Category Archives: Idara Tolu-e-Islam

قُربانی ۔ پرویز – اِدارہ طلوعِ اِسلام

طلوعِ اِسلام میں قربانی کے متعلق جو کچھ شائع ہوتا رہا‘ قارئین کی نظروں سے گذر چکا ہے۔ اس کے جواب میں جو کچھ دیگر جرائد و رسائل میں شائع ہوا وہ بھی انہوں نے دیکھ لیا ہو گا۔ جب یہ چیزیں ہمارے سامنے آئی تھیں تو ہم نے محسوس کیا تھا کہ اس موضوع پر ذرا تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ پھر قربانی کی عید قریب آرہی ہے‘ اس مسئلہ سے متعلق استفسارات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سے تفصیلی گفتگو کی اہمیت اور بھی نمایاں طور پر سامنے آگئی ہے۔
پہلے یہ متعین کر لیجئے کہ مسئلہ زیر غور کیا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ:
(i) حج کے موقع پر حاجی مکہ معظمہ میں جانور ذبح کرتے ہیں جسے قربانی کہا جاتا ہے۔
(ii) ایک ایک حاجی متعدد جانور ذبح کرتا ہے۔ ان جانوروں کو گڑھے کھود کھود کر دبانا پڑتا ہے۔
(iii) عید کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان اپنی اپنی جگہ پر جانور ذبح کرتے ہیں۔ اسے بھی قربانی کہا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بات کا حکم قرآن کریم سے بھی ملتا ہے یا یہ چیزیں یونہی رسماً چلی آرہی ہیں؟
***
اصل سوال تک پہنچنے سے پہلے‘ ایک چیز تمہیداً عرض کر دینا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں‘ مختلف وجوہات کی بنا پر صورت یہ پیدا ہو چکی ہے کہ آپ ’’مذہب‘‘ سے متعلق کوئی بات‘ فلسفہ‘ منطق‘ تصوف‘ تفاسیر‘ روایات وغیرہ میں سے کسی کے حوالہ سے بھی کریں‘ اس پر کوئی معترض نہیں ہو گا لیکن جہاں آپ نے کسی موضوع کے متعلق یہ کہا کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ قرآن اس کی بابت کیا کہتا ہے تو اس کے سنتے ہی اس قسم کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں گویا آپ نے الحاد اور بے دینی کی کوئی بدترین بات کہہ دی۔ ہم ’’مذہب‘‘ کے معاملہ میں یہودیوں کے افسانے‘ قصہ گوؤں کی داستانیں‘ یونانی فلسفہ کی قیاس آرائیاں‘ مجوسیوں کی آتش نوائیاں‘ ویدانت کے مہلات‘ برہمو سماجی قسم کے خرافات‘ حتیٰ کہ کسی مجذوب کی بڑ تک سننا تو گوارا کر لیں گے اور ان لغویات میں معانی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن جونہی کسی نے کہا کہ آؤ دیکھیں‘ اس بارے میں قرآن کی کیا تعلیم ہے‘ تو ہم کوشش کریں گے کہ کوئی اس کی سننے نہ پائے‘ کیونکہ اس سے ایمان کی خرابی کا خطرہ اور عاقبت برباد ہو جانے کا اندیشہ محسوس ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم متعدد بار لکھ چکے ہیں‘ یہ نتیجہ ہے اس منظم سازش کا جسے عجمی عناصر‘ اسلام سے اپنا انتقام لینے کے لئے‘ روبعمل لائے اور جس سے ہوا یہ کہ (اقبال کے الفاظ میں)
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امّت روایات میں کھو گئی
رفتہ رفتہ مسلمانوں کو قرآن سے اس قدر چِڑ ہو گئی کہ ان کے نزدیک خالص قرآن کی طرف دعوت‘ الحاد اور زندیقیت کے مرادف قرار پا گئی۔ اس سے بڑا انقلاب سورج کی آنکھ نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ ایسی کامیاب سازش آسمان کے تاروں کی نگاہوں سے گذری ہو گی کہ جس کی رو سے ایک قوم اپنی آسمانی کتاب پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھے لیکن جب یہ کہا جائے کہ اپنے معاملات میں اس کتاب کو حَکم قرار دو تو ایسا کہنے والے کو گردن زدنی اور کشتنی قرار دے دیا جائے۔ ہماری بدقسمتی سے ہزار برس سے ہماری مساجد کے منبر اور خانقاہوں کے حجرے‘ نادانستہ طور پر اس سازش کی آماجگاہ بنے چلے آرہے ہیں اور اپنی سادہ لوحی سے اس سازش کو محکم سے محکم تر بنانے کی ہر کوشش کو ’’دین کی خدمت‘‘ تصور کر کے امت سے اس کے اجر کا مطالبہ کرتے ہیں اور فریب خوردہ امت اس مطالبہ کے پورا کرنے میں سعادتِ دارین محسوس کرتی ہے۔ اس قسم کی سادہ لوحی کی مثال تاریخ کے صفحات میں شاید ہی کہیں اور مل سکے۔
بناء بریں جو لوگ ابھی تک (دانستہ یا نادانستہ) اس سازش کے علمبردار یا اس کے دامِ فریب میں گرفتار ہیں‘ ان سے تخاطب بیکار ہے۔ لیکن جو سعید روحیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو قیامت تک محفوظ رکھنے کا ذمہ اس لئے لیا تھا کہ اسے قیامت تک مسلمانوں کا ضابطۂ حیات بننا تھا‘ ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ قرآن کا اس باب میں کیا حکم ہے اس تفصیلی گفتگو کا محرک یہی جذبہ ہے۔
***
سوال آپ کے سامنے آچکا۔ اب دیکھئے کہ اس باب میں قرآن کیا کہتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ قرآن نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے لئے کہیں ’’قربانی‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ نہ ہی اس نے اسے خاص طور پر قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔1؂ یہ تصور کہ جانوروں کے خون بہانے سے خدا خوش ہو جاتا ہے اس لئے قربانی وجۂ تقربِ خداوندی ہوتی ہے‘ غیر قرآنی تصور ہے۔ آج ہمارے ہاں قربانی کے ساتھ یہی تصور وابستہ ہے اور یہ اسی سازش کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے اور جس نے اسلام جیسے زندگی بخش نظام حیات کو محض رسومات کا مجموعہ بنا چھوڑا ہے۔
قرآن جس تمدنی نظام (Social Order) کی تشکیل چاہتا ہے اس کا نقطۂ آغاز الصلوٰۃ ہے اور منتہیٰ حج۔ یعنی ملت کی چھوٹی چھوٹی وحدتوں (Units) کی صحیح تعمیر سے شروع کر کے‘ پوری کی پوری ملت کو ایک مرکزِ وحدانیت پر جمع کرنا‘ انہیں قوانینِ خداوندی کے مطابق چلانا اور اس کے بعد اس ضابطہ حیات کو ساری دنیا میں نافذ کرنے کا ذریعہ بنانا۔ حج‘ ملت کے اس عظیم القدر اجتماع کا نام ہے جس میں قرآنی نظام حیات کے پروگرام پر غور و خوض کر کے اسے نافذ العمل بنانے کی تراکیب کو سوچا جاتا ہے۔ اس اجتماع کا مرکز ’’بیت الحرام‘‘ (خانہ کعبہ) ہے جو ملتِ اسلامیہ کا مرکزِ محسوس ہے۔ اس عظیم الشان اجتماع کو کامیاب بنانے میں ہر کوشش مبارک اور ہر اقدام مسعود ہے۔ قرآن کریم میں جانوروں کے ذبح کرنے کا ذکر اسی اجتماع کے سلسلہ میں آیا ہے اور وہ آیات حسب ذیل ہیں۔ (ان آیات پر الگ الگ نمبر بھی دے دیئے گئے ہیں تاکہ آئندہ حوالہ میں سہولت ہو۔ نیز ان کا ترجمہ مروجہ ترجموں کے مطابق ہی کر دیا گیا ہے تاکہ یہ اعتراض نہ پیدا کر دیا جائے کہ ہم نے (خدانکردہ) اپنے مطلب کے مطابق معانی پیدا کرنے کے لئے ترجمہ کچھ سے کچھ کر دیا ہے)۔
سورۂ الحج میں ہے:
(1) وَاَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَاْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍO لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَی مَا رَزَقَہُم مِّن بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاءِسَ الْفَقِیْرَ -(22:27-28)
او ر لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز رستوں سے پہنچی ہونگی۔ تاکہ لوگ اپنے فوائد کے لئے آموجود ہوں اور تاکہ ایام مقررہ میں ان چوپاؤں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کئے ہیں۔ سو جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلاؤ۔
ان جانوروں کے متعلق آگے چل کر یوں ارشاد ہے۔
(2) لَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ اِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَا اِلَی الْبَیْْتِ الْعَتِیْقِ -(22:33)
ان جانوروں میں تمہارے لئے ایک مدتِ معینہ تک فائدہ اٹھانا ہے۔ اس کے بعد ان کے حلال کرنے کی جگہ بیت عتیق (خانہ کعبہ) کے قریب ہے۔
اس سے آگے ہے:
(3) وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُم مِّن شَعَاءِرِ اللَّہِ لَکُمْ فِیْہَا خَیْْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْْہَا صَوَافَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا فَکُلُوا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَلِکَ سَخَّرْنَاہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ -(22:36)
اور قربانی کے اونٹوں1؂ کو ہم نے اللہ کے دین کی یادگار 2؂ بنایا ہے ان جانوروں میں تمہارے لئے (اور بھی) فائدے ہیں۔ سو تم انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لیا کرو۔ پس جب وہ کسی کروٹ گر پڑیں تو تم خود بھی کھاؤ اور سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے محتاج کو بھی کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔
اور اس کے بعد ہے:
(4) لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُمْ کَذَلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ-(22:37)
اللہ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون۔ ولیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس پر جس کی اس نے تمہیں ہدایت کی ہے اور محسنین کے لئے بشارت ہے۔
یہ سورۂ حج کی آیات ہیں۔ انہیں دیکھئے اور پھر غور کیجئے کہ یہ مسئلہ پیش نظر کے متعلق کس قدر صاف اور واضح ہیں۔
آیت (1) میں سلسلۂ کلام کا آغاز ہی اعلانِ حج سے ہوتا ہے اور اسی ضمن میں فرمایا ہے کہ جانوروں کو ذبح کرو اور ان میں سے خود بھی کھاؤ اور حاجتمندوں کو بھی کھلاؤ۔
آیت (2) سے واضح ہے کہ یہ وہ جانور ہیں جن سے پہلے عام جانوروں کا کام لیا جاتا ہے۔ ان پر سواری کر کے یا بوجھ لاد کر‘ حج کے لئے آیا جاتا ہے اور پھر انہیں حج کی تقریب پر مکہ معظمہ میں ذبح کیا جاتا ہے۔
آیت (3) بھی آیت (2) کے مضمون کی تائید کر رہی ہے۔ یعنی ان جانوروں کے فوائد (خیر) اور اس کے بعد ذبح کر کے خود بھی کھانا اور محتاجوں کو بھی کھلانا۔ (ان کے شعائر اللہ ہونے کا بیان آگے چل کر آئے گا)۔
آیت (4) میں اس غلط تصور کا بطلان کیا گیا ہے جس کی رو سے سمجھا جاتا تھا کہ قربانی کی حیثیت افادی نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی ہے جو خون بہانے سے حاصل ہوتی ہے اس لئے قربانی کے جانور ذبح کر کے چھوڑ دینے چاہئیں۔ اس کے برعکس یہ واضح کر دیا گیا کہ ان جانوروں کے ذبح کرنے سے مقصود خون بہا کر خدا کو خوش کرنا نہیں بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ ان کا گوشت تمہارے اور دیگر ضرورتمندوں کے کام آئے۔ اللہ کے نزدیک قابل قدر چیز تمہارا تقویٰ ہے۔ تقویٰ کی تشریح اگلے الفاظ سے کر دی جن میں بتا دیا گیا کہ تمہارا مقصود حیات یہ ہے کہ جس ضابطۂ حیات کی طرف تمہاری راہنمائی کی گئی ہے اسے متشکل اور مستحکم کرو اور اس طرح دنیا میں قانونِ خداوندی کی عظمت اور کبریائی کو ثبت کر کے دکھا دو۔ اجتماع حج اسی مقصد کے حصول کی کڑی ہے اور یہ جانور اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کے خور و نوش کا ذریعہ بنتے ہیں۔
قرآن کی رو سے دنیا میں دو ہی قومیں ہیں۔ ایک وہ جو ضابطۂ خداوندی کے مطابق زندگی بسر کریں (مُسلم) اور دوسری وہ جو اس کے علاوہ دیگر ضوابط زندگی کو اپنا مسلک بنائیں (غیر مُسلم)۔ قرآن ان دونوں جماعتوں میں واضح اور غیر مبہم امتیازی خطوط قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں بآسانی پہچانے جا سکیں۔ چنانچہ ہر وہ عمل یا وہ شے جو اس قسم کی پہچان کرا سکے شعائر اللہ کہلاتی ہے۔ شعار اس خاص نشان کو کہتے ہیں جو جنگ میں استعمال کیا جائے تاکہ اس سے اپنے رفیق اور دوست پہچانے جا سکیں۔ حج تمام دنیا کے مسلمانوں کا مرکزی اجتماع اور یک قلبی اور یک نگہی کا عملی مظاہرہ اور ایک ضابطۂ قانون کے تابع زندگی بسر کرنے والوں کی تعارفی تقریب ہے۔ اس سے بڑا دوستوں اور رفیقوں کا اجتماع اور کونسا ہو سکتا ہے۔ اس لئے حج کے تضمنات (صفا و مرویٰ اور بُدن وغیرہ) کو خصوصیت سے شعائر اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورۂ مائدہ میں ہے:
(5) یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآءِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآءِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً -(5:2)
اے ایمان والو۔ بے حرمتی نہ کرو شعائر اللہ کی اور نہ حرمت والے مہینے کی‘ نہ حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں‘ اور نہ ان لوگوں کی جو بیت الحرام کے مقصد سے جا رہے ہوں اور اپنے رب کے فضل اور رضامندی کے طالب ہوں۔
چونکہ حج سے مقصود‘ دنیا میں قوانینِ خداوندی کا عملی نفاذ ہے‘ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نوع انسانی میں صحیح توازن پیدا ہو جائے گا اور اس طرح انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گی‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں بیت الحرام کو وجۂ قیام انسانیت قرار دیا ہے اس کے ساتھ ہی تضمنات کو بھی انہی الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا:
(6) جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَءِدَ۔۔۔ -(5:97)
اللہ نے کعبہ کو‘ جو کہ حرمت والا مکان ہے‘ لوگوں کے قیام کا باعث قرار دیا ہے اور عزت والے مہینے کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں۔
آیات نمبر 1 تا 4 کو پھر سے سامنے لایئے۔ ان سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ قرآن کی رو سے
ً (1) قربانی صرف حج کے موقع پر ہے۔
(2) قربانی کا مقام مکہ معظمہ ہے جہاں حج ہوتا ہے۔
(3) قربانی سے مقصود یہ ہے کہ ان جانوروں کا گوشت کھایا جائے۔
(4) یہ سمجھنا کہ جانور ذبح کرنے سے قرب الٰہی حاصل ہو جاتا ہے‘ غلط ہے۔
ان حقائق سے یہ واضح ہو گیا کہ:
(ا) حج کے علاوہ اور کسی تقریب پر قربانی کا ذکر نہیں۔
(ب) مکہ معظمہ کے علاوہ اور کسی مقام پر قربانی نہیں۔
(ج) جس جانور کا گوشت کھانے کے کام نہ آئے اُسے قربانی نہیں کہا جا سکتا
کیونکہ اس کا صرف خون بہایا گیا ہے اور خون اللہ تک نہیں پہنچتا۔ لہٰذا ایسا
کرنا اسراف ہے۔ یعنی بے نتیجہ اور بے مصرف ایک جانور کا ضائع کر دینا۔
فلہٰذا۔۔۔
(i) حج کی تقریب پر جانوروں کو ذبح کر کے مٹی میں دبائے جانا منشائے قرآن
کے یکسر خلاف ہے۔ اور
(ii) یہ جو عید کی تقریب پر دنیا بھر کے شہروں میں قربانیاں دی جاتی ہیں ان کا حکم
تو ایک طرف کہیں ذکر تک بھی قرآن میں نہیں۔ بلکہ یہ قرآن کے حکم کے
خلاف ہے کیونکہ جب قرآن نے قربانی کے مقام کو بالتصریح معین کر دیا
ہے تو اس معین کو عام کر دینا قرآنی منشا کے خلاف ہے۔ مثلاً قرآن نے نماز
کے لئے سمت قبلہ کو معین کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہر طرف منہ کر کے نماز
پڑھنا قرآنی حکم کے خلاف ہو گا۔
***
اب دیگر آیات دیکھئے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:
(7) وَاَتِمُّواْ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔
اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔ پھر اگر تم (کسی وجہ سے) روک دیئے جاؤ تو قربانی کا جانور جو بھی میسر آئے (خانہ کعبہ کو بھیج دیا کرو)۔
وَلاَ تَحْلِقُواْ رُؤُوسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ۔
اور اپنے سروں کو اس وقت تک مت منڈواؤ جب تک قربانی کا جانور اپنے موقع پر نہ پہنچ جائے (اور وہ موقع حرم ہے)۔
فَمَن کَانَ مِنکُم مَّرِیْضاً اَوْ بِہِ اَذًی مِّن رَّاْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِّن صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ۔
اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کا فدیہ روزے ہے یا صدقہ یا نسک (قربانی)
فَاِذَا اَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔
پھر جب امن کی حالت ہو جائے تو جو شخص عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر دونوں سے متمتع ہو تو جو کچھ قربانی میسر ہو ذبح کرے۔
فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاثَۃِ اَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذَلِکَ لِمَن لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہُ حَاضِرِیْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ -(2:196)
پھر جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ آئے تو اس کے ذمے تین دن کے روزے ایام حج میں‘ اور سات دن کے جب حج سے لوٹنے کا وقت ہو‘ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ اس کے لئے ہے جس کے اہل و عیال کعبہ کے قریب نہ رہتے ہوں۔
ان آیات میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ حج اور عمرہ1؂ میں‘ عام حالات میں قربانی کا حکم نہیں۔ ضرورت کے مطابق‘ باہمی مشاورت سے خور و نوش کے لئے جانور ذبح کئے جائیں گے۔
لیکن حسب ذیل اسباب میں سے کوئی سبب پیدا ہو جائے تو ھدی یا نسک کا حکم ہے (ان الفاظ کے معانی آگے چل کر آتے ہیں)۔
(1) کسی شخص نے حج یا عمرہ کا ارادہ کر لیا لیکن وہ محصور ہو گیا اور خانہ کعبہ تک نہیں پہنچ سکا تو اسے چاہئے کہ اپنے ھدی کو کسی کے ساتھ بھیج دے۔ جب ھدی مکہ میں پہنچ جائے پھر حجامت بنوا کر احرام سے باہر نکل آئے اس سے پہلے حجامت نہ بنوائے۔
(2) دوسرا سبب یہ ہے کہ حالت احرام میں (جبکہ حجامت بنوانا منع ہے) کسی تکلیف کے سبب حجامت بنوانے کے لئے مجبور ہو جائے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا نُسُک۔
(3) تیسرا یہ کہ حج اور عمرہ ایک ساتھ کرے تو اس صورت میں ھدی دے۔ اور اگر یہ میسر نہ ہو تو دس دن کے روزے رکھے۔
آپ غور کریں گے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان مقامات پر بھی صرف قربانی کا حکم نہیں ہے۔ سبب اول کے ماتحت اتنا بتا دیا گیا ہے کہ عازمِ حج بحالتِ معذوری (محصور ہو جانے کی شکل میں) کیا کرے۔ اس صورت میں وہ اپنے ھدی کو کعبہ تک بھیج دے۔ سبب دوم میں روزے یا صدقہ یا نسک کا حکم ہے اور سبب سوم میں ھدی کا حکم ہے بشرطیکہ وہ میسر آجائے۔ اگر میسر نہ آئے تو پھر روزے رکھ لے۔
ان آیات میں ھدی اور نسک کے الفاظ آئے ہیں۔ ھدی جمع ہے ھَدِیَّۃ کی جس کے معنی ہیں تحفہ۔ خود قرآن میں ہے بَلْ اَنتُم بِہَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُونَ-(27:36) اس لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ ھدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔ ’’فما استیسر من الھدی‘‘ نے اس حقیقت کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔ یعنی تحائف میں سے جو کچھ بھی میسر آجائے اسے کعبہ بھیج دے تاکہ وہاں جمع ہونے والوں کے کام آئے عربوں کے ہاں بہترین تحائف ان کے جانور تھے۔ اس لئے وہ جانوروں کو بطور تحائف پیش کرتے تھے لیکن ضروری نہیں کہ تحائف صرف جانور ہی ہوں۔ لہٰذا آیاتِ بالا سے مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی عازم حج راستہ میں گھر جائے تو اپنے تحائف کعبہ بھیج دے۔ اسی طرح جو شخص حج اور عمرہ سے اکٹھا متمتع ہو اور اسے کوئی تحفہ میسر آسکے تو اسے پیش کر دے ورنہ روزے رکھ لے۔ اسی طرح نسک کے معنی بھی صرف قربانی نہیں۔ نسک چاندی کے خالص ٹکڑوں کو کہتے ہیں۔ اخلاص کی بنا پر اس سے مفہوم عام عبادات لیا جاتا ہے (تفصیل آگے چل کر آئے گی) پھر ذبیحہ کو بھی نسک کہنے لگ گئے۔
لیکن قطع نظر اس کے‘ اگر ھدی اور نسک سے مراد قربانی کے جانور ہی لئے جائیں تو بھی آیاتِ بالا سے یہ واضح ہے کہ ان کا مقام کعبہ ہی ہے۔ انہیں وہیں پہنچانا ہو گا۔ (حتی یبلغ الھدی محلہ) اور وہیں یہ ذبح ہوں گے تاکہ ان سے اجتماع حج میں شریک ہونے والے خور و نوش کا کام لیں۔ اس حقیقت کو دوسرے مقام پر اور بھی واضح کر دیا گیا ہے جہاں فرمایا کہ حالتِ احرام میں شکار جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص دانستہ کسی جان کا قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اس کی مثل ایک ایسا جانور دے جس کا فیصلہ دو صاحبِ عدل کر دیں۔ ہَدْیْاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ -(5:95) اس ہدیہ1؂ کو کعبہ تک پہنچایا جائے۔ اس سے بھی واضح ہے کہ ھدیہ کو کعبہ ہی پہنچانا ہو گا۔
آیاتِ بالا سے پھر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ قربانی کا مقام کعبہ ہے۔ کعبہ کے علاوہ اور کوئی مقام نہیں۔
***
اب ایک آیت اور دیکھئے جس سے اس حقیقت کی مزید تصدیق ہو جاتی ہے کہ قربانی کا مقام خانہ کعبہ ہی ہے۔ 6ھ میں رسول اللہﷺ عمرہ ادا کرنے کے ارادہ سے مدینہ سے عازم مکہ ہوئے لیکن قریش مکہ نے حضورﷺ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ حدیبیہ کا مقام تھا جہاں وہ مشہور صلح نامہ لکھا گیا جسے قرآن نے فتح مبین سے تعبیر کیا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم میں ہے:
(8) ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفاً اَن یَبْلُغَ مَحِلَّہُ -(48:25)
یہ (قریش مکہ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا۔ نیز قربانی کے جانوروں (ھدی) کو روک دیا کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ تک نہ پہنچ سکیں۔
ہمارے پیش نظر سوال یہ تھا کہ کیا قرآن نے قربانی کے مقام کو معین کر دیا ہے یا اسے غیر معین چھوڑ دیا ہے کہ مسلمان جہاں چاہیں (اپنے اپنے مکانوں اور گلی کوچوں میں) قربانی دے دیا کریں۔ قرآن کی تمام متعلقہ آیات آپ کے سامنے آچکی ہیں آپ انہیں ایک مرتبہ پھر دیکھ لیں اور خود فیصلہ کر لیں کہ اس باب میں قرآن کا حکم معین ہے یا اس نے اس چیز کو غیر معین چھوڑ دیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ:
(i) آیت نمبر 2 میں قربانی کے جانوروں کے متعلق تصریح موجود ہے کہ:
ثم محلھا الی البیت العتیق۔
ان کے حلال کرنے کی جگہ خانہ کعبہ ہے۔
(ii) آیت نمبر 7 میں (اگر ھدی سے مراد قربانی کے جانور کئے جائیں تو) بہ صراحت فرما دیا کہ:
حتی یبلغ الھدی محلہ۔
جب تک قربانی کے جانور اپنے ذبح ہونے کے مقام
پر نہ پہنچ جائیں۔
(iii) آیت 5:95 میں فرمایا:
ھدیا بالغ الکعبتہ۔
قربانی کے جانور کو کعبہ تک پہنچایا جائے۔
(iv) آیت نمبر 8 میں ارشاد ہے کہ قریش مکہ نے قربانی کے جانوروں کو روک دیا۔
ان یبلغ محلہ۔
کہ وہ اپنے ذبح ہونے کے مقام تک نہ پہنچنے پائیں۔
(v) باقی آیات میں قربانی کا ذکر حج کے ضمن میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ کہیں نہیں۔
ان حقائق کو سامنے رکھئے اور پھر سوچئے کہ قرآن کریم کی ایسی کھلی ہوئی صراحت کے بعد‘ اس بات کے متعلق کسی شک و شبہ کی گنجائش بھی باقی رہ سکتی ہے کہ قربانی کا مقام کونسا ہے؟ اگر قرآن صرف اتنا ہی کرتا کہ قربانی کے جانوروں کا ذکر حج کی تقریب کے ضمن میں کر دیتا تو بھی اس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہوتی کہ قربانی مکہ ہی میں ہوتی ہے لیکن اس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ بار بار اس کی بھی تصریح فرما دی کہ قربانی کا مقام کعبہ ہے۔ اگر اس کے بعد بھی اس باب میں کسی کو شبہ ہو سکتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ نہیں! قربانی ہر گلی کوچے میں ہو سکتی ہے‘ تو اس کا علاج کسی کے پاس نہیں۔
ومن یضلل اللہ فلا ھادی لہ‘۔
***
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ جو حضرات‘ قرآن کی ان تصریحات کے باوجود قربانی کو ہر گلی کوچے میں عام کرتے ہیں‘ ان کے دلائل اور قرآن کی مندرجہ صدر کھلی ہوئی حقیقت کے خلاف ان کے اعتراضات کیا ہیں۔ اس باب میں اس وقت ہمارے سامنے سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کا وہ مضمون ہے جس میں انہوں نے سالِ گذشتہ‘ قرآن کی مذکورہ صدر تصریحات کو ’’فتنہ‘‘ قرار دے کر ان کی تردید فرمائی تھی ]اور جو روزنامہ انجامؔ (کراچی) کے عید ایڈیشن (مورخہ 4 ستمبر 1950ء) میں شائع ہوا تھا[۔ اس مضمون میں انہوں نے خاص طور پر یہ احتیاط برتی ہے کہ اس میں ان آیات کا کوئی ذکر تک نہ آنے پائے جن میں قرآن کریم نے بہ صراحت قربانی کے مقام کو مکہ معظمہ کے ساتھ مختص کیا ہے اور جنہیں ہم نے اوپر نقل کر دیا ہے۔ اس خصوصی احتیاط کے بعد وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں:
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ قربانی کے متعلق قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ کیا وہ قربانی کو صرف حج اور متعلقات حج تک محدود رکھتا ہے یا دوسرے حالات میں بھی اس کا حکم دیتا ہے۔ اس باب میں دو آیتیں بالکل صاف ہیں جن کا حج سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلی آیت سورۂ انعام کے آخری رکوع میں ہے۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
اے نبی کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت خم کرنے والا ہوں۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا اور نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے اور اس میں کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس حکم سے مراد حج میں قربانی کرنا ہے۔ نسک کا لفظ جو اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے‘ قرآن مجید میں دوسری جگہ قربانی ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو البقرہ نمبر 22۔
تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو صدقے میں روزے رکھے یا صدقہ یا قربانی کرے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 7 جس میں لفظ نسک آیا ہے۔ طلوع اسلام)۔
مودودیؔ صاحب نے جس آیت کا ترجمہ لکھا ہے وہ آیت سیاق و سباق کے ساتھ اس طرح ہے۔ فرمایا:
(9) قُلْ اِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ اِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَO
کہہ دو۔ مجھے تو میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ وہی درست اور صحیح دین ہے۔ ابراہیم کا طریقہ کہ خدا ایک ہے کے لئے ہو جانا اور ابراہیم ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔
’’حَنِیْفاً‘‘ (ایک خدا کے لئے ہو جانا) کی تشریح اگلی آیت میں یوں ہے:
(10) قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَاْ اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔
کہہ دو۔ میری نماز‘ میرا نسک‘ میرا مرنا‘ میرا جینا‘ سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلموں میں (یعنی خدا کے فرمانبرداروں میں) پہلا فرمانبردار ہوں۔
اور اس ’’توحید‘‘ کی مزید تشریح اس طرح فرما دی کہ:
(11) قُلْ اَغَیْْرَ اللّہِ اَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء۔۔۔-(6:161-164)
کہئے! کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور پروردگار ڈھونڈوں حالانکہ وہی ہر شے کا پرورش کرنے والا ہے۔
مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں لفظ نُسُکی کا ترجمہ ہے ’’میری قربانی‘‘۔ اس لئے اس سے قربانی کا حکم ظاہر ہے۔ ہم نے مندرجہ بالا ترجمہ میں (جو ابوالکلام صاحب آزاد کا ترجمہ ہے) لفظ نسک کو علیٰ حالہ رہنے دیا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ اس لفظ کے لغوی معنی ’’چاندی کے خالص کئے ہوئے ٹکڑے‘‘ ہیں۔ اس اخلاص کی جہت سے ’’عبادت گذار کو ناسک کہنے لگے کیونکہ وہ اپنے نفس کو چاندی کے ٹکڑے کی طرح گناہوں کی میل سے صاف کرتا ہے۔‘‘1؂ قرآن کریم میں نسک‘ منسک‘ مناسک کے الفاظ (ان دو آیتوں کے علاوہ جن کا ترجمہ مودودی صاحب نے لکھا ہے) حسب ذیل مقامات پر آئے ہیں:
(12) سورۂ بقرہ میں دعائے ابراہیمی و اسماعیلی۔ وارنا مناسکنا۔ -(2:129)
(13) سورۂ بقرہ میں حج کے ضمن میں۔
فاذا قضیتم مناسککم۔ -(2:200)
(15-14) سورۂ حج میں۔
لکل امۃ جعلنا منسکاًھم ناسکوہ۔ (22:67) و (22:34)۔
دیکھئے کہ ان آیات میں ان الفاظ کا ترجمہ مختلف مترجمین نے کیا کیا ہے۔
آیت نمبر 12 ’’مناسکنا‘‘ کا ترجمہ مختلف تراجم میں اس طرح آیا ہے:
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادات کی طرح۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ طرح عبادت کی۔
جلالین۔ شرائع عبادتنا (یہ اردو ترجمہ نہیں لیکن مفہوم واضح ہے)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ عبادت کے سچے طور طریقے۔
آیت نمبر 13۔ ’’مناسککم‘‘۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادتیں اپنی۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادتیں۔
جلالین۔ عبادات‘ حج۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ حج کے تمام ارکان۔
آیات نمبر 14 و 15۔ ’’منسک‘‘۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ طرح عبادت کی۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادت کی طرح۔
جلالین۔ شریعت (آیت 22:34 میں اس کے ساتھ ’’قربانی کی جگہ‘‘ بھی آیا ہے)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ عبادت کا طور طریقہ۔
اس کے بعد وہ آیت لیجئے جسے مودودی صاحب نے بطور سند پیش کیا ہے۔ یعنی ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ (نمبر 10) اور جس میں انہوں نے نسکی کا ترجمہ ’’میری قربانی‘‘ کیا ہے۔ اس لفظ کا ترجمہ مذکورہ صدر مترجمین نے حسب ذیل کیا ہے۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادتیں۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادتیں۔
جلالین۔ عبادات من حج۔ (حج کی عبادات)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ میرا حج۔
یہ ہیں لفظ نسک کے معانی اس آیت میں جسے مودودی صاحب نے وجوب قربانی میں بطور نصِ قرآنی پیش کیا ہے اور جس کا ترجمہ انہوں نے ’’قربانی‘‘ کیا ہے۔ شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ اس کے معنی ’’عام عبادات‘‘ لیتے ہیں اور تفسیر جلالین اور ترجمان القرآن ابوالکلام صاحب آزاد میں اس کے معنی حج یا حج سے متعلقہ مراسم لکھے ہیں۔ (اور وہ جو کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ بولے) خود مودودی صاحب نسک کا ترجمہ ’’قربانی‘‘ لکھ کر‘ ایک ہی سطر بعد ’’مناسک‘‘ کے معنی ’’حج کے مراسم‘‘ بیان فرماتے ہیں۔ ان کا جو اقتباس اوپر درج کیا گیا ہے اسے ایک بار پھر پڑھئے۔ اس میں آپ کو یہ الفاظ دکھائی دیں گے۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے۔
’’حج کے مراسم و مناسک‘‘ لکھ کر‘ مودودی صاحب نے خود بتا دیا کہ ’’مناسک‘‘ کے معنی عام قربانی نہیں‘ حج کے طور طریقے ہیں۔ لہٰذا اگر ’’مناسک‘‘ کے معنی خود مودودی صاحب کے الفاظ میں ’’حج کے عام طور طریقے‘‘ ہیں تو آیت ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ میں نسک کے معنی عیدالاضحی کی قربانی کس طرح کئے جا سکتے ہیں؟
اب مودودی صاحب کی دوسری دلیل ملاحظہ فرمایئے جس میں ارشاد ہے کہ:
نسک کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اسے قرآن مجید میں دوسری جگہ ’’قربانی ہی‘‘ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو البقرہ نمبر 24۔
تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو فدیہ میں روزے رکھے یا صدقہ یا قربانی کرے۔
(اس آیت کے الفاظ آیت نمبر 7 میں دیکھئے)۔
پہلے تو یہ دیکھئے کہ مودودی صاحب نے نسک کے لفظ کے لئے قرآن کریم کی صرف وہی آیت نقل فرمائی ہے جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ نسک سے مفہوم قربانی لیا جا سکتا ہے۔ دیگر مقامات کا‘ (جہاں واضح ہے کہ نسک یا منسک یا مناسک کے معنی قربانی نہیں لئے جا سکتے) انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا۔
آیت نمبر 7 میں ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ نسک کے معنی ضروری نہیں کہ قربانی ہی لئے جائیں۔ لہٰذا ایک ایسے مقام کو بطور سند پیش کرنا جس میں مختلف معانی کی گنجائش ہو‘ دلیل قطعی نہیں قرار دی جا سکتی۔ لیکن آیت نمبر 7 میں نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ ہی لئے جائیں تو وہیں یہ بھی تو موجود ہے کہ یہ حج کے احکام ہیں۔ اس لئے ’’قربانی‘‘ سے مراد وہ قربانی ہے جو خانہ کعبہ میں حج کے موقع پر دی جاتی ہے۔ لہٰذا اگر نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ لئے جائیں تو اس کے صحیح معنی ہوں گے ’’وہ قربانی جو حج میں کی جائے‘‘۔ اس لئے کہ جب قرآن خود کسی مفہوم کو معین کر دے تو اس مفہوم کو اسی طرح سے لینا چاہئے جس طرح قرآن بیان کرتا ہے۔ لہٰذا یہ ظاہر ہے کہ:
(i) ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ میں نسکی کے معنی ’’میری قربانی‘‘ نہیں۔ اس لئے یہ آیت قربانی کے حکم کے لئے بطور نص قرآنی پیش نہیں کی جا سکتی۔ اور
(ii) اگر اس لفظ کا ترجمہ ’’قربانی‘‘ ہی کرنا ہو تو اس سے مراد ہو گی وہ قربانی جو حج میں کی جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن کی جس آیت نمبر 7 سے نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ لئے گئے ہیں وہاں نسک کے معنی وہ قربانی ہے جو حج میں کی جاتی ہے۔ نہ کہ ہر گلی کوچے کی قربانی۔ چنانچہ علامہ حمید الدین فراہیؒ جنہوں نے اس آیت میں نسکی کے معنی ’’میری قربانی‘‘ لئے ہیں فرماتے ہیں:
بالاتفاق تمام مفسرین کے نزدیک اس آیت میں نسک سے مراد حج اور عمرہ میں قربانی کرنا ہے۔ لغت عرب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
باقی رہی مودودی صاحب کی یہ دلیل کہ چونکہ یہ آیت (ان صلاتی و نسکی۔۔۔) مکہ میں نازل ہوئی تھی جب حج فرض نہیں ہوا تھا‘ اس لئے اس سے مراد حج کی قربانی نہیں۔ سو اس کے متعلق پہلی چیز قابل غور یہ ہے کہ قرآن کریم کی ترتیب نزولی نہیں ہے اس لئے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ کونسی آیت کب نازل ہوئی تھی۔ خود یہ حقیقت کہ قرآن کی ترتیب نزولی نہیں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ترتیب نزولی کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ کہا جا سکتا ہے کہ نزول کی ترتیب سے ہم قرآنی تعلیم کے ’’تدریجی ارتقا‘‘ کو معلوم کر سکتے ہیں۔ سو اول تو یہ کہ‘ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے‘ اگر یہ چیز ایسی اہم ہوتی تو خود اللہ تعالیٰ قرآن کی ترتیب نزولی رہنے دیتا۔ قرآنی تعلیم زمان اور مکان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ وہ ہر زمانے اور ہر حالات میں زندگی بخش ہونے کے لئے دی گئی ہے۔ اس لئے وہ ترتیب نزول اور شانِ نزول وغیرہ کے اختصاصات میں مقید نہیں رکھی جا سکتی۔ جو کچھ قرآن میں موجود ہے وہ ہر زمانے کے لئے ضابطۂ حیات ہے۔ جس قسم کے حالات ہوں گے اسی قسم کے احکام نافذ ہو جائیں گے۔ لہٰذا ترتیب نزول کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ دوسرے یہ کہ ترتیب نزول کے متعلق جو روایات ملتی ہیں وہ باہمدگر مختلف ہوتی ہیں۔ چنانچہ آپ کتب تفاسیر اٹھا کر ان میں کسی سورت کے نزول کے متعلق دیکھئے۔ آپ کو کئی مختلف روایات ملیں گی۔ کبھی پوری کی پوری سورت کے متعلق اختلافات ہوتے ہیں کہ وہ مکہ میں نازل ہوئی تھی یا مدینہ میں۔ کبھی ایک سورت کی مختلف آیات کے متعلق اختلاف ہوتا ہے۔ کہیں یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض آیات ہجرت کے بعد‘ مکہ کے قریب نازل ہوئیں تو انہیں مکی لکھ دیا گیا۔ خود سورۂ انعام (جس میں آیت ’’ان صلاتی و نسکی۔۔۔ ہے) کی بعض آیات کے متعلق اختلاف ہے کہ مکی ہیں یا مدنی۔ اس لئے اس سورت کو مکی قرار دے کر اس سے نتیجہ زیر نظر اخذ کرنا‘ محکم دلیل قرار نہیں پا سکتا۔ بہرحال یہ سورت مکی ہو یا مدنی۔ جو حضرات اس سے ’’قربانی‘‘ مراد لیتے ہیں وہ (جیسا کہ علامہ فراہیؒ نے لکھا ہے) اس امر پر متفق ہیں کہ نسک سے مراد وہ قربانی ہے جو حج اور عمرہ میں کی جاتی ہے۔
لیکن قطع نظر اور دلائل کے‘ مودودی صاحب کا یہ بیان کہ یہ سورت مکی ہے خود ہمارے دعوے کی تائید کر رہا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جیسا کہ قرآن نے بہ صراحت فرما دیا ہے قربانی کا محل مکہ معظمہ ہے۔ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ قربانی کا ذکر اس سورت میں آیا ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی اس لئے اس سے مراد حج کی قربانی نہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہجرت سے پہلے رسول اللہﷺ مکہ میں تشریف فرما تھے اس لئے حضورﷺ لامحالہ مکہ ہی میں قربانی کرتے ہوں گے۔ اور یہی ہم کہتے ہیں۔
باقی رہا یہ کہ اس زمانہ میں ابھی حج فرض نہیں ہوا تھا۔ تو اس سے مسئلہ زیرنظر پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ حج فرض ہونے سے پہلے بھی حضورﷺ‘ سنتِ ابراہیمیؑ کی اتباع میں اپنے طور پر حج کرتے تھے۔ (سارا عرب حج کیا کرتا تھا اگرچہ اس کا حقیقی مقصد ان کی نگاہوں سے فوت ہو چکا تھا اور اس کے مناسک میں مشرکانہ رسوم داخل ہو چکی تھیں) لہٰذا جب رسول اللہﷺ حج کرتے تھے تو قربانی بھی حج کی تقریب پر ہی ہوتی ہو گی۔ مشرکین‘ بتوں کے استہانوں پر جانور ذبح کرتے تھے۔ حضورﷺ انہیں اللہ کے نام پر ذبح کر کے خود کھاتے اور محتاجوں کو کھلاتے ہوں گے۔
لہٰذا اس دلیل سے بھی واضح ہے کہ قربانی مکہ ہی میں ہوتی تھی اور حج کی تقریب پر۔ (اس باب میں ابھی ایک نکتہ باقی ہے جو ’’وانحر‘‘ کے سلسلہ میں ذرا آگے چل کر بیان ہو گا۔)
***
اب وہ دوسری آیت دیکھئے جسے مودودی صاحب نے اپنے دعوے کی دلیل میں پیش فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:
دوسری آیت سورۂ کوثر میں ہے جس کا ترجمہ ہے۔
پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
یہ آیت بھی مکی ہے اور اس میں بھی کوئی اشارہ یا قرینہ ایسا نہیں کہ جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قربانی کا یہ حکم حج کے لئے خاص ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اہلِ لغت نے نحر کے معنی سینے پر ہاتھ باندھنے‘ قبلہ رخ ہونے اور اول وقت نماز پڑھنے کے بھی بیان کئے ہیں لیکن یہ سب دور کے معنی ہیں۔ عام فہم عربی میں اس لفظ کا مفہوم قربانی کرنا ہی لیا جاتا ہے (اس کے بعد مودودی صاحب نے احکام القرآن کا حوالہ دیا ہے)۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مترجمین شاہ ولی اللہؒ ‘ شاہ عبدالقادر صاحبؒ ‘ شاہ رفیع الدین صاحبؒ ‘ مولانا محمود الحسن صاحبؒ ‘ مولانا اشرف علی صاحبؒ ‘ ڈپٹی نذیر احمد صاحبؒ وغیرہم نے بالاتفاق اس لفظ کا ترجمہ قربانی ہی کیا ہے۔1؂
یہ سورۂ کوثر کی آیت ہے جس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
ان اعطینک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ھوالابترO
اس میں لفظ نحر قابل غور ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ روایات سے قرآن کا صحیح صحیح مفہوم متعین ہو جاتا ہے۔ اگر ان سے مدد نہ لی جائے تو قرآن کا صحیح مطلب سمجھ میں نہیں آسکتا۔ نحر کا لفظ قرآن میں اسی مقام پر استعمال ہوا ہے۔ اب دیکھئے کہ روایات اس کا کیا مفہوم ’’متعین کرتی ہیں۔‘‘
(1) حضرت علیؓ نے فرمایا کہ نحر سے مراد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو نماز میں اپنے سینے پر رکھنا ہے۔
(2) حضرت علیؓ سے دوسری روایت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے جبریلؑ سے پوچھا کہ یہ نحیرہ کیا ہے جس کا میرے رب نے حکم دیا ہے۔ جبریلؑ نے کہا نحیرہ نہیں۔ لیکن حکم یہ ہے کہ آپ نماز کی پہلی تکبیر‘ رکوع‘ بعد رکوع اور سجود کے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کریں۔ یہ ہماری نماز ہے اور ملائکہ کی نماز ہے جو سات آسمانوں میں رہتے ہیں۔ ہر ایک چیز کی ایک نیت ہے اور نماز کی نیت ہر تکبیر کے نزدیک رفع یدین کرنا ہے۔
(3) حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ نحر کے معنی ہیں ’’اپنی گردن قبلہ کے مقابل کر‘‘۔
(4) امام باقر ؒ کا ارشاد ہے کہ اس سے مراد نماز کے شروع کے وقت رفع یدین کرنا ہے۔
(5) حضرت عطا خراسانیؒ فرماتے ہیں کہ وانحر سے مراد یہ ہے کہ اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاؤ تو اعتدال کرو اور سینے کو ظاہر کرو یعنی اطمینان حاصل کرو۔
ان روایات کے علاوہ دیگر اقوال ملاحظہ فرمایئے:
(ا) ابن الاعرابیؒ نے کہا ہے کہ نحر کا مطلب نماز میں محراب کے سامنے سیدھا کھڑا ہونا ہے۔
(ب) ضحاکؒ کا بیان ہے کہ اس کے معنی ہیں دونوں ہاتھ دعا کے بعد چھاتی کے اوپر کے حصہ تک بلند کر۔
(ج) امام راغبؒ (مفردات) میں لکھتے ہیں کہ نحر چھاتی کے اوپر گلوبند کے مقام کو کہتے ہیں۔ اس لئے وانحر میں حکم ہے ہاتھوں کو نحر کے مقام پر رکھنے کا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے شہوت کی بیخ کنی کر کے نفس کشی کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
آپ نے نحر کے لفظ کی تحقیق ملاحظہ فرمائی۔ امام رازیؒ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ذبحِ شتر ہے۔ اس لئے اس کے معنی قربانی ہو گئے۔ فصل لربک وانحر۔ اپنے رب کی نماز پڑھ اور قربانی کر۔
اب اس آیت کے مقام نزول کے متعلق دیکھئے۔ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ محمد علی صاحب لاہوری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
اس سورت کے نزول کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض اسے مکی کہتے ہیں اور بعض مدنی اور بعض نے یہ خیال کیا ہے کہ اس کا نزول دو دفعہ ہوا ہے۔ ایک مکہ میں اور ایک مدینہ میں۔ مگر صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی!1؂
لیکن علامہ فراہیؒ فرماتے ہیں کہ یہ صلح حدیبیہ کے دن نازل ہوئی۔ ارشاد ہے:
یہ سورت صلح حدیبیہ کے دن نازل ہوئی جو فتح مکہ‘ حج‘ نماز‘ قربانی‘ غلبہ اسلام اور کثرت امت کا فتح باب ہے۔
ذرا آگے چل کر پوری کی پوری سورہ (سورۂ کوثر) کی حکمت کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
سادہ لفظوں میں گویا یوں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز پڑھنے والی اور راہِ خدا میں خرچ کرنے والی ایک عظیم الشان امت دی ہے جو بیت الحرام کا حج کرے گی۔
یعنی وانحر سے مراد ’’بیت الحرام کا حج‘‘ کرنا ہے۔
ابن جریرؒ نے اس باب میں لکھا ہے:
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ فصل لربک وانحر والی آیت حدیبیہ کے دن نازل ہوئی۔ جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ قربانی کر کے لوٹ جاؤ۔ آنحضرتﷺ اٹھے اور عیدالفطر یا عیدالاضحی (راوی کو شبہ ہے) کا خطبہ دیا۔ پھر دو رکعت نماز ادا کی اور قربانی دی اس وقت حضرت جبریلؑ نے فصل لربک کا پیام دیا۔
یعنی جب کفار مکہ نے حضورﷺ کے قافلہ کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو بھی مکہ تک جانے سے روک دیا گیا (جیسا کہ سورۂ فتح میں مذکور ہے) تو سوال یہ پیدا ہوا کہ قربانی کے جانوروں کو کیا کیا جائے۔ اس وقت جبریلؑ آئے اور کہا کہ ان کی یہیں قربانی دے کر دو رکعت نماز پڑھ لیجئے۔
***
وانحر کے معنی بھی آپ نے دیکھ لئے اور مقامِ نزول کے متعلق بھی بیانات ملاحظہ کر لئے۔ ذرا غور کیجئے کہ ان سے کسی طرح بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وانحر سے مراد ہے دنیا کے ہر گلی کوچے میں قربانی کے جانور ذبح کرنا! اگر یہ سورت (سورۂ کوثر) مکہ میں نازل ہوئی تھی تو اندازہ یہ ہے کہ یہ ہجرت کے قریب کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے کیونکہ موجودہ ترتیب کے لحاظ سے یہ جن سورتوں کے درمیان رکھی گئی ہے ان کا تعلق ہجرت کے واقعہ سے ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں پر شدائد و مصائب ہجوم کر کے آچکے تھے۔ نظر بظاہر‘ ہر طرف مایوسی دکھائی دیتی تھی۔ وقت وہ آچکا تھا کہ انہیں اپنے گھر بار کو بھی چھوڑنا تھا۔ مستقبل میں بھی کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ان یاس انگیز حالات میں انا اعطینٰک الکوثر (یقیناًہم نے تمہیں اپنے انعامات سے بڑی کثرت سے نوازا ہے) کا مژدۂ درخشندہ بڑا حیات بخش (اور مخالفین کے لئے حیرت انگیز) تھا۔ اس کے لئے ارشاد یہ ہوا کہ یہ کثرتِ نعماء نتیجہ ہوں گی اس نظام کی تشکیل و تنفیذ کا جس کا آغاز صلوٰۃ سے ہوتا ہے اور انتہا حج کے اجتماع سے۔ (فصل لربک وانحر)۔ نحر کے معنی اگر قربانی لئے جائیں تو یہ اونٹ کی قربانی کے لئے مختص ہے۔ ’’اونٹ کے ذبیحہ‘‘ میں ایک اور اہم حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا۔ مدینہ میں اس وقت یہودیوں کا غلبہ تھا۔ ہو سکتا تھا کہ کسی کو خیال پیدا ہو جائے کہ اب ’’کمزور اور ناتواں‘‘ مسلمانوں کا یہ قافلہ‘ ہجرت کے بعد‘ مدینہ کے یہودیوں سے مفاہمت (Compromise) کر کے‘ قریش مکہ کا مقابلہ کرے۔1؂ وانحر کے لفظ سے اس شبہ کو بھی مٹا دیا۔ یہودیوں کے ہاں اونٹ حرام تھا۔ مسلمانوں کو اونٹ ذبح کرنے کے لئے کہا گیا۔ یعنی یہود کے علی الرغم۔ یوں سمجھئے جس طرح آج ہندوستان کے شکستہ حال مسلمانوں کو کوئی ’’اشارۂ غیبی‘‘ یہ کہہ دے کہ ’’اٹھو اور گائے ذبح کرو‘‘۔ اور اگر یہ سورت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس وقت بھی حالات سخت نامساعد تھے۔ نظر بظاہر‘ وہ صلح شکست ہی کے مرادف تھی لیکن قرآن نے عین اس وقت ’’عطائے کوثر‘‘ کا مژدہ حوصلہ افزا سنایا اور وانحر2؂ سے یہ بتا دیا کہ اگر انہوں نے آج تمہیں مکہ تک پہنچنے سے روک دیا ہے اور تمہاری قربانیوں کو بھی ان کی قربان گاہ (کعبہ) تک نہیں پہنچنے دیا‘ تو اس کا کیا غم! تم عنقریب وہاں پہنچ کر قربانیاں کرو گے۔
ان تصریحات کے بعد آپ سوچئے کہ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں وانحر سے عید کے دن ہر گلی کوچے میں قربانی کا وجوب کس طرح سے ثابت ہوتا ہے؟
لیکن اگر آپ کو اس پر اصرار ہے کہ وانحر سے مراد ہر گلی کوچے میں قربانی ہے تو ذرا حسب ذیل امور پر بھی غور کیجئے۔ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں فصل (نماز پڑھ) امر کا صیغہ ہے جس سے مطلب یہ ہے کہ نماز فرض ہے۔ اسی طرح وانحر امر کا صیغہ ہے‘ لہٰذا نحر بھی فرض ہوئی۔ یعنی جو حیثیت نماز کی ہے وہی حیثیت قربانی کی ہو گی۔ دونوں برابر کی فرض ہوں گی کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے۔ فصل (نماز) کے فرض ہونے کے متعلق تو کسی کو کلام نہیں۔ لیکن دیکھئے کہ وانحر (قربانی) کے متعلق کیا عقیدہ ہے۔ خود مودودی صاحب کے الفاظ میں ملاحظہ فرمایئے۔ تحریر فرماتے ہیں:
قرآن و حدیث کے ان دلائل کی بنا پر فقہائے امت نے بقر عید کی قربانی کے متعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سنن اسلام میں سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں۔ مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی‘ فتح الباری میں مذاہب فقہاء کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
اور اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ بقر عید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیہ اور جمہور کے نزدیک یہ سنت موکدہ بطریق کفایت اور شافعیوں میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوشحال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالکؒ کی رائے بھی ایک روایت کی رو سے یہی ہے مگر انہوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی۔ اوزاعی اور ربیعہ کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں سے ابو یوسفؒ اور مالکیوں میں سے اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے۔ اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑ دینے کی اجازت نہیں۔
آپ نے غور فرمایا کہ عید کی قربانی کسی کے نزدیک بھی فرض نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سنت ہے اور وہ بھی ایسی کہ امام احمدؒ کے نزدیک اگر باوجود قدرت (استطاعت) کے قربانی نہ کی جائے تو یہ مکروہ ہو گا۔ آپ ذرا سوچئے کہ قرآن میں ’’فصل لربک وانحر‘‘ کا حکم آتا ہے۔ صل (نماز پڑھ) کے متعلق ہر ایک کا اتفاق ہے کہ یہ فرض عین ہے لیکن اسی حکم کے دوسرے ٹکڑے کے متعلق یہ کیفیت ہے کہ اسے کوئی بھی فرض قرار نہیں دیتا۔ صلوٰۃ کا تارک دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے لیکن استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا‘ مکروہ فعل کا مرتکب گردانا جاتا ہے اور بس! اسی سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ وانحر سے مراد عید کی قربانی لینا کس طرح قرآنی مفہوم کہلا سکتا ہے۔
پھر‘ ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ اگر وانحر سے مراد قربانی ہے تو نحر صرف اونٹ کی قربانی کے لئے مخصوص ہے۔ گائے‘ بھیڑ‘ بکری کی قربانی اس میں قطعاً شامل نہیں۔
ایک قدم اور آگے۔ قرآن نے ’’فصل لربک وانحر‘‘ فرمایا صل کے معنی ہوئے ’’نماز پڑھ‘‘ اور وانحر کے ان کے نزدیک ’’قربانی کر‘‘۔ اب ظاہر ہے کہ صل کے حکم کی ادائیگی اسی شکل میں اور انہی شرائط کے ساتھ ہو گی جو قرآن میں دوسرے مقامات پر مذکور ہیں۔ مثلاً قرآن نے حکم دے دیا کہ صلوٰۃ کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ لہٰذا جب صل کہا جائے گا تو اس کے ساتھ یہ تمام شرائط مستلزم ہوں گی۔ جس طرح صل کے لئے یہ ضروری ہے اسی طرح وانحر کے لئے بھی یہ ضروری ہے۔ صل کے لئے قرآن نے سمتِ قبلہ کا تعین فرما دیا ہے۔ اسی طرح وانحر کے لئے قرآن ہی نے کعبہ کے مقام کی تعیین کر دی ہے۔ لہٰذا جس طرح صل (نماز) کے لئے سمت قبلہ ضروری ہے اسی طرح نحر (قربانی) کے لئے مقامِ کعبہ ضروری ہے۔ نہ سمتِ قبلہ کے بغیر (ہر طرف رخ کر کے) صلوٰۃ ہو سکتی ہے نہ مقامِ کعبہ کے بغیر (ہر مقام پر) قربانی۔ صل (صلوٰۃ) کے متعلق قرآن کی تمام حدود و قیود کا التزام ضروری قرار دینا لیکن وانحر (قربانی) کے متعلق‘ قرآن کی متعین کردہ شرط کے یکسر خلاف‘ دنیا کے ہر گلی کوچے کو قربان گاہ تصور کر لینا‘ اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ -(2:85) (کتاب کے ایک حصہ پر ایمان اور دوسرے حصہ سے انکار) کے مرادف نہیں تو اور کیا ہے؟
***
آپ یقیناًحیران ہوں گے کہ جب قرآن میں قربانی کے متعلق ایسی تصریحات موجود ہیں تو پھر وہ کونسی وجہ ہے جس کی بنا پر یہ تمام حضرات اس پر مُصر ہیں کہ قربانی کی جگہ مختص نہیں۔ یہ ہر گلی کوچے میں ہو سکی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو دین کے دوسرے شعبوں کو قرآن کے خلاف لے جانے کی وجہ بنی ہے۔ یعنی روایات!! کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے عید قرباں کے دن اپنے طور پر قربانی کی۔ چونکہ ہمارے ہاں ’’دین‘‘ کی بنیاد قرآن نہیں‘ بلکہ احادیث ہیں‘ اور احادیث‘ قرآن کی ناسخ بھی ہو سکتی ہیں اور اس پر قاضی بھی‘ اس لئے جس معاملہ میں قرآن اور احادیث میں اختلاف ہو گا‘ ان لوگوں کا عمل حدیث کے مطابق ہو گا‘ قرآن کے مطابق نہیں۔ قرآن میں تصریح موجود ہے کہ قربانی حج کے موقع پر کعبہ میں کی جاتی ہے لیکن چونکہ چند ایک روایات میں آچکا ہے کہ رسول اللہﷺ عید کے دن قربانی کیا کرتے تھے اس لئے قرآن جو کچھ کہتا ہے اسے کہنے دیجئے۔ عمل حدیث پر ہو گا!
لیکن جیسا کہ روایات میں عام طور پر ہوتا ہے‘ اس باب میں بھی دونوں قسم کی روایات موجود ہیں۔ ایسی بھی جن سے مترشح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے عید کے دن قربانی کی اور ایسی بھی جن سے ظاہر ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود مکہ میں قربانی کی یا اپنے قربانی کے جانور مکہ معظمہ میں بھیجے۔ روایت پرست حضرات کی کیفیت یہ ہے کہ یہ ان احادیث کو تو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں جن میں عید قرباں کی قربانی کا ذکر ہے لیکن ان دوسری قسم کی احادیث کا کبھی ذکر تک نہیں کرتے۔ علاوہ بریں‘ حدیث کو حجتِ دین قرار دینے میں ایک بہت بڑا ’’فائدہ‘‘ یہ بھی ہے کہ احادیث کے متناقض وغیرہ میں سے جو حدیث آپ کے مطلب کی ہو اسے آپ مستند قرار دے دیجئے اور جو آپ کے خلاف جائے اسے ضعیف ٹھہرا دیجئے۔ مودودی صاحب نے اپنے لئے اس باب میں اور بھی آسانیاں پیدا کر لی ہیں کیونکہ ان کا فیصلہ یہ ہے کہ حدیث کو مستند یا ضعیف قرار دینے کا معیار اس شخص کا فیصلہ ہے جو ’’مزاج شناسِ رسول اللہﷺ‘‘ ہو۔1؂ اسی مسلک کے پیش نظر مودودی صاحب نے اپنے محولہ بالا مضمون میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’اس باب میں جو مستند روایات ہیں ان میں سے چند یہ ہیں‘‘ (اس کے بعد کچھ روایات درج فرمائی ہیں)۔ لیکن جہاں اس قسم کی احادیث ہیں وہاں اس قسم کی احادیث بھی انہی کتابوں میں موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ قربانی کے جانوروں کو مکہ بھیجا کرتے تھے۔ مثلاً
(1) بخاری‘ مسلم‘ ابوداؤد‘ ترمذی‘ مالک‘ نسائی‘ سب کے سب اس حدیث کے راوی ہیں جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: آنحضرتﷺ کا معمول تھا کہ آپ مدینہ سے ہدی کو مکہ روانہ فرماتے تھے تو آپ کے ہدی کے ہار میں بنایا کرتی تھی۔
(2) حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حدیبیہ کے سال بہت سے اونٹ بطور ھدی مکہ کو روانہ کئے۔ ان میں ایک اونٹ چاندی کی نتھنی والا بھی تھا۔
(3) حضرت نافع ؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ اپنی قربانی کے جانوروں کو قباطی‘ انماط اور حلل کی جھول پہناتے پھر کعبہ کی طرف روانہ کر دیتے۔2؂
(4) زادالمعاد میں علامہ ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ حج 9ھ میں فرض ہوا۔ اس سال غزوۂ تبوک سے واپسی پر رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو کم و بیش تین سو مسلمانوں کے ہمراہ حج کے لئے بھیجا اور اپنے قربانی کے بیس اونٹ جن کے گلوں میں خود اپنے ہاتھ سے قلاوے پہنائے تھے ان کے ساتھ کر دیئے۔ دوسرے سال (10ھ میں) حضور اکرمﷺ نے خود حج کیا اور مکہ میں سو جانوروں کی قربانی کی۔ الغرض حج کی فرضیت کے بعد دو سال آپ زندہ رہے اور دونوں سال آپ کی طرف سے قربانی مکہ میں ہوئی۔
روایت پرست حضرات کہتے رہتے ہیں کہ کسی روایت کی صحت اور سقم جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ قرآن کے خلاف نہ ہو۔ بہت اچھا! قرآن نے قربانی کے لئے کعبہ کا مقام متعین کر دیا۔ روایات دونوں قسم کی موجود ہیں۔ وہ بھی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود کعبہ میں قربانی کی اور یا اپنی قربانی کے جانور مکہ بھیجے اور وہ بھی جو قرآن کے خلاف یہ بتاتی ہیں کہ حضورﷺ نے عید کے موقع پر کہیں اور بھی قربانی کی۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ جو احادیث قرآن کے مطابق ہیں وہ صحیح ہیں لیکن یہ مولوی صاحبان مُصر ہیں کہ نہیں! جو احادیث قرآن کے خلاف ہیں وہ صحیح ہیں اور انہی کے مطابق وہ قربانی کو ہر گلی کوچہ میں واجب قرار دیتے ہیں۔ یہ ہے ان حضرات کا مذہب!
ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہئے
***
چلئے! ہم یہ بھی مانے لیتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مکہ کے علاوہ اور جگہ بھی قربانی کی ہے۔ لیکن قرآن کے تعیینِ مقام کے پیش نظر‘ ہم یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایسا اُس زمانے میں کیا ہو گا جب قرآن نے اس امر کی تعیین نہیں کی ہو گی۔ قرآن کے حکم کے بعد ایسا کبھی نہیں کیا ہو گا کیونکہ رسول اللہﷺ قرآن کی کامل اتباع فرماتے تھے۔ لہٰذا قرآن کی تعیین کے بعد رسول اللہﷺ کا وہ عمل جو قرآنی حکم سے پہلے کا ہو‘ سند نہیں قرار پا سکتا۔ مثلاً رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ لیکن کب؟ اس وقت جب ہنوز قرآن نے سمتِ قبلہ کا تعین نہیں کیا تھا۔ جب قرآن نے سمت متعین کر دی تو اس کے بعد رسول اللہﷺ قبلہ کی سمت نماز پڑھنے لگ گئے۔ اب اگر کوئی شخص‘ ان روایات کی بنا پر جن میں لکھا ہے کہ رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے‘ یہ کہے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا مسنون ہے کیونکہ۔۔۔ رسول اللہﷺ سے ایسا ثابت ہے تو کیا آپ اس ’’سنتِ‘‘ رسول اللہﷺ پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟ آپ ایسا نہیں کریں گے ۔ لیکن سوچئے کہ قربانی کے بارے میں آپ ایسا ہی کر رہے ہیں! جب قرآن نے مقامِ قربانی کا تعین کر دیا تو اس کے بعد رسول اللہﷺ کا وہ عمل جس میں آپﷺ نے (اس حکم سے پہلے) دوسرے مقامات پر قربانی کی ہو‘ سنت رسول اللہﷺ قرار نہیں پائے گا!
لیکن اگر آپ اس کے بعد بھی اسی پر مُصر ہیں کہ رسول اللہﷺ نے قرآنی تعیین کے بعد بھی‘ دوسری جگہ قربانی کی ہے‘ تو معاف فرمایئے! ہم حضورﷺ کے متعلق اس قسم کے خیال کی جرأت قطعاً نہیں کر سکتے۔ ہم اسے حضورﷺ کے خلاف بہت بڑا افترا سمجھتے ہیں اور افک عظیم۔ ایسا ہی افترا جیسے کوئی کہے کہ سمتِ قبلہ کے تعین کے بعد بھی حضورﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ کوئی روایت جو رسول اللہﷺ کے کسی عمل کو قرآنی تصریحات کے خلاف بتاتی ہے ہمارے نزدیک قطعاً وضعی ہے اور بہتان عظیم۔
***
قربانی کو عام طور پر ’’سنتِ ابراہیمیؑ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ قرآن میں صرف اتنا مذکور ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس خواب کو حقیقی سمجھا اور حضرت اسمٰعیلؑ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ جب اُنہیں لٹا دیا تو خدا نے آواز دی کہ اے ابراہیم تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا!1؂ قرآن میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی جگہ ایک مینڈھا جنت سے بھیجا گیا جس کی قربانی حضرت ابراہیمؑ نے کر دی۔ یہ بیان تورات کا ہے۔ قرآن کا نہیں۔ لہٰذا بکروں کی قربانی سنتِ ابراہیمیؑ بھی نہیں۔ اگر کسی کو سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل پیرا ہونا ہے تو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لٹائے۔ اس کے بعد اگر اسے خدا کی طرف سے آواز آجائے کہ بیٹے کو چھوڑ دو‘ توچھوڑ دے اور اگر ایسی آواز نہ آئے تو اُسے ذبح کر ڈالے! بیٹے کی جگہ بکرا ذبح کر دینا اور اسے قرار دینا سنتِ ابراہیمیؑ کا اتباع! تلاعب بالدین ہے۔
***
بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ قرآن میں ہے کہ خدا نے حضرت اسمٰعیلؑ کو ’’ذبح عظیم‘‘ کے فدیہ میں چھڑا لیا اور وہ ’’ذبح عظیم‘‘ یہی (بکروں اور مینڈھوں کی) قربانیاں ہیں جو ہر سال دی جاتی ہیں۔ یہ عقیدہ بھی خود تراشیدہ ہے۔ اول تو اس منطق پر غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے (حضرت) اسمٰعیلؑ کو چھری سے ذبح ہونے سے بچا کر ’’ذبح عظیم‘‘ (بہت بڑی قربانی) کے لئے مختص کر لیا۔ اور ہمارے ہاں اس سے مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی کے مقابلہ میں بھیڑوں بکریوں کی قربانی ’’ذبح عظیم‘‘ ہے۔ غور کیجئے کہ اس سے کیسی بلند حقیقت کو کتنی پست سطح پر لایا جاتا ہے۔ حضرت اسمٰعیلؑ باپ کے پہلوٹھے بیٹے (اور منصب سرداری کے مستحق) ہونے کی جہت سے شام کی سرسبز و شاداب وادیوں کے حکمران بننے والے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ انہیں‘ اپنے خیال کے مطابق خدا کی راہ میں ذبح کر رہے تھے۔ چھری گلے تک آپہنچی تھی۔ بس ایک لمحہ میں یہ قربانی ختم ہو جانے والی تھی۔ اللہ نے انہیں چھری سے بچا کر حکم دیا کہ مکہ کی بے برگ و گیاہ وادی میں ’’ہمارا گھر‘‘ بناؤ اور حضرت اسمٰعیلؑ کو اس گھر کی پاسبانی کے لئے وقف کر دو۔ آپ غور کیجئے۔ سرزمین شام کی شادابیوں اور شگفتگیوں کی جگہ صحرائے عرب کا مسکن اور منصب سرداری اور حکمرانی کے بجائے عبادت گاہ کی تولیت! یہ تھی وہ بڑی قربانی جس کے لئے حضرت اسمٰعیلؑ کو چھڑا لیا گیا تھا۔ وہ قربانی جسے ایک لمحہ میں ختم نہیں ہو جانا تھا بلکہ ساری عمر ساتھ رہنا تھا۔ یہ ایک ایک سانس کی قربانی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ قربانی تھی۔ مسلسل و متواتر قربانی تھی۔ عمر بھر کی قربانی تھی۔ بلکہ یوں کہئے کہ پشتوں تک کی قربانی تھی۔ حضرت اسحٰقؑ کی نسل کے حصہ میں شوکتِ سلیمانی اور دارائے داؤدی آگیا اور حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد کے حصہ میں صحرائے عرب کی عبادت گاہ کی رکھوالی۔ کہئے! یہ قربانی بڑی تھی یا ایک لمحہ میں رگِ جان کا کٹ جانا! یہ تھی وہ عظیم الشان قربانی جس کے اثرات صدیوں تک تولیتِ کعبہ کی شکل میں متوارث آگے بڑھتے رہے تآنکہ‘ شاخِ اسرائیلی کے بے نم ہو جانے کے بعد‘ یہ شاخ اسمٰعیلی‘ اس حسن و شادابی کے ساتھ گلبار و ثمر ریز ہوئی کہ اس کی تازگی اور شگفتگی میں قیامت تک فرق نہیں آئے گا۔ یہ تھا ثمرہ اس ’’ذبح عظیم‘‘ کا جس کے لئے حضرت اسمٰعیلؑ کو خدا نے وقف کر لیا تھا۔ اس حقیقت کے بعد سوچئے کہ ’’ذبح عظیم‘‘ سے مراد بھیڑوں‘ بکریوں کی قربانی لینا‘ قرآنی عظمتوں کو کن پستیوں تک لے جانا ہے۔
***
اب آخر میں دیکھئے مودودی صاحب کی وہ دلیل‘ جو اس وقت دی جاتی ہے جب کوئی دلیل نہیں سوجھتی۔ وہ دلیل جس کے متعلق قرآن کریم نے ہر نبی کے واقعات کے سلسلہ میں بیان کیا ہے۔ یعنی جب بھی اللہ کا کوئی رسول آتا اور لوگوں کو وحی خداوندی کی طرف دعوت دیتا تو سامنے سے جواب یہ ملتا کہ ہم اس علم و بصیرت کی اتباع نہیں کریں گے جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو۔ بلکہ
اِنَّا وَجَدْنَا آبَاء نَا عَلَی اُمَّۃٍ وَاِنَّا عَلَی آثَارِہِم مُّہْتَدُونَ-(43:22)
ہم نے اپنے اسلاف کو ایک مسلک پر چلتے پایا ہے۔ ہم انہی کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔
مترفین قوم یہ کہہ کر عوام کو بھڑکا دیتے اور پھر عوام ان مدعیانِ حق و صداقت کے پیچھے پڑ جاتے۔ یہی سابقہ انبیائے کرامؑ کی وحی کے ساتھ ہوتا رہا اور یہی نبی اکرمﷺ کی طرف آمدہ وحی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چنانچہ مودودی صاحب اس باب میں فرماتے ہیں:
سب سے بڑا ثبوت اس کے سنت اور مشروع ہونے کا یہ ہے کہ نبیﷺ کے عہد مبارک1؂ سے لے کر آج تک مسلمانوں کی نسل اس پر عمل کرتی چلی آئی ہے۔ دوچار یا دس پانچ آدمیوں نے نہیں بلکہ ہر پشت کے لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں نے اس طریقہ کو اخذ کیا ہے اور اپنے بعد والی پشت تک کے لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں تک اسے پہنچایا ہے۔
اس کے بعد مودودی صاحب اس حربہ پر اتر آتے ہیں جس سے عوام کے جذبات کو مشتعل کیا جاتا ہے۔
اگر تاریخ اسلام کے کسی مرحلہ پر کسی نے اسے ایجاد کر کے دین میں شامل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ عام مسلمان بالاتفاق رائے اسے قبول کرتے اور کہیں کوئی بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا۔ آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری امت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہماری پچھلی نسلیں ایسی ہی منافق تھیں تو معاملہ قربانی تک کب محدود رہتا ہے۔ پھر تو نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ بلکہ خود رسالت محمدیہﷺ اور قرآن تک سب ہی کچھ مشکوک و مشتبہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
اس کے بعد ارشاد ہے:
افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ نہ خدا کا خوف رکھتے ہیں‘ نہ خلق کی شرم‘ علم اور سمجھ بوجھ کے بغیر جو شخص جس دینی مسئلہ پر چاہتا ہے۔ بے تکلف تیشہ چلا دیتا ہے پھر اسے کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس ضرب سے صرف اسی ایک مسئلہ کی جڑ کٹتی ہے یا ساتھ ہی ساتھ دین کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے۔
یہ ہے وہ آخری دلیل محکم جو سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی طرف سے قربانی کے ثبوت میں پیش ہوئی ہے۔ اس دلیل کا جواب اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے جو خود خدا نے دیا ہے جب فرمایا کہ:
وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْْہِ آبَاء نَا اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْْطَانُ یَدْعُوہُمْ اِلَی عَذَابِ السَّعِیْرِ -(31:21)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں! ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے اسلاف کو دیکھا ہے۔ خواہ انہیں شیطان جلتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف ہی کیوں نہ بلا رہا ہو۔
یا خود مودودی صاحب کے الفاظ میں کہ:
جو چیز قرآن کے الفاظ یا اسپرٹ کے خلاف ہو گی اسے ہم یقیناًرد کر دیں گے۔ (تفہیمات‘ حصہ اول‘ ص329)۔
مودودی صاحب عوام کو بھڑکانے کی خاطر فرماتے ہیں کہ:
’’آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری امت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے؟‘‘
یعنی مودودی صاحب کے نزدیک یہ امر محال ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد کوئی ایسی چیز دین میں داخل کر دی گئی ہو جو خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہو اور وہ امت میں اس طرح رائج ہو جائے کہ پھر تمام مسلمان اسی مسلک پر چل پڑیں۔ یہ دلیل (بظاہر) بڑی وزنی معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا جواب ہم سے نہیں‘ خود مودودی صاحب کی زبان سے سنئے۔ مودودی صاحب نے آج سے کچھ عرصہ پہلے‘ رسالہ الفرقان (بریلی) کے شاہ ولی اللہ نمبر میں ’’منصب تجدید کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے پہلے یہ بتایا تھا کہ اصلی اسلام کیا تھا اور اسے رسول اللہﷺ نے کس طرح متشکل فرمایا۔ اس کے بعد انہوں نے لکھا تھا کہ اس اصلی اسلام پر کیا گذری اور کس طرح گذری۔ سنئے کہ وہ اس باب میں کیا فرماتے ہیں۔ (اقتباس طویل ہے لیکن ایسا ناگزیر تھا)۔ آپ لکھتے ہیں:
خاتم النبیین سیدنا محمدﷺ نے یہ سارا کام 23 سال کی مدت میں تکمیل کو پہنچا دیا۔ آپ کے بعد ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ دو ایسے کامل لیڈر اسلام کو میسر آئے جنہوں نے اسی جامعیت کے ساتھ آپ کے کام کو جاری رکھا۔ پھر زمام قیادت حضرت عثمانؓ کی طرف منتقل ہوئی اور ابتداً چند سال تک وہ پورا نقشہ بدستور جما رہا جو نبیﷺ نے قائم کیا تھا۔
جاہلیت کا حملہ: مگر ایک طرف حکومت اسلامی۔۔۔ کی تیز رفتار وسعت کی وجہ سے کام روز بروز زیادہ سخت ہوتا جا رہا تھا اور دوسری طرف حضرت عثمانؓ‘ جن پر اس کارعظیم کا بار رکھا گیا تھا‘ ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطا ہوئی تھیں‘ اس لئے جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔ حضرت عثمانؓ نے اپنا سر دے کر اس خطرے کا راستہ روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رُکا۔ ان کے بعد حضرت علیؓ آگے بڑھے اور انہوں نے اسلام کے سیاسی اقتدار کو جاہلیت کے تسلط سے بچانے کی انتہائی کوشش کی مگر ان کی جان کی قربانی بھی اس انقلاب معکوس کو نہ روک سکی۔ آخر کار خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دور ختم ہو گیا‘ ’’ملک۔۔۔ ‘‘ نے اس کی جگہ لے لی‘ اور اس طرح حکومت کی اساس اسلام کی بجائے پھر جاہلیت پر قائم ہو گئی۔
حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جاہلیت نے مرض سرطان کی طرح اجتماعی زندگی میں اپنے ریشے بتدریج پھیلانے شروع کر دیئے‘ کیونکہ اقتدار کی کنجی اب اسلام کی بجائے اس کے ہاتھ میں تھی اور اسلام زور حکومت سے محروم ہونے کے بعد اس کے نفوذ و اثر کو بڑھنے سے نہ روک سکتا تھا۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہ آئی تھی بلکہ ’’مسلمان‘‘ بن کر آئی تھی۔ کھلے دہریئے یا مشرکین و کفار سامنے ہوتے تو مقابلہ شاید آسان ہوتا‘ مگر وہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار‘ رسالت کا اقرار‘ صوم و صلوٰۃ پر عمل‘ قرآن و حدیث سے استشہاد تھا اور اس کے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی تھی۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے عہدہ برآ ہونا ہمیشہ جاہلیتِ صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لئے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سے لڑنے جایئے تو منافقین ہی نہیں‘ بہت سے اصلی مسلمان بھی اس کی حمایت پر کمربستہ ہو جائیں گے اور الٹا آپ کو مورد الزام بنا ڈالیں گے۔ جاہلی امارت کی مسند اور جاہلی سیاست کی رہنمائی پر ’’مسلمان‘‘ کا جلوہ افروز ہونا‘ جاہلی تعلیم کے مدرسے میں ’’مسلمان‘‘ کا معلم ہونا‘ جاہلیت کے سجادہ پر ’’مسلمان‘‘ کا مرشد بن کر بیٹھنا وہ زبردست دھوکا ہے جس کے فریب میں آنے سے کم ہی لوگ بچ سکتے ہیں۔
اس معکوس انقلاب کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہی تھا کہ اسلام کا نقاب اوڑھ کر تینوں قسم کی جاہلیتوں نے اپنی جڑیں پھیلانی شروع کر دیں اور ان کے اثرات روز بروز زیادہ پھیلتے چلے گئے۔
جاہلیت خالصہ نے حکومت اور دولت پر تسلط جما لیا۔ نام خلافت کا تھا اور اصل میں وہی پادشاہی تھی جس کو مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔ بادشاہوں کو الٰہ کہنے کی ہمت کسی میں باقی نہ تھی اس لئے ’’السلطان ظل اللہ‘‘ کا بہانہ اختیار کیا گیا اور اس بہانے سے وہی مطاع مطلق کی حیثیت بادشاہوں نے اختیار کی جو الٰہ کی ہوتی ہے۔ اس شاہی کی سرپرستی میں امراء‘ حکام‘ ولاۃ‘ اہل لشکر اور مترفین کی زندگیوں میں کم و بیش خالص جاہلیت کا نقطۂ نظر پھیل گیا اور اس نے ان کے اخلاق اور معاشرت کو پوری طرح ماؤف کر دیا۔ پھر یہ بالکل ایک طبعی امر تھا کہ اس کے ساتھ ہی جاہلیت خالصہ کا فلسفہ‘ ادب اور ہنر بھی پھیلنا شروع ہو‘ اور علوم و فنون بھی اسی طرز پر مرتب و مدون ہوں‘ کیونکہ یہ سب چیزیں دولت اور حکومت کی سرپرستی چاہتی ہیں‘ اور جہاں دولت اور حکومت جاہلیت کے قبضہ میں ہوں وہاں ان پر بھی جاہلیت کا تسلط ناگزیر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یونان اور عجم کے فلسفے اور علوم و آداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی‘ اور اس کی دراندازی سے ’’کلامیات‘‘ کی بحثیں شروع ہوئیں‘ اعتزال کا مسلک نکلا‘ زندقہ اور الحاد‘ پَر پُرزے نکالنے لگا اور ’’عقائد‘‘ کی موشگافیوں نے نئے نئے فرقے پیدا کر دیئے۔ اسی پر بس نہیں رقص‘ موسیقی اور تصویر کشی جیسے خالص جاہلی آرٹ بھی ازسرِنو ان قوموں میں بار پانے لگے جن کو اسلام نے ان فتنوں سے بچا لیا تھا۔
جاہلیت مشرکانہ نے عوام پر حملہ کیا اور توحید کے راستے سے ہٹا کر ان کو ضلالت کی بے شمار راہوں میں بھٹکا دیا۔ ایک صریح بت پرستی تو نہ ہو سکی باقی کوئی قسم شرک کی ایسی نہ رہی جس نے ’’مسلمانوں‘‘ میں رواج نہ پایا ہو۔ پرانی جاہل قوموں کے جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے وہ اپنے ساتھ بہت سے مشرکانہ تصورات لئے چلے آئے اور یہاں ان کو صرف اتنی تکلیف کرنی پڑی کہ پرانے معبودوں کی جگہ مقابر اولیاء سے کام لیں اور پرانی عبادات کی رسموں کو بدل کر نئی رسمیں ایجاد کریں۔ اس کام میں دنیا پرست علماء نے ان کی بڑی مدد کی اور وہ بہت سی مشکلات ان کے راستہ سے دور کر دیں جو شرک کو اسلام کے اندر نصب کرنے میں پیش آسکتی تھیں۔ انہوں نے بڑی دیدہ ریزی سے آیات اور احادیث کو توڑ مروڑ کر اسلام میں اولیا پرستی اور قبر پرستی کی جگہ نکالی‘ مشرکانہ اعمال کے لئے اسلام کی اصطلاحی زبان میں سے الفاظ بہم پہنچائے اور اس نئی شریعت کے لئے رسموں کی ایسی صورتیں تجویز کیں کہ شرکِ جلی کی تعریف میں نہ آسکیں۔ اس فنی امداد کے بغیر اسلام کے دائرے میں شرک بیچارہ کہاں بار پا سکتا تھا؟
جاہلیتِ راہبانہ نے علماء مشائخ‘ زھاد اور پاک باز لوگوں پر حملہ کیا اور ان میں وہ خرابیاں پھیلانی شروع کیں جن کی طرف میں اس سے پہلے اشارہ کر آیا ہوں۔ اس جاہلیت کے اثر سے اشراقی فلسفہ‘ راہبانہ اخلاقیات اور زندگی کے ہر پہلو میں مایوسانہ نقطۂ نظر مسلم سوسائٹی میں پھیلا اور اس نے نہ صرف یہ کہ ادبیات اور علوم کو متاثر کیا‘ بلکہ فی الواقع سوسائٹی کے اچھے عناصر کو مارفیا کا انجکشن دے کر سست کر دیا‘ پادشاہی کے جاہلی نظام کو مضبوط کیا‘ اسلامی علوم و فنون میں جمود اور تنگ خیالی پیدا کی اور ساری دین داری کو چند خاص مذہبی اعمال میں محدود کر دیا۔
مودودی صاحب کے بیان کے مطابق‘ رسول اللہﷺ کی وفات کے تھوڑے عرصہ بعد ’’جاہلیت‘‘ اسلام میں گھس آئی اور اس نے مرض سرطان کی طرح مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اپنے ریشے بتدریج پھیلانے شروع کر دیئے اور اس کے بعد ہو یہ گیا کہ امارت کی مسند اور سیاست کی راہنمائی پر‘ جاہلیت مسلمان کا نقاب اوڑھ کر بیٹھ گئی۔ تعلیم کی مدد سے جاہلیت مسلمان کے لباس میں معلم بن کر متمکن ہو گئی اور خانقاہوں کے سجادوں پر جاہلیت مرشد و مربی کے خرقوں سے مسلط ہو گئی۔ غرضیکہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد زندگی کے عناصر ثلاثہ‘ سیاست‘ شریعت اور تصوف‘ سب پر غیر اسلامی تصورات چھا گئے اور چھا گئے خالص اسلام کا نقاب اوڑھ کر۔
ہم مودودی صاحب سے پوچھتے یہ ہیں کہ جب سرے سے پورے کے پورے اسلام کی جگہ ایک جدید اسلام نے لے لی تھی اور غیر اسلامی معتقدات و اعمال‘ یکسر اسلامی شعائر و مناسک بن کر مسلمانوں میں مروج ہو گئے تھے۔ تو اس سیلاب جاہلیت میں اگر یہ خیال بھی بہ کر آگیا ہو کہ ہر گلی کوچے میں قربانی امرِ مشروع ہے‘ تو اس میں کونسی بات وجۂ استعجاب ہے!
اصل یہ ہے کہ مودودی صاحب کرتے یہ ہیں (اور یہ مسلک ہر شخص کا ہوتا ہے جو ایک نئی پارٹی (فرقہ) کا مرکز بن رہا ہو) کہ جب انہیں یہ (Suit) کرے کہ مسلمانوں کو گمراہ اور برباطل قرار دیا جائے تو وہ بے محابا ایسا کہتے چلے جائیں گے۔ لیکن اس استثناء کے ساتھ کہ ’’اس گمراہی و ضلالت کے باوجود‘ ہر زمانے میں کچھ لوگ ایسے رہتے ہیں جو حق پر ہوتے ہیں‘‘ تاکہ اس سے وہ اپنی پارٹی کو برسرِ حق ثابت کر سکیں لیکن جب کوئی دوسرا شخص یہ کہے کہ مسلمانوں میں فلاں بات غلط چلی آرہی ہے تو وہ جھٹ جمہور کے بہی خواہ بن بیٹھیں گے اور انہیں یہ کہہ کر بھڑکائیں گے کہ ’’دیکھو! یہ شخص تمہارے اسلاف کے متعلق کہتا ہے کہ وہ سب گمراہ تھے۔ استغفراللہ۔ توبہ توبہ‘ ایسی جرأت!‘‘ مثلاً پچھلے دنوں مودودی صاحب نے ایک اصول بیان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی منصب کے لئے امیدوار ہو اسے اس منصب سے محروم کر دینا چاہئے کیونکہ ان کے نزدیک کسی منصب کے لئے اپنے آپ کو بطور امیدوار پیش کرنا قرآن اور حدیث دونوں کے خلاف ہے۔ اس پر کسی صاحب نے اعتراض کیا کہ حضرت علیؓ نے اپنے آپ کو خلافت کے لئے خود بطور امیدوار پیش کیا تھا۔ اس کے جواب میں مودودی صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ:
آخری فیصلہ کن بات اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اگر صحابہ کرامؓ یا بزرگانِ سلف میں سے کسی کا عمل ایک طرف ہو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ارشادات دوسری طرف تو ہمارے لئے یہ کسی طرح جائز نہیں کہ خدا اور رسولﷺ کے فرمان کو چھوڑ کر کسی بزرگ کے عمل کو اپنے لئے قانونِ زندگی قرار دیں۔ جس کا جو عمل بھی فرمانِ خدا اور رسولﷺ سے مختلف ہو وہ ایک لغزش ہے نہ کہ حجت۔ ان بزرگوں کی خوبیاں اور خدمات تو اتنی زیادہ تھیں کہ ان کی لغزشیں معاف ہو جائیں گی مگر ہم سے زیادہ بدقسمت کون ہو گا اگر ہم اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ پچھلے بزرگوں کی لغزشیں بھی چن چن کر اپنی زندگی میں جمع کر لیں۔
اگر یہی چیز کہیں طلوع اسلام میں شائع ہو جاتی تو آپ دیکھتے کہ اس پر کس طرح سب و شتم کی پوچھار ہوتی اور جمہور کو کس طرح یہ کہہ کر ابھارا جاتا کہ دیکھو! اب‘ اور تو اور‘ حضرت علیؓ کی ذاتِ گرامی پر بھی حملے ہونے لگ گئے ہیں!
بہرحال‘ آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ مودودی صاحب نے اپنے اس اعتراض کا جواب‘ کہ امت میں اس قسم کا خلافِ اسلام مسلک کیسے رائج ہو سکتا تھا‘ خود ہی کس طرح دے دیا ہے۔ مودودی صاحب نے یہ تو بتا دیا کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد کس طرح پورے کا پورا اسلام ایک دوسری قسم کے اسلام سے بدلا گیا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ جاہلیت‘ جو اسلام کا نقاب اوڑھ کر اندر گھسی تھی‘ آئی کن کن راہوں سے تھی اور اس کا طریقِ کار کیا تھا؟ مودودی صاحب کے لئے یہ بتانا مشکل تھا۔ مجرد گفتگو (Abstract talk) میں انسان کے لئے بڑی گنجائش رہتی ہے لیکن متعین گفتگو (Definite talk) میں آپ کو نتھر کر سامنے آنا پڑتا ہے۔ مودودی صاحب جانتے ہیں کہ ’’جاہلی اسلام‘‘ نے یہ سب کچھ روایات کی آڑ میں کیا۔ طلوع اسلام اس کو وہ سازش قرار دیتا ہے جس کا ذکر اس کے صفحات پربار بار ہوتا چلا آرہا ہے اور اس طرح مسلمانوں کے دامن کو روایات کی جھاڑیوں سے چھڑانا چاہتا ہے۔ مودودی صاحب بھی روایات کو ویسا ہی غیر یقینی مانتے ہیں جیسا طلوع اسلام۔ روایات کے متعلق ان کے یہ خیالات اس سے قبل انہی صفحات پر پیش کئے جا چکے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں۔
(1) صداقت کے ساتھ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ پہلی صدی کے
آخر سے حدیث کے ذخیرے میں ایک حصہ ایسی روایات کا بھی داخل ہونے لگا تھا جو موضوع تھیں اور یہ کہ بعد کی نسلوں کو جو احادیث پہنچیں ان میں صحیح اور غلط اور مشکوک سب ملی جلی تھیں۔
(2) یہ بات ناقابلِ انکار ہے کہ علم کا جیسا مستند اور معتبر ذریعہ قرآن مجید ہے ویسا مستند اور معتبر ذریعہ حدیث نہیں ہے۔
(3) محدثین کرام نے اسماء الرجال کا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا جو بلاشبہ نہایت بیش قیمت ہے۔ مگر ان میں کونسی چیز ہے جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو۔۔۔ نفس ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا تھا اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ اشخاص کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کرنے میں ان کے ذاتی رجحانات کا بھی کسی حد تک دخل ہو جائے۔ یہ امکان محض عقلی نہیں بلکہ اس امر کا ثبوت موجود ہے۔
(4) وہ بھی تو آخر انسان تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں۔ کیا ضروری ہے کہ جس کو انہوں نے ثقہ قرار دیا ہو وہ بالیقین ثقہ اور تمام روایتوں میں ثقہ ہو اور جس کو انہوں نے غیر ثقہ ٹھہرایا ہو وہ بالیقین غیر ثقہ ہو۔
(5) یہ مواد اس حد تک قابل اعتماد ضرور ہے کہ سنت نبویﷺ اور آثار صحابہؓ کی تحقیق میں اس سے مدد لی جائے اور اس کا مناسب لحاظ کیا جائے مگر اس قابل نہیں ہے کہ بالکل اسی پر اعتماد کر لیا جائے۔
(6) حقیقت یہ ہے کہ روایات کے لحاظ سے نقد حدیث کے جس قدر ذرائع ہمارے پاس ہیں وہ مفید علم و یقین نہیں ہیں بلکہ ظن غالب ہی تک ہمیں پہنچاتے ہیں۔1؂
لیکن اس کے بعد‘ طلوعِ اسلام تو کھلے کھلے کہہ دے گا کہ حق (قرآن) کی موجودگی میں ظن و تخمین (روایات) دین میں حجت نہیں قرار دی جا سکتیں۔ لیکن مودودی صاحب ایسا نہیں کہیں گے۔ اس لئے کہ ایسا کہنے سے وہ بھی ’’منکرِ حدیث‘‘ قرار پا جائیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ منکر حدیث کبھی اسلامی جماعت کا امیر نہیں رہ سکتا نہ ہی عوام میں مقبول رہ سکتا ہے۔ وہ روایات کو غیر یقینی قرار دے کر ماڈرن طبقہ کے نزدیک ماڈرن بن جائیں گے اور اپنی تحریروں میں ’’کتاب و سنت‘‘۔ ’’کتاب و سنت‘‘ کے الفاظ دہرا دہرا کر‘ عوام میں حامی سنت رسول اللہﷺ قرار پائیں گے۔
اس کے علاوہ‘ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے‘ احادیث کو دین قرار دینے میں گنجائش بڑی نکل آتی ہے۔ حدیثوں کے مجموعہ میں ہر قسم کی روایات مل جاتی ہیں۔ جس حدیث کو آپ اپنے مطلب کے مطابق سمجھیں اسے ’’مستند‘‘ کہہ دیں۔ جو اس کے خلاف ہو‘ اسے ضعیف قرار دے دیں؟ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ ماہ قبل یہ بحث چلی تھی کہ اسلام میں زمین کی انفرادی ملکیت جائز ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں بعض حضرات نے ایسی احادیث پیش کیں جن سے مترشح ہوتا تھا کہ زمین پر انفرادی ملکیت جائز نہیں اور زمین بٹائی پر نہیں دی جا سکتی۔ مودودی صاحب زمین پر زمینداروں کی ملکیت رکھنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہہ دیا کہ جو احادیث بٹائی کو ناجائز قرار دیتی ہیں سب غیر مستند ہیں اور جو احادیث میں بٹائی کے حق میں پیش کر رہا ہوں بالکل ثقہ اور صحیح ہیں۔
***
گذشتہ اوراق میں جو کچھ آپ کی نظروں سے گذر چکا ہے اسے بغور دیکھئے۔ یہ حقیقت آپ کے سامنے آجائے گی کہ:
(i) قرآن کریم نے قربانی کا ذکر حج کے سلسلہ میں کیا ہے۔
(ii) ایک جگہ نہیں‘ متعدد مقامات پر اس کی تخصیص اور تعیین کر
دی ہے کہ قربانیوں کا مقام خانہ کعبہ ہے۔
(iii) قربانی کے متعلق واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اس سے
مقصود سامانِ خور و نوش کا مہیا کرنا ہے۔
(iv) قرآن میں کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں جس سے ثابت
ہوتا ہو کہ عید کے دن‘ اپنی اپنی جگہ‘ ہر گلی‘ کوچے میں
قربانیاں دینے کا حکم ہے۔
اس سے یہ واضح ہے کہ قرآن کی رُو سے
(ا) قربانی حج کی تقریب پر کرنی چاہئے اور وہ بھی صرف اسی
قدر جس سے خور و نوش کا سامان ہو جائے۔ لہٰذا
(ب) نہ تو حج میں ایسی قربانیوں کی اجازت ہے جنہیں زمین
میں دبا دیا جائے اور نہ ہی حج سے باہر قربانی کا کوئی
سوال پیدا ہوتا ہے۔
یہ ہے قرآن کی کھلی کھلی اور واضح تعلیم۔ باقی رہیں احادیث۔ سو
(i) ان میں دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں۔ وہ بھی جن سے مترشح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے عید کے دن قربانی کی اور وہ بھی جن سے ظاہر ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود مکہ معظمہ میں بتقریب حج قربانی کی یا قربانی کے جانوروں کو مکہ معظمہ بھیجا۔
(ii) لہٰذا قرآن کی تخصیص و تعیینِ مقام و تقریب کے بعد‘ اول قسم کی احادیث کے متعلق یہی سمجھنا چاہئے کہ وہ
(ا) یا تو اس زمانے سے متعلق ہیں جب قرآن میں ہنوز حج کی قربانی کے احکام نہیں آئے تھے۔ اس لئے جب وہ احکام آگئے تو رسول اللہﷺ کا یہ عمل‘ سند نہ رہا۔ اور
(ب) اگر شق (ا)ناقابلِ تسلیم ہو تو پھر لامحالہ اسی نتیجہ پر پہنچا جائے گا کہ یہ روایات وضعی ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ کا کوئی عمل قرآن کے خلاف ہو نہیں سکتا۔
لیکن اگر اس کے باوجود آپ کو اس پر اصرار ہے کہ حج میں ہر حاجی کو ایک‘ ایک‘ دو دو‘ چار چار‘ دس دس‘ سو سو جانور ذبح کرنے کی اجازت ہے اور ہر جانور کے ذبح کرنے کا ثواب ملتا ہے اور نیز یہ کہ دنیا کے ہر گلی کوچے میں عید کے دن جانور ذبح کرنا امر مشروع ہے۔ تو ہم اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا کام راستہ دکھا دینا ہے۔ راستے پر لگا دینا نہیں۔
مشکل یہ ہے کہ جب انسان کے ذہن میں کوئی بات اندھی تقلید کی بنا پر بطور عقیدہ جم جائے تو اس میں خالی الذہن ہو کر سوچنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔ اگر ان حضرات میں خالی الذہن ہو کر سوچنے کی صلاحیت ہوتی تو ہم ان سے کہتے کہ آپ ذرا تصور میں لایئے کہ کسی جگہ قریب ایک لاکھ انسان جمع ہوں اور ان میں سے ہر ایک دو‘ دو۔ چار چار‘ بھیڑوں بکریوں کو ذبح کر کے زمین پر تڑپتا چھوڑ دے اور اس کے بعد ان تمام تین چار لاکھ لاشوں کو گڑھے کھود کھود کر دبا دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا میں ہر مقام پر کروڑوں کی تعداد میں اسی طرح جانور ذبح کئے جائیں اور دن بھر ان جانوروں کا گوشت اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر گھومتا پھرے اور اس کے بعد یہ قوم اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے ایک بہت بڑا کارنمایاں سرانجام دے دیا جس کا انہیں خدا کے ہاں بہت بڑا اجر ملے گا اور یہ جانور انہیں جہنم سے پار لگانے کا موجب بنیں گے۔ یہ منظر تصور میں لایئے اور پھر سوچئے کہ ان چار روایتوں نے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے‘ آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا اور کیا سے کیا بنا دیا ہے۔ روایات نے کیا یہ ہے کہ اسلام جیسے زندگی بخش نظامِ حیات کو رسومات کا مجموعہ بنا دیا ہے (اور یہی ان لوگوں کا مقصود تھا جنہوں نے مسلمانوں کو قرآن سے ہٹا کر روایات میں الجھا دیا۔ رسومات سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کو نتائج کے اعتبار سے نہیں پرکھتا بلکہ انہی کو بجائے خویش مقصود قرار دے لیتا ہے۔ ان کے برعکس دین (نظامِ زندگی) میں ہر عمل ایک مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے اس لئے اسے ہمیشہ نتائج کے لحاظ سے پرکھا جاتا ہے چونکہ رسومات‘ غور و فکر کے معیار پر کبھی پوری نہیں اترتیں اس لئے ان کے ساتھ ہی یہ عقیدہ پیدا کر دیا جاتا ہے کہ مذہب میں عقل کا کوئی کام نہیں۔ دین کو رسومات میں بدلنے کے لئے شروع میں ضرور کاوش کرنی پڑتی ہے لیکن جب ایک دو نسلوں تک یہ سلسلہ چل جائے تو اس کے بعد سابقہ نسل کا عمل (اسلاف کا مسلک) آنے والی نسل کے لئے سند قرار پا جاتا ہے اور اس طرح یہ گاڑی خود اپنے زور (Momentum) سے خود بخود آگے بڑھتی جاتی ہے اور جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے ’’اسلاف کے مسلک‘‘ کی سند پختہ سے پختہ تر ہوتی جاتی ہے کیونکہ اس طرح نسلاً بعد نسلٍ اسلاف کی تعداد میں بھی تو اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے حتی زرتم المقابر۔ قوم زندگی کی تمام صلاحیتوں سے محروم ہو جاتی ہے۔ ہم اسی (Momentum) کے زور میں بہے چلے جا رہے ہیں‘ ورنہ اگر کسی وقت بھی‘ تھوڑی دیر کے لئے کھڑے ہو کرسوچ لیا جائے تو بات کچھ ایسی مشکل نہیں جو سمجھ میں نہ آسکے۔ رسول اللہﷺ کا عہد ہمایوں نہایت مختصر سا عرصہ تھا۔ اس وقت یہی دین تھا اور یہی اس کے احکام‘ جن کے ہم آج مدعی ہیں۔ اس نے جو نتائج پیدا کر دیئے وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔ اس کے بعد تیرہ سو برس سے مسلمانوں میں یہ تمام ’’اعمال‘‘ (نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ کلمہ وغیرہ) مسلسل چلے آرہے ہیں لیکن یہ واقعہ ہے کہ اس عہد کے بعد ان اعمال و معتقدات نے کبھی وہ نتائج پیدا نہیں کئے جو اس عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس کے بعد ان ’’اعمال‘‘ کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پھل دینا ہی بند کر دیا؟ اس باب میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ :
(1) اس وقت خود رسول اللہﷺ موجود تھے اور ان کی وجہ
سے ان اعمال نے ایسے ثمرات مرتب کر دیئے۔
(2) وہ دور صحابہؓ کا تھا۔ اس کے بعد ویسے مسلمان کہاں
سے آئیں۔
ذرا سوچئے کہ یہ دلائل کس قدر خود فریبی کا موجب ہیں۔ اگر ان اعمال کے نتیجہ خیز ہونے کے لئے خود رسول کی موجودگی ضروری تھی تو پھر سلسلۂ نبوت ختم کیوں کر دیا گیا؟ میر زائی‘ نبوتِ میرزا کے جواز میں یہی دلیل پیش کرتے ہیں لیکن قرآن اس دلیل کی صاف تردید کرتا ہے۔ وہ برملا کہتا ہے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُولٌ۔ محمدﷺ صرف خدا کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ۔ اس سے پہلے بہت سے پیغامبر ہو گذرے ہیں۔ اَفَاِن مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَی اَعْقَابِکُمْ -(3:144) اگر یہ وفات پا جائے یا قتل کر دیا جائے تو کیا تم اس کے بعد اُلٹے پاؤں لوٹ جاؤ گے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کے پیش کردہ نظام حیات کے نتیجہ خیز اور ثمربار ہونے کے لئے رسول کی موجودگی ضروری نہیں۔ نبوت کو ختم کر کے‘ قرآن کو قیامت تک کے لئے محفوظ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب پیغام‘ نبی کے بغیر‘ وہی نتائج پیدا کرے گا جو اس نے نبی کی موجودگی میں پیدا کئے تھے۔ باقی رہی دوسری دلیل۔ سو وہ پہلی دلیل سے بھی زیادہ رکیک ہے۔ صحابہؓ کو صحابہؓ ‘ نظام قرآن پر عمل پیرا ہونے نے بنا دیا تھا۔ اس لئے نظام قرآنی جو نتائج اس وقت پیدا کر سکتا تھا وہی نتائج ہر زمانہ میں مرتب کر سکتا ہے۔ اس نظام کی تو خصوصیت ہی یہ ہے کہ یہ مکان اور زمان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ ہر زمانہ اور ہر مقام میں وہی زندگی بخش نتائج پیدا کر دے جو اس نے ایک دفعہ پیدا کئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دلائل‘ روایت پرستوں نے فریب دہی کے لئے وضع کئے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ اب رسول اللہﷺ کے عہد مبارک کی سی شوکت و عظمت کیوں حاصل نہیں ہوتی تو وہ پوچھنے والوں کو یہ کہہ کر جھوٹا اطمینان دلا دیتے کہ تم اپنا مقابلہ اُس دور سے کیسے کر سکتے ہو؟ کیا تم اپنے آپ کو صحابہؓ جیسا سمجھتے ہو؟ حالانکہ ہوا یہ تھا کہ صحابہؓ کے زمانہ میں ہر عمل‘ اس کے نتائج سے پہچانا جاتا تھا اور اب روایت پرستی نے دین کو رسومات میں تبدیل کر کے یہ عقیدہ پیدا کر دیا تھا کہ مذہب کے یہ ارکان‘ مقصود بالذات ہیں۔ تم جب ان رسومات کو ادا کر دیتے ہو تو یہ اللہ کے ہاں مقبول ہو جاتے ہیں اور ان کا ’’ثواب‘‘ تمہارے نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے جو قیامت کے دن میزان میں تلے گا۔ اس سے ہر شخص مطمئن ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اب بھی یہ حالت ہے کہ جو شخص حج کر کے آتا ہے اُسے اطمینان ہوتا ہے کہ بحمداللہ میں ایک اہم فریضہ سے سبکدوش ہو گیا اور جو شخص قربانی دے دیتا ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے اپنی نجات کا سامان مہیا کر لیا۔ قربانی کے مقبول ہونے کے لئے بس اتنی شرط ہے کہ جانور کان کٹا اور دم بریدہ نہ ہو۔ اگر اس کے کان اور دم ثابت ہیں اور وہ کانا اور لنگڑا نہیں ہے تو بس قربانی کا فریضہ مع جملہ شرائط کے ادا ہو گیا۔ دین کے متعلق یہ تصور پیدا کر دیجئے اور اس کے بعد صحابہؓ تو ایک طرف‘ فرشتوں کو بھی لے آیئے۔ دین کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا! دنیا کے باقی مذاہب کے ساتھ یہی ہوا تھا اور اسی تصور کو مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔ لیکن عجم کی اُس سازش نے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ (اور جسے مودودی صاحب نے ’’جاہلی اسلام‘‘ سے تعبیر کیا ہے) اسلام کو بھی دیگر مذاہب کی صف میں لاکھڑا کیا اور اس کے زندہ نظامِ حیات کو‘ جو اُمتِ وسطیٰ کے لئے امامتِ اقوام (Leadership of Nations) کا ضامن تھا‘ مجموعۂ رسومات بنا دیا اور یہ سب کچھ کیا گیا روایات کے زور پر۔ رسول اللہﷺ نے جس طرح اپنی صداقت کی ایک دلیل محکم پیش کی تھی اور وہ یہ کہ: فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُراً مِّن قَبْلِہِ اَفَلاَ تَعْقِلُونَ-(10:16) ’’میں نے اس سے قبل تمہارے اندر اپنی عمر گذاری ہے۔ کیا تم اس سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ میں سچا ہوں یا جھوٹا۔‘‘ اسی طرح حضورﷺ نے اپنے دین کی صداقت کے لئے بھی ایک ہی دلیل پیش کی تھی اور وہ یہ کہ:
قُلْ یَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَکُونُ لَہُ عَاقِبَۃُ الدِّارِ اِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ-(6:135)
ان سے کہو کہ اے میری قوم! (اس بات کا فیصلہ کہ تم جس نہج پر زندگی بسر کر رہے ہو وہ کامیابی کی راہ ہے یا جس مسلک کی طرف میں دعوت دیتا ہوں وہ خوشگواریوں کا راستہ ہے‘ بالکل آسان ہے۔ اس میں کسی بحث و جدل کی ضرورت ہی نہیں) تم اپنے نظامِ زندگی کے مطابق کام کئے جاؤ اور میں اپنے پروگرام کے مطابق کام کئے جاتا ہوں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے لئے ہے؟ نتائج خود بخود بتا دیں گے کہ خدا کے نظام کو چھوڑ کر دوسری راہوں پر چلنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
غور فرمایا آپ نے کہ دین کی صداقت کا معیار کیا تھا؟ یہ معیار تھا اس کے نظامِ حیات کے نتائج جو کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کر دینے کے لئے کافی تھے۔ وہ نتائج جو جلدی سامنے آجانے والے تھے۔ صرف قیامت کے دن نہیں بلکہ یہیں۔ اسی دنیا میں۔ تھوڑے سے وقت کے بعد۔ یہ تھا دین کا وہ استنتاجی معیار (Pragmatic test) جو قرآن نے پیش کیا تھا۔ ہم پوچھتے یہ ہیں کہ کیا آج دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان کسی قوم کے مقابلہ میں بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ تم اپنے طریق کے مطابق کام کئے جاؤ۔ ہم نمازیں پڑھتے ہیں‘ روزے رکھتے ہیں‘ حج کرتے ہیں۔ قربانیاں دیتے ہیں۔ اس کے بعد نتائج خود بخود بتا دیں گے کہ کامیابی کس کے ہاتھ میں رہتی ہے؟ ہماری ہزار برس کی نمازوں اور روزوں نے کیا نتائج پیدا کر دیئے ہیں جو اب پیدا ہو جائیں گے۔ یہ سب اس لئے کہ ہم نے روایات کی رو سے اعمال کو رسومات میں بدل دیا ہے اور اب جب ان رسومات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو روایات ہمیں یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی ہیں کہ یہ اعمال رائیگاں نہیں جا رہے۔ ان کا نتیجہ قیامت میں نکلے گا۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی یہی صوم و صلوٰۃ اور حج اور زکوٰۃ دین کے ارکان تھے لیکن رسول اللہﷺ کا چیلنج یہ تھا کہ ان اعمال کے نتائج ابھی سامنے آئے جاتے ہیں اور وہ نتائج سامنے آگئے لیکن جب ہماری رسومات کوئی نتائج پیدا نہیں کرتیں تو ہم یہ کہہ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ نہیں! ان کے نتائج اگلی دنیا میں جا کر مرتب ہوں گے! کتنا بڑآ ہے یہ فریب جس میں امت مبتلا چلی آرہی ہے۔ اس فریب کی رو سے‘ اعمال کے نتائج اس دنیا میں نہیں‘ صرف اگلی دنیا میں جا کر مرتب ہوں گے۔ ان نتائج سے مفہوم یہ ہے کہ ’’نجات‘‘ کس طرح سے ہو گی؟ اس نجات کے لئے روایات نے بہت سی آسان راہیں بتا دیں۔ اس کے لئے کسی جدوجہد‘ کسی سعی و عمل‘ کسی تگ و تاز‘ کسی کدو کاوش کی ضرورت نہیں۔ مطلب گناہوں کی معافی سے ہے تاکہ جنت مل جائے۔ سو اس کے لئے بڑے سے بڑے سہل نسخے کتب روایات میں موجود ہیں۔ موطا امام مالکؒ میں ہے کہ:
من قال سبحان اللہ و بحمدہ فی یوم ماۃ مرۃ حطت منہ خطایاہ وان کانت مثل زبدۃ البحر۔
جس نے دن میں سو مرتبہ ’’سبحان اللہ و بحمدہ‘‘ کا ورد کر لیا اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے خواہ وہ سمندر کے جھاگ جتنے بھی کیوں نہ ہوں۔
اس سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ روایات نے تو جنت کو یہاں تک سستا کر دیا ہے کہ: من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ۔1؂ جس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا جنت میں داخل ہو گیا۔ اس کے برعکس قرآن یہ کہتا ہے کہ:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّہُ الَّذِیْنَ جَاہَدُواْ مِنکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِیْنَ-(3:142)
کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم لوگوں میں سے انہیں پرکھا ہی نہیں جو جہاد کرنے والے ہیں اور مشکلات میں ثابت قدم رہنے والے۔
فرمایئے! کہ روایات کی جنت کو چھوڑ کر‘ قرآن کی جنت کی طرف کون آئے گا! قرآن نے حج کے متعلق کہا تھا کہ یہ دنیا میں قیاما للناس کا موجب ہے۔ یعنی اس سے نوع انسانی میں توازن قائم ہو جائے گا اور انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گی۔ اس کے معنی صاف ہیں کہ حج کا اجتماع اس مقصد کے لئے ہے کہ یہ امت‘ جس کا منصب شھداء علی الناس (تمام نوع انسانی کے اعمال کی نگرانی) ہے‘ ایک مرکزی مقام پر جمع ہو کر سوچے کہ دنیا میں قوانینِ خداوندی کا نفاذ کس طرح سے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قیامِ انسانیت‘ قوانینِ خداوندی کے بغیر ناممکن ہے۔ اسے سوچے اور اس کے بعد وہ تدابیر اختیار کرے جس سے دنیا میں نظامِ خداوندی عملاً نافذ ہو سکے۔ یہ تھا قرآنی حج۔ اسی اجتماع کے خور و نوش کے لئے قربانی کے جانوروں کی ضرورت تھی لیکن روایات نے یہ کہہ دیا کہ اگر فلاں فلاں رسومات ادا کر دی جائیں تو حج ہو جاتا ہے اور فلاں فلاں انداز کا جانور ذبح کر دیا جائے تو قربانی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہی حج جسے وجۂ قیامِ انسانیت بننا تھا‘ یکسر یاترا بن کر رہ گیا۔ یہ ہے جو کچھ روایات نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ اگر ہم قرآن ہی کو دین سمجھتے تو جب تک ہمارے اعمال وہ نتائج مرتب نہ کرتے جنہیں قرآن نے ان کا فطری ثمر قرار دیا ہے‘ ہم کبھی اطمینان سے نہ بیٹھتے۔ لیکن جب ہم نے روایات کو دین بنا لیا تو پھر نتائج کا سوال ہی باقی نہ رہا۔ پھر محض رسومات کی پابندی رہ گئی۔ اب آپ قربانی کے ہزار فلسفے تراشتے رہئے‘ اس سے کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ ان اعمال سے اسی وقت نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جب آپ قرآن سے پوچھیں کہ انہیں کن نتائج کے لئے متعین کیا گیا تھا۔
***
یہ ہیں قرآن کی رُو سے قربانی کے احکام۔ یعنی
(i) قربانی اجتماعِ حج کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کا مقصد اس اجتماع میں شریک ہونے والوں کے لئے خوراک بہم پہنچانا ہے۔ لہٰذا اس ضرورت سے زیادہ جس قدر جانور ذبح کئے جاتے ہیں وہ اہلاکِ نسل ہے۔ جسے قرآن نے فساد سے تعبیر کیا ہے۔ (ویھلک الحرث والنسل۔ 2:205)۔
(ii) حج کے علاوہ قربانی اور کہیں نہیں‘ لہٰذا یہ جو دنیا کے ہر قریہ اور ہر بستی کے ہر گلی کوچے میں جانور ذبح کئے جاتے ہیں قرآن کی رُو سے اس کی شرعی حیثیت کچھ نہیں۔
ذالک الدین القیم ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون۔
جن حضرات کو اللہ نے نور بصیرت عطا کیا ہے اور وہ قرآن کو ضابطۂ ہدایت مانتے ہیں‘ ہمارا خیال ہے کہ انہیں حقیقت تک پہنچنے میں کوئی دقت نہیں محسوس ہو گی۔ لیکن جو لوگ ابھی تک اُس سازش کے شکار چلے آتے ہیں‘ اور اس دامِ فریب سے نکلنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں‘ ان کے لئے اس قدر صراحت اور وضاحت بھی کچھ نفع رساں نہیں ہو سکتی۔ انہیں ان کا مولوی ایک ہی خطبہ میں بتا دے گا کہ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے جو تمہیں ’’اتباعِ رسول اللہﷺ‘‘ سے باز رکھنا چاہتا ہے۔ وہ اس عجمی سازش کو ’’اتباعِ رسول اللہﷺ‘‘ کے نقاب میں پیش کرے گا اور پھر حجاز کے میدان میں لاکھوں بھیڑیں بکریاں ذبح کر کے چھوڑی جائیں گی اور پھر مسلمانوں کی تمام بستیوں میں‘ ہر گلی اور کوچہ میں جانور ذبح کر کے‘ ان کے ایک ایک بال کے عوض دس دس نیکیاں حاصل کی جائیں گی اور اس طرح ’’پل صراط‘‘ سے ’’صحیح و سالم‘‘ گذرنے کا ذریعہ فراہم کیا جائے گا۔ اس جاہلیت کی پیدا کردہ سازش کا مقابلہ آسان نہیں۔ اس لئے کہ:
سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہیں آتی۔ بلکہ ’’مسلمان‘‘ بن کر آتی ہے۔ کھلے دہریئے‘ مشرکین یا کفار سامنے ہوں تو مقابلہ آسان ہوتا ہے۔ مگر یہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار‘ رسالت کا اقرار‘ صوم و صلوٰۃ پر عمل‘ قرآن و حدیث سے استشہاد ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے عہدہ برا ہونا ہمیشہ جاہلیت صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مسلمان مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لئے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سے لڑنے جایئے تو منافقین ہی نہیں بہت سے اصلی مسلمان بھی اس کی حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں گے اور الٹا آپ کو موردِ الزام بنا ڈالیں گے۔
(مودودی صاحب)۔
طلوع اسلام کا مقصد اسی ’’مرکب جاہلیت‘‘ سے جنگ کرنا ہے۔ وہ مقابلہ کی سختی سے آگاہ اور ان ساحرین کی شعبدہ بازیوں کے اثرات سے اچھی طرح واقف ہے۔ لیکن‘ بایں ہمہ:
اسے کیا غم کہ اس کی آستیں میں ہے یدِبیضا؟
***

تعارف: غلام احمد پرویز
بٹالہ/ لاہور
(بشکریہ تحریک پاکستان گولڈ میڈل 1989ء
شعبہ تحریک پاکستان‘ محکمہ اطلاعات و ثقافت‘ حکومت پنجاب)
علامہ غلام احمد پرویز مرحوم کی تاریخ پیدائش 9/جولائی 1903ء ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مرکزی حکومت ہند کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی وہ مرکزی حکومت پاکستان میں منتقل ہو گئے اور 1955ء میں اسسٹنٹ سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
شیدائیء اقبالؒ ہونے کے ناطے‘ آپ 1930ء سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے اس تصور کو آگے بڑھاتے رہے جسے حضرت علامہ اقبالؒ نے الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبہ میں پیش کیا تھا۔
1937ء کے موسم گرما میں‘ علامہ اقبالؒ کے ایماء پر حضرت قائداعظمؒ نے اپنے قیامِ شملہ کے دوران علامہ پرویز کو بلا کر فرمایا کہ یہ مولوی صاحبان تحریک پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‘ اس کی مدافعت کے محاذ کو میں تمھارے سپرد کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ حضرت قائداعظمؒ کی ہدایت پر وہ تمام ضروری اقدامات کئے گئے جن کے نتیجہ کے طور پر ماہنامہ ’’طلوع اسلام‘‘ کے دور جدید کا اجراء‘ مئی 1938ء کے شمارے کے ساتھ عمل میں آیا۔ اس ماہنامہ میں پرویز صاحب نے قرآن کریم کے عطا فرمودہ ’’دو قومی نظریہ‘‘ اسلامی مملکت کی ضرورت اور اس کے بنیادی تقاضوں پر گرانقدر مقالات لکھے۔ اس دوران کانگرسی اور نیشنلسٹ علماء کی طرف سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے خلاف جو کچھ لکھا جاتا رہا‘ اس کا آپ نے موثر دفاع کیا۔
علامہ موصوف اس وقت سرکاری ملازمت میں تھے‘ اس لئے مسلم لیگ کے سٹیج سے بات کرنا تو ان کے لئے دشوار تھا تاہم دہلی اور اس کے گردونواح کے ایسے تمام شہروں میں جہاں شام کو جا کر اگلے روز علی الصبح واپس آیا جا سکے‘ مسلم لیگ کے شبانہ جلسوں کے فوراً بعد اسی سٹیج سے بزمِ اقبال کی محفل آراستہ کی جاتی جس میں پرویز صاحب قرآن کریم اور فکر اقبالؒ کی روشنی میں تحریک پاکستان اور مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے تصور کو واضح طور پر قوم کے سامنے پیش کرتے۔
یہ عملی جدوجہد قیام پاکستان تک جاری رہی۔ حتیٰ کہ جب 1946ء میں سرخ پوشوں اور کانگرس کی ملی بھگت سے مسلم اکثریت کے صوبہ سرحد میں‘ پاکستان میں شمولیت/عدم شمولیت کے سوال پر ریفرنڈم کرانا طے پایا گیا تو پرویز صاحب صوبہ سرحد میں تشریف لے گئے اور اس وقت کے سرحد مسلم لیگ کے صوبائی صدر خان بخت جمال خان اور ان کے رفقاء کی معاونت سے صوبہ کی کانگرسی وزارت اور سرخپوش لیڈر خان عبدالغفار خان کو ہمہ جہت مخالفتوں کے علی الرغم سرحد کے مسلم عوام کا فیصلہ کن ووٹ پاکستان کے حق میں ڈلوانے میں کامیاب ہوئے۔
علامہ پرویز 1937-38ء سے حضرت قائداعظم علیہ الرحمتہ کے‘ تحریک پاکستان کی دینی اساس کے موضوع پر ذاتی مشیر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ یہی وہ واحد شخصیت تھی جنہیں حضرت قائداعظمؒ سے پیشگی وقت لئے بغیر ان کی خدمت میں‘ کسی وقت بھی باریابی کا شرف حاصل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائداعظمؒ نے قرآنی ہدایات سامنے آجانے کے بعد ہمیشہ انہی کے مطابق عمل کیا۔ پرویز صاحب ان معدودے چند دانشوروں میں شامل ہیں جنہوں نے بقول پیر علی محمد راشدی‘ پاکستان کی سکیم کی تیاری میں مدد کی تھی۔
حضرت قائداعظمؒ ‘ علامہ پرویز پر غایت اعتماد رکھتے تھے اور ان کی رائے کو اس قدر اہمیت دیتے تھے کہ جب اس کا وقت آیا تو ان سے پاکستان کے سیکرٹریٹ کے لئے مناسب افسروں کے انتخاب کے لئے سفارش طلب کی۔
قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک جب کسی دریدہ دہن نے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ یا ان کے رفقاء کے خلاف ہرزہ سرائی کی ناپاک کوشش کی تو یہی مرد مجاہد آڑے آیا اور ہر موقع پر ایسے مدلل مقالات سپرد قلم کئے جن سے تحریک پاکستان کے ان زعماء کی عظمت کردار نکھر اور ابھر کر قوم کے سامنے آتی رہی۔
علامہ غلام احمد پرویز نے 24 فروری 1985ء کو وفات پائی۔
قرآنی معاشرہ میں کیا ہو گا۔۔۔۔۔؟
-1 قرآنی معاشرہ میں ہر شخص کی عزت بلا تمیز قوم‘ رنگ‘ نسل‘ پیشہ‘ محض اس کے انسان ہونے کی جہت سے ہو گی۔ کسی کو پست یا ذلیل نہیں سمجھا جائے گا۔ برتری کا معیار یہ ہو گا کہ کوئی شخص اپنے فرائض کی بجا آوری میں کس قدر محنت اور دیانت سے کام لیتا ہے اور نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کیا کرتا ہے۔
-2 کوئی شخص بے کس و لاچار اور بے یارو مددگار نہیں ہو گا۔ ہر ایک کی بات سنی جائے گی اور تکلیف رفع کی جائے گی۔ ہر شخص کو انصاف ملے گا اور بغیر کچھ خرچ کئے ملے گا۔ کوئی صاحب اثر انصاف کے پلڑے کو اپنی طرف نہیں جھکا سکے گا۔
-3 کوئی فرد بھوکا ننگا یا بے گھر نہیں رہے گا۔ تمام افراد کے لئے خوراک‘ لباس اور مکان کا انتظام کرنا معاشرہ کے ذمہ ہو گا۔ یعنی قرآنیِ معاشرہ ہر شخص کی اور اس کی اولاد کی ضروریات زندگی بہم پہنچانے کا ذمہ دار ہو گا۔
-4 معاشرہ کی یہ بھی ذمہ داری ہو گی کہ ہر شخص کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا انتظام کرے جس سے انسان کی صلاحیتوں کی نشوونما ہو۔ بالفاظ دیگر معاشرہ کا وجود فرد کی ذات کی تکمیل کے لئے ہو گا۔
-5 ہر شخص اپنی پوری استعداد و محنت سے کام کرے گا۔ صرف وہ افراد کام نہیں کریں گے جو کسی وجہ سے کام کرنے سے معذور ہو گئے ہوں۔ یہ نہیں ہو گا کہ کچھ لوگ تو محنت کرتے کرتے ہلکان ہو جائیں اور باقی لوگ ان کی کمائی پر مفت میں عیش اڑائیں۔
-6 ہر شخص اپنی محنت کے ماحصل میں سے اپنے لئے صرف اتنا رکھے گا جس سے اس کی مناسب ضروریات پوری ہوں۔ باقی اپنے دل کی رضامندی سے حاجت مندوں کی ضروریات کے لئے کھلا رکھے گا۔ بلکہ عندالضرورت دوسروں کو اپنے آپ پر ترجیح دے گا۔ کیونکہ انسانی ذات کی نشوونما کا یہی طریق ہے۔
-7 رزق کے سرچشمے (خواہ زمین کی شکل میں ہوں یا کارخانوں کی صورت میں) قرآنی معاشرہ کی تحویل میں رہیں گے تاکہ وہ افراد معاشرہ کی پرورش کے کام آئیں۔ جب افراد کی ضروریات زندگی کی ذمہ داری معاشرہ کے سر ہو گی اور رزق کے سرچشمے حاجت مندوں کے لئے کھلے رہیں گے تو کسی کے لئے دولت سمیٹ کر جمع کرنے اور جائدادیں بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔
-8 ہر معاملہ کا فیصلہ خدا کے احکام (قرآنِ کریم) کے مطابق ہو گا نہ کہ کسی خاص گروہ یا طبقہ کی مرضی کے مطابق (اس معاشرہ میں گروہوں‘ لیڈروں اور پارٹیوں کا وجود ہی نہیں ہو گا) اس لئے اس میں نہ کسی قسم کا جور ہو گا نہ استبداد‘ نہ ظلم ہو گا نہ زیادتی۔ اسے نظام خداوندی یا قرآنی نظام معاشرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
-9 ہر شخص کھل کر بات کرے گا۔ اس کے دل میں نہ کسی طرف سے نقصان پہنچنے کا ڈر ہو گا نہ کسی کو نقصان پہنچانے کا خیال۔ ایک دوسرے پر اعتماد بھروسہ ہو گا اور فریب کی گنجائش نہیں ہو گی۔ اس طرح گھروں کے اندر سکون اور معاشرہ کے اندر اطمینان ہو گا۔
-10 یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہو گا کہ ہر شخص قوانین خداوندی کے محکم اور مکافات عمل کے برحق ہونے پر یقین رکھے گا۔ یہ نظام قائم ہی ان بنیادوں پر ہو گا۔ اس میں اس قسم کے نظام کی تشکیل کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نوع انسان کی مشکلات اور مصیبتوں کا حل اسی قسم کے نظام کے قیام میں مضمر ہے تو اس کے قیام و عمل کے لئے اپنا فریضہ ادا کیجئے اور ہم سے تعاون فرمایئے۔
*******

3,956 total views, no views today

(Visited 887 times, 6 visits today)

ہماری تاریخ – پرویز

(ہم نے جب روایات (احادیث) کے متعلق لکھا کہ وہ کس طرح جمع اور مرتب کی گئیں اور دین کا ذریعہ علم ہونے کی جہت سے وہ کس قدر غیر یقینی اور ظنی ہیں‘ تو بعض احباب نے ہمیں لکھا کہ صدرِ اول (عہدِ نبی اکرمﷺ اور خلافتِ راشدہ) میں اسلامی نظام عملاً قائم ہوا تھا‘ اس لئے اس دور کی تاریخ تو یقینی ذریعہ علم ہو سکتی ہے۔ اس سے ہمیں اس نظام کی عملی تفاصیل معلوم ہو سکتی ہیں۔ ان سے کیوں نہ راہنمائی حاصل کی جائے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ جس طرح ہماری قوم کے دانشوروں نے حدیث سے متعلق لٹریچر کا مطالعہ نہیں کیا‘ اسی طرح انہیں ہماری تاریخ کے متعلق بھی صحیح معلومات حاصل نہیں۔ ذیل کے مقالہ سے یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ ہماری تاریخ‘ اسلام کے صدرِ اول کا کس قسم کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح احادیث میں جامعہ امام بخاریؒ کو اولیت حاصل ہے اسی طرح تاریخ میں اولیت امام ابن جریر طبریؒ کو حاصل ہے۔ اس مقالہ کے مندرجات اکثر و بیشتر‘ بخاریؔ اور طبریؔ پر مشتمل ہیں۔ ان کا غور سے مطالعہ فرمایئے۔)
***
تاریخ بھی عجیب دو دھاری تلوار ہے۔ اگر کسی قوم کے پاس اس کی صحیح تاریخ موجود ہے تو وہ قوم اپنے ماضی کے تجربات کے آئینہ میں اپنے حال کو درخشندہ اور مستقبل کو تابندہ بنا سکتی ہے۔ لیکن اگر اس کی تاریخ غلط ہے تو وہ غلط فہمیوں اور خوش عقیدتیوں کی ایسی اندوہناک تاریکیوں میں گھری رہتی ہے جن سے اس کا نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ ہمارے ساتھ یہی ہوا ہے۔ ہمارے زوال کے اسباب میں بنیادی عنصر ہماری غلط تاریخ ہے۔

قرآن فہمی کے راستہ میں روک

ہمارے پاس خدا کی کتاب ہے جس کے متعلق ہمارا ایمان ہے (اور علیٰ وجہ البصیرت اور مبنی علی الحقیقت ایمان) کہ وہ ایک ایسا ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر گوشے اور ہر زمانے میں ہماری صحیح راہنمائی کرنے کے لئے مکمل اور کافی ہے۔ اگر ہم اس کا اتباع کریں تو ہمیں اقوامِ عالم کی امامت مل سکتی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ قرآن کی راہنمائی ہمارے لئے اسی صورت میں نفع بخش ہو سکتی ہے جب ہم اسے سمجھیں لیکن قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری غلط تاریخ ہے۔ یہ بات شاید آپ کے نزدیک تعجب انگیز اور حیرت خیز ہو لیکن جب حقائق آپ کے سامنے آئیں گے تو آپ اس کی صداقت کو بلا تامل تسلیم کر لیں گے۔ قبل اس کے کہ ہم اس کی کچھ مثالیں آپ کے سامنے پیش کریں‘ تمہیداً یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ تاریخ کس طرح قرآن کا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ مثلاً قرآنِ کریم جس معاشرہ کی تشکیل کرتا ہے۔ اس کے افراد (جماعتِ مومنین) کی خصوصیات میں یہ بھی بتاتا ہے کہ:
مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ-(2:3)
جو کچھ انہیں خدا کی طرف سے سامانِ زیست ملتا ہے وہ اسے نوعِ انسانی کی فلاح و بہبود کے لئے کھلا رکھتے ہیں۔
دوسرے مقام پر اس کھلا رکھنے یا دوسروں کو دے دینے کی تصریح ان الفاظ سے کر دی کہ:
یَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ۔۔۔-(2:219)
اے رسول! جماعتِ مومنین کے افراد تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ ہم اپنے مال و دولت میں سے کس قدر دوسروں کو دیں؟
جواب میں کہا گیا۔۔۔
قُلِ الْعَفْوَ۔۔۔-(2:219)
ان سے کہہ دو کہ جس قدر تمہاری ضرورت سے زائد ہے سب کا سب۔
ان آیات سے واضح ہے کہ قرآنی معاشرہ میں افرادِ معاشرہ اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف اسی قدر اپنے پاس رکھ سکتے ہیں جو ان کی ضروریات کو پورا کر سکے۔ اس سے زائد قرآنی نظام (یا اسلامی مملکت) میں چلا جائے گا جو اسے نوعِ انسان کی ربوبیت (پرورش) کے لئے صرف کرے گا۔ ان آیات کا مفہوم سمجھنے میں نہ کوئی دِقت پیش آتی ہے نہ دشواری۔ نہ ان میں کوئی اشکال ہے نہ اغلاق۔ لیکن آپ جب یہ آیات کسی کے سامنے پیش کریں تو وہ جواب میں کہہ دیتا ہے کہ فلاں صحابیؓ کے پاس لاکھوں درہم و دینار تھے۔ فلاں کے پاس چاندی اور سونے کے ڈھیر لگے رہتے تھے۔ فلاں کے پاس کارواں درکارواں سامانِ تجارت رہتا تھا۔ اگر کوئی شخص ضرورت سے زائد دولت اپنے پاس رکھ سکتا تو ان حضرات کے پاس اس قدر دولت کیوں جمع رہتی تھی۔ اس کے بعد سلسلۂ کلام کچھ اس انداز کا ہوتا ہے۔
وہ صاحب:۔ فرمایئے! صحابہ کبارؓ قرآن کو صحیح طور پر سمجھتے تھے یا آپ بہتر سمجھتے ہیں؟
آپ:۔ میں تو کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں صحابہ کبارؓ سے زیادہ قرآن سمجھتا ہوں۔
وہ صاحب:۔ کیا صحابہ کبارؓ قرآن کے مطابق زندگی بسر کرتے تھے یا ان کا عمل اس کے خلاف تھا؟
آپ:۔ معاذ اللہ! میں کیسے کہہ سکتا ہوں کہ ان کا عمل قرآن کے خلاف تھا۔ ان کی زندگی بالکل قرآن کے مطابق تھی۔
وہ صاحب:۔ جب ان کی زندگی قرآن کے مطابق تھی اور ان کے پاس اس قدر مال و دولت جمع رہتا تھا تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کی رو سے زائد از ضرورت مال‘ افراد کے پاس نہیں رہ سکتا۔
اس منطق کا آپ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ سننے والے بھی فریقِ مقابل کے ساتھ متفق ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک سر ہلا کر کہہ دیتا ہے کہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ جب صحابہ کبارؓ کے پاس اس قدر مال و دولت تھا تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں دولت جمع کرنا ممنوع ہے؟ کیا (معاذ اللہ) صحابہؓ کو اتنا قرآن بھی نہیں آتا تھا؟

نازک دلیل

آپ نے دیکھا کہ تاریخ کس طرح قرآن کے راستے میں کھڑی ہو گئی؟ آپ یہ معلوم کر کے حیران ہوں گے کہ ہمارا مروجہ اسلام تاریخ کا مرتب کردہ ہے اوراس کا بیشتر حصہ قرآن کے خلاف ہے۔ مروجہ اسلام کی کسی شق کے متعلق آپ سند مانگئے۔ وہ سند تاریخ سے پیش کی جائے گی۔ اگر آپ کہیں کہ اس کی سند قرآن سے پیش کیجئے تو جواب میں کہہ دیا جائے گا کہ:

ہم رسول اللہﷺ کی سیرتِ طیبہ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی سے اس کی سند پیش کر رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر دین میں سند اور کیا ہو سکتی ہے؟ قرآن کے سمجھنے کے لئے سیرتِ رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ کی حیاتِ مقدسہ کا سامنے رکھنا لاینفک ہے۔ اس کے بغیر قرآن سمجھ میں نہیں آسکتا۔
یہ جواب اس قدر مسکت ہے کہ اس کے بعد آپ کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔ نتیجہ اس کا یہ کہ تاریخ‘ دین کی سند بن گئی ہے اور قرآنِ کریم ایصالِ ثواب کے لئے رہ گیا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ تاریخ کے کسی واقعہ کی تائید قرآن کی آیت سے مل جائے تو اس وقت قرآن کو بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا جاتا ہے لیکن جب تاریخ اور قرآن میں تضاد ہو تو سند تاریخ کو حاصل ہو گی۔ قرآن کو نہیں۔

تاریخ کی صحیح پوزیشن

جب تک ہم قرآن اور تاریخ کی صحیح صحیح پوزیشن کو نہیں سمجھتے اور انہیں اپنے اپنے مقام پر نہیں رکھتے‘ دین اپنی حقیقی شکل میں ہمارے سامنے نہیں آسکتا۔ قرآن کا ایک ایک لفظ اپنی اصل شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اس میں شبہ اور شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے (خواہ وہ کتبِ احادیث میں ہو اور خواہ کتب سیر و آثار میں) اس کی پوزیشن یہ ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب نہ رسول اللہﷺ نے مدون کرا کر امت کو دی۔ نہ خلفائے راشدینؓ نے انہیں مرتب کیا۔ نہ ہی ان میں سے کوئی کتاب صحابہؓ کے زمانے میں مرتب ہوئی۔ حدیث کا وہ مجموعہ جسے اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے۔ (یعنی بخاری شریف) وہ رسول اللہﷺ کی وفات کے قریب اڑھائی سو سال بعد مرتب ہوا اور ’’تاریخ‘‘ کی سب سے پہلی جامع کتاب جسے ام التواریخ کہا جاتا ہے (یعنی تاریخ طبری) رسول اللہﷺ کی وفات کے قریب تین سو سال بعد لکھی گئی۔ اس وقت بھی کوئی تحریری ریکارڈموجود نہیں تھا جن سے ان کتبِ احادیث و تاریخ کو مرتب کیا گیا ہو۔ یہ یکسر ان باتوں پر مشتمل تھیں جو انہوں نے اپنے ہم عصروں کی زبانی سنیں۔ یہ ہے ہماری تاریخ کی اولیں کتابوں کی پوزیشن جن سے سیرتِ رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی سامنے آتی ہے۔ (واضح رہے کہ نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ کا بیشتر حصہ اور صحابہ کبارؓ کی خصوصیاتِ کبریٰ خود قرآنِ کریم میں بھی مذکور ہیں لیکن اس وقت ہم سیرت و آثار کے اس حصے کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں جو کتبِ احادیث و سیر وغیرہ میں موجود ہے)۔

قرآن اور تاریخ کا باہمی تعلق

قرآن اور تاریخ کی جو پوزیشن اوپر بیان کی گئی ہے۔ اس سے ہر صاحبِ بصیرت اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ جب بھی قرآن کے کسی بیان اور عہدِ محمد رسول اللہﷺ والذینؓ معہ‘ کی تاریخ کے کسی واقعہ میں تضاد نظر آئے تو قرآن کے بیان کو صحیح اور تاریخ کے واقعہ کو غلط قرار دینا چاہئے۔ یہ ایک ایسی حقیقتِ باہرہ ہے جس کے لئے کسی دلیل و شہادت کی ضرورت نہیں۔ یہ اپنی دلیل آپ ہے۔ اب رہے تاریخ کے وہ بیانات جن کے متعلق قرآن خاموش ہے تو ایسی صورت میں بھی ہمارے لئے اصولِ کار واضح ہیں۔ یعنی:۔
(1) ہمارا ایمان ہے (اور قرآن اس کی شہادت دیتا ہے) کہ نبی اکرمﷺ اور صحابہ کبارؓ کی زندگی قرآن کی تعلیم کے مطابق تھی۔
(2) لہٰذا اگر تاریخ میں نبی اکرمﷺ یا صحابہ کبارؓ کے متعلق کوئی ایسی بات ملتی ہے جو قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے تو ہمیں بلا تامل کہہ دینا چاہئے کہ تاریخ کا وہ بیان صحیح نہیں۔
اس طرح دین کا صحیح تصور بھی قائم ہو جائے گا اور نبی اکرمﷺ اور صحابہ کبارؓ کی سیرت پاکیزہ اور حقیقی شکل میں ہمارے سامنے آجائے گی۔
ایک مثال
جو کچھ ہم نے (نظری طور پر) اوپر کہا ہے وہ واضح انداز میں سمجھ میں نہیں آسکتا۔ جب تک تاریخ سے اس کی کوئی مثال نہ پیش کی جائے۔ ہم عہدِ محمد رسول اللہ والذین معہ‘ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کی تاریخ سے اس قسم کی بہت سی مثالیں پیش کر سکتے ہیں لیکن چونکہ اس مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں (اس کے لئے ایک مستقل تصنیف کی ضرورت ہے) اس لئے ہم اس ضمن میں صرف ایک واقعہ پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں۔ یہ وہ واقعہ ہے جو اس وقت پیش آیا جب نبی اکرمﷺ نے سفرِ آخرت اختیار فرمایا اور ہنوز آپﷺ کے جسدِ طیب کو سپردِ خاک بھی نہیں کیا گیا اور اس کا تعلق صحابہ کبارؓ کی اس پوری جماعت سے ہے جو اس وقت مدینہ میں موجود تھی۔
قرآن کے غیر متبدل اصول
پہلے اس سلسلہ میں‘ قرآن کی تعلیم کو سامنے لایئے۔ قرآن کا بنیادی اور غیر متبدل اصول یہ ہے کہ:
وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ آدَمَ ۔۔۔-(17:70)
ہم نے ہر انسانی بچہ کو‘ محض اس کے انسان ہونے کی جہت سے واجب التکریم پیدا کیا ہے۔
یعنی اس میں حسب نسب‘ امیر‘ غریب۔ رنگ اور وطن‘ مذہب و ملت کی کوئی تفریق نہیں۔
(2) واجب التکریم ہر انسانی بچہ ہے۔ اب رہا مختلف افراد کے مدارج کا تعین‘ سو اس کے لئے اصول یہ ہے کہ:
وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا۔۔۔ -(46:19)
ہر ایک کا درجہ اس کے کاموں کے مطابق متعین کیا جائے گا۔
بالفاظِ دیگر مدارج کا تعین‘ جو ہر ذاتی اور اعمال کی بنا پر ہو گا۔ اس میں بھی خاندان‘ قبیلہ‘ ذات‘ گوت‘ رشتہ داری‘ امارت‘ غرضیکہ کسی اضافی نسبت کا کوئی دخل نہیں ہو گا۔
(3) اسی اصول کے مطابق‘ امت میں سب سے زیادہ واجب التکریم وہ ہو گا جو قوانینِ خداوندی کا سب سے زیادہ پابند ہو گا۔ جس کی سیرت و کردار سب سے زیادہ قرآن کے مطابق ہوں گے۔
إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِندَ اللَّہِ أَتْقَاکُمْ۔۔۔ -(49:13)
ان غیرمتبدل اصولوں کی رو سے قرآن نے رنگ‘ نسل‘ خون‘ قبیلہ‘ ذات وغیرہ کے تمام امتیازات ختم کر دیئے اور عزت و تکریم کا صرف ایک معیار باقی رکھا۔ یعنی جوہرِ ذاتی اور حسنِ سیرت و کردار۔
اُمّت کا فریضہ
اب آگے بڑھئے۔ نبی اکرمﷺ نے قرآنی اصولوں کے مطابق ایک معاشرہ متشکل فرمایا۔ ایک مملکت قائم کی۔ جس کا مقصد ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ تھا۔ چونکہ اس نظام کو نبی اکرمﷺ کی زندگی تک ہی نہیں رہنا تھا۔ اسے مسلسل آگے چلنا تھا کیونکہ اسی کا نام دین تھا۔ اس لئے اس مقصد کے لئے ایک امت تیار کی گئی۔ اس امت کے متعلق قرآن میں ہے:
کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ۔۔۔ -(3:110)
تم بہترین امت ہوجسے نوعِ انسان کی بہبود کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ تمہارا فریضۂ حیات امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔
یہی وہ امت تھی جسے وراثتِ کتاب کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ قرآن میں ہے:
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا۔۔۔-(35:32)
پھر ہم نے ان لوگوں کو اس کتاب کا وارث بنایا جنہیں اس مقصدِ جلیل کے لئے اپنے بندوں میں سے چنا تھا۔
یہ امت (اس زمانے میں) مہاجرین اور انصار پر مشتمل تھی جس کے پکے اور سچے ہونے کا سرٹیفکیٹ خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔ سورۂ انفال میں ہے:
صحابہؓ کے فضائل
وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ وَہَاجَرُواْ وَجَاہَدُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالَّذِیْنَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَّہُم مَّغْفِرَۃٌ وَرِزْقٌ کَرِیْمٌ-(8:74)
اور جو ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے (انہیں) پناہ دی اور ان کی مدد کی۔ یہ سب سچے اور پکے۔ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لئے ہر قسم کی حفاظت اور عزت کا رزق ہے۔
دوسرے مقام پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی اُلفت ڈال دی تھی اور یہ وہ نعمتِ کبریٰ تھی جو ساری دنیا کی دولت خرچ کرنے پر بھی نہیں مل سکتی تھی -(8:64) سورۂ توبہ میں ان کے متعلق ہے:
أُوْلَءِکَ لَہُمُ الْخَیْْرَاتُ وَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ-(9:88)
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے ہر قسم کی بھلائیاں ہیں اور یہی ہیں جو کامیاب و کامران ہیں۔
سورۂ فتح میں خالقِ کائنات نے ان ’’پکے اور سچے مومنین‘‘ کی جس والہانہ انداز میں توصیف و تعریف کی ہے وہ ان حضرات کی بلندئ مقام کی زندہ شہادت ہے۔ دیکھئے! کہنے والے نے کس طرح جھوم جھوم کر کہا ہے:
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّنَ اللَّہِ وَرِضْوَاناً سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوہِہِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ فَآزَرَہُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَی عَلَی سُوقِہِ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً -(48:29)
اس آیۂ جلیلہ کا مفہوم یہ ہے:
محمد رسول اللہﷺ اور ان کے رفقاء کی جماعت بھی کیا عجیب جماعت ہے۔ ان کی کیفیت یہ ہے کہ وہ مخالفین کے مقابلہ میں چٹان کی طرح سخت ہیں اور آپس میں بڑے نرم دل اور ہمدرد۔ تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ کس طرح ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لئے جھک جاتے اور قوانینِ خداوندی کے سامنے پیکر تسلیم و رضا بن جاتے ہیں۔ لیکن وہ راہبوں کی جماعت نہیں۔ وہ خدا کے قانون کے مطابق سامانِ زیست کی طلب و جستجو میں بھی مصروفِ عمل رہتے اور زندگی کے ہر معاملہ میں قوانینِ الٰہیہ سے ہم رنگ و ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنے اندر صفاتِ خداوندی منعکس کرتے ہیں۔ ان کے اندر صفاتِ خداوندی کی نمود سے سکون و طمانیت کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے آثار ان کے چہروں سے نمایاں ہوتے ہیں۔ ان کے یہ خصائص تورات میں بھی مذکور تھے اور انجیل میں بھی۔
انہوں نے جس طرح بتدریج اس نظامِ خداوندی کو قائم کیا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھو جیسے عمدہ بیج سے شگوفہ نکلتا ہے تو پہلی کونپل بڑی نرم و نازک ہوتی ہے۔ پھر وہ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔ پھر جب اس کے خوشوں میں دانے پڑنے کا وقت آتا ہے تو وہ خود اپنی نالوں پر محکم اور استوار طریق سے کھڑی ہو جاتی ہے۔ کاشتکار جب اپنی محنت کو یوں ثمربار ہوتے دیکھتا ہے تو وجد و مسرت سے جھوم اٹھتا ہے لیکن یہی چیز اس کے دشمنوں کے سینے پر سانپ بن کر لوٹنے کا موجب بن جاتی ہے۔
اس طرح اللہ ہر اس جماعت سے جو اس کے نظام کے اَن دیکھے نتائج پر یقین رکھ کر‘ صلاحیت بخش پروگرام پر عمل پیرا ہو‘ اس کا وعدہ کرتا ہے کہ ان کی کوششوں کا ننھا سا بیج تمام خطرات سے محفوظ رہے گا اور ان کی کھیتی بہترین ثمرات کی حامل ہو گی۔
یہ تھی وہ جماعت‘ جس نے رسول اللہﷺ کے مقدس ہاتھوں تربیت پائی تھی اور جس نے حضورﷺ کے بعد قرآنی نظام کو آگے چلانا تھا۔ اس مقصد کے لئے ان سے کہہ دیا گیا تھا کہ:
وَأَمْرُہُمْ شُورَی بَیْْنَہُمْ۔۔۔ -(42:38)
وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کریں۔
تصریحاتِ بالا سے واضح ہے کہ:
(1) قرآنِ کریم کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ عزت و تکریم کا معیار ذاتی جوہر اور حسنِ عمل ہے نہ کہ حسب و نسب اور رشتہ داری کے تعلقات۔
(2) صحابہ کبارؓ پکے اور سچے مومن تھے۔ ان کی سیرت بہت بلند اور کردار بڑا پاکیزہ تھا۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت پیوست تھی۔
(3) قرآنی نظام کو قائم رکھنا اور آگے چلانا امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ اس کے لئے وہ باہمی مشورہ سے اپنے میں سے بہترین فرد کو (جو معیارِ خداوندی پر پورا اترے) منتخب کر کے‘ رسولﷺ کا جانشین (یعنی مملکت کا سربراہ) بنائیں گے۔ اسے خلافت علیٰ منہاجِ رسالت کہتے ہیں۔
امت کے لئے قرآن کے ان اصولوں پر عمل کرنے کا پہلا موقعہ‘ رسول اللہﷺ کی وفات کے فوری بعد پیدا ہو گیا۔ یعنی خلیفہ کا انتخاب۔
یہ تھی قرآنِ کریم کی تعلیم اور قرآن کی رو سے صحابہ کبارؓ (جماعتِ انصار و مہاجرین) کی خصوصیاتِ کبریٰ۔ اب دیکھئے کہ تاریخ اس باب میں کیا کہتی ہے۔
***

خلافت کے متعلق حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے خیالات

بخاری (باب وفات النبیﷺ) میں حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ کی روایت سے حسبِ ذیل واقعہ بیان کیا گیا ہے:
اس بیماری میں جس میں آپﷺ نے وفات فرمائی۔ علی ابن طالبؓ رسول اللہﷺ کے پاس سے باہر آئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا۔ ابو الحسن! رسول اللہﷺ نے کس حالت میں صبح فرمائی؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ الحمد للہ اچھی حالت میں صبح فرمائی ہے۔ تو عباسؓ بن عبدالمطلب ان کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف کو لے گئے اور ان سے کہنے لگے۔ خدا کی قسم تین دن کے بعد تم لاٹھی کے غلام ہو گے۔ بخدا میرا یہ خیال ہے کہ رسول اللہﷺ کا اپنی اس بیماری میں انتقال ہو جائے گا۔ میں خوب پہچانتا ہوں کہ عبدالمطلب کی اولاد کے چہرے مرتے وقت کیسے ہوتے ہیں۔ چلو رسول اللہﷺ کے پاس چلیں اور آپ سے دریافت کر لیں کہ آپﷺ کے بعد حکومت کن لوگوں میں ہو گی۔ اگر ہم میں ہوئی تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر ہمارے سوا دوسروں میں ہوئی تو بھی ہمیں معلوم ہو جائے گا اور آپﷺ اپنے جانشین کو ہمارے حق میں وصیت فرما دیں گے (اس 1؂ پر حضرت علیؓ نے فرمایا کہ کیا اس امر کی طمع ہمارے سوا کسی دوسرے کو بھی ہو سکتی ہے؟ عباسؓ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ خدا کی قسم ایسا ضرور ہو گا) اس پر علیؓ نے کہا کہ خدا کی قسم اس بارہ میں اگر ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھ لیا اور آپﷺ نے انکار کر دیا تو آپﷺ کے بعد لوگ پھر ہمیں حکومت کبھی بھی نہیں دیں گے۔ خدا کی قسم میں اس بات کو رسول اللہﷺ سے ہرگز نہیں پوچھوں گا۔
(صحیح بخاری‘ باب وفات النبیﷺ)
اس روایت سے ظاہر ہے کہ ابھی حضورﷺ کا انتقال بھی نہیں ہوا تھا کہ حضورﷺ کے چچا حضرت عباسؓ اور چچا زاد بھائی اور داماد حضرت علیؓ کے دل میں خلافت کا خیال پیدا ہو گیا تھا۔ حضرت علیؓ مطمئن تھے کہ خلافت کسی اور کے پاس نہیں جائے گی۔ لیکن حضرت عباسؓ کا اندازہ کچھ اور تھا۔ اس لئے وہ اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے (خلافتِ حضرت علیؓ کے متعلق) توثیق کرا لینا چاہتے تھے۔ اس پر حضرت علیؓ نے جو جواب دیا وہ قابلِ غور ہے۔ یعنی اگر ہم نے رسول اللہﷺ سے پوچھ لیا اور آپﷺ نے انکار کر دیا تو پھر ہمارے لئے کوئی گنجائش (Chance) نہیں رہے گی۔
شیعہ حضرات کے ہاں یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح نبوت خدا کی طرف سے وہبی طور پر ملتی ہے اور اس میں انتخاب اور مشورہ کا کوئی سوال نہیں‘ اسی طرح خلافت (امامت) بھی خدا کی طرف سے موہبت ہے۔ اس میں انتخاب وغیرہ کا کوئی سوال نہیں۔ امام‘ خدا کی طرف سے منصوص اور مامور ہوتا ہے‘ یہ امامت حضرت علیؓ اور آپ کی اولاد‘ خدا کی طرف سے مقرر کردہ ہے۔
لیکن سُنّی حضرات کا یہ عقیدہ نہیں۔ ان کے نزدیک‘ خلیفہ اُمت کے مشورہ سے منتخب ہوتا ہے۔ نہ ہی خلافت کوئی جائیداد ہے۔ جو متوفی کے بعد اس کے رشتہ داروں کو بطورِ ترکہ مل سکتی ہے۔ یہ تصور کہ حکومت باپ کے بعد بیٹے کو ورثہ میں ملتی ہے‘ ملوکیت ہے جسے مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔
اگر اس روایت کو صحیح مانا جائے تو۔۔۔
جو روایت اوپر درج کی گئی ہے وہ شیعہ حضرات کی نہیں‘ سنیوں کی حدیث کی سب سے معتبر کتاب بخاریؔ میں درج ہے۔ اب آپ غور فرمایئے کہ اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائے تو رسول اللہﷺ کے قریب ترین صحابہؓ (حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ) کے متعلق کیا تصور قائم ہوتا ہے؟ یہ تصور کہ وہ (معاذ اللہ) اسلام کے ابتدائی اور بنیادی اصول کو بھی نہیں سمجھ سکے تھے کہ خلافت بطورِ وراثت یا استحقاق نہیں ملتی۔ یہ معاملہ امت کے باہمی مشورہ سے طے ہوتا ہے‘ پھر جو جواب‘ حضرت علیؓ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اس سے ان کی سیرت و کردار پر جو زد پڑتی ہے وہ بھی کسی تشریح کی محتاج نہیں۔
***
سقیفہ بنی ساعدہ کا اجتماع
اب آگے بڑھیئے۔ نبی اکرمﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ چونکہ خلافت (جانشینئ رسولﷺ) کا معاملہ امت کے باہمی مشورہ سے طے ہونا تھا۔ اس لئے حضورﷺ نے اس کے متعلق کوئی وصیت نہیں فرمائی تاکہ امت کی آزادئ رائے پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ ہو جائے۔ چونکہ یہ معاملہ بہت اہم تھا۔۔۔ مرکزِ ملت کے بغیر دین کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ اس لئے ایسا نظر آتا ہے کہ امت نے حضورﷺ کی تجہیز و تکفین سے بھی پہلے اسے طے کر لینا ضروری سمجھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کا اجتماع ہوا۔ جس میں حضرت سعد بن عبادہؓ کو خلافت کا امیدوار قرار دیا گیا۔ ایک روایت کے مطابق وہاں یہ تجویز بھی سامنے لائی گئی کہ ایک امیر انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے۔ اس وقت مہاجرین (حضرت ابوبکرؓ۔ حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ) بھی وہاں پہنچ گئے۔ اس اجتماع کی جو روئیداد تاریخ میں بیان ہوئی ہے وہ قابلِ غور ہے۔ کہا گیا ہے کہ (انصار میں سے) حضرت حباب بن منذرؓ نے حسبِ ذیل تقریر فرمائی:
حضرت حبابؓ کی تقریر
اے انصار! امارت اپنے ہاتھوں ہی میں رکھو‘ کیونکہ لوگ تمہارے مطیع رہیں۔ کسی شخص میں یہ جرأت نہ ہو گی کہ وہ تمہارے خلاف آواز اٹھا سکے یا تمہاری رائے کے خلاف کوئی کام کر سکے۔ تم اہلِ عزت و ثروت ہو۔ تم تعداد اور تجربے کی بنا پر دوسروں سے بڑھ چڑھ کر ہو۔ تم بہادر اور دلیر ہو‘ لوگوں کی نگاہیں تمہاری طرف لگی ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں تم ایک دوسرے کی مخالفت کر کے اپنا معاملہ خراب نہ کرو۔ یہ لوگ تمہاری بات ماننے پر مجبور ہیں۔ زیادہ سے زیادہ رعایت جو ہم انہیں دے سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک ان میں سے۔‘‘
(محمد حسین ہیکلؔ کی کتاب۔ ’’ابوبکرؓ صدیقِ اکبر‘‘۔ ص 107) 1؂
آپ نے غور فرمایا۔ ہماری تاریخ کا یہ بیان ان انصار (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے متعلق ہے جن کے مہاجرین کے ساتھ فدائیانہ تعلقات اور بے لوث ایثار کی شہادت خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ (تاریخ کے بیان کے مطابق) ان کی طرف سے ان جذبات کا اظہار اس وقت ہو رہا ہے۔ جب نبی اکرمﷺ کی نعش مبارک بھی ہنوز آنکھوں کے سامنے ہے۔

حضرت عمرؓ کی تقریر

یہ تو رہا انصار کے متعلق۔ اب مہاجرین کی بابت سنئے (تاریخ بتاتی ہے کہ) اس کے جواب میں حضرت عمرؓ نے حسبِ ذیل تقریر فرمائی:
ایک میان میں دو تلواریں جمع نہیں ہو سکتیں۔ اللہ کی قسم! عرب تمہیں امیر بنانے پر ہرگز رضامند نہ ہوں گے۔ جب رسول اللہﷺ تم میں سے نہ تھے۔ ہاں! اگر امارت ان لوگوں کے ہاتھوں میں آئے جن میں رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے تھے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ اگر عربوں کے کسی طبقے نے ہماری امارت اور خلافت سے انکار کیا تو اس کے خلاف ہمارے ہاتھ میں دلائلِ ظاہرہ اور براہین قاطعہ ہوں گے۔ رسول اللہﷺ کی جانشینی اور امارت کے بارے میں کون شخص ہم سے جھگڑا کر سکتا ہے۔ جب ہم آپ کے جاں نثار اور اہلِ عشیرہ ہیں۔ اس معاملہ میں ہم سے جھگڑا کرنے والا وہی شخص ہو سکتا ہے جو باطل کا پیروکار۔ گناہوں سے آلودہ اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے کے لئے تیار ہو۔
(ابوبکر صدیقؓ از ہیکلؔ ‘ ص 108)
اس کے جواب میں حضرت حبابؓ نے انصار سے کہا:
اے انصار!۔۔۔ تم ہمت سے کام لو اور عمرؓ اور اس کے ساتھیوں کی بات نہ سنو! اگر تم نے اس وقت کمزوری دکھائی تو یہ سلطنت میں سے تمہارا حصہ غصب کر لیں گے۔ اگر یہ تمہاری مخالفت کریں تو انہیں یہاں سے جلاوطن کر دو اور سلطنت پر خود قابض ہو جاؤ۔ کیونکہ اللہ کی قسم! تمہی اس کے سب سے زیادہ حقدار ہو۔ تمہاری ہی تلواروں کی بدولت اسلام کو شان و شوکت نصیب ہوئی ہے اس لئے اس کی قدر و منزلت کا موجب تمہی ہو۔ تمہی اسلام کو پناہ دینے والے اور اس کی پشت پناہ ہو اور اگر تم چاہو تو اسے اس کی شان و شوکت سے محروم بھی کر سکتے ہو۔
(ایضاً‘ ص 108-109)
اندازِ گفتگو؟
حضرت عمرؓ نے یہ فقرہ سنا تو کہا:
اگر تم نے اس قسم کی کوشش کی تو اللہ تمہیں ہلاک کر ڈالے گا۔
(ایضاً‘ ص 109)
اس کے جواب میں حضرت حبابؓ نے کہا:
ہمیں نہیں اللہ تمہیں ہلاک کرے گا۔
(ایضاً‘ ص 109)
یہ ہے ہماری تاریخ کے مطابق ان صحابہؓ کے باہمی تعلقات کا نقشہ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ سرٹیفکیٹ عطا فرماتا ہے کہ:
أَشِدَّاء عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاء بَیْْنَہُمْ۔۔۔-(48:29)
وہ کفار کے مقابلہ میں بڑے سخت اور آپس میں بڑے ہمدرد تھے۔
وہ جن کے متعلق خدا کا ارشاد ہے کہ:
وَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ۔۔۔ -(8:63)
ان کے دلوں میں خدا نے باہمی محبت اور الفت ڈال دی۔ وہ محبت اور الفت جو دنیا بھر کی دولت دے کر بھی خریدی نہیں جا سکتی۔
ان صحابہؓ کے باہمی تعلقات اور اخلاق کے متعلق ہماری تاریخ یہ نقشہ پیش کرتی ہے۔
حضرت عمرؓ کی جو تقریر (تاریخ کے بیان کے مطابق) اوپر درج کی گئی ہے اس میں انہوں نے اپنے (یعنی مہاجرین کے) حقِ خلافت کے متعلق یہ دلیل دی ہے کہ:
رسول اللہﷺ کی جانشینی اور امارت کے بارے میں ہم سے کون جھگڑ سکتا ہے۔ جب ہم آپ کے جاں نثار اور اہلِ عشیرہ (اہل خاندان) ہیں۔
یہ دلیل قابلِ غور ہے۔ اس سے پیشتر ہم دیکھ چکے ہیں کہ تاریخ ہمیں حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کے متعلق یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ان کے نزدیک خلافت حضورﷺ کے قرابت داروں کو ورثہ میں ملنی چاہئے تھی۔ اب حضرت عمرؓ کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بھی استحقاقِ خلافت کے لئے یہی دلیل دی کہ ہم رسول اللہﷺ کے اہلِ خاندان ہیں۔ غور کیجئے کہ اس سے ہماری تاریخ ہمیں کہاں لے جانا چاہتی ہے۔
الائمۃ من قریش
لیکن تاریخ یہیں تک نہیں رہتی۔ وہ ایک قدم آگے بڑھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ جب معاملہ زیادہ نزاکت اختیار کر گیا تو حضرت ابوبکرؓ اٹھے اور آپ نے فرمایا کہ اس باب میں انصار کا دعویٰ یکسر بے بنیاد ہے۔ رسول اللہﷺ نے فیصلہ کر دیا ہوا ہے کہ الائمہ من قریش ’’خلافت قریش میں رہے گی‘‘۔ اس پر انصار خاموش ہو گئے اور حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب کر لئے گئے۔
یہ حدیث‘ متفق علیہ طور پر صحیح مانی جاتی ہے لیکن آپ ذرا اس کی گہرائی میں جایئے اور سوچئے کہ یہ کبھی رسول اللہﷺ کا ارشاد ہو سکتا ہے؟ قرآن مسلسل و متواتر نسل اور خون کے امتیازات مٹا کر مساواتِ انسانیہ اور تکریمِ آدمیت کی تعلیم دیتا رہا۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اس بلند و برتر تعلیم کا عملی نمونہ رہی۔ آپ اس امر کا تصور بھی کر سکتے ہیں کہ اس تعلیم کا حامِل رسولﷺ یہ فیصلہ کرے گا کہ حکومت میرے قبیلہ کے اندر رہے گی۔ یہ ایک روایت قرآن کی بنیادی تعلیم اور نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ کو باطل قرار دے دینے کے لئے کافی ہے۔ لیکن ہماری تاریخ اس روایت کو رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کرتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے انصار اور مہاجرین کے بھرے مجمع میں اسے حق خلافت کے لئے بطور دلیل پیش کیا اور اسے سب نے تسلیم کر لیا۔ یعنی ہماری تاریخ‘ ایک ہی واقعہ میں‘ خدا کے رسولﷺ اور۔۔۔ صحابہ کبارؓ کے متعلق نسل پرستی کا ایسا تصور پیدا کر جاتی ہے جسے مٹانے کے لئے قرآن آیا تھا۔
***
رسول اللہﷺ کی وفات کے فوری بعد‘ صحابہ کبارؓ (انصار و مہاجرین) کا جو پہلا اجتماع ہوا‘ اس میں ہماری تاریخ کے مطابق ان حضرات کے باہمی تعلقات‘ اندازِ گفتگو اور اسلوبِ دلائل کا نقشہ ہمارے سامنے آگیا۔ اب اس سے آگے بڑھیئے۔ (امام) طبریؔ اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
دست و گریباں
سابقہ روایت کے سلسلہ سے عبداللہؓ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ اب ہر طرف سے لوگ آ آ کر ابوبکرؓ کی بیعت کرنے لگے۔ قریب تھا کہ وہ سعدؓ کو روند ڈالتے۔ اس پر سعدؓ کے کسی آدمی نے کہا کہ سعدؓ کو بچاؤ ان کو نہ روندو‘ عمرؓ نے کہا اللہ اسے ہلاک کرے اس کو قتل کر دو اور خود ان کے سرہانے آکر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میں چاہتا ہوں تم کو روند کر ہلاک کر دوں۔ سعدؓ نے عمرؓ کی داڑھی پکڑ لی عمرؓ نے کہا چھوڑو اگر اس کا ایک بال بھی بیکا ہوا تو تمہارے منہ میں ایک دانت نہ رہے گا۔ ابوبکرؓ نے کہا عمرؓ خاموش رہو اس موقع پر نرمی برتنا زیادہ سود مند ہے۔ عمرؓ نے سعدؓ کا پیچھا چھوڑ دیا۔ سعدؓ نے کہا اگر مجھ میں اٹھنے کی بھی طاقت ہوتی تو میں تمام مدینے کے گلی کوچوں کو اپنے حامیوں سے بھر دیتا کہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ہوش و حواس جاتے رہتے اور بخدا اس وقت میں تم کو ایسی قوم کے حوالے کر دیتا جو میری بات نہیں مانتے بلکہ میں ان کا اتباع کرتا۔ اچھا اب مجھے یہاں سے اٹھا لے چلو۔ ان کے آدمیوں نے ان کو اٹھا کر ان کے گھر میں پہنچا دیا۔ چند روز ان سے تعارض نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد ان سے کہلا بھیجا کہ چونکہ تمام لوگوں نے اور خود تمہاری قوم نے بھی بیعت کر لی ہے تم بھی آکر بیعت کر لو۔ سعدؓ نے کہا یہ نہیں ہو سکتا تاوقتیکہ میں تمہارے مقابلہ میں اپنا ترکش خالی نہ کر دوں۔ اپنے نیزے کو تمہارے خون سے رنگین نہ کر لوں اور اپنی تلوار سے جس پر میرا بس چلے وار نہ کر لوں اور اپنے خاندان اور قوم کے ان افراد کے ساتھ جو میرا ساتھ دیں تم سے لڑ نہ لوں‘ ہرگز بیعت نہ کروں گا۔ خدا کی قسم‘ اگر انسانوں کے ساتھ جن بھی تمہارے ساتھ ہو جائیں تب بھی جب تک کہ میں اپنے معاملے کو اپنے رب کے سامنے پیش نہ کر لوں بیعت نہیں کروں گا۔
(تاریخ طبریؔ ‘ جلد اول‘ حصہ چہارم‘ اردو ترجمہ‘ شائع کردہ‘ جامعہ عثمانیہ‘ ص 7)
اس سے ایک صفحہ آگے ہے:
معاذ اللہ!
ضحاک بن خلیفہ سے مروی ہے کہ امارت کے انتخاب کے موقع پر حباب بن المنذرؓ نے کھڑے ہو کر تلوار نکال لی اور کہا کہ میں ابھی اس کا تصفیہ کر دیتا ہوں۔ میں شیر ہوں اور شیر کی کھوہ میں ہوں اور شیر کا بیٹا ہوں۔ عمرؓ نے اس پر حملہ کیا اور اس کے ہاتھ پر وار کیا۔ تلوار گر پڑی‘ عمرؓ نے اسے اٹھا لیا اور پھر سعدؓ پر جھپٹے اور لوگ بھی سعدؓ پر جھپٹے۔ اب سب نے باری باری آکر بیعت کی۔ سعدؓ نے بھی بیعت کی۔ اس وقت عہدِ جاہلیت کا سا منظر پیش آیا اور تو تو میں میں ہونے لگی۔ ابوبکرؓ اس سے دور رہے‘ جس وقت سعدؓ پر لوگ چڑھ گئے کسی نے کہا کہ تم لوگوں نے سعدؓ کو مار ڈالا۔ عمرؓ نے کہا اللہ اسے ہلاک کر دے۔ وہ منافق ہے۔ عمرؓ کی تلوار کے سامنے ایک پتھر آگیا اور ان کی ضرب سے وہ قطع ہو گیا۔
کلیجے پر ہاتھ رکھئے اور اس فقرہ کو پھر پڑھیئے:
اس وقت عہدِ جاہلیت کا سا منظر پیش آیا اور تو تو میں میں ہونے لگی۔
بہرحال‘ حضرت ابوبکرؓ خلیفہ منتخب ہو گئے۔ اس کے بعد‘ دوسرے امیدوار‘ حضرت سعدؓ کا کیا طرزِ عمل رہا؟ سنئے:
اس کے بعد سعدؓ نہ ابوبکرؓ کی امامت میں نماز پڑھتے تھے اور نہ جماعت میں شریک ہوتے تھے۔ حج میں بھی مناسک ان کے ساتھ ادا نہیں کرتے تھے۔ ابوبکرؓ کے انتقال تک ان کی یہی روش رہی۔
(طبریؔ ‘ ص 8)
داڑھیاں نوچنا!
ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ سقیفہ کے تنازعے میں‘ حضرت سعدؓ نے حضرت عمرؓ کی داڑھی پکڑلی تھی۔ تاریخ طبریؔ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک دوسرے کی داڑھیاں نوچنا (معاذ اللہ) ان حضرات کا معمول سا ہو گیا تھا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت اسامہؓ کی امارتِ عساکر کے مسئلہ میں حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ میں اختلاف رائے ہوا تو
ابوبکرؓ جو بیٹھے ہوئے تھے غصے سے اچھل پڑے اور بڑھ کر انہوں نے عمرؓ کی داڑھی پکڑ لی اور کہا۔ اے ابنِ خطاب! اللہ تیری ماں کا برا کرے کہ تم مَر جاتے۔ بھلا جس شخص کو رسول اللہﷺ نے اس پر فائز کیا ہے۔ تم مجھ سے کہتے ہو کہ میں اسے علیحدہ کر دوں۔
(ایضاً‘ ص 12)
حضرت علیؓ کا ردِعمل
یہ جملہ معترضہ تھا۔ اب پھر انتخابِ خلیفہ اول کی تاریخی داستان کی طرف آیئے۔ اس تمام واقعہ میں حضرت علیؓ کا ابھی تک ذکر نہیں آیا۔ آپ یقیناًیہ معلوم کرنے کے لئے مشوش ہوں گے کہ جن بزرگوار (یعنی حضرت علیؓ) کے دل میں سب سے پہلے خلافت کا خیال پیدا ہوا تھا‘ حضرت ابوبکرؓ کے انتخاب پر ان کی طرف سے کیا ردِعمل ہوا۔ تاریخ اس کے متعلق تفصیل سے بتاتی ہے۔ سنئے۔ محمد حسین ہیکلؔ (مصری) اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
مہاجرین اور انصار کے چند افراد حضرت ابوبکرؓ کی بیعت میں شامل نہ تھے بلکہ ان کا میلان حضرت علیؓ بن ابی طالب کی طرف تھا۔ ان میں سے مشہور لوگ یہ تھے۔ عباسؓ بن عبدالمطلب‘ فضل بن عباسؓ زبیرؓ بن عوام بن العاص‘ خالد بن سعیدؓ‘ مقداد بن عمروؓ‘ سلمان فارسیؓ‘ ابوذر غفاریؓ‘ عمار بن یاسرؓ ‘ براء بن حازبؓ ‘ ابی بن کعبؓ۔ ابوبکرؓ نے عمرؓ ‘ابو عبیدہؓ بن جراح‘ مغیرہ بن شعبہؓ سے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ عباسؓ بن عبدالمطلب سے ملئے اور خلافت میں ان کا حصہ بھی رکھ دیجئے جو ان کی اولاد کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس طرح ان کے اور ان کے بھتیجے علیؓ بن ابی طالب کے درمیان اختلاف واقع ہو جائے گا اور یہ بات آپ کو علیؓ کے مقابلہ میں فائدہ مند ثابت ہو گی۔
اس مشورہ کے مطابق ابوبکرؓ عباسؓ سے ملے تو دونوں کے درمیان طویل گفتگو ہوئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا۔ ’’آپ رسول اللہﷺ کے چچا ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ خلافت میں آپ کا حصہ بھی موجود ہو۔ جو آپ کے بعد آپ کی اولاد میں منتقل ہوتا رہے۔‘‘ لیکن عباسؓ نے یہ پیشکش رد کر دی کہ اگر خلافت ہمارا حق ہے تو ہم ادھوری خلافت لینے پر رضامند نہیں ہو سکتے۔
(ابوبکرؓ۔ ص119)
اس کے بعد ہیکلؔ لکھتا ہے:
ایک اور روایت میں جسے یعقوبی اور بعض دیگر مؤرخین نے بھی ذکر کیا ہے مذکور ہے کہ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت حضرت علیؓ کی بیعت کرنے کے ارادے سے حضرت فاطمتہ الزہراؓ بنت رسول اللہﷺ کے گھر میں جمع ہوئی۔ ان میں خالد بن سعیدؓ بھی تھے۔ خالدؓ نے حضرت علیؓ سے کہا:
’’اللہ کی قسم! رسول اللہﷺ کی جانشینی کے لئے آپ سے بہتر اور کوئی آدمی نہیں۔ اس لئے آپ ہماری بیعت قبول کیجئے۔‘‘
جب حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو اس اجتماع کی خبر ملی تو وہ چند لوگوں کو لے کر حضرت فاطمہؓ کے گھر پہنچے اور اس پر حملہ کر دیا۔ حضرت علیؓ تلوار ہاتھ میں لے کر گھر سے باہر نکلے۔ سب سے پہلے ان کی مڈبھیڑ حضرت عمرؓ سے ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے ان کی تلوار توڑ ڈالی اور وہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہو گئے۔ اس پر حضرت فاطمہؓ گھر سے باہر آئیں اور کہا:
’’یا تو تم میرے گھر سے نکل جاؤ ورنہ اللہ کی قسم میں اپنے سر کے بال نوچ لوں گی۔ اور تمہارے خلاف اللہ سے مدد طلب کروں گی۔‘‘ حضرت فاطمہؓ کی زبان سے یہ الفاظ سن کر سب لوگ گھر سے باہر نکل گئے۔‘‘
کچھ روز تک تو مذکورہ بالا اصحاب بیعت سے انکار کرتے رہے لیکن آہستہ آہستہ یکے بعد دیگرے سب نے بیعت کر لی۔ سوا حضرت علیؓ کے جنہوں نے چھ سات مہینے تک بیعت نہ کی۔ مگر حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد انہوں نے بھی بیعت کر لی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے چالیس روز بعد بیعت کر لی تھی۔ ایک اور روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر بنو ہاشم حضرت فاطمہؓ کے گھر میں خفیہ مجالس منعقد کرنے سے باز نہ آئے تو وہ ایندھن جمع کر کے گھر کو آگ لگا دیں گے۔
(ایضاً‘ ص 120)
اس وقت تک جو کچھ سامنے آیا ہے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت علیؓ نے اپنے مؤقف کی تائید میں دلیل کیا پیش کی تھی۔ اب وہ دلیل سنئے۔ ہیکلؔ لکھتا ہے:
حضرت علیؓ کی دلیل
حضرت علیؓ اور دیگر بنی ہاشم کے بیعت نہ کرنے سے متعلق مشہور ترین روایت وہ ہے جو ابن قتیبہ نے اپنی کتاب ’’الامامتہ والسیامتہ‘‘ میں درج کی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کے بعد حضرت عمرؓ چند لوگوں کو ساتھ لے کر بنی ہاشم کے پاس گئے جو اس وقت حضرت علیؓ کے گھر جمع تھے تاکہ ان سے بھی بیعت کا مطالبہ کریں۔ لیکن سب لوگوں نے حضرت عمرؓ کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا۔ زبیرؓ بن عوام تو تلوار ہاتھ میں لے کر حضرت عمرؓ کے مقابلہ کے لئے باہر نکل آئے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
’’زبیرؓ کو پکڑ لو۔‘‘
لوگوں نے زبیرؓ کو پکڑ کر تلوار ان کے ہاتھ سے چھین لی۔ اس پر مجبوراً زبیرؓ نے جا کر حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی۔ حضرت علیؓ سے بھی بیعت کرنے کا مطالبہ کیا گیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کہا۔ میں تمہاری بیعت نہ کروں گا کیونکہ میں تم سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں اور تمہیں میری بیعت کرنی چاہئے تھی۔ تم نے یہ کہہ کر انصار کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ہم رسول اللہﷺ کے قریبی عزیز ہیں اور آپ کے قریبی عزیز ہی خلافت کے حقدار ہیں۔ اس اصول کے مطابق تمہیں چاہئے تھا کہ خلافت ہمارے حوالے کرتے مگر تم نے اہلِ بیت سے چھین کر خلافت غصب کر لی۔ کیا تم نے انصار کے سامنے یہ دلیل پیش نہ کی تھی کہ ہم خلافت کے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ ہم میں سے تھے۔ اس لئے تم ہماری اطاعت قبول کرو اور خلافت ہمارے حوالے کرو؟ وہی دلیل جو تم نے انصارکے مقابلے میں پیش کی تھی اب میں تمہارے مقابلے میں پیش کرتا ہوں۔ ہم تم سے زیادہ رسول اللہﷺ کے قریبی عزیز ہیں۔ اس لئے خلافت ہمارا حق ہے۔ اگر تم میں ذرہ برابر ایمان ہے تو ہم سے انصاف کر کے خلافت ہمارے حوالے کرو۔ لیکن اگر تمہیں ظالم بننا پسند ہے تو جو تمہارا جی چاہے کرو تمہیں اختیار ہے۔
(ایضاً‘ ص 122)
آپ نے غور فرمایا کہ تاریخ نے جو دلیل حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ کی طرف منسوب کی تھی (کہ خلافت قریش میں رہے گی اور ہم رسول اللہﷺ کے اہلِ خاندان ہیں) اسے (تاریخ نے) کس سادگی سے حضرت علیؓ کی طرف لوٹایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دلیل کے بعد‘ سنی حضرات کا موقف اس قدر کمزور ہو جاتا ہے کہ ان سے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں بن پاتا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ (تاریخ نے) یہ دلیل اولاً حضرات شیخینؓ کی طرف کیوں منسوب کی تھی!
بہرحال‘ حضرت علیؓ کے اس جواب پر حضرت عمرؓ نے کہا:
میں اس وقت تک آپ کو نہ چھوڑں گا جب تک آپ بیعت نہ کریں گے۔
(ایضاً‘ ص 122)
اس کے بعد:
سرگرمیاں
حضرت علیؓ اس وقت تیزی میں آگئے اور کہنے لگے:
’’عمرؓ تم شوق سے دودھ دوہو جس میں تمہارا بھی حصہ ہے آج تم اس لئے خلافتِ ابوبکرؓ کی حمایت کر رہے ہو کہ کل کو خلافت تمہارے پاس لوٹ آئے گی لیکن میں کبھی ان کی بیعت نہ کروں گا۔‘‘
حضرت ابوبکرؓ کو ڈر پیدا ہوا کہ کہیں بات بڑھ نہ جائے اور درشت کلامی تک نوبت نہ آجائے انہوں نے کہا۔ ’’علیؓ! اگر تم بیعت نہیں کرتے تو میں بھی تمہیں مجبور نہیں کرتا۔‘‘
اس پر ابوعبیدہؓ بن الجراح حضرت علیؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور نہایت نرمی سے کہا۔ بھتیجے! تم ابھی کم عمر ہو اور یہ لوگ بزرگ ہیں۔ نہ تمہیں ان جیسا تجربہ حاصل ہے اور نہ تم ان کی طرح جہاندیدہ ہو۔ اگر قوم میں کوئی شخص رسول اللہﷺ کی جانشینی کے فرائض صحیح طور پر بجا لا سکتا اور خلافت کا بوجھ کماحقہ‘ اٹھا سکتا ہے تو وہ صرف ابوبکرؓ ہیں اس لئے تم ان کی خلافت قبول کر لو۔ اگر تم نے لمبی عمر پائی تو یقیناًاپنے علم و فضل۔ دینی رتبے‘ فہم و ذکاء‘ سابقیتِ اسلام‘ حسب و نسب اور رسول اللہﷺ کی دامادی کا شرف حاصل ہونے کے باعث تمہیں خلافت کے مستحق ٹھہرو گے۔‘‘
یہ سن کر حضرت علیؓ کے جوش کی انتہا نہ رہی اور وہ غصے سے بولے۔ ’’اللہ اللہ اے گروہِ مہاجرین! تم رسول اللہﷺ کی حکومت کو آپ کے گھر سے نکال کر اپنے گھروں میں داخل نہ کرو۔ آپ کے اہلِ بیت کو ان کے صحیح مقام پر سرفراز کرو اور ان کا حق انہیں دو۔ اے مہاجرین! اللہ کی قسم! ہمی خلافت اور حکومت کے مستحق ہیں کیونکہ ہم اہل بیت ہیں۔ ہم اس وقت تک اس کے حقدار ہیں جب تک ہم میں اللہ کی کتاب کا قاری‘ دین کا فقیہہ‘ رسول اللہﷺ کی سنت کا عالم‘ رعایا کی ضرورت سے واقف‘ ان کی تکالیف کو دور کرنے والا اور ان سے مساوات کا سلوک کرنے والا قائم ہے اور اللہ جانتا ہے کہ ہم میں ان صفات کا حامل موجود ہے‘ اس لئے اپنی خواہشات کی پیروی کر کے اللہ کے راستے سے گمراہی اختیار نہ کرو اور حق کے راستے سے دور نہ چلے جاؤ۔‘‘ راویوں کے بیان کے مطابق بشیر بن سعدؓ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جب انہوں نے حضرت علیؓ کی باتیں سنیں تو کہا۔ ’’اے علیؓ! اگر یہ باتیں جو اس وقت تم نے کہی ہیں انصار کا گروہ ابوبکرؓ کی بیعت سے پہلے سن لیتا تو وہ لوگ تمہارے سوا کسی کی بیعت نہ کرتے۔‘‘
اس گفتگو کے بعد حضرت علیؓ طیش میں بپھرے ہوئے گھر چلے گئے۔ جب رات ہوئی تو وہ حضرت فاطمہؓ کو لے کر باہر آئے اور انہیں ایک خچر پر بٹھا کر انصار کے پاس لے گئے۔ حضرت فاطمہؓ گھر گھر جاتیں اور ان سے حضرت علیؓ کی مدد کرنے کی درخواست کرتیں لیکن ہر جگہ سے انہیں یہی جواب ملتا۔
’’اے بنتِ رسول اللہﷺ! ہم ابوبکرؓ کی بیعت کر چکے ہیں۔ اگر آپ کے خاوند بیعت سے قبل ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی بیعت کر لیتے۔‘‘
یہ سن کر حضرت علیؓ غصہ میں آکر جواب دیتے۔ ’’کیا میں رسول اللہﷺ کی نعش کو بلا تجہیز و تکفین چھوڑ دیتا اور باہر نکل کر آپ کی جانشینی کے متعلق لڑتا جھگڑتا پھرتا؟‘‘
حضرت فاطمہؓ بھی کہتیں۔ ’’ابوالحسن (علیؓ) نے وہی کیا جو ان کے لئے مناسب تھا۔ باقی ان لوگوں نے جو کچھ کیا اللہ ان سے ضرور اس کا حساب لے گا اور بازپُرس کرے گا۔‘‘
(ایضاً‘ ص 122-25)
ہیکلؔ نے ان واقعات کو مختلف حوالوں سے نقل کیا ہے۔ اس باب میں بخاریؔ میں حسبِ ذیل روایت آئی ہے:
بخاریؔ کی حدیث
حضرت فاطمہؓ نبی ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں۔ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر علیؓ نے رات کو ان کو دفن کر دیا اور ان کے انتقال کی ابوبکرؓ کو اطلاع نہیں دی بلکہ خود ہی نماز پڑھ لی اور جب تک حضرت فاطمہؓ زندہ رہیں لوگوں کی نگاہوں میں حضرت علیؓ کا ایک خاص وقار رہا لیکن جب حضرت فاطمہؓ کا انتقال ہو گیا تو حضرت علیؓ نے محسوس کیا کہ لوگوں کے چہرے اب بدل گئے ہیں تو اب انہوں نے حضرت ابوبکرؓ سے صلح کر لینے اور بیعت کرنے کی خواہش کی۔ ان چھ ماہ تک انہوں نے بیعت 1؂ نہیں کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے ابوبکرؓ کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے پاس تشریف لایئے۔ مگر آپ کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نہ آئے۔ حضرت علیؓ کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ وہ حضرت عمرؓ کو ساتھ لائیں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا۔ ’’نہیں خدا کی قسم آپ ان کے ہاں تنہا نہیں جا سکیں گے۔ اس پر حضرت صدیقؓ نے کہا۔ تم کیا سمجھتے ہو۔ وہ میرا کیا کر لیں گے۔ خدا کی قسم میں ان کے پاس ضرور جاؤں گا۔ چنانچہ صدیقِ اکبرؓ تشریف لے گئے تو 1؂ حضرت علیؓ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا۔ ’’ہم آپ کی فضیلت کو اور جو کچھ خدا نے آپ کو عطا کیا ہے اسے پہچانتے ہیں اور کسی بھلائی پر جو حق تعالیٰ آپ کو عطا فرمائے ہم حسد نہیں کرتے لیکن تم نے امرِ خلافت میں ہمارے خلاف استبداد سے کام لیا ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہﷺ سے ہماری قرابت کی وجہ سے اس میں ہمارا حصہ ہے۔ 2؂
ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد ابوبکرؓ صدیق منبر پر چڑھے اور خطبہ دیا‘ اور بیعت سے علیؓ کے تخلف کی صورت کو بیان کیا اور جو عذر انہوں نے بیان کیا تھا اسے پیش کیا پھر مغفرت کی دعا مانگی اور (اس کے بعد) حضرت علیؓ نے خطبہ پڑھا اور حضرت ابوبکرؓ کے حقِ عظمت کو بیان کیا اور کہا کہ اب تک انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ ابوبکرؓ سے کسی حسد کی بنا پر نہیں کیا اور نہ اس فضیلت سے کسی انکار کی بنا پر جو خدا نے انہیں دی ہے بلکہ ہم سمجھتے تھے کہ امرِ خلافت میں ہمارا حصہ ہے اور ابوبکرؓ نے ہمارے خلاف استبداد سے کام لیا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے دلوں میں ناراض تھے۔
(صحیح بخاری‘ کتاب المغازی)
بخاری کی اس روایت میں چند باتیں بڑی غور طلب ہیں۔ مثلاً
(1) حضرت علیؓ حضرت ابوبکرؓ سے اس قدر ناراض تھے کہ انہوں نے حضرت فاطمہؓ کی وفات کی اطلاع تک نہیں دی اور چپکے ہی چپکے انہیں رات کو دفن کر دیا۔
(2) جب تک حضرت فاطمہؓ زندہ رہیں‘ حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہ کی لیکن ان کی وفات کے فوری بعد انہوں نے محسوس کیا کہ لوگوں کی نظروں میں ان کا پہلا سا وقار باقی نہیں رہا۔ اس لئے انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی جائے۔
(3) حضرت علیؓ نے اپنے حقِ خلافت کے لئے یہ دلیل دی کہ وہ رسول اللہﷺ کے قرابت دار ہیں۔
آپ غور کیجئے کہ تاریخ کے اس بیان کو اگر صحیح تسلیم کر لیا جائے تو اس سے حضرت علیؓ کے متعلق کیا تصور قائم ہوتا ہے؟
صحابہؓ کا اِرتداد؟
تاریخ کے بیان کے مطابق‘ حضرت علیؓ نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں نے انہیں خلافت سے محروم رکھا ہے انہوں نے غصب اور استبداد سے کام لیا ہے۔ یہی وہ ’’جرم‘‘ ہے جس کی بنا پر شیعہ حضرات کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد‘ بجز چند اصحاب (جنہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت نہیں کی تھی) باقی سب (معاذ اللہ) مرتد ہو گئے تھے۔ اس کے متعلق سُنّی حضرات یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ عقیدہ تعصب پر مبنی ہے لیکن اس کا کیا جواب کہ خود ان کی (حدیث کی) معتبر ترین کتاب‘ بخاری میں حسب ذیل روایت موجود ہے:
حضرت ابنِ عباسؓ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ برہنہ پا۔ برہنہ بدن۔ بغیر ختنہ کے حشر کئے جاؤ گے۔ آپﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہُ وَعْداً عَلَیْْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِیْنَ-(21:104) اور قیامت کے دن سب سے پہلے جسے کپڑے پہنائے جائیں گے وہ ابراہیمؑ ہیں۔ اور اس دن میرے چند صحابہؓ بائیں جانب (یعنی جہنم کی طرف) لئے جا رہے ہوں گے۔ میں کہوں گا یہ تو میرے صحابہؓ ہیں۔ پھر اللہ فرمائے گا یہ لوگ اپنے پچھلے دینؔ پر لوٹ گئے تھے۔1؂ جب سے آپ ان کے پاس سے جدا ہوئے۔ پس میں کہوں گا کہ نیک بندے (یعنی عیسٰیؑ ) نے کہا تھا۔ وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ۔۔۔ -(5:117)
(بخاری کتاب الانبیاء‘ ترجمہ شائع کردہ نور محمد‘ تاجر کتب‘ کراچی‘ جلد دوم‘ ص 149)
سوچئے کہ بخاریؔ کی اس حدیث کی رو سے بات کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے؟ یہ وہ صحابہؓ ہیں جن کے متعلق قرآن شہادت دیتا ہے کہ:
أُولَءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً۔۔۔ -(8:74)
’’یہی لوگ ہیں جو حقیقی مومن ہیں۔‘‘
اگر ان مومنین کے ایمان کی بھی یہ کیفیت تھی کہ اُدھر رسول اللہﷺ نے آنکھیں بند کیں اور اِدھر یہ (معاذ اللہ) ایمان سے پھر گئے‘ تو بہ دیگراں چہ رسد؟ اور اگر کوئی معترض یہ کہہ دے (اور کہنے والے کہتے ہی ہیں) کہ ’’درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ تو سوچئے کہ (ان روایات کی رُو سے) خود نبی اکرمﷺ کے متعلق (معاذ اللہ) کیا تصور سامنے آتا ہے۔
***
تاریخ‘ دینؔ بن چکی ہے
اس مقام پر آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ جس تاریخ کی یہ کیفیت ہے اسے مسترد کیوں نہ کر دیا جائے؟ ایسا کرنے میں کونسا امر مانع ہے؟ یہ بات بڑی معقول ہے اور ایسا کرنے میں کوئی دِقت نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ ہماری تاریخ کو تاریخ کے مقام سے اٹھا کر دینؔ بنا لیا گیا ہے۔ ان احادیث کے متعلق عقیدہ یہ ہے کہ یہ خدا کی طرف سے‘ رسول اللہﷺ کو بذریعہ وحی خفی ملی تھیں۔ اس لئے یہ قرآن کے ساتھ‘ قرآن کی مثل ہیں (مثلہ‘ معہ‘) اتنا ہی نہیں‘ ان کے متعلق یہ بھی عقیدہ ہے کہ اگر قرآن اور حدیث میں تضاد نظر آئے تو قرآن کو منسوخ سمجھو اور حدیث کو برقرار رکھو۔ کراچی کے ’’ادارۂ تحقیقِ حق‘‘ کی طرف سے ایک پمفلٹ شائع ہوا ہے جس کا نام ہے ’’فتنۂ انکارِ حدیث‘‘ اس کے مصنف ہیں ’’علامہ حافظ محمد ایوب صاحب دہلوی‘‘ وہ اس پمفلٹ میں لکھتے ہیں:
اگر کوئی کہے کہ فَاحْکُم بَیْْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ -(5:48) کے کیا معنی ہیں۔ نبی سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تو کتاب اللہ کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کر۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ’’مَا أَنزَلَ اللّہ‘‘ کے معنی صرف کتاب اللہ نہیں ہے۔ بلکہ ’’مَا أَنزَلَ اللّہ‘‘ کتاب اللہ بھی ہے اور حدیثِ رسول اللہﷺ بھی۔
(ص 52)
اس کے بعد لکھتے ہیں:
حدیث‘ قرآن کو منسوخ کر دیتی ہے
رہی یہ بات کہ قولِ رسولﷺ قرآن کے خلاف ہو تو وہ بھی حجت ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں ہے: کُتِبَ عَلَیْْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَکَ خَیْْراً الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْْنِ۔۔۔ (2:180)۔ تمہارے اوپر والدین کی وصیت فرض ہے۔ اگر کسی نے مال چھوڑا ہے جب کہ اسے موت آئے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ لا وصیۃ للوارث۔ وارث کے لئے وصیت نہیں اور تواتر سے ثابت ہے کہ عمل اسی حدیث پر رہا ہے۔ یعنی وارث کے لئے وصیت ناجائز قرار دی گئی۔ حدیث نے قرآن کی آیت کو منسوخ کر دیا اور قولِ رسولﷺ قرآن کی آیت کے خلاف حجت اور موجبِ عمل رہا۔
(ص 85)
اس کے بعد لکھتے ہیں:
اب اگر کہا جائے کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ رسولﷺ کا کوئی قول قرآن کے خلاف ہو اور رسولﷺ کا قول قرآن کو فسخ کر دے! تو پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ رسولﷺ کا قول اس کا اپنا قول نہیں ہوتا۔ وہ درحقیقت خدا کا قول ہوتا ہے۔ جس طرح قرآن خدا کا قول ہے اسی طرح رسولﷺ کا قول بھی خدا کا قول ہے۔ اور جس طرح قرآن کی ایک آیت قرآن کی دوسرے آیت کو منسوخ کر دیتی ہے۔ اسی طرح خدا کا ایک قول (یعنی قولِ رسولﷺ) دوسرے قول (یعنی قرآن) کو منسوخ کر دیتا ہے۔
(ص 86)
ہم نے یہ کہا تھا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم قرنِ اول (عہدِ محمد رسولﷺ اللہ والذین معہ‘) کی تاریخ 1؂ کے ذخیرہ کو قرآن کی روشنی میں پرکھ لیں۔ جو باتیں قرآن کے مطابق ہوں انہیں صحیح تسلیم کر لیا جائے۔ جو اس کے خلاف ہوں انہیں مسترد کر دیا جائے۔ اس کے جواب میں حافظ ایوب صاحب نے فرمایا:
قرآن اور حدیث میں اختلاف ہو سکتا ہے
جس طرح خدا کے قول کے حجت ہونے میں یہ شرط نہیں کہ وہ عقل کے مطابق ہو۔ بالکل اسی طرح نبیﷺ کے قول کے حجت ہونے میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ قرآن کے مطابق ہو۔ اس لئے کہ نبی کا قول بھی قول اللہ ہے اور قرآن بھی قول اللہ ہے اور اللہ کے دونوں قول ہیں۔ قرآن بھی اور حدیثِ رسول بھی۔ تو اللہ کے قول کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس میں تنوع نہ ہو۔ جس طرح کہ اس کے ایک فعل کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ دوسرے فعل کے مطابق ہو۔ ایک طرف پہاڑ کی چوٹی فلک تک پہنچ رہی ہے۔ دوسری طرف کھڈ کی گہرائی تحت الثریٰ تک پہنچ رہی ہے۔ جس طرح اس کے ایک فعل کا دوسرے فعل کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح اس کے ایک قول کا (یعنی حدیثِ رسولﷺ کا) اس کے دوسرے قول (یعنی قرآن) کے مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔
(ص 51)
***
ایک حدیث ہے جس میں کہا گیا ہے:
یکثر لکم الاحادیث من بعدی۔ فاذا روی عنی حدیث فاعرضوہ علیٰ کتاب اللہ۔ فما وافق فاقبلوہ۔ وما خالف فردوہ۔
(بحوالہ کتاب التوضیح والتلویح۔ ص 480)
یعنی رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ:
’’میرے بعد تم سے بہت سی احادیث بیان کی جائیں گی۔ سو جب کوئی حدیث میری طرف سے روایت کی جائے تو اسے کتاب اللہ کے سامنے پیش کرو جو اس کے موافق ہو اسے قبول کر لو۔ جو اس کے خلاف ہو اسے رَد کر دو۔‘‘
اس حدیث کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کہ یہ قرآن کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔ نبی اکرمﷺ کا کوئی ارشادِ قرآن کے خلاف ہو نہیں سکتا۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ ان حضرات کی طرف سے اس کا کیا جواب ملا؟ جماعتِ اہلِ حدیث کے ترجمان ماہنامہ‘ رحیق‘ نے اپنی اپریل 1958ء ؁ کی اشاعت میں لکھا:
حدیث کو قرآن کے مطابق ہونا چاہئے یہ عقیدہ مُلحِدوں کا ہے!
اس حدیث کو ملحدوں نے وضع کیا تھا اور انہی ملحدوں کے خیالات کی خوشہ چینی بکواس ازم کے یہ ممبران کر رہے ہیں۔ امام خطابی ؒ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
وضعہ الزنادقۃ الذین مقصودھم افساد الدین ویدفعہ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم انی اوتیت الکتاب و مثلہ معہ۔
(ظفر الامانی علی مختصر الجرجانی۔ ص 267)
یعنی ’’یہ روایت ان زندیقوں اور حدیث دشمنوں کی خود ساختہ حدیث ہے جن کا مقصد احادیث کو رد کر دینے سے دینی نظام کا فاسد و باطل کر دینا ہے اور اس حدیث کا بطلان آنحضرتﷺ کے اس ارشاد سے خود ہو جاتا ہے جس میں ارشاد ہے کہ میں قرآن دیا گیا ہوں اور قرآن کے مانند بھی دیا گیا ہوں۔ پس ’’حدیث‘‘ ہی قرآن کی مانند ہے۔ کیونکہ دوسری روایت میں تشریح ہے کہ ’’قرآن کے مانند‘‘ کا نام ’’حدیث‘‘ ہے۔ وہ روایت یہ ہے:
لا الفین احدکم متکئاً علیٰ اریکتہٖ یصل الیہ عنی الحدیث فیقول لانجد ھٰذا الحکم فی القراٰن الاوانی اوتیت القراٰن و مثلہ و معہ۔
(ظفر الامانی‘ ص 267)
دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
لیوشک الرجل متکئاً علیٰ اریکتہٖ یحدث بحدیثی فیقول بیننا و بینکم کتاب اللہ الحدیث۔ (دارمی‘ جلد اول‘ طبع مصر‘ ص 140)
اس قسم کی روایات الکفایہ (ص 1009) میں خطیبؒ نے ذکر کی ہیں جن میں صاف تصریح ہے کہ حدیث کو رد نہ کرو۔ مجھے قرآن کی طرح اور اس کی مانند ’’حدیث‘‘ بھی دی گئی ہے۔ امام خطابی ؒ کی طرح امام شافعیؒ ۔۔۔ امام لمحدثین عبدالرحمنؓ ابن مہدی وغیرہ نے بھی اس حدیث کو زندیقوں کا وضع کردہ لکھا ہے۔ امام بیہقی ؒ نے بھی فرمایا ہے کہ جو روایت سنتِ نبویہﷺ کو قرآن پر پیش کرنے کی خاطر بنائی گئی ہے وہ باطل ہے۔ علامہ مبشمیؒ نے لکھا ہے کہ اس میں ایک راوی متروک منکر الحدیث ہے۔ (مجمع الزوائد‘ جلد اول‘ ص68)
یعنی یہ مسلک کہ جو کچھ قرآن کے مطابق ہو اسے صحیح سمجھو۔ جو اس کے خلاف ہو‘ اسے غلط قرار دو‘ (ان حضرات کے نزدیک) ملحدین اور زنادقہ کا وضع کردہ ہے!
خِرد کا نام جنوں رکھ دیا‘ جنوں کا خِرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
***
گذشتہ اوراق جو آپ کی نظروں سے گذرے ہیں‘ ان سے یہ حقیقت آپ کے سامنے آچکی ہے کہ ہماری کتبِ احادیث و سیرو آثار میں ایسی باتیں موجود ہیں جو
(1) قرآنِ کریم کی واضح تعلیم کے یکسر خلاف ہیں۔
(2) جن سے نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی پر حرف آتا ہے۔
(3) جن سے صحابہ کبارؓ کی سیرت و کردار مطعون ہو جاتے ہیں۔
(4) جو علم و عقل کے بھی خلاف ہیں۔
اس کے بعد آپ کے دل میں لازماً یہ سوال ابھرے گا کہ:
یہ کیسے ہوا
(الف) اس قسم کی باتیں ان کتابوں میں آکیسے گئیں؟
(ب) ہزار برس سے یہ متواتر آگے منتقل کیسے ہوتی رہیں۔ یعنی لوگوں نے اس قسم کی باتوں کو ان کتابوں سے خارج کیوں نہ کر دیا؟ اور
(ج) آج بھی ہمارا قدامت پرست طبقہ ان باتوں کو صحیح ماننے اور صحیح منوانے پر اس قدر مصر کیوں ہے؟ اور
یہ سوالات ہر اس شخص کے دل میں پیدا ہونے چاہئیں جو ذرا بھی عقل و بصیرت سے کام لے اور ان امور پر غور و فکر کرے۔ جہاں تک پہلی دو شقوں کا تعلق ہے (یعنی اس قسم کی باتیں ہمارے لٹریچر میں آ کیسے گئیں اور قوم نے انہیں ان کتابوں سے خارج کیوں نہ کر دیا؟)اس کے متعلق تفصیلی بحث کی ضرورت ہے اور اس کے لئے مناسب موقعہ وہ ہے جب ہم اپنی پوری تاریخ کا ازسرِنو جائزہ لیں اور اس کے ایک ایک گوشے کے متعلق ریسرچ کریں۔۔۔ ظاہر ہے کہ ایک مقالہ میں اس کی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ ہم سرِدست صرف اس نکتہ کو پیش کریں گے کہ آج بھی اس قسم کی باتوں کو صحیح ماننے اور صحیح منوانے پر اس قدر زور کیوں دیا جا رہا ہے؟ اس نقطہ کی وضاحت ایک واقعہ سے ہو جائے گی۔ اسے غور سے سنئے۔
1958ء ؁ کی بات ہے کہ جماعتِ اسلامی کے اربابِ بست و کشاد کا ایک حلقہ۔۔۔۔۔۔ جماعت سے الگ ہو گیا۔ ان الگ ہونے والے حضرات نے اپنی علیحدگی کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہ بتائی تھی کہ جماعت کے دعوتی اور اشاعتی دَور میں جن اصولوں کو دین کی محکم اساس کے طور پر پیش کیا جاتا تھا‘ نظام کے عملی قیام کے وقت ان سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ 1؂ ظاہر ہے کہ یہ اعتراض بڑا وقیع اور یہ جرم بڑا سنگین تھا لیکن (مرحوم) مودودیؔ صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ میں نے یہ کونسا انوکھا کام کیا ہے۔
ایسا (معاذ اللہ) رسولﷺ اللہ نے بھی کیا تھا!
(معاذ اللہ۔ معاذ اللہ) خود نبی اکرمﷺ نے اسلام کے اشاعتی دور میں جو اصول بیان فرمائے تھے اس کے عملی قیام کے وقت ان میں لچک پیدا کر لی تھی۔ مثلاً
اسلامی نظام کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تمام نسلی اور قبائلی امتیازات کو ختم کر کے اس برادری میں شامل ہونے والے سب لوگوں کو یکساں حقوق دیئے جائیں اور تقویٰ کے سوا فرق مراتب کی کوئی بنیاد نہ رہنے دی جائے۔ اس چیز کو قرآن مجید میں بھی پیش کیا گیا اور حضورﷺ نے بھی بار بار اس کو نہ صرف زبانِ مبارک سے بیان فرمایا بلکہ عملاً موالی اور غلام زادوں کو امارت کے مناصب دے کر واقعی مساوات قائم کرنے کی کوشش بھی فرمائی۔ لیکن
جب پوری مملکت کی فرمانروائی کا مسئلہ سامنے آیا تو آپ نے ہدایت دی کہ ’’الائمۃ من قریش‘‘ امام قریش میں سے ہوں۔
ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اس خاص مسئلہ میں یہ ہدایت مساوات کے اس عام اصول کے خلاف پڑتی ہے جو کلیہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
آپ نے غور فرمایا کہ اس وضعی روایت سے جو ہماری کتبِ تاریخ میں درج ہے (اور جس کا ذکر پہلے آچکا ہے) مودودیؔ (مرحوم) نے کس طرح فائدہ اٹھایا۔ ظاہر ہے کہ اگر معاملہ صرف قرآن تک رہتا اور دین میں اسی کو سند مانا جاتا تو مرحوم کو اپنی روش کی تائید میں کوئی دلیل و سند نہ مل سکتی۔ لیکن چونکہ تاریخ کو (قرآن کے برابر بلکہ اس سے بھی افضل) سند مان لیا گیا ہے اور اس میں ہر قسم کا رطب و یابس مسالہ موجود ہے۔ اس لئے اس سے ہر شخص کو اس کے ہر فیصلے اور عمل کی سند مل سکتی ہے۔
جماعت سے الگ ہونے والوں نے اس کے جواب میں کہا:
غور فرمایئے۔ اگر یہ طریقِ کار خدا کے آخری نبیﷺ نے اختیار فرمایا تھا اور اگر اسلامی تحریک اس اسوۂ حسنہ کے مطابق اس طریقِ کار کو اپنا معمول بناتی ہے اور ہر کوئی ایسی جماعت جو اقامتِ دین کی علمبردار ہو وہ اس اصول کو بطور فلسفہ اور عقیدہ کے طے کر لیتی ہے کہ اسلامی نظام کے دعوتی اور اشاعتی دور میں جو اصول بیان کئے جائیں اور جن پر لوگوں کو جمع کیا جائے۔ جب اسلامی نظام کو عملاً قائم کرنے کا وقت آئے گا تو اس تحریک کے قائد کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ توحید و رسالت ایسے اساسی اصولوں کے علاوہ‘ تحریک کے مفاد کے لئے جس اصول میں ضروری خیال کرے استثناء پیدا کر لے۔ اس پر عمل کرنے سے اپنی جماعت کو روک دے۔ جو ضمانت اس تحریک نے عوام کو اپنے ابتدائی دور میں دی ہو اس میں سے جس جزو کو وہ دین کی مصلحت کے لئے مُضر خیال کرے ساقط کر دے (جیسا کہ مبینہ مثال میں حضورﷺ نے مساوات اور حقِ خلافت ایسے اصول اور ضمانت پر صحابہؓ کو عمل کرنے سے روک دیا تھا) تو اس اسلامی تحریک اور اقامتِ دین کی جدوجہد‘ اور ان طالع آزما سیاست دانوں کی تحریکات کے مابین کیا فرق باقی رہ جائے گا جو حصولِ اقتدار سے پہلے نہایت پاکیزہ اصول بیان کرتے ہیں۔ بہت حسین وعدے عوام سے کرتے ہیں اور انہی اصولوں اور وعدوں کی بنیاد پر وہ لوگوں کی حمایت و تائید حاصل کرتے ہیں۔ جب انہیں اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو وہ اقتدار کو قائم رکھنے کی عملی مشکلات سے مجبور ہو کر ان وعدوں اور اصولوں کی خلاف ورزی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
جھوٹ بولنا بھی جائز ہے
اس پر مودودیؔ (مرحوم) ایک قدم اور آگے بڑھے اور فرمایا کہ اقامتِ دین جیسے اہم مقصد کے حصول کے لئے اصولوں میں لچک اور استثنیٰ تو ایک طرف ان کے لئے جھوٹ بولنا بھی نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا:
راستبازی اور صداقت شعاری اسلام کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے اور جھوٹ اس کی نگاہ میں ایک بدترین برائی ہے۔ لیکن عملی زندگی کی بعض ضرورتیں ایسی ہیں جن کی خاطر جھوٹ کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ بعض حالات میں اس کے وجوب تک کا فتویٰ دیا گیا ہے۔
(ترجمان القرآن۔ مئی 1958ء ؁)
حدیث سے اس کا ثبوت
آپ حیران ہوں گے کہ مرحوم نے ایسا کہنے کی جرأت کیسے کر لی اور اس کی تائید میں ان کے پاس کون سی سند ہو سکتی تھی؟ لیکن جس تاریخ سے انہوں نے پہلی سند پیش کی تھی اسی سے انہیں اس کی سند بھی مل گئی۔ چنانچہ انہوں نے ’’جھوٹ کے وجوب‘‘ میں دو تین حدیثیں نقل کر دیں۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ:
اسماء بنت یزید نبی اکرمﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ جھوٹ جائز نہیں ہے۔ مگر تین چیزوں میں۔ مرد کی بات عورت سے تاکہ وہ اسے راضی کرے۔ جنگ اور اصلاحِ بین الناس۔
(ترمذی)
اس کے بعد انہوں نے (معاذ اللہ) نبی اکرمﷺ کے اسوۂ حسنہ سے بھی اس کی مثالیں پیش کر دیں۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
اس کی عملی مثالیں بھی احادیث میں موجود ہیں۔ کعب بن اشرف کے قتل کے لئے محمد بن مسلم کو جب حضورﷺ نے مامور کیا تو انہوں نے اجازت مانگی کہ اگر کچھ جھوٹ بولنا پڑے تو بول سکتا ہوں؟ حضورﷺ نے بالفاظِ صریح انہیں اس کی اجازت دی۔
(بخاری)
اسلام اور نظامِ سرمایہ داری
امید ہے کہ اس سے یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی ہو گی کہ یہ حضرات تاریخ اور روایات کے اس قسم کے بیانات اور واقعات کو (جن کا خلافِ قرآن اور غلط ہونا بدیہیات میں سے ہے) سچا اور دین میں سند تسلیم کرانے پر کیوں زور دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ (جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے) اگر سند قرآن رہے اور اس اصول کو تسلیم کرا لیا جائے کہ قرنِ اول کی تاریخ کا جو بیان قرآن کے خلاف ہے وہ غلط ہے‘ تو کسی کو اپنی فریب کاریوں اور کذب تراشیوں کے لئے دینی سند نہیں مل سکتی۔ ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب اس قسم کے تاریخی بیانات کو دین میں سند تسلیم کرا لیا جائے اور پھر انہیں اپنے فیصلوں کی تائید میں پیش کر دیا جائے۔ اس سے ہمارا مطلب یہ نہیں کہ اس طبقہ کے تمام افرادِ اسی جذبہ کے تحت ان باتوں کو صحیح مانتے اور صحیح منواتے ہیں۔ ان میں بیشتر حصہ ان افراد پر مشتمل ہے جو ان باتوں کو نیک نیتی سے سچا مانتا ہے۔ یہ اس لئے کہ صدیوں کی تقلید سے ان میں سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ ان کے نزدیک دین کے معاملات میں غور و فکر سے کام لینا جائز نہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ ہوتا چلا آرہا ہے۔ وہی صحیح ہے اس پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی جا سکتی۔ یہ حضرات اس تاریخ کی حفاظت و ترویج کو عین دینی خدمت سمجھتے ہیں۔ مفاد پرست طبقہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے اس قسم کی باتیں وضع کر کے انہیں ابتداًء ہماری تاریخ میں شامل کیا تھا۔ یہی اسے صدیوں سے مسلسل و متوارث آگے بڑھائے چلا آرہا ہے اور یہی آج اس کے تحفظ کا سب سے بڑا علمبردار بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کی ایک مثال سنئے۔ ہم شروع میں بتا چکے ہیں کہ قرآن نے جس نظام کو الدینؔ کہا ہے اس میں فاضلہ دولت کسی کے پاس جمع نہیں رہتی۔ وہ نوعِ انسانی کی بہبود کے لئے امت (یا نظام) کی تحویل میں چلی جاتی ہے۔ اس باب میں قرآن کی تعلیم ایسی واضح‘ بین اور صاف ہے کہ اس میں کسی قسم کی تاویل و تعبیر کی گنجائش نہیں۔ ظاہر ہے کہ عہدِ محمد رسول اللہﷺ والذین معہ‘ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) میں قرآن کی اسی تعلیم پر عمل ہوتا رہا۔ لیکن اس کے بعد جب خلافت ملوکیت میں بدل گئی اور سرمایہ دارانہ نظام ہجوم کر کے آگیا تو اس کی ضرورت پڑی کہ اس کی تائید اور جواز کے لئے سندیں وضع کی جائیں۔ یہ اسناد قرآن سے تو مل نہیں سکتی تھیں کیونکہ اس میں تغیر و تبدل اور حک و اضافہ کی گنجائش نہیں تھی۔ اس کے لئے تاریخ کا چور دروازہ ہی کام دے سکتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس سے کام لیا اور اس قسم کی روایات وضع کیں۔ جن سے نظامِ سرمایہ داری‘ زمینداری اور جاگیرداری کا نظام عین مطابقِ سنتِ رسول اللہﷺ و سنتِ صحابہؓ قرار پا جائے۔ مثلاً ایک روایت میں ہے:

مشکوٰۃ کی ایک حدیث
ابنِ عباسؓ کہتے ہیں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔۔۔ ۔۔۔
وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ-(9:34)o
’’جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں اور اسے خدا کی راہ میں کُھلا نہیں رکھتے۔ اے رسولﷺ تو انہیں دردناک عذاب سے آگاہ کر دے۔‘‘
تو مسلمانوں پر اس کا خاص اثر ہوا یعنی انہوں نے اس حکم کو گراں خیال کیا۔ حضرت عمرؓ نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہاری اس فکر کو دُور کر دُوں گا اور اِس مشکل کو حل کروں گا۔ پس عمرؓ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا‘ یا نبیؐ اللہ یہ آیت آپﷺ کے صحابہؓ پر گراں ہوئی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا خداوند تعالیٰ نے زکوٰۃ اس لئے فرض کی ہے کہ وہ تمہارے باقی مال کو پاک کر دے اور میراث کو اس لئے فرض کیا ہے کہ جو لوگ تمہارے بعد رہ جائیں ان کو مال مل جائے۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کا یہ بیان سُن کر عمرؓ نے جوشِ مسرت سے اللہ اکبر کہا۔ اس کے بعد حضورﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو ایک ایسی بہترین چیز کا پتہ نہ دوں جس کو انسان جمع کر کے خوش ہو اور وہ چیز نیک بخت عورت ہے۔ اس کی طرف مرد دیکھے تو اس کا دل خوش ہو اور جب مرد اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جب وہ غائب ہو تو اس کے مال و دولت کی حفاظت کرے۔
(ابوداؤد)‘ (مشکوٰۃ‘ جلد اول‘ اردو ترجمہ‘ ص 309)
یہ روایت زبانِ حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یہ وضع کردہ ہے۔ یہ کبھی تصور میں بھی نہیں آسکتا ہے کہ خدا کا ایک حکم ہو اور صحابہؓ پر وہ گراں گذرے؟ پھر ان میں سے (کوئی اور بھی نہیں) حضرت عمرؓ اس حکم کو بدلوانے کے لئے رسول اللہﷺ کے پاس جائیں۔ اور رسول اللہﷺ خدا کے اس حکم کو یوں بدل دیں کہ اگر تم اڑھائی فیصد سالانہ ادا کر دو تو تمہیں اجازت ہے کہ سونے چاندی کے ڈھیر جمع کرتے رہو۔ روایت کا انداز بتا رہا ہے کہ یہ بعد کے دور کی وضع کردہ ہے۔ لیکن چونکہ اس سے سرمایہ دارانہ نظام کا تحفظ ہوتا ہے اس لئے مفاد پرست گروہ اسے صحیح ترین حدیث قرار دے کر برابر آگے بڑھائے چلا جا رہا ہے۔ اسی قسم کی روایات ہیں جو آج بھی سرمایہ داری۔ زمینداری اور جاگیرداری کی تائید میں بڑھ چڑھ کر پیش کی جاتی ہیں اور جب کوئی یہ کہے کہ یہ چیزیں قرآن کے خلاف ہیں تو اسے یہ کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ تم قرآن کو زیادہ سمجھتے ہو یا رسول اللہﷺ اور صحابہ کبارؓ زیادہ سمجھتے تھے!
***
چونکہ اس مقالہ میں پوری تاریخ کا استقصاء مقصود نہیں اس لئے ہم انہی مثالوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ آپ ان واقعات کو پھر سے سامنے لایئے جو خلیفہ اول کے انتخاب کے ضمن میں ہماری کتبِ احادیث و آثار میں بیان ہوئے ہیں اور پھر سوچئے کہ اگر اس تاریخ کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو دنیا میں اسلام اور متبعینِ اسلام کی پوزیشن کیا رہ جاتی ہے؟
پَس چہ بَاید کرد؟
سوال یہ ہے کہ ان حالات میں کیا کیا جائے؟ اس کا جواب آسان ہے یعنی:
(1) ہمارا ایمان ہے کہ قرآنِ کریم خدا کی کتاب ہے جو حرفاً حرفاً اپنی حقیقی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے۔
(2) رسول اللہﷺ اور آپﷺ کے صحابہ کبارؓ کی زندگی قرآن کے مطابق تھی۔ لہٰذا
(3) اگر اس دَور کی تاریخ میں ہمیں کوئی بات ایسی ملے جو قرآنی تعلیم کے خلاف ہے تو ہمیں بلا تامل کہہ دینا چاہئے کہ تاریخ کا وہ بیان غلط ہے۔ خواہ وہ حدیث کے کسی مجموعہ میں ہو‘ یا کسی اور کتاب میں۔
(4) مندرجہ بالا اصول کی روشنی میں ہمیں قرنِ اول کی تاریخ کو ازسرِنو مرتب کرنا چاہئے۔ اس تاریخ سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ اس دَور میں قرآنِ کریم پر اس طرح عمل ہوا تھا۔
(5) اس دَور کے بعد قرآنی نظام باقی نہیں رہا تھا‘ اس لئے اس وقت سے آج تک کی تاریخ مسلمان قوم کی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ نہ اسلام کی صحیح تعبیر کہلا سکتی ہے‘ نہ ہمارے لئے دلیل اور حجت بن سکتی۔ نہ ہی ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ان لوگوں کی مدافعت میں اپنا وقت اور توانائیاں صرف کریں۔ جنہیں اسلاف کہا جاتا ہے ان کے متعلق ہم اس سے زیادہ ماننے کے مکلف نہیں کہ
تِلْکَ أُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُم مَّا کَسَبْتُمْ وَلاَ تُسْأَلُونَ عَمَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ-(2:141)
یہ وہ لوگ ہیں جو گذر چکے ہیں۔ انہوں نے جو کچھ کیا اس کا نتیجہ ان کے لئے تھا۔ تم جو کچھ کرو گے اس کا نتیجہ تمہارے لئے ہو گا۔ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا کیا تھا؟
(6) جہاں تک قرآنِ کریم کے سمجھنے کا تعلق ہے اسے ہر زمانہ میں براہِ راست سمجھا جا سکتا ہے۔ دین میں سند اور حجت قرآن ہے اور یہی ہمارے لئے غلط اور صحیح
حق اور باطل کا معیار ہے۔ جو اس کے مطابق ہے وہ حق ہے جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے۔
جب تک ہم اس مسلک پر عمل پیرا نہیں ہوتے‘ دین ہمارے سامنے نہیں آسکتا۔
***
تکملہ:۔ یہ مقالہ آج سے قریب بائیس سال 1؂ پہلے کا نوشتہ ہے۔ اسے اس موقعہ پر دوبارہ شائع کرنے کا ایک خاص مقصد ہے۔ آج کل ہمارے ہاں ’’اسلامی نظام‘‘ کا خاص چرچا ہے اور اس موضوع پر بڑی کثرت سے لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ ان میں سے ہر محققؔ کی تان اس پر ٹوٹتی ہے کہ اسلامی نظام کا جو نقشہ صدرِ اول میں قائم ہوا تھا‘ ہمیں اسی قسم کا نظام اپنے ہاں قائم کرنا چاہئے۔ اس کے لئے ہر ایک‘ اپنے اپنے نقشہ کی تائید میں تاریخی شواہد پیش کرتا ہے‘ اور چونکہ ان نقشوں میں باہمی اختلاف ہوتا ہے اس لئے ملک میں عجیب قسم کا ذہنی انتشار پیدا ہو رہا ہے۔ اندریں حالات‘ ہم نے مناسب سمجھا کہ صدرِ اول کی جو تاریخ ہم تک پہنچی ہے اس کی ایک خفیف سے جھلک قوم کے سامنے لائی جائے تاکہ اسے اندازہ ہو جائے کہ روایات کی طرح تاریخ بھی یقینی ذریعہ علم نہیں۔
یاد رکھئے! دینؔ کے متعلق یقینی اور مبنی برحقیقت علم‘ خدا کی کتاب (قرآنِ مجید) کے اندر محفوظ ہے جس میں ایک حرف کا بھی تغیر و تبدل نہیں ہوا۔ اس لئے وہی نظریہ‘ عقیدہ‘ مسلک‘ قانون یا نظام اسلامی کہلا سکتا ہے جس کی سند قرآن سے حاصل ہو۔
حق وہی ہے جو قرآن کے مطابق ہے۔ جو اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے خواہ اس کی نسبت کسی کی طرف کیوں نہ کر دی جائے۔ اس مقالہ میں بھی جو تاریخی بیانات قرآن کے خلاف ہیں‘ انہیں ہم وضعی قرار دیتے ہیں۔
***

2,075 total views, no views today

(Visited 317 times, 1 visits today)

اِلزامات اور اُن کی حقیقت – اِدارہ طلوعِ اِسلام

بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جس نے اپنی زندگی کا مشن یہ قرار دے رکھا ہے کہ طلوع اسلام کے خلاف بے بنیاد الزامات تراشے جائیں اور پھر انہیں ملک میں اس شد و مد سے پھیلایا جائے کہ لوگ اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر‘ طلوع اسلام کی بات سننا گوارا نہ کریں۔ چونکہ اس جھوٹے پروپیگنڈہ میں اس طبقہ کے سامنے ایک خاص مقصد ہے‘ اور وہ ایسا دانستہ کرتے ہیں‘ اس لئے ان لوگوں سے کچھ کہنا سننا بیکار ہے۔ البتہ جو سادہ لوح اور نیک نیت انسان ان کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر دل میں غلط خیال قائم کر لیتے ہیں‘ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ مختصر الفاظ میں‘ اصل حقیقت ان کے سامنے پیش کر دی جائے۔ تاکہ وہ اس بدظنی سے بچ جائیں جسے قرآن مجید نے یہ کہہ کر گناہ قرار دیا ہے کہ
یایھا الذین امنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم۔ (49:12)
اے ایمان والو! کسی کے خلاف بدظنی سے بہت زیادہ بچو ‘ اس لئے کہ بعض بدظنی (انسان کو) گناہ (تک پہنچا دیتی) ہے۔

پہلا اِلزام – طلوعِ اِسلام منکرِ حدیث ہے

یہ الزام قطعاً غلط ہے۔ ہم جو کہتے ہیں صرف اس قدر ہے کہ نبی اکرمؐ کی سیرتِ مقدسہ‘ انسانی شرف اور کردار کی انتہائی بلندی پر ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری کتبِ روایات میں ایسی باتیں بھی آگئی ہیں جن سے حضورؐ کی سیرت پر طعن پڑتا ہے۔ غیر مسلم انہی روایات کی بنا پر آئے دن حضورؐ کی ذاتِ اقدس پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس قسم کی روایات وضعی ہیں۔ ان کے متعلق ہمیں صاف الفاظ میں کہہ دینا چاہئے کہ وہ رسولؐ اللہ کے اقوال و افعال نہیں ہیں۔ یہی ہیں وہ روایات جن کے صحیح ہونے سے ہم انکار کرتے ہیں۔ مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیمؑ نے تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا (بخاری) ہم اسے صحیح حدیث نہیں مانتے‘ اور ہمارا خیال ہے کہ آپ بھی صحیح نہیں مانتے ہوں گے۔ اس قسم کی حدیثوں کے متعلق ہم کہتے یہ ہیں کہ یہ رسولؐ اللہ کی ہو نہیں سکتیں۔ یہ وضعی ہیں اور حضورؐ کی طرف یونہی منسوب کر دی گئی ہیں۔ یعنی ہم رسولؐ اللہ کی حدیث کا انکار نہیں کرتے بلکہ کہتے یہ ہیں کہ اس قسم کی احادیث کی حضورؐ کی طرف نسبت صحیح نہیں ہے۔
ایسی روایات کو چھوڑ کر‘ وہ احادیث جو نہ قرآن مجید کے خلاف ہوں اور نہ جن سے نبی اکرمؐ یا صحابہ کرامؓ کی شان کے خلاف کوئی طعن پڑتا ہو‘ ہم انہیں صحیح تسلیم کرتے ہیں۔
*********

دوسرا اِلزام – طلوعِ اِسلام منکرِ سنت ہے

اس سنگین ترین الزام کی تردید میں ہم اس سے زیادہ کچھ اور کہنا ضروری نہیں سمجھتے کہ پرویز صاحب کی مایہ ناز کتاب‘ معراج انسانیت1؂ ‘ کا ایک اقتباس درج کر دیں جو طلوع اسلام کے صفحات میں کئی بار پیش کیا جا چکا ہے۔ وہ لکھتے ہیں -:
خدائے جلیل نے اپنے بندوں سے جو کچھ کہنا تھا آخری مرتبہ کہہ دیا۔ شرفِ انسانیت کی تکمیل کے لئے جو قوانین دیئے جانے تھے وہ اپنی انتہائی شکل میں دے دیئے گئے۔ اس کے بعد انسان کو اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لئے کسی دوسری مشعلِ راہ کی ضرورت‘ اور کسی اور ہادئ طریقت کی احتیاج نہ رہی۔ اب انسانیت کے مقامِ بلند تک پہنچنے کے لئے وہی ایک صراط مستقیم ہے جس پر اس ذاتِ اقدس و اعظمؐ کے نقوشِ قدم جگمگ جگمگ کر رہے ہیں اور جس کو دیکھ کر ہر خبیر و بصیر پکار اٹھتا ہے کہ؂
مقامِ خویش اگر خواہی دریں دیر
بحق دل بند و راہِ مصطفی رَو
(معراج انسانیت ص 175)
جس کا یہ ایمان ہو کیا اُسے منکرِ سُنت کہا جا سکتا ہے؟
*********

تیسرا اِلزام – طلوعِ اِسلام رسالت پر ایمان ضروری نہیں سمجھتا

اس الزام کی تردید میں بھی ہم پرویز صاحب کی تحریر کا ایک اقتباس پیش کر دینا کافی سمجھتے ہیں۔ وہ ’’سلیم کے نام خطوط‘‘ (جلد اول ص 84) میں لکھتے ہیں
ذرا سوچو کہ جب ایک مسلمان کہتا ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے تو اس کے پاس اس دعویٰ کی دلیل کیا ہے کہ قرآن واقعی خدا کا کلام ہے (معاذ اللہ! رسولؐ اللہ کا خود ساختہ نہیں۔) تاریخ شاہد ہے (اور اس کا ہمیں بھی اقرار ہے) کہ دنیا کو قرآن محمدؐ ابن عبداللہ نے دیا تھا۔ پھر یہ خدا کا کلام کیسے ہوا؟ اس کا صرف ایک ہی ثبوت ہے کہ خود محمدؐ ابن عبداللہ نے یہ کہا ہے کہ یہ کلام میرا نہیں‘ خدا کا ہے۔ اس لئے جب تک کوئی شخص محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت پر ایمان نہ لائے‘ قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان نہیں لا سکتا۔
*********

چوتھا اِلزام – طلوعِ اِسلام سنتِ رسول اللہ کو حُجت نہیں مانتا

جیسا کہ ’’الزام نمبر 6‘‘ کے تحت آپ دیکھیں گے‘ طلوع اسلام کا عقیدہ اور مسلک یہ ہے کہ مختلف ارکانِ اسلام (نماز روزہ وغیرہ) کو اُمت کے مختلف فرقے‘ جس جس طریقے سے ادا کرتے چلے آرہے ہیں‘ کسی شخص کو حق حاصل نہیں کہ ان میں کسی قسم کا رد و بدل کر سکے‘ یا کوئی نیا طریقہ وضع کرے۔
اب سوچئے کہ جو شخص (مثلاً) نماز کے مروجہ طریقہ میں نہ خود رد و بدل کرتا ہے نہ کسی اور شخص کو اس کا حق دیتا ہے‘ وہ سنتِ رسولؐ اللہ کو حجت نہیں مانتا تو اور کیا کرتا ہے۔ حجت کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ اسے مستند سمجھا جائے اور کسی شخص کو اس میں رد و بدل کرنے کا مجاز نہ سمجھا جائے۔
*********

پانچواں اِلزام – طلوعِ اِسلام حکومت کی اِطاعت کو خدا اور رسول کی اِطاعت قرار دیتا ہے

اس الزام کی تردید میں ہم پر پرویز صاحب کے اس خط کا متعلقہ اقتباس درج کر دینا کافی سمجھتے ہیں جو انہوں نے (کفر کے فتویٰ کے جواب میں) مفتی محمد شفیع صاحب کے نام لکھا تھا۔

اطاعتِ رسول اور اطاعتِ خدا کے متعلق جو کچھ میں کہتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صورت یہ نہیں تھی کہ ہر شخص اپنے اپنے مفہوم کے مطابق خدا اور رسولؐ کی اطاعت کر لیتا تھا۔ اس کی صحیح شکل تھی کہ حضورؐ کے بعد جو خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہوئی تھی اس سے پوچھا جاتا تھا کہ فلاں معاملہ میں خدا اور رسولؐ کی اطاعت کس طرح کی جائے گی جو فیصلہ وہاں سے ملتا اسے خدا اور رسول کی اطاعت سمجھا جاتا۔ اسی سے وحدتِ امت قائم تھی۔ جب خلافت باقی نہ رہی تو خدا اور رسولؐ کی اطاعت انفرادی طور پر ہونے لگی۔ اس سے امت میں افتراق پیدا ہوا۔ امت میں دوبارہ وحدت پیدا کرنے کی صورت یہ ہے کہ پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم کی جائے اور اس کے فیصلوں کے مطابق خدا اور رسولؐ کی اطاعت کی جائے۔ اسی خلافت کو بغرضِ اختصار‘ مرکزِ ملت یا اسلامی نظام سے تعبیر کیا جاتا ہے اور میں اس کی بار بار وضاحت کر چکا ہوں۔ میں نہ ہر نظامِ حکومت کو اسلامی نظام کہتا ہوں اور نہ اس کے فیصلوں کی اطاعت کو خدا اور رسولؐ کی اطاعت۔۔ میرے نزدیک خلافت علیٰ منہاج نبوت کے علاوہ کوئی نظام اسلامی نہیں کہلا سکتا۔ اور نہ اسے مرکزِ ملت قرار دیا جا سکتا ہے۔
(طلوع اسلام۔ مئی جون 62 ؁ء ص 152-153)
جہاں تک ہمارا تعلق ہے‘ ہم اپنے آپ کو نہ اس وقت ان طریقوں میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا مجاز سمجھتے ہیں جن پر اُمت کاربند ہے نہ خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس کا مجاز سمجھیں گے۔ ہم اس وقت اس طریقے کے مطابق چلیں گے جس پر وہ خلافت ہمیں چلائے گی۔ البتہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر دین کی حکمت اور امت کی بہتری کی خاطر وہ خلافت کسی سابقہ فیصلہ میں کچھ تبدیلی کرنا چاہے‘ تو وہ ایسا کرنے کی مجاز ہو گی (مثلاً) نبی اکرمؐ کے زمانہ میں تمام مفتوحہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کر دی جاتی تھیں‘ لیکن حضرت عمرؓ نے اپنے زمانے میں اس طریق کو بدل دیا اور مفتوحہ زمینوں کو‘ حکومت کی تحویل میں لے لیا‘ تاکہ اس سے افراد مملکت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب پھر اسی قسم کی خلافت قائم ہو جائے‘ جیسی حضرت عمرؓ کے زمانے میں تھی‘ تو وہ اس قسم کے فیصلے کرنے کی مجاز ہو گی۔
*********

چھٹا اِلزام – تین نمازیں – نو دن کے روزے

کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام کہتا ہے کہ نمازیں صرف تین وقت کی ہیں اور روزے نو دن کے۔

یہ سرتاسر جھوٹ ہے۔ طلوع اسلام نے کبھی ایسا نہیں کہا۔ اس کے برعکس ہم نے بار بار اعلان کیا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز‘ روزہ وغیرہ کی ادائیگی کرتے چلے آرہے ہیں‘ ہمیں ان میں کسی قسم کے تغیر و تبدل کا حق حاصل نہیں‘ نہ ہی کوئی نیا طریقہ ایجاد کرنے کا۔۔ البتہ ہم یہ ضروری کہتے ہیں کہ
(1) ان باتوں میں مختلف فرقوں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے ان کی بنا پر آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہئے۔۔۔ اور
(2) نماز‘ روزہ وغیرہ کو محض رسمی طور پر ادا نہیں کر لینا چاہئے۔ اس روح اور مقصد کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جن کے لئے یہ احکام دیئے گئے تھے۔ رسمی نمازیں اور بے روح روزے‘ وہ انقلاب نہیں پیدا کر سکتے جو انقلاب محمد رسولؐ اللہ والذین معہؓ نے دنیا میں پید اکر کے دکھایا تھا۔
*********

ساتواں اِلزام – اُردو میں نماز

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طلوع اسلام نے اُردو میں نماز پڑھنے کا طریقہ ایجاد کیا ہے‘ یہ طلوع اسلام کے خلاف کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ کچھ سال اُدھر کا ذکر ہے کہ لاہور میں کسی صاحب نے عید کی نماز اُردو میں پڑھائی۔ جب اس واقعہ کی خبر طلوع اسلام کو پہنچی (جس کا دفتر اُس زمانہ میں کراچی میں تھا) تو اُس نے‘ سب سے پہلے اس کی مخالفت کی اور لاہور میں بڑے بڑے پوسٹر اس کے خلاف لگوائے۔ اس کے بعد یہ آج تک اس تحریک کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے۔
اس ایک واقعہ سے اندازہ لگایئے کہ طلوع اِسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے کس دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں۔
*********

آٹھواں اِلزام – طلوعِ اِسلام ایک نیا فرقہ پیدا کرنا چاہتا ہے

طلوع اسلام پہلے دن سے اعلان کرتا چلا آرہا ہے کہ اسلام دُنیا میں امتِ واحدہ پیدا کرنے کے لئے آیا تھا اور نبی اکرمؐ نے ایسی اُمت پیدا کر کے دکھا دی تھی جس میں کوئی فرقہ نہیں تھا۔ قرآن کی رُو سے فرقہ بندی شرک ہے۔
اب ظاہر ہے کہ جس بات کو طلوع اسلام‘ خلافِ اسلام اور شرک قرار دیتا ہے کیا وہ خود اس کا مرتکب ہو سکتا ہے؟ طلوع اسلام کا تعلق نہ کسی سیاسی پارٹی سے ہے نہ کسی مذہبی فرقہ سے‘ نہ ہی وہ کوئی اپنی سیاسی پارٹی بنانا چاہتا ہے نہ مذہبی فرقہ۔ وہ امت میں اتحاد کا علمبردار ہے اور پوری نوع انسانی کا ایک عالمگیر برادری بنانے کا داعی۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے۔
*********

نواں اِلزام – طلوعِ اِسلام قرآن کو نئے معنی پہناتا ہے

اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو حکم دیا ہے کہ وہ قرآن کریم میں غور و فکر کرے وہ اس میں غور و تدبر نہ کرنے والوں کو بڑی سخت سرزنش کرتا ہے۔ وہ عقل و فکر سے کام نہ لینے والوں کو حیوانات سے بھی بدتر قرار دیتا ہے۔
طلوع اسلام‘ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق‘ قرآن کریم میں غور و تدبر کرتا ہے اور اس کے نتائج دوسروں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ جو کچھ کہتا ہے اس کی سند خود قرآن سے پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد بھی وہ کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ بالضرور اس کے پیش کردہ مفہوم کو صحیح سمجھے‘ نہ ہی وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ کہتا ہے‘ غلطی سے مبرا اور حرفِ آخر ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے انفرادی غور و فکر کا حق کسی سے چھینا نہیں جا سکتا۔ آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں‘ لیکن اسے غور و فکر کرنے سے نہیں روک سکتے؟ اگر کسی کو غور و فکر کا حق دیا جانا مقصود نہ ہوتا‘ تو اللہ تعالیٰ غور و فکر کرنے کا حکم کیوں دیتا؟
*********

دسواں اِلزام – اِسلام کی مُخالفت

اس سلسلے میں عوام کو یہ کہہ کر بھڑکایا جاتا ہے کہ دیکھو‘ یہ شخص (پرویز) یہ کہتا ہے کہ
(1) قرآن کو آج تک میرے سوا کسی نے نہیں سمجھا۔
(2) جو کچھ ہمارے پاس اسلاف سے آرہا ہے‘ اس کو دریا بُرد کر دینا چاہئے۔
(3) تمہارے ائمہ اور اسلاف سب (معاذ اللہ) جاہل تھے۔ وغیرہ وغیرہ
یہ کچھ نہ کبھی پرویز صاحب نے کہا ہے‘ نہ طلوع اسلام نے‘ وہ کھلے الفاظ میں کہتا ہے کہ
’’ہمارا یہ مطلب نہیں کہ سلف سے جو کچھ تمہارے پاس آیا ہے وہ (معاذ اللہ) سب کا سب گمراہ کن ہے۔ ایسا کون کہہ سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں ان سے ملا ہے‘ آنکھیں بند کر کے اس کی پیروی مت کرو بلکہ شمع قرآنی کی روشنی میں ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھو۔ وہ بھی ہماری طرح انسان تھے‘ غلطی کر سکتے تھے‘ لیکن قرآن کی کسوٹی کبھی غلطی نہیں کر سکتی۔‘‘
(طلوع اسلام۔ بابت اکتوبر 49 ؁ء)
اس کا کہنا صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس جو کچھ اسلاف سے چلا آرہا ہے ہمیں چاہئے کہ اسے قرآن کریم کی روشنی میں پرکھ کر دیکھ لیں‘ جو کچھ اس کے مطابق ہو اسے صحیح تسلیم کر لیں۔ جو اس کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیں۔
جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ ہماری کتب روایات میں اور اسلاف کی کتابوں میں بعض باتیں ایسی آگئی ہیں جو قرآن کے خلاف جاتی ہیں۔ ان باتوں کے متعلق طلوع اسلام کا مسلک وہ ہے جسے پرویز صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔
میرے نزدیک نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئی بات (معاذ اللہ) قرآن کے خلاف فرما سکتے تھے اور نہ ہی میں ان بزرگوں کے متعلق ایسا گمان کر سکتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کے خلاف کچھ پیش کیا ہو۔ لہٰذا یہ چیزیں رسولؐ اللہ اور ائمہ ملت کی طرف غلط منسوب کر دی گئی ہیں (اور یہی عجم کی سازش تھی) اگر اس پر بھی کسی کو اصرار ہے کہ نہیں! یہ باتیں رسولؐ اللہ (اور ائمہ کرامؒ ) ہی کی ہیں تو میں صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ یہ جرأت آپ کو مبارک ہو۔ میں تو اس کے تصور سے بھی کانپتا ہوں کہ کسی ایسی بات کو جو قرآن مجید کے خلاف ہو‘ (معاذ اللہ) رسولؐ اللہ یا حضورؐ کے کسی سچے متبع کی طرف منسوب کیا جائے۔
(اسباب زوال امت ص 174)
سوچئے کہ کیا یہ شخص اسلاف کا زیادہ احترام کرتا ہے‘ یا وہ جو اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ باتیں جو قرآن کے خلاف ہیں ہمارے اسلاف نے ضرور کہی ہیں۔
*********

گیارھواں اِلزام – دعوائے نبوت

جب ان لوگوں سے کوئی اور بات بن نہیں پڑتی تو کہہ دیتے ہیں کہ تم دیکھ لینا۔ پرویز صاحب ایک دن نبوت کا دعویٰ کر دیں گے۔
پرویز صاحب کا عقیدہ یہ ہے (جس کا وہ سینکڑوں مقامات پر شرح و بسط سے اعلان کر چکے ہیں) کہ
(1) نبی وہ ہے جسے خدا کی طرف سے وحی ملے۔
(2) وحی سے مطلب ہے خدا کی طرف سے براہ راست حقیقت کا علم حاصل ہونا۔
(3) نبی اکرمؐ کے بعد خدا کی طرف سے وحی کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔
(4) ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ اب کسی شخص کو خدا کی طرف سے براہ راست کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس نے انسانوں کی راہنمائی کے لئے جو کچھ دینا تھا‘ قرآن کریم میں دے دیا اور اسے قیامت تک کے لئے محفوظ کر دیا۔
(5) ہمارے ہاں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وحی کا دروازہ بند ہو گیا لیکن کشف اور الہام کا دروازہ کھلا ہے۔ کشف اور الہام کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو خدا کی طرف سے براہِ راست علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ چیز ختم نبوت کے منافی ہے اور وہ سیڑھی ہے جس سے لوگ نبوت تک کا دعویٰ کرنے لگ جاتے ہیں اس لئے ان راستوں کا بند کرنا نہایت ضروری ہے۔
اب آپ سوچئے کہ جو شخص ختمِ نبوت کے بعد وحی تو ایک طرف‘ کشف و الہام کا بھی قائل نہ ہو وہ نبوت کا دعویٰ کس طرح کر سکتا ہے۔ پرویز صاحب کا ’’دعویٰ‘‘ صرف اس قدر ہے کہ وہ قرآن کے ایک ادنیٰ طالب علم ہیں اور بس۔
*********

بارھواں اِلزام – کمیونسٹ

ان پر جھوٹا پراپیگنڈہ کرنے والوں کی دیدہ دلیری کی انتہا ہو جاتی ہے۔ جب یہ لوگوں میں مشہور کرتے ہیں کہ طلوع اسلام‘ ملک میں کمیونزم پھیلاتا ہے۔ یہ کچھ ا س طلوع اسلام کے خلاف کہا جاتا ہے جس نے‘ تشکیل پاکستان سے اس وقت تک کمیونزم کے خلاف مسلسل جہاد شروع کر رکھا ہے اس نے مختلف انداز میں اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کے لئے سب سے بڑا چیلنج کمیونزم ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں۔ اس لئے۔۔۔
نہ کوئی مسلمان کبھی کمیونسٹ ہو سکتا ہے اور نہ کوئی کمیونسٹ مسلمان ہو سکتا ہے۔
(طلوع اسلام۔ ستمبر 1962 ؁ء ص 33)
اس لئے وہ دورِ حاضر میں کمیونزم کو اسلام کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتا ہے۔
البتہ وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ قرآن کریم جس قسم کا نظام قائم کرتا ہے اس میں کوئی شخص نہ بھوکا رہ سکتا ہے‘ نہ ننگا۔ اس میں ہر فردِ معاشرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کی ذمہ داری‘ مملکت پر ہوتی ہے۔ مملکت اپنی اس اہم اور عظیم ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے‘ ضرورت سمجھے تو ملک کے ذرائع پیداوار کو اپنی تحویل میں لے سکتی ہے لیکن مملکت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی جس سے کسی فرد کی انفرادیت (Individuality) سلب ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام میں افراد کو طبعی ضروریاتِ زندگی کی طرف سے اطمینان ہی اس لئے دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی وحی خداوندی کے تابع رکھ کر‘ اپنی ذات (انسانی صلاحیتوں) کی نشوونما کر سکیں اور اس طرح دنیا میں بھی سرفرازی و سربلندی کی زندگی بسر کریں اور حیاتِ اخروی میں زندگی کی مزید ارتقائی منازل طے کرنے کے قابل ہو سکیں۔ سوچئے کہ کمیونزم کو‘ جو نہ وحی خداوندی کو مانتی ہے اور نہ حیاتِ اخروی کو‘ اس نظام حیات سے کیا واسطہ؟
*********
یہ ہیں مختصر الفاظ میں وہ الزامات‘ جو طلوع اسلام کے خلاف تراشے جاتے ہیں اور جن کا اس قدر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے جو کچھ ہم نے کہا ہے اس کی روشنی میں دیکھئے کہ کیا ان الزامات میں کوئی صداقت ہے؟ یہ لوگ طلوع اسلام کے خلاف اس قدر جھوٹا پراپیگنڈہ اس لئے کرتے ہیں کہ طلوع اسلام اس تھیاکریسی کی مخالفت کرتا ہے جسے یہ لوگ یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں اور جس میں انسانیت کا گلا گھٹ کر رہ جاتا ہے۔
یہ حضرات طلوع اسلام کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے تک ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ہر قسم کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اس باب میں آپ مولانا مودودی صاحب کے ایک ممتاز اور پرانے معتقد حکیم عبدالرحیم اشرف کا ایک بیان سن لیجئے‘ جو ان کے اخبار ’’المنیر‘‘ بابت 19 ستمبر 1958 ؁ء میں شائع ہوا تھا (اشرف صاحب اب مودودی صاحب سے الگ ہو چکے ہیں) انہوں نے لکھا تھا -:
میں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب سے 17 دسمبر 1957 ؁ء کو ملتان جیل میں ملاقات کی۔ اس موقعہ پر منجملہ دیگر امور کے ’’منکرین سنت‘‘ اور ان کے فتنے کا بھی ذکر آگیا۔ اس پر مولانا ممدوح نے اشاعتِ لٹریچر کی ایک اسکیم بتلائی اور اس کی تکمیل کے سلسلے میں فرمایا کہ آپ چودھری غلام محمد صاحب سے کہیں (جو اس زمانہ میں جماعت اسلامی سندھ کے قیم تھے) کہ وہ دفتر طلوع اسلام سے رابطہ پیدا کریں اور وہاں کسی شخص کی تالیف قلب کر کے طلوع اسلام کے پتے حاصل کریں۔
آپ اندازہ لگا لیجئے کہ جو لوگ رشوت دے کر پتے حاصل کرنے تک سے بھی گریز نہ کریں وہ الزام تراشی اور کذب بافی میں کیا باک محسوس کریں گے؟
*********

ایک درخواست

اس سلسلہ میں ہماری آپ سے صرف ایک درخواست ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ سے کوئی شخص طلوع اسلام کے خلاف کوئی بات کہے۔ تو آپ اس سے اتنا کہئے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کی تائید میں طلوع اسلام یا پرویز صاحب کی کوئی تحریر دکھا دیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ اس کے بعد وہ کس طرح اپنا سا مُنہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا یہ پروپیگنڈہ کامیاب ہی اس لئے ہو رہا ہے کہ لوگ ان سے اس کا مطالبہ نہیں کرتے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں اس کی تائید میں طلوع اسلام یا پرویز صاحب کی تحریر دکھا دیجئے۔
یا آپ کم از کم اتنا ہی کیجئے کہ جو کچھ آپ سے کہا جائے اس کے متعلق طلوع اسلام یا پرویز صاحب سے خود دریافت کر لیجئے کہ اس میں کہاں تک صداقت ہے۔
*********

درسِ قرآن

اس کے جواب میں بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ پرویز صاحب اپنے درسِ قرآن میں اس قسم کی قابلِ اعتراض باتیں کہتے ہیں۔ پرویز صاحب کا درس ہر اتوار کی صبح ان کے مکان (واقعہ 25 بی‘ گلبرگ 2‘ لاہور) میں ہوتا ہے۔ جس کا جی چاہے اسے آکر سُن لے اور اپنا اطمینان کر لے کہ اس میں کون سی بات قابلِ اعتراض ہوتی ہے۔
پھر اتنا ہی نہیں کہ وہاں درس دیا گیا اور بات ہوا میں اڑ گئی۔ ان کا ہر درس ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور یہ ٹیپ (ہر اتوار کی صبح‘ لاہور) میں 25بی‘ گلبرگ 2‘ میں سنایا جاتا ہے اس کے بعد دیگر مقامات میں اسے دہرایا جاتا ہے۔ آپ ان مقامات میں سے کسی جگہ اس درس کو سنئے اور پھر خود فیصلہ کیجئے کہ آیا اس میں کوئی قابل اعتراض بات ہوتی ہے۔۔؟ محض سنی سنائی باتوں پر نہ جایئے کیونکہ خدا کا حکم ہے کہ
لا تقف ما لیس لک بہ علم۔ (17:36)
جس بات کا تمہیں ذاتی طور پر علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ لگ جایا کرو۔


1,953 total views, no views today

(Visited 264 times, 1 visits today)

Who Are The Ulama? Ghulam Ahmad Parwez (Idara Tolu-e-Islam)

I N T R O DU T I O N

The treatise, “ULAMA KAUN HAI’N?” is taken from a book, “SALEEM KAY NAAM KHUTOOT” (Vol. 3, Letter No. 30 to Saleem).

“Saleem” is an imaginary young man who represents all the young people of present times who are groping in the dark for the Truth – a truth that has been concealed from them by the “know-alls” who purport to be the sole custodians of the Deen of Islam. Not having any scientific knowledge, or the knowledge of sociology, history, philosophy, psychology or the natural sciences, they have been steamrollering everybody, particularly the youth of Islam, into believing that they alone hold the key to the vast arsenal of knowledge, and the whole Ummah of Rasoolullah (S) must turn to them and them alone for guidance and information; they alone wield the power of issuing passports to Jannat (Paradise) and serving deportation papers to Jahannam! (Hell). Every Muslim must depend on them UNQUESTIONINGLY for any and all matters relating to religion. They have been feeding the Muslims with fairy tales of such macabre proportion as to put Grimm and Aesop to shame!

The young people of today, trained in colleges and universities, imbibing physics, chemistry, psychology, history of religions, astronomy, anthropology and the humanities, have been – and still are – in a state of perplexity as to how could one reconcile the scientific understanding of the concepts of life to what the “ulama” dish out regularly on Fridays from the pulpit, and their other lectures.

 

ALLAMAH GHULAM AHMAD PARWEZ sensed this confusion of the youth and gave it paramount importance. He attempted in all his works to bring logic and sound reason to the inquiring minds of the youth – seeing that they were getting no joy from the “maulanas” on all the aspects of Islam. In the theology of the Maulawi Saheb, the use of the intellect is forbidden. It is the consensus of opinion of the mullah fraternity – for many centuries – that sense (’aql) must NEVER interfere in Deen. And they unceasingly remind us of this!

 

Parwez adopted the name “Saleem” to represent the Muslim Youth all over the world. Saleem has a very inquiring mind, and refuses to bow down in obeisance to the “maulanas”, and detests accepting anything illogical and based on unreason. Saleem is thus a rebel – but WITH a cause!

 

Parwez’s address to the youth, as represented by “Saleem” (for the young MEN) and “Tahirah” (for the young WOMEN), is a life-giving message that dispels frustration brought about by the “ulama’s” stereotyped, antiquated, outmoded, anaemic, malodorous teachings. The present-day youth may be Muslim at heart, but his mind revolts against what passes off as “Islam”. It is thoroughly unpalatable to him.  He feels helpless, and just cannot see light at the end of the tunnel, and no one can explain the basics and essence of Islam to him simply, logically and rationally. The religious leaders cannot appreciate the youth’s doubts and difficulties: they lack the breath of vision and the mental and educational equipment necessary to effect conviction in the young people’s mind!

 

Saleem, however, is such a youth who has had the chance of expressing himself freely, fearlessly and boldly – even on the most delicate problems. The explanations he receives, emanate directly from the Quran. They are sympathetic to his questioning mind, are comprehensive and encapsulate within them the whole sweep of religio-scientific terrain. The language used is simple, straight, soothing, in homely style, light, and refreshing. Saleem feels absolutely convinced and satisfied, and is completely rid of his chronic frustration.

 

Members of Bazm-e-Tulu-e-Islam, London believe that, this treatise will open the window to further enlightenment of the youth, in Islamic thought.

 

Members

Bazm Tulu-e-Islam(London)

76 Park Rd

Ilford Essex

IG1 1SF

UK

July 2000

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

F O R E W O R D

 

 

 

 

The Quranic philosopher and scholar of the century, and founder of the

Tulu-e-Islam Movement, ALLAMAH GHULAM AHMAD PARWEZ, wrote this treatise “ULAMA KAUN HAI’N?” in Urdu in the 1960s. It was very well received by the intelligentsia, but it also proved a bitter pill to the Muslim clergy!

 

The importance of the subject necessitated the rendering of this highly academic essay into English.

 

At the request of Bazm-e-Tulu-e-Islam London, Ali Sarfaraz Khan Joommal, an exponent of the Quran and editor of the quarterly journal “AL-BALAAGH” based in South Africa, in spite of his failing health, undertook to translate it into English.

 

I do not find appropriate words with which to thank Mr. A.S.K. Joommal for his sincere, selfless service to Islam. I feel that due to this translation, the message of the Quran will reach a wider readership including those who do not know Urdu language or its script.

 

I am also indebted to Br. Paigham Mustafa of Signature Publications, Glasgow, Scotland, and appreciate his assistance profoundly for preparing the copy for printing.

 

Last, but not least, my sincere thanks and deep gratitude to all the members of Bazm-e-Tulu-e-Islam London who wish to remain anonymous, but continue propagating the Quranic message.

 

 

 

Ayaz Hussain Ansari

Chairman: Idara Tulu-e-Islam

 

 

 

 

 

 

 

 

 


TRANSLATOR’S PREFACE

 

ALLAMAH GHULAM AHMAD PARWEZ (d. 1985), was a savant, religious philosopher, and a polymath nonpareil. He was eulogized by the intelligentsia of Pakistan as “the Shah Waliallah of this age”. His grasp of Islam, his perspicacity in its simplicities as well as his profound insight into the intricacies introduced in it by the priestly polemicists, reached Himalayan heights!

 

When an eagle soars to giddy heights, it is obvious that the tiny wagtail (“mamola”, in the words of Allamah Iqbal), would feel frustrated and conspicuously insignificant, not being able to compete with it in height and flight. If that puny creature could express itself, it would twitter its invectives in its own passerine fashion! This is what happened with that intellectual colossus, Allamah Parwez, when the cerebral pygmies, otherwise known as “ulama” of Pakistan – ONE THOUSAND OF THEM! – denounced him, branding him with the appellation of “Kaafir”!

 

This scholar and exegete of the Quran, did not bat an eyelid at the sacerdotal opprobrium heaped upon him, but continued with sang-froid and fixity of purpose, awakening Muslims, particularly the youth, to the verities of our Deen. His entire life was devoted to opening the windows of musty minds, allowing the fresh air of reason and logic to permeate them. He was an iconoclast par excellence whose endeavours were aimed at extirpating the fossilized thinking of the Muslim masses. His expositions on the multifarious aspects of Islam pack a powerful punch, are challenging and ineluctable

*   *   *   *   *   *   *   *   *   *   *

This tract, “ULAMA KAUN HAI?” (“Who Are The Ulama?”) is one from among scores of treatise covering an extensive area of thought and topics.

 

Allamah Parwez’s dogged determination and sole objective was the dissemination of the Quranic ideology per se. Towards this end he dedicated himself exclusively, wholly and totally, writing voluminous tomes, innumerous articles, tracts, pamphlets, discourses and booklets.

 

All of the Allamah’s works, excepting one – “ISLAM: A CHALLENGE TO RELIGION” – were written in Urdu. The young Muslims of today living in countries where only English is spoken, are thus deprived of the coruscating gems that are the Allamah’s huge output. The necessity of translating his literature into English is greater now than ever before – in fact it is imperative!

 

The youth HAS to be apprised of true Islam in its pristine purity. The minds of the Ummah of Rasoolullah (s) HAS to be detoxified from all poisonous impurities, from the falderals (foolish nonsense), and from the fairy tales implanted in them by the so-called “maulanas”. And, to my mind, no one has done more creditable, masterly and stupendous job than Allamah Parwez.

 

The dire need, the pressing and paramount importance of translating ALL his work into English – and possibly into other languages – can thus be hardly over-emphasized.

 

In this disquisition, the Allamah has expatiated on the concept of the word “ulama”, placing it in its correct Quranic perspective. The Quran refers to the SCIENTISTS as the “ulama” – and NOT (repeat NOT) to the pugreed, jubbah-ed gentlemen we have become accustomed to respecting as “maulanas”! The Allamah has thus demolished the fondly cherished notion of centuries that only those who profess to know the Shariah, the Deen, are the “ulama”.

 

I trust that my humble assay towards rendering the Allamah’s mellifluous, highly academic Urdu into English would be acceptable to the discerning readers and other cognoscenti.

 

A.S.K. JOOMMAL

(Editor: AL-BALAAGH)

P.O.BOX 1925

LENASIA 1820

(South Africa)

Rabee-ul-Aakhir 1421

July 2000


 A letter to Saleem (Written in September 1956)

 

 

WHO ARE THE ULAMA? (LEARNED (Parwez)

 

 

Saleem!  There is no doubt that knowledge is the dignity and honour of humanity. But the question is:  What is knowledge and who are the learned?  The answer to this question is very clearly explained in the Quran.  But before analysing that, few words of introduction are necessary. Listen to them carefully.

 

In the world of knowledge, the philosophers of Greece attained a high position, as you know. The fact is that the history as we know from the beginning, commences from the school of Greece. In them, Socrates is the patriarch, and Plato is the founder and commentator of the academy of thoughts. But Socrates thinks that only nature – and not man – is worth studying, and Plato draws a cancelling line on the existence of the physical world. He thinks that this universe which appears so concrete, has no existence. The real world is the world of ideas, and this visible universe is a reflection of the real world. Therefore whatever knowledge we obtain through our senses, that is perceptual knowledge, is not credible. True knowledge is that which is obtained through visualization – and not through the senses.

 

 

MYSTICISM:

 

The edifice of Greek mysticism is constructed on this philosophy of Plato. The same mysticism reached India in the form of Vedantism. According to Hindu philosophy, the material world is an illusion. This is the dream of Brahma (God). This is the performance of God. This is like a play in the theatre in which nothing is real, but an imitation of the real. Neither the king is the king, nor the slave a slave; neither a mountain is a mountain, nor the sea is sea. This is all an optical illusion. Thus in Hindu philosophy, God is called “Nut-Raajan”, that is, the king of the actors/players. In this way they create a negative attitude in the minds of people about the creation of God. This, negative way of thinking created hatred for the world, in the mind of God-worshipping people. This was the same philosophy that came to Muslims through Iranian mysticism, affecting and poisoning every aspect of their lives. The entire edifice of mysticism is structured on this foundation.

 

 

THE CHALLENGE OF THE QURAN:

 

Anyway, I was saying that before the Quran was revealed the theory was that creation did not exist in reality, but it was only a deception of imagination, an illusion, a mirage, a shadow. When the creation is doubtful, then the knowledge about it is no knowledge but mere conjecture. The Quran came and broke the spell of Plato, just as it exposed every other absurd idea. It proclaimed to mankind, that was involved and confused in the deception of mysticism and Vedantism:

 

“Not in vain did We create heaven and earth and

what is between them. That is the opinion of the

Unbelievers! So woe to the Unbelievers on

account of the Fire.”  (38: 27)

 

And those who reject such a great reality (stating the world to be false and hateful) then the result of this rejection can only be this, that all their endeavours and actions will come to naught.

 

Do you realise, Saleem, how the Quran rooted out the wrong concepts of centuries in one verse and unveiled its destructive consequences! Think also what the Quran says to the people who harboured negative thoughts about the universe being created without purpose. They are called “Kaafir” – Unbelievers! Did you realise how far are the limits of belief and unbelief?, and what are the distinguishing features of a believer and unbeliever? It stated a great historical reality when it said that this type of negative viewpoint produces a scorched earth existence. The negative point of view regarding the world is a manifestation of the monastic order. This is called Vedantism and Tasawwuf (mysticism).

 

You must ponder on the history of this institution and see how people went through heartbreaking afflictions and patient religious exercises. What was the result of this? It was that the green branches of the human tree were burnt to ashes.

 

This was a declaration of war against the people who said that the universe was created without purpose. After this the Quran says positively:

 

“…….Allah created the heavens and the earth in truth……” (29: 44)

 

In all of Allah’s creation, not only is there evidence of intelligent purpose, fitting all parts together with wisdom, but also of Supreme Goodness and Cherishing Care, by which all needs are satisfied and all the highest and truest aspirations fulfilled. These are like beckoning signals to guide those, who pray and search in Faith. The fact is that Allah has created the cosmos as a truth. This creation is for constructive results, and not for destructive ends.

 

“……Verily in that is a Sign for those who believe.” (29: 44)

 

In this revelation of the Quran there is a big sign of knowledge and an awareness for those people who believe. Look Saleem, in the previous verse the people who said that this universe was created without purpose were called Unbelievers. In this verse those believe that the universe was created for a purpose are called believers. Do you see how the Quran clarifies its own purports!

 

 

 

 

Those who aver that the Creation is a sport of God, the Quran refutes them by saying:

 

“Not for (idle) sport did We create the heavens and

the earth and all that is between them.” 21: 16)

 

The Hindu doctrine of Leela, that all things were created for sport, is confuted here. The creation of the world is part of a serious (Divine) programme. It is not a play or tamasha. It has been created in truth.

 

Now the question arises: Does the Quran want you to accept this explanation about the creation of the universe arbitrarily, or does it invite (people) to assess it with knowledge and proof? The Quran presents every claim on the basis of knowledge and proofs, and enjoins strictly to accept it with reflection and insight. Accordingly, in this context, it is clearly said:

 

“…..He explains His Signs in detail, for those who know.” (10: 5)

 

These realities are explained very clearly for those who possess knowledge.

 

 

THE QURANIC DEFINITION OF KNOWLEDGE:

 

From here, the question confronts us: WHAT is knowledge? Listen to what the Quran says in this connection:

 

“And pursue not that of which thou hast no knowledge…..” (17: 36)

 

Even this portion of the verse is enough to reveal the truth and give us insight. But the Quran goes further and gives the definition of knowledge which demonstrate everything.”

 

“Verily the hearing, the sight, the heart:

All of these shall be questioned.”

(17: 36)

 

It is a fact that our hearing, sight, and feelings in the heart: all have responsibilities for which they are liable. Did you under­stand what is implied here? What does it mean? We shall be called to account for the exercise of every faculty that has been given to us. The hearing and seeing are the senses according to the Quran, and the feelings in the heart is called ‘mind’.

 

The senses gather the data and deliver it to the mind, and the mind deduces the results therefrom. When you hear the noise of a gunshot, you at once deduce that someone has fired a gun. After that you hear somebody screaming, so you infer that someone has been shot. Then you go outside and discover that the one who got shot is your friend. The fire of revenge kindles in you and you burst forth in­flamed. In this whole incident your senses and mind are witnesses. This is knowledge. If you didn’t hear the noise of gunshot, someone screaming, or did not see your friend getting hurt, or somebody firing, but you hear the account from someone else, then, if you want to pur­sue that person, this act will not be based on knowledge because in this case there is no testimony of your senses.

 

Do you realise how much importance the Quran gives to sense per­ception? This is the second blow against Plato’s theory and it shat­ters it. Plato had said that knowledge gathered by the senses is not reliable; the Quran says that anything obtained without the testimony of the senses is not based on knowledge ‑ not only the senses, but also the mind.

 

 

THOSE WHO DO NOT USE THEIR SENSES:

 

In view of the importance of the senses and the mind, the Quran says very clearly that those who do not use their senses and mind, they do not live their lives on the human plane; they live like animals. Not only this, but the Quran says that they are the denizens of Hell. In Surah A’raaf we read:

 

Many are the Jinns and men We have made for Hell.

They have hearts wherewith they understand not,

eyes wherewith they see not, and ears wherewith

they hear not. They are like the cattle ‑ nay,

even more misguided, for they are

heedless (of warnings).” (7: 179)

 

Although they have, apparently, all the faculties of reason and perceptions, they have so deadened them that the faculties do not work, and they go headlong into Hell. They are, as it were, made for Hell.

 

From this it is evident that true knowledge is only that knowledge that enjoys the testimony of senses and the mind. It is obvious that this kind of knowledge cannot be about theoretical debates and abstractions, because in these affairs senses do not participate. The connection of senses is with the study of natural phenomena and observation of the universe ‑ that is, to examine every aspect of the world with grave reflection; to observe every bit of this magnificent and astonishing universe.

 

Then, with different experiments, one must see which law and scheme is administered in the mechanism and nurturing of these bits of the universe. In modern terminology this is called scientific knowledge. And this is the same knowledge which the Quran says is the sign of a believer. Now just reflect on this Saleem: How clearly and beautifully the Quran explains this in Surah Aal‑Imraan:

 

Behold! In the creation of the heavens and the earth,

and in the alternation of night and day, there

are indeed signs for men of understanding.”

(3: 190)

 

And who are the men of understanding?

 

“Men who remember Allah standing, sitting, and lying

on their sides and contemplate the (wonders of) creation….” (3: 191)

 

That is, they keep contemplating the creation of the heavens and the earth, and after their observations and experiments, arrive at the rational conclusion that:

 

 

“…..Our Lord! Thou hast not created (all) this in vain.

Glory be to Thee! Give us salvation from

the chastisement of the Fire.” (3: 191)

 

 

THE PEOPLE WHO REMEMBER ALLAH:

 

Did you reflect on how great a thing the Quran has revealed? The Quran claims that nothing in the creation is purposeless and useless, nor has it been created for destructive purposes. Everything has a fixed purpose, and in some way or another, it is profitable to human beings. But the aim of the Holy Quran is not that we must just accept its claims without question. The Quran says that it is our duty to reflect on every aspect of the universe, and by sustained observations and repeated experiments, prove this verse of the Quran, that:

 

“….Our Lord! Thou hast not created all this in vain.” (3:190)

 

Think, Saleem! How big is this programme which the Quran has placed before the believers! How grave is this responsibility that has devolved on them. It is the duty of the people who believe in the Quran, to prove practically for which benefit everything has been created. Just think how profound, intense and intellectually deep, scientific research is needed for this. How many large laboratories are needed for this? Do you remember, in the olden days Javed used to ask you: Daddy! Why did Allah Paak create the wasps? They sting everybody and make a person’s face swell up. There is no benefit from them. (Neither you nor anyone else could explain the benefit of wasp).  But in the past it was known in South America that there is a kind of worm that destroys valuable plants. They could not find a cure for this. At last, after continuous experiments, it was discovered that these wasps eat those worms. Now they have collected the wasps from different tropical countries and have started to propagate them in South America. These are the people who can say with definite in­sight that: “Our Lord! Thou hast not created (all) this in vain.”

 

O Sustainer of the universe! You did not create even wasps for destructive purposes. They also do constructive work in the develop­ment and growth of the universe. Glory be to Thee!( It is against your very nature to create something for destructive purposes). This is against Your Quality of being the Preserver. It is our lack of know­ledge and scarcity of scientific research that makes us unaware of their profit‑yielding aspects, and thus get affected by, and struggle against its venom. It is our desire that O Allah! grant us the gui­dance to do all these researches so that we would remain protected from this kind of severe punishment. Give us salvation from the chastisement of the Fire.

 

Thus, those nations that are negligent of these kinds of re­searches, remain unaware of the profit‑producing facets of nature. They cannot subjugate nature. Therefore they live the life of igno­miny and distress in this world. The Quran says:

 

Our Lord! Whosoever enter the Fire (according to your Laws)upon him

You indeed bring disgrace. And there will be no

Helpers for the wrongdoers.” (3: 191)

 

Do you see, Saleem, how clearly the Quran has explained the great realities here!

 

 

 

THE SIGNS OF ALLAH IN THE UNIVERSE:

 

Anyhow, we were discussing the fact that according to the Holy Quran it is the duty of every believer to ob­serve the creation carefully and with continued experiments they must go on unveiling their profitable side. This is what the Holy Quran explains as following the laws of nature and pondering upon them. This was the method and manner of the Believers. For Believers in every corner of the universe, there are verses of the Quran spread about.

 

Verily in the heavens and the earth, there are

signs  for those who believe.” (45: 3)

 

From this and other verses, human beings realize and obtain affirmation of God. The Quran says further:

 

“And in the creation of yourselves and the fact that

animals are scattered (throughout the earth),

are signs for those of assured faith.” (45: 4)

 

These signs in our own nature and in the animals we meet with every day, we have certainty within human limits; these are “for those of assured faith”.

 

“And in the alternation of night and day and the fact that Allah

sends down sustenance from the sky and revives therewith

the earth after its death, and in the change of the winds,

are signs for those that are wise.” (45: 5)

 

After teaching us all these facts, the Holy Quran explains a truth which is both amazing and insightful.

 

Such are the Signs of Allah, which We recite to thee in truth.

In what (other) exposition will they, then, believe after

Allah and His Signs?” (45: 6)

 

If there are any to whom the signs from nature, from within their own heart and conscience, and from the voice of Revelation, are not enough to convince them, then what other possible kind of exposition will they accept? That is, Allah (SWT) has shown in clear terms that in order to have faith in Allah, it is necessary to observe the phenomena of nature and study the universal, immutable laws governing them.

 

Did you see, Saleem, how much the Quran emphasizes on the observation and study of nature. The true and rational faith is in these things. From these God unveils Himself. I said “God unveils Him­self”. This is not mere poetry; this is a translation of the verse of the Quran. It is said in the Quran many times, not just once.

Listen carefully and think how in few words the Quran has assem­bled such a great reality!

 

 

SEEING THE SUSTAINER:

 

What is the climax of .the human life? What can be the most fervent wish or desire of a God‑worshipper? What is the ultimate aim of adhering to Divine Commands? The answer to all these questions is only one: that everyone wishes to see and meet his Creator. Now you see Saleem! Look at the way the Quran makes this clear to us.

In Surah Ra’d we read:

 

Allah is He Who raised the heavens without any pillars that you

can see, and He is established on the Throne of Power, and

He made the sun and the moon subservient (to you).

Each one runs (its course) for an appointed term. He

regulates the affair, explaining the Signs in detail

that you may be certain of the MEETING WITH

YOUR LORD.” (13: 2)

 

 Where the Laws of Nature are fixed, and everything runs according to its appointed course, the control and regulation behind it belongs to Allah. The ultimate source of man’s faculties is Allah Who cares for His creation.

 

Did you see Saleem, what the Quran says here? All these details are described clearly to you so that your faith should be confirmed and strengthened that you WILL meet your Creator. Your Creator can come in front of you. The meaning is clear that if you wish to see Him, you must reflect on all His creation and concentrate on every single aspect thereof; with different experiments we must disclose the reality that the Laws of Nature are fixed and everything runs according to immutable laws. In this way one by one everything that is hidden from us will be unveiled. You will see, rationally, how everything develops under Divine Laws. In this way you will see your Sustainer before you.

 

At this stage we have to understand that we cannot see Allah with our physical eyes: it is beyond the conception of human imagination. The Quran says:

 

“No vision can grasp Him….” (6: 104)

 

But He comprehends all vision; and He is Subtile, the Aware. Allah is fine and subtle; He is not visible to the physical eye. He is imperceptible to the senses. Therefore it is not meant by lifting the curtain that we will be able to see Allah with our physical eyes. What is meant is that by witnessing His quality of being a Preserver, Nourisher and Cherisher, we can appreciate how He sustains and provides for the universe.

 

Anyway, it is clear that according to the Quran those who believe and witness the workings of nature, will trust in the Signs of Allah. But sustained, indefatigable efforts and intensive actions are needed for this: sometimes we have to climb the highest mountain of Himalaya, sometimes we have to go to the depth of the Atlantic Ocean, and sometimes we have to traverse the burning deserts of Africa. Sometimes we have to bear the pain of snakebite; sometimes, researching one leaf, we have to spend months; and sometimes we have to freeze in the snow of the North Pole, or place a hand in the lion’s mouth. Sometimes we have to spend years in the analysis of one bacterium. It is obvious that all these can be done only by those nations who do not sit back and are contented with their present condition, but ponder about the future and involve themselves in solving the puzzles of the universe. See, Saleem! How clearly the Quran explains this:

 

“Verily, in the alternation of the night and the day, and

in that what Allah has created in the heavens and the earth,

are Signs for a people who are conscious of Him.”

(10: 6)

 

WHO IS GOD‑CONSCIOUS?:

 

By the way, did you ponder on, what is the sign of God-conscious people Allah has shown? After this He says:

 

Those who rest not their hope on meeting Us,

but are pleased with the life of this world and

are satisfied with it, and those who heed not

our Signs, their abode is the Fire, because of

the (evil) they have earned.” ( 10: 7-8)

 

First think on this matter, Saleem. By saying “pleased with the life of this world” and “satisfied with it”, how the Quran has indicated a great truth. What is the fundamental secret of the adversity and misfortune, and exaltation and prosperity of nations? Is it not that some nations are satisfied and contented with their present condition which is available to them easily? Having deprived themselves of the miracles of ACTION, they fall into the deep hole of disgrace, thus lagging far behind the active, progressive nations of the world.

 

On the contrary, the nations that are not contented with the present, but continuously strive for new inventions and disclosures (of nature), create a new and modern world for themselves and forge ahead in the battlefield of life. These are the nations who remain steadfast and eager to unveil the miracles of nature. The result of this is that heaven opens up its doors of blessings and strength to them. The earth hands over its hidden treasures to them. The nations who do not do this, remain deprived of the Devine bounties.

 

 

 

DEPRIVED OF ALLAH’S PROVIDENCE:

 

“Those who reject the Signs of Allah and the meeting

with Him (in the Hereafter), it is they who will despair

of My Mercy; it is they who will (suffer) a most grievous

chastisement.” (29: 23)

 

The emphasis is on “they”, that is, only those people who ignore or reject Allah’s Signs and reject the Hereafter, who will find themselves in despair and suffering. Allah’s Mercy is available to all, but those who reject His Mercy, will most certainly suffer. Did you see Saleem, what the Quran says about those who deprive themselves of the Mercy of Allah and reject His Signs: they will suffer the most grievous punishment. In Surah Aal-Imraan (3:191) and Surah Yunus (10:8) the same punishment is spoken of as the Fire of Hell. These verses were given previously. Just think: in the barren deserts of Makkah, the liquid gold, that is petrol, was running for centuries, but because those people were satisfied with their prevailing condition, therefore they were deprived of the advantages of this precious blessing of Allah. The result was that they were in need of others for their daily bread. This was a terrible punishment from Allah on them. The Quran has labelled hunger as a punishment from God.

 

 

 

Allah sets forth a parable: “A town safe and secure, to which its means ofsubsistence came in abundance from everyquarter; but it disbelieved in Allah’s favours,

so Allah made it taste a pall of hunger and

fear because of what they wrought.”

(16: 112)

 

After this the perceptive eyes of the West discovered the seas of this liquid gold, and with their continuous efforts, going down into the deep recesses of the earth with their superior technology, they pumped out the oil. This changed the map of Hijaaz. In our own land of Pakistan, nature has hidden a world of potentialities. But because we are satisfied with our present condition, and we are contented with whatever is available to us without any hard work, we are therefore dependent on others for our daily bread.

 

Some nations of Europe have a small piece of land. But they work hard and grow so much in it, that after fulfilling their own needs, they export a quantity from it to other countries as well. This is because they are ceaselessly engaged in unveiling nature’s hidden treasures. For centuries we have turned away from the Divine Law, and therefore our livelihood is becoming constricted for us.

 

“And whoever turns away from My Reminder,

verily for him is a life narrowed down, and We

shall raise him up blind on the Day of Judgment.”

(20: 124)

 

Allah’s Judgment is very open and clear and it will not change for anyone.

 

For centuries we have not been using our faculties, and the result of this is that our capabilities have become paralysed, and we are counted among such people about whom the Quran says:

 

 

Those are they whose hearts, ears and eyes Allah

has sealed, and they are the heedless ones.”

(16: 108)

 

Some people think that “seeing Allah” means that after death we shall be brought before Him “face to face” to receive our punishment or reward. Although in view of the said context this understanding is not quite proper, then, too, the fact remains that from the Quranic viewpoint, for a trust and certainty in “seeing Allah”, it is necessary to observe and study the Signs of Allah in the world. Life after death and punishment and reward is part of our faith.

 

Did you see Saleem, in how many different ways the Quran clarifies the truth that:

 

  1. knowledge is that knowledge in which human beings use their senses;

 

  1. making use of senses means that man must unveil the mysteries and secrets of the universe. He must make a wide study of the things in nature. He must study deeply the laws of nature, and with continuous and unceasing exertion, he must keep unveiling and seeing the arrangements and systems of nature;

 

  1. this is the manner of the believers. This is the duty of God-conscious people. This is the remembrance and praise of Allah. With this the hidden truths reveal themselves, and man can thus say about everything in the universe that:

 

“…Our Lord! Thou hast not created (all) this in vain….”(3: 191)

 

 

 

 

THE TESTIMONY TO QURANIC TRUTH:

 

Not only this, but Allah tells us that these very cosmic verses testify to the truth of the Holy Quran.

 

“Soon Will we show them Our Signs in the furthest

regions ( of the earth ) and in their own souls, until it

becomes manifest to them that this is the Truth. Is it

not enough that thy Lord is a Witness over all things?”

( 41: 53 )

 

The truths which are wrapped up in the mysteries of the world will become clear to human beings as their knowledge and research advances. The truth of the Quranic claims will be proven one by one. As the world progresses with research and scientific knowledge, the Quranic truths will reveal themselves.

 

In the above verse, the Quran includes human spirit and soul with the external world and manifests that science is not only concerned with physics, but is also related to human life which comes within its ( physics’ ) ambit. But regarding this knowledge, not only speculative theories are required, but also it would be done by means of practical observations and experiments. In this context, sociology and practical psychology enjoy special importance.

 

From the point of view of physical science and the science related to human life, as the facts reveal themselves, the proofs of the Quranic verities become apparent to us. This is because:

 

“….It is not enough that thy Lord doth witness all things?” ( 41: 53 )

 

The Quran is the Book of Allah from Whose eyes NOTHING is hidden. He observes EVERYTHING all the time. This, then, is proof enough that whatever He will say about these things, will be correct. His declaration will be based on knowledge and facts – not on supposition and conjecture, because:

 

The ( Quran ) was sent down by Him Who knows

the secrets of the heavens and the earth.”

( 25: 6 )

 

But those who are unaware of the signs in the cosmos, cannot be convinced of “Seeing Allah”

 

Now surely they are in doubt about meeting with their Lord…..”( 41: 54 )

 

They do not have to go far for this. They can start researching anything, and they will find the spark of Divine Law in creation, because Allah says:

 

“….Ah indeed! It is He that doth encompass all things.”

( 41: 53-54 )

 

Allah’s Divine Laws encompasses all things; it is not attached to one single thing. Therefore ‘the eyes should be opened to all colours’.

 

You may remember, Saleem, I once mentioned to you an excellent book entitled “THE GREAT DESIGN”. The plan of this book was that a questionnaire was sent to leading scholars of different disciplines, asking them the following questions: “After conducting researches in your particular branch of knowledge, have you arrived at the conclusion that cosmic system is operating according to an orderly arrangement, or has it come into existence accidentally, and is continuing aimlessly and by chance?”

 

The answers received from these great scientists were recorded without review or criticism in this book. The extent of these answers is very wide. You can gauge this by the title of the treatise one botanist sent in: “A GREEN LEAF”. An astronomer submitted an answer with the heading: “THE PASSAGE OF THE STARS”. All scholars reached the conclusion that in every atom in the universe, the immutable and orderly Hand of a Knower and Contriver is manifest. It is these orderly arrangements in the Cosmic Order before which, at every step, the acknowledging eyes of the leaders in research world, are downcast.*[1]

Since they have not got the Quran they cannot correctly evaluate which Being is governing the universe so beautifully. Nevertheless, they are observing this orderly organisation with their own eyes. (It is not difficult for them to reach the Quran from here, provided that someone presents the Quran to them.)

 

 

 

WHO ARE THE ULAMA (LEARNED) ?

 

You have up to now seen what the definition of knowledge is from the Quranic viewpoint. After all this clarification, the need does not arise at all to explain further who the aalim (learned) is and who are meant by the term “ulama”. But see the miracle of the Quran that it has itself explained this fact so that no doubt or uncertainty should linger in the mind. It commences like this:

 

“Seest thou not that Allah sends down rain from the

sky, then We bring forth therewith fruits of various

hues? And in the mountains are streaks, white and

red, of various hues, and (others) intensely black.”

( 35: 27 )

 

These wonderful shades and colours are to be found not only in vegetations but in rocks and mineral products.

 

“And so amongst men and beasts and cattle,

are there various colours….” (35: 28)

 

Did you see Saleem! What matters are discussed in these verses: different aspects of the world, the multifarious branches of knowledge in the wide expanse of nature; different sciences, physics, botany, geology, zoology, and all sections of humanities come into it. After mentioning all these different branches of knowledge, the Quran says:

 

“….Those of His servants only who are possessed of knowledge

(ulama) fear Allah. Surely Allah is Mighty, Forgiving.”

(32: 28)

 

In fact amongst Allah’s Servants are those learned people (ulama) who truly appreciate the mechanism of the world, and whose hearts are filled with His Greatness; they observe how Exalted and Mighty He is, and how He saves everything from destruction and lets it develop and progress. Did you realise for whom the Quran has used the word “ulama”? For those to whom we refer to as SCIENTISTS today; those who continuously experiment, observe and study, and thus subjugate the forces of nature. It is a fact that Allah has granted us the capability to conquer and harness all the powers of nature for our benefit. But only those people can control them who are acquainted with the laws of nature – laws that govern these forces. These can only be known by the study of nature and by continuously experimenting and observing the laws that Allah has laid down for the control of nature. The people who do all this, the Quran calls them “ULAMA” – the SCIENTISTS.

 

*  *  *  *  *  *  *  *

 

 

The term “ulama” in the Quran refers to SCIENTISTS (and NOT, we repeat NOT, to the Moulvis ) as we shall see from the following verses which we quote in full:

 

 

 

(1)

“Seest thou not that Allah sends down water from

the clouds, then We bring forth therewith fruits of

various hues? And in the mountains are streaks white

and red, of various hues and ( others ) intense black.

And of men and beasts and cattle there are various

colours likewise. Those of His servants ONLY WHO

ARE POSSESSED OF KNOWLEDGE ( the ulama )

fear Allah. Surely Allah is Mighty, Forgiving.”

( 35: 27-28 )

 

Here Allah says that the Ulama are those who are versed in BOTANY, ( “Fruits of various hues” ); GEOLOGY (“streaks white and red…” ); BIOLOGY, ANTHROPOLOGY and ZOOLOGY ( And of men and beasts and cattle… ). No reference at all is made to the Moulvis who do not know even the ABC of science!

 

(2)

“In the creation of the Heavens and earth and the

alternation of the night and the day, THERE ARE

SURELY SIGNS  FOR MEN OF UNDERSTANDING.

Those who remember Allah standing and sitting and (lying)

on their sides, AND REFLECT ON THE CREATION OF

THE HEAVENS AND THE EARTH: Our Lord, Thou hast

Not created this in vain.” ( 3: 190-191 )

 

The above verse is a clear reference to GEOGRAPHERS and to those who study the SCIENCE OF THE UNIVERSE, namely , the COSMOLOGISTS. Breathes there a Moulvi so learned who can tell us all about cosmology?

 

(3)

“He it is Who made the sun a shining brightness, and

the moon a light, and ORDAINED FOR IT STAGES

THAT YOU MIGHT KNOW THE COMPUTATION

OF YEARS AND RECKONING; Allah created not this

but with truth. He makes the sign manifest for

 A PEOPLE WHO KNOW.” ( 10: 5 )

 

These words of the Quran point to the study of ASTRONOMY and ASTRONOMICAL CALCULATIONS. Our “ulama” are ignorant of this science. Not only ignorant but they FORBID its study. It is written in the Fataawa Aalamgiri, a book of religious decrees, that: “To study astronomy to extent of knowing the Qiblah and times of prayer is enough. To study astronomy further than this is HARAAM.” (Vol. 9, p. 126)

 

Imam Aboo Hanifah (RA) who is one of the greatest Imams, is revered for his Ijtihaad in jurisprudence, but not for the book on astronomy which he wrote with his own hands. It was purely a scientific work describing the interplanetary distances under mathematical principles. This book is to be found in the Paris library!

 

(4)

“Say: Travel in the earth then see how He makes the

 first creation, then Allah creates the later creation.

Surely Allah is the Possessor of power over all

things.” (29: 20)

 

Our “ulama” will not understand the above verse because they are ignorant of palaeontology (study of extinct organized beings) and also of the Palaeozoic science from which we learn the ancient forms of life of the first geological period.

 

(5)

“And the changing of the winds and the clouds

made subservient between heavens and earth;

there are surely signs for A PEOPLE WHO

UNDERSTAND…..” (2: 164)

 

Our “ulama” will not understand the import of the above verse because they have not studied atmospheric phenomena they are ignorant of the sciences of METEOROLOGY and NEPHOLOGY.

 

 

(6)

“And of His Signs is the creation of the heavens

and the earth and the diversity of your tongues

and colours. Surely there are signs in this FOR

THE LEARNED .” (30: 22)

 

According to this verse, our “ulama” are NOT learned, because they do not know  PHILOLOGY and ETHNOLOGY.

 

(7)

“Have they not travelled in the earth and seen

what was the end of those before them? They

were stronger than these in prowess and dug up

the earth, and built on it more than these have built…..”

(30: 9)

 

Here Allah refers to the study of the history of ancient civilizations. Which of our “ulama” can give us a learned dissertation on Egyptology or the history of cultures that became effete a long time ago?

 

Ibn Khaldun is regarded in the academic world as the Farther of History. His writings influenced the entire world. But he was ignored by the “ulama” and until recently his “Muqaddamah” was banned by the Sheikhs of the greatest Muslim University, Al-Azhar. They said that the Muqaddamah was profane and might undermine faith!

 

(8)

“And the sun moves to its destination… And

the moon, We have ordained for it stages…

Neither is it for the sun to overtake the moon,

Nor can the night outstrip the day. And all

FLOAT on in an orbit.” (36:  38-40)

 

Reference is made here to heavenly bodies FLOATING IN THEIR ORBITS. In another place, referring to heavenly bodies Allah says:

 

             “…Surely there are signs in this for A PEOPLE

WHO UNDERSTAND.” (16: 12)

Today it is common knowledge that planets, planetoids and asteroids “float” around in space in a fixed orbit. The word “float” as used in the Quran is the exact word used by scientists today to describe the movement of the heavenly bodies. Our “ulama” cannot comprehend this verse of the Quran because the study of HEAVENLY BODIES and SPACE SCIENCE is totally foreign to them.

 

(9)

“And of His Signs is the creation of the heavens

and the earth and what He has spread forth in

both of them of LIVING BEINGS. And He is

All-Powerful to gather them together when He

will,” (42: 29)

 

This verse clearly points to the fact that there are LIVING BEINGS on other planets. Our “ulama” cannot give us any information on this scientific truth for which we have to turn to Godless Russia and other western countries who are now probing the secrets of space.

* * * * * * * * * * * * * * * * * * * *

 

OUR “ULAMA”:

 

After the above Quranic definition of Ulama, you must think, Saleem, how much scientific knowledge our “ulama” possess! They are not acquainted with even the elementary knowledge of the natural sciences. Their learning does not go beyond useless debates and time-wasting logomachies, that is, arguments about words or the meaning of words. Their debates have no relevance to the world we live in, nor to the activities of human life.

 

The syllabus of our madrasahs is spread over ten years. These ten years are spent in studying logic, philosophy, semantics, public speaking, literature and grammar. And the logic and philosophy is also that which has become antiquated, obsolete. This syllabus includes a few books on astronomy, geometry and accounting. But even from these books only that section is taught that is of no use in daily life. Moreover, and you, will be astonished to know, that in their syllabus the Holy Quran is not included at all! For Tafseer (commentary), they teach Jalaalain, in which only the synonyms of Quranic words are given. In the final year the students are taught the commentary of surah Baqarah from the Tafseer of Baidawi. This is their syllabus, after the completion of which they receive their certificate of having qualified as “aalim”

 

The extent of their knowledge regarding the phenomena of nature, may be gauged from this example: With the advent of the loudspeaker in India, people asked for fatwas about it from the “eminent ulama” – whether it is lawful (Jaa’iz) or unlawful (Naa-Jaa’iz) (from the Shariah point of view).

 

In his reply to this request, the president of the Jamiatul Ulama, the late Mufti Kifaayatullah, wrote: “We have not yet seen the instrument about which the question is asked, but we have heard about it that it is an instrument placed in front of a speaker or Qari. Facing it he recites or delivers his lecture. The instrument absorbs the sound and broadcasts it four times over the distance, without which it would be difficult to disseminate the sound of the voice.” (Reference: “NAQEEB”, 10 November, 1941)

 

After this the Mufti Saheb gave his fatwa that it was permissible to use the loudspeaker.

 

But later, a great Mufti of the Daarul Uloom (Deoband), Mufti Muhammad Shafi Saheb (who had afterwards emigrated to Pakistan), published his own fatwa, OVERTURNING the fatwa of Mufti Kifaayatullah. In this fatwa he said that it is FORBIDDEN (Haraam) to use this instrument for the “intended prayers”[2] In this magazine (the name of which was Al-Badaa-i’ Al-Mufeedah Fee Hukmud Daa-i-ul Jadeedah) he wrote that he did not know the nature of this instrument and how it works. Therefore he enquired from Master Brij Nandan Laal who was the science teacher at the Alexandera High School in Bhopal. Mr Laal said: “Because of the electrical power, I hesitate to believe, that it is the original voice. I cannot even deny this, because I have no proof of this denial.”

 

After this wonderful research, the Mufti Saheb decided that the loudspeaker is Haraam (forbidden) for the purpose of prayers. It means that on the basis of Mr Brij Nandan Laal, the Mufti Saheb decided that in this matter, THIS is the Command of Allah and His Messenger (S). Do you see what the position of these people is regarding research into the natural phenomena and modern technology! Their knowledge about these things is clearly deplorable, yet they keep on issuing fatwas after fatwas whether they are Halaal or Haraam! And now in Pakistan this matter has progressed beyond the fatwa stage into legislation.

 

For example, if this matter comes before the government, that is it permissible or impermissiible to use the loudspeakers for the khutbahs, and if there is any need to legislate on this matter, then these very ulama gentlemen will demand that only they are qualified to draw up the law.[3] That is, these gentlemen will first find out from some Master Brij Nandan Laal what this loudspeaker thing is all about, and on the basis of the findings provided by him, they will decide whether, according to the Quran and Sunnah, it is lawful or not. And their decision will be promulgated as a law in the country!

 

* * * * * * * * * * * * * *

 

From these explanations you must have seen, Saleem, that according to the Quran, the Believers and God-conscious people are those who remember Allah, those who have faith in and desire to meet Him; the God-fearing servants of Allah are those who ponder on the system found in the world, and conduct research unceasingly on the forces of nature. This from the Quranic viewpoint, is called KNOWLEDGE (‘Ilm), and the bearers of such knowledge are called ULAMA by Allah (SWT).

 

 

THE REMOVAL OF DOUBT:

 

At this stage you must no doubt be thinking that on the basis of what is said above, the Western nations are the true believers, and are God-fearing. But this line of thinking is not correct. It is extremely necessary for the believing and God-conscious people to acquire the knowledge of nature, but it is wrong to assume that every nation that acquires this knowledge, (automatically) becomes believers and God-fearing. Apart from being very important, this difference is also subtle. It is therefore necessary to comprehend it properly.

 

Believers and God-fearing people are those who, after harnessing and harmonising nature, utilize her forces according to the laws of God as enunciated in the Holy Quran. To be a Believer (Mu’min) and Muttaqee (God-conscious), both these conditions are indispensable, viz.:-

 

(1)        harnessing nature, and

 

  • utilising the resulting benefit from such harnessing

 

ACCORDING TO THE LAWS OF ALLAH!

 

If any nation evinces a lack of either of these conditions, then it cannot be referred to as believers and God-conscious. The Quran comments:

 

“O ye who believe! Enter into Islam

wholeheartedly (in its totality….).”

(2: 208)

 

That is, it enjoins us to imbue ourselves with, and immerse totally, in the Quranic Order. We are not believers and God-conscious because we lack the first condition (harnessing of nature). And when we fulfil only the first condition (i.e. harnessing nature), then question of the second condition (that of utilizing the power of nature according to the laws of Allah) does not arise at all.

 

The Western nations are not believers and God-fearing because they lack the second condition. Therefore, on the practical level of belief and God-consciousness, they and we, are both on an equal footing. But those nations are better than us because, by capturing the forces of nature, they have made their material life very pleasant. And WE are dependent on THEM for our very sustenance (bread).

 

In order to utilize the powers of nature according to the laws of Allah, one must have knowledge of the Quran, because these Divine laws are to be found within its pages. These are the people:

 

        “…..who are firmly grounded in knowledge….”

(3: 6)

 

and who base their faith rationally on the Quran, conducting all their affairs according to it.

 

        “… .Those who do not judge according to the Quran,

are the unbelievers (Kaafiroon.)”

(5: 44)

 

The result of this unbelief (Kufr) is that human society becomes a living hell in spite of the abundance of wealth and provisions (as it is now happening in Europe). They have such a vast knowledge of science, yet they cannot find the true solution to the problems besetting human life. In other words, in this matter their senses and their minds are not assisting them. The Quran says about such nations:

 

And certainly We had firmly established them in power

in matters in which We have not empowered you…

(46: 26)

 

 

With this, the senses and the mind were also granted to them, but:

 

“… and We had given them ears and eyes and hearts,

but neither their ears, nor their eyes, nor their hearts

availed them aught, since they denied the message of Allah.” (46: 26)

 

If the Western nations spend the forces of the universe and the gifts of nature according to the Laws of Allah, then the hell in which the world is presently embroiled, can be transformed into heaven, in search of which mankind is wandering about.

 

See, Saleem, how beautifully the Quran states this. Read again these verses of Sura Yunus (10: 8) in which it is said:

 

“Those who expect not the meeting with Us, and are pleased

 with this world’s life and are satisfied with it, and those who

 are heedless of Our communications – these (are the people)

whose abode is the Fire because of what they earned.” (10: 7-8)

 

After this the Quran says:

 

Those who believe and do good, their Lord guides them by

their  faith; rivers will flow beneath them in Gardens of

bliss.” (10: 9)

 

The result is that they live in exquisite gardens which stay green forever – no lessening will take place in their verdure. Seeing the heavenly society, they will spontaneously utter that Yaa Allah! Truly it was indeed against Your nature to have created the cosmos in vain.

 

Their cry therein will be, Glory be to Thee, O Allah!

and their greeting, Peace! “ (10: 10)

 

In this society their desires for one another are greatly vitalizing, and engendering peace and security. Those who have established this society, they will continue to extend its boundaries further and further through their sustained strivings and unceasing efforts and actions until, finally, encompassing all mankind. At that time every observer will exclaim that how profoundly worthy of all praise and exceeding eulogy is Allah’s Devine Cosmic Order.

 

“…..And the last of their call will be: Praise be to

Allah, the Lord of the worlds.”(10: 10)

 

 

 

EPILOUGE:

 

From these explanations, the truth must be clear to you, Saleem, that if we wish to envisage society along the lines of Quranic teachings, then it would be necessary for us to create such research scholars and scientists who would, through their experimentations with, and observations of, the laws of nature, subjugate the cosmic forces – with their studies extending to every aspect of the world, encompassing all organic and inorganic beings.

 

Together with this they must promulgate the Divine Laws that are enshrined in the Quran in such a way that it would become evident that there is no difficulty whatsoever in harnessing and distributing these forces according to the laws of Allah.

 

These are the people who would be called ULAMA in the words of the Quran.

 

As long as our present conception regarding Knowledge and the Learned (“Ilm and Ulama”) does not change, we just cannot count ourselves among the living nations – let alone reaching God!

 

“How can you search for God when you

have not (even) reached man(kind).”

 


 

 

 

 

ANOTATED GLOSSARY

 

 

ALLAH : Arabic/Quranic reference to the ONE God Who is the Lord God, the Creator and Sustainer of the entire universe and everything that is in it. “Allah” is NOT an exclusive name for a tribal deity of Muslims as some Christians, Jews and other Non-Muslims erroneously believe. It is wrong to consider “Allah” as a name for God as God has no name, only Attributes
 

APPELLATION :

 

an identifying name or title

 

APPRISE :

 

to make aware; inform

 

ASSAY :

 

an attempt

 

CEREBRAL :

 

involving intelligence, rather than emotions or instinct

 

COGNOSCENTI :

 

people with informed appreciation of a particular field; connoisseurs

 

COLOSSUS :

 

something very large

 

CORUSCATING :

 

shinning; sparkling; brilliant

 

CREDITABLE :

 

deserving credit, honour; praiseworthy

 

DEEN :

 

faith; way and code of life as practised by Muslims

 

DETOXIFY :

 

remove poison from

 

DISQUISITION :

 

a formal written or oral examination of a subject

 

DISEMINATION :

 

distribution; diffusion

 

EULOGIZE ;

 

to praise (a person or thing) highly in speech or writing

 

EXEGETE :

 

commentator of scripture

 

EXPATIATE :

 

to enlarge (on a theme, topic, etc.) at length or in detail; elaborate (on)

 

EXTIRPATION :

 

uprooting; removing or destroying completely

 

 

FALDERAL :

 

 

Foolish nonsense

 

FOSSILIZED :

 

antiquated or inflexible

 

ICONOCLAST :

 

a person who attacks established or traditional concepts, principles, laws, etc.

 

IMPERATIVE :

 

extremely urgent or important

 

INELUCTABLE :

 

irresistible; hard to escape from

 

INNUMEROUS :

 

extremely numerous

 

INTELLIGENTSIA :

 

the educated or intellectual people in a society or community

 

INVECTIVE :

 

vehement accusation or denunciation, especially of a bitterly abusive or sarcastic kind

 

IQBAL :

 

Allamah Dr. Sir Muhammad Iqbal (1876-1938), the greatest thinker, philosopher, sage and poet of this century produced by the Indo-Pak sub-continent. He envisaged a Muslim state, later designated as PAKISTAN, where Muslims could practise their Deen of Islam freely and unhindered by inimical forces. He advised and encouraged Allamah Parwez to write a Tafseer (commentary) of the Holy Quran.

 

KAAFIR :

 

infidel; a non-Muslim; non-believer

 

MAULANA :

 

used as a title by Muslim religious priests and clergy in India and Pakistan only. No other Muslim country uses this title

 

MELLIFLUOUS :

 

(of sound and utterances) smooth or honeyed; sweet

 

MULTIFARIOUS :

 

of many kinds

 

MUTTAQEE :

 

a person who keeps away from things that are harmful to his personality and character, by adhering to the laws of Allah, thus rejecting a negative approach to life and accepting positive virtues; virtuous; God-conscious

 

NONPAREIL :

 

a person or thing that is unsurpassed or unmatched; peerless example

 

OPPROBRIUM :

 

reproach or censure

 

PARAMOUNT :

 

of the greatest importance or significance; pre-eminent

 

PAR EXCELLENCE:

 

beyond comparison

 

PASSERINE :

 

of, relating to, or belonging to the PASSERIFORMES, an order of birds characterised by the perching habit: includes the lark, finches, crows, thrushes, starlings, etc.

 

PER SE :

 

by or in itself; intrinsically

 

PERSPECTIVE :

 

the proper or accurate point of view or the ability to see it

 

PERSPICACITY :

 

acute perception or discernment

 

POLEMICIST :

 

one who practises the art of disputation or argumentation, as in attacking or defending a doctrine or belief

 

POLYMATH :

 

A person of great and varied learning

 

PRISTINE :

 

Original; pure; uncorrupted

 

PUGREED :

 

turbaned

 

QURAN :

 

holy scripture of Muslims revealed by God Almighty to Prophet Muhammad (Peace be on him)

 

QURANIC REFERENCES:

 

where a Quranic reference is quoted, e.g. 4:135, this means Sura (chapter) no. 4, verse no. 135

 

RABB :

 

God’s Attributes of Nourisher, Cherisher and Sustainer

 

SACERDOTAL :

 

relating to, or characteristic of, priests

 

SANG-FROID :

 

Composure; self-possession; calmness

 

SAVANT :

 

A man of great learning; sage

 

SHARIAH :

 

revealed law

 

STUPENDOUS :

 

astounding; wonderful

TAMASHA :

ULAMA :

Play; fun; entertainment

plural of ‘aalim’ – the learned; those possessing knowledge

 

VEDANTISM :

 

one of the six main philosophical school of Hinduism, expounding the monism regarded as implicit in the Veda in accordance with the doctrines of the Upanishads. It teaches that only Brahma has reality, while the whole phenomenal world is the outcome of illusion (maya)

[1] *This is now published in the momentous book, “THE BIBLE, THE QURAN AND SCIENCE”, of Maurice Bucaille. In this book most of the Quranic verities are now shedding their light like the shining stars. (1981)

[2] Now these very “eminent ulama” use loudspeaker without the slightest hesitation in their khutbahs and salaat!

[3] This is now practically happening (1981)


 

1,435 total views, no views today

(Visited 427 times, 1 visits today)

Why Do We Lack Character? (Ghulam Ahmad Parwez) – Idara Tolu-e-Islam

Widespread Impression

“Our people have no character” is acknowledged universally, at home and abroad, in business and government circles, and in every sphere of administrative activity. Lack of character produces social imbalance and leads ultimately to national decline and disintegration. The malady has been eating up the vitals of our social life too fast to withstand an unexpected shock.

Meaning of Character

The outward signs of a weak character are commonly believed to be bribery, corruption and exploitation but they do not bring out the true significance of the word. It belongs to the realm of ethics, which defines character in terms not easily intelligible to the common man. Here are a few definitions given by Western writers on ethics.

“Morality is character. Character is that which is engraved. Character is really inwardness. Immorality as energy is also character, but to be neither moral nor immoral is merely ambiguous”.

(Soren Kierkegarard in “The Present Age”, page 15).

“Character is the manifestation of Truth, and Truth is the conformation of Appearance to Reality”.

(Professor Whitehead in “Adventures of Ideas”, page 309).

“Character is adopting ‘Good’ and good is the movement in the direction of home, ‘evil’ is the aimless whirl of human potentialities without which nothing can be achieved and by which, if they take no direction but remain trapped in themselves, everything goes away”.

(Martin Bubar in “Between Man and Man”, page 78).

“Character is the possession of power over oneself; it is the victory over slavery to oneself”.

(Berdyaev in “Slavery and Freedom”, page 47).

“Each person should in his acts, and behind them in his thoughts and his emotions, exercise that control which is necessary in order to assure not only harmony in his own personality but also social harmony”.

(Alexander Loveday in “The Only Way”).

“Character in the most general sense is a man’s attitude towards his human surroundings which is expressed in his actions”. (Kerschensteiner’s essay on “The Concept and Education of Character” quoted by

(Martin Bubar in “Between Man and Man”, page 108).

Let us attempt a definition on a layman’s level.

An Illustrative Proverb.

The proverb says “Sacrifice wealth to save life and sacrifice life to save honour”. The first half of the proverb is clear. Wealth and life have their respective values and if only one of them can be saved then wealth should be sacrificed to save life. One who sacrifices wealth for life or vice versa is, however, neither credited with character nor condemned. A miser once fell ill and his son called in an eminent doctor, not for helping the patient, but for saving his face against the charge of indifference towards his ailing father. The doctor examined the patient, diagnosed the disease and wrote out a prescription. As the son was leaving for buying the medicines, the father told him to do so only after first ascertaining from the undertaker the cost of his funeral, that is, he should adopt the less costly course. The advice will excite laughter, not because it exhibits lack of character but on account of its absurdity. Preservation of self is an urge which every living being follows instinctively. How hard does a tiny little ant struggle against obstacles endangering its life! Man is no exception. If he sacrifices wealth for life, he follows a natural instinct and not any moral value. Doing the opposite would be devoid of sense. Harming oneself is lunacy.

The second half of the proverb suggests that life and honour have both a value but that if there is a tie between them and only one can be saved, then it is honour which should be preferred. He who sacrifices life for safeguarding honour is universally applauded as a man of character; he who sacrifices honour to save life is unreservedly condemned.

Character Defined.

            Preservation of life is an animal instinct; not so is the preservation of honour. The concept of honour is unknown to the animal world. In fact it forms the line of demarcation between the Animal and the Man. Honour is a specific human value. Preservation of human values elevates the level of life, from the animal to the human. Character may, therefore, be defined as who so preserves human values against animal instincts is a man of character.

Assessment of Human Values.

Human values might have different meanings. Take the word honour. “God has saved my honour,” means that I have not been disgraced before my friends. “She gave her life to save her honour”—here honour signifies chastity. But the meaning of chastity itself might differ from people to people. In the East if some one casts an evil glance at a veiled lady, her father or brother would not hesitate to shoot him. In the West, however, if a girl flirts publicly, her father or brother, instead of having any qualms, would feel proud of her as a popular society girl! Again one society might attach the greatest importance to a particular value which in the estimation of another society might not be a value at all. We respect and honour our parents, but there have been tribes with whom eating them up constituted a sacred duty. The Puritans saw nothing wrong in stealing Negro children and shooting the Irishmen. The Jews thought it bad, even criminal, to levy interest among themselves but permitted it in the case of non-Jews. In an island of the Pacific there is a tribe with whom dishonesty is the best moral conduct and among whom the cleverest cheat is held in the highest esteem. Thugs felt proud of killing poor wayfarers. Nationalism is recognized the world over as a political and social creed and one who helps the well being of his nation by exploiting the other nations, is regarded a patriot worthy of being immortalized in metal and marble.

In the words of Rumelin.

“Self regard is its (State’s) appointed duty; the maintenance and development of its own power and well-being is the supreme principle of all politics. The State can only have regard to the interest of any other State so far as this can be identified with its own interest. The maintenance of the State justified every sacrifice and is superior to every moral rule”

(Quoted by Robert H. Murray in his,

“The Individual and the State”, page 216)

Universal Standard of Character.

Since human values vary with different societies should character mean harmonizing oneself to the values which a society might stress for the time being? In days gone by Spartans viewed theft a virtue and held the smartest thief in the high-test esteem; today theft is a crime and a thief a criminal. With us conception of a virgin is a disgrace for the family, in the West sexual intercourse between a willing couple is neither an evil nor a criminal offense: even homosexuality between willing parties is condoned there. Is there then no universal standard of character?

Quranic Concept of Character.

People inhabiting different countries might follow different ways of life but, according to the Holy Quran, human values are the same anywhere and unchangeable too. It is not given, however, to human intellect to determine such values. Human intellect is essentially individualistic in character. It can seek preservation of the particular self to which it belongs individually or collectively, but not that of the other selves. For the well-being and preservation of mankind as a whole, however, what is needed is not an individualistic intellect, which cannot see beyond its nose, but a comprehensive and all pervading intellect, namely God and Revelation. It is Revelation alone which gives abiding universal values. The revealed values are preserved in the Holy Quran, the code of life for mankind in all climes and ages. Quranic values are Permanent Values of life and provide a universal standard of character or, to use Quranic terminology, Taqwa.

Rational thought fully endorses Quranic concept of character. The famous writer Hastings Rashdall says:

“That there is one absolute standard of values, which is the same for all rational beings, is just what Morality means.”

(The Theory of Good and Evil, Vol. II, page 286)

On page 211 of the book he agrees that these values cannot be devised by human intellect but have been revealed to man and says:

“Certainly it (moral law) is to be found, wholly and completely, in no individual human consciousness. Men actually think differently about moral questions, and there is no empirical reason for supposing that they will ever do otherwise”.

Human Level of Life.

Permanent values pertain to human as distinct from animal level of life. The Quranic term for the animal level of life is “Hayat-ud-dunya”, or a level of life in which man’s vision is restricted to immediate gains. (The word dunya means nearer). Satisfaction of physical urges is accompanied by pleasure which the Holy Quran would not discard. Great discretion has to be exercised, however, when there is a tie between a physical urge promising pleasure and a human value. One who sacrifices the latter for the former is not a man of character; if he does the opposite, his behaviour would be acclaimed as laudable character.

A Quranic Illustration.

The Holy Quran expects witnesses to be men of character. Says it

“O believers, be you securers of justice. If you are summoned as a witness, be a witness for God regardless of your relationship with the parties, whether your evidence culminates yourself or goes against your parents and kinsmen and whether the party affected is rich or poor. God’s Law is the best protector for the rich and the poor. God stands closest to either and claims that you be true to Him in preference to every one else. Let not caprice, personal gain, demands of relationship or regard for riches swerve you from the path of justice. Also in tendering evidence, neither twist your statement nor avoid any, remembering always that God is aware of the things you do”, (4/135).

Evidence might often involve an acute struggle between material gains and justice. Victory of the former is a sign of “low” character. The Holy Quran calls it “following hawa” and the word “hawa”, in its basic meaning, has the idea of carrying towards a low level. Victory of the latter (Justice) is evidence of true character. Struggle between material gains and human values appears at all cross-roads in life and the test of character is the choice one makes.

Why should Material Gains be sacrificed for Human Values?

This is an important question. Riches, a life of comfort, a good name, high office and status, the charm of authority are all full of attraction. Should one give them up for the sake of preserving human values? Self-interest is ingrained in man. He cannot be weaned from it. He would not sacrifice self-interest unless and until he is convinced that in doing so he stands to gain more. He will preserve human values only if there is a reasonable prospect of greater gain.

Example of Hungry Man.

Think of a person who has had no food for several days, and, due to hunger, is unable to sit up. If a dish full of steaming pulao[1] is brought, won’t he sit up, advance impatiently towards the dish, pick up a morsel and carry it towards his mouth? While in the process if he hears some one say that although the dish is a dainty, arsenic instead of salt has been added to it by mistake, would he put the morsel into his mouth or would he throw it back into the dish and bang the dish on the ground? He would undoubtedly do the latter since eating the stuff means certain death. He would prefer pangs of hunger rather than risk life. Now suppose the report said that the dish, instead of having arsenic, has been prepared from ill-gotten money. How will the hungry person react to the modified report? Ten to one he would snatch the dish and begin swallowing the contents. There will be available to him a thousand excuses against the plea of ill-gotten money, because he sees the gain in eating the dish, but none in rejecting it. Were he convinced that the dish was as deadly as the one with arsenic, he would most certainly throw it away. The truth is that in case of a tie between a physical urge or a material gain and a human value if a person is convinced that he stands to gain more by safeguarding the value he will without doubt sacrifice the physical urge. How is the conviction to come? The question is a challenge to ethics, “religion” and rationalism.

“Religious” View.

A group amongst the believers in human values is the “religious” or the God fearing group. (Islam is a social order and not a “religion” and hence it is excluded from this group). The group views human values as so many divine injunctions. Their observance pleases God and their violation incurs His wrath leading the recalcitrant into Hades after death. Man should therefore fear God’s displeasure and chastisement and never disobey His commandments. The “religious” view might be acceptable to the primitive mind but it cannot satisfy the advanced twentieth century mind. One can threaten a child into obedience, but not a grown up person. He may obey under duress, but his inner self will revolt all the time and watch for an opportunity to break away. Moreover, there is no nobility of character in actions performed under duress. “Religious” view, therefore provides neither an explanation for safeguarding human values nor a guiding force for human actions.

View of Western Thinkers.

Many Western thinkers can be cited, but for brevity’s sake one or two quotations should suffice. According to Kant, who enjoys a unique position amongst Western thinkers, the whole edifice of ethics is founded on Man’s goodwill. Says he

“It is impossible to conceive anything in the world, or even out of it, which can be taken as good without limitation, save only a “good will.”

(Quoted by H.J. Patton in his

“The Categorical Imperative”, page 34).

Kant defines “good will” as “a will which acts for the sake of duty.” (Ibid, page 45). That is, doing duty for the sake of duty is “good will” provided it is free from gainful expectation. Good action, however good it may be, ceases to be good the moment it is associated with expectation of return or reward. The return for a good action is the principle which prompts it. Kant divides principles into two categories. Those which prompt a person to action for gaining some purpose (material maxims) and those which urge him to action without any purpose (a priori maxims). These latter, a priori maxims, give rise in man to a sense of duty. An a priori maxim is, in Kant’s words, “categorical imperative”. Says he

“The categorical imperative would be that which represented an action as necessary of itself without reference to another end, i.e. as objectively necessary.”

(Critique of Practical Reason, page 31).

The position of Kant stated simply is that human values are duties which man should perform for the sake of duty and not for achieving some purpose. They are duties a priori needing neither any argument for their proof nor any expectation for return or reward.

Urge for Human Action.

Kant’s theory might be viewed an achievement in the realm of thought, but there is nothing in it which could sparkle man’s urge to sacrifice material gains and pleasures in favour of human values. The sacrifice needs a powerful stimulus, too strong for demands of self-interest. As a rational and conscious being he will attempt nothing which does not assure self-interest. Neither the high sounding theories of philosophers nor the forceful sermons of the mystics have succeeded in persuading man to forego self-interest for the preservation of human values. Their success, if any, has been restricted to a few devotees only. Their expositions lack the capacity of becoming universal life-principles.

Material Concept of Life.

According to the Holy Quran there are two concepts of life. One concept is that man is only an animal of a some-what improved order, who lives subject to physical laws and when under their operation his bodily machine stops, he dies and with death comes his final end. This concept views man as an embodiment of physical urges at the animal level to the complete exclusion of human values. Man is a social being and since collective living leads to clashes of interest, society frames laws and regulations to keep the clashes at the minimum. One who observes the social laws is a peaceful citizen; their violation leads to punishment by courts or brings on social stigma. Under this concept of life–

(i)                 Society needs no permanent principles or values but frames laws and regulations at will and modifies, annuls or adds to them as expedient;

(ii)               The urge for respecting social laws arises from fear of legal punishment or social stigma;

(iii)             The need for respecting the laws disappears the moment one can manage to escape the grip of law or to avoid social stigma; and

(iv)             The sole criterion of character is that a person does not place self-interest over national interest. Anti-national activities are not only a penal crime but a social stigma also. But if the legal machinery of a court weakens and self-interest becomes the order of the day, as is common in all poor third world countries including Pakistan, there is no check which would stop unrestricted grabbing nor is there any inner urge which could awaken a sense of character in the people.

This concept, the material concept, of life has made this earth of ours a veritable hell. Countries alive to national interest have become a terror for the other nations; those who have ceased to be mindful of national interest, are a curse for themselves and an object of hate for the rest of the world. There is in this concept no room for character as defined above. It is self-interest only which the concept breeds in individuals as well as groups. Placing of national over personal interest is practical wisdom and not character.

Quranic Concept of Life.

The other concept of life, according to the Holy Quran, is that man is not his body only, but that he has also a Self or Personality or to use Quranic terminology, Divine Energy, whose development is the real purpose of life. Development of Personality requires the frame-work of body and, therefore, along with the development of Personality, the development of body is also necessary. Development of body is, however, only a means for the development of Personality and not an end in itself.

Man Wishes to Live on.

A desire lurking in the deepest recesses of man’s heart is to live on and never die. Self-preservation is man’s instinct and his intellect helps provide all the means required for the purpose. Self-preservation is the basic theme of the story of Adam narrated allegorically in the Holy Quran. Iblis took note of this human feeling, advanced towards Adam and offered affectionately a suggestion that would secure him immortality coupled with power which knows no waning. The offer touched Adam’s tender most feelings and he beseeched Iblis impatiently to tell him the secret. Said Iblis “you can live after death through progeny which will perpetuate your name generation after generation.” The effect was magical, intense and abiding. There is no limit to the anxiety of an issueless individual advancing in age for having a son. Bemoaning and bewailing he can never reconcile himself to dying sonless because then his abode would become dark, his name would be forgotten, his lineage would come to a dead end and his family would cease to be for all time to come. But Iblis’s suggestion, said God to man, was a deception and a delusion born of the material concept of life. A father has a separate and independent existence from the son. If the son lives on it cannot make the father immortal. The way to achieve immortality lies elsewhere, namely through adequate development of Personality. A developed Personality is unaffected by physical death; it continues to live after death and live forever. That is the way to achieve immortality, the deepest and the strongest yearning of man. God told man further that in the present state of his existence development of Personality is possible through his body and that therefore protection of body and satisfaction of bodily urges is an unavoidable necessity. Consider an egg, the hidden life germ in which can, with due care and attention become a chicken provided the eggshell remains firm and is adequately protected. The shell is, however, a means for developing the inner potential chicken and not an end in itself. Similarly man’s body is a means for developing his Personality, not an end in itself. God also said to man that as there are laws for the development of his body, so there are laws for the development of his Personality. The latter laws cannot be discovered but have been revealed and are preserved in the Holy Quran. They are Human or Permanent Values of life and in their application they are as universal as the physical laws governing man’s body.

Difference Between the Two Concepts:–

Life lived under the Quranic concept differs vastly from life lived under the materialistic concept. According to the materialistic concept man’s physical life and bodily urges are an end in themselves and are not subject to any higher law. But according to the Quranic concept

(i)                 Man’s body and its physical urges are not an end in themselves but are a means for the achievement of a higher purpose, namely integration of his Personality.

(ii)               It is very necessary that bodily urges shall be satisfied. In our example the hungry man threw away the poisoned dish because the stuff which was a means for saving life had turned into a source of destruction. But when there is a conflict between a physical urge and a permanent value, the former must be sacrificed for the latter with the full cognizance and consent of intellect, the vigilant and uncompromising guardian of self-interest.

(iii)             A believer in the Quranic concept of life takes care of permanent values, not in obedience to some body’s order nor as a matter of duty, but after making a deliberate and calculated choice. The satisfaction of the physical urge offers him physical pleasure or temporary gain, and regard for the permanent value promises him honourable and abiding life. He decides solely on the basis of reason that he should give up the lesser gain for the sake of a bigger gain. Allama Iqbal[2] draws a distinction between two phases of intellect. When it cares only for the satisfaction of physical urges intellect is Aql-e-Khud Been (self-seeing intellect) and when it cares for the satisfaction of urges both of body and Personality, intellect is aql-e-jahan been (all seeing intellect). The Holy Quran calls gains of body Hayat-ud-dunya (nearer or present gains), gains of Personality Aakherat (gains of the future) and Momeneen (believers) olul albab, that is those possessing intellect of a superior order.

(iv)             Care of permanent values under the Quranic concept, is a rational affair. Intellect works for self-interest and when it is face to face with two gains, it chooses the bigger gain. Human intellect at the animal level is low but rises higher and higher as it attains Momin’s level of life. A Momin is intellectually always a superior being.

(v)               Anything done at the instance of “self-seeing” intellect would, as commonly under-stood, be an act of wisdom. But what is done in pursuance of “all-seeing” intellect would be wisdom, cum character. “Al-seeing” intellect of a Momin never conflicts with his faith.

Basis of Character.

Character and human dignity are closely connected with a firm belief in the following:–

(a)                that man is not merely his body, but has also a Personality whose integration is life’s real purpose;

(b)               that as there are laws for the development of Body, so there are laws for the integration of Personality, called permanent values;

(c)                that permanent values cannot be discovered by human intellect but have been revealed by God; and

(d)               that every action leaves an indelible impression on the doer’s Personality.

In regard to permanent values of life Hastings Rashdall, who has been quoted before, holds in his book “The Theory of Good and Evil”, pages 200-220, that for a belief in permanent values the following pre-requisites are essential:–

(1)               That the universe has been created with a purpose, the purpose being provision of means for helping human self achieve its destiny.

(2)               That human self is a permanent reality; that the reality is spiritual in so far as it has a permanent life of its own not identical with the changes of the material organism with which it is (in whatever way) connected; and that the acts of the man really proceed from and express the nature or character of the self.

(3)               That man’s present actions affect his future, i.e. his tomorrow would be identical with what he does today or, in other words, there is continuity in life. One who sees nothing beyond present life, will be after present gains and will attach no importance to permanent values, because their importance, as means for forming character, can be realized only when one believes life to be permanent and continuous. If he believes that character comes to an end with the last breath of life, why should he worry about formation of character.

(4)               That there must be belief in God because “an absolute Moral Law or moral ideal cannot exist in material things, it can exist only in a Mind from which all Reality is derived”.

According to the Holy Quran Faith (Eaman) and Character are inseparable; the Holy Book never misses to precede “amelu as salehat” (do good deeds) with “al lazeena amanu” (those who have faith).

Choice Between Gains.

No one will be prepared to do anything which does not do him any good. Take the example of two persons working in a Government office. They are there in self-interest, working for a pay. If a business-man comes along asking for some concession against the rules in return for a handsome bribe, the official to whom human Personality is a non-entity, will accept the amount provided he is assured of non-apprehension by the police, because the bribe brings him monetary gain. The other official, however, who has faith in human Personality will not accept the bribe, because he values more the gain in being honest. He realizes that acceptance of bribe will bring him physical gain but will harm his Personality and that rejection of bribe will mean a physical loss but a gain for his Personality. He will balance the gains and, since Personality is in any case more valuable, he will welcome Personality’s gain and reject what will satisfy only a physical urge. In making the decision he does nothing against self-interest. He only goes in for a greater gain. His choice is not in obedience to any order nor in fulfillment of any duty but because it brings him substantial benefit. The choice avoids harm to Personality in the same manner in which harm to life made the hungry man reject the poisoned dish. The basis of the Quranic Law of Retribution is that every action is linked inextricably with whatever impression it produces and leaves behind on Personality. Faith in Personality prompts man continuously to do healthy deeds and exhibit nobility of character. A “momin” works for the good it brings and measures his reward not according to physical or material standards but according to the standard applicable to Personality. The verse

“I ask you not for any return; I get my return from God” (10/72),

conveys the same meaning. There is no action but has a return, the assessment of return varying according to the measure adopted. Working in consonance with permanent values does not deprive one of physical gains. In a social order constituted on the basis of permanent values an individual has physical gains along with the means of development of Personality vide the verse

“Our Nourisher give to us in the present good and good in the future” (2/210).

Law of Development.

One of the laws governing development of Personality is that development proceeds in proportion to what one makes available from his earnings for the development of others. One who believes in human Personality works his best for earning a living, utilizes as much of it as would furnish basic needs of life and makes the rest available for the development of fellow beings. Judged by physical standards the process brings nothing but loss. If one knows that what is left after meeting his needs would pass to others, why should he work for the surplus. He should normally work for procuring his needs only and then relax. The reasoning is logical and a satisfactory answer to the argument is not easy to produce. Russia faced the self-made problem and in the absence of an adequate answer had no alternative to hanging an iron curtain along its borders. Quranic concept, however, provides an answer and by doing so establishes the superiority of the Quranic Social Order over the other social orders evolved by man. The establishment of the Quranic Social Order is the work of a group of “Mom-e-neen”, that is people who are rationally convinced:

(i)                 That the purpose of life is the development of human Personality, and

(ii)               That the development of Personality comes about through working hard and making available for others what is, out of such earnings, surplus to needs.

Why Do Momins Do So.

It is rather difficult to appreciate the keenness with which momins work for the purpose. Consider a mother suckling her baby. She must produce the maximum amount of milk for the baby’s proper nourishment. The food she takes is intended primarily for her own nourishment. But she would never wish that it should all be assimilated for her body’s growth and no portion converted into the baby’s milk. In fact if the milk shows signs of drying up, she would at once consult her doctor and do everything to restore the supply. She is anxious for the baby’s care and nourishment. Identical is the mental attitude of those who believe that by providing nourishment for others they help integration of their own Personality. They work to the maximum of their capacity, utilize only as much of their earnings as would provide them basic needs, and make the rest available for others’ nourishment. At times they would go even further and prefer others over themselves even though poverty be their portion (59/9). A loving and caring mother would rather remain hungry herself but must feed her children. She would gladly inconvenience her own sleep so that the child might sleep comfortably. In doing so she has not the slightest expectation of any return or reward. In the same way Momins tell those helped

“we desire no recompense from you, no thankfulness” (76/9).

But there is a difference. Whatever the mother does for the child is done under the stress of a natural instinct common to all animals, but what a Momin does is the outcome of thoughtful deliberation and free will. The distinction is vital and forms the foundation of the Quranic Social Order. It is a sure guarantee for the sustained elevation of character.

The Quranic Way.

The Holy Quran, on the one hand, makes the State responsible to see that every citizen is provided with the basic needs of life and the means for the development of latent capabilities. Weaknesses of character arising directly from want and poverty are thus eliminated. On the other hand, the Holy Book creates in every citizen, on the basis of reason, the conviction that his Personality will get integrated in proportion to what he makes available out of his earnings, after meeting his own needs, for the nourishment of others. There is no regimentation but conviction is brought home rationally by imparting education and training from early childhood. Quranic Social Order is made up in fact of persons with whom the conviction is an article of faith. The conviction eradicates all evils connected with hoarding and inflation since in the Quranic Social Order surplus wealth is not allowed to remain with the individual nor the urge of self-interest is permitted to tarnish human character. Communism also claims that it will not allow surplus wealth to remain with individuals and will thereby put an end to the evils of capitalism. But the communistic social order and the Quranic Social Order are entirely different.

Basic Weakness of Communism.

Communism has for its basis the materialistic concept of life and, therefore, can provide no urge for a worker to work the hardest and to part with willingly what may be, out of his earnings, surplus to needs. The absence of the urge constitutes a basic weakness foreboding its failure as a social order. It can subsist only with the help of external force and an order based on force cannot obviously last long, as the world has already witnessed the disintegration of Socialist Russia and Collapse of Communism in all Eastern European Countries. A social order will endure and advance only if it has the willing co-operation of the people, and such co-operation is impossible except with the Quranic concept of life. As already explained, the materialistic concept of life on which Communism is based, pertains to the animal level of life in which there is no room for the idea of character, because it can think of nothing higher than physical gain. The most the materialistic concept can do is to arouse the feeling of Nationalism and lead people from individual to collective effort for national good. But according to the Western concept of democracy Nationalism thrives on mutual hatred among nations. Every nation fears that if it becomes weak more powerful nations will swallow it up. Therefore Nationalism is at best the product of the urge of self-preservation and has nothing to do with human values vis a vis physical urges. Nationalism makes self-preservation a collective instead of an individual affair. This does not mean decrying Nationalism, that is the urge for protecting one’s country. Self-preservation is a must and unless a country is fully protected that ‘must’ will become impossible. What the foregoing is intended to convey is that work for self-preservation, whether individual or collective, does not signify positive character but reveals sound practical wisdom. Similarly indifference to self-preservation is un-wisdom and not a negation of character. A man sailing in a boat if he begins boring a hole in its bottom, will be called a lunatic and not one lacking character. Similarly if a citizen works for the country’s disintegration he will be termed a lunatic. If the national urge makes him sacrifice personal gain for national good he would be credited with sound sense like the man in the boat who uses his valuable handkerchief for stuffing the hole in its bottom. Character comes in where one having faith in permanent values hazards a plunge to save a drowning person. There might be instances of people taking a plunge who have absolutely no idea of permanent values, but their psychological analysis is likely to show that either they were aware unconsciously of the relevant permanent value or they did it with some ulterior motive. Display of true character takes place where one is confronted with two values and he sacrifices deliberately and consciously the lower for the higher value. Faith in Quranic permanent values does it; Communism and all other isms are helpless in the matter.

Momin’s Patriotism.

Believers in Quranic values sacrifice self interest for country’s sake not because the sacrifice would safeguard their personal interest, but because they wish their country to become a model for the world for enforcing permanent values. Their preference for a permanent value over personal gain is a sign of their elevated character.

The difference between the patriotism of a believer in materialistic concept of life and of a Momin is clear. For the former his country is an end in itself because “who dies if England lives”, but for the latter his country is not an end in itself but only a means for enforcing permanent values. Momin’s patriotism protects undoubtedly his personal interest as well as of his family, but this is by way of by-product. In Quranic Social Order there is integration of human Personality along with development of body. The entire activity of a Momin, whether for the development of body or Personality, merges into ad produces a balanced amalgan of character.

Resume:–

(1)               In a conflict between two values concerning man’s physical life if the lesser value is sacrificed for the greater value, it is an act of wisdom.

(2)               In a conflict between a value concerning physical or animal level of life and a value concerning human level of life, if the latter is given preference over the former, character is demonstrated.

(3)               Display of character presupposes faith in human values and human Personality. Character is wisdom too because it sacrifices lesser value for the bigger value. Momeneen according to the Holy Quran, are “olul albab” or master of intellect and wisdom. They are the true intellectuals although unbelievers in human Personality call them lunatics.

(4)               Intellect by itself cannot discover human values; they are revealed. Faith in Revelation and belief in human values go hand in hand. Faith and healthy deeds are, according to the Holy Quran, inseparable.

(5)               Off-and-on one comes across people who have no faith in revelation but honour human values and are prepared to make the biggest sacrifice for their sake. An analysis of their mind will show one of two things. Either they were brought up in an environment where human values were respected and stressed traditionally and were reposed carefully in their sub-conscious mind or their sacrifice was prompted by some motive like reputation, popularity, or the like. Sacrifice in their case is not a manifestation of character; character seeks strength of Personality and not satisfaction of physical urges.

(6)               Development of human Personality proceeds from faith in the Quranic values and through safeguarding them in practical life. They have to be honoured en masse. Ignoring some and respecting others would not achieve full development.

(7)               Development of human Personality is possible, not in seclusion, but in a society called Islamic State, whose edifice rises on a faith in Quranic permanent values. The duty of Islamic State consists in safeguarding of human values and popularising them throughout mankind. Quranic Social Order guarantees every citizen means for development of Personality and all that is pleasant and dignified in the world.

Mysticism and Character.

Finally a word about the impact of mysticism on character. Mysticism claims purification of self or spiritual advancement through various practices performed in seclusion. There is in mysticism no incentive for man to work for a social order or a State. The subject has been discussed at great length in my book “Saleem ke Nam Khatoot” (Vol: III). Briefly stated the essential features of mysticism are:–

(1)               It is misleading to say that Mysticism aims at the development and integration of human Personality. In fact it holds human Personality or Self to be the root cause of all misery which can be shed only by effacement of human Self. Mysticism believes that human Self is a part of Divine Self which on detachment therefrom has got stuck in the morass of matter, that the purpose of life is to pull out human Self from matter’s marsh and rejoin it to its Principal and that the object is achievable through discarding society, relations and desires. Mysticism aims at annihilation and not integration of Self.

(2)               In mysticism society, state, social organization, are matters for the worldly and an essential pre-requisite for self-purification is that they must all be discarded. Man’s salvation or salvage of soul from matter’s mud is an individual affair and can be achieved through meditation and exercises of a strenuous nature.

(3)               Mysticism credits negative virtues, namely humility, modesty, weakness, etc. These virtues are appropriate to a negative life which works for annihilation of Self. In consequence mysticism has been described as “an alien growth in the land of Islam”, because, contrary to mysticism Islam advocates a positive life and expects man to master nature, establish justice, and attain his destiny by integrating human Personality. And it is the many shining facets of a developed Personality which go to make up character.

Why Do We Lack Character?

In the light of the foregoing the straight answer to this question is that we lack character because we do not distinguish the human level of life from the animal level; because we do not appreciate the Divine Energy in us, that is, our Personality, the deciding, determining and dynamic agent in Man; and because we do not care for Permanent values in life as taught by the Holy Quran. The answer also helps to show the way to develop character, namely, that we should, in all seriousness, take up the education of our people, particularly in Quranic fundamentals, and life’s permanent Values. Dissemination of Quranic teachings should be at the top of our educational programme. Lughat-ul-Quran brought out in four volumes by Tolu-e-Islam Trust (Regd.) Lahore, which explains with the help of authentic Lexicons, the meaning of Quranic words, idioms, phrases, special terms and new concepts, should prove helpful in an intelligent study of the Holy Book, Al-Quran.

(G A Parwez)


 

IMPORTANT NOTES

            The English vocabulary does not offer words and phrases that convey precisely the exact sense of the relevant Quranic terms. English language has no exact equivalent words. The same exactly is the reason why it is practically impossible to translate the Quran faithfully into another language. In the words of the well known British Orientalist Professor H.A.R Gibb the Quran is essentially untranslatable, in the same way that the great poetry is untranslatable. In this glossary, we have tried to explain the real meaning and true import of the following relevant terms and phrases based upon authoritative and universally recognized lexicons of Arabic language. These interpretations are also supported by the context in which they have been used in the respective Quranic verses.

Allah—Quran uses the Arabic word for the One God. It is a misnomer to consider it a name for God as God has no names, only attributes. The Quran describes various attributes of Allah which are collectively known as “al-asma-ul-husna”, that is attributes that are blended in a single Being, in proper equilibrium. The Quran further calls upon man to develop in himself the Divine Attributes, of course, within human limits, with the same balance and proportion.

Quran has presented a concept of God entirely at variance with the one advanced by the various religions of the world. The distinguishing feature of Quranic concept lies in the belief that Allah did not merely create the universe, but has also laid down definite laws to regulate the scope and functions of the various objects comprising it. The “Law of Cause and Effect” and the “Law of Uniformity in Nature” among others being of basic importance; and they deal with external nature of Universe. He has besides, prescribed definite laws regulating human life and its activities.

The knowledge of the Divine Laws relating to the external universe is derived from a close observation of nature, scientific experiments and discoveries, but not so in the case of law relating to human life and regulation of its conduct which are communicated only through Revelation to the ‘Rasul’ (Messenger) who faithfully delivers the Message to mankind without slightest change or modification. The reception of revelation of Divine Guidance by ‘Anbiya’ or Rusul, ended with Muhammad (P). The Guidance revealed to him is preserved and enshrined fully and exactly in the Quran.

According to Holy Quran inspite of Allah’s infinite powers and boundless authority, He does every thing strictly in accordance with the laws prescribed by Him. The laws are so immutable that no mutation can occur in them (Al-Quran 35/43). The laws have been explained to man that obeying these laws will bring him such and such gain and acting against will result in loss. After narrating all this, it has been left to the choice whether to follow the prescribed right road or to make tracks of his own (76/3) Suffering and repose accrue to the man according to the law of Allah (2/44).

Islam—Islam is not a religion in the ordinary sense of the word. Religion is the English equivalent for the Arabic word ‘Mazhab’, which does not occur even once in the Quran. Islam is a system. The Quran has used the word “Addeen” for Islam which means a particular way of life, code of life, a social system (3/18) (5/3), which one gets from Allah. This is the Deen which Muhammad Rasoolullah (peace be upon him) brought (9/33) and would triumph over all other ways of life.

Taqwa—The common English equivalent, namely, piety, does not properly express the real meaning of the word. Deviation from the path of right conduct leads man to ruin; taqwa helps to keep him on the right path and thus save him from ruin. But merely saving oneself from ruin is a negative virtue, whereas the Qur’an regards the positive aspect of life as of fundamental importance. In the context of the Qur’an, therefore, taqwa involves not only saving oneself from the forces of destruction but also stablising one’s personality through the preservation and enforcement of the Laws of God. To be more concrete, it means the faithful and efficient performance of all the duties that God has enjoined upon man through Revealed Guidance. This meaning is wide enough to include loftiness of character and purity of conduct. One who leads a life of taqwa is called Muttaqi.

Hayat-ud-Dunya—temporal life, present earthly life, immediate gains. It is used as antonym of Akherat, that means later, future or life after death.

Iblis—or Iblees-Satan. In the allegorical story of Adam narrated in the Holy Quran, Iblis is not the name of an angel or person. Iblis is the name or term used for a specific personality trait. It is an embodiment of disobedience, rebellious feelings and emotions. Iblis and Satan are the two faces of the same coin.

Akherat—later, last, future, life after death.

Momeneen—plural of Momin—one who stands guarantee for peace, upon whom one can depend, peace of mind, balanced personality in every aspect. A living model for any one who wants to avoid the pitfalls of life.

Olul-albab—intellectuals, men of letters, thinkers, who are endowed with rational selfless thinking and wisdom.

Quranic references: wherever the Quranic reference is quoted i.e. 4/135, this means Sura number 4, verse number 135.

****************

 

Why Do We Lack Character?

 

BIBLIOGRAPHY

No.                                              Author        Title

  1. Soren Kierkegarard            The Present Age
  2. Bubar Martin                     Between Man and Man
  3. Berdyeau Bubar                 Slavery and Freedom
  4. Whitehead. A.N.                Adventures of Ideas
  5. Loveday Alexander           The Only Way
  6. Murray. Robert.H              The Individual and the State
  7. Rashdall – Hastings           The Theory of Good and Evil
  8. Panton.H.J                         The Categorical Imperative Critique of Practical Reason Both by Kant (1724 – 1804)
  9. Iqbal – Dr. Sir Mohammad            Israr-e-Khudi (1915)
  10. Parwez, Allama G.A        1-           Saleem-Kay-Naam Khatoot 3 volumes

2-          Mafhoom-ul-Quran

3 volumes

3-          Lughaat-ul-Quran

(lexicon) 4 volumes

 

[1] A delicious rice dish cooked with meat.

[2] Dr. Sir, Mohammad Iqbal, Poet, Philosopher of Pakistan (1877-1938)

1,147 total views, 1 views today

(Visited 198 times, 1 visits today)

قوموں کے تمدن (کلچر) پر جنسیات کا اثر – (پرویز)

SEX AND CULTURE by Ghulam Ahmad Parwez

جب زندگی اپنے ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی‘ حیوانی سطح سے انسانی پیکر پر پہنچی تو وہ حیوانی زندگی کے بعض خصائص و لزومات بھی اپنے ساتھ لائی۔ کھانا‘ پینا‘ سونا وغیرہ (جسم کا طبعی نظام) حیوان اور انسان میں مشترک ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ انسانی زندگی کی حیوانی سطح کے مظاہر ہیں۔ انہی میں افزائش نسل Procreation اور اس کے لئے جنسی جذبہ Sexual Instinct بھی شامل ہے۔
کھانے پینے کے معاملہ میں‘ حیوانات پر بعض پابندیاں فطرت کی طرف سے از خود عائد ہوتی ہیں۔ مثلاً بکری گھاس کھاتی ہے گوشت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔ شیر گوشت کھاتا ہے‘ گھاس نہیں کھاتا۔ بطخ کے بچے انڈوں سے نکلتے ہی پانی کی طرف لپکتے ہیں۔ مرغی کے بچوں کو پانی کی طرف گھیر کر بھی لے جائیں تو وہ آگے قدم نہیں بڑھاتے۔ حیوانات پر یہ پابندیاں از خود عائد ہوتی ہیں اور وہ انہیں توڑنے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس‘ انسانی بچے کو دیکھئے۔ وہ سنکھیا کی ڈلی کو بھی اسی طرح بے تکلفی سے منہ میں ڈال لیتا ہے جس طرح شاخ نبات (مصری کی ڈلی) کو۔ وہ کبھی دہکتے ہوئے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے اور کبھی پانی میں ڈبکیاں لگاتا دکھائی دیتا ہے اس پر فطرت کی طرف سے از خود ایسی پابندیاں نہیں عائد ہوتیں جیسی حیوانات پر عائد ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ پابندیوں کے بغیر زندگی دوبھر ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں ناممکن بھی ہو جاتی ہے اس لئے انسان پر بھی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ یہ پابندیاں یا تو معاشرے کی طرف سے عائد کی جاتی ہیں اور یا مذہب کی طرف سے۔ (مذہب کے بجائے وحی کا لفظ زیادہ موزوں ہے اس لئے آئندہ صفحات میں اسے وحی ہی سے تعبیر کیا جائے گا۔ وحی سے مراد ہی ایسی پابندیاں جو انسانی معاشرہ کی طرف سے عائد کردہ نہ ہوں بلکہ خدا کی طرف سے عائد کردہ ہوں)۔
معاشرتی پابندیاں -: معاشرہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور وحی کی رو سے متعین کردہ پابندیوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ معاشرتی پابندیاں بعض مصالح کی بناء پر بدلی بھی جا سکتی ہیں۔ لیکن وحی کی رو سے عائد کردہ پابندیوں میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ مثلاً معاشرہ کسی وقت فیصلہ کرتا ہے کہ لوگوں کو سڑک کے بائیں طرف چلنا چاہئے۔ اس فیصلہ کی رو سے (Keep to the left) سڑک کا قانون قرار پا جاتا ہے لیکن اگر کسی وقت معاشرہ اس کی ضرورت محسوس کرے تو وہ اس قانون کو بدل کر ’’دائیں طرف چلو‘‘ کا قانون بھی نافذ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جب وحی خداوندی نے کہا ہے کہ (مثلاً لحم خنزیر حرام ہے تو کوئی انسان اس قانون میں ترمیم نہیں کر سکتا۔ وحی خداوندی کے ماننے والوں کو لحم خنزیر سے اسی طرح پرہیز کرنا ہو گا جس طرح بکری گوشت سے پرہیز کرتی ہے‘ اس فرق کے ساتھ کہ بکری ایسا اپنی مرضی سے نہیں کرتی۔ لیکن انسانوں کو ایسا اپنے اختیار و ارادہ سے کرنا ہو گا۔
جنسی جذبہ پر پابندیاں -: کھانے پینے کے علاوہ جنسی جذبہ کی تسکین کے سلسلہ میں بھی حیوانات پر فطرت کی طرف سے کنٹرول عائد ہوتا ہے۔ ایک بیل ہر روز گایوں کے گلے میں پھرتا رہتا ہے لیکن کبھی جنسی اختلاط نہیں کرتا۔ تاوقتیکہ اسے گائے کی طرف سے استقرار حمل کا طبعی تقاصا اس کی دعوت نہ دے۔ لیکن انسان پر اس قسم کا کوئی کنٹرول نہیں عائد کیا گیا وہ جب جی چاہے اپنے جنسی جذبہ کی تسکین کر سکتا ہے۔
حیوانات پر اس طبعی کنٹرول کے علاوہ (جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے) کسی قسم کا اخلاقی کنٹرول عائد نہیں کیا گیا (حیوانات کی صورت میں اخلاقیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) لیکن انسان پر اس ضمن یں اخلاقی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ (جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے) یہ پابندیاں معاشرہ کی طرف سے بھی عائد کی جاتی ہے اور وحی کی رو سے بھی۔ معاشرتی پابندیوں پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ یہ پابندیاں مختلف اقوام و ممالک میں مختلف نوعیتوں کی ہیں۔ نیز کسی ایک ہی قوم میں مختلف زمانوں میں ان پابندیوں میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً انگلستان میں اگر ایک بالغ لڑکا اور لڑکی باہمی رضامندی سے (شادی کے بغیر) جنسی اختلاط کی صورت پیدا کر لیں تو معاشرے کی نگاہوں میں یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ یہ اسی صورت میں جرم قرار پائے گا جب میاں یا بیوی کو اس پر اعتراض ہو۔ ان پابندیوں میں ردوبدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً اس وقت تک وہاں یہ صورت ہے کہ اگر کسی غیر شادی شدہ لڑکی کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے اور بچے کا باپ اس لڑکی سے شادی نہ کرے تو وہ بچہ حرامی قرار پاتا اور سوسائٹی میں ذلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن پچھلے دنوں وہاں ایک تحقیقاتی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایسے تعلقات کو جائز سمجھا جائے۔ ان سے پیدا شدہ بچوں کو معاشرہ کا صحیح جزو قرار دیا جائے اور انہیں حقارت کی نظروں سے نہ دیکھا جائے۔ وقس علیٰ ہذا۔ اس وقت ان فیصلوں پر تنقید و تبصرہ مقصود نہیں۔ مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ اگر معاشرہ چاہے تو اپنی عائد کردہ پابندیوں میں تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔
وحی کی پابندیاں -: اس کے برعکس‘ اس باب میں وحی (یعنی قرآن کریم) نے بھی کچھ پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان پابندیوں کا ماحصل یہ ہے کہ معروف طریقہ پر شادی کے بغیر کسی لڑکے یا لڑکی (مرد یا عورت) کو جنسی اختلاط کی قطعاً اجازت نہیں اور شادی کے بعد‘ نہ بیوی کسی غیر مرد سے اختلاط پیدا کر سکتی ہے‘ نہ میاں کسی اور عورت سے۔ اس قسم کا اختلاط فرد کا نہیں بلکہ معاشرہ کا جرم ہے اور اس (جرم زنا) کی سزا معاشرہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور ان پابندیوں میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں کیا جا سکتا۔
مغرب کی جنسی بے باکیوں سے متاثر ہو کر ہمارے ہاں کے نوجوان طبقہ میں بھی یہ خیال عام ہو رہا ہے کہ مرد اور عورت کا جنسی تعلق ایک طبعی تقاضے کی تسکین یا افزائش نسل کے لئے ایک حیاتیاتی عمل (Biological Action) ہے اور بس۔ اس معاملہ کو لڑکی اور لڑکے کی باہمی رضامندی پر چھوڑ دینا چاہئے اور نکاح وغیرہ کی پابندی‘ محض قانونی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہونی چاہئے نہ کہ بالغ مرد اور عورت کی آزادی کو سلب کرنے کے لئے۔ ان خیالات کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی (مغرب کی طرح) جنسی فوضویت (Sexual Anarchy) کی فضا عام ہوتی جا رہی ہے اور وحی کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں (یعنی عفت و عصمت (Chastity) کے مطالبہ) کوغیر فطری جکڑ بندیاں قرار دیا جا رہا ہے۔
ان پابندیوں کی مصلحت-:سوال یہ ہے کہ کیا وحی کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں محض معاشرہ میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لئے ہیں یا ان کا تعلق عالم انسانیت کے اجتماعی مصالح سے ہے۔ اگر ان کا مقصد محض معاشرتی نظم و ضبط ہے تو بے شک معاشرہ کو اس کا حق ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مصالح کے پیش نظر ان میں ردوبدل کر لے لیکن اگر ان کا تعلق انسانیت کے کسی بنیادی مسئلہ سے ہے تو پھر کسی فرد یا افراد کے کسی گروپ کو اس کا حق نہیں دیا جا سکتا تاکہ وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان پابندیوں میں تبدیلی کر کے انسانیت کے اجتماعی مصالح کو نقصان پہنچائے۔ قرآن نے جب زنا کو معاشرہ کا جرم قرار دیا ہے تو اس سے مطلب یہی ہے کہ اس کے نزدیک جنسی تعلق محض ایک انفرادی فعل نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کا اثر اجتماعی انسانیت پر پڑتا ہے۔ دوسری طرف جب اس نے کہا کہ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ(۱/۲۳) ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ (۵/۲۳) تو اس نے واضح الفاظ میں اعلان کر دیا کہ عفت و عصمت کا‘ قوموں کی فلاح و بہبود سے گہرا تعلق ہے۔ جو قوم عصمت کی حفاظت نہیں کرتی وہ زندگی کے میدان میں فائز المرام (Prosperous) نہیں ہو سکتی۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کے اس دعوے کی صداقت کی شہادت کیا ہے؟جو لوگ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کے ان تمام دعاوی کو سچا مانتے ہیں۔ لیکن سوال ان لوگوں کا نہیں۔ سوال تو ان کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم اس دعوے کو بطور ایمان (Faith) ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ہم اس کے ثبوت میں علمی تائید اور شہادت چاہتے ہیں۔
قرآنی دعوے کی دلیل -: ان لوگوں (بالخصوص ہمارے نوجوان طبقہ) کا یہ مطالبہ ایسا نہیں جسے ہم لاحول پڑھ کر ٹھکرا دیں اور انہیں ملحد و بے دین کہہ کر تیوریاں چڑھا لیں۔ قرآن اپنے ہر دعوے کی بنیاد علم و بصیرت پر رکھتا ہے اور اسے دلیل و برہان کی رو سے منواتا ہے۔ وہ کہتا یہ ہے کہ جوں جوں انسانی علم کی سطح بلند ہوتی جائے گی قرآنی حقائق کھل کر سامنے آتے چلے جائیں گے سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔۔۔۔۔۔ (۵۳/۴۱) ہم انہیں انفس و آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تاآنکہ یہ چیز نکھر کر ان کے سامنے آجائے کہ قرآن ایک حقیقت ثابتہ ہے۔ لہٰذا دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جنسی تعلقات کے متعلق جس قدر تحقیقات ہمارے زمانے میں ہو چکی ہیں وہ قرآن کے دعوے کی کس حد تک تائید کرتی ہیں۔ یہ سوال بڑا اہم ہے اور وقت کا نازک ترین مسئلہ۔ اس لئے اس قابل کہ اس پر بڑی توجہ اور گہری فکر سے غور و خوض کیا جائے۔
غور و فکر -:جنسیات کے متعلق ہمارے ہاں کوئی تحقیق نہیں ہوئی اس لئے اس کے نتائج کو سامنے لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ایک جنسیات ہی پر کیا موقوف ہے۔ زندگی کے اور کون سے شعبے ہیں جن کے متعلق ہمارے ہاں کوئی ریسرچ ہوئی ہو! حقیقت یہ ہے کہ جس قوم پر صدیوں سے سوچنا حرام ہو چکا ہو اور تقلید کہن زندگی کی محمود روش قرار پا چکی ہو‘ ان میں فکری صلاحیتیں بہت کم باقی رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس مقصد کے لئے بھی مغرب کے محققین کی طرف ہی رجوع کرنا ہو گا۔
علمائے مغرب کی تحقیقات -:یورپ میں (دیگر شعبوں کی طرح) جنسیات نے بھی ایک مستقل سائنس کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے لئے وہاں تحقیقاتی ادارے قائم ہیں۔ علمائے عمرانیات Sociologists تہذیب کے مورخ‘ علمائے جنسیات اور ماہرین علم تجزیہ نفس Psycho-Analysts وغیرہم نے اس موضوع پر کافی چھان بین کی ہے اور جنسیات سے متعلق لٹریچر خاصی مقدار میں شائع ہو چکا ہے اور ہوتا چلا رہا ہے۔ ان کی تحقیقات کا بالعموم انداز یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے قدیم باشندوں Primitive Tribes کے احوال و کوائف‘ بود و ماند‘ رسوم و معاشرت اور اجتماعی اعمال و معتقدات کا مطالعہ کرتے اور اس طرح حاصل کردہ مسالہ (Data) سے نتائج مستنبط کرتے ہیں(۱)۔ اس مقصد کے لئے انہیں جن صبر آزما اور مشقت طلب مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمر افریقہ کے صحراؤں‘ جنوبی امریکہ کے جنگلوں‘ قطبین کے برفانی میدانوں اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں گذار دی۔ وہ وہاں کے وحشی قبائل میں جا کر رہے۔ انہی کی معاشرت اختیار کی۔ وہی کچھ کھایا جو وہ کھاتے تھے۔ وہی کچھ پہنا جو کچھ وہ پہنتے تھے۔ انہی کے ساتھ کبھی درختوں کے کھوکھلے تنوں میں‘ کبھی ان کی شاخوں کے اوپر‘ کبھی پہاڑوں کے غاروں میں اور کبھی درندوں کے بھٹوں میں زندگی بسر کی۔ بعض اوقات انہی میں شادیاں بھی کیں اور اس طرح انہی میں گھل مل کر ان کی معاشرت اور معتقدات کادقت نظر سے مطالعہ کیا اور اس طرح ان کے متعلق براہ راست معلومات بہم پہنچائیں۔ ان محققین نے دنیا کے قبائل کی معاشرت اور معتقدات کے مطالعہ کے بعد جن موضوعات کے متعلق اصول متعین کئے ہیں۔ ان میں جنسیات کو ایک کاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے مرتب کردہ نتائج ہمیں اس حقیقت تک پہنچاتے ہیں کہ مرد اور عورت کے جنسی تعلق کا معاملہ محض شہوانی جذبہ کی تسکین تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کا اثر بڑا دور رس ہوتا ہے۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ کسی قوم کے تمدن (Culture) کا اس سوال سے گہرا تعلق ہے کہ اس قوم نے جنسی تعلقات کو آزاد چھوڑ رکھا تھا یا اس پر پابندیاں لگا رکھی تھیں اور اگر پابندیاں لگا رکھی تھیں تو وہ کس نوعیت کی تھیں۔
ڈاکٹر انون -:Dr.J.D.Unwin انہیں محققین میں کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر J.D.Unwin کا نام خاص شہرت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر انون نے دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے ۸۰ غیر مہذب (قدیمی) قبائل کی زندگی کا مطالعہ اس نقطہ نگاہ سے کیا ہے کہ انسانی زندگی میں جنسیات اور کلچر کا کیا تعلق ہے؟ اگر ان میں ایک قبیلہ جنوبی امریکہ کا ہے تو دوسرا قطب شمالی کا۔ ایک آسڑیلیا کا ہے تو دوسرا صحرائے افریقہ کا۔ اس کے بعد اس محقق نے سولہ مہذب اقوام کی معاشرت کا مطالعہ کیا ہے اور اپنے نتائج تحقیقات کو اپنی گراں بہا کتاب (Sex and Culture) میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا فقرہ یہ ہے -:
دنیا کی مہذب اقوام ہوں یا غیر مہذب قبائل۔ سب کے ہاں چنسی مواقع اور قوم کی تمدنی حالت میں بڑا گہرا تعلق ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس مسئلہ پر تفصیلی تحقیق کی جائے۔ میری اس تحقیق کا ماحصل اور اس سے مستنبط کردہ نتائج اس کتاب میں پیش کئے گئے ہیں۔
اصل کتاب سے بھی پہلے دیباچہ میں لکھا ہے کہ -:
اپنی تحقیقات کے بعد میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ انسانوں کا کوئی گروہ ہو‘ اس کی تمدنی سطح کا انحصار دو چیزوں پر ہے۔ ایک ان لوگوں کا نظام اور دوسرے وہ توانائی جو ان حدود و قیود کی بنا پر حاصل ہوتی ہے جو اس گروہ نے جنسی تعلقات پر عائد کر رکھی ہوں۔ (XIV)
اسی کلیہ کو اس نے اصل کتاب میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے -:
کوئی گروہ کیسے ہی جغرافیائی ماحول میں رہتا ہو۔ اس کی تمدنی سطح کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ اس نے اپنے ماضی اور حال میں جنسی تعلقات کے لئے کس قسم کے ضوابط مرتب کر رکھے تھے۔ (ص ۳۴۰)
آپ نے غور کیا کہ یہ محقق اپنی تحقیقات کے بعد کس نتیجہ پر پہنچا ہے؟ وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جنسی تعلقات محض ایک حیوانی جذبہ کی تسکین کا نام نہیں بلکہ قوموں کی تہذیب و تمدن کا دارومدار اسی جذبہ کی تحدید و تادیب پر ہے۔ حتیٰ کہ ڈاکٹر انون یہ بھی لکھتا ہے کہ -:
اگر کسی قوم کی تاریخ میں آپ دیکھیں کہ کسی وقت اس کی تمدنی سطح بلند ہو گئی تھی یا نیچے گر گئی تھی تو تحقیق سے معلوم ہو گا کہ اس قوم نے اپنے جنسی تعلقات کے ضوابط میں تبدیلی کی تھی جس کا نتیجہ اس کی تمدنی سطح کی بلندی یا پستی تھا۔ (ص ۳۰۲)
آگے چل کر وہ لکھتا ہے کہ -:
جنسی تعلقات کے ضوابط میں تبدیلی کے اثرات تین پشتوں کے بعد (یعنی قریب سو سال میں) نمودار ہوتے ہیں۔ (ص ۳۳۰)
اس لئے اگر کسی قوم میں تمدنی تبدیلی واقع ہو۔ یعنی اسے دنیا میں عروج حاصل ہو یا اس پر زوال آجائے تو اس عروج و زوال کے اسباب کے لئے دیکھنا چاہئے کہ اس قوم نے سو سال پہلے اپنے ہاں جنسی تعلقات کے ضوابط میں کس قسم کی تبدیلیاں کی تھیں جیسی وہ تبدیلیاں ہوں گی اسی قسم کے نتائج مرتب ہوں گے۔
جبری تجرد -:سب سے پہلے تجرد کی زندگی (Celibacy) کو لیجئے جسے عیسائیت (اور اس سے متاثر شدہ مسلک خانقاہیت) روحانی ارتقاء کے لئے اولین شرط قرار دیتی ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ :
جبری تجرد (Compulsory Celibacy) کے اثرات انسانی تمدن پر ہلاکت انگیز ہوتے ہیں۔ (ص ۸۴)
جبری تجرد سے مفہوم یہ ہے کہ یہ چیز انسانی عقائد یا معاشرتی ضوابط میں شامل کر دی جائے کہ وہ تجرد کی زندگی وجہ شرف و تقدس ہے اور اس طرح لوگوں کو ذہنی طور پر مجبور کر دیا جائے کہ وہ تجرد کی زندگی بسر کریں۔ جیسے عیسائیوں کے ہاں (Nuns) اس قسم کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
عیسائیت یا مسلک خانقاہیت میں جہاں یہ کہا جاتا ہے کہ تجرد کی زندگی ہی شرف انسانیت کی زندگی ہے تو دوسری طرف آج کل عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر جنسی جذبات کی تسکین کے سلسلہ میں کسی قسم کی بھی پابندی عائد کی جائے تو اس سے انسان کے اعصاب پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور اس سے خطرناک قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ یہ خیال یکسر غلط ہے۔ جنسی جذبات پر پابندیاں عائد کرنے سے اعصابی بیماریاں پیدا نہیں ہوتیں۔ انہیں بے لگام چھوڑ دینے سے ایسا ہوتا ہے (دیباچہ ص xii)
******
تین گروہ -:اس تمہید کے بعد آگے چلئے۔ ڈاکٹر انون نے قدیم غیر مہذب قبائل کی تمدنی سطح کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ وہ سب سے نچلے درجے کا نام (Zoistic) رکھتا ہے اور ا سے اوپر (Manistic) کا درجہ ہے اور سب سے اوپر (Deistic) کا درجہ۔ اس کے بعد وہ ۸۰ قبائل کی تمدنی سطح کے مطالعہ کے بعد جن نتائج پر پہنچا ہے وہ حسب ذیل ہیں۔
۱۔ جس گروہ نے کنوار پن (Pre-Nuptiali) کے زمانے میں جنسی تعلقات کی کھلی آزادی دے رکھی تھی وہ تمدن کے پست ترین سطح پر تھے۔
۲۔ جن قبائل میں زمانہ قبل از نکاح میں جنسی تعلقات پر تھوڑی بہت پابندیاں عائد تھیں وہ تمدنی سطح کے درمیانی درجے پر تھے۔
۳۔ تمدن کی بلند ترین سطح پر صرف وہ قبائل تھے جو شادی کے وقت عفت و بکارت (Chastity) کا شدت سے تقاضا کرتے تھے اور زمانہ قبل از نکاح میں جنسی تعلق کو معاشرتی جرم قرار دیتے تھے۔ (ص ۳۲۵۔۳۰۰)
اس کے بعد ڈاکٹر انون‘ شادی کے بعد کے جنسی ضوابط سے بحث کرتا ہے۔ لیکن اس بحث کو چھیڑنے سے پہلے وہ اس حقیقت پر پھر زور دیتا ہے کہ:
شادی کے بعد کے ضوابط کبھی تعمیری نتائج پیدا نہیں کر سکتے جب تک شادی سے پہلے زندگی میں عفت و عصمت پر زور نہ دیا جائے۔ (ص ۳۴۳)
اس مقصد کے لئے وہ شادی کو چار بڑی بڑی قسموں میں تقسیم کرتا ہے۔ یعنی
۱۔ عورت اپنی ساری زندگی میں ایک خاوند کی بیوی بن کر رہے اور مرد ساری زندگی میں ایک عورت کا خاوند رہے ان کے رشتہ نکاح کے منقطع ہونے کی کوئی شکل نہ ہو۔ بجز اس کے کہ عورت ناجائز فعل کی مرتکب ہو جائے اس کا نام‘ اس کے نزدیک مطلق وحدت زوج (Absolute Monogamy) ہے۔
۲۔ رشتہ نکاح عمر بھر کے لئے نہ ہو بلکہ فریقین کی رضامندی سے منقطع بھی ہو سکتا ہو اسے وہ ترمیم شدہ وحدت زوج (Modified Monogamy) کی اصطلاح سے تعبیر کر سکتا ہے۔
۳۔ عورت تو صرف ایک خاوند کی بیوی بن کر رہے لیکن مرد کو اجازت ہو کہ وہ ایک سے زیادہ عورتیں رکھ سکے اس کا نام اس کے نزدیک مطلق تعداد ازواج (Absolute Polygamy) ہے۔ اور
۴۔ اگر مرد‘ دوسری عورتوں سے جنسی تعلق قائم کرے (یعنی ایک سے زیادہ بیویاں کرے) تو عورت بھی آزاد ہو کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی اور کے ہاں چلی جائے۔ اسے وہ ترمیم تعداد ازواج (Polygamy Modified) کہتا ہے۔
ڈاکٹر انون کا کہنا ہے کہ :
آج تک کوئی قوم شق نمبر ۱ کے ’’مطلق وحدت زوج‘‘ کے مسلک کو زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رکھ سکی۔ (ص ۳۴۴)
اس لئے کہ یہ شکل اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب معاشرہ میں عورت کی کوئی حیثیت تسلیم نہ کی جائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ ہمیشہ اپنے خاوند کی مطیع و فرمانبردار لونڈی بن کر رہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی معاشرہ میں ایسی صورت دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ عورت کی طرف سے اس کا ردعمل ایسا شدید ہوتا ہے کہ وہ پھر معاشرہ کے تمام جنسی قیود کو توڑ کر ’’کامل آزادی‘‘ کا مطالبہ کر دیتی ہے اور اس کامل آزادی کے معنی ہوتے ہیں جنسی فوضویت (Sexual Anarchy) جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ (ص ۳۴۵)
بہترین تمدن کی حامل قوم -:اس کے بعد ڈاکٹر انون نے کہا ہے کہ تاریخ اس وقت تک جن اقوام و قبائل کے حالات محفوظ رکھ سکی ہے۔ ان میں سب سے بہتر تمدن کی حامل وہ قوم تھی شادی سے قبل جنسی اختلاط کی مطلقاً اجازت نہیں دیتی تھی اور شادی کے بعد شق نمبر ۲ کی ترمیم شدہ وحدت زوج کی پابند تھی۔ یعنی جن کا عام اصول یہ تھا کہ شادی کے بعد بھی جنسی تعلق صرف میاں بیوی میں رہے۔ رشتہ نکاح محکم و استوار ہو لیکن ناقابل تنسیخ نہ ہو بلکہ بعض حالات کے ماتحت منقطع ہو سکتا ہو یہ بعینہ وہ شکل ہے جسے قرآن تجویز کرتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنسی تعلقات پر اس قسم کی قیود و حدود عائد کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اس کے متعلق ڈاکٹر انون نے مختلف ماہرین علوم کی شہادات سے اہم نتائج مستنبط کئے ہیں وہ کہتا ہے کہ
جنسی تعلقات کی حد بندی سے ایک قسم کا ذہنی اور عصبی تناؤ (Tension) پیدا ہوتا ہے جس سے جذباتی توانائی میں ارتکاز (Compression) پیدا ہو جاتا ہے۔ (ص ۳۱۳)
یہ مرتکز شدہ معاشرتی توانائی اپنی نمود کے مختلف راستے تلاش کرتی ہے۔ اس نفسیاتی عمل کو ڈاکٹر فرائڈ کی اصطلاح میں کظامت (Cublimation) کہا جاتا ہے چنانچہ ڈاکٹر انون کہتا ہے کہ
نفسیاتی تحقیقات سے ظاہر ہے کہ جنسی تعلقات پر حدود و پابندیاں عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم میں قوت فکر و عمل بہت بڑھ جاتی ہے۔ نیز محاسبہ خویش کی صلاحیت بھی۔ (ص۳۱۷)
فرائڈ کی تحقیق-:بہتر ہو کہ اس موقعہ پر خود فرائڈ کے الفاظ ہمارے سامنے آجائیں۔ وہ لکھتا ہے کہ :
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی تہذیب کی عمارت استوار ہی اس طرح ہوئی ہے کہ لوگوں نے اپنے قدیم جذبات کی تسکین میں ایثار و قربانی سے کام لیا ہے اور یہ عمارت دن بدن اوپر کو اٹھتی جا رہی ہے کیونکہ ہر فرد‘ اپنے جذبات کو انسانیت کے مشترکہ مفاد کی خاطر قربان کرتا رہتا ہے۔ ان جذبات میں جنسی جذبات کو خاص اہمیت حاصل ہے (جب ان کی بے باکانہ تسکین ہی مقصد زندگی نہ بن جائے تو) یہ اپنا رخ دوسری طرف منتقل کر لیتے ہیں (جسے Sublimation کہتے ہیں) اور اس طرح افراد کی فالتو توانائی‘ جنسی گوشوں کی طرف سے ہٹ کر ان گوشوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے جو تمدنی طور پر بہت زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
آپ نے دیکھ لیا کہ فرائڈ کی تحقیق کے مطابق اگر جنسی توانائیوں کو بے محل ضائع نہ کیا جائے تو یہ انسانی تہذیب و تمدن کے قصر حسین کی تعمیر میں کس قدر ممد و معاون بن جاتی ہیں (۲)۔
قرآنی کظامت -:فرائڈ نے اس طریق عمل کا نام Sublimation رکھا ہے۔ یہ علم تجزیہ نفس (Psycho-Analysis) کی ایک اہم اصطلاح ہے اور دور حاضر کی ایک گراں قدر نفسیاتی تحقیق لیکن آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ انسانی ذہن نے جہاں اسے بیسویں صدی میں دریافت کیا ہے‘ قرآن نے چھٹی صدی عیسوی میں (جسے عام طور پر ازمنہ مظلمہ (Dark-Ages) کہا جاتا ہے) کس طرح اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ سورہ آل عمران میں مومنین کی ایک صفت الکاظمین الغیظ بتائی گئی ہے۔ اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے اس لفظ کے بنیادی معانی کو سامنے لانا ضروری ہے۔ عرب ایک گرم اور خشک ملک ہے جہاں پانی کی اکثر قلت رہتی ہے وہ کرتے یہ تھے کہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کنویں کھودتے۔ ان میں کسی میں کم پانی نکلتا کسی میں زیادہ۔ پھر وہ ان کنوؤں کو آبدوز نالیوں (Subterranean Channels) کے ذریعے ایک دوسرے سے ملا دیتے۔ اس طرح جس کنویں میں پانی زیادہ ہوتا۔ اس کا فالتو پانی دوسرے کنویں کی طرف منتقل ہو جاتا اور یوں تمام کنوؤں میں پانی کی تقسیم یکساں ہو جاتی۔ اس طریق عمل کو ان کے ہاں کظامت کہا جاتا تھا۔ لہٰذا کاظمین الغیظ کے معنی ہوئے وہ لوگ جو اپنی اس حرارت اور توانائی کو جو غصے کی شکل میں باہر نکلنا چاہتی ہے۔ کسی دوسری طرف منتقل کر کے اس سے تعمیری نتائج کا کام لیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے عصر حاضر کے ماہرین تجزیہ نفس نے (Sublimation) سے تعبیر کیا ہے۔
اب ہم پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ڈاکٹر انون نے بتایا ہے کہ جنسی تعلقات پر پابندیاں عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم میں قوت فکر و عمل اور محاسبہ خویش کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس
جو قوم اپنے مردوں اور عورتوں کو آزاد چھوڑ دے کہ وہ جنسی خواہشات کی تسکین جس طرح جی چاہے کر لیں۔ ان میں فکر و عمل کی قوتیں مفقود ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ رومیوں نے ایسا ہی کیا وہ حیوانوں کی طرح بلا قیود جنسی جذبات کی تسکین کر لیا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ ان کے پاس کسی اور کام کے لئے توانائی باقی نہ رہی۔ (ص ۳۹۸)
اضمحلال -:قرآن کریم نے ایک جگہ مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ولا یزنون وہ زنا کی قریب تک نہیں جاتے۔ اس لئے کہ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا (۶۸/۲۵) جو قوم ایسا کرتی ہے اسے اثم سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ عربی زبان میں اثمتہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں کہ جو تھک کر مضمحل ہو جائے اور اس میں اتنی توانائی نہ رہے کہ وہ باقی قطار کے ساتھ چل سکے۔ اس لئے وہ ان سے پیچھے رہ جائے۔ آپ غور کیجئے کہ قرآن نے کس طرح ایک لفظ کے اندر اس تمام حقیقت کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ جس تک دور حاضر کی تحقیق اس قدر تجربات کے بعد پہنچی ہے۔ یعنی یہ کہ جنسی جذبات کو آزاد نہ چھوڑ دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم مضمحل ہو جاتی ہے اور زندہ اقوام کے ساتھ دوش بدوش چلنے کے قابل نہیں رہتی۔ اس میں وہ معاشرتی توانائیاں نہیں رہتیں جو قوموں کو تمدنی بلندیاں عطا کرتی ہیں۔
ڈاکٹر انون نے یہ بھی کہا ہے کہ
مردوں کی عصمت اسی صورت میں معاشرتی توانائی پیدا کر سکتی ہے جب عورتیں باعصمت ہوں اور ان کی عصمت‘ شادی سے قبل اور بعد دونوں زمانوں میں محفوظ رہے۔ (ص ۳۲۳)
جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کی عصمت پر یکساں زور دیتا ہے وہ حٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ (وہ مرد جو اپنی عصمت کی حفاظت کرتے ہوں) کے ساتھ وَالْحٰفِظٰتِ (۳۵/۳۳) بھی کہتا ہے۔ یعنی وہ عورتیں جو اپنے دامن عفت کو قطعاً داغدار نہ ہونے دیں اور جرم زنا کی سزا بھی مرد و عورت دونوں کے لئے یکساں تجویز کرتا ہے (۲/۲۴)۔
قرآنی حد بندی -:قرآن کی رو سے جنسی اختلاط کی صرف ایک ہی صورت جائز ہے۔ یعنی نکاح۔ لہٰذا قبل از نکاح جنسی اختلاط اور نکاح کے بعد عورت کا کسی دوسرے مرد سے یا مرد کا کسی دوسری عورت سے جنسی اختلاط (خواہ وہ تراضی مابین ہی سے کیوں نہ ہو) زنا ہے۔ نکاح کے متعلق بھی یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ ’’ہنگامی جنسی اختلاط کی رضامندی‘‘ نہیں ہوتی بلکہ معاہدہ ہوتا ہے اس امر کا کہ ہم (میاں بیوی) ان تمام قیود و حدود اور حقوق و فرائض کے مطابق جو ہم پر قرآن نے عائد کی ہیں مستقل رفاقت کی زندگی بسر کریں گے۔ اسی سے ایک اور حقیقت بھی سامنے آجاتی ہے۔ ڈاکٹر انون نے اپنے ہاں زنا کا لفظ استعمال نہیں کیا (اسے اس لفظ کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس لئے کہ وہ مذہبی یا اخلاقی بحث نہیں کر رہا بلکہ جنسی مسئلہ کے متعلق علمی اور نظری تحقیق کر رہا ہے۔ لہٰذا اس کا انداز سائنٹیفک ہونا چاہئے تھا (اس نے اپنے ہاں جنسی اختلاط کے مواقع (Sexual Opportunities) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ جس قوم میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ ہوں گے وہ قوم تمدنی سطح میں بہت پست ہو گی اور جس میں یہ مواقع کم از کم حد تک رکھے جائیں گے وہ تمدنی سطح کی بلندیوں تک پہنچ جائے گی۔ قرآن نے صرف زنا ہی کو حرام قرار نہیں دی ابلکہ جنسی اختلاط کے مواقع کو کم سے کم حد تک محدود کر دیا ہے۔ اس میں قبل از نکاح‘ جنسی اختلاط کے مواقع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ زنا ہے۔ نکاح کا معاہدہ اس کے نزدیک عمر بھر کی رفاقت (Life-long Companionship) کا معاہدہ ہے۔ لہٰذا اس میں وقتی جنسی اختلاط کا بھی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ خواہ وہ باہمی رضامندی ہی سے کیوں نہ ہو پھر اس نے نکاح کو میثاقاً غلیظاً (پختہ عہد) کہا ہے۔ بچوں کا کھیل نہیں کہا ہے کہ جب جی چاہا کھیل کھیل لیا اور جب طبیعت اکتا گئی تو اسے مٹی کے گھروندے کو پامال کر دیا اور دوسرے وقت پھر نیا گھر بنا لیا۔
وحدت ازدواج -:علاوہ بریں اس نے وحدت زوج (Monogamy) کو بطور اساسی اصول مقرر کیا ہی اور تعداد ازواج کو محض ایک ہنگامی تمدنی مشکل کے حل کے لئے بطور عارضی علاج جائز قرار دیا ہے (اس کی بھی محض اجازت ہے‘ حکم نہیں) آپ دیکھیں گے کہ شادی کی یہ (قریب قریب) وہی شکل ہے جسے انون نے مطلق وحدت زوج (Absolute Monogamy) کی اصطلاح سے تعبیر کیا۔ میں نے ’’قریب قریب‘‘ اس لئے کہا ہے کہ ڈاکٹر انون کے نزدیک ’’مطلق وحدت زوج‘‘ میں شادی صرف اسی صورت میں منقطع ہو سکتی ہے جب عورت جنسی (اخلاقی) جرم کی مرتکب ہو جائے لیکن قران نے نباہ نہ ہو سکنے کو بھی فسخ معاہدہ (طلاق) کی معقول اور جائز وجہ قرار دیا ہے۔ بہرحال‘ یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک محدود کر دیا ہے۔ وہ زمانہ قبل از نکاح میں جنسی اختلاط کے کسی ایک موقع کو بھی جائز قرار نہیں دیتا اور نکاح کے بعد عام حالات میں صرف ایک جوڑے کو باہمدگر وابستہ رکھتا ہے۔ تنوع (Change) کی خاطر تنوع (Change) کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن نے تو نکاح کی صورت میں بھی مُّحْصِنِیْنَ کے ساتھ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ (۲۴/۴) کا اضافہ کیا ہے حصن کے معنی ہیں محفوظ رکھنا اور سفح کے معنی ہیں پانی وغیرہ کا بہا دینا۔ لہٰذا جہاں اس حکم میں زنا سے ممانعت مقصود ہے وہاں اس سے یہ بھی متصور ہے کہ نکاح کا مقصد بھی شہوت رانی نہیں۔ اس سے نکاح کی تمام ذمہ داریوں کی حفاظت اور بقائے نسل کا تحفظ مقصود ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ صرف وہی قوم زندگی کی کامرانیوں سے بہرہ یاب (مفلح) ہو سکتی ہے جو جنسی اختلاط کے مواقع کم از کم حد تک لے جائے اور یہ کم از کم مواقع بھی صرف معروف (Recognised) طریق سے مہیا کئے جائیں اور ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ :
انسانیت کی پوری تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی اس قسم کی نہیں مل سکتی کہ کوئی ایسی سوسائٹی تمدن کی بلندی تک پہنچ گئی ہو جس کی لڑکیوں کی پرورش و تربیت ’’مطلق وحدت زوج‘‘ کی روایات میں نہ ہوئی ہو۔ نہ ہی تاریخ عالم میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ کسی قوم میں جنسی اختلاط پر حدود و قیود کی روایات ڈھیلی پڑ گئی ہوں اور اس کے باوجود وہ قوم اپنی تمدنی بلندی کو قائم رکھ سکی ہو جب عقد نکاح‘ مساوی حیثیت کے فریقین کا عمر بھر کی رفاقت کا عہد ہو اور نہ میاں اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت سے آشنا ہو اور نہ ہی بیوی اپنے میاں کے علاوہ کسی مرد کی شناسا۔ تو اس صورت میں جنسی مواقع اپنی کم از کم حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ اس پر شاہد ہے کہ جن اقوام نے ایسی معاشرتی رسوم اختیار کر لی تھیں جو زندگی بھر کی جبری رفاقت کے قریب قریب پہنچ گئی ہوں۔ (اس لئے کہ اس وقت تک ’’زندگی بھر کی جبری رفاقت‘‘ تک کوئی قوم بھی نہیں پہنچ سکی) اور جن اقوام نے جنسی اختلاط کے حدود و قیود کو زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھا تھا۔ وہی اقوام تہذیب و تمدن کی اس بلندی تک پہنچ سکی تھیں جہاں تک انسانیت اس وقت تک پہنچ سکی ہے۔ (ص۸۴)
*******
عربوں کی تاریخ -:ڈاکٹر انون نے اپنی تحقیق کے دوران ضمناً مسلمانوں (عربوں) کی تاریخ کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ مختصر الفاظ میں بتاتا ہے کہ قدیم عرب‘ قبل از نکاح عصمت و بکارت پر زور نہیں دیا کرتے تھے۔ بعد میں (اسلام کی تعلیم کے ماتحت) انہوں نے اس عصمت پر شدت سے زور دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے محدود ملک سے نکل کر گردونواح کی دنیا پر پھیل گئے اس کے بعد جب انہوں نے اپنے حرم میں عورتوں کی بھرمار شروع کر دی تو ان کی فتوحات کی وسعتیں رک گئیں۔ (ص ۴۲۹) اس کے بعد ڈاکٹر انون نے ایک اور تاریخی عنصر کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ قرآن نے یہود و نصاریٰ (اہل کتاب) کی لڑکیوں سے شادی کی اجازت کیوں دی تھی۔ ڈاکٹر انون کے اس اصول کا ذکر پہلے آچکا ہے کہ کسی قوم کی تمدنی تعمیر میں عورت کی محفوظ توانائی کا بہت بڑا اثر ہے بلکہ یہ کہ مردوں کی توانائی بھی اسی صورت میں تعمیری نتائج پیدا کر سکتی ہے جب ان کی عورتیں باعصمت ہوں۔ ڈاکٹر انون کہتا ہے کہ جب عربوں کی فتوحات کا سلسلہ مصر میں جا کر رک گیا تو انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کی لڑکیوں کی شادی کی۔ ان لڑکیوں کی تربیت اس ماحول میں ہوئی تھی جس میں جنسی ضبط پر بڑا زور دیا جاتا تھا۔ ان لڑکیوں کی مرتکز توانائیاں عربوں کی مزید وسعتوں اور تمدنی بلندیوں کا باعث بن گئیں۔ یہی کچھ مصر میں ہوا اور یہی کچھ اسپین میں (ص ۴۲۹) کسی کو ڈاکٹر انون کی تحقیق کے اس نتیجے سے اختلاف ہو یا اتفاق۔ لیکن یہ حقیقت بہرکیف اپنی جگہ پر غیر متنازعہ رہ جاتی ہے کہ اس محقق کے نزدیک کسی قوم کی فتوحات کی وسعتوں اور تہذیب کی بلندیوں پر اس کی عورتوں کی عصمت و ضبط کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے اور یہی حقیقت قرآن نے بیان کی ہے جب اس نے زندگی کی کامرانیوں کے لئے مردوں اور عورتوں دونوں کے ’’محصن‘‘ (قلعہ بند) ہونے کو بنیادی شرط قرار دیاہے۔ مرد اور عورت دونوں کا محصن ہونا جنسی اختلاط کے مواقع کم از کم درجے تک لے آتا ہے (یعنی زمانہ قبل از نکاح میں مطلق عصمت۔ نکاح میں وحدت زوج (Monogamy) بطور اساسی اصول اور نکاح کے بعد میاں اور بیوی کا کسی غیر عورت اور مرد کے ساتھ اختلاط ناجائز) لیکن جب کسی قوم میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ سے زیادہ ہو جائیں (جس کی شکل صرف زنا ہی نہیں بلکہ اس ہنگامی ضرورت کے بغیر جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے‘ بیک وقت ایک سے زیادہ بیویاں۔ طلاق کی رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر آزادانہ تبدیلی ازواج (۳) اور قرآن کے کھلے کھلے حکم کے خلاف لونڈیوں کی بھرمار سے سینکڑوں عورتوں سے اختلاط یہ سب جنسی اختلاط کے زیادہ سے زیادہ مواقع بہم پہنچانے کی شکلیں ہیں (تو پھر اس قوم میں نہ تو آگے بڑھنے کی توانائیاں رہ جاتی ہیں اور نہ ہی اپنے تمدن کو علیٰ حالہ قائم رکھنے کی صلاحیتیں باقی۔
جنسیات میں الجھی ہوئی قوم کی حالت -:اس قسم کی قوم زندگی کی کس سطح پر پہنچ جاتی ہے اس کے متعلق ڈاکٹر انون لکھتا ہے کہ :
اس قوم میں علم و بصیرت کی قوت تو ہوتی ہے لیکن وہ اپنے معاملات میں اس سے راہنمائی حاصل نہیں کرتی (۴)۔ وہ واقعات کے اسباب و علل (Causes) کے متعلق کبھی تحقیق نہیں کرتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی طرح تسلیم کرتی چلی جاتی ہے۔ زندگی سے متعلق تمام معاملات کے بارے میں ان کی بندھی بندھائی رائے ہوتی ہے (جس کے مطابق وہ چلتے چلے جاتے ہیں)۔۔۔ وہ ہر غیر معمولی واقعہ کو جو ان کی سمجھ میں نہ آئے کسی عجیب و غریب قوت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔۔۔ اس قوت کا مظہر کبھی پتھروں کو سمجھا جاتا ہے اور کبھی درختوں کو۔ کبھی ایسے حیوانات کو جو انہیں محیر العقول نظر آئیں اور کبھی دیگر ایسی اشیاء کو جن کی ماہیت ان کی سمجھ میں نہ آئے جس شخص کی پیدائش یا زندگی میں انہیں کوئی غیر معمولی بات نظر آئے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ اس قوت کا مالک ہے۔ حتیٰ کہ اس کی موت کے بعد بھی اسے اس قوت کا حامل سمجھا جاتا ہے (اس کے بعد ڈاکٹر انون نے ان توہم پرستیوں کی تفصیل بتائی ہے جو نذر نیاز‘ گنڈہ تعویذ‘ اکابر پرستی اور قبر پرستی کی صورت میں ایسی قوم سے ظہور میں آتی ہیں۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ) اس قسم کے معتقدات‘ اس قوم میں نسلاً بعد نسل متوارث چلے آتے ہیں۔ زمانہ کا امتداد ان پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس معاشرہ میں انسان پیدا ہوتے ہیں۔ اپنی خواہشات کو پورا کرتے ہیں اور مر جاتے ہیں اور جب ان کی لاشوں کو تہ خاک دبا دیا جاتا ہے تو وہ نسیاً منسیاً ہو جاتے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہوتے بالکل حیوان ہوتے ہیں (۵)۔ (ص ۳۴۶۔۳۴۵)۔
آپ نے دیکھ لیا نقشہ اس سوسائٹی کا جس میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ سے زیادہ ہوتے ہیں؟ کیا مسلمانوں کی صدیوں سے یہی حالت نہیں چلی آرہی اور کیا آج بھی ساری دنیا میں ہماری یہی حالت نہیں؟ کیا یہ نتیجہ نہیں جنسی اختلاط کے مواقع کی ان وسعتوں کا جو ہمارے خود ساختہ مذہبی تصورات نے عطا کر رکھی ہیں؟
جب ہماری قوم کی جنسی زندگی قرآنی سواحل میں گھری ہوئی تھی تو یہ ساری دنیا پر چھا گئی تھی اور جب ملوکیت نے اسے بدلگام کر دیا اور شریعت کے نام پر وہ سب کچھ ہونے لگا جسے قرآن روکنے کے لئے آیا تھا تو ان کی ساری توانائیاں ضائع ہو گئیں۔ ان میں پھر یہ فکر کی صلاحیت رہی نہ عمل کی اور یہی حالت اس وقت تک چلی جا رہی ہے۔ ان کے ممالک میں لونڈیاں آج تک سربازار بکتی ہیں۔
ہمارا نوجوان طبقہ -:یہ تو ہے ہمارے اس طبقہ کی حالت جسے قدامت پرست کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے نوجوانوں کا طبقہ ہے جنہوں نے مغرب کی دیکھا دیکھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جنسی تعلقات پر پابندیاں عائد کرنا‘ انفرادی آزادی کو مقید کرنا ہے۔ اس لئے ’’ازمنہ مظلمہ‘‘ کے ان اغلال و سلاسل کو جتنی جلدی توڑ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے چنانچہ انہوں نے عملاً اسے توڑنا بھی شروع کر دیا ہے۔ ان آزادیوں سے وہ سوسائٹی متشکل ہوتی ہے جس کے متعلق انون لکھتا ہے کہ اس میں :
ہر لڑکی کو آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ جس قسم کا جنسی کھیل کھیلنا چاہے کھیلتی پھرے اور جس نوجوان سے چاہے جنسی اختلاط قائم کرے۔ اس کے لئے فقط ان دونوں کی رضامندی کی شرط ہے۔ نہ لڑکی پر کسی قسم کی پابندی عائد ہوتی ہے نہ لڑکے پر۔۔۔ بچپن ہی سے وہ ہر ایسا جنسی کھیل کھیلنے لگ جاتے ہیں جن میں انہیں لذت ملتی ہو۔۔۔ مختصراً یہ کہ وہ ایک ایسی فضا میں رہتے ہیں جس میں جنسی حدود و قیود کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور جس میں ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جو نہی جنسی خواہش ہوئی۔ اسے اسی وقت کسی نہ کسی طرح پورا کر لیا۔ (ص۳۴۸)۔
اس کا نتیجہ -:یہی ہیں وہ جنسی آزادیاں جن کا متمنی ہمارا نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ ہوتا جا رہا ہے لیکن ان آزادیوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے اسے خود ڈاکٹر انون کی زبان میں سن لیجئے وہ کہتا ہے کہ :
لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جنسی پابندیوں کو بھی ہٹا دیا جائے اور قوم زندگی کی ان خوشگواریوں سے بھی متمتع ہوتی رہے جو ایک بلند تمدن کا ثمرہ ہوتی ہیں لیکن انسانی ہیئت تو کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ وہ یہ دونوں آرزوئیں کبھی یکجا جمع نہیں ہو سکتیں یہ ایک دوسرے کی نقیض ہیں جو ریفارمر ان میں مفاہمت (Compromise) کی کوشش کرتا ہے اس کی مثال اس احمق بچے کی سی ہے جو چاہتا ہے کہ وہ اپنے کیک کو کھا بھی لے اور پھر وہ سالم کا سالم باقی بھی بچ جائے کوئی انسانی معاشرہ ہو‘ اسے ان دو راہوں میں سے ایک راہ اختیار کرنی ہو گی یا تو ان صلاحیتوں کو پائندہ رکھنے کی راہ جو اس کے تمدن کو بلند کرتی ہیں اور یا جنسی آزادی کی راہ۔ تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ جو قوم ان دو متضاد چیزوں کو اکٹھا کرتی ہے وہ اپنی تہذیب کو ایک نسل سے بھی زیادہ آگے نہیں لے جا سکتی۔ (ص۴۱۲)
بنابریں۔
کسی سوسائٹی میں تخلیقی توانائیاں باقی نہیں رہ سکتیں جب تک اس کی ہر نسل ان روایات میں پرورش نہ پائے جو جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک محدود کر دیں۔ اگر وہ قوم اس قسم کے نظام کو (جس میں جنسی اختلاط کے مواقع قلیل ترین حد تک محدود کر دیئے جائیں) مسلسل آگے بڑھائی جائے تو وہ شاندار روایات کی حامل رہے گی (ص۴۱۴)۔
*******
پس چہ باید کرد -:آخر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے معاشرہ کی تشکیل کس طرح کی جائے جس میں جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک لے جایا جائے اور پھر ایسی صورت پیدا کی جائے کہ جنسی واقع کی یہ شکل مستقل طور پر قائم رہ سکے تاکہ اس طرح وہ قوم انسانیت کی صلاحیت بخش توانائیوں کی حامل بنتی چلی جائے۔ ڈاکٹر انون نے اپنی کتاب کا خاتمہ اسی سوال (اور اس کے جواب) پر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ
تاریخ کے صفحات پر کوئی سوسائٹی ایسی نظر نہیں آتی جو اس کوشش میں کامیاب ہو گئی ہو کہ وہ جنسی اختلاط کے مواقع کو ایک مدت مدید تک‘ کم از کم حد تک محدود رکھ سکی ہو۔ میں تاریخی شواہد سے جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر کسی قوم نے ایسی صورت پیدا کرنی ہو تو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ پہلے مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا کرے۔ (ص۳۲۔۴۳۱)
مرد اور عورت کی مساوی حیثیت -:آپ نے غور کیا کہ اس محقق کی تحقیق کے مطابق اس قسم کے معاشرہ کی تشکیل کی بنیادی شرط کیا ہے؟ یہ کہ اس میں مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا ہو! آج اس معاشرہ میں جس میں ہم صدیوں سے چلے آرہے ہیں یہ کہنا کہ اسلام نے مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا کیا تھا‘ شائد اپنی ہنسی اڑانے کے مترادف ہو گا۔ لیکن اس حقیقت کو کون چھپا سکتا ہے کہ قرآن نے یہ اعلان آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کیا تھا کہ وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (۲۲۸/۲) قاعدے اور قانون کی رو سے عورتوں کے حقوق بھی اتنے ہی ہیں جتنے ان کے فرائض ہیں۔ لہٰذا قانون کی نگاہ میں مرد اور عورت دونوں کو مساوی درجہ حاصل ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے تو کرنے کا کام فقط اتنا ہے کہ اپنے معاشرے کو قرآنی خطوط پر متشکل کر لیں۔
*******
آخر میں ڈاکٹر انون لکھتا ہے کہ:
اگر کوئی معاشرہ چاہتا ہے کہ اس کی تخلیقی توانائیاں مدت مدید تک‘ بلکہ ابد الاباد تک قائم اور آگے بڑھتی رہیں تو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ پہلے اپنی تخلیق نو کرے۔ یعنی پہلے اپنے مردوں اور عورتوں کو قانوناً مساوی حیثیت دے اور پھر اپنے معاشی اور معاشرتی نظام میں اس قسم کی تبدیلیاں کرے جن میں معاشرہ میں جنسی اختلاط کے مواقع ایک مدت مدید تک‘ بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کم از کم حد تک محدود رہیں۔ اس طرح اس معاشرہ کا رخ ثقافتی اور تمدنی ارتقاء کی طرف مڑ جائے گا اس کی روایات شاندار ماضی اور درخشندہ مستقبل کی حامل ہوں گی وہ تمدن وتہذیب کے اس بلند مقام تک پہنچ جائے گا جس تک آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا اور انسان کی توانائیاں اس کی ان روایات کو ایک ایسے انداز سے صیقل کرتی جائیں گی جو اس وقت ہمارے حیطہ ادراک میں بھی نہیں آسکتا (ص۴۳۲)۔
قرآن ایسے ہی معاشرہ کی تشکیل چاہتا ہے۔ اس کے لئے اس نے نہایت واضح قوانین دیئے ہیں۔ وہ عائلی زندگی کو کس قدر اہمیت دیتا ہی اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ وہ جہاں صلوٰۃ و زکوٰۃ جیسے امور کے متعلق بالعموم اصولی قوانین دیتا ہے وہاں عائلی زندگی کے متعلق چھوٹی چھوٹی جزئیات تک بھی خود ہی متعین کر دیتا ہے۔ اگر وقت ہوتا تو میں مسلسل خطبات کے ذریعے ان تمام احکام کو ایک ایک کر کے آپ کے سامنے لاتا جس سے آپ کو اندازہ ہوتا کہ قرآن کس قسم کے معاشرہ کا نقشہ دیتا ہے اور اس کے نزدیک جنسی تعلقات کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ (اس کے متعلق اگر آپ تفصیل سے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو میری کتاب ’’طاہرہ کے نام خطوط‘‘ کا مجموعہ دیکھے جس میں ان تمام امور کو یکجا بیان کر دیا گیا ہے)۔
ایک بنیادی حقیقت -:لیکن اس ضمن میں ایک بنیادی حقیقت ایسی ہے جس کا آخر میں بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جنسی جذبہ بھی بھوک‘ پیاس‘ نیند وغیرہ کی طرح ایک فطری جذبہ ہے جس کی تسکین نہایت ضروری ہے اور جس طرح بھوک‘ پیاس وغیرہ کی اضطراری حالت میں عام قوانین کو ڈھیلا (Relax) کر دیا جاتا ہے اسی طرح جنسی قوانین کی بندشوں کو بھی ڈھیلا کر دینا چاہئے۔ یہ تصور ایک بنیادی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بھوک اور پیاس کی طرح جنسی جذبہ بھی ایک فطری جذبہ (Natural Instinct) ہے لیکن اس میں اور بھوک پیاس وغیرہ میں ایک بنیادی فرق ہے اس فرق کو ایک مثال (بلکہ اپنے روزمرہ کے مشاہدہ) سے سمجھئے۔ آپ کسی کام میں منہمک بیٹھے ہیں۔ آپ کو پیاس لگتی ہے شروع میں آپ کو اس کا خیال نہیں آتا وہ بڑھتی ہے تو آپ کو اس کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ پانی پی لیتے ہیں تو فبہا‘ ورنہ اس کی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ آپ کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور اگر آپ کو کچھ دنوں کے لئے پانی نہ ملے تو اس سے آپ کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہی کیفیت بھوک کی بھی ہے اس سے آپ نے دیکھ لیا کہ
۱۔ بھوک‘ پیاس وغیرہ کا تقاضا ازخود پیدا ہوتا ہے۔ اس میں آپ کے خیال اور ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اور
۲۔ اگر ان تقاضوں کی تسکین نہ کی جائے تو کچھ وقت کے بعد اس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس کو اضطراری حالت کہتے ہیں۔ اس حالت میں (جان بچانے کی خاطر) ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دی گئی ہے جو عام حالات میں حرام ہیں۔
خیال کا دخل -:لیکن جنسی تقاضا کی کیفیت ان سے بالکل جدا ہے۔ جنسی تقاضا کبھی نہیں ابھرتا تاوقتیکہ آپ اس کا خیال نہ کریں۔ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ جنسی تقاضا کی بیداری اور نمود یکسر آپ کے خیالات سے وابستہ ہے۔ اگر آپ کا خیال اس طرف منتقل نہ ہو تو یہ تقاضا بیدار ہی نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ اگر جنسی تقاضا کی تسکین نہ کی جائے تو اس سے موت واقع نہیں ہو جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس کی ’’اضطراری حالت‘‘ کے لئے حرام کو حلال نہیں قرار دیا۔ بلکہ کہا یہ ہے کہ جس کے لئے نکاح ممکن نہ ہو وہ ضبط نفس سے کام لے۔ (۳۳/۲۴)
ضبط نفس -:اور یہ ضبط نفس کچھ بھی مشکل نہیں۔ اس لئے کہ جس تقاضا کی بیداری کا مدار انسان کے اپنے خیالات پر ہو‘ اس پر کنٹرول رکھنا انسان کے اپنے بس کی بات ہوتا ہے نہ خیالات کو طیور آوارہ بنایئے۔ نہ توجہ اس طرف جائے لیکن کہا جا سکتا ہے کہ جس معاشرہ میں حالت یہ ہو جائے کہ
صید خود صیاد را گوید بگیر
اس میں ایک فرد (بالخصوص نوجوان طبقہ) اپنے خیالات پر کس طرح کنٹرول رکھ سکے؟ یہ بات ایک حد تک درست ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن چور ہی کو نہیں بلکہ چور کی ماں کو بھی مارتا ہے۔ وہ صرف ارتکاب جرم کے بعد مجرم کو نہیں پکڑتا بلکہ ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس میں ان جرائم کے ارتکاب کے مواقع کم از کم ہو جائیں۔ اس کے لئے وہ کہتا ہے کہ لَاتَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ (۱۵۲/۶) تم فواحش کے قریب تک نہ جاؤ۔ یعنی فواحش تو ایک طرف جو اسباب و ذرائع فواحش تک لے جانے والے ہوں ان سے بھی مجتنب رہو ان اسباب و ذرائع میں وہ بھی شامل ہیں جو بظاہر نظر آجاتے ہیں اور وہ بھی جو نگاہوں سے مخفی رہتے ہیں یعنی دل میں گزرنے والے خیالات آہستہ آہستہ انسان کو فواحش تک لے جاتے ہیں اسی لئے اس نے کہا ہے کہ یَعْلَمُ خَآنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ (۱۹/۴۰) وہ نگاہوں کی خیانت اور دل کی چوری (راز) تک سے واقف ہے۔ اس قسم کی روش کو تطہیر قلب و نگاہ کہتے ہیں یعنی دل اور آنکھ کی پاکیزگی۔ اس مقصد کے لئے قرآن مردوں اور عورتوں کے اختلاط (میل جول) کے متعلق تفصیلی ہدایات دیتا ہے (انہیں پردے کے احکام کہا جاتا ہے) مجھے افسوس ہے کہ اس کے لئے بھی دقت نہیں ورنہ میں بتاتا کہ قرآن کس طرح ایک ایسا معاشرہ وجود میں لاتا ہے جس میں عورتوں کی آزادی کو سلب نہیں کیا جاتا لیکن اس میں جنسی محرکات کبھی بے باک نہیں ہونے پاتے اور انسانی خیالات میں بے راہ روی نہیں پیدا ہوتی۔
********
بہرحال آپ نے یہ دیکھ لیا کہ مرد اور عورت کا جنسی اختلاط‘ محض ایک طبعی فعل (Biological Action) نہیں جس کا تعلق صرف انسان کے جسم تک ہو۔ اس کا تعلق قوموں کی تہذیہب و تمدن اور کلچر اور ثقافت کے ساتھ بڑا گہرا اور بنیادی ہے۔ لہٰذا یہ مسئلہ ایسا نہیں جسے یونہی نظر انداز کر دیا جائے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم تمدن اور ثقافت میں ممتاز حیثیت حاصل کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم جنسی تعلقات کو قرآن کی مقرر ردہ حدود کے اندر رکھیں۔ یعنی ان آزادیوں کو بھی محدود کریں جو مغرب کی اندھی تقلید سے ہمارے جدت پسند طبقہ میں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں اور ان ’’شرعی اجازتوں‘‘ کو بھی حدود اللہ کا پابند بنائیں جو غلط (یعنی غیر قرآنی) مذہب کی بناء پر ہمارے قدامت پسند معاشرہ میں صدیوں سے مروج چلی آرہی ہیں۔ اگر ہم نے ایسانہ کیا تو ہمارے ابھرنے اور آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ سنت اللہ کسی کے لئے بدلا نہیں کرتی۔
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!
(طلوع اسلام فروری ۱۹۵۷ء ؁)
********

حواشی
۱؂ واضح رہے کہ ان کا انداز‘ اس طریق سے مختلف ہے جو آج کل (بالخصوص) امریکہ میں رائج ہے اور جس کی رو سے ایک خاص خطہ یا طبقہ کے لوگوں کو سوالنامہ دیدیا جاتا ہے اور ان کے جوابات سے اعداد و شمار (Statistics) مہیا کر کے نتائج اخذ کر لئے جاتے ہیں اور ان نتائج کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عالمگیر اور فطرت انسانی کے ترجمان ہیں۔ آج کل امریکہ میں (Kinsley) کے قسم کے ’’محقق‘‘ اسی انداز سے جنسیات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ طریق کار کبھی عالمگیر (Universal) نتائج بہم نہیں پہنچا سکتا۔
۲؂ اس مقام پر اس حقیقت کا سمجھ لینا ضروری ہے کہ فرائڈ نے جنسیات کے متعلق اپنی تحقیق اور فکر میں جس قدر ٹھوکریں کھائی ہیں۔ ان کے جو نقصان رساں نتائج مغربی معاشرہ میں نمودار ہوئے ہیں وہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں ہم اس وقت صرف فرائڈ کے اس خیال سے بحث کر رہے ہیں کہ جنسی توانائی کو اگر بے باک نہ ہونے دیا جائے تو یہ اپنا رخ تعمیری مقاصد کی طرف موڑ لیتی ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
۳؂ رابرٹ برفا (Briffault) نے جنسیات کے متعلق ایک بڑی دقیع اور ضخیم کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے (The Mothers) اس میں وہ ایک گروہ کے متعلق لکھتا ہے کہ اس نے عمر بھر بیک وقت ایک ہی بیوی رکھی لیکن وہ (غالباً) چالیس کے قریب بیویاں بدل چکا تھا یہ جنسی اختلاط کے متنوع مواقع کی ایک مثال ہے۔ اس سے اور مثالوں کا بھی اندازہ لگا لیجئے۔
۴؂ دیکھئے یہ الفاظ کس طرح ترجمہ ہیں قرآن کی اس آیت کا کہ لہم قلوب لا یفقھم بھا ان کے پاس سمجھنے کی قوت تو ہوتی ہے لیکن وہ اس سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے۔
۵؂ یہ بھی قرآن ہی کی آیت کا ترجمہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (۱۲/۴۷) وہ سامان زیست سے اسی طرح فائدہ حاصل کرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں جس طرح حیوان۔

2,401 total views, no views today

(Visited 463 times, 1 visits today)

نماز کی اہمیت – پرویز

طلوع اسلام کے خلاف مسلسل ہونے والے منفی پروپیگنڈا کے زیر اثر ہمارے نئے قارئین کی طرف سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ طلوع اسلام یا پرویز صاحب کا نماز سے متعلق نظریہ کیا تھا؟ سو ان احباب کے استفادہ کے لئے نماز سے متعلق پرویز علیہ الرحمتہ کی وہ تحریریں جو طلوع اسلام کے مختلف پرانے شماروں اور کتابوں میں شامل ہیں‘ ان کو یکجا کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔ امید ہے آپ اس کاوش کو مفید پائیں گے۔

***

ایک صاحب نے مجھ سے حسب ذیل سوالات دریافت کئے ہیں۔
(1) آپ کہتے ہیں کہ اسلام قوانین خداوندی کا نام ہے۔ اس میں نماز کی اہمیت اور مقام کیا ہے؟
(2) نماز اور صلوٰۃ میں کیا فرق ہے۔ آپ نے کہیں اس کی صراحت کی ہے کہ صلوٰۃ سے مراد نماز ہے؟
(3) کیا آپ نماز کی موجودہ شکل کے علاوہ کوئی اور شکل تجویز کرتے ہیں؟

جواب

(1) اسلام نام ہے زندگی کے ہر شعبے میں احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کر دینے کا۔ ان کی پوری پوری اطاعت کرنے کا۔ نماز‘ اس طرح سر تسلیم خم کرنے کا عملی اعتراف اور محسوس مظاہرہ ہے۔ خدا کے سامنے سر جھکا دینے (سجدہ ریز ہو جانے) سے انسان اس امر کا اقرار (یا اظہار) کرتا ہے کہ وہ اپنے ہر ارادے‘ فیصلے اور عمل میں اس کے احکام کی اطاعت کرے گا۔ جس کا دل‘ جذبات فرماں پذیری اور اطاعت گزاری سے لبریز ہو‘ اس کا سر خود بخود خدا کے حضور جھک جائے گا اور جو خدا کے حضور سر جھکانے میں عار یا سبکی محسوس کرتا ہے وہ اس کی اطاعت کیا کرے گا؟ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ جو شخص زندگی کے مختلف شعبوں میں قوانین خداوندی سے سرکشی برتتا ہے‘ اس کا نماز میں رسمی طور پر سر جھکا دینا‘ مقصد صلوٰۃ کو پورا نہیں کر سکتا۔
(2) نماز فارسی (بلکہ پہلوی) زبان کا لفظ ہے جو اہل ایران کے قدیم طریق پرستش کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں یہ لفظ‘ اجتماعات صلوٰۃ کے لئے استعمال کر لیا گیا اور اب ہمارے ہاں یہی لفظ مروج ہے (میں سمجھتا ہوں کہ جو اصطلاحات قرآن کریم نے مقرر کی ہیں انہیں اسی طرح استعمال کرنا زیادہ اچھا ہے) قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ آیا ہے جو معنوی اعتبار سے بڑا وسیع اور جامع ہے۔ اس کے بنیادی معنی کسی کا اتباع یا اطاعت و محکومیت اختیار کرنا ہیں۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو نماز کے اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ لہٰذا جب ہم نماز کا لفظ بولیں گے تو اس کا مطلب صرف نماز ہو گا۔ لیکن جب صلوٰۃ کا لفظ استعمال کریں گے تو اس میں نماز بھی آجائے گی اور اس کے علاوہ اور مفہوم بھی۔ میں نے اکثر مقامات پر اس کی صراحت کر دی ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ نماز کے اجتماعات کے لئے بھی قرآن کریم میں آیا ہے۔ مثلاً لغات القرآن میں لفظ صلوٰۃ (مادہ ص۔ل۔و (ی) کے تحت آپ کو یہ عبارت ملے گی۔
صلوٰۃ کے جو مختلف مفاہیم اوپر بیان ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ ایک عبد مومن‘ زندگی کے جس گوشے میں بھی قوانین خداوندی کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کرتا ہے وہ فریضہ صلوٰۃ ہی کو ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے لئے وقت‘ مقام یا شکل کا تعین ضروری نہیں۔ لیکن قرآن کریم میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں صلوٰۃ کا لفظ ایک خاص قسم کے عمل کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
اس کے بعد قرآن کریم کی وہ آیات دی گئی ہیں جن میں صلوٰۃ کا لفظ نماز کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے۔
تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ ان اجتماعات کے لئے بھی آیا ہے جنہیں عام طور پر نماز کے اجتماعات کہا جاتا ہے۔ (نماز کا لفظ عربی زبان کا نہیں پہلوی زبان کا ہے)۔

اس کے بعد ارکان صلوٰۃ کی اہمیت کے سلسلے میں لکھا ہے۔
انسان اپنے جذبات کا اظہار جسم کے اعضا کی محسوس حرکات سے بھی کرتا ہے اور یہ چیز اس میں ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ اس سے یہ حرکات خود بخود سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ غم و غصہ‘ خوشی‘ تعجب‘ عزم و ارادہ‘ ہاں اور نہ‘ وغیرہ قسم کے جذبات اور فیصلوں کا اظہار‘ انسان کی طبیعی حرکات سے بلا ساختہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی کیفیت جذبات عزت و احترام اور اطاعت و انقیاد کے اظہار کی ہے۔ تعظیم کے لئے انسان کا سر بلا اختیار نیچے جھک جاتا ہے۔ اطاعت کے لئے ’’سرتسلیم خم‘‘ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن کریم عمل کی روح اور حقیقت پر نگاہ رکھتا ہے اور محض (Formalism) کو کوئی وزن نہیں دیتا‘ لیکن جہاں کسی جذبہ کی روح اور حقیقت کے اظہار کے لئے (Form) کی ضرورت ہو‘ اس سے روکتا بھی نہیں۔ بشرطیکہ اس (Form) ہی کو مقصود بالذات نہ سمجھ لیا جائے۔ صلوٰۃ کے سلسلہ میں قیام و سجدہ وغیرہ کی جو عملی شکل ہمارے سامنے آتی ہے وہ اسی مقصد کے لئے ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ان جذبات کا اظہار اجتماعی شکل میں ہو گا تو اظہار جذبات کی محسوس حرکات میں ہم آہنگی کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے‘ ورنہ اجتماع میں انتشار ابھرتا دکھائی دے گا۔ احترام و عظمت‘ انقیاد و اطاعت اور فرماں پذیری و خود سپردگی کے والہانہ جذبات کے اظہار میں نظم و ضبط کا ملحوظ رکھنا بجائے خویش بہت بڑی تربیت نفس ہے۔

مفہوم القرآن میں قرآنی اصطلاحات کے ضمن میں لکھا گیا ہے۔
قرآن کریم کی ایک خاص اصطلاح ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ ہے جس کے عام معانی نماز قائم کرنا یا نماز پڑھنا کے ہیں۔ اس لئے صلوٰۃ میں‘ قوانین خداوندی کے اتباع کا مفہوم شامل ہو گا۔ بنا بریں اقامت صلوٰۃ سے مفہوم ہو گا ایسے نظام یا معاشرہ کا قیام جس میں قوانین خداوندی کا اتباع کیا جائے۔ یہ اس اصطلاح کا وسیع اور جامع مفہوم ہے۔ نماز کے اجتماعات میں قوانین خداوندی کے اتباع کا تصور‘ محسوس اور سمٹی ہوئی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس اصطلاح کو ان اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کس مقام پر اقامت صلوٰۃ سے مراد اجتماعات نماز ہیں اور کس مقام پر قرآنی نظام یا معاشرہ کا قیام۔ مفہوم القرآن میں یہ معانی اپنے اپنے مقام پر واضح کر دیئے گئے ہیں۔
ان تصریحات سے واضح ہے کہ میں نے صلوٰۃ کے معنی نماز اور اقامت صلوٰۃ کے معنی اجتماعات صلوٰۃ کا قیام واضح الفاظ میں دیئے ہیں اور اس سے مراد وہی نماز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں۔
(3) ایک مقام پر نہیں‘ متعدد مقامات پر اور ایک مرتبہ نہیں‘ متعدد بار اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز پڑھتے چلے آرہے ہیں ان میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اسی وجہ سے میں فرقہ اہل قرآن سے بھی اختلاف رکھتا ہوں جنہوں نے اپنے لئے الگ نماز تجویز کر رکھی ہے۔ البتہ میں یہ ضرورکہتا ہوں کہ اگر مسلمانوں میں پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت کا قیام ہو جائے اور وہ تمام امت کے لئے نماز کی ایک ہی شکل تجویز کر دے تو یہ امت میں وحدت پیدا کرنے کے لئے بڑا موثر اقدام ہو گا۔ یہ تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ عہد رسالت مآب اور خلافت راشدہ میں‘ امت ایک ہی طریق پر نماز ادا کرتی ہو گی۔ اس وقت امت میں وحدت تھی۔ اس لئے جب ہم پھر سے اسی عہد سعادت مہد کی طرف رخ کریں گے تو امت میں وحدت پیدا کرنے کی کوشش بھی ضرورکرنی ہو گی اور نماز اس کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اب امت میں وحدت پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں‘ تو میں اس سے بحث نہیں کرتا۔
(’’طلوع اسلام‘‘ نومبر و دسمبر 1961ء ؁‘ ص 12)

نماز کی اہمیت

میں نے ایسی باتیں بھی سنی ہیں کہ بعض اراکین بزم یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اب جو اسلام کو سمجھا ہے‘ اس کی بناء پر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا ’’طلوع اسلام‘‘ نے آپ کو یہی تعلیم دی ہے کہ نماز نہ پڑھنے پر فخر کرو؟ آپ نے غیر قرآنی روش زندگی کو تو نہ چھوڑا‘ اور اس کے بجائے اس قسم کی باتیں کرنے لگ گئے اور ستم بالائے ستم کہ اپنے آپ کو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستہ ظاہر کر کے ایسی باتیں کرنے لگے۔ طلوع اسلام پر آخر یہ کتنا بڑا الزام ہے جو آپ نے عائد کر دیا۔
ذاتی طور پر مجھ میں بھی کمزوریاں ہیں اور میں ہمیشہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہوں۔ لیکن یہ انتہائی ظلم ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کے لئے جواز کی صورتیں تلاش کرنے لگ جائیں۔ آپ قرآنی نظریات کے خلاف سب کچھ کر رہے ہیں۔ تجارت‘ کاروبار‘ شادی‘ رشتے ناطے سب کچھ ہو رہا ہے۔ بینک بیلنس برابر قائم ہیں۔ قرآن کے مطابق انہیں بدلنے کے لئے آپ کے ذہن میں کبھی کچھ نہیں آیا۔ پھر نماز کے بارے میں ایسا کیوں ہے؟ (بعض گوشوں سے آوازیں آئیں کہ یہ بھی ہمارے مخالفین کا پروپیگنڈہ ہے جو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستگی ظاہر کر کے اس قسم کی باتیں مشہور کرتے رہتے ہیں۔ محترم پرویز صاحب نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا) ہم معاشرے میں اصلاح کا آغاز اپنے گھروں سے ہی کر سکتے ہیں لیکن اگر پہلے خود ہی نماز روزہ چھوڑ دیں تو پھر اصلاح کس طرح ہو گی؟ خدارا اپنے قول و عمل کو بصیرت‘ علم اور خلوص پر مبنی رکھئے۔ ’’مقدس بہانے‘‘ تلاش نہ کیجئے بلکہ اعتراف کیجئے اپنی کمزوریوں کا۔ ہم نے قرآنی معاشرہ قائم کرنا ہے جو صرف نیک اور پاکباز زندگی بسر کرنے سے قائم ہو سکے گا۔ (منزل بہ منزل از پرویز‘ ص 35-36)

غلط فہمی کا ازالہ

ہماری ہر محفل میں الصلوٰۃ کا بحیثیت نظام جس طرح بار بار ذکر آتا ہے اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہ ہونے پائے کہ ہم نماز کے وقت اجتماعات کی اہمیت کے قائل نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ صلوٰۃ کا وقتی اجتماع بھی قرآن ہی کا ارشاد ہے اور یہ الصلوٰۃ کے عالم آرا نظام ہی کی سمٹی ہوئی تصویر ہے۔ جو شخص نماز کی اہمیت کو کم کرتا ہے وہ طلوع اسلام کے خلاف فتنہ و شرارت کا محرک ہے اور ایسی مذموم حرکت کسی طرف سے نہ تو دانستہ ہونی چاہئے اور نہ نادانستہ۔
(ماہنامہ طلوع اسلام‘ مئی 1959ء ؁ ص 14)

5,447 total views, 1 views today

(Visited 994 times, 5 visits today)

صرف ایک سوال – پرویز

یہ شکایت آج کی نہیں‘ صدیوں سے چلی آرہی ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے —  کسی خاص فرقہ، خاص گروہ، خاص ملک کے مسلمانوں نے نہیں، پوری کی پوری اُمتِ مسلمہ نے–  بات ہے تو درست‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کبھی کسی نے اس پر بھی غور کیا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ یہ کیا ہوا کہ پوری کی پوری قوم نے اسلام چھوڑ دیا اور یہ ایک آدھ دن کی بات نہیں صدیوں سے اس کی یہی حالت ہے تو ایسا کیوں ہے؟ ایک بات تو بالکل واضح ہے۔۔ پہلے اسی پر غور کرنا چاہئے۔

آپ کسی کمیونسٹ سے پوچھئے کہ کمیونزم کسے کہتے ہیں۔ وہ صاف‘ واضح اور متعین الفاظ میں اس کا جواب دے دے گا۔۔۔ آپ یہ سوال متعدد کمیونسٹوں سے پوچھئے۔ ہر ایک کا جواب ایک ہی ہو گا۔ اس جواب کی روشنی میں آپ کے لئے یہ متعین کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہو گا کہ فلاں شخص کمیونسٹ ہے یا نہیں۔ یا فلاں قوم نے کمیونزم کو چھوڑ دیا ہے یا وہ اس پر عمل پیرا ہے۔
اسی طرح آپ سوشلسٹوں سے‘ سوشلزم کے متعلق پوچھئے ان کے ہاں سے بھی متعین جواب مل جائے گا کہ سوشلزم کسے کہتے ہیں اور اس کے جواب کی روشنی میں آپ بآسانی یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ فلاں شخص یا قوم نے سوشلزم کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟
اس قسم کا سوال آپ مغربی جمہوریت کے متعلق پوچھئے۔ وہاں سے بھی آپ کو متعین جواب مل جائے گا۔
اس کے بعد آپ کسی مسلمان سے پوچھئے کہ اسلام کیا ہے اور پھر دیکھئے کہ وہ کیا جواب دیتا ہے‘ اور جب آپ یہی سوال مختلف مسلمانوں سے پوچھیں تو اس کے بعد دیکھئے کہ ان میں سے ایک کا جواب دوسرے سے نہیں ملے گا۔ یہ بات ہم عوام کے متعلق نہیں کر رہے۔ حضرات علماء کرام سے یہ سوال کیجئے اور پھر دیکھئے کہ ان کے ہاں سے کیا جواب ملتا ہے اور ایک کا جواب دوسرے سے کس قدر مختلف ہوتا ہے۔ ہم یہ بات محض نظری طور پر نہیں کہہ رہے۔ عملاً ایسا ہو چکا ہے۔ ۱۹۵۳ء کے (ختمِ نبوت تحریک کے سلسلہ میں) فساداتِ پنجاب کی تحقیقاتی کمیٹی نے (جسے عرفِ عام میں منیر کمیٹی کہا جاتا ہے) مختلف علماء کرام سے پوچھا کہ ’’مسلمان کسے کہتے ہیں‘‘ کمیٹی کی رپورٹ مطبوعہ شکل میں موجود ہے اس میں آپ دیکھئے کہ ان حضرات کی طرف سے اس سوال کا جواب کیا ملا تھا! ان میں سے بعض نے تو کہہ دیا کہ اس سوال کا جواب دو چار فقروں میں دیا نہیں جا سکتا۔ اس کے لئے صفحات در صفحات درکار ہوں گے۔ جنہوں نے جواب دیا۔ ان کے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:۔
ان علماء میں سے کسی دو کے جواب بھی ایک دوسرے سے ملتے نہیں تھے۔ (انگریزی رپورٹ۔ ص ۲۱۸)۔
آپ اس رپورٹ پر نہ جایئے۔ مختلف فرقوں کے علماء حضرات سے خود یہ سوال پوچھئے کہ اسلام کسے کہتے ہیں اور مسلمان کی تعریف (Definition) کیا ہے۔ ان کے جواب خود‘ اس رپورٹ کی تائید کر دیں گے۔ ان حقائق کی روشنی میں آپ سوچئے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے‘ تو اس کا متعین مفہوم کیا ہے؟ جب ہم متعین اور متفق طور پر یہی نہیں بتا سکتے کہ مسلمان کسے کہتے ہیں اور اسلام کیا ہے تو ایسا کہنے کا مفہوم کیا ہو گا کہ ’’مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔‘‘ یہ وجہ ہے جو ہم صدیوں سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور مسلمان ہیں کہ اسلام کو اختیار کرنے کا سوچتے تک نہیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ انہوں نے کیا چھوڑ دیا ہے اور انہیں کیا اختیار کرنا چاہئے۔ ہم اتنا واضح کر دیں کہ مختلف فرقے اپنے اپنے فرقہ کے تصور کا اسلام تو بتا دیں گے۔ لیکن وہ اسلام جو ساری امت میں قدر مشترک ہے‘ جس کی طرف نسبت سے وہ امت‘ امت مسلمہ کہلاتی ہے اور جس کے متعلق شکایت ہے کہ اس نے اسے چھوڑ دیا ہے‘ اس کی بابت کوئی کچھ نہیں بتا سکے گا کہ وہ ہے کیا؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقام پر اور تو اور‘ آپ خود بھی وقف تعجب ہو جائیں گے کہ جس بات کے متعلق کبھی ہم نے اتنا سوچنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی تھی کہ یہ بھی ایسا سوال ہے جس پر غور کرنا چاہئے‘ وہ بات کس قدر اہم اور بنیادی نکلی۔ اس کے بعد آپ کے دل میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ ہم تو خیر عامی ہیں۔ دین کے متعلق ہماری معلومات بہت کم ہیں‘ اس لئے ہم اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ لیکن ہمارے علماء کرام کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ بھی اس سوال کا متفق علیہ جواب نہیں دے سکتے۔ اور جب ان کی یہ کیفیت ہے تو پھر وہ امت میں اپنی موجودہ پوزیشن کو کس طرح قائم رکھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو اسلام کے متعلق مطمئن کس طرح کر دیتے ہیں؟
اس کی ایک خاص ٹیکنیک ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے کچھ اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں جن کا تقدس عوام کے دلوں میں راسخ کر دیتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو مبہم رکھا جاتا ہے۔ یعنی ان کا واضح مفہوم بیان نہیں کیا جاتا۔ ہر موقع پر اس اصطلاح کو استعمال کر دیتے ہیں اور بس۔۔ مثلاً ان میں بنیادی اصطلاح خود اسلام ہے۔ آپ آئے دن ان حضرات کی زبانی اس قسم کے الفاظ سنتے رہتے ہیں کہ ’’اسلام کا حکم یہ ہے‘‘ اس معاملہ میں ’’اسلام کا منشاء یہ ہے‘‘۔ اس باب میں ’’اسلام یہ کہتا ہے۔‘‘ اب ظاہر ہے کہ ’’اسلام‘‘ کسی شخص کا نام نہیں جس کے متعلق سمجھا جا سکے کہ وہ ایسا کہتا ہے یا اس کا حکم یہ ہے۔ اس کے لئے کوئی سند یا حوالہ ہونا چاہئے جہاں سے معلوم ہو سکے کہ کون ایسا کہتا ہے۔ یہ کس کا حکم ہے۔ لیکن یہ حضرات کبھی حوالہ نہیں دیں گے‘ اسے ہمیشہ مبہم رکھیں گے۔ اس لئے کہ جب یہ کہیں گے کہ ’’اسلام کا یہ فیصلہ ہے‘‘ تو اکثر و بیشتر یہ فیصلہ ان کا اپنا ہو گا جسے یہ اسلام کا فیصلہ کہہ کر پیش کر دیں گے اور یا ان کے فرقہ کا فیصلہ۔ اب ظاہر ہے کہ کسی فرقہ کا فیصلہ تو اسلام کا فیصلہ نہیں کہلا سکتا۔ لیکن یہ اسے دانستہ مبہم رکھیں گے۔
اس قسم کی ایک اصطلاح ہے ’’اسلامی شریعت‘‘ یا ’’شریعتِ حقہ‘‘۔ آئے دن اس قسم کے الفاظ سننے میں آتے ہیں کہ شریعت کا یہ حکم ہے۔ شریعت کا یہ فیصلہ ہے۔ یہ از روئے شریعت ناجائز ہے۔ آپ دل میں سمجھتے ہوں گے کہ یہ اسلام کا فیصلہ ہے۔ لیکن یہ بھی درحقیقت کسی فرقہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر فرقہ کی شریعت الگ الگ ہے۔ جسے آپ ’’اسلام کی شریعت‘‘ کہیں گے۔۔۔ یعنی وہ شریعت جسے تمام مسلمان متفقہ طور پر اسلامی تسلیم کریں‘ اس کا کہیں وجود نہیں۔
ایک اصطلاح ’’سنت رسولؐ اللہ‘‘ ہے۔ اس کے متعلق تو آپ سمجھتے ہوں گے کہ یہ تمام مسلمانوں میں متفقہ علیہ ہو گی کیونکہ حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی تو ایک ہی تھی اس لئے حضورﷺ کی سنت بھی ایک ہی ہو گی۔ لیکن ایسا نہیں۔ سنت رسولؐ اللہ بھی ہر فرقہ کی الگ الگ ہے۔ حتیٰ کہ ’’سنت‘‘ کی تعریف (Definition) تک بھی مختلف۔
یہ (اور اسی قسم کی کئی ایک اور) اصطلاحات ہمارے ہاں صدیوں سے رائج چلی آرہی ہیں۔ لیکن ہمارے زمانے میں چونکہ سیاست کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے اس لئے اب قدیم اصطلاحات کے بجائے‘ جن کا تعلق ’’مذہب‘‘ سے سمجھا جاتا ہے‘ نئی نئی اصطلاحات وضع کی جا رہی ہیں۔ ان میں ایک اصطلاح ’’اقامت دین‘‘ ہے۔ اس اصطلاح کی پبلسٹی تو بہت زیادہ ہوتی ہے‘ لیکن ا سکا متعین مفہوم آج تک نہیں بتایا گیا۔ اگر اس اصطلاح کے مدعی اس کا مفہوم واضح کر دیں تو مختلف فرقوں کے علماء شور مچا دیں کہ جسے تم دین کہتے ہو‘ وہ دین ہے ہی نہیں۔ لہٰذا‘ ان حضرات نے بھی اسی میں خیریت سمجھ رکھی ہے کہ اس اصطلاح کو مبہم رکھا جائے۔
اب ’’دین‘‘ کے بجائے نظام کا لفظ زیادہ پاپولر ہو رہا ہے۔ ا سکی بنا پر ایک اصطلاح ’’اسلامی نظام‘‘ ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے ہاں خود اسلام کا مفہوم ہی متعین نہیں‘ اس لئے ’’اسلامی نظام‘‘ کی اصطلاح بھی شرمندۂ معنی نہیں ہوئی‘ نہ ہو سکتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ عصرِ حاضر کی سیاست میں جس مقصد کے لئے سلوگن وضع اور اختیار کئے جاتے ہیں اس مقصد کے لئے ہمارے ہاں کے مذہبی طبقہ میں اس قسم کی اصطلاحات وضع کی جاتی ہیں۔ سلوگن سے مراد ہوتی ہے ایسے الفاظ جن کا مفہوم متعین نہ ہو لیکن جنہیں عوام میں پاپولر بنا کر فریقِ مقابل کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اگر ذرا بنظرِ تعمق دیکھا جائے تو یہ حقیقت سمجھ میں آجائے گی کہ زمانۂ قدیم کے عصرِ سحر (Age of Magic) میں جو کام‘ جنتر منتر‘ ٹونا ٹوٹکا سے لیا جاتا تھا‘ وہی کام عصرِ رواں میں سلوگن سے لیا جاتا ہے۔ جنتر منتر یا ٹونے ٹوٹکے ایسے الفاظ پر مشتمل ہوتے تھے جن کے متعلق یہ کہ دیا جاتا تھا کہہ اگر تم ان الفاظ کو اس طرح اتنی مرتبہ دہراتے جاؤ گے تو تمہارا دشمن مغلوب ہو جائے گا۔ بعینہٖ یہی پوزیشن ہمارے زمانے میں سلوگن نے لے رکھی ہے اور اب یہی کام ہمارے ہاں اصطلاحات سے لے لیا جاتا ہے۔ پھر جس طرح ایک سلوگن کچھ عرصہ کے بعد‘ کثرتِ استعمال سے غیر مؤثر ہو جاتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں کی اصطلاحات بھی کچھ عرصہ کے بعد اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ کسی زمانے میں جو اثر‘ اقامت دین۔ حکومت الٰہیہ۔ اسلامی نظام وغیرہ قسم کی اصطلاحات پیدا کیا کرتی تھیں‘ اب یہ اس قسم کا اثر پیدا نہیں کرتیں۔ اس بنا پر ضرورت تھی کہ ایک نئی اصطلاح وضع کی جائے اور وہ اصطلاح ہے ’’نظامِ مصطفیٰؐ‘ ‘ چونکہ حضورؐ کی ذاتِ گرامی کا تعلق ہمارے نہایت گہرے قلبی جذبات سے ہے‘ س لئے یہ اصطلاح‘ سابقہ اصطلاحات کے مقابلہ میں‘ عوام کے لئے زیادہ مؤثر اور پرکشش ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس اصطلاح کو بھی مبہم رکھا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ سنت رسولؐ اللہ کی طرح ہر فرقہ کا نظامِ مصطفیٰؐ کا تصور اپنا اپنا ہے۔
مختلف فرقوں کے علماء تو ایک طرف‘ خود حنفیوں میں بریلوی اور دیوبندی حضرات کے نزدیک اس کا مفہوم الگ الگ ہے۔ موجودہ ہنگاموں میں‘ بریلوی فرقہ کی نمائندگی مولانا نورانی کر رہے ہیں اور دیوبندی فرقہ کی مفتی محمود صاحب اور ان دونوں میں ’’نظام مصطفیٰؐ‘ ‘ تو ایک طرف ’’مقام مصطفیؐ‘‘ تک میں شدید اختلاف ہے۔ لہٰذا ان کی سیاسی مصلحت کا تقاضا ہے کہ اس اصطلاح (نظام مصطفیؐ) کو مبہم رکھا جائے۔۔۔ اس کا کوئی ایسا مفہوم پیش ہی نہیں کیا جا سکتا جسے تمام فرقوں کے علماء متفقہ طور پر اسلامی تسلیم کر لیں۔ اس کی وضاحت کا تقاضا کیا جائے تو اسے بلند آہنگ الفاظ کے پردوں میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔ مثلاً حال ہی میں ’’نوائے وقت‘‘ میں اس عنوان پر کہ ’’نظام مصطفیؐ کیا ہے‘‘۔۔۔ دو مبسوط مقالات شائع ہوئے ہیں۔ ایک مقالہ میں کہا گیا ہے کہ نظام مصطفیؐ:۔
اخلاقی لحاظ سے نظامِ مساوات۔۔ سیاسی لحاظ سے نظامِ حفاظت و عدل۔۔ معاشی لحاظ سے نظامِ عدل و کفالت۔۔ روحانی لحاظ سے نظام ذکر و فکر اور للہیت۔۔ معاشرتی لحاظ سے نظامِ اخوت ہے۔ (نوائے وقت۔ ۲۹ جولائی ۱۹۷۷ء)۔
دوسرے مقالہ میں کہا گیا ہے۔۔۔ نظامِ مصطفیؐ کیا ہے؟
کائنات گیر علم۔۔ یزداں شعار عبادت۔۔ پاکیزہ اخلاق۔۔ عظیم سیاست۔۔ علم خوفِ خدا کا سبب‘ اور خوفِ خدا دانش کی انتہا۔ (نوائے وقت‘ ۵ اگست ۱۹۷۷ء)۔
اس قسم کے ہیں حریر و اطلس کے وہ نرم و نازک پردے جن میں اس مصلحت (یا حکمت عملی) کو چھپایا جاتا ہے کہ اس نظام کا متعین مفہوم عوام کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔۔ کیونکہ اس کی وضاحت سے اس دعویٰ کا پردہ چاک ہو جاتا ہے کہ اس مطالبہ میں تمام فرقوں کے نمائندے متفق ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔۔۔ یہ کتمانِ حقیقت کی اسی قسم کی سعئ ناکام ہے جس کی مثال پہلے بھی ہمارے سامنے آچکی ہے۔ ۱۹۵۱ء میں مختلف فرقوں پر مشتمل اکیس علماء نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ مملکت کا ضابطۂ قوانین ’’کتاب و سنت‘‘ کے مطابق مرتب کیا جائے گا اور اس کے بیس برس بعد‘ ’’متفقہ مطالبہ‘‘ کا پردہ خود ان ہاتھوں کو‘ جنہوں نے یہ پردہ لٹکایا تھا‘ یہ کہہ کر اٹھانا پڑا کہ:
کتاب و سنت کی رو سے پبلک لاز کا کوئی ایسا ضابطہ مرتب نہیں کیا جا سکتا جسے مختلف فرقے متفق طور پر اسلامی تسلیم کر لیں۔ (مودودی صاحب)
اس سے‘ اکتیس علماء کے اس مطالبہ کا بھانڈا پھوٹ گیا جسے وہ ۱۹۵۱ء سے متفقہ طور پر اسلامی کہہ کر پیش کرتے چلے آرہے تھے۔ یہ بیس پچیس برس تو خیر‘ نظری بحثوں میں گذر گئے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اب یہ مطالبہ عملی شکل اختیار کر لے اور اس وقت اس اصطلاح کا متعین مفہوم سامنے لائے بغیر چارہ نہ رہے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر اکتوبر ۷۷ء کے مجوزہ انتخابات کے نتیجے میں‘ زمامِ حکومت نظام مصطفیؐ کے مدعیوں کے ہاتھ میں آگئی تو سب سے پہلا مرحلہ‘ پبلک لاز کا متفق علیہ ضابطہ مرتب کرنے کا درپیش ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ مختلف فرقوں کے یہ نمائندے ایسا ضابطہ مرتب کر ہی نہیں سکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت کیا ہو گا؟
تحریک پاکستان کی بنیاد دو اصولوں پر استوار تھی۔ (۱) دو قومی نظریہ اور (۲) نظریۂ پاکستان یعنی اسلام کی بنیادوں پر ایک آزاد مملکت کا قیام۔ ہندو (اور ان کی ہمنوائی میں دنیا بھر کی دیگر اقوام) کہتے تھے کہ ان بنیادوں پر کوئی مملکت استوار نہیں ہو سکتی۔ وہ زمانہ لد گیا جب مذہب کی بنیاد پر سلطنتیں قائم کی جایا کرتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہو سکتا۔
سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر ہندو‘ اور ان کے ہم نواؤں نے‘ ببانگِ دہل اعلانات کئے کہ دیکھا ناں! جو کچھ ہم کہتے تھے وہ کس طرح سچ ثابت ہوا۔ دو قومی نظریہ کس طرح ناکام رہا؟ اور اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ جس طرح دو قومی نظریہ ناکام ثابت ہوا ہے‘ تم دیکھو گے کہ تمہارا دوسرا نظریہ‘ یعنی مذہب کی بنیادوں پر مملکت کی تشکیل۔۔ بھی اسی طرح ناکام ثابت ہو گا۔
اب‘ جب مختلف فرقوں کے علماء پر مشتمل پارلیمان‘ ایک متفق علیہ اسلامی ضابطۂ قوانین مرتب کرنے میں ناکام رہی‘ تو ہمارے یہی دشمن ڈھول پیٹ پیٹ کر اعلان کریں گے کہ دیکھا! جو کچھ ہم کہتے تھے وہ بالآخر سچ ثابت ہو کر رہا یا نہیں!
یہ اسی روزِ بد کا لرزہ انگیز احساس ہے جو ہمیں ان حضرات کی خدمت میں گذارش کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر آپ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ مملکت کا استحکام اور اسلام کا احیاء ہو گا‘ تو آپ جس قدر جلد اس غلط فہمی کو دور کر دیں گے اتنا ہی اچھا ہو گا۔ آپ کی موجودہ روش سے مملکت کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں گی اور اسلام دنیا کی نظروں میں اضحوکہ بن جائے گا۔ اگر آپ فی الواقعہ اسلام کا احیاء چاہتے ہیں تو پہلے یہ طے کر لیجئے کہ اگر قانون سازی کے اختیارات آپ کے ہاتھ میں آگئے تو آپ وہ ضابطہ حیات کس طرح مرتب کریں گے جو آپ سب کے نزدیک متفقہ طور پر اسلامی قرار پائے۔
اگر یہ حضرات ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوں‘ تو ہم قوم سے بزور گذارش کریں گے کہ وہ آنکھیں بند کر کے ان کے سلوگنوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے‘ ان سے مطالبہ کرے کہ وہ اس سوال کا واضح الفاظ میں جواب دیں۔
اس سوال کا جواب کچھ بھی مشکل نہیں۔ اسے غور سے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔
(۱) جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ نظام مصطفیؐ کے مدعی مختلف فرقوں سے متعلق ہیں۔ ان میں‘ ہر فرقہ کی فقہ (ضابطۂ قوانین) الگ الگ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب تک یہ حضرات اپنی اپنی فقہ کو غیر متبدل اسلامی شریعت قرار دیتے رہیں گے‘ کوئی ایسا ضابطۂ قوانین مرتب نہیں ہو سکے گا جسے یہ سب اسلامی تسلیم کر لیں۔ ان کے باہمی اختلافات کی شدت کا یہ عالم ہے کہ ان میں سے ہر فرقہ نے دوسرے فرقوں کے خلاف کفر کے فتوے لگا رکھے ہیں۔
(۲) ان سب میں صرف ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے قرآن مجید۔ لہٰذا‘ ان کے ایک نقطہ پر جمع ہونے کا‘ اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ اپنی اپنی فقہ سے صرف نظر کر کے‘ قرآن مجید کو ضابطۂ قوانین کی بنیاد قرار دیں اور اسے قول فیصل اور حرف آخر تسلیم کریں۔
(۳) قرآن کریم سلوگن نہیں دیتا۔ وہ ہر بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ تبیانا لکل شئ (۸۹/۱۶) اس کا دعویٰ ہے۔ یعنی ہر بات کو نکھار اور ابھار کر بیان کرنے والی کتاب۔
(۴) اس میں کوئی اختلافی بات نہیں۔ اس نے اپنے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہی یہ دی ہے۔ ولو کان من عند غیر اللہ لوجد وافیہ اختلافا کثیرا (۸۲/۴)۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ ا سمیں بکثرت اختلافات پاتے۔ لہٰذا قرآن مجید کو قدر مشترک تسلیم کر لینے کے بعد کوئی اختلاف باقی نہیں رہ سکتا۔
(۵) الدین۔ یعنی نظام خداوندی۔ کے معنی ہیں خدا کو حاکم یا حَکم (ہر معاملہ میں فیصلہ دینے والا) تسلیم کرنا۔ ان الحکم الا للہ۔ حکم صرف خدا کا واجب الاطاعت ہے۔۔۔ امر الا تعبدوا الا ایاہ۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی محکومیت (اطاعت) اختیار نہ کرو۔
(۶) خدا کو حاکم یا حَکم تسلیم کرنے کا عملی طریق اس کی کتاب کو حَکم تسلیم کرنا ہے۔ (رسولؐ اللہ کی زبانِ مبارک سے قرآن کریم میں اعلان کرایا گیا کہ) افغیر اللہ ابتغی حکما و ھو الذی انزل الیکم الکتاب مفصلا (۱۱۵/۶) کیا میں خدا کے سوا کسی اور کو حَکم تسلیم کروں‘ درآں حالیکہ اس نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کر دی ہے جو تمام معاملات کو نکھار کر بیان کر دیتی ہے۔۔۔ ا سکے معنی یہ ہیں کہ کتاب اللہ کو حَکم ماننے سے خدا کو حَکم مانا جاتا ہے۔
(۷) یہی کتاب کفر اور اسلام میں حدِ امتیاز ہے۔ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون (۴۴/۵)۔ جو کتاب خداوندی کو حَکم تسلیم نہیں کرتا‘ تو ایسے ہی لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے۔
(۸) خود رسولؐ اللہ کو بھی یہی حُکم دیا گیا تھا کہ:
فاحکم بینھم بما انزل اللہ۔ (۴۸/۵)۔
اے رسول! تو ان میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کیا کرو۔
(۹) یہی دین اللہ ہے۔ (۸۲/۳)۔ اسی کا نام الاسلام ہے۔ یعنی کتاب اللہ کو حَکم تسلیم کرنا۔ ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔ (۸۴/۳)۔ جو شخص اس کے سوا کوئی اور دین (نظام) اختیار کرے گا‘ تو بارگاہ خداوندی میں اسے شرف قبولیت حاصل نہیں ہو گا۔ وہ مردود قرار پائے گا۔
واضح رہے کہ چونکہ خدا نے اسلام کو دین اللہ کہا ہے اس لئے اس کا ترجمہ دین خداوندی ہی کرنا چاہئے خدا کے رسول‘ دین اللہ کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث ہوتے تھے۔ خود کوئی دین وضع نہیں کرتے تھے۔ اس لئے اسلام کو دین مصطفیؐ کہنا صحیح نہیں ہو گا۔ اسے دین اللہ ہی کہنا چاہئے۔
(۱۰) سوال پیدا ہو گا کہ اس کی پہچان کیا ہو گی کہ ہم میں دین اللہ (یا نظام خداوندی) قائم ہے یا نہیں؟ اس کی اولین پہچان یہ ہے کہ جس قوم میں دین اللہ قائم ہو اس میں مذہبی فرقے نہیں رہ سکتے۔ جہاں مذہبی فرقے ہوں گے نہ وہاں دین اللہ (نظام خداوندی) ہو گا اور نہ ہی ان کے ساتھ رسولؐ اللہ کا کوئی تعلق۔ اس باب میں خدا کا ارشاد نہایت واضح ہے کہ:۔
ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شئ (۱۶۰/۶)۔
جو لوگ دین میں تفرقہ پیدا کر دیں اور خود بھی ایک گروہ بن کر بیٹھ جائیں۔ اے رسول! تیرا ان لوگوں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں رہے گا۔
جو لوگ فرقوں پر قائم رہتے ہوئے ’’نظام مصطفیؐ‘‘ کے مدعی ہیں‘ انہیں اس ارشادِ خداوندی پر غور کرنا چاہئے۔ جب (فرمانِ خداوندی کی رو سے) مصطفیؐ کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں رہتا‘ تو انہیں ’’نظام مصطفیؐ‘‘ کے دعوے دار ہونے کا حق کس طرح پہنچ سکتا ہے؟
ملک میں جو لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ ہماری ان سے گذارش ہے کہ وہ ان ارشاداتِ خداوندی پر غور کریں اور سوچیں کہ مختلف فرقوں کے نمائندوں کا یہ دعویٰ کہ وہ ’’نظام مصطفیؐ‘‘ (یا اسلامی نظام) قائم کریں گے‘ کس طرح حق پر مبنی ہو سکتا ہے؟
(طلوع اسلام‘ ستمبر 1977ء)

2,095 total views, no views today

(Visited 194 times, 2 visits today)

Are All Religions Alike? by Ghulam Ahmad Parwez & Translated by Dr. Manzoor-ul-Haque

IMPORTANT NOTES

English-speaking readers may find the following explanations of terms used in this pamphlet useful:

Ahl-e-Kitab: These are the people of the Book i.e., Jews, Christians, and Sabaeans). These are the people, who along with their conviction (Īmān) in Allah, have faith in all the Messengers coming before Hazrat Muhammad (PBUH) and in some of the Books before the Qur’ān was revealed.

Ahimsa: It is an Indian doctrine of nonviolence, expressing belief in the sacredness of all living creatures and the possibility of reincarnation, strictly practiced by the Jains and subscribed to by Buddhists and Hindus.

Allah: It is the Arabic word for The One God. It is a misnomer to consider a name for God, as God has no names, only attributes.

Brahma-Samāj: It is a Hindus’ School of Thought, founded in 1830 by Raja Ram Mohan Roy in Bengal and flourished as a Movement in India.

Deity: A god/God or goddess, Divinity. From Middle English deite, from Old French, from Late Latin deitas (stem deitat-), from Latin deus, god.

Deen: It is a term with no exact English equivalent. It is a “Way of Life”, and in the Islamic context, is a social system based on Qur’ānic values.

Īmān: Literally it is ‘to be convinced, to accept, to verify something, to rely upon, or have confidence in.’ It is synonymous with conviction and is based upon reason and knowledge. The Qur’ān does not recognize as Īmān any belief that is divorced from reason and involves the blind acceptance of any postulate. It signifies the conviction that results from full mental acceptance and intellectual satisfaction, inner contentment and peace.

Kāfir: Literally “unbeliever”. According to Sura 5, Verse 44, those who do not live by the Laws as revealed in the Qur’an are Kāfirs, the infidels.

Mu’min: It is the one who accepts the truth in such a way that it ensures his own peace and helps him to safeguard the peace and security of the rest of mankind. Al-Mu’min is one of the attributes of God Himself.

Muhammad: The name Muhammad, the Messenger of Allah, – the last of the series of Rusul – is generally followed by the salutation “Peace Be Upon Him”. As this (“Peace Be Upon Him”) is not used in the Qur’ān, and for the sake of brevity, it is not used as such in this pamphlet; it has been indicated as PBUH or pbuh. However, it should be implicitly understood that, as mentioned in Sura Al-Saaffaat 37, Verse 181, we do convey Peace Upon all the Messengers of Allah, and Praise be to Allah, the Originator and the Creator of the Universe.

Muttaqi: It is a derivative of the Arabic word Taqwa. Deviation from the path of right conduct leads man to ruin; Taqwa helps to keep him on the right path and thus save him from ruin. In the context of the Qur’ān, Taqwa involves not only saving oneself from the forces of destruction but also stabilizing one’s personality through the preservation and enforcement of the Laws of Allah. To be more concrete, it means the faithful and efficient performance of all the duties that Allah has enjoined upon man through Revealed Guidance. This meaning is wide enough to include loftiness of character and purity of conduct. One who leads a life of Taqwa is called Muttaqi. Its plural is Muttaqeen.

Nubuwwah: It is the reception of the revelation of Divine Guidance by anbiya or rusul. It ended with Muhammad (PBUH). The Guidance revealed to him is preserved and enshrined fully and exactly in the Qur’ān.  The function of risalah, or the delivery of the Divine Message to all mankind and the establishment of a social order in accordance with its principles, has devolved upon the nation or Ummah that believes in that Book, that is, the Qur’ān.

Pundit: It is the one who is well-versed in Hindu religious lore.

Rusul: It is the long succession of Divine Messengers of God. And Rasūl is the each one of this long succession of Divine Messengers of God, who came from time to time to mankind with a Code of Divine Guidance, and established a socio-economic order based on the permanent values embodied in that Code.

Shar’a and Minhaj: It is the outward form of observance idealized.

Shirk: It is the only unforgivable sin in the Qur’ān.  It is the association of partners with Allah, whether it is the human world or the physical world or the obedience to laws in contradiction to those revealed in the Qur’ān. Those who do so are called mushrikeen. This includes creating divisions within the Muslim community through sectarianism.

Are All Religions Alike?

Background of This Discourse

Movements such as “Are all religions one and the same?” have, off and on, been rising on the soil of undivided India. The sole aim of these movements had been to popularize the thoughts that “Universal values are equally found in all religions; so Islam, as religion, merits no credence, no supremacy, no hegemony, and no pre-eminence over and above any of the other religions of the world.”

Among the leaders of “United India”, (Maulana) Abul Kalam Azad (deceased), with Congress at his back, was such a leader who initiated this Movement in the Indo-Pak Subcontinent. Its ultimate aim was to prove that:

  1. Islam, as a religion, does not merit any peculiar characteristic of its own
  2. Universal values are one and the same in all religions of the world
  3. If the followers of all these religions act upon the teachings of the founders of these religions, Islam says: ‘My purpose is achieved.’

Contrary to this concept, the Pakistan Movement was launched on the premise that the entire Muslim population of India is a separate nation and enjoys a distinct system of life. They need a separate homeland, where they could run this System as a free independent state.

On the basis of the arguments drawn from the teachings of the Qur’ān and the vigour of conviction (Īman), his Movement was countered then and there. He was rebutted with a crushing reply and was proved to be wrong in his mode of argumentation and way of expression. The Pakistan Movement succeeded and Pakistan, on the fine morning of 14th of August 1947, emerged as a new independent state on the map of the world. Its specific purpose was to establish God-given System of life (demarcated in the Qur’ān) as a Law. Consequently, excepting the circle of the leaders of Congress, (Maulana) Azad turned out to be no more an influential figure in the Indo-Pak Subcontinent.

Since some time, it has been observed that the followers of (Maulana) Abul Kalam Azad are projecting, in a queer manner, the various aspects of his writings, particularly his teachings, beliefs, and his ideas of the two-nation theory. The purpose of their writing is to prove that the so-called wrong ideas he propagated, on being a disciple of Gandhi, in the last days of his life, were not wrong in the real sense. According to them these ideas looked to be wrong because these were presented in a wrong way.

We thought it necessary that “these diabolical efforts of theirs be remedied”. And “this stark fact be firmly built in the minds of our young rising generation that there were persons, who had recently written the exegesis of the Qur’ān and the people were still reminiscent of their writings. The Hindu, in the words of Naseem Hijazi, (a renowned Pakistani Novelist), selected those persons to implement their schemes.” And hence they included (Maulana) Abul Kalam Azad in this list.

In this connection, we are reproducing a paper of G. A. Parwez (R. A.) that was written in August 1941. Its title is “Are All Religions Alike?”

(Tolu-e-Islam Magazine, Lahore, December, 1987)

Prolegomena

Since some time, a kind of tradition has popped up to hold Inter Religions Conferences from time to time. The representatives of various religions narrate the merits of their religion in these conferences. The general aim of these gatherings is to impart a body of knowledge of the various religions amongst one another. And thereby remove the misunderstandings that have found way for lack of religions knowledge. The excellence of this aim and the utility of these ceremonies can not be refuted. But whenever I studied the proceedings of these ceremonies, I felt that (at least) Islam, in the real sense, is little presented properly in its true tone and tenor. It is an undeniable fact that Islam is a harbinger of peace and a source of nourishment for mankind. That is why it contains the teachings of tolerance, virtuous dealings, and broadness of visions for both the irreligious and the religious followers. But this is also a stark fact that Islam is a strong supporter of a peculiar excellence over the edge of other religions. It proclaims that God’s message, in its pristine purity, is present in the Qur’ān alone; it’s the last message of God and is a complete and perfect code of life. It contains all the means of guidance for every branch of human life and perpetuates to the last syllable of the recorded time on this earth. Its broadness of vision, its openness, its tolerance, and its virtuous dealings are publicly trumpeted. But its excellence, completeness, supremacy, and exaltation over and above the other religions are never talked of. It is because it is usually understood that doing so would tantamount to generate heart-breaking of the other religionists; thus they would term the representative of Islam as “prejudice and narrow-minded.” Influenced with this misconception of tolerance and broad-mindedness, Islam’s representatives find no courage to interpret Islam in its true and pristine perspective. Thus, they attend these ceremonies with the sense of getting finished, boggled, demurred, and bashed.

With this concept in mind, such conferences, at least for Islam, never bring any better results. On the contrary, I am feeling since long that this is causing more harm than good in its true perspective. Whether or not this is the purpose of conducting these gatherings, but their results are definitely producing the impact that   -with the neglect of its distinctive characteristic   -Islam is slowly being brought at the level of other religions. Consequently the events are gradually casting the shadow that this is not a fancied fear. Nor is it an apprehension of any speculative imagination.

In the beginning of June 1941, such a type of “Conference on All Religions” was held at Shoolapur (in undivided India). Pundit Sunderlalji, a famous Hindu activist, was the president of this Conference. The detail of whatever-the-representative-of-Islam delivered in this Conference could not be known. But in his presidential address, the president focused his deliberations on the point that Islam accepts itself that the mores and cores of salvation and progress are one and the same in every religion. No religion enjoys superiority to any other religion. The spirit of religion is God- worshipping and righteous living. And that this is the same in every religion. The difference is only in Shar’a and Minhaj (in bylaws). And that this difference carries no significance at all.

The Exegesis of Azad

To prove his assertion, Pundit Sunderlalji said nothing of his own. From the beginning of his address to the end, he referred detailed quotations   -supporting his assertions word by word   -from Abul Kalam Azad’s exegesis of Surah-Al-Fatiha (Tarjuman-Al-Qur’ān, Vol.1). Probably you would know that the Hindus published the Hindi rendering of this exegesis and Pundit Sunderlalji made frequent references from it in his presidential address. I have nothing to do with the prose and cons of the factors that provided impetus to the writing of this exegesis, nor to the objectives that led to its Hindi rendering and general publicity. As a student of the Qur’ān, I have to see the feasibility of these ideas from the Qur’ān’s point of view. Prior to it, I have exhaustively written on this topic. But the need of the day is that it be described in detail so that those propagating these ideas should remain no more duped, defrauded, and swindled in the perception that Islam itself is a supporter of this type of teaching. The need of this detailed elaboration becomes more intense, all the more, when it is felt: what impact does this teaching imbibe in the personality fiber of our young generation?

This teaching brings out the following concepts:

  • All religions are one and the same
  • All religions have the same universal truth in them
  • God-worshipping and righteous living are the sure test of salvation and good fortune
  • Divine guidance is the blessing of God; it can not be the monopoly of any one-group etc.

These ideas are so fantastic, so elusive, and so alluring that the superfluous minds and brains are easily and briskly trapped in the orgasm of the charm. And when the support of the Qur’ān’s exegete like Azad is blended with this trivial charming attraction, then nothing could dispense with the charm of this spell.

Akbar’s Deen-e-Illāh

The first glimpse of this deceptive concept of the exposition of tolerance and the broadened view of this mirage-oriented exegesis is found in the Deen-e-Illāhi of Akbar, the great. As the passions and the objectives operating behind the motives of this movement are not hidden from the eyes of the historians, so are the noble efforts in their eyes that were showered to falsify and uproot this Islam-rending theory.

The movement of Brahma-Samaj faction has also been founded on the same lines. Since this movement did not come from the Muslims, so it is beyond the scope of our criticism in this discourse.

After this movement, it was this very theory that was projected against the Muslims during the running surge of the political morass, conflict, and upheaval. The exegesis of Azad became the root cause for the propagation of this theory and hence spread as Deen among the Muslims. Azad, as a scholar of Deen and exegete of the Qur’ān, had a distinct position among the Muslims. He had a deep impact of his speech and writing on the heart and mind of the Muslims. His exegesis of the Qur’ān was awaited since the past many years. When it was published, it was welcomed and was sold like hot cakes. The people treated it with great reverence and respect. And raised slogans of its appreciation and felicitation from every walk of life.

There is no doubt that Azad’s translation has a specific characteristic; not to appreciate this aspect would be miserliness and stinginess. But the discussion is about the very idea that has been mentioned above. Amid the crowd of exceeding excitement, fondness, and fervid devotion, no body thought of it during the time of its circulation. Not as a self-praise, but as the expression of the factual position, during this multitude of appreciation and eulogy, God blessed the writer with divine help to pinpoint to the discerning and the sagacious persons his basic mistake that was to be disseminated with his exegesis. Hence my article criticizing this part of his exegesis was published in the Mu’ārif periodical publication of January 1933. This article was much appreciated among the erudite. Some where from the circle, the voices were raised against this idea of Azad. Eight or nine years have passed since the publication of this paper. Since those critical papers published against this theory passed temporarily through the eyes of the people, so they were lost in the memory of the people.

The miscellaneous papers have only temporary effect. And since this exegesis is in the form of a permanent book, so it remained fresh every time. Whenever this theory got a lot of general publicity, I had, however, been writing some thing against it. Since the last three years, this issue was talked of in Tolu-e-Islam magazine now and then. But despite all that, the temporary efforts   -till carried on in a sequence of some continuity   -cannot prove effective as compared to the status of a permanent book. Especially it becomes even more difficult when the people of the other religions struggle hard for making this idea popular and wide-spread among the masses. To me this very idea is the biggest danger to Islam. It is because when you once accept that Islam has no distinct feature over the other religions, it loses all the efforts carried out for fondness, prestige, and honour of Islamic system of life. And even the political efforts held so high in its importance become meaningless.

(The Pakistan Movement was founded on the assertion that a separate free State is needed if the Muslims desire to lead life according to Islam.) The secret of nations’ life is conditioned with their belief (the aim of life). The higher is the goal of life (belief) of a nation and the more love its individuals shower on it, the more prosperous of the wealth of life that nation will be. Even a slight mistake in theory of life (belief) makes a nation worthless. When the railway train changes its track, there is an imperceptible distance, hardly of an inch, between the two line-points. If there is a slight mistake in getting the railway track changed, the railway train not only will go many miles away from its destination within no time, but will also be liable to destruction and ruination at every step. To me, Azad’s theory is such a devastating mistake, which, if allowed to pervade, God knows, what havoc would it wreak. This is the very feeling that prevails upon me of and on and becomes the root cause to write on it.

It is said that the followers of other religions are accepting that their own religion is not the only one that is the most dignified and elevated. They admit that the status of their own religion is like that of the others’. It has automatically brought a change in the unnecessary discussions and dialogues used to be launched against other religions for establishing superiority of their own religion. This is the conduct of the other religionists. And what is the state of affairs among the Muslims?

Taunting of Narrow-mindedness

The Muslims are again being persuaded to accept that all religions are one and the same; Islam enjoys no superiority over other religions. There is no denying the fact that unjustified discussion, bickering and wrangling do never bring any conducive results. And I always avoid it. But let the fault-finders just think over what they say. And let them ponder over the nature and scope of other religionists’ broad-mindedness and narrow-mindedness in this regard? For understanding the phenomenon take the example of Zaid. He has a child, most stupid and ignorant. In contrast to him, Omer’s child is sharp and acute. Zaid says everywhere: “I do never say that my child enjoys any specific superiority. To me, Omer’s child and mine are absolutely the one and the same; there is no difference among the two; it is nothing but the self-praise of Omer that he does not consider any one else’s child at par with his own chap. ”

Pause and reflect! Does this principle reflect Zaid’s broad vision and Omer’s narrow-mindedness? Or does it show of any reality in the real sense? The present day necessities of life have brought this to bear upon the fact that all religions (except Islam as a system) are facing difficulty to harbour their beliefs on the anvil of knowledge and reason. Nor are their conduct and code coincide with man’s growing urges and varying climes of the day. They have thus to borrow principles and laws from here and there for satisfying their day to day practical needs. Hence these religions are totally incompetent to keep pace with the day’s accelerating developments of the man. Slowly and gradually, the followers of these religions are becoming incapacitated to rest with their beliefs. Nor are they adherent to their religion. They are disgusted with their religion. In some cases, their disgust is transforming into revolt and insurgency.

The secret of the life of a nation depends upon its adherence to the belief system; so the followers of these religions face a danger of gradually disintegrating the very fabric of their religion. On the contrary, they are seeing how the Qur’ān is meeting the growing needs of the man. In view of these circumstances, they fear lest the wise class of the followers of their religion should divert to the teachings of Islam. Under these paradigms, they understand it well how fruitless and meaningless is their saying to their religious-bitten youth that their religion enjoys superiority over and above all the religions of the world. In order to avoid this danger, they have devised the same technique, which Zaid had invented for his child. They have started to bring down Islam to the level of their own religion if their religion can not be at par with Islam. And likewise this idea is made mature in the minds of their religious-bitten youth that all religions are uniformly one and the same; so they should not be fed up with their own religion. And this idea is embedded in their mind that there does not exist in the world a religion that is better than their own. They say that the religion is confined to worship and prayer alone. From this point of view all religions are one and the same.

So far the system of life, they say that it is a separate entity and has nothing to do with the religion. It is the collectivity of the nation that gives shape to it. In this way, it is the nationality that is the very focal point to which the secret of life is tied up tightly. This shrewd class of the people has thus saved their nation from the coming danger. In other words, they concealed the weakness of their religion in the veil of “oneness of religiousness ” and found another front (i.e., nationality) for the collectivity of the nation.

These are the hard cores and mores under which this movement of ”uniformity of religions” emerged on the surface of the religions of the world. You are at liberty to give it any name you like. But just think of the conditions of the heart of a person who accepts that the time had to come when the followers of all the religions would be bound to confess the inherent defects in their religions. In other words it can be said that the advancing needs and urges of the time would compel them to confess the fact that their religions could not be compatible to the growing needs of the day. It is the right time when the assertion of Islam as the real system of life could be presented on reason and vision to the world forum and thus its superiority and comprehensiveness could be got established. These were the circumstances when this assertion of the Qur’ān had to emerge as a living reality:

Allah has sent His Rasūl with Code of Life and Divine Order so that it prevails over all human orders, how much it is to the dislike of the Mushrikeen, the Polytheists (9:33).

Whoever believes in this grand reality of the Qur’ān – say the truth – when he sees that the followers of Islam are themselves projecting the idea that “All religions are one and the same”, how can he accept and disseminate this notion as true service to the cause of Islam?

It is said: if you will make this assertion that our religion is the best and the most superior of all the religions – and salvation and good fortune do not exist anywhere beyond it – the others will also start making the same assertion for their own religions. And then the same question of ‘comparing and contrasting’ the religions will be created; it will generate hullabaloo. First of all, the question of this comparison does not arise; now gone are the days when such discussions on sheer theoretical issues used to be conducted. Now the situation is that the entire world is fed up with its own theories of life and is searching for an ideology under which the man is able to live a safe and secure life. The nations that propounded nationalism as the sole guarantee of peace and satisfaction are willingly or unwillingly accommodating with it. Under these circumstances the question of any type of competition does not arise.

Now the need of the day is to show up the true concept of Islam; the thirsty world searching for this concept will automatically gather round this fountain of life. But even if the question of competition is accepted, no one is afraid of this comparison. For Omer, this challenge is a happy augury: that his and Zaid’s son be made to appear in the competitive examination. If the world wants to ask for it, it may ask with pleasure. We would tell it: where and why its theories failed and which Code of life – pristine clear of its multitude of weaknesses, infirmities, and defects – Islam brings forth against it. But at present my address is not to the followers of the other religions. I now want to address those who call themselves Muslims and have conviction that all religions are one and the same.

The sole purpose of this conspicuity of my address is to evaluate this ideology against the set criterion of the teachings of the Qur’ān. The mode of addressing the followers of the other religions is different. To them the Qur’ān is no authority. Hence my address is confined to those who accept the Qur’ān as the sole authority. The perfection of the human prestige, the achievement of exaltation and elevation – in the present and the future – and every kind of well being, welfare, salvation, and progress can be clinched with this system of life. The Qur’ān is the true exponent of this system and Muhammad (PBUH), the Messenger of Allah is the living model of pragmatism. If this all is proved from the Qur’ān, then how much the world may link these qualities to the narrow-mindedness, you should sacrifice (according to the value judgement of others) the numerous forms of broadness of mind and openness of heart to “this sort of narrow-mindedness”. If you are ready for it, you have room in the bounteous showers of Allah. If you (God forbid) term it narrow-mindedness and short-sightedness, then search for the broadness and vastness of vision:

  1. Where calling liars as brazenfaced is thought to be narrow-mindedness
  2. Where terming defective as deficient is thought to be against tolerance
  3. Where the righteous is avoided because he makes the liar broken-hearted
  4. Where the realities are concealed because their unveiling over-shadows the brightness of the artificiality.

In Islam, truth has to be called truth and the untruth to be the untruth: how much it is to the dislike of the Mushrikeen, the Polytheists (9: 33). This is the established truth that there does not exist God-sent – pristine, original, and complete – message except the one enshrined in the Qur’ān under the canopy of this firmament. Then hesitation to declare this truth – only because the others would taunt you that you are narrow-minded – is nothing but a pragmatic shirk i.e., polytheism. It is nothing but a practical tactic of appeasing others by leaving God. Says the Qur’ān:

Those who conceal the matters, which We have revealed with Truth and Divine Guidance  – in spite of the fact that We explained them exclusively and unambiguously in the Book i.e., the Qur’ān for the people – are the people whom Allah curses and all the cursers curse them (2: 159).

The Beliefs of Maulana Azad

The above mentioned Qur’ānic exegesis of Azad is spread over nearly 175 pages and contains a summary of the lengthy discussions in a few pages at the end. This is the very gist of discussion that Sunderlalji has quoted in support of his assertion. For the convenience of the readers, these quotations are reproduced below. Maulana Azad writes:

“But the Qur’ān came forward to re-present to the world at large the universal truth sponsored by every religion.

a.       “It (The Qur’ān) not only stated that there is truth in every religion but it also made it clear that all religions are true. He said Deen is God’s beneficence, so it is not possible that it might be bestowed upon any one nation or group and the others may have no share in it.

d. “The Qur’ān came to distinguish religion from its outward observance. The former is called Deen and the latter Shar’a and Minhaj. Deen was but one and the same everywhere and at all times and was vouchsafed to one and all without discrimination. In respect of the outward observance of Deen, there was variation and this was inevitable. It varied from time to time and from people to people, as seemed pertinent to every situation. Variations of this nature could not alter the character of Deen of the basis of religion. That was the truth, which the Qur’ān aimed to emphasize. Its complaint was that Deen had been neglected and the variation in Shar’a and Minhaj or the outward form of observance idealized and made the basis of mutual differences among mankind.

e. “It stated that groupism would not lead to progress or bring salvation to man. These group formations were all man-made. The Deen prescribed by God was but one. And what was this Deen but the way of devotion to one common God and of righteous living – the law of life, which one was not to stray.

f.  “It announced in very clear terms that its call was but to proclaim that all religions were true and that their followers had disregarded the truth, which they embodied. Should they return to this forgotten truth, the task of the Qur’ān was fulfilled. The act will be regarded as indeed the acceptance of the Qur’ān. The truth common to all of them was but what it calls Al-Deen and Al-Islam.”

{Tarjuman al-Qur’ān Vol. 1, pp. 162-163; (1947 Edition, pp. 213-214)}

{This translation is taken from: Maulana Abul Kalam Azad: Tarjuman al-Qur’an. Dr. Syed Abdul Latif (edited and rendered into English), Vol. 1, Surah-Al-Fatiha, Kazi Publications, Lahore, pp. 181-182}

At another place, Maulana Azad writes on the differences of Shar’a and Minhaj as:

“The Qur’ān points out that neither are the conduct, ceremonials and rituals the pristine reality, nor are their differences, the difference of right and wrong. These are but the outward manifestations of religion. The spirit and reality are above these manifestations. This is the real Deen. And what is the real Deen? It is but worship of one God and righteous living. It does not solely belong to any one group, which had not been bestowed to any one other than it. It is one and the same in all religions.”

{Tarjuman al-Qur’ān, 1947 Edition, p. 189}

{This translation is taken from: Maulana Abul Kalam Azad: Tarjuman al-Qur’an. Dr. Syed Abdul Latif (edited and rendered into English), Vol. 1, Surah-Al-Fatiha, Kazi Publications, Lahore, P. 158}

He has repeated the same thoughts in so many other places. (It would be better if you study this exegesis and, combining the reference and context together, examine closely the nature and scope of Azad’s thoughts on this count.) Then judge:

  • Whether, according to the teachings of the Qur’ān alone, (a) only God-worshipping (i.e., accepting God) and leading righteous living is needed for salvation and progress
  • Or, along with (a), having conviction (Īmān) in the Messengerhood of Hazrat Muhammad (PBUH) is also needed (which makes conviction (Īmān) in the Qur’ān imperative. The meaning of having conviction (Īmān) in the Messengerhood of Muhammad (PBUH) and the Qur’ān both is to lead life in harmony with the Qur’ānic Jurisprudence. It is nothing but the other name of  “righteous living”).

In other words, it means, the focal point of this entire discussion is whether or not the conviction (Īmān) in the Messengerhood of Muhammad (PBUH) and the Qur’ānic Jurisprudence is also essential for salvation and progress. With the mention of infidels and the polytheists, the Qur’ān has also talked of Ahl-e-Kitab (people of the book i.e., Jews, Christians, and Sabians). These were the people who, in addition to their conviction (Īmān) in Allah, had faith in some of the Messengers that came before Hazrat Muhammad (PBUH) and also in some of the books before the Qur’ān was revealed. If the discussion is made a bit briefer, it will concentrate on:

  1. Whether – according to the Qur’ān – it is essential for people of the book to believe in the Messengerhood of Muhammad (PBUH) as well as to follow the Qur’ān.
  2. Or it is enough for them to act perfectly upon the teachings of their own religions.

If the Qur’ān demands from people of the book to also have conviction (Īmān) in the Messengerhood of Muhammad (PBUH) and obeisance to the Qur’ān. And tells them that there is no other alternative for any salvation and progress, it will make this matter crystal clear. It is because if people of the book were demanded to have such a conviction (Īmān), then the same demand would also become terse and intensified for the people of the non-book.

What is the Meaning of Deen?

First of all, consult the meaning of Deen or Islam, the Qur’ān represents through its teaching. The exposition of the Qur’ānic education is that Divine messages continued showering from God through the agency of numerous Messengers of God. These messages were for the guidance of the humans of the various tribes, clans, and nations at different intervals of time. The fountain spring of these messages remained constantly the same in nature. It was solely the obedience to the one unique Allah   -not any other deity worthy to be obeyed. But to act upon this fountain spring for transforming it onto a practical system, there were variations to suit the urges, demands, and paradigms of the time, place, and circumstances. These messages were continuously revealed and remained intact in their pristine form for some time. In the course of successive editions many passages were excided and many were interpolated. In other words, they were either wasted with storms, thunderbolt, earthquakes, and other cataclysms of nature, or were abrogated, abandoned, or adulterated by the men themselves. Sometimes these were totally forgotten; so after some time, these were renewed; similar to these, messages (i.e., Verses of Allah) were revealed again.

Simultaneously the humanity was also passing through the various stages of its evolution, so its urges, exigencies, needs, mores and cores, were also in flux. To suit the growing needs at every age, the factors for structuring the Divine System were also passing through the corresponding evolutionary stages. At the time of every Messenger (PBUH), some renewal of the previous Messengers’ (PBUH) forgotten or wasted messages was made, some value added messages were given and also annulment and/or modification of the previous injunctions was incorporated. But this modification and/or annulment always used to lead towards higher stages of evolution   -not towards decline and downfall of man. The following sacred verse of the Qur’ān has pointed towards this reality:

(Our Law is that) (a) Injunctions given in earlier revelations, which were meant only for a particular time, are replaced by other injunctions, and (b) Injunctions, which were to remain in force permanently but were abandoned, forgotten or adulterated by the followers of the previous Anbiya, are given again in their original form (2: 106).

In other words, it means that a better injunction (i.e., verse of Allah) was given in lieu of the repealed injunction and similar to the forgotten messages (i.e., Verses of Allah) were revealed. That is why the Qur’ān has mentioned explanations of the abrogation, adulteration, and modification of the previous Divine Books at various places. At one place, the Qur’ān says:

And We gave Moses the Book, so differences were created in it (11: 110)

At another place says the Qur’ān:

They tampered with the phraseology of Divine revelation and even set aside a portion of their commandments (5: 13).

And still at another place says the Qur’ān:

Woe be to those who write the Book with their own hands and then say: “This is from Allah.” (2: 79)

At numerous places in the Qur’ān, there are explanations of replacement, abandonment, forgetfulness, abrogation, interpolation, adulteration, and willful modification made in the Divine Books revealed to the previous Anbiya. The entire world stands witness to this evident reality. There is no religion in the world today that could prove with reasoned arguments that the book they claim to be Divine is word by word the same that was revealed to their Messenger (PBUH). On the contrary, there are many historical evidences to establish the stark fact that there is no trace of the original documents of these Books anywhere in the world. (For detailed description of these matters, please refer the first chapter of my book: Me’rāj-e-Insāniyyat – Ascension of Humanity.) Anyhow, this successive long series of Divine Guidance continued till the (human) world, on the scale of evolution, passing through its childhood reached its adulthood period. Now, according to the Divine Plan, the time had come to give all the truth in its complete original form in a comprehensive way, in lieu of the Divine Books given through the agency of the previous Anbiya (Peace Be Upon Them). These were either destroyed completely, or there had been abrogation, abandonment, adulteration, and/or modification in them. Then – in place of all these injunctions, which were given for the time being – the commandments were to be given that could remain sufficient to meet the human needs till the Day of Resurrection. Thus, the collections of all these Truths, Injunctions, Principles, and Commandments suited to the genesis of the genius were given to the world in a safe and secure way. And God Himself took the responsibility of its security and preservation till the Day of Judgment. The name of this latest collection and final edition of Realities and Divine Code is the Qur’ān.

It was, then, announced to the entire world: “All Our Bounties have been perfected and completed”. The human code of life was given the final touches. It encompassed the entire previous body of Truth. Now this code of life (i.e., the Qur’ān) is the only pragmatic criterion for salvation, achievement and progress. Other than that, whatsoever is there – anywhere in the world – stands abrogated. Today this is the only Deen, the only Islam in the entire world. And conviction (Īman) per se is only in this Islam. Other than that, there is nothing like this sort of Deen, Islam, Shar’a, or Minhaj under the firmament of this world. It is the proclamation of God, Who sent these messages that remained in practice previously. He sent the one Himself instead of the other. He Himself concentrated all these into One Collection and hence adjudicated this one as His Code of Laws in lieu of all the previous Scriptures. He ordained to have conviction (Īman) that Allah had commissioned all the Anbiya, who came previously. All the messages they delivered were God-revealed. As their status of being Anbiya, there is absolutely no difference among them. Nor was there any difference in these messages from the vantage ground of Divine Messages. Concurring with it, the same God had said: “Now obeisance and obedience is only to this Collection of Laws, the Qur’ān.” This is the Al-Deen and this is the Al-Islam. Every one is required to follow it. The salvation and progress is attributed to it. It is right to say that the entire body of Truth “was” equally “present” in all the religions on their own time. But to say that ‘originality-of-Deen-is-one-and-the-same-in-all-the-religions’ is absolutely against the reality and the teachings of the Qur’ān.

There is much difference between “was present” and “is present”. And this is the very difference on which depends the modern theory of right and wrong. Understanding of this reality makes the entire matter crystal clear.

Exposition of Conviction (Īmān)

Now study a detailed account of this point. The Qur’ān’s basic demand is of conviction (Īmān). But the question is: “Does conviction (Īmān) mean faith in Allah or any thing else –anything more than that?” The Qur’ān has given five elements of conviction (Īmān):

But the good belongs to him who has conviction in Allah, in the life hereafter, in Malā’ikah, in the Books, and Anbiya (2:177).

And the refusal of these very elements of conviction (Īmān) is out and out infidelity and absolutely “going astray”. In this regard says the Qur’ān:

He who denies Allah, His Malā’ikah, His Books, His Rusul (Messengers), and the Life Hereafter has surely gone far astray (4: 136).

But the style of the Qur’ān is that somewhere it explains these elements in detail and at some other places it epitomizes these elements in stead of giving the illustrative elaboration. With reference to the context and the subject matter area, it merely describes that element, which needs to be emphasized. For example, at one place it mentions conviction (Īmān) in Allah alone:

Surely those who accepted that our Rabb is Allah and then remain steadfast to it, the angels will descend upon them (41:30).

At many other places it mentions the conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter alone:

Whoever has conviction in Allah and the last day (the life hereafter) and does right, will be duly compensated (2: 62).

And still at other places, it mentions of conviction (Īmān) in Allah and His Rusul (Messengers):

Have conviction in Allah and His Rusul (3: 179).

Yet at other place it, along with other elements of conviction (Īmān), talks of the conviction in the Book:

So have conviction in Allah, His Rusul, and in His light (the Book, the Qur’ān) that We have revealed (64: 8).

In short, it describes different elements of conviction (Īmān) at different places but it does not mean that these elements can be segregated and having conviction (Īmān) in one or two such elements alone is enough for becoming a Momin. The demand for all the elements of conviction (Īmān) is a common denominator. Refusal even to any one of them is infidelity; it is the first article.

The Meaning of Conviction (Īmān) in Allah

Now, come to the second article. The question is: “What is the meaning of having conviction (Īmān) in Allah, Rusul, and Books?” The study of the Qur’ān makes this reality clear that the purpose of conviction (Īmān) is to obey, to follow, to submit from the core of ones heart. The meaning of having conviction (Īmān) in Allah is to obey His orders from within. (Atee Ullah). Simply accepting the existence of Allah cannot be termed conviction (Īmān) in Him. Barring a few atheists in the world, there is no body who does not admit the existence of Allah. There will be difference in the name, difference in determining His attributes, but the admittance of His Self will be found everywhere. If conviction (Īmān) meant simply the admittance of the Self of Allah, then why had the Qur’ān termed those people infidel (Kāfir) who acknowledge the existence of Allah? At numerous places, the Qur’ān has clarified it: if you ask these people “Who is the creator of the earth and the sky? Who does shower the rain? Who does make the air blow?” they will answer, “It is Allah.” But thereafter the Qur’ān says, ‘amazed it is then, in spite of their admittance, these people do not have conviction (Īmān) in Allah (29: 61-63).’ It makes the Qur’ān’s meaning of conviction (Īmān) clear. It is the acknowledgement of the Self of Allah along with all the descriptions revealed in the Qur’ān (23: 84-90). And simultaneously, it is the obedience to all His injunctions. This is the Qur’ānic meaning of the conviction (Īmān) in Allah. Since Allah’s injunctions are revealed through the agency of the Anbiya, and are preserved in the revelation of Allah, so it has been said: “Have conviction (Īmān) in Anbiya, and His Books along with the conviction (Īmān) in Allah.” It has the same meaning   -that the Divine Injunctions be obeyed. Even about the Qur’ān, it has been said:

(O Jama’at-ul-Momineen) follow only that which has been revealed to you by your Rabb and do not follow any other ally (7:3).

Deen depends upon sheer obeisance: pristine and free from even the least tinge of any ulterior motive. There was obeisance to the teachings of the Books on their own time (when these were not distorted) before the Qur’ān was revealed. Those Books were destroyed, abrogated, interpolated or were adjudicated to be kept in abeyance, so their obedience was also suspended. And when the Book itself did not remain operational in its original form, the time of the Messenger of that Book ended too. After the long succession of Divine Messengers, the last of the series of Rusul came. His revealed Book (the Qur’ān), present in its original form, is enforceable up to the Day of Judgement, the last syllable of the time on this earth. Thus, conviction (Īmān) in Allah and His Messenger (PBUH) implies acting upon the teachings of the Qur’ān.

Now the conviction (Īmān) in the Messengers prior to the last Messenger, Hazrat Muhammad (PBUH), and in the Divine Books before the Qur’ān was revealed, means that they were the true Messengers of Allah on their own time and their messages were the true Orders of Allah. Now all these Orders have been included in the shrines of the Qur’ān.

In this regard, the Qur’ān is explicit. It says:

We have sent you a Book based on truth. It validates and subsumes the true teachings of the earlier Books (5: 48).

Hence after this new Book, the obedience to the old Books carries no weight. Every new edition of the code of law contains new additions in addition to all the matters of the previous editions that are essential to keep enforced. Therefore, the enforceable law is understood to be the one that is given in the latest edition. More over, after the Qur’ān was revealed, leading life of the various religionists (Ahl-e-Kitab) according to the dictates of their religions (given in their religious Scriptures) is wrong in principle. Now the “Truths” (of their religions, and of those, which the humans need) are enshrined in the Qur’ān. Since, as has been described above, after the coming of every new Messenger (PBUH) and his new Book, obeisance to his Divine teachings, and his Divine Book was necessary. Hence every Messenger (PBUH) was told to inform his Ummah when the last of this series of Divine Guidance reaches    – after whom no other Messenger or any other Divine Book will come    -you will all have to obey this last of the Messengers. In Sura Ae’rāf of the Qur’ān, Hazrat Moses (AS) lifts up his hands in prayer:

“O my Nourisher, since You have bestowed Your blessings on this nation, the Banī Isrā’īl, keep them showering continuously.” He was told: “Surely Our blessings are boundless, and encompass each and every thing, but according to Our System of Guidance only those will share them who have conviction (Īmān) in Our Last Nabi and the Last Book.” In other words, it means only those, who follow the last of this series of the Messengerhood of the Divine Guidance, Hazrat Muhammad (PBUH) and the last Book, the Qur’ān, will get these blessings.

My Rehmat embraces all things but it is bestowed upon those who adhere to My Laws, provide zak’at, and, in short, have conviction (Īmān) in the truth of My revelation. This was said to Moses, but now Allah’s Rehmat will be bestowed upon those who follow the “Ummi Nabi”(29: 48) whom they find mentioned in the Torah and the Injeel that is with them; who will enjoin what is wrong according to the Qur’ān and declare halāl (lawful) all good things and harām (unlawful) all other things (6: 146; 5: 3-4); who will lift the burdens under which the humanity groans and free them from the shackles, which bind them. Those who will have conviction in this Rasūl (Messenger), support him against his opponents, help him in his mission and follow the light of the Qur’ān, which has been revealed to him   -these are the ones who will be successful and prosperous (7:156-157).

Pause and reflect: what are the condition that the Qur’ān has made compulsory for betterment and auspiciousness? These are: have conviction in the Last Messenger (PBUH) and follow the Qur’ān. The very name of carrying out this process is Islam. Here, in the above-mentioned verse, the same has been said to Moses (AS). At another place the same has been said to all the other Anbiya:

The guidance, which is being given to you, now, is nothing new. It has been given to earlier Anbiya, with whom Allah has made a covenant. This covenant was that when the last Nabi who will validate the claims and promises made in their scriptures, comes, they would accept him and also aid him.

Allah has asked them: “Are you aware that you are accepting the covenant on these terms?” They had answered: “We are”, thereupon Allah said: “Be witness to this and I will also be a witness along with you.” Allah had made it clear that those who would backslide would be those who had abandoned the right path.

This is that Deen, which is ordained by Allah. Do they desire to follow a Deen other than this, when they can see that every thing in the universe submits to Allah’s Laws by choice or by constraint and follows the way, which leads to the goal set for them by Allah.

Therefore, O Jama’at-ul-Momibeen, say: “We have conviction (Īmān) in Allah and in that, which He has revealed to us; and in that, which was revealed to Abraham, Ishma’el, Isa’ac, and Jacob and their descendants; and that, which was given to Moses, Jesus, and the other Anbiya” by their Rabb. No distinction do we make amongst them and we surrender to the Laws of Allah.

This is Islam: any one who adopts a way other than this will not be accepted and at the end he would be the loser (3: 81-85).

Taking covenant from Anbiya means taking covenant from their Ummah through their agency. It is due to this fact that the scattered parts of the Divine Books found today indicate that the earlier Anbiya used to persuade the people to have conviction (Īmān) in the last of the longest series of the Divine Guidance (i.e., the last Nabi, Hazrat Muhammad PBUH). It was because this was the demand of the Divine System. Therefore, after the coming over of the Last Messenger (PBUH), there is no way for any salvation and progress except having conviction (Īmān) in him. That is why the Qur’ān asserts that making any distinction amongst the Anbiya is definitely confirmed infidelity (4: 150).

Therefore, the second article makes it clear that:

  1. Having conviction (Īmān) in Rusul and the Divine Books do not mean to accept them only; it is to follow them in letter and spirit
  2. Making any distinction amongst Rusul is infidelity. It means all the Rusul on their time had been bringing Divine Guidance from Allah, their obedience at their time was compulsory
  3. Having conviction (Īmān) in the last Messenger, Hazrat Muhammad (PBUH) has the same meaning – that the Qur’ān be followed. Since no Messenger will come after Hazrat Muhammad (PBUH), obeisance to the Qur’ān is to the Day of Judgement and is for the entire humanity
  4. Now whoever has conviction (Īmān) in Allah, His Rusul, and Divine Books in the manner the Qur’ān has prescribed, will be understood to be on the Divine Guidance.

In this regard the Qur’ān says:

If these people have conviction (Īmān) in it like the manner you have, then they will also be following the right path. If they repudiate it, this will be tantamount to an abandonment of the path followed by the Anbiya (2: 137).

Exposition of Conviction (Īmān) in Messengerhood

It is said those who (a) consider all the religions one and the same, and (b) also profess the truthfulness of Muhammad (PBUH), the Messenger of Allah, so it is no more making any distinction amongst the Rusul. In other words, it means they accept Muhammad (PBUH) as the true Messenger of Allah. Even Maulana Azad has written in his exegesis that accepting the Messengerhood – honour and obedience of Muhammad (PBUH), along with the Oneness of Allah is essential for embracing Islam (P. 119). In other words, the pivotal point according to Maulana Azad is that:

  1. Like other Anbiya, having conviction (Īmān) in Muhammad (PBUH) is a must.
  2. BUT for salvation, auspiciousness, and progress, acting upon the teachings of one’s own religion is enough alone.

In other words, it means that the Muslims believe in Moses, Jesus, and the other Anbiya as the messengers of Allah   -but they obey only the Book, which was revealed to Muhammad (PBUH), the Rasūl of Allah. If the Christians and the Jews, exactly like the Muslims, profess that Muhammad (PBUH) is the Rasūl of Allah but continue following their own religion, then according to Maulana Azad, the purpose of Islam is fulfilled.

This misunderstanding is based on the premise that the meanings of the conviction (Īmān) in Muhammad (PBUH), to these fellows, is simply to accept that he (PBUH) was a Messenger from Allah and nothing else. It does not accomplish the condition mentioned in article two above. With categorical Qur’ānic injunctions this condition has clarified that, when the word conviction (Īmān) is used about the earlier Anbiya and the last Messenger (PBUH)   -(or the previous Divine Books or the Qur’ān)  – there would be a basic difference in its Qur’ānic meanings. In other words it means that after coming over of a new Messenger (PBUH), or a new Divine Book, the meaning of having conviction (Īmān) in the previous Anbiya and the previous Divine Books would simply be that the previous Nabi or the previous Divine Book was from Allah. And having conviction (Īmān) in the new Nabi and the new Divine Book would be to accept that this new Nabi and the new Divine Book are from Allah and be followed in letter and spirit. It is just like the coming of a new Vice Roy that his predecessor was simply accepted as a king, his successor at his own time, but obeisance would definitely be of the orders given through this new Vice Roy. Therefore, when the Muslims say they have conviction (Īmān) in all the previous Anbiya, it means that they accept this reality that they (Peace be upon them) were the torch-bearers of the Divine message on their own time and were hence worthy of being followed potentially. But after the coming over of the last Messenger (PBUH), obeisance remained simply to the Qur’ān alone. That is why all the Truths of the previous Divine Books were included in it and some new injunctions commensurate with the needs of the time have also been added to it. Therefore, the meanings of making distinction amongst the various Rusul does not connote to acknowledge verbally that the previous Anbiya inclusive of the last Messenger (PBUH) were the Messengers of Allah. On the contrary, its meanings are that the obeisance is only and only to the Last Divine Book along with the admittance of the Messengerhood of all the previous Anbiya. If the acknowledgement of the Messengerhood of the last Nabi is verbal and obeisance is to one’s own religions individually, then it is not the Qur’ānic conviction (Īmān) in the real sense. It is infidelity. On this count the Qur’ān says:

O mankind! Now that a Rusūl (Messenger) has come to you bearing truth from your Rabb, have conviction (Īmān) in him; it will be good for you. But if you do not have conviction (Īmān), mark that no harm will be done to Allah. The entire universe is busy in carrying out Allah’s plan, which is based on knowledge and wisdom (4: 170).

Just pause and reflect over this reality that a person accepts that Muhammad (PBUH), the last Messenger, was a righteous and truth-speaking man. He (PBUH) was the true Messenger from Allah. But he acts according to the matters that are being inherited from his forefathers and are attributed to some previous Rusul, then stand for a while and just think: what is the meaning of his verbal acknowledgement and conviction (Īmān)? In other words he accepts that the Qur’ān was revealed to Muhammad (PBUH), the last Messenger, and that this is written in the Qur’ān that Divine Guidance and Direction can be obtained by following the Qur’ān but he seeks other ways and means for obeisance and obedience. Its logical conclusion is that he does not accept Muhammad (PBUH) as the last Messenger and the Qur’ān as the Divine Book of Allah. Had he accepted it as such, why had he not followed it?

Brahma-social (Brahma-Samāji) Conduct

Those who talk of such type of “tolerance” and “broad-mindedness” are either soaked with self-deception or deceive others. And those Muslims who assure them that, from the Qur’ānic point of view, there is possibility that Muhammad (PBUH) be accepted as the true Messenger of Allah, but obeisance be made to some other religion. This confirms their deception. A Brahma-social sect is extant in India. Its beliefs are:

  1. Only one and one God be worshipped; no incarnate of God be accepted; idol-worshipping be opposed
  2. Nature be accepted as the basic principle of the religious beliefs
  3. Ones religious beliefs be not based on any conspicuous book, but the veracity and truthfulness of every Divine Book be accepted
  4. The true principles of every religion be accepted as the belief-principles
  5. Belief be not based on rituals, traditions, and conventions; the true purpose be for the cleanliness of the heart

(Consult Encyclopedia of Britannica and Encyclopedia of Religion and Ethics)

These beliefs make it clear that all the aspects of “tolerance” and “broad-mindedness” have been included in this teaching. But who can deny this truth that in spite of it, all the followers of this Brahma-social sect are nothing but Hindu and Hindu alone. We need not to have doubt on their intention. All that is to be said is that to these believers, the meaning of accepting “the truthfulness and veracity” of any Divine Book is only to acknowledge it verbally that “it is a true Book”; obeisance is not included in their conviction (Īmān). From the Qur’ānic point of view, they are committing an open mistake. Since they have no teaching of the Qur’ān before them, therefore, this belief of theirs is not much worthy of any attention. But what would be said of him, who claims to have the teachings of the Qur’ān before him, yet corroborates this belief? The Qur’ān openly says that:

(O Muhammad) Say: O mankind, I am Allah’s Rasūl sent to all of you – the Rasūl of that Allah whose dominion encompasses the entire universe, which is under His sole authority. Allah gives life and causes death according to His Law of Muk’afāt (i.e., the Law of Requital). Therefore, have conviction (Īmān) in Him and in His Rasūl   – the Ummi Nabi, who also has conviction (Īmān) in Allah and His revelation. Follow him so that you may be guided aright (7: 156).

Hence no one can be true of one’s claim that one accepts Muhammad (PBUH) as the true Messenger of Allah and the Qur’ān as the true Divine Book unless and until one follows the Qur’ān.  And this address is to the entire humanity   -not to any specific sect or group of people.

Now come to the article three i.e., is the following of the injunctions of the Divine Book necessary? Or is simply “God-worshipping and righteous living” on ones own whims and wishes necessary for salvation and progress? To answer these questions, just recast your view on the theory of Maulana Azad. He writes:

“d. The Qur’ān came to distinguish religion from its outward observance. The former is called Deen and the latter Shar’a and Minhaj. Deen was but one and the same everywhere and at all times and was vouchsafed to one and all without discrimination. In respect of the outward observance of Deen, there was variation and this was inevitable. It varied from time to time and from people to people, as seemed pertinent to every situation. Variations of this nature could not alter the character of Deen of the basis of religion. That was the truth, which the Qur’ān aimed to emphasize. Its complaint was that Deen had been neglected and the variation in Shar’a and Minhaj or the outward form of observance idealized and made the basis of mutual differences among mankind.

“e. It stated that groupism would not lead to progress or bring salvation to man . . ..”

{Tarjuman al-Qur’ān Vol. 1, pp. 162-163 (1947 Edition, pp. 213-214)}

{This translation is taken from: Maulana Abul Kalam Azad: Tarjuman al-Qur’an. Dr. Syed Abdul Latif (edited and rendered into English), Vol. 1, Surah-Al-Fatiha, Kazi Publications, Lahore, P. 52}

Along with these excerpts, consult his following explanatory note of Sura Baqara’s verse 172 given in his exegesis:

5. This proclamation of the grand fountain spring of the true Deen   -that the salvation and progress does not lie in any characteristic form of pray or any particular restriction in any of the edible things or any other such form   -is achievable through true God-worship and righteous living.

(Page 229: for detail, please, consult the original exegesis)

These were the very quotations, which Pundit Sunderlalji had given in his presidential address. And had proved that a Hindu, who is punctual in the Sharia of his own religion, on his own ways and methods, is entitled to salvation as is a Muslim on the basis of following the Qur’ānic jurisprudence. It is because the emphasis on God-worship and righteous living is equally extant in all the religions and that is the real Deen.

Before looking to the importance the Qur’ān attaches to Shar’a and Minhaj or the outward form of observance idealized, it is necessary to evaluate the theory of Maulana Azad with which he has inflicted a fatal blow to the very roots of Islam. Acceptance to his theory uproots the very essence of the tree of Islam. According to the teachings of the Qur’ān, before the coming over of the last Messenger, Hazrat Muhammad (PBUH), all the earlier Anbiya were sent to some one or the other particular nation, and their message remained enforced for a particular interval of time. In other words, the circle of their Messengerhood remained limited to a particular span of time and space, so the injunctions enforced through them were given to a particular nation they were sent to for a particular time. The coming over of Hazrat Muhammad (PBUH) changed the entire system.

The Qur’ān is Universal

The annunciation of Hazrat Muhammad (PBUH) was not confined to any specific nation, country, tribe, clan, or time. His message was universal in nature and was addressed to the entire humanity. The entire teachings of the Qur’ān stand witness to this stark fact. The circle of influence of his Messengerhood was not restricted to any specified area of space or interval of time. It was for all the times to come, for all the countries of the world, for all the people to the last syllable of the recorded time, the Day of Judgment. His Messengerhood was equally for all the people of the entire world. That is why all the jurisprudential injunctions enshrined in the Qur’ān have not been devised for any particular nation under particular conditions; these are universal in nature and scope. If it is accepted that all these Jurisprudential Injunctions of the Qur’ān were enforceable in the particular conditions and circumstances of the people of Arabia, Islam’s claim of universality automatically drops to falsehood. In this state of affairs the Injunctions of Islam can neither remain enforced on all times, nor can any nation be compelled to act upon them. Therefore to lay emphasis on these Qur’ānic Jurisprudential Injunctions, simply because it was necessary to prescribe the Injunctions and functions that suit the genesis of the changing conditions of every nation on every time, is an open rebuttal to the Islam’s assertion of its universality.  Islam is the Deen of the entire humanity and its Laws and Principles have not been devised to suit any particular nation for any specific time.

We accept that mechanical performance of the religious outward forms idealized is not the following of the injunctions from within. These outward forms of observance are just like the body that compulsorily requires the presence of soul in it. But it does not mean that the Qur’ānic Injunctions were executed only to suit the circumstances of life, during the period of Hazrat Muhammad (PBUH), and these injunctions merit no significance today, have no role to play for the salvation and progress of any nation. Had there been some ignorant, we would have made him understand the factual position. We are wonder struck how a prudent like Maulana Azad be prevailed upon to understand that Islam is a system and a part of it influences the entire system! The Qur’ānic Injunctions are the integral part of this Islamic system. No man of the world has any right to make any kind of change in it. Or along with the claim of Islam, no man is able to declare it lawful that “salvation and progress” can also be achieved with other means and way than those actions and injunctions enshrined in the Qur’ān. “Salvation and progress” is the natural consequence of Islamic system. Bring changes, even in minor details of this system, this result would automatically run a change. When the Qur’ān says that no Deen other than Islam is acceptable to Allah, it means Islamic system and not the ambiguous and undefined words of “God-worship and righteous living”. Consult the Qur’ān and find how much importance has been assigned to “the boundaries” of these injunctions.

Obeisance of the Revelation
As has been written in the previous paragraphs that the Ahl-e-Kitab used to accept God and perform good deeds. Even then, the Muslims (under special circumstances) were ordered to wage war against infidels and polytheists (mushrikeen). At the time of this order a charge sheet was levied against the Ahl-e-Kitab. Examine closely and critically the way this order was given to the Muslims in the Qur’ān:

In addition to polytheists (mushrikeen), there are Ahl-e-Kitab, who oppose the Divine Order in like manner. They do not truly have conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter. Nor do they consider Harām (unlawful) the things that Allah and the Messenger (PBUH) term Harām (unlawful). They live within the boundaries of the Islamic system as non-Muslims and enjoy full human rights but do not adhere to the laws, which apply to them. There is, therefore, no alternative but to fight with them until they surrender and agree to pay “a compensation for the protection afforded” (Jizya) with a willing hand after having been subdued in the war (9: 29).

This grand verse of the Qur’ān makes the following matters clear:

  1. Whereas the Ahl-e-Kitab claimed (and are still claiming) to believe in God and the life hereafter, but the Qur’ān does not term this belief as having the conviction (Īmān), so  – as has been written in Article one above – “according to the Qur’ān the true belief is the one that corroborates the way the Qur’ān has given”;
  2. The result of having conviction (Īmān) of the Ahl-e-Kitab, in such a way, is that they do not take into consideration the limits the Qur’ān has imposed on Halāl (lawful) and Harām (unlawful). This makes it clear that Islam (by self-conjecturing) is not merely the name of “God-worshipping and righteous living”; on the contrary, acting upon the Qur’ānic Jurisprudential Injunctions is also compulsory;
  3. In the third part of the verse mentioned above (i.e., they do not adhere to the laws of the true Deen, the Divine Order), this matter has been described clearly that their “God-worshipping” on their own ways and means carries no meaning at all. Accepting Deen, the Divine Order, is absolutely compulsory for them. The Deen-ul-Haqq, the Divine Order, is the name of the System, which was sent to the world through the agency of the last Messenger, Hazrat Muhammad (PBUH). Wherever these words (i.e., Deen-ul-Haqq) have been used in the Qur’ān, have been used for this Deen alone. (For this purpose, please consult these verses of the Qur’ān   – 9: 29; 48: 28; 61: 9).

The meaning of the aforementioned verse is quite clear. Since this reality was against his concept, Maulana Azad inserted an addition (within brackets) in his translation of the same verse and thus changed its sense all together. His translation of this verse is:

Amongst the Ahl-e-Kitab are the people whose condition is that neither do they have (true) belief in God, nor in the life hereafter. Nor do they consider the things Harām (unlawful), which Allah and His Rasūl   -(in their book)   -has called Harām (unlawful), and nor do they act upon the true Deen …  (Tarjman-ul- Qur’ān, P.82)

Just think: by the addition of a few words (within brackets) in his translation, what a twist had been given to the matter. This is what the Qur’ān says: “These people do not consider the things Harām (unlawful), which Allah and His Rasūl has termed Harām (unlawful).” In other words, the things, which are termed Harām (unlawful) in the Qur’ān, these people do not consider them Harām (unlawful). But Maulana Azad has said: “The things, which Allah and His Rasūl   -(in their book)   -has called Harām (unlawful).” In this way he has tried to prove that the Qur’ān wants to make the people understand that the people may consider the things Harām (unlawful), which have been termed Harām (unlawful) in their books. Just imagine what a great addition has been made in the teachings of the Qur’ān! And what a dauntless daring is it in this addition? This is the technique of the exegesis through which these fellows make an unsuccessful trial to prove their ideas as the ideas of the Qur’ān. And are never afraid how bold is their daring!

The gist of whatever has been written in the aforementioned pages is that:

  1. According to the Qur’ān, there are five elements of having conviction (Īmān). There is either a mention of any one element or more than one in some place or places in the Qur’ān. But the Qur’ān means all these five elements. Refusal of even any one of these elements is infidelity (Kufr).
  2. Out of these five elements of conviction (Īmān), the conviction (Īmān) in the Messengerhood of Hazrat Muhammad (PBUH) and also in the Qur’ān revealed from Allah is an integral part.
  3. Having conviction (Īmān) does not mean simply accepting; but along with it, it is also the following of these elements.
  4. The obeisance to every Rasūl and every Divine Book was compulsory at their own time but after the annunciation of Hazrat Muhammad (PBUH), the obeisance would be to the last Book of Allah, the Qur’ān, and not of the previous Books.

The Jurisprudential Injunctions of the Qur’ān are the compulsory parts of Islamic system and the following of these Injunctions is a must.

Now, keeping these illustrations in view, understand the meaning of this verse, which is the strong hold of the supporters of this new idea (that ‘All religions are one and the same’). The Qur’ān says:

Those from amongst the Jews, Christians, Sabaeans, and those who have conviction (Īmān) in Allah without formally adopting any particular religion; and those who are Muslims only by virtue of being born in a Muslim family: who have conviction in Allah’s law of Mukafât (Requital), as revealed to you O Rasūl and leads his life accordingly, will be duly compensated. Such a person will lead a life of heavenly bliss, free of fear, grief, and anxiety (2: 62).

A Significant Verse

The conclusion drawn from this verse is that the Jews, Christians and Sabaeans are claimed to have conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter only. There is no claim of having conviction (Īmān) in the Qur’ān.

Whatever we have written up till now, will create no difficulty in understanding this verse. The first thing is that “to have conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter” is not the end in itself. It includes all the five elements of conviction (Īmān). Wherever having conviction (Īmān) is reiterated in the Qur’ān, it is for the complete conviction (Īmān)   -not for a part or parts. The Qur’ān is very much explicit for this complete conviction (Īmān) and says:

If these people have conviction (Īmān) in it like the manner you have, then they will also be following the right path (2: 137).

The second thing is that, if the claim is merely of the conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter, this verse also mentions of Jews and Christians in addition to the mention of the Muslims themselves. The question is: “Have the Muslims been given the same claim that they too have to have conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter?” If they have to have this same claim, then it is not understandable as to whom the claim is for having conviction in the Qur’ān.

The meaning of this verse is self-explanatory. Before the advent of Islam, the people had confined religion within the folds of (races and nations). For example, Torah is for the nation of Banī Isrā’īl (for Jews) and Christianity too. It was because, in Injīl (New Testament), this saying is attributed to Jesus (AS) that “I have come to the lost sheep of Banī Isrā’īl; the bread of the sons can not be thrown to the dogs.” The division of men in Hinduism is based on “races by birth”. And the condition of “races by birth” is that neither the Hindu of a lower race can move up to be the Hindu of a higher race, nor is there any way open to reach the proximity (nearness) of God. This was also included in the religious beliefs that a person born in the clan of Jews deserves for salvation, being one of the sons of Allah. Hazrat Jesus (AS) becomes responsible for the salvation of the child born in the family of a Christian. In other words, there was a belief in the religions of the world that:

  1. One gets salvation on the basis of one’s birth, within the fold of a sect of a specific family, and
  2. All the doors of salvation are closed to the men born in other sects, because one can not join that sect (The entry into the sects is by birth, not by choice). (Be it known that there is no concept of any preaching in Hindus and Jews; even the concept of preaching came late in Christians.)

When the Qur’ān came, it boldly refuted these concepts. It openly declared that salvation and progress has nothing to do with birth. Wherever one is born (whether in Jews, Christians, or Sabaeans etc.) can openly join the fold of Islam by having conviction (Īmān) and can deserve to have paradisal life with good deeds. The Qur’ān says that:

Whosoever have conviction (Īmān) in Allah and His Rasūl {i.e., Allah’s law of Mukafāt (Requital), as revealed to you O Rasūl} and lead their life accordingly, will be duly compensated. Such persons will lead a life of heavenly bliss, free of fear, grief, and anxiety (2: 62).

So far are the Muslims, they should, too, not remain brewed in the false conceit that they will have their entitlement for salvation only because they are born in the Muslim family. Proving their conviction (Īmān) through their good deeds, they will have to be eligible for a life of heavenly bliss. This claim of having conviction (Īmān) from the Muslims is not specifically at this place, there are other verses where this claim has also been reiterated. For example, in Sura An-Nisa, the Qur’ān says that:

O you who profess to have conviction (Īmān) hold fast unto your conviction (Īmān) in Allah, His Rasūl, the Book, which He sent to this Rasūl and those, which He had sent earlier. (4: 136)

In Sura At-Tauba, this reality of having conviction (Īmān) has also been made explicitly clear. There were people amongst the Muslims whose conviction (Īmān) was merely verbal in nature and scope; its fountain spring never sprang from the core of their hearts. And nor were their good deeds worthy to prove it. (They have been called hypocrites i.e., munafiqeen). In the other spheres of life, this veiled attitude and conduct of life could be lived by one way or the other. The field of fighting in the way of Allah (Jihad) was the greatest pragmatic test of their conviction (Īmān). These people used to try to escape from such occasions with their hither-and-thither type of lame excuses. It is evident that these people were Muslims, just in the terminological jargon. In comparison to those who used to prove their conviction (Īmān) in the most difficult vicissitudes of life, their professing of the conviction (Īmān) was just verbal in nature and scope. For each of these two groups of the people, the Qur’ān has said:

The truth is that those who truly have conviction (Īmān) in Allah and in the life hereafter will never ask to be exempted from fighting with their possessions and live in the cause of Allah. Allah knows well about the muttaqeen. Exemption is sought only by those who do not truly have conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter, whose hearts are filled with doubt, which makes them hesitant to act  (9: 44-45).

This verse of the Qur’ān has made the following matters clear to the mind:

  1. It is evident that those-holding-fast-the conviction (i.e., the true Muslims), who used to participate in fighting with their possessions, had conviction (Īmān) in Malā’ikah (the forces of nature), the Divine Books, and the Rusul in addition to their conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter. But here, in this verse of the Qur’ān, the mention of their conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter has only been thought to be enough.
  2. The hypocrites (i.e., munafiqeen) were those people who verbally professed all the elements of conviction (Īmān), were called Muslims, and lived their social life with them. The Qur’ān does not accept their conviction (Īmān) and makes proclamation in unambiguous terms that these are the people who had no conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter.
  3. Therefore, when the Muslims will be told to have conviction (Īmān) in Allah and the life hereafter, and do the good deeds, it would mean that their being a Muslim by birth or merely professing the conviction (Īmān) verbally is not enough. Conviction (Īmān) ought to be from the core of one’s heart and the actions of life should authenticate it. According to the Qur’ān, the true mu’mineen are:

The mu’mineen are those who have conviction (Īmān) in Allah and His Rasūl, then they have no speck of any doubt (in this conviction (Īmān)); in the cause of Allah, they fight with their possessions: the goods and the breath of life. These are the people who are the true (Muslims) (49: 15).

These illustrations make it clear that there are trying conditions for a Muslim to clinch “salvation and progress”. He should have conviction (Īmān) of the measure, the Qur’ān has prescribed. He should seek decision from the same measure “enshrine in the Qur’ān ” in every walk of life and then continue accepting these decisions from the core of his heart. He should impose restrictions of Halāl (lawful) and Harām (unlawful) on himself, and then should keep his utmost dear possessions, like his goods and breath of life, ready to lay down in the cause of Allah. In other words he should, at every time, imagine himself in the field of martyrdom. It is then that he should expect “salvation and progress”.

Contrary to it, the only compulsory thing for a non-Muslim (such as a Hindu) is to get up in the morning, do “service to God” according to the conventional methods in vogue, and give charity at times. The examples of such “services to God” are to feed grain to the sparrows, to buy fodder for the bull, to pour flour on the abode of the insects. Just-an-advance-ahead-to-it, are the examples of ‘getting the free wayside stall or tub for drinking water built some where, if capable, got the well dug, inn or hospital constructed’. Such-and-the-like are the forms of charity. Other than these forms, there was no need of imposing any conspicuous restrictions on oneself. Neither were the difficult stages of Islamic Injunctions necessary to be traversed, or the troubles of migration to be imperatively overcome, nor the head to be sacrificed in the cause of Allah.

(On the contrary, the concept of fighting in the cause of Allah – Jihad – is a sin in Hinduism, it is against ahimsa i.e., non-violence movement.) On the other hand, it is necessary for a Muslim to lead life according to the dictates of System that Allah has prescribed in the Qur’ān, whereas a non-Muslim is completely free to devise a system he likes for him and lead the life in the system he desires. There is no binding of any Divine System and man-made system for him. All he has to do is what has been mentioned above. He will be entitled for salvation.

Now just pause and think! When the end of all the struggles and strides of human life is nothing but the achievement of salvation, then who will be the “normal” person that will accept this utmost tremendous way of living, where he has to pass through trying circumstance at every breath? Why should he not go for adopting such an easy mode of living in stead of running for surmounting the baneful and trying stages of life to clamp the achievement of salvation? Had the achievement of salvation been clamped as such, what was the need of providing detailed guidance and injunctions in the Qur’ān? All that was necessary for this purpose was: “O people, accept the existence of God, and continuously go on doing righteous deeds on the pattern of your own ways and means; salvation for you is definite.” Had such a mode of “total reconciliation” of “tolerance and broad-mindedness” been practiced, there would have been no confrontation from anywhere, nor had there been any hue and cry against it. Nor had the last Messenger, Hazrat Muhammad (PBUH) and his followers been tramped in such trouble and trepidation, nor had they to migrate to Madina from Mecca for living the life of such a series of wars against infidels (Kāfirs). The entire world would have mired in happiness and the men had the easiest way of achieving salvation and progress. And then the continuous confrontation between the truth and the falsehood had ended forever. The total world (except some atheists, who refuse the existence of God) would have been mu’min. There would have been no bickering, wrangling, and fighting between Islam and infidelity, and truth and falsehood.

God-worshipping and Righteous Living

Hearts, pay attention to the use of ambiguous words of “God-worshipping and Righteous Living” once again. The salient questions are:

What is called this ‘God-worshipping’?

What is ‘Righteous Living’?

Is the answer to these two questions this that it is the way of worshipping God in the manner one likes? And Right Living adopting a way one desires good and abstaining from the mode one considers bad on one’s own?

It is a fact that some words (or religious terms) are in use among the Muslims. These words and terms do not depict the Islamic meanings for which they were opted in the beginning. Not only this that these words do not reflect the true teachings of Islam, but some time they project such meanings that are, in real sense, diametrically opposite to the true spirit of Islam. “Worship” is one of the categories of such a band of words. In other religions, the relation of man and God is represented with “adoration and worship”, but in Islam, the word used for it is “aboodiyat” (obeisance), which is different from worship in meanings. Ignoring this very difference generates the entire body of misunderstandings that leads to the concept of “uniformity of religions”.

The concept of supreme body has incessantly been coming down since the beginning of man on this earth. When the humanity was at its infantile period, the man had individual pattern of living. He was weak and defenseless against the powerful beasts that roamed about him. He used to live in jungles, ravines and caves. Fruit and prey were the main sources of his living. No man had any individual relation with any other man. In this mode of living, the relation of “God” with man was no more than the man’s prostrating before Him at the eve of any affliction, calamity, disaster, misfortune, or trouble and of dancing at the moments of mirth and happiness as if it is festivity rejoicing. “God” was either in the garb of deity, gods, goddesses, or in the form of idols. The utmost endeavour of man was to keep these deities happy. The name of the outward manifestation of this struggle was “worship”. During this period, whenever the light of the Divine Revelation came, it shredded away the wrong veils of the man-made concepts, and gave the true concept of God. When this light was lost, the same darkness of ignorance prevailed upon the human universe.

Slowly but gradually the humanity passed through some higher evolutionary stages of life. He could survive only through some form of group life. A band of men could survive under conditions in which a single individual had no chance, so early men naturally lived in groups. Some form of social organization is necessary for group life Thus he laid the foundation of gregarious life. The first social ties came from blood relationship. Now the tendency diverted from individual mode of living to tribal form of life. The men started establishing succour and co-operation among one another. The various forms of participatory actions started burgeoning. This stemmed the issues of mutual rights and their preservation. For prescribing correct dimensions to the issues of mutual rights and their preservation, Divine Injunctions also started coming through the agency of Messengerhood. It is evident that whatever were the mores and cores of human life, injunctions of the like manner were ordained. The time marched ahead. The urges of life passed through the process of progress and change. The Divine series of the injunctions also continued a forward march to commensurate the process of permanence and change in life. According to these Divine orders, the relation of the head and the subordinate and of the ruler and the ruled surfaced between God and man. Since the Divine Guidance did not remain preserved with the man for a longer period, the essence of the Divine Injunctions was mutilated. The concept of the ruler and the ruled about God was also lost and then the same old concept of worship used to prevail. This state of affairs continued as such till the men started collective life in stead of living individually and, thereafter, the end of their total efforts transformed into the formulation of collectivity in life.

Now was the time that they could be given a perfect Code of life, comprising constitutional paradigms and laws for the most complete form of the collective system of life. This Code was finally given to the humanity. This Code made it clear that all the man-made constitutional rules and regulations for this collective system of life will hamper the process of development of the humanity. It also made it crystal clear that the human development can only take place with this Code of life that God has showered for this purpose. This Code of life is called the Qur’ān.

This Code if life told clearly that the duty of every one having conviction (Īmān) in Allah is to try to implement God-gifted System instead of executing man-made systems of life, whether this man-made system is made of a single individual or of a group of people. In other words it means that the rule is of God instead of men. And thus the man is not a servant of any one else except that of Allah. This is the right relation between man and God. In other words this is the relation of subordinate with the head, and of the ruled with the ruler. This is covered with the concept of “Aboodiyat” (obeisance), which means “to put forth one’s all-efforts in accord with the needs of the Divine Order.”

By now you would have seen that the word “worship” does not absolutely convey the Qur’ānic meanings of the relation between God and man. Not only this that it does not communicate these meanings, it generates all together those different meanings, which were the product of the infantile period of the humanity and depict a memorable period of his individual mode of living. Within the umbrella of these meanings, the concept of “God-worship” is uniformly similar in every religion. But God’s “aboodiyat” (obeisance) can only be accomplished when one lives within the parameters of Islam. Therefore, the Divine Code under which God’s rule can be established is never found anywhere else than the shrines of the Qur’ān. The demand of Islam is to establish Divine System   -and not the worship of God.

The Right Meanings of Conviction (Īman)

Hence, the meanings of having conviction (Īman) in Allah are: “I solemnly declare that I do not follow the Sovereignty of any one else except that of Allah’s.” The remaining four integral parts of conviction (Īman) are the branches of this fountain spring. In other words it means that:

1. Solemn declaration of following the Sovereignty of God:

Conviction in Allah

2. This Sovereignty can be exercised through the Code that is God-revealed and is enshrined in the Qur’ān in its last and final form:

Conviction in Books

3, 4. These Codes were revealed to Anbiya through Malā’ikah, and the last and final of this continuity is Hazrat Muhammad (PBUH):

Conviction in Malā’ikah and Rusul

5. The natural consequence of this mode of life is exaltation in this world and eminence in the life hereafter:

Conviction in the Life Hereafter

This is what the Qur’ānic meanings are. Whether mention is made of all of these integral parts of conviction (Īman) or of any one, the purpose encompasses the entire System.

Now is the concept of “righteous living”. After understanding the essence of Islam, its definition is no more difficult. Every step that is taken for establishing Divine Order in the world is a good step and the one taken against it is bad. To the man in his initial stages of life, the meaning of conviction (Īmān) in Allah was simply the worship of God; similarly his concept of ‘good’ was also at the low ebb of its initial stage. The mode of living was individual at that time, so ‘good’ and ‘bad’ was the name of individual actions. For example, if he saw a man showing sympathy with the men running fever, helping the old, loving the animal etc. he thought him a pious man. And it is a fact that such can be ‘the good actions’ in individual life. But in the collective life, the standard of the concept of good and bad becomes higher than that. At this point what is to be seen is:

  • What are the basics of the culture and civilization of a nation?
  • What type of system of life does the nation suggest for its men?
  • What are the effects of that culture and civilization on the world?

If its implications are humanity bruising, the personal ‘good’ of the individuals of that nation (such as charity etc.) weigh nothing in the scale of humanity. So far as the people of that system remain supporting, helping, favouring, and co-operating with it, no action of theirs will be a virtuous action. Applying leeches to some one’s jugular vein for sucking even the last drop of blood in him and then finding that he has fits of weakness, supply syrup to his throat for cure, can only be a virtuous action to the superfluous mind alone. The Qur’ān imparts education for the establishment of the system of justice, which means the preservation of the benefit of the entire humanity. The name of this system is the Rule of God.

A person is a philanthropist; he participates in virtuous works, helps the poor and has very fine conduct and disposition but does not accept the government of his time, or remains busy to establish some other government in its stead. This is such a severe crime in the eyes of the government that his “personal virtues” carry no weight for the government. And if this crime is proved against him, he will be given the most rigorous punishment.

The name of leading life under the rule of God is conviction (Īman) and the life opposed to it is infidelity (Kufr). Please judge yourself “What weight can the personal virtues have in the Divine Scale?” These are the people for whom the Qur’ān has explicitly clear verdict:

These are the people whose actions are rendered waste (2:217).

In other words it means that the action they think virtuous on their own whims, are not virtuous in the real sense; hence have no result. Go on taking pieces of chalk with the understanding that it is quinine, malaria will never be cured. In this regard, the Qur’ān says:

The deeds of those who reject the guidance of this Divine Light, are like a mirage in a desert; whereby a man parched with thirst mistakes it for water and on reaching there finds that it was nothing but a visual delusion. At that point one does find one thing at least: that Allah’s Law of Mukafāt is (always) present with him and that it settles all scores forthwith; for Allah is swift in reckoning.

(In contrast to the Divine Light) The similitude of their deeds is the depth of darkness in a vast and deep ocean that is further darkened by waves billowing over waves and the dark clouds above. These will be such depths of darkness, layer upon layer, that one can even hardly see his outstretched hand; for how can he get any light from anywhere else when Allah’s Light (of Revelation) is not available? (24: 39-40)

Therefore, these people consider system of life quite different from the actions of life and forget that only those actions bear fruit that are carried out within the boundary walls of a right system. Extra systematic individual actions carry no weight. Please study third Rūkoo of Sura At-Tauba of the Qur’ān. In what a fascinating way this reality has been made clear! Making this idea clear, it was said:

It is true that the mushrikeen (hypocrite) used to provide drink to the pilgrims and maintain the sacred Mosque (Ka’ba) but can they be placed equal to those who have conviction (Īman) in Allah and the life hereafter (Divine Order)? They can not be regarded as equal in the estimation of Allah. The z’alimeen can in no way be considered as following the right path (9:19).

At various places, the illustrations of these matters are extant in the Qur’ān. This would have made it clear to you as to what the righteous living is in the scale of the Qur’ān.

Keep these illustrations in view. And then pause and reflect that this theory    -that there is no need of any conspicuous system of life for salvation and progress, and that “God-worshipping and righteous living” are equally in extant in every religion in principle   -is enough for salvation.” How much against the teaching of the Qur’ān this theory is! Be it known that this assertion   -that Islam enjoys superiority and preference over the religions of the world   -can not become the root cause for creating enmity against any religion. Islam does not teach enmity just over the difference in religions. It is the messenger of peace and solidarity. The proclamation of this assertion and its preaching is the well being and the sympathy of the humans. It is as if you say to a patient: “My brother, your disease will not be cured with irregular treatments; consult so and so a doctor for it; he is the only expert of these diseases and he is the only one to give you the right prescription.” This suggestion is no enmity to the patient. On the contrary, it is based on love. The enmity will be from the side who says: “No, brother, it is not.  All the medical clinics are one and the same. Get the prescription for treatment from anywhere you like and buy the medicine.” Though the proprietor of the medical clinics had announced: “Now the right prescriptions will be available from such and such medical clinics. (The other clinics cheat on our name.) ” Now telling that every medical clinic is one and the same is falsification of this announcement and an open enmity to the patient. That is why it has been said in the Qur’ān:

In these also there are signs for those who use their reason (16: 12).

Islam is a Deen

In this discourse, the word religion has been used for Islam. As has been written earlier, Islam in real sense is not religion; it is Deen. Therefore, comparing and contrasting of Islam with religions of the world is wrong. When it is not a religion, how valid is the comparison with the religions? It is Deen and the meaning of Deen is the system of life; so if Islam is to be compared, it should be with the other life systems of the world.

The basic mistake of Maulana Abul Kalam Azad and others following him is that they also understand Islam to be a religion. When it is understood to be a religion, then definitely there remains no difference between Islam and other religions. In this case, the effort of proving Islam’s superiority over other religions is useless. When the end is worshipping alone, then it be in the temple or the mosque, it makes no difference. When the purpose is pilgrimage to Hindu shrine, then it be to Hindu god or to Mecca is of the same caliber. When the end product is charity, then giving alms to some one is no different to giving zakat. With this concept, “God-worshipping and righteous living” remains almost the same everywhere.

On the contrary, the-condition-of-“God-worshipping”-for-it is also meaningless. The code of ethics (for example speak the truth; do not tell a lie; do no steal; do not eat unlawful; do not rape) is one and the same everywhere; even the atheists understand that these ethical rules are good in nature. In this regard, even the “God-worshipping” does remain no more necessary. The name of these ethical regulations is adjudicated to be “true Deen”. Since this belief is running long among the Muslims that Islam is also a true religion, they also hold the relation of worship with God. And the righteous living is the name of the few ethical regulations: some beliefs, some fundamental forms of pray and the ethical mores and cores that are equally found everywhere. Only this collection is termed as Islam and nothing else.

There is no difference between this form of Islam and the other religions. Maulana Abul Kalam Azad held the same concept of Islam, so his deduction per se   -that there is no difference between Islam and other religions   – is also right. The only difference between him and the other Maulvis is that he announced it openly whereas the others had no such daring; otherwise every Maulvi holds the same belief, whether he is vocal or not. Or you may say that this is the necessary result of the belief, which Maulana Abul Kalam Azad has announced.

But when it is understood that Islam is not a religion, it is a system of life, then the edifice raised on this foundation is different from the one that Maulana Abul Kalam Azad represents. It is evident that every system of life has its own specific exigencies. Till the minds are prepared for it, such a system can not be established. Conviction (Īman) is that conspicuous mentality on the basis of which the edifice of that system is raised. According to the Qur’ān: “Only one and the one alone is the system of life for all the human beings.” Hence one and the one alone is the mode of conviction (Īman). According to this Qur’ānic concept of Islam there is no such question that this system is one and the same for every nation and every religion. This system is no where except in the Qur’ān, so the question of its comparison does never arise.

This is the very basic mistake, which raised the entire edifice of Brahma-social exegesis of Maulana Abul Kalam Azad.


 

1,092 total views, no views today

(Visited 103 times, 1 visits today)

2015 روئیداد سالانہ کنونشن ادارہ طلوعِ اِسلام – Idara Tolu-e-Islam Convention 2015

1,011 total views, no views today

(Visited 289 times, 1 visits today)