نماز کی اہمیت – پرویز

طلوع اسلام کے خلاف مسلسل ہونے والے منفی پروپیگنڈا کے زیر اثر ہمارے نئے قارئین کی طرف سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ طلوع اسلام یا پرویز صاحب کا نماز سے متعلق نظریہ کیا تھا؟ سو ان احباب کے استفادہ کے لئے نماز سے متعلق پرویز علیہ الرحمتہ کی وہ تحریریں جو طلوع اسلام کے مختلف پرانے شماروں اور کتابوں میں شامل ہیں‘ ان کو یکجا کر کے شائع کیا جا رہا ہے۔ امید ہے آپ اس کاوش کو مفید پائیں گے۔

***

ایک صاحب نے مجھ سے حسب ذیل سوالات دریافت کئے ہیں۔
(1) آپ کہتے ہیں کہ اسلام قوانین خداوندی کا نام ہے۔ اس میں نماز کی اہمیت اور مقام کیا ہے؟
(2) نماز اور صلوٰۃ میں کیا فرق ہے۔ آپ نے کہیں اس کی صراحت کی ہے کہ صلوٰۃ سے مراد نماز ہے؟
(3) کیا آپ نماز کی موجودہ شکل کے علاوہ کوئی اور شکل تجویز کرتے ہیں؟

جواب

(1) اسلام نام ہے زندگی کے ہر شعبے میں احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کر دینے کا۔ ان کی پوری پوری اطاعت کرنے کا۔ نماز‘ اس طرح سر تسلیم خم کرنے کا عملی اعتراف اور محسوس مظاہرہ ہے۔ خدا کے سامنے سر جھکا دینے (سجدہ ریز ہو جانے) سے انسان اس امر کا اقرار (یا اظہار) کرتا ہے کہ وہ اپنے ہر ارادے‘ فیصلے اور عمل میں اس کے احکام کی اطاعت کرے گا۔ جس کا دل‘ جذبات فرماں پذیری اور اطاعت گزاری سے لبریز ہو‘ اس کا سر خود بخود خدا کے حضور جھک جائے گا اور جو خدا کے حضور سر جھکانے میں عار یا سبکی محسوس کرتا ہے وہ اس کی اطاعت کیا کرے گا؟ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ جو شخص زندگی کے مختلف شعبوں میں قوانین خداوندی سے سرکشی برتتا ہے‘ اس کا نماز میں رسمی طور پر سر جھکا دینا‘ مقصد صلوٰۃ کو پورا نہیں کر سکتا۔
(2) نماز فارسی (بلکہ پہلوی) زبان کا لفظ ہے جو اہل ایران کے قدیم طریق پرستش کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ بعد میں یہ لفظ‘ اجتماعات صلوٰۃ کے لئے استعمال کر لیا گیا اور اب ہمارے ہاں یہی لفظ مروج ہے (میں سمجھتا ہوں کہ جو اصطلاحات قرآن کریم نے مقرر کی ہیں انہیں اسی طرح استعمال کرنا زیادہ اچھا ہے) قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ آیا ہے جو معنوی اعتبار سے بڑا وسیع اور جامع ہے۔ اس کے بنیادی معنی کسی کا اتباع یا اطاعت و محکومیت اختیار کرنا ہیں۔ قرآن کریم نے اس لفظ کو نماز کے اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ لہٰذا جب ہم نماز کا لفظ بولیں گے تو اس کا مطلب صرف نماز ہو گا۔ لیکن جب صلوٰۃ کا لفظ استعمال کریں گے تو اس میں نماز بھی آجائے گی اور اس کے علاوہ اور مفہوم بھی۔ میں نے اکثر مقامات پر اس کی صراحت کر دی ہے کہ صلوٰۃ کا لفظ نماز کے اجتماعات کے لئے بھی قرآن کریم میں آیا ہے۔ مثلاً لغات القرآن میں لفظ صلوٰۃ (مادہ ص۔ل۔و (ی) کے تحت آپ کو یہ عبارت ملے گی۔
صلوٰۃ کے جو مختلف مفاہیم اوپر بیان ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ ایک عبد مومن‘ زندگی کے جس گوشے میں بھی قوانین خداوندی کے مطابق اپنے فرائض منصبی ادا کرتا ہے وہ فریضہ صلوٰۃ ہی کو ادا کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے لئے وقت‘ مقام یا شکل کا تعین ضروری نہیں۔ لیکن قرآن کریم میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں صلوٰۃ کا لفظ ایک خاص قسم کے عمل کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
اس کے بعد قرآن کریم کی وہ آیات دی گئی ہیں جن میں صلوٰۃ کا لفظ نماز کے لئے آیا ہے۔ اس کے بعد لکھا ہے۔
تصریحات بالا سے واضح ہے کہ قرآن کریم میں صلوٰۃ کا لفظ ان اجتماعات کے لئے بھی آیا ہے جنہیں عام طور پر نماز کے اجتماعات کہا جاتا ہے۔ (نماز کا لفظ عربی زبان کا نہیں پہلوی زبان کا ہے)۔

اس کے بعد ارکان صلوٰۃ کی اہمیت کے سلسلے میں لکھا ہے۔
انسان اپنے جذبات کا اظہار جسم کے اعضا کی محسوس حرکات سے بھی کرتا ہے اور یہ چیز اس میں ایسی راسخ ہو چکی ہے کہ اس سے یہ حرکات خود بخود سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ غم و غصہ‘ خوشی‘ تعجب‘ عزم و ارادہ‘ ہاں اور نہ‘ وغیرہ قسم کے جذبات اور فیصلوں کا اظہار‘ انسان کی طبیعی حرکات سے بلا ساختہ ہوتا رہتا ہے۔ یہی کیفیت جذبات عزت و احترام اور اطاعت و انقیاد کے اظہار کی ہے۔ تعظیم کے لئے انسان کا سر بلا اختیار نیچے جھک جاتا ہے۔ اطاعت کے لئے ’’سرتسلیم خم‘‘ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ قرآن کریم عمل کی روح اور حقیقت پر نگاہ رکھتا ہے اور محض (Formalism) کو کوئی وزن نہیں دیتا‘ لیکن جہاں کسی جذبہ کی روح اور حقیقت کے اظہار کے لئے (Form) کی ضرورت ہو‘ اس سے روکتا بھی نہیں۔ بشرطیکہ اس (Form) ہی کو مقصود بالذات نہ سمجھ لیا جائے۔ صلوٰۃ کے سلسلہ میں قیام و سجدہ وغیرہ کی جو عملی شکل ہمارے سامنے آتی ہے وہ اسی مقصد کے لئے ہے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ جب ان جذبات کا اظہار اجتماعی شکل میں ہو گا تو اظہار جذبات کی محسوس حرکات میں ہم آہنگی کا ہونا نہایت ضروری ہوتا ہے‘ ورنہ اجتماع میں انتشار ابھرتا دکھائی دے گا۔ احترام و عظمت‘ انقیاد و اطاعت اور فرماں پذیری و خود سپردگی کے والہانہ جذبات کے اظہار میں نظم و ضبط کا ملحوظ رکھنا بجائے خویش بہت بڑی تربیت نفس ہے۔

مفہوم القرآن میں قرآنی اصطلاحات کے ضمن میں لکھا گیا ہے۔
قرآن کریم کی ایک خاص اصطلاح ’’اقامت صلوٰۃ‘‘ ہے جس کے عام معانی نماز قائم کرنا یا نماز پڑھنا کے ہیں۔ اس لئے صلوٰۃ میں‘ قوانین خداوندی کے اتباع کا مفہوم شامل ہو گا۔ بنا بریں اقامت صلوٰۃ سے مفہوم ہو گا ایسے نظام یا معاشرہ کا قیام جس میں قوانین خداوندی کا اتباع کیا جائے۔ یہ اس اصطلاح کا وسیع اور جامع مفہوم ہے۔ نماز کے اجتماعات میں قوانین خداوندی کے اتباع کا تصور‘ محسوس اور سمٹی ہوئی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم نے اس اصطلاح کو ان اجتماعات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ قرآنی آیات پر تھوڑا سا تدبر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ کس مقام پر اقامت صلوٰۃ سے مراد اجتماعات نماز ہیں اور کس مقام پر قرآنی نظام یا معاشرہ کا قیام۔ مفہوم القرآن میں یہ معانی اپنے اپنے مقام پر واضح کر دیئے گئے ہیں۔
ان تصریحات سے واضح ہے کہ میں نے صلوٰۃ کے معنی نماز اور اقامت صلوٰۃ کے معنی اجتماعات صلوٰۃ کا قیام واضح الفاظ میں دیئے ہیں اور اس سے مراد وہی نماز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں۔
(3) ایک مقام پر نہیں‘ متعدد مقامات پر اور ایک مرتبہ نہیں‘ متعدد بار اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کیا جا چکا ہے کہ امت کے مختلف فرقے جس جس طریق سے نماز پڑھتے چلے آرہے ہیں ان میں کسی قسم کے رد و بدل کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ اسی وجہ سے میں فرقہ اہل قرآن سے بھی اختلاف رکھتا ہوں جنہوں نے اپنے لئے الگ نماز تجویز کر رکھی ہے۔ البتہ میں یہ ضرورکہتا ہوں کہ اگر مسلمانوں میں پھر سے خلافت علیٰ منہاج نبوت کا قیام ہو جائے اور وہ تمام امت کے لئے نماز کی ایک ہی شکل تجویز کر دے تو یہ امت میں وحدت پیدا کرنے کے لئے بڑا موثر اقدام ہو گا۔ یہ تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ عہد رسالت مآب اور خلافت راشدہ میں‘ امت ایک ہی طریق پر نماز ادا کرتی ہو گی۔ اس وقت امت میں وحدت تھی۔ اس لئے جب ہم پھر سے اسی عہد سعادت مہد کی طرف رخ کریں گے تو امت میں وحدت پیدا کرنے کی کوشش بھی ضرورکرنی ہو گی اور نماز اس کا بہت بڑا ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اب امت میں وحدت پیدا ہونے کا امکان ہی نہیں‘ تو میں اس سے بحث نہیں کرتا۔
(’’طلوع اسلام‘‘ نومبر و دسمبر 1961ء ؁‘ ص 12)

نماز کی اہمیت

میں نے ایسی باتیں بھی سنی ہیں کہ بعض اراکین بزم یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اب جو اسلام کو سمجھا ہے‘ اس کی بناء پر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا ’’طلوع اسلام‘‘ نے آپ کو یہی تعلیم دی ہے کہ نماز نہ پڑھنے پر فخر کرو؟ آپ نے غیر قرآنی روش زندگی کو تو نہ چھوڑا‘ اور اس کے بجائے اس قسم کی باتیں کرنے لگ گئے اور ستم بالائے ستم کہ اپنے آپ کو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستہ ظاہر کر کے ایسی باتیں کرنے لگے۔ طلوع اسلام پر آخر یہ کتنا بڑا الزام ہے جو آپ نے عائد کر دیا۔
ذاتی طور پر مجھ میں بھی کمزوریاں ہیں اور میں ہمیشہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہوں۔ لیکن یہ انتہائی ظلم ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کے لئے جواز کی صورتیں تلاش کرنے لگ جائیں۔ آپ قرآنی نظریات کے خلاف سب کچھ کر رہے ہیں۔ تجارت‘ کاروبار‘ شادی‘ رشتے ناطے سب کچھ ہو رہا ہے۔ بینک بیلنس برابر قائم ہیں۔ قرآن کے مطابق انہیں بدلنے کے لئے آپ کے ذہن میں کبھی کچھ نہیں آیا۔ پھر نماز کے بارے میں ایسا کیوں ہے؟ (بعض گوشوں سے آوازیں آئیں کہ یہ بھی ہمارے مخالفین کا پروپیگنڈہ ہے جو طلوع اسلام کی تحریک سے وابستگی ظاہر کر کے اس قسم کی باتیں مشہور کرتے رہتے ہیں۔ محترم پرویز صاحب نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے کہا) ہم معاشرے میں اصلاح کا آغاز اپنے گھروں سے ہی کر سکتے ہیں لیکن اگر پہلے خود ہی نماز روزہ چھوڑ دیں تو پھر اصلاح کس طرح ہو گی؟ خدارا اپنے قول و عمل کو بصیرت‘ علم اور خلوص پر مبنی رکھئے۔ ’’مقدس بہانے‘‘ تلاش نہ کیجئے بلکہ اعتراف کیجئے اپنی کمزوریوں کا۔ ہم نے قرآنی معاشرہ قائم کرنا ہے جو صرف نیک اور پاکباز زندگی بسر کرنے سے قائم ہو سکے گا۔ (منزل بہ منزل از پرویز‘ ص 35-36)

غلط فہمی کا ازالہ

ہماری ہر محفل میں الصلوٰۃ کا بحیثیت نظام جس طرح بار بار ذکر آتا ہے اس سے یہ غلط فہمی پیدا نہ ہونے پائے کہ ہم نماز کے وقت اجتماعات کی اہمیت کے قائل نہیں۔ ۔۔۔۔۔۔ صلوٰۃ کا وقتی اجتماع بھی قرآن ہی کا ارشاد ہے اور یہ الصلوٰۃ کے عالم آرا نظام ہی کی سمٹی ہوئی تصویر ہے۔ جو شخص نماز کی اہمیت کو کم کرتا ہے وہ طلوع اسلام کے خلاف فتنہ و شرارت کا محرک ہے اور ایسی مذموم حرکت کسی طرف سے نہ تو دانستہ ہونی چاہئے اور نہ نادانستہ۔
(ماہنامہ طلوع اسلام‘ مئی 1959ء ؁ ص 14)

5,557 total views, 3 views today

(Visited 1,007 times, 7 visits today)

2 Responses to نماز کی اہمیت – پرویز

  1. Irfan shaikh says:

    Bhut khob magar bhut say pervaiz sahb k hum fikar ye he samajty hain k pervaiz sahb namaz ka mana karty hain meri apni bhut uljhany es ko pharny k bad dur hogae hain or pervez sahb ki Qadar meri nazar main or buland hogae hain.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *