس کی شان و شوکت سے محروم بھی کر سکتے ہو۔
(ایضاً‘ ص 108-109)
اندازِ گفتگو؟
حضرت عمرؓ نے یہ فقرہ سنا تو کہا:
اگر تم نے اس قسم کی کوشش کی تو اللہ تمہیں ہلاک کر ڈالے گا۔
(ایضاً‘ ص 109)
اس کے جواب میں حضرت حبابؓ نے کہا:
ہمیں نہیں اللہ تمہیں ہلاک کرے گا۔
(ایضاً‘ ص 109)
یہ ہے ہماری تاریخ کے مطابق ان صحابہؓ کے باہمی تعلقات کا نقشہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ سرٹیفکیٹ عطا فرماتا ہے کہ:
أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ۔۔۔-(48:29)
وہ کفار کے مقابلہ میں بڑے سخت اور آپس میں بڑے ہمدرد تھے۔
وہ جن کے متعلق خدا کا ارشاد ہے کہ:
وَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ۔۔۔ -(8:63)
ان کے دلوں میں خدا نے باہمی محبت اور الفت ڈال دی۔ وہ محبت اور الفت جو دنیا بھر کی دولت دے کر بھی خریدی نہیں جا سکتی۔
ان صحابہؓ کے باہمی تعلقات اور اخلاق کے متعلق ہماری تاریخ یہ نقشہ پیش کرتی ہے۔
حضرت عمرؓ کی جو تقریر (تاریخ کے بیان کے مطابق) اوپر درج کی گئی ہے اس میں انہوں نے اپنے (یعنی مہاجرین کے) حقِ خلافت کے متعلق یہ دلیل دی ہے کہ:
رسول اللہﷺ کی جانشینی اور امارت کے بارے میں ہم سے کون جھگڑ سکتا ہے۔ جب ہم آپ کے جاں نثار اور اہلِ عشیرہ (اہل خاندان) ہیں۔
یہ دلیل قابلِ غور ہے۔ اس سے پیشتر ہم دیکھ چکے ہیں کہ تاریخ ہمیں حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے متعلق یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ان کے نزدیک خلافت حضورﷺ کے قرابت داروں کو ورثہ میں ملنی چاہئے تھی۔ اب حضرت عمرؓ کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بھی استحقاقِ خلافت کے لئے یہی دلیل دی کہ ہم رسول اللہﷺ کے اہلِ خاندان ہیں۔ غور کیجئے کہ اس سے ہماری تاریخ ہمیں کہاں لے جانا چاہتی ہے۔
الائمۃ من قریش
لیکن تاریخ یہیں تک نہیں رہتی۔ وہ ایک قدم آگے بڑھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ جب معاملہ زیادہ نزاکت اختیار کر گیا تو حضرت ابوبکرؓ اٹھے اور آپ نے فرمایا کہ اس باب میں انصار کا دعویٰ یکسر بے بنیاد ہے۔ رسول اللہﷺ نے فیصلہ کر دیا ہوا ہے کہ الائمہ من قریش ’’خلافت قریش میں رہے گی‘‘۔ اس پر انصار خاموش ہو گئے اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب کر لئے گئے۔
یہ حدیث‘ متفق علیہ طور پر صحیح مانی جاتی ہے لیکن آپ ذرا اس کی گہرائی میں جایئے اور سوچئے کہ یہ کبھی رسول اللہﷺ کا ارشاد ہو سکتا ہے؟ قرآن مسلسل و متواتر نسل اور خون کے امتیازات مٹا کر مساواتِ انسانیہ اور تکریمِ آدمیت کی تعلیم دیتا رہا۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اس بلند و برتر تعلیم کا عملی نمونہ رہی۔ آپ اس امر کا تصور بھی کر سکتے ہیں کہ اس تعلیم کا حامِل رسولﷺ یہ فیصلہ کرے گا کہ حکومت میرے قبیلہ کے اندر رہے گی۔ یہ ایک روایت قرآن کی بنیادی تعلیم اور نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ کو باطل قرار دے دینے کے لئے کافی ہے۔ لیکن ہماری تاریخ اس روایت کو رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کرتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے انصار اور مہاجرین کے بھرے مجمع میں اسے حق خلافت کے لئے بطور دلیل پیش کیا اور اسے سب نے تسلیم کر لیا۔ یعنی ہماری تاریخ‘ ایک ہی واقعہ میں‘ خدا کے رسولﷺ اور۔۔۔ صحابہ کبارؓ کے متعلق نسل پرستی کا ایسا تصور پیدا کر جاتی ہے جسے مٹانے کے لئے قرآن آیا تھا۔
***
رسول اللہﷺ کی وفات کے فوری بعد‘ صحابہ کبارؓ (انصار و مہاجرین) کا جو پہلا اجتماع ہوا‘ اس میں ہماری تاریخ کے مطابق ان حضرات کے باہمی تعلقات‘ اندازِ گفتگو اور اسلوبِ دلائل کا نقشہ ہمارے سامنے آگیا۔ اب اس سے آگے بڑھیئے۔ (امام) طبریؔ اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
دست و گریباں
سابقہ روایت کے سلسلہ سے عبداللہؓ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ اب ہر طرف سے لوگ آ آ کر ابوبکرؓ کی بیعت کرنے لگے۔ قریب تھا کہ وہ سعدؓ کو روند ڈالتے۔ اس پر سعدؓ کے کسی آدمی نے کہا کہ سعدؓ کو بچاؤ ان کو نہ روندو‘ عمرؓ نے کہا اللہ اسے ہلاک کرے اس کو قتل کر دو اور خود ان کے سرہانے آکر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میں چاہتا ہوں تم کو روند کر ہلاک کر دوں۔ سعدؓ نے عمرؓ کی داڑھی پکڑ لی عمرؓ نے کہا چھوڑو اگر اس کا ایک بال بھی بیکا ہوا تو تمہارے منہ میں ایک دانت نہ رہے گا۔ ابوبکرؓ نے کہا عمرؓ خاموش رہو اس موقع پر نرمی برتنا زیادہ سود مند ہے۔ عمرؓ نے سعدؓ کا پیچھا چھوڑ دیا۔ سعدؓ نے کہا اگر مجھ میں اٹھنے کی بھی طاقت ہوتی تو میں تمام مدینے کے گلی کوچوں کو اپنے حامیوں سے بھر دیتا کہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ہوش و حواس جاتے رہتے اور بخدا اس وقت میں تم کو ایسی قوم کے حوالے کر دیتا جو میری بات نہیں مانتے بلکہ میں ان کا اتباع کرتا۔ اچھا اب مجھے یہاں سے اٹھا لے چلو۔ ان کے آدمیوں نے ان کو اٹھا کر ان کے گھر میں پہنچا دیا۔ چند روز ان سے تعارض نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ان سے کہلا بھیجا کہ چونکہ تمام لوگوں نے اور خود تمہاری قوم نے بھی بیعت کر لی ہے تم بھی آکر بیعت کر لو۔ سعدؓ نے کہا یہ نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ میں تمہارے مقابلہ میں اپنا ترکش خالی نہ کر دوں۔ اپنے نیزے کو تمہارے خون سے رنگین نہ کر لوں اور اپنی تلوار سے جس پر میرا بس چلے وار نہ کر لوں اور اپنے خاندان اور قوم کے ان افراد کے ساتھ جو میرا ساتھ دیں تم سے لڑ نہ لوں‘ ہرگز بیعت نہ کروں گا۔ خدا کی قسم‘ اگر انسانوں کے ساتھ جن بھی تمہارے ساتھ ہو جائیں تب بھی جب تک کہ میں اپنے معاملے کو اپنے رب کے سامنے پیش نہ کر لوں بیعت نہیں کروں گا۔
(تاریخ طبریؔ ‘ جلد اول‘ حصہ چہارم‘ اردو ترجمہ‘ شائع کردہ‘ جامعہ عثمانیہ‘ ص 7)
اس سے ایک صفحہ آگے ہے:
معاذ اللہ!
ضحاک بن خلیفہ سے مروی ہے کہ امارت کے انتخاب کے موقع پر حباب بن المنذرؓ نے کھڑے ہو کر تلوار نکال لی اور کہا کہ میں ابھی اس کا تصفیہ کر دیتا ہوں۔ میں شیر ہوں اور شیر کی کھوہ میں ہوں اور شیر کا بیٹا ہوں۔ عمرؓ نے اس پر حملہ کیا اور اس کے ہاتھ پر وار کیا۔ تلوار گر پڑی‘ عمرؓ نے اسے اٹھا لیا اور پھر سعدؓ پر جھپٹے اور لوگ بھی سعدؓ پر جھپٹے۔ اب سب نے باری باری آکر بیعت کی۔ سعدؓ نے بھی بیعت کی۔ اس وقت عہدِ جاہلیت کا سا منظر پیش آیا اور تو تو میں میں ہونے لگی۔ ابوبکرؓ اس سے دور رہے‘ جس وقت سعدؓ پر لوگ چڑھ گئے کسی نے کہا کہ تم لوگوں نے سعدؓ کو مار ڈالا۔ عمرؓ نے کہا اللہ اسے ہلاک کر دے۔ وہ منافق ہے۔ عمرؓ کی تلوار کے سامنے ایک پتھر آگیا اور ان کی ضرب سے وہ قطع ہو گیا۔
کلیجے پر ہاتھ رکھئے اور اس فقرہ کو پھر پڑھیئے:
اس وقت عہدِ جاہلیت کا سا منظر پیش آیا اور تو تو میں میں ہونے لگی۔
بہرحال‘ حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہو گئے۔ اس کے بعد‘ دوسرے امیدوار‘ حضرت سعدؓ کا کیا طرزِ عمل رہا؟ سنئے:
اس کے بعد سعدؓ نہ ابوبکرؓ کی امامت میں نماز پڑھتے تھے اور نہ جماعت میں شریک ہوتے تھے۔ حج میں بھی مناسک ان کے ساتھ ادا نہیں کرتے تھے۔ ابوبکرؓ کے انتقال تک ان کی یہی روش رہی۔
(طبریؔ ‘ ص 8)
داڑھیاں نوچنا!
ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ سقیفہ کے تنازعے میں‘ حضرت سعدؓ نے حضرت عمرؓ کی داڑھی پکڑلی تھی۔ تاریخ طبریؔ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک دوسرے کی داڑھیاں نوچنا (معاذ اللہ) ان حضرات کا معمول سا ہو گیا تھا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت اسامہؓ کی امارتِ عساکر کے مسئلہ میں حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ میں اختلاف رائے ہوا تو
ابوبکرؓ جو بیٹھے ہوئے تھے غصے سے اچھل پڑے اور بڑھ کر انہوں نے عمرؓ کی داڑھی پکڑ لی اور کہا۔ اے ابنِ خطاب! اللہ تیری ماں کا برا کرے کہ تم مَر جاتے۔ بھلا جس شخص کو رسول اللہﷺ نے اس پر فائز کیا ہے۔ تم مجھ سے کہتے ہو کہ میں اسے علیحدہ کر دوں۔
(ایضاً‘ ص 12)
حضرت علیؓ کا ردِعمل
یہ جملہ معترضہ تھا۔ اب پھر انتخابِ خلیفہ اول کی تاریخی داستان کی طرف آیئے۔ اس تمام واقعہ میں حضرت علیؓ کا ابھی تک ذکر نہیں آیا۔ آپ یقیناًیہ معلوم کرنے کے لئے مشوش ہوں گے کہ جن بزرگوار (یعنی حضرت علیؓ) کے دل میں سب سے پہلے خلافت کا خیال پیدا ہوا تھا‘ حضرت ابوبکرؓ کے انتخاب پر ان کی طرف سے کیا ردِعمل ہوا۔ تاریخ اس کے متعلق تفصیل سے بتاتی ہے۔ سنئے۔ محمد حسین ہیکلؔ (مصری) اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
مہاجرین اور انصار کے چند افراد حضرت ابوبکرؓ کی بیعت میں شامل نہ تھے بلکہ ان کا میلان حضرت علیؓ بن ابی طالب کی طرف تھا۔ ان میں سے مشہور لوگ یہ تھے۔ عباسؓ بن عبدالمطلب‘ فضل بن عباسؓ زبیرؓ بن عوام بن العاص‘ خالد بن سعیدؓ‘ مقداد بن عمروؓ‘ سلمان فارسیؓ‘ ابوذر غفاریؓ‘ عمار بن یاسرؓ ‘ براء بن حازبؓ ‘ ابی بن کعبؓ۔ ابوبکرؓ نے عمرؓ ‘ابو عبیدہؓ بن جراح‘ مغیرہ بن شعبہؓ سے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ عباسؓ بن عبدالمطلب سے ملئے اور خلافت میں ان کا حصہ بھی رکھ دیجئے جو ان کی اولاد کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس طرح ان کے اور ان کے بھتیجے علیؓ بن ابی طالب کے درمیان اختلاف واقع ہو جائے گا اور یہ بات آپ کو علیؓ کے مقابلہ میں فائدہ مند ثابت ہو گی۔
اس مشورہ کے مطابق ابوبکرؓ عباسؓ سے ملے تو دونوں کے درمیان طویل گفتگو ہوئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا۔ ’’آپ رسول اللہﷺ کے چچا ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ خلافت میں آپ کا حصہ بھی موجود ہو۔ جو آپ کے بعد آپ کی اولاد میں منتقل ہوتا رہے۔‘‘ لیکن عباسؓ نے یہ پیشکش رد کر دی کہ اگر خلافت ہمارا حق ہے تو ہم ادھوری خلافت لینے پر رضامند نہیں ہو سکتے۔
(ابوبکرؓ۔ ص119)
اس کے بعد ہیکلؔ لکھتا ہے:
ایک اور روایت میں جسے یعقوبی اور بعض دیگر مؤرخین نے بھی ذکر کیا ہے مذکور ہے کہ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت حضرت علیؓ کی بیعت کرنے کے ارادے سے حضرت فاطمتہ الزہراؓ بنت رسول اللہﷺ کے گھر میں جمع ہوئی۔ ان میں خالد بن سعیدؓ بھی تھے۔ خالدؓ نے حضرت علیؓ سے کہا:
’’اللہ کی قسم! رسول اللہﷺ کی جانشینی کے لئے آپ سے بہتر اور کوئی آدمی نہیں۔ اس لئے آپ ہماری بیعت قبول کیجئے۔‘‘
جب حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو اس اجتماع کی خبر ملی تو وہ چند لوگوں کو لے کر حضرت فاطمہؓ کے گھر پہنچے اور اس پر حملہ کر دیا۔ حضرت علیؓ تلوار ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر نکلے۔ سب سے پہلے ان کی مڈبھیڑ حضرت عمرؓ سے ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے ان کی تلوار توڑ ڈالی اور وہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہو گئے۔ اس پر حضرت فاطمہؓ گھر سے باہر آئیں اور کہا:
’’یا تو تم میرے گھر سے نکل جاؤ ورنہ اللہ کی قسم میں اپنے سر کے بال نوچ لوں گی۔ اور تمہارے خلاف اللہ سے مدد طلب کروں گی۔‘‘ حضرت فاطمہؓ کی زبان سے یہ الفاظ سن کر سب لوگ گھر سے باہر نکل گئے۔‘‘
کچھ روز تک تو مذکورہ بالا اصحاب بیعت سے انکار کرتے رہے لیکن آہستہ آہستہ یکے بعد دیگرے سب نے بیعت کر لی۔ سوا حضرت علیؓ کے جنہوں نے چھ سات مہینے تک بیعت نہ کی۔ مگر حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد انہوں نے بھی بیعت کر لی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے چالیس روز بعد بیعت کر لی تھی۔ ایک اور روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر بنو ہاشم حضرت فاطمہؓ کے گھر میں خفیہ مجالس منعقد کرنے سے باز نہ آئے تو وہ ایندھن جمع کر کے گھر کو آگ لگا دیں گے۔
(ایضاً‘ ص 120)
اس وقت تک جو کچھ سامنے آیا ہے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت علیؓ نے اپنے مؤقف کی تائید میں دلیل کیا پیش کی تھی۔ اب وہ دلیل سنئے۔ ہیکلؔ لکھتا ہے:
حضرت علیؓ کی دلیل
حضرت علیؓ اور دیگر بنی ہاشم کے بیعت نہ کرنے سے متعلق مشہور ترین روایت وہ ہے جو ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ’’الامامتہ والسیامتہ‘‘ میں درج کی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کے بعد حضرت عمرؓ چند لوگوں کو ساتھ لے کر بنی ہاشم کے پاس گئے جو اس وقت حضرت علیؓ کے گھر جمع تھے تاکہ ان سے بھی بیعت کا مطالبہ کریں۔ لیکن سب لوگوں نے حضرت عمرؓ کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔ زبیرؓ بن عوام تو تلوار ہاتھ میں لے کر حضرت عمرؓ کے مقابلہ کے لئے باہر نکل آئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
’’زبیرؓ کو پکڑ لو۔‘‘
لوگوں نے زبیرؓ کو پکڑ کر تلوار ان کے ہاتھ سے چھین لی۔ اس پر مجبوراً زبیرؓ نے جا کر حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ سے بھی بیعت کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا۔ میں تمہاری بیعت نہ کروں گا کیونکہ میں تم سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں اور تمہیں میری بیعت کرنی چاہئے تھی۔ تم نے یہ کہہ کر انصار کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ہم رسول اللہﷺ کے قریبی عزیز ہیں اور آپ کے قریبی عزیز ہی خلافت کے حقدار ہیں۔ اس اصول کے مطابق تمہیں چاہئے تھا کہ خلافت ہمارے حوالے کرتے مگر تم نے اہلِ بیت سے چھین کر خلافت غصب کر لی۔ کیا تم نے انصار کے سامنے یہ دلیل پیش نہ کی تھی کہ ہم خلافت کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ ہم میں سے تھے۔ اس لئے تم ہماری اطاعت قبول کرو اور خلافت ہمارے حوالے کرو؟ وہی دلیل جو تم نے انصارکے مقابلے میں پیش کی تھی اب میں تمہارے مقابلے میں پیش کرتا ہوں۔ ہم تم سے زیادہ رسول اللہﷺ کے قریبی عزیز ہیں۔ اس لئے خلافت ہمارا حق ہے۔ اگر تم میں ذرہ برابر ایمان ہے تو ہم سے انصاف کر کے خلافت ہمارے حوالے کرو۔ لیکن اگر تمہیں ظالم بننا پسند ہے تو جو تمہارا جی چاہے کرو تمہیں اختیار ہے۔
(ایضاً‘ ص 122)
آپ نے غور فرمایا کہ تاریخ نے جو دلیل حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ کی طرف منسوب کی تھی (کہ خلافت قریش میں رہے گی اور ہم رسول اللہﷺ کے اہلِ خاندان ہیں) اسے (تاریخ نے) کس سادگی سے حضرت علیؓ کی طرف لوٹایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دلیل کے بعد‘ سنی حضرات کا موقف اس قدر کمزور ہو جاتا ہے کہ ان سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں بن پاتا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ (تاریخ نے) یہ دلیل اولاً حضرات شیخینؓ کی طرف کیوں منسوب کی تھی!
بہرحال‘ حضرت علیؓ کے اس جواب پر حضرت عمرؓ نے کہا:
میں اس وقت تک آپ کو نہ چھوڑں گا جب تک آپ بیعت نہ کریں گے۔
(ایضاً‘ ص 122)
اس کے بعد:
سرگرمیاں
حضرت علیؓ اس وقت تیزی میں آگئے اور کہنے لگے:
’’عمرؓ تم شوق سے دودھ دوہو جس میں تمہارا بھی حصہ ہے آج تم اس لئے خلافتِ ابوبکرؓ کی حمایت کر رہے ہو کہ کل کو خلافت تمہارے پاس لوٹ آئے گی لیکن میں کبھی ان کی بیعت نہ کروں گا۔‘‘
حضرت ابوبکرؓ کو ڈر پیدا ہوا کہ کہیں بات بڑھ نہ جائے اور درشت کلامی تک نوبت نہ آجائے انہوں نے کہا۔ ’’علیؓ! اگر تم بیعت نہیں کرتے تو میں بھی تمہیں مجبور نہیں کرتا۔‘‘
اس پر ابوعبیدہؓ بن الجراح حضرت علیؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور نہایت نرمی سے کہا۔ بھتیجے! تم ابھی کم عمر ہو اور یہ لوگ بزرگ ہیں۔ نہ تمہیں ان جیسا تجربہ حاصل ہے اور نہ تم ان کی طرح جہاندیدہ ہو۔ اگر قوم میں کوئی شخص رسول اللہﷺ کی جانشینی کے فرائض صحیح طور پر بجا لا سکتا اور خلافت کا بوجھ کماحقہ‘ اٹھا سکتا ہے تو وہ صرف ابوبکرؓ ہیں اس لئے تم ان کی خلافت قبول کر لو۔ اگر تم نے لمبی عمر پائی تو یقیناًاپنے علم و فضل۔ دینی رتبے‘ فہم و ذکاء‘ سابقیتِ اسلام‘ حسب و نسب اور رسول اللہﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہونے کے باعث تمہیں خلافت کے مستحق ٹھہرو گے۔‘‘
یہ سن کر حضرت علیؓ کے جوش کی انتہا نہ رہی اور وہ غصے سے بولے۔ ’’اللہ اللہ اے گروہِ مہاجرین! تم رسول اللہﷺ کی حکومت کو آپ کے گھر سے نکال کر اپنے گھروں میں داخل نہ کرو۔ آپ کے اہلِ بیت کو ان کے صحیح مقام پر سرفراز کرو اور ان کا حق انہیں دو۔ اے مہاجرین! اللہ کی قسم! ہمی خلافت اور حکومت کے مستحق ہیں کیونکہ ہم اہل بیت ہیں۔ ہم اس وقت تک اس کے حقدار ہیں جب تک ہم میں اللہ کی کتاب کا قاری‘ دین کا فقیہہ‘ رسول اللہﷺ کی سنت کا عالم‘ رعایا کی ضرورت سے واقف‘ ان کی تکالیف کو دور کرنے والا اور ان سے مساوات کا سلوک کرنے والا قائم ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ہم میں ان صفات کا حامل موجود ہے‘ اس لئے اپنی خواہشات کی پیروی کر کے اللہ کے راستے سے گمراہی اختیار نہ کرو اور حق کے راستے سے دور نہ چلے جاؤ۔‘‘ راویوں کے بیان کے مطابق بشیر بن سعدؓ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جب انہوں نے حضرت علیؓ کی باتیں سنیں تو کہا۔ ’’اے علیؓ! اگر یہ باتیں جو اس وقت تم نے کہی ہیں انصار کا گروہ ابوبکرؓ کی بیعت سے پہلے سن لیتا تو وہ لوگ تمہارے سوا کسی کی بیعت نہ کرتے۔‘‘
اس گفتگو کے بعد حضرت علیؓ طیش میں بپھرے ہوئے گھر چلے گئے۔ جب رات ہوئی تو وہ حضرت فاطمہؓ کو لے کر باہر آئے اور انہیں ایک خچر پر بٹھا کر انصار کے پاس لے گئے۔ حضرت فاطمہؓ گھر گھر جاتیں اور ان سے حضرت علیؓ کی مدد کرنے کی درخواست کرتیں لیکن ہر جگہ سے انہیں یہی جواب ملتا۔
’’اے بنتِ رسول اللہﷺ! ہم ابوبکرؓ کی بیعت کر چکے ہیں۔ اگر آپ کے خاوند بیعت سے قبل ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی بیعت کر لیتے۔‘‘
یہ سن کر حضرت علیؓ غصہ میں آکر جواب دیتے۔ ’’کیا میں رسول اللہﷺ کی نعش کو بلا تجہیز و تکفین چھوڑ دیتا اور باہر نکل کر آپ کی جانشینی کے متعلق لڑتا جھگڑتا پھرتا؟‘‘
حضرت فاطمہؓ بھی کہتیں۔ ’’ابوالحسن (علیؓ) نے وہی کیا جو ان کے لئے مناسب تھا۔ باقی ان لوگوں نے جو کچھ کیا اللہ ان سے ضرور اس کا حساب لے گا اور بازپُرس کرے گا۔‘‘
(ایضاً‘ ص 122-25)
ہیکلؔ نے ان واقعات کو مختلف حوالوں سے نقل کیا ہے۔ اس باب میں بخاریؔ میں حسبِ ذیل روایت آئی ہے:
بخاریؔ کی حدیث
حضرت فاطمہؓ نبی ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر علیؓ نے رات کو ان کو دفن کر دیا اور ان کے انتقال کی ابوبکرؓ کو اطلاع نہیں دی بلکہ خود ہی نماز پڑھ لی اور جب تک حضرت فاطمہؓ زندہ رہیں لوگوں کی نگاہوں میں حضرت علیؓ کا ایک خاص وقار رہا لیکن جب حضرت فاطمہؓ کا انتقال ہو گیا تو حضرت علیؓ نے محسوس کیا کہ لوگوں کے چہرے اب بدل گئے ہیں تو اب انہوں نے حضرت ابوبکرؓ سے صلح کر لینے اور بیعت کرنے کی خواہش کی۔ ان چھ ماہ تک انہوں نے بیعت 1؂ نہیں کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے ابوبکرؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس تشریف لایئے۔ مگر آپ کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نہ آئے۔ حضرت علیؓ کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ وہ حضرت عمرؓ کو ساتھ لائیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا۔ ’’نہیں خدا کی قسم آپ ان کے ہاں تنہا نہیں جا سکیں گے۔ اس پر حضرت صدیقؓ نے کہا۔ تم کیا سمجھتے ہو۔ وہ میرا کیا کر لیں گے۔ خدا کی قسم میں ان کے پاس ضرور جاؤں گا۔ چنانچہ صدیقِ اکبرؓ تشریف لے گئے تو 1؂ حضرت علیؓ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا۔ ’’ہم آپ کی فضیلت کو اور جو کچھ خدا نے آپ کو عطا کیا ہے اسے پہچانتے ہیں اور کسی بھلائی پر جو حق تعالیٰ آپ کو عطا فرمائے ہم حسد نہیں کرتے لیکن تم نے امرِ خلافت میں ہمارے خلاف استبداد سے کام لیا ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہﷺ سے ہماری قرابت کی وجہ سے اس میں ہمارا حصہ ہے۔ 2؂
ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد ابوبکرؓ صدیق منبر پر چڑھے اور خطبہ دیا‘ اور بیعت سے علیؓ کے تخلف کی صورت کو بیان کیا اور جو عذر انہوں نے بیان کیا تھا اسے پیش کیا پھر مغفرت کی دعا مانگی اور (اس کے بعد) حضرت علیؓ نے خطبہ پڑھا اور حضرت ابوبکرؓ کے حقِ عظمت کو بیان کیا اور کہا کہ اب تک انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ ابوبکرؓ سے کسی حسد کی بنا پر نہیں کیا اور نہ اس فضیلت سے کسی انکار کی بنا پر جو خدا نے انہیں دی ہے بلکہ ہم سمجھتے تھے کہ امرِ خلافت میں ہمارا حصہ ہے اور ابوبکرؓ نے ہمارے خلاف استبداد سے کام لیا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے دلوں میں ناراض تھے۔
(صحیح بخاری‘ کتاب المغازی)
بخاری کی اس روایت میں چند باتیں بڑی غور طلب ہیں۔ مثلاً
(1) حضرت علیؓ حضرت ابوبکرؓ سے اس قدر ناراض تھے کہ انہوں نے حضرت فاطمہؓ کی وفات کی اطلاع تک نہیں دی اور چپکے ہی چپکے انہیں رات کو دفن کر دیا۔
(2) جب تک حضرت فاطمہؓ زندہ رہیں‘ حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہ کی لیکن ان کی وفات کے فوری بعد انہوں نے محسوس کیا کہ لوگوں کی نظروں میں ان کا پہلا سا وقار باقی نہیں رہا۔ اس لئے انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی جائے۔
(3) حضرت علیؓ نے اپنے حقِ خلافت کے لئے یہ دلیل دی کہ وہ رسول اللہﷺ کے قرابت دار ہیں۔
آپ غور کیجئے کہ تاریخ کے اس بیان کو اگر صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے حضرت علیؓ کے متعلق کیا تصور قائم ہوتا ہے؟
صحابہؓ کا اِرتداد؟
تاریخ کے بیان کے مطابق‘ حضرت علیؓ نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں نے انہیں خلافت سے محروم رکھا ہے انہوں نے غصب اور استبداد سے کام لیا ہے۔ یہی وہ ’’جرم‘‘ ہے جس کی بنا پر شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد‘ بجز چند اصحاب (جنہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہیں کی تھی) باقی سب (معاذ اللہ) مرتد ہو گئے تھے۔ اس کے متعلق سُنّی حضرات یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ عقیدہ تعصب پر مبنی ہے لیکن اس کا کیا جواب کہ خود ان کی (حدیث کی) معتبر ترین کتاب‘ بخاری میں حسب ذیل روایت موجود ہے:
حضرت ابنِ عباسؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ برہنہ پا۔ برہنہ بدن۔ بغیر ختنہ کے حشر کئے جاؤ گے۔ آپﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہُ وَعْداً عَلَیْْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ-(21:104) اور قیامت کے دن سب سے پہلے جسے کپڑے پہنائے جائیں گے وہ ابراہیمؑ ہیں۔ اور اس دن میرے چند صحابہؓ بائیں جانب (یعنی جہنم کی طرف) لئے جا رہے ہوں گے۔ میں کہوں گا یہ تو میرے صحابہؓ ہیں۔ پھر اللہ فرمائے گا یہ لوگ اپنے پچھلے دینؔ پر لوٹ گئے تھے۔1؂ جب سے آپ ان کے پاس سے جدا ہوئے۔ پس میں کہوں گا کہ نیک بندے (یعنی عیسٰیؑ ) نے کہا تھا۔ وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ۔۔۔ -(5:117)
(بخاری کتاب الانبیاء‘ ترجمہ شائع کردہ نور محمد‘ تاجر کتب‘ کراچی‘ جلد دوم‘ ص 149)
سوچئے کہ بخاریؔ کی اس حدیث کی رو سے بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے؟ یہ وہ صحابہؓ ہیں جن کے متعلق قرآن شہادت دیتا ہے کہ:
أُولَءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً۔۔۔ -(8:74)
’’یہی لوگ ہیں جو حقیقی مومن ہیں۔‘‘
اگر ان مومنین کے ایمان کی بھی یہ کیفیت تھی کہ اُدھر رسول اللہﷺ نے آنکھیں بند کیں اور اِدھر یہ (معاذ اللہ) ایمان سے پھر گئے‘ تو بہ دیگراں چہ رسد؟ اور اگر کوئی معترض یہ کہہ دے (اور کہنے والے کہتے ہی ہیں) کہ ’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ تو سوچئے کہ (ان روایات کی رُو سے) خود نبی اکرمﷺ کے متعلق (معاذ اللہ) کیا تصور سامنے آتا ہے۔
***
تاریخ‘ دینؔ بن چکی ہے
اس مقام پر آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ جس تاریخ کی یہ کیفیت ہے اسے مسترد کیوں نہ کر دیا جائے؟ ایسا کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟ یہ بات بڑی معقول ہے اور ایسا کرنے میں کوئی دِقت نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہماری تاریخ کو تاریخ کے مقام سے اٹھا کر دینؔ بنا لیا گیا ہے۔ ان احادیث کے متعلق عقیدہ یہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے‘ رسول اللہﷺ کو بذریعہ وحی خفی ملی تھیں۔ اس لئے یہ قرآن کے ساتھ‘ قرآن کی مثل ہیں (مثلہ‘ معہ‘) اتنا ہی نہیں‘ ان کے متعلق یہ بھی عقیدہ ہے کہ اگر قرآن اور حدیث میں تضاد نظر آئے تو قرآن کو منسوخ سمجھو اور حدیث کو برقرار رکھو۔ کراچی کے ’’ادارۂ تحقیقِ حق‘‘ کی طرف سے ایک پمفلٹ شائع ہوا ہے جس کا نام ہے ’’فتنۂ انکارِ حدیث‘‘ اس کے مصنف ہیں ’’علامہ حافظ محمد ایوب صاحب دہلوی‘‘ وہ اس پمفلٹ میں لکھتے ہیں:
اگر کوئی کہے کہ فَاحْکُم بَیْْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ -(5:48) کے کیا معنی ہیں۔ نبی سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تو کتاب اللہ کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کر۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’مَا أَنزَلَ اللّہ‘‘ کے معنی صرف کتاب اللہ نہیں ہے۔ بلکہ ’’مَا أَنزَلَ اللّہ‘‘ کتاب اللہ بھی ہے اور حدیثِ رسول اللہﷺ بھی۔
(ص 52)
اس کے بعد لکھتے ہیں:
حدیث‘ قرآن کو منسوخ کر دیتی ہے
رہی یہ بات کہ قولِ رسولﷺ قرآن کے خلاف ہو تو وہ بھی حجت ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں ہے: کُتِبَ عَلَیْْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَکَ خَیْْراً الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْْنِ۔۔۔ (2:180)۔ تمہارے اوپر والدین کی وصیت فرض ہے۔ اگر کسی نے مال چھوڑا ہے جب کہ اسے موت آئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ لا وصیۃ للوارث۔ وارث کے لئے وصیت نہیں اور تواتر سے ثابت ہے کہ عمل اسی حدیث پر رہا ہے۔ یعنی وارث کے لئے وصیت ناجائز قرار دی گئی۔ حدیث نے قرآن کی آیت کو منسوخ کر دیا اور قولِ رسولﷺ قرآن کی آیت کے خلاف حجت اور موجبِ عمل رہا۔
(ص 85)
اس کے بعد لکھتے ہیں:
اب اگر کہا جائے کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ رسولﷺ کا کوئی قول قرآن کے خلاف ہو اور رسولﷺ کا قول قرآن کو فسخ کر دے! تو پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ رسولﷺ کا قول اس کا اپنا قول نہیں ہوتا۔ وہ درحقیقت خدا کا قول ہوتا ہے۔ جس طرح قرآن خدا کا قول ہے اسی طرح رسولﷺ کا قول بھی خدا کا قول ہے۔ اور جس طرح قرآن کی ایک آیت قرآن کی دوسرے آیت کو منسوخ کر دیتی ہے۔ اسی طرح خدا کا ایک قول (یعنی قولِ رسولﷺ) دوسرے قول (یعنی قرآن) کو منسوخ کر دیتا ہے۔
(ص 86)
ہم نے یہ کہا تھا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم قرنِ اول (عہدِ محمد رسولﷺ اللہ والذین معہ‘) کی تاریخ 1؂ کے ذخیرہ کو قرآن کی روشنی میں پرکھ لیں۔ جو باتیں قرآن کے مطابق ہوں انہیں صحیح تسلیم کر لیا جائے۔ جو اس کے خلاف ہوں انہیں مسترد کر دیا جائے۔ اس کے جواب میں حافظ ایوب صاحب نے فرمایا:
قرآن اور حدیث میں اختلاف ہو سکتا ہے
جس طرح خدا کے قول کے حجت ہونے میں یہ شرط نہیں کہ وہ عقل کے مطابق ہو۔ بالکل اسی طرح نبیﷺ کے قول کے حجت ہونے میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ قرآن کے مطابق ہو۔ اس لئے کہ نبی کا قول بھی قول اللہ ہے اور قرآن بھی قول اللہ ہے اور اللہ کے دونوں قول ہیں۔ قرآن بھی اور حدیثِ رسول بھی۔ تو اللہ کے قول کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس میں تنوع نہ ہو۔ جس طرح کہ اس کے ایک فعل کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ دوسرے فعل کے مطابق ہو۔ ایک طرف پہاڑ کی چوٹی فلک تک پہنچ رہی ہے۔ دوسری طرف کھڈ کی گہرائی تحت الثریٰ تک پہنچ رہی ہے۔ جس طرح اس کے ایک فعل کا دوسرے فعل کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح اس کے ایک قول کا (یعنی حدیثِ رسولﷺ کا) اس کے دوسرے قول (یعنی قرآن) کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔
(ص 51)
***
ایک حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے:
یکثر لکم الاحادیث من بعدی۔ فاذا روی عنی حدیث فاعرضوہ علیٰ کتاب اللہ۔ فما وافق فاقبلوہ۔ وما خالف فردوہ۔
(بحوالہ کتاب التوضیح والتلویح۔ ص 480)
یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:
’’میرے بعد تم سے بہت سی احادیث بیان کی جائیں گی۔ سو جب کوئی حدیث میری طرف سے روایت کی جائے تو اسے کتاب اللہ کے سامنے پیش کرو جو اس کے موافق ہو اسے قبول کر لو۔ جو اس کے خلاف ہو اسے رَد کر دو۔‘‘
اس حدیث کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ یہ قرآن کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔ نبی اکرمﷺ کا کوئی ارشادِ قرآن کے خلاف ہو نہیں سکتا۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ ان حضرات کی طرف سے اس کا کیا جواب ملا؟ جماعتِ اہلِ حدیث کے ترجمان ماہنامہ‘ رحیق‘ نے اپنی اپریل 1958ء ؁ کی اشاعت میں لکھا:
حدیث کو قرآن کے مطابق ہونا چاہئے یہ عقیدہ مُلحِدوں کا ہے!
اس حدیث کو ملحدوں نے وضع کیا تھا اور انہی ملحدوں کے خیالات کی خوشہ چینی بکواس ازم کے یہ ممبران کر رہے ہیں۔ امام خطابی ؒ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
وضعہ الزنادقۃ الذین مقصودھم افساد الدین ویدفعہ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم انی اوتیت الکتاب و مثلہ معہ۔
(ظفر الامانی علی مختصر الجرجانی۔ ص 267)
یعنی ’’یہ روایت ان زندیقوں اور حدیث دشمنوں کی خود ساختہ حدیث ہے جن کا مقصد احادیث کو رد کر دینے سے دینی نظام کا فاسد و باطل کر دینا ہے اور اس حدیث کا بطلان آنحضرتﷺ کے اس ارشاد سے خود ہو جاتا ہے جس میں ارشاد ہے کہ میں قرآن دیا گیا ہوں اور قرآن کے مانند بھی دیا گیا ہوں۔ پس ’’حدیث‘‘ ہی قرآن کی مانند ہے۔ کیونکہ دوسری روایت میں تشریح ہے کہ ’’قرآن کے مانند‘‘ کا نام ’’حدیث‘‘ ہے۔ وہ روایت یہ ہے:
لا الفین احدکم متکئاً علیٰ اریکتہٖ یصل الیہ عنی الحدیث فیقول لانجد ھٰذا الحکم فی القراٰن الاوانی اوتیت القراٰن و مثلہ و معہ۔
(ظفر الامانی‘ ص 267)
دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
لیوشک الرجل متکئاً علیٰ اریکتہٖ یحدث بحدیثی فیقول بیننا و بینکم کتاب اللہ الحدیث۔ (دارمی‘ جلد اول‘ طبع مصر‘ ص 140)
اس قسم کی روایات الکفایہ (ص 1009) میں خطیبؒ نے ذکر کی ہیں جن میں صاف تصریح ہے کہ حدیث کو رد نہ کرو۔ مجھے قرآن کی طرح اور اس کی مانند ’’حدیث‘‘ بھی دی گئی ہے۔ امام خطابی ؒ کی طرح امام شافعیؒ ۔۔۔ امام لمحدثین عبدالرحمنؓ ابن مہدی وغیرہ نے بھی اس حدیث کو زندیقوں کا وضع کردہ لکھا ہے۔ امام بیہقی ؒ نے بھی فرمایا ہے کہ جو روایت سنتِ نبویہﷺ کو قرآن پر پیش کرنے کی خاطر بنائی گئی ہے وہ باطل ہے۔ علامہ مبشمیؒ نے لکھا ہے کہ اس میں ایک راوی متروک منکر الحدیث ہے۔ (مجمع الزوائد‘ جلد اول‘ ص68)
یعنی یہ مسلک کہ جو کچھ قرآن کے مطابق ہو اسے صحیح سمجھو۔ جو اس کے خلاف ہو‘ اسے غلط قرار دو‘ (ان حضرات کے نزدیک) ملحدین اور زنادقہ کا وضع کردہ ہے!
خِرد کا نام جنوں رکھ دیا‘ جنوں کا خِرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
***
گذشتہ اوراق جو آپ کی نظروں سے گذرے ہیں‘ ان سے یہ حقیقت آپ کے سامنے آچکی ہے کہ ہماری کتبِ احادیث و سیرو آثار میں ایسی باتیں موجود ہیں جو
(1) قرآنِ کریم کی واضح تعلیم کے یکسر خلاف ہیں۔
(2) جن سے نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی پر حرف آتا ہے۔
(3) جن سے صحابہ کبارؓ کی سیرت و کردار مطعون ہو جاتے ہیں۔
(4) جو علم و عقل کے بھی خلاف ہیں۔
اس کے بعد آپ کے دل میں لازماً یہ سوال ابھرے گا کہ:
یہ کیسے ہوا
(الف) اس قسم کی باتیں ان کتابوں میں آکیسے گئیں؟
(ب) ہزار برس سے یہ متواتر آگے منتقل کیسے ہوتی رہیں۔ یعنی لوگوں نے اس قسم کی باتوں کو ان کتابوں سے خارج کیوں نہ کر دیا؟ اور
(ج) آج بھی ہمارا قدامت پرست طبقہ ان باتوں کو صحیح ماننے اور صحیح منوانے پر اس قدر مصر کیوں ہے؟ اور
یہ سوالات ہر اس شخص کے دل میں پیدا ہونے چاہئیں جو ذرا بھی عقل و بصیرت سے کام لے اور ان امور پر غور و فکر کرے۔ جہاں تک پہلی دو شقوں کا تعلق ہے (یعنی اس قسم کی باتیں ہمارے لٹریچر میں آ کیسے گئیں اور قوم نے انہیں ان کتابوں سے خارج کیوں نہ کر دیا؟)اس کے متعلق تفصیلی بحث کی ضرورت ہے اور اس کے لئے مناسب موقعہ وہ ہے جب ہم اپنی پوری تاریخ کا ازسرِنو جائزہ لیں اور اس کے ایک ایک گوشے کے متعلق ریسرچ کریں۔۔۔ ظاہر ہے کہ ایک مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ ہم سرِدست صرف اس نکتہ کو پیش کریں گے کہ آج بھی اس قسم کی باتوں کو صحیح ماننے اور صحیح منوانے پر اس قدر زور کیوں دیا جا رہا ہے؟ اس نقطہ کی وضاحت ایک واقعہ سے ہو جائے گی۔ اسے غور سے سنئے۔
1958ء ؁ کی بات ہے کہ جماعتِ اسلامی کے اربابِ بست و کشاد کا ایک حلقہ۔۔۔۔۔۔ جماعت سے الگ ہو گیا۔ ان الگ ہونے والے حضرات نے اپنی علیحدگی کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہ بتائی تھی کہ جماعت کے دعوتی اور اشاعتی دَور میں جن اصولوں کو دین کی محکم اساس کے طور پر پیش کیا جاتا تھا‘ نظام کے عملی قیام کے وقت ان سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ 1؂ ظاہر ہے کہ یہ اعتراض بڑا وقیع اور یہ جرم بڑا سنگین تھا لیکن (مرحوم) مودودیؔ صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ میں نے یہ کونسا انوکھا کام کیا ہے۔
ایسا (معاذ اللہ) رسولﷺ اللہ نے بھی کیا تھا!
(معاذ اللہ۔ معاذ اللہ) خود نبی اکرمﷺ نے اسلام کے اشاعتی دور میں جو اصول بیان فرمائے تھے اس کے عملی قیام کے وقت ان میں لچک پیدا کر لی تھی۔ مثلاً
اسلامی نظام کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تمام نسلی اور قبائلی امتیازات کو ختم کر کے اس برادری میں شامل ہونے والے سب لوگوں کو یکساں حقوق دیئے جائیں اور تقویٰ کے سوا فرق مراتب کی کوئی بنیاد نہ رہنے دی جائے۔ اس چیز کو قرآن مجید میں بھی پیش کیا گیا اور حضورﷺ نے بھی بار بار اس کو نہ صرف زبانِ مبارک سے بیان فرمایا بلکہ عملاً موالی اور غلام زادوں کو امارت کے مناصب دے کر واقعی مساوات قائم کرنے کی کوشش بھی فرمائی۔ لیکن
جب پوری مملکت کی فرمانروائی کا مسئلہ سامنے آیا تو آپ نے ہدایت دی کہ ’’الائمۃ من قریش‘‘ امام قریش میں سے ہوں۔
ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اس خاص مسئلہ میں یہ ہدایت مساوات کے اس عام اصول کے خلاف پڑتی ہے جو کلیہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
آپ نے غور فرمایا کہ اس وضعی روایت سے جو ہماری کتبِ تاریخ میں درج ہے (اور جس کا ذکر پہلے آچکا ہے) مودودیؔ (مرحوم) نے کس طرح فائدہ اٹھایا۔ ظاہر ہے کہ اگر معاملہ صرف قرآن تک رہتا اور دین میں اسی کو سند مانا جاتا تو مرحوم کو اپنی روش کی تائید میں کوئی دلیل و سند نہ مل سکتی۔ لیکن چونکہ تاریخ کو (قرآن کے برابر بلکہ اس سے بھی افضل) سند مان لیا گیا ہے اور اس میں ہر قسم کا رطب و یابس مسالہ موجود ہے۔ اس لئے اس سے ہر شخص کو اس کے ہر فیصلے اور عمل کی سند مل سکتی ہے۔
جماعت سے الگ ہونے والوں نے اس کے جواب میں کہا:
غور فرمایئے۔ اگر یہ طریقِ کار خدا کے آخری نبیﷺ نے اختیار فرمایا تھا اور اگر اسلامی تحریک اس اسوۂ حسنہ کے مطابق اس طریقِ کار کو اپنا معمول بناتی ہے اور ہر کوئی ایسی جماعت جو اقامتِ دین کی علمبردار ہو وہ اس اصول کو بطور فلسفہ اور عقیدہ کے طے کر لیتی ہے کہ اسلامی نظام کے دعوتی اور اشاعتی دور میں جو اصول بیان کئے جائیں اور جن پر لوگوں کو جمع کیا جائے۔ جب اسلامی نظام کو عملاً قائم کرنے کا وقت آئے گا تو اس تحریک کے قائد کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ توحید و رسالت ایسے اساسی اصولوں کے علاوہ‘ تحریک کے مفاد کے لئے جس اصول میں ضروری خیال کرے استثناء پیدا کر لے۔ اس پر عمل کرنے سے اپنی جماعت کو روک دے۔ جو ضمانت اس تحریک نے عوام کو اپنے ابتدائی دور میں دی ہو اس میں سے جس جزو کو وہ دین کی مصلحت کے لئے مُضر خیال کرے ساقط کر دے (جیسا کہ مبینہ مثال میں حضورﷺ نے مساوات اور حقِ خلافت ایسے اصول اور ضمانت پر صحابہؓ کو عمل کرنے سے روک دیا تھا) تو اس اسلامی تحریک اور اقامتِ دین کی جدوجہد‘ اور ان طالع آزما سیاست دانوں کی تحریکات کے مابین کیا فرق باقی رہ جائے گا جو حصولِ اقتدار سے پہلے نہایت پاکیزہ اصول بیان کرتے ہیں۔ بہت حسین وعدے عوام سے کرتے ہیں اور انہی اصولوں اور وعدوں کی بنیاد پر وہ لوگوں کی حمایت و تائید حاصل کرتے ہیں۔ جب انہیں اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو وہ اقتدار کو قائم رکھنے کی عملی مشکلات سے مجبور ہو کر ان وعدوں اور اصولوں کی خلاف ورزی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جھوٹ بولنا بھی جائز ہے
اس پر مودودیؔ (مرحوم) ایک قدم اور آگے بڑھے اور فرمایا کہ اقامتِ دین جیسے اہم مقصد کے حصول کے لئے اصولوں میں لچک اور استثنیٰ تو ایک طرف ان کے لئے جھوٹ بولنا بھی نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا:
راستبازی اور صداقت شعاری اسلام کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے اور جھوٹ اس کی نگاہ میں ایک بدترین برائی ہے۔ لیکن عملی زندگی کی بعض ضرورتیں ایسی ہیں جن کی خاطر جھوٹ کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ بعض حالات میں اس کے وجوب تک کا فتویٰ دیا گیا ہے۔
(ترجمان القرآن۔ مئی 1958ء ؁)
حدیث سے اس کا ثبوت
آپ حیران ہوں گے کہ مرحوم نے ایسا کہنے کی جرأت کیسے کر لی اور اس کی تائید میں ان کے پاس کون سی سند ہو سکتی تھی؟ لیکن جس تاریخ سے انہوں نے پہلی سند پیش کی تھی اسی سے انہیں اس کی سند بھی مل گئی۔ چنانچہ انہوں نے ’’جھوٹ کے وجوب‘‘ میں دو تین حدیثیں نقل کر دیں۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ:
اسماء بنت یزید نبی اکرمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ جھوٹ جائز نہیں ہے۔ مگر تین چیزوں میں۔ مرد کی بات عورت سے تاکہ وہ اسے راضی کرے۔ جنگ اور اصلاحِ بین الناس۔
(ترمذی)
اس کے بعد انہوں نے (معاذ اللہ) نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ سے بھی اس کی مثالیں پیش کر دیں۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
اس کی عملی مثالیں بھی احادیث میں موجود ہیں۔ کعب بن اشرف کے قتل کے لئے محمد بن مسلم کو جب حضورﷺ نے مامور کیا تو انہوں نے اجازت مانگی کہ اگر کچھ جھوٹ بولنا پڑے تو بول سکتا ہوں؟ حضورﷺ نے بالفاظِ صریح انہیں اس کی اجازت دی۔
(بخاری)
اسلام اور نظامِ سرمایہ داری
امید ہے کہ اس سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہو گی کہ یہ حضرات تاریخ اور روایات کے اس قسم کے بیانات اور واقعات کو (جن کا خلافِ قرآن اور غلط ہونا بدیہیات میں سے ہے) سچا اور دین میں سند تسلیم کرانے پر کیوں زور دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ (جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے) اگر سند قرآن رہے اور اس اصول کو تسلیم کرا لیا جائے کہ قرنِ اول کی تاریخ کا جو بیان قرآن کے خلاف ہے وہ غلط ہے‘ تو کسی کو اپنی فریب کاریوں اور کذب تراشیوں کے لئے دینی سند نہیں مل سکتی۔ ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس قسم کے تاریخی بیانات کو دین میں سند تسلیم کرا لیا جائے اور پھر انہیں اپنے فیصلوں کی تائید میں پیش کر دیا جائے۔ اس سے ہمارا مطلب یہ نہیں کہ اس طبقہ کے تمام افرادِ اسی جذبہ کے تحت ان باتوں کو صحیح مانتے اور صحیح منواتے ہیں۔ ان میں بیشتر حصہ ان افراد پر مشتمل ہے جو ان باتوں کو نیک نیتی سے سچا مانتا ہے۔ یہ اس لئے کہ صدیوں کی تقلید سے ان میں سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ ان کے نزدیک دین کے معاملات میں غور و فکر سے کام لینا جائز نہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ ہوتا چلا آرہا ہے۔ وہی صحیح ہے اس پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی جا سکتی۔ یہ حضرات اس تاریخ کی حفاظت و ترویج کو عین دینی خدمت سمجھتے ہیں۔ مفاد پرست طبقہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے اس قسم کی باتیں وضع کر کے انہیں ابتداًء ہماری تاریخ میں شامل کیا تھا۔ یہی اسے صدیوں سے مسلسل و متوارث آگے بڑھائے چلا آرہا ہے اور یہی آج اس کے تحفظ کا سب سے بڑا علمبردار بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کی ایک مثال سنئے۔ ہم شروع میں بتا چکے ہیں کہ قرآن نے جس نظام کو الدینؔ کہا ہے اس میں فاضلہ دولت کسی کے پاس جمع نہیں رہتی۔ وہ نوعِ انسانی کی بہبود کے لئے امت (یا نظام) کی تحویل میں چلی جاتی ہے۔ اس باب میں قرآن کی تعلیم ایسی واضح‘ بین اور صاف ہے کہ اس میں کسی قسم کی تاویل و تعبیر کی گنجائش نہیں۔ ظاہر ہے کہ عہدِ محمد رسول اللہﷺ والذین معہ‘ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) میں قرآن کی اسی تعلیم پر عمل ہوتا رہا۔ لیکن اس کے بعد جب خلافت ملوکیت میں بدل گئی اور سرمایہ دارانہ نظام ہجوم کر کے آگیا تو اس کی ضرورت پڑی کہ اس کی تائید اور جواز کے لئے سندیں وضع کی جائیں۔ یہ اسناد قرآن سے تو مل نہیں سکتی تھیں کیونکہ اس میں تغیر و تبدل اور حک و اضافہ کی گنجائش نہیں تھی۔ اس کے لئے تاریخ کا چور دروازہ ہی کام دے سکتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس سے کام لیا اور اس قسم کی روایات وضع کیں۔ جن سے نظامِ سرمایہ داری‘ زمینداری اور جاگیرداری کا نظام عین مطابقِ سنتِ رسول اللہﷺ و سنتِ صحابہؓ قرار پا جائے۔ مثلاً ایک روایت میں ہے:

مشکوٰۃ کی ایک حدیث
ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ-(9:34)o
’’جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں اور اسے خدا کی راہ میں کُھلا نہیں رکھتے۔ اے رسولﷺ تو انہیں دردناک عذاب سے آگاہ کر دے۔‘‘
تو مسلمانوں پر اس کا خاص اثر ہوا یعنی انہوں نے اس حکم کو گراں خیال کیا۔ حضرت عمرؓ نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہاری اس فکر کو دُور کر دُوں گا اور اِس مشکل کو حل کروں گا۔ پس عمرؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا‘ یا نبیؐ اللہ یہ آیت آپﷺ کے صحابہؓ پر گراں ہوئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا خداوند تعالیٰ نے زکوٰۃ اس لئے فرض کی ہے کہ وہ تمہارے باقی مال کو پاک کر دے اور میراث کو اس لئے فرض کیا ہے کہ جو لوگ تمہارے بعد رہ جائیں ان کو مال مل جائے۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کا یہ بیان سُن کر عمرؓ نے جوشِ مسرت سے اللہ اکبر کہا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو ایک ایسی بہترین چیز کا پتہ نہ دوں جس کو انسان جمع کر کے خوش ہو اور وہ چیز نیک بخت عورت ہے۔ اس کی طرف مرد دیکھے تو اس کا دل خوش ہو اور جب مرد اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جب وہ غائب ہو تو اس کے مال و دولت کی حفاظت کرے۔
(ابوداؤد)‘ (مشکوٰۃ‘ جلد اول‘ اردو ترجمہ‘ ص 309)
یہ روایت زبانِ حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یہ وضع کردہ ہے۔ یہ کبھی تصور میں بھی نہیں آسکتا ہے کہ خدا کا ایک حکم ہو اور صحابہؓ پر وہ گراں گذرے؟ پھر ان میں سے (کوئی اور بھی نہیں) حضرت عمرؓ اس حکم کو بدلوانے کے لئے رسول اللہﷺ کے پاس جائیں۔ اور رسول اللہﷺ خدا کے اس حکم کو یوں بدل دیں کہ اگر تم اڑھائی فیصد سالانہ ادا کر دو تو تمہیں اجازت ہے کہ سونے چاندی کے ڈھیر جمع کرتے رہو۔ روایت کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ بعد کے دور کی وضع کردہ ہے۔ لیکن چونکہ اس سے سرمایہ دارانہ نظام کا تحفظ ہوتا ہے اس لئے مفاد پرست گروہ اسے صحیح ترین حدیث قرار دے کر برابر آگے بڑھائے چلا جا رہا ہے۔ اسی قسم کی روایات ہیں جو آج بھی سرمایہ داری۔ زمینداری اور جاگیرداری کی تائید میں بڑھ چڑھ کر پیش کی جاتی ہیں اور جب کوئی یہ کہے کہ یہ چیزیں قرآن کے خلاف ہیں تو اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ تم قرآن کو زیادہ سمجھتے ہو یا رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ زیادہ سمجھتے تھے!
***
چونکہ اس مقالہ میں پوری تاریخ کا استقصاء مقصود نہیں اس لئے ہم انہی مثالوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ آپ ان واقعات کو پھر سے سامنے لایئے جو خلیفہ اول کے انتخاب کے ضمن میں ہماری کتبِ احادیث و آثار میں بیان ہوئے ہیں اور پھر سوچئے کہ اگر اس تاریخ کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو دنیا میں اسلام اور متبعینِ اسلام کی پوزیشن کیا رہ جاتی ہے؟
پَس چہ بَاید کرد؟
سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کیا کیا جائے؟ اس کا جواب آسان ہے یعنی:
(1) ہمارا ایمان ہے کہ قرآنِ کریم خدا کی کتاب ہے جو حرفاً حرفاً اپنی حقیقی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔
(2) رسول اللہﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کبارؓ کی زندگی قرآن کے مطابق تھی۔ لہٰذا
(3) اگر اس دَور کی تاریخ میں ہمیں کوئی بات ایسی ملے جو قرآنی تعلیم کے خلاف ہے تو ہمیں بلا تامل کہہ دینا چاہئے کہ تاریخ کا وہ بیان غلط ہے۔ خواہ وہ حدیث کے کسی مجموعہ میں ہو‘ یا کسی اور کتاب میں۔
(4) مندرجہ بالا اصول کی روشنی میں ہمیں قرنِ اول کی تاریخ کو ازسرِنو مرتب کرنا چاہئے۔ اس تاریخ سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ اس دَور میں قرآنِ کریم پر اس طرح عمل ہوا تھا۔
(5) اس دَور کے بعد قرآنی نظام باقی نہیں رہا تھا‘ اس لئے اس وقت سے آج تک کی تاریخ مسلمان قوم کی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ نہ اسلام کی صحیح تعبیر کہلا سکتی ہے‘ نہ ہمارے لئے دلیل اور حجت بن سکتی۔ نہ ہی ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ان لوگوں کی مدافعت میں اپنا وقت اور توانائیاں صرف کریں۔ جنہیں اسلاف کہا جاتا ہے ان کے متعلق ہم اس سے زیادہ ماننے کے مکلف نہیں کہ
تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُم مَّا کَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ-(2:141)
یہ وہ لوگ ہیں جو گذر چکے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا اس کا نتیجہ ان کے لئے تھا۔ تم جو کچھ کرو گے اس کا نتیجہ تمہارے لئے ہو گا۔ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا کیا تھا؟
(6) جہاں تک قرآنِ کریم کے سمجھنے کا تعلق ہے اسے ہر زمانہ میں براہِ راست سمجھا جا سکتا ہے۔ دین میں سند اور حجت قرآن ہے اور یہی ہمارے لئے غلط اور صحیح
حق اور باطل کا معیار ہے۔ جو اس کے مطابق ہے وہ حق ہے جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے۔
جب تک ہم اس مسلک پر عمل پیرا نہیں ہوتے‘ دین ہمارے سامنے نہیں آسکتا۔
***
تکملہ:۔ یہ مقالہ آج سے قریب بائیس سال 1؂ پہلے کا نوشتہ ہے۔ اسے اس موقعہ پر دوبارہ شائع کرنے کا ایک خاص مقصد ہے۔ آج کل ہمارے ہاں ’’اسلامی نظام‘‘ کا خاص چرچا ہے اور اس موضوع پر بڑی کثرت سے لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ ان میں سے ہر محققؔ کی تان اس پر ٹوٹتی ہے کہ اسلامی نظام کا جو نقشہ صدرِ اول میں قائم ہوا تھا‘ ہمیں اسی قسم کا نظام اپنے ہاں قائم کرنا چاہئے۔ اس کے لئے ہر ایک‘ اپنے اپنے نقشہ کی تائید میں تاریخی شواہد پیش کرتا ہے‘ اور چونکہ ان نقشوں میں باہمی اختلاف ہوتا ہے اس لئے ملک میں عجیب قسم کا ذہنی انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ اندریں حالات‘ ہم نے مناسب سمجھا کہ صدرِ اول کی جو تاریخ ہم تک پہنچی ہے اس کی ایک خفیف سے جھلک قوم کے سامنے لائی جائے تاکہ اسے اندازہ ہو جائے کہ روایات کی طرح تاریخ بھی یقینی ذریعہ علم نہیں۔
یاد رکھئے! دینؔ کے متعلق یقینی اور مبنی برحقیقت علم‘ خدا کی کتاب (قرآنِ مجید) کے اندر محفوظ ہے جس میں ایک حرف کا بھی تغیر و تبدل نہیں ہوا۔ اس لئے وہی نظریہ‘ عقیدہ‘ مسلک‘ قانون یا نظام اسلامی کہلا سکتا ہے جس کی سند قرآن سے حاصل ہو۔
حق وہی ہے جو قرآن کے مطابق ہے۔ جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے خواہ اس کی نسبت کسی کی طرف کیوں نہ کر دی جائے۔ اس مقالہ میں بھی جو تاریخی بیانات قرآن کے خلاف ہیں‘ انہیں ہم وضعی قرار دیتے ہیں۔
***

1,096 total views, no views today

(Visited 280 times, 2 visits today)

اِلزامات اور اُن کی حقیقت – اِدارہ طلوعِ اِسلام

بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جس نے اپنی زندگی کا مشن یہ قرار دے رکھا ہے کہ طلوع اسلام کے خلاف بے بنیاد الزامات تراشے جائیں اور پھر انہیں ملک میں اس شد و مد سے پھیلایا جائے کہ لوگ اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر‘ طلوع اسلام کی بات سننا گوارا نہ کریں۔ چونکہ اس جھوٹے پروپیگنڈہ میں اس طبقہ کے سامنے ایک خاص مقصد ہے‘ اور وہ ایسا دانستہ کرتے ہیں‘ اس لئے ان لوگوں سے کچھ کہنا سننا بیکار ہے۔ البتہ جو سادہ لوح اور نیک نیت انسان ان کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر دل میں غلط خیال قائم کر لیتے ہیں‘ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ مختصر الفاظ میں‘ اصل حقیقت ان کے سامنے پیش کر دی جائے۔ تاکہ وہ اس بدظنی سے بچ جائیں جسے قرآن مجید نے یہ کہہ کر گناہ قرار دیا ہے کہ
یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۔ (49:12)
اے ایمان والو! کسی کے خلاف بدظنی سے بہت زیادہ بچو ‘ اس لئے کہ بعض بدظنی (انسان کو) گناہ (تک پہنچا دیتی) ہے۔

پہلا اِلزام – طلوعِ اِسلام منکرِ حدیث ہے

یہ الزام قطعاً غلط ہے۔ ہم جو کہتے ہیں صرف اس قدر ہے کہ نبی اکرمؐ کی سیرتِ مقدسہ‘ انسانی شرف اور کردار کی انتہائی بلندی پر ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری کتبِ روایات میں ایسی باتیں بھی آگئی ہیں جن سے حضورؐ کی سیرت پر طعن پڑتا ہے۔ غیر مسلم انہی روایات کی بنا پر آئے دن حضورؐ کی ذاتِ اقدس پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس قسم کی روایات وضعی ہیں۔ ان کے متعلق ہمیں صاف الفاظ میں کہہ دینا چاہئے کہ وہ رسولؐ اللہ کے اقوال و افعال نہیں ہیں۔ یہی ہیں وہ روایات جن کے صحیح ہونے سے ہم انکار کرتے ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمؑ نے تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا (بخاری) ہم اسے صحیح حدیث نہیں مانتے‘ اور ہمارا خیال ہے کہ آپ بھی صحیح نہیں مانتے ہوں گے۔ اس قسم کی حدیثوں کے متعلق ہم کہتے یہ ہیں کہ یہ رسولؐ اللہ کی ہو نہیں سکتیں۔ یہ وضعی ہیں اور حضورؐ کی طرف یونہی منسوب کر دی گئی ہیں۔ یعنی ہم رسولؐ اللہ کی حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ کہتے یہ ہیں کہ اس قسم کی احادیث کی حضورؐ کی طرف نسبت صحیح نہیں ہے۔
ایسی روایات کو چھوڑ کر‘ وہ احادیث جو نہ قرآن مجید کے خلاف ہوں اور نہ جن سے نبی اکرمؐ یا صحابہ کرامؓ کی شان کے خلاف کوئی طعن پڑتا ہو‘ ہم انہیں صحیح تسلیم کرتے ہیں۔
*********

دوسرا اِلزام – طلوعِ اِسلام منکرِ سنت ہے

اس سنگین ترین الزام کی تردید میں ہم اس سے زیادہ کچھ اور کہنا ضروری نہیں سمجھتے کہ پرویز صاحب کی مایہ ناز کتاب‘ معراج انسانیت1؂ ‘ کا ایک اقتباس درج کر دیں جو طلوع اسلام کے صفحات میں کئی بار پیش کیا جا چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں -:
خدائے جلیل نے اپنے بندوں سے جو کچھ کہنا تھا آخری مرتبہ کہہ دیا۔ شرفِ انسانیت کی تکمیل کے لئے جو قوانین دیئے جانے تھے وہ اپنی انتہائی شکل میں دے دیئے گئے۔ اس کے بعد انسان کو اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لئے کسی دوسری مشعلِ راہ کی ضرورت‘ اور کسی اور ہادئ طریقت کی احتیاج نہ رہی۔ اب انسانیت کے مقامِ بلند تک پہنچنے کے لئے وہی ایک صراط مستقیم ہے جس پر اس ذاتِ اقدس و اعظمؐ کے نقوشِ قدم جگمگ جگمگ کر رہے ہیں اور جس کو دیکھ کر ہر خبیر و بصیر پکار اٹھتا ہے کہ؂
مقامِ خویش اگر خواہی دریں دیر
بحق دل بند و راہِ مصطفی رَو
(معراج انسانیت ص 175)
جس کا یہ ایمان ہو کیا اُسے منکرِ سُنت کہا جا سکتا ہے؟
*********

تیسرا اِلزام – طلوعِ اِسلام رسالت پر ایمان ضروری نہیں سمجھتا

اس الزام کی تردید میں بھی ہم پرویز صاحب کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کر دینا کافی سمجھتے ہیں۔ وہ ’’سلیم کے نام خطوط‘‘ (جلد اول ص 84) میں لکھتے ہیں
ذرا سوچو کہ جب ایک مسلمان کہتا ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے تو اس کے پاس اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے کہ قرآن واقعی خدا کا کلام ہے (معاذ اللہ! رسولؐ اللہ کا خود ساختہ نہیں۔) تاریخ شاہد ہے (اور اس کا ہمیں بھی اقرار ہے) کہ دنیا کو قرآن محمدؐ ابن عبداللہ نے دیا تھا۔ پھر یہ خدا کا کلام کیسے ہوا؟ اس کا صرف ایک ہی ثبوت ہے کہ خود محمدؐ ابن عبداللہ نے یہ کہا ہے کہ یہ کلام میرا نہیں‘ خدا کا ہے۔ اس لئے جب تک کوئی شخص محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت پر ایمان نہ لائے‘ قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان نہیں لا سکتا۔
*********

چوتھا اِلزام – طلوعِ اِسلام سنتِ رسول اللہ کو حُجت نہیں مانتا

جیسا کہ ’’الزام نمبر 6‘‘ کے تحت آپ دیکھیں گے‘ طلوع اسلام کا عقیدہ اور مسلک یہ ہے کہ مختلف ارکانِ اسلام (نماز روزہ وغیرہ) کو اُمت کے مختلف فرقے‘ جس جس طریقے سے ادا کرتے چلے آرہے ہیں‘ کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ ان میں کسی قسم کا رد و بدل کر سکے‘ یا کوئی نیا طریقہ وضع کرے۔
اب سوچئے کہ جو شخص (مثلاً) نماز کے مروجہ طریقہ میں نہ خود رد و بدل کرتا ہے نہ کسی اور شخص کو اس کا حق دیتا ہے‘ وہ سنتِ رسولؐ اللہ کو حجت نہیں مانتا تو اور کیا کرتا ہے۔ حجت کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ اسے مستند سمجھا جائے اور کسی شخص کو اس میں رد و بدل کرنے کا مجاز نہ سمجھا جائے۔
*********

پانچواں اِلزام – طلوعِ اِسلام حکومت کی اِطاعت کو خدا اور رسول کی اِطاعت قرار دیتا ہے

اس الزام کی تردید میں ہم پر پرویز صاحب کے اس خط کا متعلقہ اقتباس درج کر دینا کافی سمجھتے ہیں جو انہوں نے (کفر کے فتویٰ کے جواب میں) مفتی محمد شفیع صاحب کے نام لکھا تھا۔

اطاعتِ رسول اور اطاعتِ خدا کے متعلق جو کچھ میں کہتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صورت یہ نہیں تھی کہ ہر شخص اپنے اپنے مفہوم کے مطابق خدا اور رسولؐ کی اطاعت کر لیتا تھا۔ اس کی صحیح شکل تھی کہ حضورؐ کے بعد جو خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہوئی تھی اس سے پوچھا جاتا تھا کہ فلاں معاملہ میں خدا اور رسولؐ کی اطاعت کس طرح کی جائے گی جو فیصلہ وہاں سے ملتا اسے خدا اور رسول کی اطاعت سمجھا جاتا۔ اسی سے وحدتِ امت قائم تھی۔ جب خلافت باقی نہ رہی تو خدا اور رسولؐ کی اطاعت انفرادی طور پر ہونے لگی۔ اس سے امت میں افتراق پیدا ہوا۔ امت میں دوبارہ وحدت پیدا کرنے کی صورت یہ ہے کہ پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم کی جائے اور اس کے فیصلوں کے مطابق خدا اور رسولؐ کی اطاعت کی جائے۔ اسی خلافت کو بغرضِ اختصار‘ مرکزِ ملت یا اسلامی نظام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور میں اس کی بار بار وضاحت کر چکا ہوں۔ میں نہ ہر نظامِ حکومت کو اسلامی نظام کہتا ہوں اور نہ اس کے فیصلوں کی اطاعت کو خدا اور رسولؐ کی اطاعت۔۔ میرے نزدیک خلافت علیٰ منہاج نبوت کے علاوہ کوئی نظام اسلامی نہیں کہلا سکتا۔ اور نہ اسے مرکزِ ملت قرار دیا جا سکتا ہے۔
(طلوع اسلام۔ مئی جون 62 ؁ء ص 152-153)
جہاں تک ہمارا تعلق ہے‘ ہم اپنے آپ کو نہ اس وقت ان طریقوں میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا مجاز سمجھتے ہیں جن پر اُمت کاربند ہے نہ خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس کا مجاز سمجھیں گے۔ ہم اس وقت اس طریقے کے مطابق چلیں گے جس پر وہ خلافت ہمیں چلائے گی۔ البتہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر دین کی حکمت اور امت کی بہتری کی خاطر وہ خلافت کسی سابقہ فیصلہ میں کچھ تبدیلی کرنا چاہے‘ تو وہ ایسا کرنے کی مجاز ہو گی (مثلاً) نبی اکرمؐ کے زمانہ میں تمام مفتوحہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کر دی جاتی تھیں‘ لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں اس طریق کو بدل دیا اور مفتوحہ زمینوں کو‘ حکومت کی تحویل میں لے لیا‘ تاکہ اس سے افراد مملکت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب پھر اسی قسم کی خلافت قائم ہو جائے‘ جیسی حضرت عمرؓ کے زمانے میں تھی‘ تو وہ اس قسم کے فیصلے کرنے کی مجاز ہو گی۔
*********

چھٹا اِلزام – تین نمازیں – نو دن کے روزے

کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام کہتا ہے کہ نمازیں صرف تین وقت کی ہیں اور روزے نو دن کے۔

یہ سرتاسر جھوٹ ہے۔ طلوع اسلام نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ اس کے برعکس ہم نے بار بار اعلان کیا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز‘ روزہ وغیرہ کی ادائیگی کرتے چلے آرہے ہیں‘ ہمیں ان میں کسی قسم کے تغیر و تبدل کا حق حاصل نہیں‘ نہ ہی کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنے کا۔۔ البتہ ہم یہ ضروری کہتے ہیں کہ
(1) ان باتوں میں مختلف فرقوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے ان کی بنا پر آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہئے۔۔۔ اور
(2) نماز‘ روزہ وغیرہ کو محض رسمی طور پر ادا نہیں کر لینا چاہئے۔ اس روح اور مقصد کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جن کے لئے یہ احکام دیئے گئے تھے۔ رسمی نمازیں اور بے روح روزے‘ وہ انقلاب نہیں پیدا کر سکتے جو انقلاب محمد رسولؐ اللہ والذین معہؓ نے دنیا میں پید اکر کے دکھایا تھا۔
*********

ساتواں اِلزام – اُردو میں نماز

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام نے اُردو میں نماز پڑھنے کا طریقہ ایجاد کیا ہے‘ یہ طلوع اسلام کے خلاف کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ کچھ سال اُدھر کا ذکر ہے کہ لاہور میں کسی صاحب نے عید کی نماز اُردو میں پڑھائی۔ جب اس واقعہ کی خبر طلوع اسلام کو پہنچی (جس کا دفتر اُس زمانہ میں کراچی میں تھا) تو اُس نے‘ سب سے پہلے اس کی مخالفت کی اور لاہور میں بڑے بڑے پوسٹر اس کے خلاف لگوائے۔ اس کے بعد یہ آج تک اس تحریک کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے۔
اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایئے کہ طلوع اِسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے کس دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں۔
*********

آٹھواں اِلزام – طلوعِ اِسلام ایک نیا فرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے

طلوع اسلام پہلے دن سے اعلان کرتا چلا آرہا ہے کہ اسلام دُنیا میں امتِ واحدہ پیدا کرنے کے لئے آیا تھا اور نبی اکرمؐ نے ایسی اُمت پیدا کر کے دکھا دی تھی جس میں کوئی فرقہ نہیں تھا۔ قرآن کی رُو سے فرقہ بندی شرک ہے۔
اب ظاہر ہے کہ جس بات کو طلوع اسلام‘ خلافِ اسلام اور شرک قرار دیتا ہے کیا وہ خود اس کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ طلوع اسلام کا تعلق نہ کسی سیاسی پارٹی سے ہے نہ کسی مذہبی فرقہ سے‘ نہ ہی وہ کوئی اپنی سیاسی پارٹی بنانا چاہتا ہے نہ مذہبی فرقہ۔ وہ امت میں اتحاد کا علمبردار ہے اور پوری نوع انسانی کا ایک عالمگیر برادری بنانے کا داعی۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
*********

نواں اِلزام – طلوعِ اِسلام قرآن کو نئے معنی پہناتا ہے

اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو حکم دیا ہے کہ وہ قرآن کریم میں غور و فکر کرے وہ اس میں غور و تدبر نہ کرنے والوں کو بڑی سخت سرزنش کرتا ہے۔ وہ عقل و فکر سے کام نہ لینے والوں کو حیوانات سے بھی بدتر قرار دیتا ہے۔
طلوع اسلام‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق‘ قرآن کریم میں غور و تدبر کرتا ہے اور اس کے نتائج دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ جو کچھ کہتا ہے اس کی سند خود قرآن سے پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد بھی وہ کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ بالضرور اس کے پیش کردہ مفہوم کو صحیح سمجھے‘ نہ ہی وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے‘ غلطی سے مبرا اور حرفِ آخر ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے انفرادی غور و فکر کا حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔ آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں‘ لیکن اسے غور و فکر کرنے سے نہیں روک سکتے؟ اگر کسی کو غور و فکر کا حق دیا جانا مقصود نہ ہوتا‘ تو اللہ تعالیٰ غور و فکر کرنے کا حکم کیوں دیتا؟
*********

دسواں اِلزام – اِسلام کی مُخالفت

اس سلسلے میں عوام کو یہ کہہ کر بھڑکایا جاتا ہے کہ دیکھو‘ یہ شخص (پرویز) یہ کہتا ہے کہ
(1) قرآن کو آج تک میرے سوا کسی نے نہیں سمجھا۔
(2) جو کچھ ہمارے پاس اسلاف سے آرہا ہے‘ اس کو دریا بُرد کر دینا چاہئے۔
(3) تمہارے ائمہ اور اسلاف سب (معاذ اللہ) جاہل تھے۔ وغیرہ وغیرہ
یہ کچھ نہ کبھی پرویز صاحب نے کہا ہے‘ نہ طلوع اسلام نے‘ وہ کھلے الفاظ میں کہتا ہے کہ
’’ہمارا یہ مطلب نہیں کہ سلف سے جو کچھ تمہارے پاس آیا ہے وہ (معاذ اللہ) سب کا سب گمراہ کن ہے۔ ایسا کون کہہ سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں ان سے ملا ہے‘ آنکھیں بند کر کے اس کی پیروی مت کرو بلکہ شمع قرآنی کی روشنی میں ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھو۔ وہ بھی ہماری طرح انسان تھے‘ غلطی کر سکتے تھے‘ لیکن قرآن کی کسوٹی کبھی غلطی نہیں کر سکتی۔‘‘
(طلوع اسلام۔ بابت اکتوبر 49 ؁ء)
اس کا کہنا صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ اسلاف سے چلا آرہا ہے ہمیں چاہئے کہ اسے قرآن کریم کی روشنی میں پرکھ کر دیکھ لیں‘ جو کچھ اس کے مطابق ہو اسے صحیح تسلیم کر لیں۔ جو اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیں۔
جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ ہماری کتب روایات میں اور اسلاف کی کتابوں میں بعض باتیں ایسی آگئی ہیں جو قرآن کے خلاف جاتی ہیں۔ ان باتوں کے متعلق طلوع اسلام کا مسلک وہ ہے جسے پرویز صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
میرے نزدیک نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی بات (معاذ اللہ) قرآن کے خلاف فرما سکتے تھے اور نہ ہی میں ان بزرگوں کے متعلق ایسا گمان کر سکتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کے خلاف کچھ پیش کیا ہو۔ لہٰذا یہ چیزیں رسولؐ اللہ اور ائمہ ملت کی طرف غلط منسوب کر دی گئی ہیں (اور یہی عجم کی سازش تھی) اگر اس پر بھی کسی کو اصرار ہے کہ نہیں! یہ باتیں رسولؐ اللہ (اور ائمہ کرامؒ ) ہی کی ہیں تو میں صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ یہ جرأت آپ کو مبارک ہو۔ میں تو اس کے تصور سے بھی کانپتا ہوں کہ کسی ایسی بات کو جو قرآن مجید کے خلاف ہو‘ (معاذ اللہ) رسولؐ اللہ یا حضورؐ کے کسی سچے متبع کی طرف منسوب کیا جائے۔
(اسباب زوال امت ص 174)
سوچئے کہ کیا یہ شخص اسلاف کا زیادہ احترام کرتا ہے‘ یا وہ جو اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ باتیں جو قرآن کے خلاف ہیں ہمارے اسلاف نے ضرور کہی ہیں۔
*********

گیارھواں اِلزام – دعوائے نبوت

جب ان لوگوں سے کوئی اور بات بن نہیں پڑتی تو کہہ دیتے ہیں کہ تم دیکھ لینا۔ پرویز صاحب ایک دن نبوت کا دعویٰ کر دیں گے۔
پرویز صاحب کا عقیدہ یہ ہے (جس کا وہ سینکڑوں مقامات پر شرح و بسط سے اعلان کر چکے ہیں) کہ
(1) نبی وہ ہے جسے خدا کی طرف سے وحی ملے۔
(2) وحی سے مطلب ہے خدا کی طرف سے براہ راست حقیقت کا علم حاصل ہونا۔
(3) نبی اکرمؐ کے بعد خدا کی طرف سے وحی کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔
(4) ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ اب کسی شخص کو خدا کی طرف سے براہ راست کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس نے انسانوں کی راہنمائی کے لئے جو کچھ دینا تھا‘ قرآن کریم میں دے دیا اور اسے قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا۔
(5) ہمارے ہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وحی کا دروازہ بند ہو گیا لیکن کشف اور الہام کا دروازہ کھلا ہے۔ کشف اور الہام کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خدا کی طرف سے براہِ راست علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ چیز ختم نبوت کے منافی ہے اور وہ سیڑھی ہے جس سے لوگ نبوت تک کا دعویٰ کرنے لگ جاتے ہیں اس لئے ان راستوں کا بند کرنا نہایت ضروری ہے۔
اب آپ سوچئے کہ جو شخص ختمِ نبوت کے بعد وحی تو ایک طرف‘ کشف و الہام کا بھی قائل نہ ہو وہ نبوت کا دعویٰ کس طرح کر سکتا ہے۔ پرویز صاحب کا ’’دعویٰ‘‘ صرف اس قدر ہے کہ وہ قرآن کے ایک ادنیٰ طالب علم ہیں اور بس۔
*********

بارھواں اِلزام – کمیونسٹ

ان پر جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے والوں کی دیدہ دلیری کی انتہا ہو جاتی ہے۔ جب یہ لوگوں میں مشہور کرتے ہیں کہ طلوع اسلام‘ ملک میں کمیونزم پھیلاتا ہے۔ یہ کچھ ا س طلوع اسلام کے خلاف کہا جاتا ہے جس نے‘ تشکیل پاکستان سے اس وقت تک کمیونزم کے خلاف مسلسل جہاد شروع کر رکھا ہے اس نے مختلف انداز میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کے لئے سب سے بڑا چیلنج کمیونزم ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں۔ اس لئے۔۔۔
نہ کوئی مسلمان کبھی کمیونسٹ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی کمیونسٹ مسلمان ہو سکتا ہے۔
(طلوع اسلام۔ ستمبر 1962 ؁ء ص 33)
اس لئے وہ دورِ حاضر میں کمیونزم کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے۔
البتہ وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ قرآن کریم جس قسم کا نظام قائم کرتا ہے اس میں کوئی شخص نہ بھوکا رہ سکتا ہے‘ نہ ننگا۔ اس میں ہر فردِ معاشرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی ذمہ داری‘ مملکت پر ہوتی ہے۔ مملکت اپنی اس اہم اور عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے‘ ضرورت سمجھے تو ملک کے ذرائع پیداوار کو اپنی تحویل میں لے سکتی ہے لیکن مملکت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی جس سے کسی فرد کی انفرادیت (Individuality) سلب ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام میں افراد کو طبعی ضروریاتِ زندگی کی طرف سے اطمینان ہی اس لئے دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی وحی خداوندی کے تابع رکھ کر‘ اپنی ذات (انسانی صلاحیتوں) کی نشوونما کر سکیں اور اس طرح دنیا میں بھی سرفرازی و سربلندی کی زندگی بسر کریں اور حیاتِ اخروی میں زندگی کی مزید ارتقائی منازل طے کرنے کے قابل ہو سکیں۔ سوچئے کہ کمیونزم کو‘ جو نہ وحی خداوندی کو مانتی ہے اور نہ حیاتِ اخروی کو‘ اس نظام حیات سے کیا واسطہ؟
*********
یہ ہیں مختصر الفاظ میں وہ الزامات‘ جو طلوع اسلام کے خلاف تراشے جاتے ہیں اور جن کا اس قدر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کی روشنی میں دیکھئے کہ کیا ان الزامات میں کوئی صداقت ہے؟ یہ لوگ طلوع اسلام کے خلاف اس قدر جھوٹا پراپیگنڈہ اس لئے کرتے ہیں کہ طلوع اسلام اس تھیاکریسی کی مخالفت کرتا ہے جسے یہ لوگ یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں اور جس میں انسانیت کا گلا گھٹ کر رہ جاتا ہے۔
یہ حضرات طلوع اسلام کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے تک ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہر قسم کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اس باب میں آپ مولانا مودودی صاحب کے ایک ممتاز اور پرانے معتقد حکیم عبدالرحیم اشرف کا ایک بیان سن لیجئے‘ جو ان کے اخبار ’’المنیر‘‘ بابت 19 ستمبر 1958 ؁ء میں شائع ہوا تھا (اشرف صاحب اب مودودی صاحب سے الگ ہو چکے ہیں) انہوں نے لکھا تھا -:
میں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب سے 17 دسمبر 1957 ؁ء کو ملتان جیل میں ملاقات کی۔ اس موقعہ پر منجملہ دیگر امور کے ’’منکرین سنت‘‘ اور ان کے فتنے کا بھی ذکر آگیا۔ اس پر مولانا ممدوح نے اشاعتِ لٹریچر کی ایک اسکیم بتلائی اور اس کی تکمیل کے سلسلے میں فرمایا کہ آپ چودھری غلام محمد صاحب سے کہیں (جو اس زمانہ میں جماعت اسلامی سندھ کے قیم تھے) کہ وہ دفتر طلوع اسلام سے رابطہ پیدا کریں اور وہاں کسی شخص کی تالیف قلب کر کے طلوع اسلام کے پتے حاصل کریں۔
آپ اندازہ لگا لیجئے کہ جو لوگ رشوت دے کر پتے حاصل کرنے تک سے بھی گریز نہ کریں وہ الزام تراشی اور کذب بافی میں کیا باک محسوس کریں گے؟
*********

ایک درخواست

اس سلسلہ میں ہماری آپ سے صرف ایک درخواست ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ سے کوئی شخص طلوع اسلام کے خلاف کوئی بات کہے۔ تو آپ اس سے اتنا کہئے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کی تائید میں طلوع اسلام یا پرویز صاحب کی کوئی تحریر دکھا دیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد وہ کس طرح اپنا سا مُنہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا یہ پروپیگنڈہ کامیاب ہی اس لئے ہو رہا ہے کہ لوگ ان سے اس کا مطالبہ نہیں کرتے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کی تائید میں طلوع اسلام یا پرویز صاحب کی تحریر دکھا دیجئے۔
یا آپ کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جو کچھ آپ سے کہا جائے اس کے متعلق طلوع اسلام یا پرویز صاحب سے خود دریافت کر لیجئے کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔
*********

درسِ قرآن

اس کے جواب میں بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ پرویز صاحب اپنے درسِ قرآن میں اس قسم کی قابلِ اعتراض باتیں کہتے ہیں۔ پرویز صاحب کا درس ہر اتوار کی صبح ان کے مکان (واقعہ 25 بی‘ گلبرگ 2‘ لاہور) میں ہوتا ہے۔ جس کا جی چاہے اسے آکر سُن لے اور اپنا اطمینان کر لے کہ اس میں کون سی بات قابلِ اعتراض ہوتی ہے۔
پھر اتنا ہی نہیں کہ وہاں درس دیا گیا اور بات ہوا میں اڑ گئی۔ ان کا ہر درس ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور یہ ٹیپ (ہر اتوار کی صبح‘ لاہور) میں 25بی‘ گلبرگ 2‘ میں سنایا جاتا ہے اس کے بعد دیگر مقامات میں اسے دہرایا جاتا ہے۔ آپ ان مقامات میں سے کسی جگہ اس درس کو سنئے اور پھر خود فیصلہ کیجئے کہ آیا اس میں کوئی قابل اعتراض بات ہوتی ہے۔۔؟ محض سنی سنائی باتوں پر نہ جایئے کیونکہ خدا کا حکم ہے کہ
لا تقف ما لیس لک بہ علم۔ (17:36)
جس بات کا تمہیں ذاتی طور پر علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ لگ جایا کرو۔


899 total views, 1 views today

(Visited 199 times, 1 visits today)

قوموں کے تمدن (کلچر) پر جنسیات کا اثر – (پرویز)

SEX AND CULTURE by Ghulam Ahmad Parwez

جب زندگی اپنے ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی‘ حیوانی سطح سے انسانی پیکر پر پہنچی تو وہ حیوانی زندگی کے بعض خصائص و لزومات بھی اپنے ساتھ لائی۔ کھانا‘ پینا‘ سونا وغیرہ (جسم کا طبعی نظام) حیوان اور انسان میں مشترک ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ انسانی زندگی کی حیوانی سطح کے مظاہر ہیں۔ انہی میں افزائش نسل Procreation اور اس کے لئے جنسی جذبہ Sexual Instinct بھی شامل ہے۔
کھانے پینے کے معاملہ میں‘ حیوانات پر بعض پابندیاں فطرت کی طرف سے از خود عائد ہوتی ہیں۔ مثلاً بکری گھاس کھاتی ہے گوشت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔ شیر گوشت کھاتا ہے‘ گھاس نہیں کھاتا۔ بطخ کے بچے انڈوں سے نکلتے ہی پانی کی طرف لپکتے ہیں۔ مرغی کے بچوں کو پانی کی طرف گھیر کر بھی لے جائیں تو وہ آگے قدم نہیں بڑھاتے۔ حیوانات پر یہ پابندیاں از خود عائد ہوتی ہیں اور وہ انہیں توڑنے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس‘ انسانی بچے کو دیکھئے۔ وہ سنکھیا کی ڈلی کو بھی اسی طرح بے تکلفی سے منہ میں ڈال لیتا ہے جس طرح شاخ نبات (مصری کی ڈلی) کو۔ وہ کبھی دہکتے ہوئے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے اور کبھی پانی میں ڈبکیاں لگاتا دکھائی دیتا ہے اس پر فطرت کی طرف سے از خود ایسی پابندیاں نہیں عائد ہوتیں جیسی حیوانات پر عائد ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ پابندیوں کے بغیر زندگی دوبھر ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں ناممکن بھی ہو جاتی ہے اس لئے انسان پر بھی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ یہ پابندیاں یا تو معاشرے کی طرف سے عائد کی جاتی ہیں اور یا مذہب کی طرف سے۔ (مذہب کے بجائے وحی کا لفظ زیادہ موزوں ہے اس لئے آئندہ صفحات میں اسے وحی ہی سے تعبیر کیا جائے گا۔ وحی سے مراد ہی ایسی پابندیاں جو انسانی معاشرہ کی طرف سے عائد کردہ نہ ہوں بلکہ خدا کی طرف سے عائد کردہ ہوں)۔
معاشرتی پابندیاں -: معاشرہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور وحی کی رو سے متعین کردہ پابندیوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ معاشرتی پابندیاں بعض مصالح کی بناء پر بدلی بھی جا سکتی ہیں۔ لیکن وحی کی رو سے عائد کردہ پابندیوں میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ مثلاً معاشرہ کسی وقت فیصلہ کرتا ہے کہ لوگوں کو سڑک کے بائیں طرف چلنا چاہئے۔ اس فیصلہ کی رو سے (Keep to the left) سڑک کا قانون قرار پا جاتا ہے لیکن اگر کسی وقت معاشرہ اس کی ضرورت محسوس کرے تو وہ اس قانون کو بدل کر ’’دائیں طرف چلو‘‘ کا قانون بھی نافذ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جب وحی خداوندی نے کہا ہے کہ (مثلاً لحم خنزیر حرام ہے تو کوئی انسان اس قانون میں ترمیم نہیں کر سکتا۔ وحی خداوندی کے ماننے والوں کو لحم خنزیر سے اسی طرح پرہیز کرنا ہو گا جس طرح بکری گوشت سے پرہیز کرتی ہے‘ اس فرق کے ساتھ کہ بکری ایسا اپنی مرضی سے نہیں کرتی۔ لیکن انسانوں کو ایسا اپنے اختیار و ارادہ سے کرنا ہو گا۔
جنسی جذبہ پر پابندیاں -: کھانے پینے کے علاوہ جنسی جذبہ کی تسکین کے سلسلہ میں بھی حیوانات پر فطرت کی طرف سے کنٹرول عائد ہوتا ہے۔ ایک بیل ہر روز گایوں کے گلے میں پھرتا رہتا ہے لیکن کبھی جنسی اختلاط نہیں کرتا۔ تاوقتیکہ اسے گائے کی طرف سے استقرار حمل کا طبعی تقاصا اس کی دعوت نہ دے۔ لیکن انسان پر اس قسم کا کوئی کنٹرول نہیں عائد کیا گیا وہ جب جی چاہے اپنے جنسی جذبہ کی تسکین کر سکتا ہے۔
حیوانات پر اس طبعی کنٹرول کے علاوہ (جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے) کسی قسم کا اخلاقی کنٹرول عائد نہیں کیا گیا (حیوانات کی صورت میں اخلاقیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) لیکن انسان پر اس ضمن یں اخلاقی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ (جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے) یہ پابندیاں معاشرہ کی طرف سے بھی عائد کی جاتی ہے اور وحی کی رو سے بھی۔ معاشرتی پابندیوں پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ یہ پابندیاں مختلف اقوام و ممالک میں مختلف نوعیتوں کی ہیں۔ نیز کسی ایک ہی قوم میں مختلف زمانوں میں ان پابندیوں میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً انگلستان میں اگر ایک بالغ لڑکا اور لڑکی باہمی رضامندی سے (شادی کے بغیر) جنسی اختلاط کی صورت پیدا کر لیں تو معاشرے کی نگاہوں میں یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ یہ اسی صورت میں جرم قرار پائے گا جب میاں یا بیوی کو اس پر اعتراض ہو۔ ان پابندیوں میں ردوبدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً اس وقت تک وہاں یہ صورت ہے کہ اگر کسی غیر شادی شدہ لڑکی کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے اور بچے کا باپ اس لڑکی سے شادی نہ کرے تو وہ بچہ حرامی قرار پاتا اور سوسائٹی میں ذلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن پچھلے دنوں وہاں ایک تحقیقاتی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایسے تعلقات کو جائز سمجھا جائے۔ ان سے پیدا شدہ بچوں کو معاشرہ کا صحیح جزو قرار دیا جائے اور انہیں حقارت کی نظروں سے نہ دیکھا جائے۔ وقس علیٰ ہذا۔ اس وقت ان فیصلوں پر تنقید و تبصرہ مقصود نہیں۔ مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ اگر معاشرہ چاہے تو اپنی عائد کردہ پابندیوں میں تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔
وحی کی پابندیاں -: اس کے برعکس‘ اس باب میں وحی (یعنی قرآن کریم) نے بھی کچھ پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان پابندیوں کا ماحصل یہ ہے کہ معروف طریقہ پر شادی کے بغیر کسی لڑکے یا لڑکی (مرد یا عورت) کو جنسی اختلاط کی قطعاً اجازت نہیں اور شادی کے بعد‘ نہ بیوی کسی غیر مرد سے اختلاط پیدا کر سکتی ہے‘ نہ میاں کسی اور عورت سے۔ اس قسم کا اختلاط فرد کا نہیں بلکہ معاشرہ کا جرم ہے اور اس (جرم زنا) کی سزا معاشرہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور ان پابندیوں میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں کیا جا سکتا۔
مغرب کی جنسی بے باکیوں سے متاثر ہو کر ہمارے ہاں کے نوجوان طبقہ میں بھی یہ خیال عام ہو رہا ہے کہ مرد اور عورت کا جنسی تعلق ایک طبعی تقاضے کی تسکین یا افزائش نسل کے لئے ایک حیاتیاتی عمل (Biological Action) ہے اور بس۔ اس معاملہ کو لڑکی اور لڑکے کی باہمی رضامندی پر چھوڑ دینا چاہئے اور نکاح وغیرہ کی پابندی‘ محض قانونی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہونی چاہئے نہ کہ بالغ مرد اور عورت کی آزادی کو سلب کرنے کے لئے۔ ان خیالات کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی (مغرب کی طرح) جنسی فوضویت (Sexual Anarchy) کی فضا عام ہوتی جا رہی ہے اور وحی کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں (یعنی عفت و عصمت (Chastity) کے مطالبہ) کوغیر فطری جکڑ بندیاں قرار دیا جا رہا ہے۔
ان پابندیوں کی مصلحت-:سوال یہ ہے کہ کیا وحی کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں محض معاشرہ میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لئے ہیں یا ان کا تعلق عالم انسانیت کے اجتماعی مصالح سے ہے۔ اگر ان کا مقصد محض معاشرتی نظم و ضبط ہے تو بے شک معاشرہ کو اس کا حق ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مصالح کے پیش نظر ان میں ردوبدل کر لے لیکن اگر ان کا تعلق انسانیت کے کسی بنیادی مسئلہ سے ہے تو پھر کسی فرد یا افراد کے کسی گروپ کو اس کا حق نہیں دیا جا سکتا تاکہ وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان پابندیوں میں تبدیلی کر کے انسانیت کے اجتماعی مصالح کو نقصان پہنچائے۔ قرآن نے جب زنا کو معاشرہ کا جرم قرار دیا ہے تو اس سے مطلب یہی ہے کہ اس کے نزدیک جنسی تعلق محض ایک انفرادی فعل نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کا اثر اجتماعی انسانیت پر پڑتا ہے۔ دوسری طرف جب اس نے کہا کہ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ(۱/۲۳) ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ (۵/۲۳) تو اس نے واضح الفاظ میں اعلان کر دیا کہ عفت و عصمت کا‘ قوموں کی فلاح و بہبود سے گہرا تعلق ہے۔ جو قوم عصمت کی حفاظت نہیں کرتی وہ زندگی کے میدان میں فائز المرام (Prosperous) نہیں ہو سکتی۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کے اس دعوے کی صداقت کی شہادت کیا ہے؟جو لوگ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کے ان تمام دعاوی کو سچا مانتے ہیں۔ لیکن سوال ان لوگوں کا نہیں۔ سوال تو ان کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم اس دعوے کو بطور ایمان (Faith) ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ہم اس کے ثبوت میں علمی تائید اور شہادت چاہتے ہیں۔
قرآنی دعوے کی دلیل -: ان لوگوں (بالخصوص ہمارے نوجوان طبقہ) کا یہ مطالبہ ایسا نہیں جسے ہم لاحول پڑھ کر ٹھکرا دیں اور انہیں ملحد و بے دین کہہ کر تیوریاں چڑھا لیں۔ قرآن اپنے ہر دعوے کی بنیاد علم و بصیرت پر رکھتا ہے اور اسے دلیل و برہان کی رو سے منواتا ہے۔ وہ کہتا یہ ہے کہ جوں جوں انسانی علم کی سطح بلند ہوتی جائے گی قرآنی حقائق کھل کر سامنے آتے چلے جائیں گے سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔۔۔۔۔۔ (۵۳/۴۱) ہم انہیں انفس و آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تاآنکہ یہ چیز نکھر کر ان کے سامنے آجائے کہ قرآن ایک حقیقت ثابتہ ہے۔ لہٰذا دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جنسی تعلقات کے متعلق جس قدر تحقیقات ہمارے زمانے میں ہو چکی ہیں وہ قرآن کے دعوے کی کس حد تک تائید کرتی ہیں۔ یہ سوال بڑا اہم ہے اور وقت کا نازک ترین مسئلہ۔ اس لئے اس قابل کہ اس پر بڑی توجہ اور گہری فکر سے غور و خوض کیا جائے۔
غور و فکر -:جنسیات کے متعلق ہمارے ہاں کوئی تحقیق نہیں ہوئی اس لئے اس کے نتائج کو سامنے لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ایک جنسیات ہی پر کیا موقوف ہے۔ زندگی کے اور کون سے شعبے ہیں جن کے متعلق ہمارے ہاں کوئی ریسرچ ہوئی ہو! حقیقت یہ ہے کہ جس قوم پر صدیوں سے سوچنا حرام ہو چکا ہو اور تقلید کہن زندگی کی محمود روش قرار پا چکی ہو‘ ان میں فکری صلاحیتیں بہت کم باقی رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس مقصد کے لئے بھی مغرب کے محققین کی طرف ہی رجوع کرنا ہو گا۔
علمائے مغرب کی تحقیقات -:یورپ میں (دیگر شعبوں کی طرح) جنسیات نے بھی ایک مستقل سائنس کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے لئے وہاں تحقیقاتی ادارے قائم ہیں۔ علمائے عمرانیات Sociologists تہذیب کے مورخ‘ علمائے جنسیات اور ماہرین علم تجزیہ نفس Psycho-Analysts وغیرہم نے اس موضوع پر کافی چھان بین کی ہے اور جنسیات سے متعلق لٹریچر خاصی مقدار میں شائع ہو چکا ہے اور ہوتا چلا رہا ہے۔ ان کی تحقیقات کا بالعموم انداز یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے قدیم باشندوں Primitive Tribes کے احوال و کوائف‘ بود و ماند‘ رسوم و معاشرت اور اجتماعی اعمال و معتقدات کا مطالعہ کرتے اور اس طرح حاصل کردہ مسالہ (Data) سے نتائج مستنبط کرتے ہیں(۱)۔ اس مقصد کے لئے انہیں جن صبر آزما اور مشقت طلب مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمر افریقہ کے صحراؤں‘ جنوبی امریکہ کے جنگلوں‘ قطبین کے برفانی میدانوں اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں گذار دی۔ وہ وہاں کے وحشی قبائل میں جا کر رہے۔ انہی کی معاشرت اختیار کی۔ وہی کچھ کھایا جو وہ کھاتے تھے۔ وہی کچھ پہنا جو کچھ وہ پہنتے تھے۔ انہی کے ساتھ کبھی درختوں کے کھوکھلے تنوں میں‘ کبھی ان کی شاخوں کے اوپر‘ کبھی پہاڑوں کے غاروں میں اور کبھی درندوں کے بھٹوں میں زندگی بسر کی۔ بعض اوقات انہی میں شادیاں بھی کیں اور اس طرح انہی میں گھل مل کر ان کی معاشرت اور معتقدات کادقت نظر سے مطالعہ کیا اور اس طرح ان کے متعلق براہ راست معلومات بہم پہنچائیں۔ ان محققین نے دنیا کے قبائل کی معاشرت اور معتقدات کے مطالعہ کے بعد جن موضوعات کے متعلق اصول متعین کئے ہیں۔ ان میں جنسیات کو ایک کاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے مرتب کردہ نتائج ہمیں اس حقیقت تک پہنچاتے ہیں کہ مرد اور عورت کے جنسی تعلق کا معاملہ محض شہوانی جذبہ کی تسکین تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کا اثر بڑا دور رس ہوتا ہے۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ کسی قوم کے تمدن (Culture) کا اس سوال سے گہرا تعلق ہے کہ اس قوم نے جنسی تعلقات کو آزاد چھوڑ رکھا تھا یا اس پر پابندیاں لگا رکھی تھیں اور اگر پابندیاں لگا رکھی تھیں تو وہ کس نوعیت کی تھیں۔
ڈاکٹر انون -:Dr.J.D.Unwin انہیں محققین میں کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر J.D.Unwin کا نام خاص شہرت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر انون نے دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے ۸۰ غیر مہذب (قدیمی) قبائل کی زندگی کا مطالعہ اس نقطہ نگاہ سے کیا ہے کہ انسانی زندگی میں جنسیات اور کلچر کا کیا تعلق ہے؟ اگر ان میں ایک قبیلہ جنوبی امریکہ کا ہے تو دوسرا قطب شمالی کا۔ ایک آسڑیلیا کا ہے تو دوسرا صحرائے افریقہ کا۔ اس کے بعد اس محقق نے سولہ مہذب اقوام کی معاشرت کا مطالعہ کیا ہے اور اپنے نتائج تحقیقات کو اپنی گراں بہا کتاب (Sex and Culture) میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا فقرہ یہ ہے -:
دنیا کی مہذب اقوام ہوں یا غیر مہذب قبائل۔ سب کے ہاں چنسی مواقع اور قوم کی تمدنی حالت میں بڑا گہرا تعلق ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس مسئلہ پر تفصیلی تحقیق کی جائے۔ میری اس تحقیق کا ماحصل اور اس سے مستنبط کردہ نتائج اس کتاب میں پیش کئے گئے ہیں۔
اصل کتاب سے بھی پہلے دیباچہ میں لکھا ہے کہ -:
اپنی تحقیقات کے بعد میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ انسانوں کا کوئی گروہ ہو‘ اس کی تمدنی سطح کا انحصار دو چیزوں پر ہے۔ ایک ان لوگوں کا نظام اور دوسرے وہ توانائی جو ان حدود و قیود کی بنا پر حاصل ہوتی ہے جو اس گروہ نے جنسی تعلقات پر عائد کر رکھی ہوں۔ (XIV)
اسی کلیہ کو اس نے اصل کتاب میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے -:
کوئی گروہ کیسے ہی جغرافیائی ماحول میں رہتا ہو۔ اس کی تمدنی سطح کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ اس نے اپنے ماضی اور حال میں جنسی تعلقات کے لئے کس قسم کے ضوابط مرتب کر رکھے تھے۔ (ص ۳۴۰)
آپ نے غور کیا کہ یہ محقق اپنی تحقیقات کے بعد کس نتیجہ پر پہنچا ہے؟ وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جنسی تعلقات محض ایک حیوانی جذبہ کی تسکین کا نام نہیں بلکہ قوموں کی تہذیب و تمدن کا دارومدار اسی جذبہ کی تحدید و تادیب پر ہے۔ حتیٰ کہ ڈاکٹر انون یہ بھی لکھتا ہے کہ -:
اگر کسی قوم کی تاریخ میں آپ دیکھیں کہ کسی وقت اس کی تمدنی سطح بلند ہو گئی تھی یا نیچے گر گئی تھی تو تحقیق سے معلوم ہو گا کہ اس قوم نے اپنے جنسی تعلقات کے ضوابط میں تبدیلی کی تھی جس کا نتیجہ اس کی تمدنی سطح کی بلندی یا پستی تھا۔ (ص ۳۰۲)
آگے چل کر وہ لکھتا ہے کہ -:
جنسی تعلقات کے ضوابط میں تبدیلی کے اثرات تین پشتوں کے بعد (یعنی قریب سو سال میں) نمودار ہوتے ہیں۔ (ص ۳۳۰)
اس لئے اگر کسی قوم میں تمدنی تبدیلی واقع ہو۔ یعنی اسے دنیا میں عروج حاصل ہو یا اس پر زوال آجائے تو اس عروج و زوال کے اسباب کے لئے دیکھنا چاہئے کہ اس قوم نے سو سال پہلے اپنے ہاں جنسی تعلقات کے ضوابط میں کس قسم کی تبدیلیاں کی تھیں جیسی وہ تبدیلیاں ہوں گی اسی قسم کے نتائج مرتب ہوں گے۔
جبری تجرد -:سب سے پہلے تجرد کی زندگی (Celibacy) کو لیجئے جسے عیسائیت (اور اس سے متاثر شدہ مسلک خانقاہیت) روحانی ارتقاء کے لئے اولین شرط قرار دیتی ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ :
جبری تجرد (Compulsory Celibacy) کے اثرات انسانی تمدن پر ہلاکت انگیز ہوتے ہیں۔ (ص ۸۴)
جبری تجرد سے مفہوم یہ ہے کہ یہ چیز انسانی عقائد یا معاشرتی ضوابط میں شامل کر دی جائے کہ وہ تجرد کی زندگی وجہ شرف و تقدس ہے اور اس طرح لوگوں کو ذہنی طور پر مجبور کر دیا جائے کہ وہ تجرد کی زندگی بسر کریں۔ جیسے عیسائیوں کے ہاں (Nuns) اس قسم کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
عیسائیت یا مسلک خانقاہیت میں جہاں یہ کہا جاتا ہے کہ تجرد کی زندگی ہی شرف انسانیت کی زندگی ہے تو دوسری طرف آج کل عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر جنسی جذبات کی تسکین کے سلسلہ میں کسی قسم کی بھی پابندی عائد کی جائے تو اس سے انسان کے اعصاب پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور اس سے خطرناک قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ یہ خیال یکسر غلط ہے۔ جنسی جذبات پر پابندیاں عائد کرنے سے اعصابی بیماریاں پیدا نہیں ہوتیں۔ انہیں بے لگام چھوڑ دینے سے ایسا ہوتا ہے (دیباچہ ص xii)
******
تین گروہ -:اس تمہید کے بعد آگے چلئے۔ ڈاکٹر انون نے قدیم غیر مہذب قبائل کی تمدنی سطح کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ وہ سب سے نچلے درجے کا نام (Zoistic) رکھتا ہے اور ا سے اوپر (Manistic) کا درجہ ہے اور سب سے اوپر (Deistic) کا درجہ۔ اس کے بعد وہ ۸۰ قبائل کی تمدنی سطح کے مطالعہ کے بعد جن نتائج پر پہنچا ہے وہ حسب ذیل ہیں۔
۱۔ جس گروہ نے کنوار پن (Pre-Nuptiali) کے زمانے میں جنسی تعلقات کی کھلی آزادی دے رکھی تھی وہ تمدن کے پست ترین سطح پر تھے۔
۲۔ جن قبائل میں زمانہ قبل از نکاح میں جنسی تعلقات پر تھوڑی بہت پابندیاں عائد تھیں وہ تمدنی سطح کے درمیانی درجے پر تھے۔
۳۔ تمدن کی بلند ترین سطح پر صرف وہ قبائل تھے جو شادی کے وقت عفت و بکارت (Chastity) کا شدت سے تقاضا کرتے تھے اور زمانہ قبل از نکاح میں جنسی تعلق کو معاشرتی جرم قرار دیتے تھے۔ (ص ۳۲۵۔۳۰۰)
اس کے بعد ڈاکٹر انون‘ شادی کے بعد کے جنسی ضوابط سے بحث کرتا ہے۔ لیکن اس بحث کو چھیڑنے سے پہلے وہ اس حقیقت پر پھر زور دیتا ہے کہ:
شادی کے بعد کے ضوابط کبھی تعمیری نتائج پیدا نہیں کر سکتے جب تک شادی سے پہلے زندگی میں عفت و عصمت پر زور نہ دیا جائے۔ (ص ۳۴۳)
اس مقصد کے لئے وہ شادی کو چار بڑی بڑی قسموں میں تقسیم کرتا ہے۔ یعنی
۱۔ عورت اپنی ساری زندگی میں ایک خاوند کی بیوی بن کر رہے اور مرد ساری زندگی میں ایک عورت کا خاوند رہے ان کے رشتہ نکاح کے منقطع ہونے کی کوئی شکل نہ ہو۔ بجز اس کے کہ عورت ناجائز فعل کی مرتکب ہو جائے اس کا نام‘ اس کے نزدیک مطلق وحدت زوج (Absolute Monogamy) ہے۔
۲۔ رشتہ نکاح عمر بھر کے لئے نہ ہو بلکہ فریقین کی رضامندی سے منقطع بھی ہو سکتا ہو اسے وہ ترمیم شدہ وحدت زوج (Modified Monogamy) کی اصطلاح سے تعبیر کر سکتا ہے۔
۳۔ عورت تو صرف ایک خاوند کی بیوی بن کر رہے لیکن مرد کو اجازت ہو کہ وہ ایک سے زیادہ عورتیں رکھ سکے اس کا نام اس کے نزدیک مطلق تعداد ازواج (Absolute Polygamy) ہے۔ اور
۴۔ اگر مرد‘ دوسری عورتوں سے جنسی تعلق قائم کرے (یعنی ایک سے زیادہ بیویاں کرے) تو عورت بھی آزاد ہو کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی اور کے ہاں چلی جائے۔ اسے وہ ترمیم تعداد ازواج (Polygamy Modified) کہتا ہے۔
ڈاکٹر انون کا کہنا ہے کہ :
آج تک کوئی قوم شق نمبر ۱ کے ’’مطلق وحدت زوج‘‘ کے مسلک کو زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رکھ سکی۔ (ص ۳۴۴)
اس لئے کہ یہ شکل اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب معاشرہ میں عورت کی کوئی حیثیت تسلیم نہ کی جائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ ہمیشہ اپنے خاوند کی مطیع و فرمانبردار لونڈی بن کر رہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی معاشرہ میں ایسی صورت دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ عورت کی طرف سے اس کا ردعمل ایسا شدید ہوتا ہے کہ وہ پھر معاشرہ کے تمام جنسی قیود کو توڑ کر ’’کامل آزادی‘‘ کا مطالبہ کر دیتی ہے اور اس کامل آزادی کے معنی ہوتے ہیں جنسی فوضویت (Sexual Anarchy) جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ (ص ۳۴۵)
بہترین تمدن کی حامل قوم -:اس کے بعد ڈاکٹر انون نے کہا ہے کہ تاریخ اس وقت تک جن اقوام و قبائل کے حالات محفوظ رکھ سکی ہے۔ ان میں سب سے بہتر تمدن کی حامل وہ قوم تھی شادی سے قبل جنسی اختلاط کی مطلقاً اجازت نہیں دیتی تھی اور شادی کے بعد شق نمبر ۲ کی ترمیم شدہ وحدت زوج کی پابند تھی۔ یعنی جن کا عام اصول یہ تھا کہ شادی کے بعد بھی جنسی تعلق صرف میاں بیوی میں رہے۔ رشتہ نکاح محکم و استوار ہو لیکن ناقابل تنسیخ نہ ہو بلکہ بعض حالات کے ماتحت منقطع ہو سکتا ہو یہ بعینہ وہ شکل ہے جسے قرآن تجویز کرتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنسی تعلقات پر اس قسم کی قیود و حدود عائد کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اس کے متعلق ڈاکٹر انون نے مختلف ماہرین علوم کی شہادات سے اہم نتائج مستنبط کئے ہیں وہ کہتا ہے کہ
جنسی تعلقات کی حد بندی سے ایک قسم کا ذہنی اور عصبی تناؤ (Tension) پیدا ہوتا ہے جس سے جذباتی توانائی میں ارتکاز (Compression) پیدا ہو جاتا ہے۔ (ص ۳۱۳)
یہ مرتکز شدہ معاشرتی توانائی اپنی نمود کے مختلف راستے تلاش کرتی ہے۔ اس نفسیاتی عمل کو ڈاکٹر فرائڈ کی اصطلاح میں کظامت (Cublimation) کہا جاتا ہے چنانچہ ڈاکٹر انون کہتا ہے کہ
نفسیاتی تحقیقات سے ظاہر ہے کہ جنسی تعلقات پر حدود و پابندیاں عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم میں قوت فکر و عمل بہت بڑھ جاتی ہے۔ نیز محاسبہ خویش کی صلاحیت بھی۔ (ص۳۱۷)
فرائڈ کی تحقیق-:بہتر ہو کہ اس موقعہ پر خود فرائڈ کے الفاظ ہمارے سامنے آجائیں۔ وہ لکھتا ہے کہ :
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی تہذیب کی عمارت استوار ہی اس طرح ہوئی ہے کہ لوگوں نے اپنے قدیم جذبات کی تسکین میں ایثار و قربانی سے کام لیا ہے اور یہ عمارت دن بدن اوپر کو اٹھتی جا رہی ہے کیونکہ ہر فرد‘ اپنے جذبات کو انسانیت کے مشترکہ مفاد کی خاطر قربان کرتا رہتا ہے۔ ان جذبات میں جنسی جذبات کو خاص اہمیت حاصل ہے (جب ان کی بے باکانہ تسکین ہی مقصد زندگی نہ بن جائے تو) یہ اپنا رخ دوسری طرف منتقل کر لیتے ہیں (جسے Sublimation کہتے ہیں) اور اس طرح افراد کی فالتو توانائی‘ جنسی گوشوں کی طرف سے ہٹ کر ان گوشوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے جو تمدنی طور پر بہت زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
آپ نے دیکھ لیا کہ فرائڈ کی تحقیق کے مطابق اگر جنسی توانائیوں کو بے محل ضائع نہ کیا جائے تو یہ انسانی تہذیب و تمدن کے قصر حسین کی تعمیر میں کس قدر ممد و معاون بن جاتی ہیں (۲)۔
قرآنی کظامت -:فرائڈ نے اس طریق عمل کا نام Sublimation رکھا ہے۔ یہ علم تجزیہ نفس (Psycho-Analysis) کی ایک اہم اصطلاح ہے اور دور حاضر کی ایک گراں قدر نفسیاتی تحقیق لیکن آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ انسانی ذہن نے جہاں اسے بیسویں صدی میں دریافت کیا ہے‘ قرآن نے چھٹی صدی عیسوی میں (جسے عام طور پر ازمنہ مظلمہ (Dark-Ages) کہا جاتا ہے) کس طرح اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ سورہ آل عمران میں مومنین کی ایک صفت الکاظمین الغیظ بتائی گئی ہے۔ اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے اس لفظ کے بنیادی معانی کو سامنے لانا ضروری ہے۔ عرب ایک گرم اور خشک ملک ہے جہاں پانی کی اکثر قلت رہتی ہے وہ کرتے یہ تھے کہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کنویں کھودتے۔ ان میں کسی میں کم پانی نکلتا کسی میں زیادہ۔ پھر وہ ان کنوؤں کو آبدوز نالیوں (Subterranean Channels) کے ذریعے ایک دوسرے سے ملا دیتے۔ اس طرح جس کنویں میں پانی زیادہ ہوتا۔ اس کا فالتو پانی دوسرے کنویں کی طرف منتقل ہو جاتا اور یوں تمام کنوؤں میں پانی کی تقسیم یکساں ہو جاتی۔ اس طریق عمل کو ان کے ہاں کظامت کہا جاتا تھا۔ لہٰذا کاظمین الغیظ کے معنی ہوئے وہ لوگ جو اپنی اس حرارت اور توانائی کو جو غصے کی شکل میں باہر نکلنا چاہتی ہے۔ کسی دوسری طرف منتقل کر کے اس سے تعمیری نتائج کا کام لیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے عصر حاضر کے ماہرین تجزیہ نفس نے (Sublimation) سے تعبیر کیا ہے۔
اب ہم پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ڈاکٹر انون نے بتایا ہے کہ جنسی تعلقات پر پابندیاں عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم میں قوت فکر و عمل اور محاسبہ خویش کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس
جو قوم اپنے مردوں اور عورتوں کو آزاد چھوڑ دے کہ وہ جنسی خواہشات کی تسکین جس طرح جی چاہے کر لیں۔ ان میں فکر و عمل کی قوتیں مفقود ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ رومیوں نے ایسا ہی کیا وہ حیوانوں کی طرح بلا قیود جنسی جذبات کی تسکین کر لیا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ ان کے پاس کسی اور کام کے لئے توانائی باقی نہ رہی۔ (ص ۳۹۸)
اضمحلال -:قرآن کریم نے ایک جگہ مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ولا یزنون وہ زنا کی قریب تک نہیں جاتے۔ اس لئے کہ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا (۶۸/۲۵) جو قوم ایسا کرتی ہے اسے اثم سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ عربی زبان میں اثمتہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں کہ جو تھک کر مضمحل ہو جائے اور اس میں اتنی توانائی نہ رہے کہ وہ باقی قطار کے ساتھ چل سکے۔ اس لئے وہ ان سے پیچھے رہ جائے۔ آپ غور کیجئے کہ قرآن نے کس طرح ایک لفظ کے اندر اس تمام حقیقت کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ جس تک دور حاضر کی تحقیق اس قدر تجربات کے بعد پہنچی ہے۔ یعنی یہ کہ جنسی جذبات کو آزاد نہ چھوڑ دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم مضمحل ہو جاتی ہے اور زندہ اقوام کے ساتھ دوش بدوش چلنے کے قابل نہیں رہتی۔ اس میں وہ معاشرتی توانائیاں نہیں رہتیں جو قوموں کو تمدنی بلندیاں عطا کرتی ہیں۔
ڈاکٹر انون نے یہ بھی کہا ہے کہ
مردوں کی عصمت اسی صورت میں معاشرتی توانائی پیدا کر سکتی ہے جب عورتیں باعصمت ہوں اور ان کی عصمت‘ شادی سے قبل اور بعد دونوں زمانوں میں محفوظ رہے۔ (ص ۳۲۳)
جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کی عصمت پر یکساں زور دیتا ہے وہ حٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ (وہ مرد جو اپنی عصمت کی حفاظت کرتے ہوں) کے ساتھ وَالْحٰفِظٰتِ (۳۵/۳۳) بھی کہتا ہے۔ یعنی وہ عورتیں جو اپنے دامن عفت کو قطعاً داغدار نہ ہونے دیں اور جرم زنا کی سزا بھی مرد و عورت دونوں کے لئے یکساں تجویز کرتا ہے (۲/۲۴)۔
قرآنی حد بندی -:قرآن کی رو سے جنسی اختلاط کی صرف ایک ہی صورت جائز ہے۔ یعنی نکاح۔ لہٰذا قبل از نکاح جنسی اختلاط اور نکاح کے بعد عورت کا کسی دوسرے مرد سے یا مرد کا کسی دوسری عورت سے جنسی اختلاط (خواہ وہ تراضی مابین ہی سے کیوں نہ ہو) زنا ہے۔ نکاح کے متعلق بھی یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ ’’ہنگامی جنسی اختلاط کی رضامندی‘‘ نہیں ہوتی بلکہ معاہدہ ہوتا ہے اس امر کا کہ ہم (میاں بیوی) ان تمام قیود و حدود اور حقوق و فرائض کے مطابق جو ہم پر قرآن نے عائد کی ہیں مستقل رفاقت کی زندگی بسر کریں گے۔ اسی سے ایک اور حقیقت بھی سامنے آجاتی ہے۔ ڈاکٹر انون نے اپنے ہاں زنا کا لفظ استعمال نہیں کیا (اسے اس لفظ کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس لئے کہ وہ مذہبی یا اخلاقی بحث نہیں کر رہا بلکہ جنسی مسئلہ کے متعلق علمی اور نظری تحقیق کر رہا ہے۔ لہٰذا اس کا انداز سائنٹیفک ہونا چاہئے تھا (اس نے اپنے ہاں جنسی اختلاط کے مواقع (Sexual Opportunities) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ جس قوم میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ ہوں گے وہ قوم تمدنی سطح میں بہت پست ہو گی اور جس میں یہ مواقع کم از کم حد تک رکھے جائیں گے وہ تمدنی سطح کی بلندیوں تک پہنچ جائے گی۔ قرآن نے صرف زنا ہی کو حرام قرار نہیں دی ابلکہ جنسی اختلاط کے مواقع کو کم سے کم حد تک محدود کر دیا ہے۔ اس میں قبل از نکاح‘ جنسی اختلاط کے مواقع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ زنا ہے۔ نکاح کا معاہدہ اس کے نزدیک عمر بھر کی رفاقت (Life-long Companionship) کا معاہدہ ہے۔ لہٰذا اس میں وقتی جنسی اختلاط کا بھی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ خواہ وہ باہمی رضامندی ہی سے کیوں نہ ہو پھر اس نے نکاح کو میثاقاً غلیظاً (پختہ عہد) کہا ہے۔ بچوں کا کھیل نہیں کہا ہے کہ جب جی چاہا کھیل کھیل لیا اور جب طبیعت اکتا گئی تو اسے مٹی کے گھروندے کو پامال کر دیا اور دوسرے وقت پھر نیا گھر بنا لیا۔
وحدت ازدواج -:علاوہ بریں اس نے وحدت زوج (Monogamy) کو بطور اساسی اصول مقرر کیا ہی اور تعداد ازواج کو محض ایک ہنگامی تمدنی مشکل کے حل کے لئے بطور عارضی علاج جائز قرار دیا ہے (اس کی بھی محض اجازت ہے‘ حکم نہیں) آپ دیکھیں گے کہ شادی کی یہ (قریب قریب) وہی شکل ہے جسے انون نے مطلق وحدت زوج (Absolute Monogamy) کی اصطلاح سے تعبیر کیا۔ میں نے ’’قریب قریب‘‘ اس لئے کہا ہے کہ ڈاکٹر انون کے نزدیک ’’مطلق وحدت زوج‘‘ میں شادی صرف اسی صورت میں منقطع ہو سکتی ہے جب عورت جنسی (اخلاقی) جرم کی مرتکب ہو جائے لیکن قران نے نباہ نہ ہو سکنے کو بھی فسخ معاہدہ (طلاق) کی معقول اور جائز وجہ قرار دیا ہے۔ بہرحال‘ یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک محدود کر دیا ہے۔ وہ زمانہ قبل از نکاح میں جنسی اختلاط کے کسی ایک موقع کو بھی جائز قرار نہیں دیتا اور نکاح کے بعد عام حالات میں صرف ایک جوڑے کو باہمدگر وابستہ رکھتا ہے۔ تنوع (Change) کی خاطر تنوع (Change) کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن نے تو نکاح کی صورت میں بھی مُّحْصِنِیْنَ کے ساتھ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ (۲۴/۴) کا اضافہ کیا ہے حصن کے معنی ہیں محفوظ رکھنا اور سفح کے معنی ہیں پانی وغیرہ کا بہا دینا۔ لہٰذا جہاں اس حکم میں زنا سے ممانعت مقصود ہے وہاں اس سے یہ بھی متصور ہے کہ نکاح کا مقصد بھی شہوت رانی نہیں۔ اس سے نکاح کی تمام ذمہ داریوں کی حفاظت اور بقائے نسل کا تحفظ مقصود ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ صرف وہی قوم زندگی کی کامرانیوں سے بہرہ یاب (مفلح) ہو سکتی ہے جو جنسی اختلاط کے مواقع کم از کم حد تک لے جائے اور یہ کم از کم مواقع بھی صرف معروف (Recognised) طریق سے مہیا کئے جائیں اور ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ :
انسانیت کی پوری تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی اس قسم کی نہیں مل سکتی کہ کوئی ایسی سوسائٹی تمدن کی بلندی تک پہنچ گئی ہو جس کی لڑکیوں کی پرورش و تربیت ’’مطلق وحدت زوج‘‘ کی روایات میں نہ ہوئی ہو۔ نہ ہی تاریخ عالم میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ کسی قوم میں جنسی اختلاط پر حدود و قیود کی روایات ڈھیلی پڑ گئی ہوں اور اس کے باوجود وہ قوم اپنی تمدنی بلندی کو قائم رکھ سکی ہو جب عقد نکاح‘ مساوی حیثیت کے فریقین کا عمر بھر کی رفاقت کا عہد ہو اور نہ میاں اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت سے آشنا ہو اور نہ ہی بیوی اپنے میاں کے علاوہ کسی مرد کی شناسا۔ تو اس صورت میں جنسی مواقع اپنی کم از کم حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ اس پر شاہد ہے کہ جن اقوام نے ایسی معاشرتی رسوم اختیار کر لی تھیں جو زندگی بھر کی جبری رفاقت کے قریب قریب پہنچ گئی ہوں۔ (اس لئے کہ اس وقت تک ’’زندگی بھر کی جبری رفاقت‘‘ تک کوئی قوم بھی نہیں پہنچ سکی) اور جن اقوام نے جنسی اختلاط کے حدود و قیود کو زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھا تھا۔ وہی اقوام تہذیب و تمدن کی اس بلندی تک پہنچ سکی تھیں جہاں تک انسانیت اس وقت تک پہنچ سکی ہے۔ (ص۸۴)
*******
عربوں کی تاریخ -:ڈاکٹر انون نے اپنی تحقیق کے دوران ضمناً مسلمانوں (عربوں) کی تاریخ کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ مختصر الفاظ میں بتاتا ہے کہ قدیم عرب‘ قبل از نکاح عصمت و بکارت پر زور نہیں دیا کرتے تھے۔ بعد میں (اسلام کی تعلیم کے ماتحت) انہوں نے اس عصمت پر شدت سے زور دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے محدود ملک سے نکل کر گردونواح کی دنیا پر پھیل گئے اس کے بعد جب انہوں نے اپنے حرم میں عورتوں کی بھرمار شروع کر دی تو ان کی فتوحات کی وسعتیں رک گئیں۔ (ص ۴۲۹) اس کے بعد ڈاکٹر انون نے ایک اور تاریخی عنصر کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ قرآن نے یہود و نصاریٰ (اہل کتاب) کی لڑکیوں سے شادی کی اجازت کیوں دی تھی۔ ڈاکٹر انون کے اس اصول کا ذکر پہلے آچکا ہے کہ کسی قوم کی تمدنی تعمیر میں عورت کی محفوظ توانائی کا بہت بڑا اثر ہے بلکہ یہ کہ مردوں کی توانائی بھی اسی صورت میں تعمیری نتائج پیدا کر سکتی ہے جب ان کی عورتیں باعصمت ہوں۔ ڈاکٹر انون کہتا ہے کہ جب عربوں کی فتوحات کا سلسلہ مصر میں جا کر رک گیا تو انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کی لڑکیوں کی شادی کی۔ ان لڑکیوں کی تربیت اس ماحول میں ہوئی تھی جس میں جنسی ضبط پر بڑا زور دیا جاتا تھا۔ ان لڑکیوں کی مرتکز توانائیاں عربوں کی مزید وسعتوں اور تمدنی بلندیوں کا باعث بن گئیں۔ یہی کچھ مصر میں ہوا اور یہی کچھ اسپین میں (ص ۴۲۹) کسی کو ڈاکٹر انون کی تحقیق کے اس نتیجے سے اختلاف ہو یا اتفاق۔ لیکن یہ حقیقت بہرکیف اپنی جگہ پر غیر متنازعہ رہ جاتی ہے کہ اس محقق کے نزدیک کسی قوم کی فتوحات کی وسعتوں اور تہذیب کی بلندیوں پر اس کی عورتوں کی عصمت و ضبط کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے اور یہی حقیقت قرآن نے بیان کی ہے جب اس نے زندگی کی کامرانیوں کے لئے مردوں اور عورتوں دونوں کے ’’محصن‘‘ (قلعہ بند) ہونے کو بنیادی شرط قرار دیاہے۔ مرد اور عورت دونوں کا محصن ہونا جنسی اختلاط کے مواقع کم از کم درجے تک لے آتا ہے (یعنی زمانہ قبل از نکاح میں مطلق عصمت۔ نکاح میں وحدت زوج (Monogamy) بطور اساسی اصول اور نکاح کے بعد میاں اور بیوی کا کسی غیر عورت اور مرد کے ساتھ اختلاط ناجائز) لیکن جب کسی قوم میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ سے زیادہ ہو جائیں (جس کی شکل صرف زنا ہی نہیں بلکہ اس ہنگامی ضرورت کے بغیر جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے‘ بیک وقت ایک سے زیادہ بیویاں۔ طلاق کی رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر آزادانہ تبدیلی ازواج (۳) اور قرآن کے کھلے کھلے حکم کے خلاف لونڈیوں کی بھرمار سے سینکڑوں عورتوں سے اختلاط یہ سب جنسی اختلاط کے زیادہ سے زیادہ مواقع بہم پہنچانے کی شکلیں ہیں (تو پھر اس قوم میں نہ تو آگے بڑھنے کی توانائیاں رہ جاتی ہیں اور نہ ہی اپنے تمدن کو علیٰ حالہ قائم رکھنے کی صلاحیتیں باقی۔
جنسیات میں الجھی ہوئی قوم کی حالت -:اس قسم کی قوم زندگی کی کس سطح پر پہنچ جاتی ہے اس کے متعلق ڈاکٹر انون لکھتا ہے کہ :
اس قوم میں علم و بصیرت کی قوت تو ہوتی ہے لیکن وہ اپنے معاملات میں اس سے راہنمائی حاصل نہیں کرتی (۴)۔ وہ واقعات کے اسباب و علل (Causes) کے متعلق کبھی تحقیق نہیں کرتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی طرح تسلیم کرتی چلی جاتی ہے۔ زندگی سے متعلق تمام معاملات کے بارے میں ان کی بندھی بندھائی رائے ہوتی ہے (جس کے مطابق وہ چلتے چلے جاتے ہیں)۔۔۔ وہ ہر غیر معمولی واقعہ کو جو ان کی سمجھ میں نہ آئے کسی عجیب و غریب قوت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔۔۔ اس قوت کا مظہر کبھی پتھروں کو سمجھا جاتا ہے اور کبھی درختوں کو۔ کبھی ایسے حیوانات کو جو انہیں محیر العقول نظر آئیں اور کبھی دیگر ایسی اشیاء کو جن کی ماہیت ان کی سمجھ میں نہ آئے جس شخص کی پیدائش یا زندگی میں انہیں کوئی غیر معمولی بات نظر آئے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ اس قوت کا مالک ہے۔ حتیٰ کہ اس کی موت کے بعد بھی اسے اس قوت کا حامل سمجھا جاتا ہے (اس کے بعد ڈاکٹر انون نے ان توہم پرستیوں کی تفصیل بتائی ہے جو نذر نیاز‘ گنڈہ تعویذ‘ اکابر پرستی اور قبر پرستی کی صورت میں ایسی قوم سے ظہور میں آتی ہیں۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ) اس قسم کے معتقدات‘ اس قوم میں نسلاً بعد نسل متوارث چلے آتے ہیں۔ زمانہ کا امتداد ان پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس معاشرہ میں انسان پیدا ہوتے ہیں۔ اپنی خواہشات کو پورا کرتے ہیں اور مر جاتے ہیں اور جب ان کی لاشوں کو تہ خاک دبا دیا جاتا ہے تو وہ نسیاً منسیاً ہو جاتے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہوتے بالکل حیوان ہوتے ہیں (۵)۔ (ص ۳۴۶۔۳۴۵)۔
آپ نے دیکھ لیا نقشہ اس سوسائٹی کا جس میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ سے زیادہ ہوتے ہیں؟ کیا مسلمانوں کی صدیوں سے یہی حالت نہیں چلی آرہی اور کیا آج بھی ساری دنیا میں ہماری یہی حالت نہیں؟ کیا یہ نتیجہ نہیں جنسی اختلاط کے مواقع کی ان وسعتوں کا جو ہمارے خود ساختہ مذہبی تصورات نے عطا کر رکھی ہیں؟
جب ہماری قوم کی جنسی زندگی قرآنی سواحل میں گھری ہوئی تھی تو یہ ساری دنیا پر چھا گئی تھی اور جب ملوکیت نے اسے بدلگام کر دیا اور شریعت کے نام پر وہ سب کچھ ہونے لگا جسے قرآن روکنے کے لئے آیا تھا تو ان کی ساری توانائیاں ضائع ہو گئیں۔ ان میں پھر یہ فکر کی صلاحیت رہی نہ عمل کی اور یہی حالت اس وقت تک چلی جا رہی ہے۔ ان کے ممالک میں لونڈیاں آج تک سربازار بکتی ہیں۔
ہمارا نوجوان طبقہ -:یہ تو ہے ہمارے اس طبقہ کی حالت جسے قدامت پرست کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے نوجوانوں کا طبقہ ہے جنہوں نے مغرب کی دیکھا دیکھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جنسی تعلقات پر پابندیاں عائد کرنا‘ انفرادی آزادی کو مقید کرنا ہے۔ اس لئے ’’ازمنہ مظلمہ‘‘ کے ان اغلال و سلاسل کو جتنی جلدی توڑ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے چنانچہ انہوں نے عملاً اسے توڑنا بھی شروع کر دیا ہے۔ ان آزادیوں سے وہ سوسائٹی متشکل ہوتی ہے جس کے متعلق انون لکھتا ہے کہ اس میں :
ہر لڑکی کو آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ جس قسم کا جنسی کھیل کھیلنا چاہے کھیلتی پھرے اور جس نوجوان سے چاہے جنسی اختلاط قائم کرے۔ اس کے لئے فقط ان دونوں کی رضامندی کی شرط ہے۔ نہ لڑکی پر کسی قسم کی پابندی عائد ہوتی ہے نہ لڑکے پر۔۔۔ بچپن ہی سے وہ ہر ایسا جنسی کھیل کھیلنے لگ جاتے ہیں جن میں انہیں لذت ملتی ہو۔۔۔ مختصراً یہ کہ وہ ایک ایسی فضا میں رہتے ہیں جس میں جنسی حدود و قیود کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور جس میں ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جو نہی جنسی خواہش ہوئی۔ اسے اسی وقت کسی نہ کسی طرح پورا کر لیا۔ (ص۳۴۸)۔
اس کا نتیجہ -:یہی ہیں وہ جنسی آزادیاں جن کا متمنی ہمارا نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ ہوتا جا رہا ہے لیکن ان آزادیوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے اسے خود ڈاکٹر انون کی زبان میں سن لیجئے وہ کہتا ہے کہ :
لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جنسی پابندیوں کو بھی ہٹا دیا جائے اور قوم زندگی کی ان خوشگواریوں سے بھی متمتع ہوتی رہے جو ایک بلند تمدن کا ثمرہ ہوتی ہیں لیکن انسانی ہیئت تو کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ وہ یہ دونوں آرزوئیں کبھی یکجا جمع نہیں ہو سکتیں یہ ایک دوسرے کی نقیض ہیں جو ریفارمر ان میں مفاہمت (Compromise) کی کوشش کرتا ہے اس کی مثال اس احمق بچے کی سی ہے جو چاہتا ہے کہ وہ اپنے کیک کو کھا بھی لے اور پھر وہ سالم کا سالم باقی بھی بچ جائے کوئی انسانی معاشرہ ہو‘ اسے ان دو راہوں میں سے ایک راہ اختیار کرنی ہو گی یا تو ان صلاحیتوں کو پائندہ رکھنے کی راہ جو اس کے تمدن کو بلند کرتی ہیں اور یا جنسی آزادی کی راہ۔ تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ جو قوم ان دو متضاد چیزوں کو اکٹھا کرتی ہے وہ اپنی تہذیب کو ایک نسل سے بھی زیادہ آگے نہیں لے جا سکتی۔ (ص۴۱۲)
بنابریں۔
کسی سوسائٹی میں تخلیقی توانائیاں باقی نہیں رہ سکتیں جب تک اس کی ہر نسل ان روایات میں پرورش نہ پائے جو جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک محدود کر دیں۔ اگر وہ قوم اس قسم کے نظام کو (جس میں جنسی اختلاط کے مواقع قلیل ترین حد تک محدود کر دیئے جائیں) مسلسل آگے بڑھائی جائے تو وہ شاندار روایات کی حامل رہے گی (ص۴۱۴)۔
*******
پس چہ باید کرد -:آخر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے معاشرہ کی تشکیل کس طرح کی جائے جس میں جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک لے جایا جائے اور پھر ایسی صورت پیدا کی جائے کہ جنسی واقع کی یہ شکل مستقل طور پر قائم رہ سکے تاکہ اس طرح وہ قوم انسانیت کی صلاحیت بخش توانائیوں کی حامل بنتی چلی جائے۔ ڈاکٹر انون نے اپنی کتاب کا خاتمہ اسی سوال (اور اس کے جواب) پر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ
تاریخ کے صفحات پر کوئی سوسائٹی ایسی نظر نہیں آتی جو اس کوشش میں کامیاب ہو گئی ہو کہ وہ جنسی اختلاط کے مواقع کو ایک مدت مدید تک‘ کم از کم حد تک محدود رکھ سکی ہو۔ میں تاریخی شواہد سے جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر کسی قوم نے ایسی صورت پیدا کرنی ہو تو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ پہلے مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا کرے۔ (ص۳۲۔۴۳۱)
مرد اور عورت کی مساوی حیثیت -:آپ نے غور کیا کہ اس محقق کی تحقیق کے مطابق اس قسم کے معاشرہ کی تشکیل کی بنیادی شرط کیا ہے؟ یہ کہ اس میں مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا ہو! آج اس معاشرہ میں جس میں ہم صدیوں سے چلے آرہے ہیں یہ کہنا کہ اسلام نے مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا کیا تھا‘ شائد اپنی ہنسی اڑانے کے مترادف ہو گا۔ لیکن اس حقیقت کو کون چھپا سکتا ہے کہ قرآن نے یہ اعلان آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کیا تھا کہ وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (۲۲۸/۲) قاعدے اور قانون کی رو سے عورتوں کے حقوق بھی اتنے ہی ہیں جتنے ان کے فرائض ہیں۔ لہٰذا قانون کی نگاہ میں مرد اور عورت دونوں کو مساوی درجہ حاصل ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے تو کرنے کا کام فقط اتنا ہے کہ اپنے معاشرے کو قرآنی خطوط پر متشکل کر لیں۔
*******
آخر میں ڈاکٹر انون لکھتا ہے کہ:
اگر کوئی معاشرہ چاہتا ہے کہ اس کی تخلیقی توانائیاں مدت مدید تک‘ بلکہ ابد الاباد تک قائم اور آگے بڑھتی رہیں تو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ پہلے اپنی تخلیق نو کرے۔ یعنی پہلے اپنے مردوں اور عورتوں کو قانوناً مساوی حیثیت دے اور پھر اپنے معاشی اور معاشرتی نظام میں اس قسم کی تبدیلیاں کرے جن میں معاشرہ میں جنسی اختلاط کے مواقع ایک مدت مدید تک‘ بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کم از کم حد تک محدود رہیں۔ اس طرح اس معاشرہ کا رخ ثقافتی اور تمدنی ارتقاء کی طرف مڑ جائے گا اس کی روایات شاندار ماضی اور درخشندہ مستقبل کی حامل ہوں گی وہ تمدن وتہذیب کے اس بلند مقام تک پہنچ جائے گا جس تک آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا اور انسان کی توانائیاں اس کی ان روایات کو ایک ایسے انداز سے صیقل کرتی جائیں گی جو اس وقت ہمارے حیطہ ادراک میں بھی نہیں آسکتا (ص۴۳۲)۔
قرآن ایسے ہی معاشرہ کی تشکیل چاہتا ہے۔ اس کے لئے اس نے نہایت واضح قوانین دیئے ہیں۔ وہ عائلی زندگی کو کس قدر اہمیت دیتا ہی اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ وہ جہاں صلوٰۃ و زکوٰۃ جیسے امور کے متعلق بالعموم اصولی قوانین دیتا ہے وہاں عائلی زندگی کے متعلق چھوٹی چھوٹی جزئیات تک بھی خود ہی متعین کر دیتا ہے۔ اگر وقت ہوتا تو میں مسلسل خطبات کے ذریعے ان تمام احکام کو ایک ایک کر کے آپ کے سامنے لاتا جس سے آپ کو اندازہ ہوتا کہ قرآن کس قسم کے معاشرہ کا نقشہ دیتا ہے اور اس کے نزدیک جنسی تعلقات کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ (اس کے متعلق اگر آپ تفصیل سے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو میری کتاب ’’طاہرہ کے نام خطوط‘‘ کا مجموعہ دیکھے جس میں ان تمام امور کو یکجا بیان کر دیا گیا ہے)۔
ایک بنیادی حقیقت -:لیکن اس ضمن میں ایک بنیادی حقیقت ایسی ہے جس کا آخر میں بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جنسی جذبہ بھی بھوک‘ پیاس‘ نیند وغیرہ کی طرح ایک فطری جذبہ ہے جس کی تسکین نہایت ضروری ہے اور جس طرح بھوک‘ پیاس وغیرہ کی اضطراری حالت میں عام قوانین کو ڈھیلا (Relax) کر دیا جاتا ہے اسی طرح جنسی قوانین کی بندشوں کو بھی ڈھیلا کر دینا چاہئے۔ یہ تصور ایک بنیادی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بھوک اور پیاس کی طرح جنسی جذبہ بھی ایک فطری جذبہ (Natural Instinct) ہے لیکن اس میں اور بھوک پیاس وغیرہ میں ایک بنیادی فرق ہے اس فرق کو ایک مثال (بلکہ اپنے روزمرہ کے مشاہدہ) سے سمجھئے۔ آپ کسی کام میں منہمک بیٹھے ہیں۔ آپ کو پیاس لگتی ہے شروع میں آپ کو اس کا خیال نہیں آتا وہ بڑھتی ہے تو آپ کو اس کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ پانی پی لیتے ہیں تو فبہا‘ ورنہ اس کی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ آپ کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور اگر آپ کو کچھ دنوں کے لئے پانی نہ ملے تو اس سے آپ کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہی کیفیت بھوک کی بھی ہے اس سے آپ نے دیکھ لیا کہ
۱۔ بھوک‘ پیاس وغیرہ کا تقاضا ازخود پیدا ہوتا ہے۔ اس میں آپ کے خیال اور ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اور
۲۔ اگر ان تقاضوں کی تسکین نہ کی جائے تو کچھ وقت کے بعد اس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس کو اضطراری حالت کہتے ہیں۔ اس حالت میں (جان بچانے کی خاطر) ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دی گئی ہے جو عام حالات میں حرام ہیں۔
خیال کا دخل -:لیکن جنسی تقاضا کی کیفیت ان سے بالکل جدا ہے۔ جنسی تقاضا کبھی نہیں ابھرتا تاوقتیکہ آپ اس کا خیال نہ کریں۔ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ جنسی تقاضا کی بیداری اور نمود یکسر آپ کے خیالات سے وابستہ ہے۔ اگر آپ کا خیال اس طرف منتقل نہ ہو تو یہ تقاضا بیدار ہی نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ اگر جنسی تقاضا کی تسکین نہ کی جائے تو اس سے موت واقع نہیں ہو جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس کی ’’اضطراری حالت‘‘ کے لئے حرام کو حلال نہیں قرار دیا۔ بلکہ کہا یہ ہے کہ جس کے لئے نکاح ممکن نہ ہو وہ ضبط نفس سے کام لے۔ (۳۳/۲۴)
ضبط نفس -:اور یہ ضبط نفس کچھ بھی مشکل نہیں۔ اس لئے کہ جس تقاضا کی بیداری کا مدار انسان کے اپنے خیالات پر ہو‘ اس پر کنٹرول رکھنا انسان کے اپنے بس کی بات ہوتا ہے نہ خیالات کو طیور آوارہ بنایئے۔ نہ توجہ اس طرف جائے لیکن کہا جا سکتا ہے کہ جس معاشرہ میں حالت یہ ہو جائے کہ
صید خود صیاد را گوید بگیر
اس میں ایک فرد (بالخصوص نوجوان طبقہ) اپنے خیالات پر کس طرح کنٹرول رکھ سکے؟ یہ بات ایک حد تک درست ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن چور ہی کو نہیں بلکہ چور کی ماں کو بھی مارتا ہے۔ وہ صرف ارتکاب جرم کے بعد مجرم کو نہیں پکڑتا بلکہ ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس میں ان جرائم کے ارتکاب کے مواقع کم از کم ہو جائیں۔ اس کے لئے وہ کہتا ہے کہ لَاتَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ (۱۵۲/۶) تم فواحش کے قریب تک نہ جاؤ۔ یعنی فواحش تو ایک طرف جو اسباب و ذرائع فواحش تک لے جانے والے ہوں ان سے بھی مجتنب رہو ان اسباب و ذرائع میں وہ بھی شامل ہیں جو بظاہر نظر آجاتے ہیں اور وہ بھی جو نگاہوں سے مخفی رہتے ہیں یعنی دل میں گزرنے والے خیالات آہستہ آہستہ انسان کو فواحش تک لے جاتے ہیں اسی لئے اس نے کہا ہے کہ یَعْلَمُ خَآنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ (۱۹/۴۰) وہ نگاہوں کی خیانت اور دل کی چوری (راز) تک سے واقف ہے۔ اس قسم کی روش کو تطہیر قلب و نگاہ کہتے ہیں یعنی دل اور آنکھ کی پاکیزگی۔ اس مقصد کے لئے قرآن مردوں اور عورتوں کے اختلاط (میل جول) کے متعلق تفصیلی ہدایات دیتا ہے (انہیں پردے کے احکام کہا جاتا ہے) مجھے افسوس ہے کہ اس کے لئے بھی دقت نہیں ورنہ میں بتاتا کہ قرآن کس طرح ایک ایسا معاشرہ وجود میں لاتا ہے جس میں عورتوں کی آزادی کو سلب نہیں کیا جاتا لیکن اس میں جنسی محرکات کبھی بے باک نہیں ہونے پاتے اور انسانی خیالات میں بے راہ روی نہیں پیدا ہوتی۔
********
بہرحال آپ نے یہ دیکھ لیا کہ مرد اور عورت کا جنسی اختلاط‘ محض ایک طبعی فعل (Biological Action) نہیں جس کا تعلق صرف انسان کے جسم تک ہو۔ اس کا تعلق قوموں کی تہذیہب و تمدن اور کلچر اور ثقافت کے ساتھ بڑا گہرا اور بنیادی ہے۔ لہٰذا یہ مسئلہ ایسا نہیں جسے یونہی نظر انداز کر دیا جائے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم تمدن اور ثقافت میں ممتاز حیثیت حاصل کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم جنسی تعلقات کو قرآن کی مقرر ردہ حدود کے اندر رکھیں۔ یعنی ان آزادیوں کو بھی محدود کریں جو مغرب کی اندھی تقلید سے ہمارے جدت پسند طبقہ میں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں اور ان ’’شرعی اجازتوں‘‘ کو بھی حدود اللہ کا پابند بنائیں جو غلط (یعنی غیر قرآنی) مذہب کی بناء پر ہمارے قدامت پسند معاشرہ میں صدیوں سے مروج چلی آرہی ہیں۔ اگر ہم نے ایسانہ کیا تو ہمارے ابھرنے اور آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ سنت اللہ کسی کے لئے بدلا نہیں کرتی۔
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!
(طلوع اسلام فروری ۱۹۵۷ء ؁)
********

حواشی
۱؂ واضح رہے کہ ان کا انداز‘ اس طریق سے مختلف ہے جو آج کل (بالخصوص) امریکہ میں رائج ہے اور جس کی رو سے ایک خاص خطہ یا طبقہ کے لوگوں کو سوالنامہ دیدیا جاتا ہے اور ان کے جوابات سے اعداد و شمار (Statistics) مہیا کر کے نتائج اخذ کر لئے جاتے ہیں اور ان نتائج کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عالمگیر اور فطرت انسانی کے ترجمان ہیں۔ آج کل امریکہ میں (Kinsley) کے قسم کے ’’محقق‘‘ اسی انداز سے جنسیات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ طریق کار کبھی عالمگیر (Universal) نتائج بہم نہیں پہنچا سکتا۔
۲؂ اس مقام پر اس حقیقت کا سمجھ لینا ضروری ہے کہ فرائڈ نے جنسیات کے متعلق اپنی تحقیق اور فکر میں جس قدر ٹھوکریں کھائی ہیں۔ ان کے جو نقصان رساں نتائج مغربی معاشرہ میں نمودار ہوئے ہیں وہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں ہم اس وقت صرف فرائڈ کے اس خیال سے بحث کر رہے ہیں کہ جنسی توانائی کو اگر بے باک نہ ہونے دیا جائے تو یہ اپنا رخ تعمیری مقاصد کی طرف موڑ لیتی ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
۳؂ رابرٹ برفا (Briffault) نے جنسیات کے متعلق ایک بڑی دقیع اور ضخیم کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے (The Mothers) اس میں وہ ایک گروہ کے متعلق لکھتا ہے کہ اس نے عمر بھر بیک وقت ایک ہی بیوی رکھی لیکن وہ (غالباً) چالیس کے قریب بیویاں بدل چکا تھا یہ جنسی اختلاط کے متنوع مواقع کی ایک مثال ہے۔ اس سے اور مثالوں کا بھی اندازہ لگا لیجئے۔
۴؂ دیکھئے یہ الفاظ کس طرح ترجمہ ہیں قرآن کی اس آیت کا کہ لہم قلوب لا یفقھم بھا ان کے پاس سمجھنے کی قوت تو ہوتی ہے لیکن وہ اس سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے۔
۵؂ یہ بھی قرآن ہی کی آیت کا ترجمہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (۱۲/۴۷) وہ سامان زیست سے اسی طرح فائدہ حاصل کرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں جس طرح حیوان۔

1,298 total views, no views today

(Visited 330 times, 4 visits today)

نماز کی اہمیت – پرویز

طلوع اسلام کے خلاف مسلسل ہونے والے منفی پروپیگنڈا کے زیر اثر ہمارے نئے قارئین کی طرف سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ طلوع اسلام یا پرویز صاحب کا نماز سے متعلق نظریہ کیا تھا؟ سو ان احباب کے استفادہ کے لئے نماز سے متعلق پرویز علیہ الرحمتہ کی وہ تحریریں جو طلوع اسلام کے مختلف پرانے شماروں اور کتابوں میں شامل ہیں‘ ان کو یکجا کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔ امید ہے آپ اس کاوش کو مفید پائیں گے۔

***

ایک صاحب نے مجھ سے حسب ذیل سوالات دریافت کئے ہیں۔
(1) آپ کہتے ہیں کہ اسلام قوانین خداوندی کا نام ہے۔ اس میں نماز کی اہمیت اور مقام کیا ہے؟
(2) نماز اور صلوٰۃ میں کیا فرق ہے۔ آپ نے کہیں اس کی صراحت کی ہے کہ صلوٰۃ سے مراد نماز ہے؟
(3) کیا آپ نماز کی موجودہ شکل کے علاوہ کوئی اور شکل تجویز کرتے ہیں؟

جواب

(1) اسلام نام ہے زندگی کے ہر شعبے میں احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کر دینے کا۔ ان کی پوری پوری اطاعت کرنے کا۔ نماز‘ اس طرح سر تسلیم خم کرنے کا عملی اعتراف اور محسوس مظاہرہ ہے۔ خدا کے سامنے سر جھکا دینے (سجدہ ریز ہو جانے) سے انسان اس امر کا اقرار (یا اظہار) کرتا ہے کہ وہ اپنے ہر ارادے‘ فیصلے اور عمل میں اس کے احکام کی اطاعت کرے گا۔ جس کا دل‘ جذبات فرماں پذیری اور اطاعت گزاری سے لبریز ہو‘ اس کا سر خود بخود خدا کے حضور جھک جائے گا اور جو خدا کے حضور سر جھکانے میں عار یا سبکی محسوس کرتا ہے وہ اس کی اطاعت کیا کرے گا؟ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ جو شخص زندگی کے مختلف شعبوں میں قوانین خداوندی سے سرکشی برتتا ہے‘ اس کا نماز میں رسمی طور پر سر جھکا دینا‘ مقصد صلوٰۃ کو پورا نہیں کر سکتا۔
(2) نماز فارسی (بلکہ پہلوی) زبان کا لفظ ہے جو اہل ایران کے قدیم طریق پرستش کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں یہ لفظ‘ اجتماعات صلوٰۃ کے لئے استعمال کر لیا گیا اور اب ہمارے ہاں یہی لفظ مروج ہے (میں سمجھتا ہوں کہ جو اصطلاحات قرآن کریم نے مقرر کی ہیں انہیں اسی طرح استعمال کرنا زیادہ اچھا ہے) قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ آیا ہے جو معنوی اعتبار سے بڑا وسیع اور جامع ہے۔ اس کے بنیادی معنی کسی کا اتباع یا اطاعت و محکومیت اختیار کرنا ہیں۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو نماز کے اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ لہٰذا جب ہم نماز کا لفظ بولیں گے تو اس کا مطلب صرف نماز ہو گا۔ لیکن جب صلوٰۃ کا لفظ استعمال کریں گے تو اس میں نماز بھی آجائے گی اور اس کے علاوہ اور مفہوم بھی۔ میں نے اکثر مقامات پر اس کی صراحت کر دی ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ نماز کے اجتماعات کے لئے بھی قرآن کریم میں آیا ہے۔ مثلاً لغات القرآن میں لفظ صلوٰۃ (مادہ ص۔ل۔و (ی) کے تحت آپ کو یہ عبارت ملے گی۔
صلوٰۃ کے جو مختلف مفاہیم اوپر بیان ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ ایک عبد مومن‘ زندگی کے جس گوشے میں بھی قوانین خداوندی کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کرتا ہے وہ فریضہ صلوٰۃ ہی کو ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے لئے وقت‘ مقام یا شکل کا تعین ضروری نہیں۔ لیکن قرآن کریم میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں صلوٰۃ کا لفظ ایک خاص قسم کے عمل کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
اس کے بعد قرآن کریم کی وہ آیات دی گئی ہیں جن میں صلوٰۃ کا لفظ نماز کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے۔
تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ ان اجتماعات کے لئے بھی آیا ہے جنہیں عام طور پر نماز کے اجتماعات کہا جاتا ہے۔ (نماز کا لفظ عربی زبان کا نہیں پہلوی زبان کا ہے)۔

اس کے بعد ارکان صلوٰۃ کی اہمیت کے سلسلے میں لکھا ہے۔
انسان اپنے جذبات کا اظہار جسم کے اعضا کی محسوس حرکات سے بھی کرتا ہے اور یہ چیز اس میں ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ اس سے یہ حرکات خود بخود سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ غم و غصہ‘ خوشی‘ تعجب‘ عزم و ارادہ‘ ہاں اور نہ‘ وغیرہ قسم کے جذبات اور فیصلوں کا اظہار‘ انسان کی طبیعی حرکات سے بلا ساختہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی کیفیت جذبات عزت و احترام اور اطاعت و انقیاد کے اظہار کی ہے۔ تعظیم کے لئے انسان کا سر بلا اختیار نیچے جھک جاتا ہے۔ اطاعت کے لئے ’’سرتسلیم خم‘‘ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن کریم عمل کی روح اور حقیقت پر نگاہ رکھتا ہے اور محض (Formalism) کو کوئی وزن نہیں دیتا‘ لیکن جہاں کسی جذبہ کی روح اور حقیقت کے اظہار کے لئے (Form) کی ضرورت ہو‘ اس سے روکتا بھی نہیں۔ بشرطیکہ اس (Form) ہی کو مقصود بالذات نہ سمجھ لیا جائے۔ صلوٰۃ کے سلسلہ میں قیام و سجدہ وغیرہ کی جو عملی شکل ہمارے سامنے آتی ہے وہ اسی مقصد کے لئے ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ان جذبات کا اظہار اجتماعی شکل میں ہو گا تو اظہار جذبات کی محسوس حرکات میں ہم آہنگی کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے‘ ورنہ اجتماع میں انتشار ابھرتا دکھائی دے گا۔ احترام و عظمت‘ انقیاد و اطاعت اور فرماں پذیری و خود سپردگی کے والہانہ جذبات کے اظہار میں نظم و ضبط کا ملحوظ رکھنا بجائے خویش بہت بڑی تربیت نفس ہے۔

مفہوم القرآن میں قرآنی اصطلاحات کے ضمن میں لکھا گیا ہے۔
قرآن کریم کی ایک خاص اصطلاح ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ ہے جس کے عام معانی نماز قائم کرنا یا نماز پڑھنا کے ہیں۔ اس لئے صلوٰۃ میں‘ قوانین خداوندی کے اتباع کا مفہوم شامل ہو گا۔ بنا بریں اقامت صلوٰۃ سے مفہوم ہو گا ایسے نظام یا معاشرہ کا قیام جس میں قوانین خداوندی کا اتباع کیا جائے۔ یہ اس اصطلاح کا وسیع اور جامع مفہوم ہے۔ نماز کے اجتماعات میں قوانین خداوندی کے اتباع کا تصور‘ محسوس اور سمٹی ہوئی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس اصطلاح کو ان اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کس مقام پر اقامت صلوٰۃ سے مراد اجتماعات نماز ہیں اور کس مقام پر قرآنی نظام یا معاشرہ کا قیام۔ مفہوم القرآن میں یہ معانی اپنے اپنے مقام پر واضح کر دیئے گئے ہیں۔
ان تصریحات سے واضح ہے کہ میں نے صلوٰۃ کے معنی نماز اور اقامت صلوٰۃ کے معنی اجتماعات صلوٰۃ کا قیام واضح الفاظ میں دیئے ہیں اور اس سے مراد وہی نماز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں۔
(3) ایک مقام پر نہیں‘ متعدد مقامات پر اور ایک مرتبہ نہیں‘ متعدد بار اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز پڑھتے چلے آرہے ہیں ان میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اسی وجہ سے میں فرقہ اہل قرآن سے بھی اختلاف رکھتا ہوں جنہوں نے اپنے لئے الگ نماز تجویز کر رکھی ہے۔ البتہ میں یہ ضرورکہتا ہوں کہ اگر مسلمانوں میں پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت کا قیام ہو جائے اور وہ تمام امت کے لئے نماز کی ایک ہی شکل تجویز کر دے تو یہ امت میں وحدت پیدا کرنے کے لئے بڑا موثر اقدام ہو گا۔ یہ تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ عہد رسالت مآب اور خلافت راشدہ میں‘ امت ایک ہی طریق پر نماز ادا کرتی ہو گی۔ اس وقت امت میں وحدت تھی۔ اس لئے جب ہم پھر سے اسی عہد سعادت مہد کی طرف رخ کریں گے تو امت میں وحدت پیدا کرنے کی کوشش بھی ضرورکرنی ہو گی اور نماز اس کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اب امت میں وحدت پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں‘ تو میں اس سے بحث نہیں کرتا۔
(’’طلوع اسلام‘‘ نومبر و دسمبر 1961ء ؁‘ ص 12)

نماز کی اہمیت

میں نے ایسی باتیں بھی سنی ہیں کہ بعض اراکین بزم یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اب جو اسلام کو سمجھا ہے‘ اس کی بناء پر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا ’’طلوع اسلام‘‘ نے آپ کو یہی تعلیم دی ہے کہ نماز نہ پڑھنے پر فخر کرو؟ آپ نے غیر قرآنی روش زندگی کو تو نہ چھوڑا‘ اور اس کے بجائے اس قسم کی باتیں کرنے لگ گئے اور ستم بالائے ستم کہ اپنے آپ کو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستہ ظاہر کر کے ایسی باتیں کرنے لگے۔ طلوع اسلام پر آخر یہ کتنا بڑا الزام ہے جو آپ نے عائد کر دیا۔
ذاتی طور پر مجھ میں بھی کمزوریاں ہیں اور میں ہمیشہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہوں۔ لیکن یہ انتہائی ظلم ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کے لئے جواز کی صورتیں تلاش کرنے لگ جائیں۔ آپ قرآنی نظریات کے خلاف سب کچھ کر رہے ہیں۔ تجارت‘ کاروبار‘ شادی‘ رشتے ناطے سب کچھ ہو رہا ہے۔ بینک بیلنس برابر قائم ہیں۔ قرآن کے مطابق انہیں بدلنے کے لئے آپ کے ذہن میں کبھی کچھ نہیں آیا۔ پھر نماز کے بارے میں ایسا کیوں ہے؟ (بعض گوشوں سے آوازیں آئیں کہ یہ بھی ہمارے مخالفین کا پروپیگنڈہ ہے جو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستگی ظاہر کر کے اس قسم کی باتیں مشہور کرتے رہتے ہیں۔ محترم پرویز صاحب نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا) ہم معاشرے میں اصلاح کا آغاز اپنے گھروں سے ہی کر سکتے ہیں لیکن اگر پہلے خود ہی نماز روزہ چھوڑ دیں تو پھر اصلاح کس طرح ہو گی؟ خدارا اپنے قول و عمل کو بصیرت‘ علم اور خلوص پر مبنی رکھئے۔ ’’مقدس بہانے‘‘ تلاش نہ کیجئے بلکہ اعتراف کیجئے اپنی کمزوریوں کا۔ ہم نے قرآنی معاشرہ قائم کرنا ہے جو صرف نیک اور پاکباز زندگی بسر کرنے سے قائم ہو سکے گا۔ (منزل بہ منزل از پرویز‘ ص 35-36)

غلط فہمی کا ازالہ

ہماری ہر محفل میں الصلوٰۃ کا بحیثیت نظام جس طرح بار بار ذکر آتا ہے اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہ ہونے پائے کہ ہم نماز کے وقت اجتماعات کی اہمیت کے قائل نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ صلوٰۃ کا وقتی اجتماع بھی قرآن ہی کا ارشاد ہے اور یہ الصلوٰۃ کے عالم آرا نظام ہی کی سمٹی ہوئی تصویر ہے۔ جو شخص نماز کی اہمیت کو کم کرتا ہے وہ طلوع اسلام کے خلاف فتنہ و شرارت کا محرک ہے اور ایسی مذموم حرکت کسی طرف سے نہ تو دانستہ ہونی چاہئے اور نہ نادانستہ۔
(ماہنامہ طلوع اسلام‘ مئی 1959ء ؁ ص 14)

3,056 total views, 1 views today

(Visited 678 times, 12 visits today)

صرف ایک سوال – پرویز

یہ شکایت آج کی نہیں‘ صدیوں سے چلی آرہی ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے —  کسی خاص فرقہ، خاص گروہ، خاص ملک کے مسلمانوں نے نہیں، پوری کی پوری اُمتِ مسلمہ نے–  بات ہے تو درست‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کبھی کسی نے اس پر بھی غور کیا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ یہ کیا ہوا کہ پوری کی پوری قوم نے اسلام چھوڑ دیا اور یہ ایک آدھ دن کی بات نہیں صدیوں سے اس کی یہی حالت ہے تو ایسا کیوں ہے؟ ایک بات تو بالکل واضح ہے۔۔ پہلے اسی پر غور کرنا چاہئے۔

آپ کسی کمیونسٹ سے پوچھئے کہ کمیونزم کسے کہتے ہیں۔ وہ صاف‘ واضح اور متعین الفاظ میں اس کا جواب دے دے گا۔۔۔ آپ یہ سوال متعدد کمیونسٹوں سے پوچھئے۔ ہر ایک کا جواب ایک ہی ہو گا۔ اس جواب کی روشنی میں آپ کے لئے یہ متعین کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہو گا کہ فلاں شخص کمیونسٹ ہے یا نہیں۔ یا فلاں قوم نے کمیونزم کو چھوڑ دیا ہے یا وہ اس پر عمل پیرا ہے۔
اسی طرح آپ سوشلسٹوں سے‘ سوشلزم کے متعلق پوچھئے ان کے ہاں سے بھی متعین جواب مل جائے گا کہ سوشلزم کسے کہتے ہیں اور اس کے جواب کی روشنی میں آپ بآسانی یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ فلاں شخص یا قوم نے سوشلزم کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟
اس قسم کا سوال آپ مغربی جمہوریت کے متعلق پوچھئے۔ وہاں سے بھی آپ کو متعین جواب مل جائے گا۔
اس کے بعد آپ کسی مسلمان سے پوچھئے کہ اسلام کیا ہے اور پھر دیکھئے کہ وہ کیا جواب دیتا ہے‘ اور جب آپ یہی سوال مختلف مسلمانوں سے پوچھیں تو اس کے بعد دیکھئے کہ ان میں سے ایک کا جواب دوسرے سے نہیں ملے گا۔ یہ بات ہم عوام کے متعلق نہیں کر رہے۔ حضرات علماء کرام سے یہ سوال کیجئے اور پھر دیکھئے کہ ان کے ہاں سے کیا جواب ملتا ہے اور ایک کا جواب دوسرے سے کس قدر مختلف ہوتا ہے۔ ہم یہ بات محض نظری طور پر نہیں کہہ رہے۔ عملاً ایسا ہو چکا ہے۔ ۱۹۵۳ء کے (ختمِ نبوت تحریک کے سلسلہ میں) فساداتِ پنجاب کی تحقیقاتی کمیٹی نے (جسے عرفِ عام میں منیر کمیٹی کہا جاتا ہے) مختلف علماء کرام سے پوچھا کہ ’’مسلمان کسے کہتے ہیں‘‘ کمیٹی کی رپورٹ مطبوعہ شکل میں موجود ہے اس میں آپ دیکھئے کہ ان حضرات کی طرف سے اس سوال کا جواب کیا ملا تھا! ان میں سے بعض نے تو کہہ دیا کہ اس سوال کا جواب دو چار فقروں میں دیا نہیں جا سکتا۔ اس کے لئے صفحات در صفحات درکار ہوں گے۔ جنہوں نے جواب دیا۔ ان کے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:۔
ان علماء میں سے کسی دو کے جواب بھی ایک دوسرے سے ملتے نہیں تھے۔ (انگریزی رپورٹ۔ ص ۲۱۸)۔
آپ اس رپورٹ پر نہ جایئے۔ مختلف فرقوں کے علماء حضرات سے خود یہ سوال پوچھئے کہ اسلام کسے کہتے ہیں اور مسلمان کی تعریف (Definition) کیا ہے۔ ان کے جواب خود‘ اس رپورٹ کی تائید کر دیں گے۔ ان حقائق کی روشنی میں آپ سوچئے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے‘ تو اس کا متعین مفہوم کیا ہے؟ جب ہم متعین اور متفق طور پر یہی نہیں بتا سکتے کہ مسلمان کسے کہتے ہیں اور اسلام کیا ہے تو ایسا کہنے کا مفہوم کیا ہو گا کہ ’’مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔‘‘ یہ وجہ ہے جو ہم صدیوں سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور مسلمان ہیں کہ اسلام کو اختیار کرنے کا سوچتے تک نہیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ انہوں نے کیا چھوڑ دیا ہے اور انہیں کیا اختیار کرنا چاہئے۔ ہم اتنا واضح کر دیں کہ مختلف فرقے اپنے اپنے فرقہ کے تصور کا اسلام تو بتا دیں گے۔ لیکن وہ اسلام جو ساری امت میں قدر مشترک ہے‘ جس کی طرف نسبت سے وہ امت‘ امت مسلمہ کہلاتی ہے اور جس کے متعلق شکایت ہے کہ اس نے اسے چھوڑ دیا ہے‘ اس کی بابت کوئی کچھ نہیں بتا سکے گا کہ وہ ہے کیا؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقام پر اور تو اور‘ آپ خود بھی وقف تعجب ہو جائیں گے کہ جس بات کے متعلق کبھی ہم نے اتنا سوچنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی تھی کہ یہ بھی ایسا سوال ہے جس پر غور کرنا چاہئے‘ وہ بات کس قدر اہم اور بنیادی نکلی۔ اس کے بعد آپ کے دل میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ ہم تو خیر عامی ہیں۔ دین کے متعلق ہماری معلومات بہت کم ہیں‘ اس لئے ہم اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ لیکن ہمارے علماء کرام کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ بھی اس سوال کا متفق علیہ جواب نہیں دے سکتے۔ اور جب ان کی یہ کیفیت ہے تو پھر وہ امت میں اپنی موجودہ پوزیشن کو کس طرح قائم رکھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو اسلام کے متعلق مطمئن کس طرح کر دیتے ہیں؟
اس کی ایک خاص ٹیکنیک ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے کچھ اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں جن کا تقدس عوام کے دلوں میں راسخ کر دیتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو مبہم رکھا جاتا ہے۔ یعنی ان کا واضح مفہوم بیان نہیں کیا جاتا۔ ہر موقع پر اس اصطلاح کو استعمال کر دیتے ہیں اور بس۔۔ مثلاً ان میں بنیادی اصطلاح خود اسلام ہے۔ آپ آئے دن ان حضرات کی زبانی اس قسم کے الفاظ سنتے رہتے ہیں کہ ’’اسلام کا حکم یہ ہے‘‘ اس معاملہ میں ’’اسلام کا منشاء یہ ہے‘‘۔ اس باب میں ’’اسلام یہ کہتا ہے۔‘‘ اب ظاہر ہے کہ ’’اسلام‘‘ کسی شخص کا نام نہیں جس کے متعلق سمجھا جا سکے کہ وہ ایسا کہتا ہے یا اس کا حکم یہ ہے۔ اس کے لئے کوئی سند یا حوالہ ہونا چاہئے جہاں سے معلوم ہو سکے کہ کون ایسا کہتا ہے۔ یہ کس کا حکم ہے۔ لیکن یہ حضرات کبھی حوالہ نہیں دیں گے‘ اسے ہمیشہ مبہم رکھیں گے۔ اس لئے کہ جب یہ کہیں گے کہ ’’اسلام کا یہ فیصلہ ہے‘‘ تو اکثر و بیشتر یہ فیصلہ ان کا اپنا ہو گا جسے یہ اسلام کا فیصلہ کہہ کر پیش کر دیں گے اور یا ان کے فرقہ کا فیصلہ۔ اب ظاہر ہے کہ کسی فرقہ کا فیصلہ تو اسلام کا فیصلہ نہیں کہلا سکتا۔ لیکن یہ اسے دانستہ مبہم رکھیں گے۔
اس قسم کی ایک اصطلاح ہے ’’اسلامی شریعت‘‘ یا ’’شریعتِ حقہ‘‘۔ آئے دن اس قسم کے الفاظ سننے میں آتے ہیں کہ شریعت کا یہ حکم ہے۔ شریعت کا یہ فیصلہ ہے۔ یہ از روئے شریعت ناجائز ہے۔ آپ دل میں سمجھتے ہوں گے کہ یہ اسلام کا فیصلہ ہے۔ لیکن یہ بھی درحقیقت کسی فرقہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر فرقہ کی شریعت الگ الگ ہے۔ جسے آپ ’’اسلام کی شریعت‘‘ کہیں گے۔۔۔ یعنی وہ شریعت جسے تمام مسلمان متفقہ طور پر اسلامی تسلیم کریں‘ اس کا کہیں وجود نہیں۔
ایک اصطلاح ’’سنت رسولؐ اللہ‘‘ ہے۔ اس کے متعلق تو آپ سمجھتے ہوں گے کہ یہ تمام مسلمانوں میں متفقہ علیہ ہو گی کیونکہ حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی تو ایک ہی تھی اس لئے حضورﷺ کی سنت بھی ایک ہی ہو گی۔ لیکن ایسا نہیں۔ سنت رسولؐ اللہ بھی ہر فرقہ کی الگ الگ ہے۔ حتیٰ کہ ’’سنت‘‘ کی تعریف (Definition) تک بھی مختلف۔
یہ (اور اسی قسم کی کئی ایک اور) اصطلاحات ہمارے ہاں صدیوں سے رائج چلی آرہی ہیں۔ لیکن ہمارے زمانے میں چونکہ سیاست کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے اس لئے اب قدیم اصطلاحات کے بجائے‘ جن کا تعلق ’’مذہب‘‘ سے سمجھا جاتا ہے‘ نئی نئی اصطلاحات وضع کی جا رہی ہیں۔ ان میں ایک اصطلاح ’’اقامت دین‘‘ ہے۔ اس اصطلاح کی پبلسٹی تو بہت زیادہ ہوتی ہے‘ لیکن ا سکا متعین مفہوم آج تک نہیں بتایا گیا۔ اگر اس اصطلاح کے مدعی اس کا مفہوم واضح کر دیں تو مختلف فرقوں کے علماء شور مچا دیں کہ جسے تم دین کہتے ہو‘ وہ دین ہے ہی نہیں۔ لہٰذا‘ ان حضرات نے بھی اسی میں خیریت سمجھ رکھی ہے کہ اس اصطلاح کو مبہم رکھا جائے۔
اب ’’دین‘‘ کے بجائے نظام کا لفظ زیادہ پاپولر ہو رہا ہے۔ ا سکی بنا پر ایک اصطلاح ’’اسلامی نظام‘‘ ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے ہاں خود اسلام کا مفہوم ہی متعین نہیں‘ اس لئے ’’اسلامی نظام‘‘ کی اصطلاح بھی شرمندۂ معنی نہیں ہوئی‘ نہ ہو سکتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ عصرِ حاضر کی سیاست میں جس مقصد کے لئے سلوگن وضع اور اختیار کئے جاتے ہیں اس مقصد کے لئے ہمارے ہاں کے مذہبی طبقہ میں اس قسم کی اصطلاحات وضع کی جاتی ہیں۔ سلوگن سے مراد ہوتی ہے ایسے الفاظ جن کا مفہوم متعین نہ ہو لیکن جنہیں عوام میں پاپولر بنا کر فریقِ مقابل کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اگر ذرا بنظرِ تعمق دیکھا جائے تو یہ حقیقت سمجھ میں آجائے گی کہ زمانۂ قدیم کے عصرِ سحر (Age of Magic) میں جو کام‘ جنتر منتر‘ ٹونا ٹوٹکا سے لیا جاتا تھا‘ وہی کام عصرِ رواں میں سلوگن سے لیا جاتا ہے۔ جنتر منتر یا ٹونے ٹوٹکے ایسے الفاظ پر مشتمل ہوتے تھے جن کے متعلق یہ کہ دیا جاتا تھا کہہ اگر تم ان الفاظ کو اس طرح اتنی مرتبہ دہراتے جاؤ گے تو تمہارا دشمن مغلوب ہو جائے گا۔ بعینہٖ یہی پوزیشن ہمارے زمانے میں سلوگن نے لے رکھی ہے اور اب یہی کام ہمارے ہاں اصطلاحات سے لے لیا جاتا ہے۔ پھر جس طرح ایک سلوگن کچھ عرصہ کے بعد‘ کثرتِ استعمال سے غیر مؤثر ہو جاتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں کی اصطلاحات بھی کچھ عرصہ کے بعد اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ کسی زمانے میں جو اثر‘ اقامت دین۔ حکومت الٰہیہ۔ اسلامی نظام وغیرہ قسم کی اصطلاحات پیدا کیا کرتی تھیں‘ اب یہ اس قسم کا اثر پیدا نہیں کرتیں۔ اس بنا پر ضرورت تھی کہ ایک نئی اصطلاح وضع کی جائے اور وہ اصطلاح ہے ’’نظامِ مصطفیٰؐ‘ ‘ چونکہ حضورؐ کی ذاتِ گرامی کا تعلق ہمارے نہایت گہرے قلبی جذبات سے ہے‘ س لئے یہ اصطلاح‘ سابقہ اصطلاحات کے مقابلہ میں‘ عوام کے لئے زیادہ مؤثر اور پرکشش ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس اصطلاح کو بھی مبہم رکھا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ سنت رسولؐ اللہ کی طرح ہر فرقہ کا نظامِ مصطفیٰؐ کا تصور اپنا اپنا ہے۔
مختلف فرقوں کے علماء تو ایک طرف‘ خود حنفیوں میں بریلوی اور دیوبندی حضرات کے نزدیک اس کا مفہوم الگ الگ ہے۔ موجودہ ہنگاموں میں‘ بریلوی فرقہ کی نمائندگی مولانا نورانی کر رہے ہیں اور دیوبندی فرقہ کی مفتی محمود صاحب اور ان دونوں میں ’’نظام مصطفیٰؐ‘ ‘ تو ایک طرف ’’مقام مصطفیؐ‘‘ تک میں شدید اختلاف ہے۔ لہٰذا ان کی سیاسی مصلحت کا تقاضا ہے کہ اس اصطلاح (نظام مصطفیؐ) کو مبہم رکھا جائے۔۔۔ اس کا کوئی ایسا مفہوم پیش ہی نہیں کیا جا سکتا جسے تمام فرقوں کے علماء متفقہ طور پر اسلامی تسلیم کر لیں۔ اس کی وضاحت کا تقاضا کیا جائے تو اسے بلند آہنگ الفاظ کے پردوں میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔ مثلاً حال ہی میں ’’نوائے وقت‘‘ میں اس عنوان پر کہ ’’نظام مصطفیؐ کیا ہے‘‘۔۔۔ دو مبسوط مقالات شائع ہوئے ہیں۔ ایک مقالہ میں کہا گیا ہے کہ نظام مصطفیؐ:۔
اخلاقی لحاظ سے نظامِ مساوات۔۔ سیاسی لحاظ سے نظامِ حفاظت و عدل۔۔ معاشی لحاظ سے نظامِ عدل و کفالت۔۔ روحانی لحاظ سے نظام ذکر و فکر اور للہیت۔۔ معاشرتی لحاظ سے نظامِ اخوت ہے۔ (نوائے وقت۔ ۲۹ جولائی ۱۹۷۷ء)۔
دوسرے مقالہ میں کہا گیا ہے۔۔۔ نظامِ مصطفیؐ کیا ہے؟
کائنات گیر علم۔۔ یزداں شعار عبادت۔۔ پاکیزہ اخلاق۔۔ عظیم سیاست۔۔ علم خوفِ خدا کا سبب‘ اور خوفِ خدا دانش کی انتہا۔ (نوائے وقت‘ ۵ اگست ۱۹۷۷ء)۔
اس قسم کے ہیں حریر و اطلس کے وہ نرم و نازک پردے جن میں اس مصلحت (یا حکمت عملی) کو چھپایا جاتا ہے کہ اس نظام کا متعین مفہوم عوام کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔۔ کیونکہ اس کی وضاحت سے اس دعویٰ کا پردہ چاک ہو جاتا ہے کہ اس مطالبہ میں تمام فرقوں کے نمائندے متفق ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔۔۔ یہ کتمانِ حقیقت کی اسی قسم کی سعئ ناکام ہے جس کی مثال پہلے بھی ہمارے سامنے آچکی ہے۔ ۱۹۵۱ء میں مختلف فرقوں پر مشتمل اکیس علماء نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ مملکت کا ضابطۂ قوانین ’’کتاب و سنت‘‘ کے مطابق مرتب کیا جائے گا اور اس کے بیس برس بعد‘ ’’متفقہ مطالبہ‘‘ کا پردہ خود ان ہاتھوں کو‘ جنہوں نے یہ پردہ لٹکایا تھا‘ یہ کہہ کر اٹھانا پڑا کہ:
کتاب و سنت کی رو سے پبلک لاز کا کوئی ایسا ضابطہ مرتب نہیں کیا جا سکتا جسے مختلف فرقے متفق طور پر اسلامی تسلیم کر لیں۔ (مودودی صاحب)
اس سے‘ اکتیس علماء کے اس مطالبہ کا بھانڈا پھوٹ گیا جسے وہ ۱۹۵۱ء سے متفقہ طور پر اسلامی کہہ کر پیش کرتے چلے آرہے تھے۔ یہ بیس پچیس برس تو خیر‘ نظری بحثوں میں گذر گئے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اب یہ مطالبہ عملی شکل اختیار کر لے اور اس وقت اس اصطلاح کا متعین مفہوم سامنے لائے بغیر چارہ نہ رہے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر اکتوبر ۷۷ء کے مجوزہ انتخابات کے نتیجے میں‘ زمامِ حکومت نظام مصطفیؐ کے مدعیوں کے ہاتھ میں آگئی تو سب سے پہلا مرحلہ‘ پبلک لاز کا متفق علیہ ضابطہ مرتب کرنے کا درپیش ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ مختلف فرقوں کے یہ نمائندے ایسا ضابطہ مرتب کر ہی نہیں سکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت کیا ہو گا؟
تحریک پاکستان کی بنیاد دو اصولوں پر استوار تھی۔ (۱) دو قومی نظریہ اور (۲) نظریۂ پاکستان یعنی اسلام کی بنیادوں پر ایک آزاد مملکت کا قیام۔ ہندو (اور ان کی ہمنوائی میں دنیا بھر کی دیگر اقوام) کہتے تھے کہ ان بنیادوں پر کوئی مملکت استوار نہیں ہو سکتی۔ وہ زمانہ لد گیا جب مذہب کی بنیاد پر سلطنتیں قائم کی جایا کرتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہو سکتا۔
سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر ہندو‘ اور ان کے ہم نواؤں نے‘ ببانگِ دہل اعلانات کئے کہ دیکھا ناں! جو کچھ ہم کہتے تھے وہ کس طرح سچ ثابت ہوا۔ دو قومی نظریہ کس طرح ناکام رہا؟ اور اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ جس طرح دو قومی نظریہ ناکام ثابت ہوا ہے‘ تم دیکھو گے کہ تمہارا دوسرا نظریہ‘ یعنی مذہب کی بنیادوں پر مملکت کی تشکیل۔۔ بھی اسی طرح ناکام ثابت ہو گا۔
اب‘ جب مختلف فرقوں کے علماء پر مشتمل پارلیمان‘ ایک متفق علیہ اسلامی ضابطۂ قوانین مرتب کرنے میں ناکام رہی‘ تو ہمارے یہی دشمن ڈھول پیٹ پیٹ کر اعلان کریں گے کہ دیکھا! جو کچھ ہم کہتے تھے وہ بالآخر سچ ثابت ہو کر رہا یا نہیں!
یہ اسی روزِ بد کا لرزہ انگیز احساس ہے جو ہمیں ان حضرات کی خدمت میں گذارش کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر آپ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ مملکت کا استحکام اور اسلام کا احیاء ہو گا‘ تو آپ جس قدر جلد اس غلط فہمی کو دور کر دیں گے اتنا ہی اچھا ہو گا۔ آپ کی موجودہ روش سے مملکت کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں گی اور اسلام دنیا کی نظروں میں اضحوکہ بن جائے گا۔ اگر آپ فی الواقعہ اسلام کا احیاء چاہتے ہیں تو پہلے یہ طے کر لیجئے کہ اگر قانون سازی کے اختیارات آپ کے ہاتھ میں آگئے تو آپ وہ ضابطہ حیات کس طرح مرتب کریں گے جو آپ سب کے نزدیک متفقہ طور پر اسلامی قرار پائے۔
اگر یہ حضرات ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوں‘ تو ہم قوم سے بزور گذارش کریں گے کہ وہ آنکھیں بند کر کے ان کے سلوگنوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے‘ ان سے مطالبہ کرے کہ وہ اس سوال کا واضح الفاظ میں جواب دیں۔
اس سوال کا جواب کچھ بھی مشکل نہیں۔ اسے غور سے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔
(۱) جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ نظام مصطفیؐ کے مدعی مختلف فرقوں سے متعلق ہیں۔ ان میں‘ ہر فرقہ کی فقہ (ضابطۂ قوانین) الگ الگ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب تک یہ حضرات اپنی اپنی فقہ کو غیر متبدل اسلامی شریعت قرار دیتے رہیں گے‘ کوئی ایسا ضابطۂ قوانین مرتب نہیں ہو سکے گا جسے یہ سب اسلامی تسلیم کر لیں۔ ان کے باہمی اختلافات کی شدت کا یہ عالم ہے کہ ان میں سے ہر فرقہ نے دوسرے فرقوں کے خلاف کفر کے فتوے لگا رکھے ہیں۔
(۲) ان سب میں صرف ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے قرآن مجید۔ لہٰذا‘ ان کے ایک نقطہ پر جمع ہونے کا‘ اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ اپنی اپنی فقہ سے صرف نظر کر کے‘ قرآن مجید کو ضابطۂ قوانین کی بنیاد قرار دیں اور اسے قول فیصل اور حرف آخر تسلیم کریں۔
(۳) قرآن کریم سلوگن نہیں دیتا۔ وہ ہر بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ تبیانا لکل شئ (۸۹/۱۶) اس کا دعویٰ ہے۔ یعنی ہر بات کو نکھار اور ابھار کر بیان کرنے والی کتاب۔
(۴) اس میں کوئی اختلافی بات نہیں۔ اس نے اپنے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہی یہ دی ہے۔ ولو کان من عند غیر اللہ لوجد وافیہ اختلافا کثیرا (۸۲/۴)۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ ا سمیں بکثرت اختلافات پاتے۔ لہٰذا قرآن مجید کو قدر مشترک تسلیم کر لینے کے بعد کوئی اختلاف باقی نہیں رہ سکتا۔
(۵) الدین۔ یعنی نظام خداوندی۔ کے معنی ہیں خدا کو حاکم یا حَکم (ہر معاملہ میں فیصلہ دینے والا) تسلیم کرنا۔ ان الحکم الا للہ۔ حکم صرف خدا کا واجب الاطاعت ہے۔۔۔ امر الا تعبدوا الا ایاہ۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی محکومیت (اطاعت) اختیار نہ کرو۔
(۶) خدا کو حاکم یا حَکم تسلیم کرنے کا عملی طریق اس کی کتاب کو حَکم تسلیم کرنا ہے۔ (رسولؐ اللہ کی زبانِ مبارک سے قرآن کریم میں اعلان کرایا گیا کہ) افغیر اللہ ابتغی حکما و ھو الذی انزل الیکم الکتاب مفصلا (۱۱۵/۶) کیا میں خدا کے سوا کسی اور کو حَکم تسلیم کروں‘ درآں حالیکہ اس نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کر دی ہے جو تمام معاملات کو نکھار کر بیان کر دیتی ہے۔۔۔ ا سکے معنی یہ ہیں کہ کتاب اللہ کو حَکم ماننے سے خدا کو حَکم مانا جاتا ہے۔
(۷) یہی کتاب کفر اور اسلام میں حدِ امتیاز ہے۔ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون (۴۴/۵)۔ جو کتاب خداوندی کو حَکم تسلیم نہیں کرتا‘ تو ایسے ہی لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے۔
(۸) خود رسولؐ اللہ کو بھی یہی حُکم دیا گیا تھا کہ:
فاحکم بینھم بما انزل اللہ۔ (۴۸/۵)۔
اے رسول! تو ان میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کیا کرو۔
(۹) یہی دین اللہ ہے۔ (۸۲/۳)۔ اسی کا نام الاسلام ہے۔ یعنی کتاب اللہ کو حَکم تسلیم کرنا۔ ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔ (۸۴/۳)۔ جو شخص اس کے سوا کوئی اور دین (نظام) اختیار کرے گا‘ تو بارگاہ خداوندی میں اسے شرف قبولیت حاصل نہیں ہو گا۔ وہ مردود قرار پائے گا۔
واضح رہے کہ چونکہ خدا نے اسلام کو دین اللہ کہا ہے اس لئے اس کا ترجمہ دین خداوندی ہی کرنا چاہئے خدا کے رسول‘ دین اللہ کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث ہوتے تھے۔ خود کوئی دین وضع نہیں کرتے تھے۔ اس لئے اسلام کو دین مصطفیؐ کہنا صحیح نہیں ہو گا۔ اسے دین اللہ ہی کہنا چاہئے۔
(۱۰) سوال پیدا ہو گا کہ اس کی پہچان کیا ہو گی کہ ہم میں دین اللہ (یا نظام خداوندی) قائم ہے یا نہیں؟ اس کی اولین پہچان یہ ہے کہ جس قوم میں دین اللہ قائم ہو اس میں مذہبی فرقے نہیں رہ سکتے۔ جہاں مذہبی فرقے ہوں گے نہ وہاں دین اللہ (نظام خداوندی) ہو گا اور نہ ہی ان کے ساتھ رسولؐ اللہ کا کوئی تعلق۔ اس باب میں خدا کا ارشاد نہایت واضح ہے کہ:۔
ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شئ (۱۶۰/۶)۔
جو لوگ دین میں تفرقہ پیدا کر دیں اور خود بھی ایک گروہ بن کر بیٹھ جائیں۔ اے رسول! تیرا ان لوگوں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں رہے گا۔
جو لوگ فرقوں پر قائم رہتے ہوئے ’’نظام مصطفیؐ‘‘ کے مدعی ہیں‘ انہیں اس ارشادِ خداوندی پر غور کرنا چاہئے۔ جب (فرمانِ خداوندی کی رو سے) مصطفیؐ کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں رہتا‘ تو انہیں ’’نظام مصطفیؐ‘‘ کے دعوے دار ہونے کا حق کس طرح پہنچ سکتا ہے؟
ملک میں جو لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ ہماری ان سے گذارش ہے کہ وہ ان ارشاداتِ خداوندی پر غور کریں اور سوچیں کہ مختلف فرقوں کے نمائندوں کا یہ دعویٰ کہ وہ ’’نظام مصطفیؐ‘‘ (یا اسلامی نظام) قائم کریں گے‘ کس طرح حق پر مبنی ہو سکتا ہے؟
(طلوع اسلام‘ ستمبر 1977ء)

1,116 total views, no views today

(Visited 154 times, 1 visits today)