قُربانی ۔ پرویز – اِدارہ طلوعِ اِسلام

طلوعِ اِسلام میں قربانی کے متعلق جو کچھ شائع ہوتا رہا‘ قارئین کی نظروں سے گذر چکا ہے۔ اس کے جواب میں جو کچھ دیگر جرائد و رسائل میں شائع ہوا وہ بھی انہوں نے دیکھ لیا ہو گا۔ جب یہ چیزیں ہمارے سامنے آئی تھیں تو ہم نے محسوس کیا تھا کہ اس موضوع پر ذرا تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ اب جبکہ پھر قربانی کی عید قریب آرہی ہے‘ اس مسئلہ سے متعلق استفسارات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سے تفصیلی گفتگو کی اہمیت اور بھی نمایاں طور پر سامنے آگئی ہے۔
پہلے یہ متعین کر لیجئے کہ مسئلہ زیر غور کیا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ:
(i) حج کے موقع پر حاجی مکہ معظمہ میں جانور ذبح کرتے ہیں جسے قربانی کہا جاتا ہے۔
(ii) ایک ایک حاجی متعدد جانور ذبح کرتا ہے۔ ان جانوروں کو گڑھے کھود کھود کر دبانا پڑتا ہے۔
(iii) عید کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان اپنی اپنی جگہ پر جانور ذبح کرتے ہیں۔ اسے بھی قربانی کہا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان میں سے کسی بات کا حکم قرآن کریم سے بھی ملتا ہے یا یہ چیزیں یونہی رسماً چلی آرہی ہیں؟
***
اصل سوال تک پہنچنے سے پہلے‘ ایک چیز تمہیداً عرض کر دینا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں‘ مختلف وجوہات کی بنا پر صورت یہ پیدا ہو چکی ہے کہ آپ ’’مذہب‘‘ سے متعلق کوئی بات‘ فلسفہ‘ منطق‘ تصوف‘ تفاسیر‘ روایات وغیرہ میں سے کسی کے حوالہ سے بھی کریں‘ اس پر کوئی معترض نہیں ہو گا لیکن جہاں آپ نے کسی موضوع کے متعلق یہ کہا کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ قرآن اس کی بابت کیا کہتا ہے تو اس کے سنتے ہی اس قسم کے جذبات مشتعل ہو جاتے ہیں گویا آپ نے الحاد اور بے دینی کی کوئی بدترین بات کہہ دی۔ ہم ’’مذہب‘‘ کے معاملہ میں یہودیوں کے افسانے‘ قصہ گوؤں کی داستانیں‘ یونانی فلسفہ کی قیاس آرائیاں‘ مجوسیوں کی آتش نوائیاں‘ ویدانت کے مہلات‘ برہمو سماجی قسم کے خرافات‘ حتیٰ کہ کسی مجذوب کی بڑ تک سننا تو گوارا کر لیں گے اور ان لغویات میں معانی پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن جونہی کسی نے کہا کہ آؤ دیکھیں‘ اس بارے میں قرآن کی کیا تعلیم ہے‘ تو ہم کوشش کریں گے کہ کوئی اس کی سننے نہ پائے‘ کیونکہ اس سے ایمان کی خرابی کا خطرہ اور عاقبت برباد ہو جانے کا اندیشہ محسوس ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم متعدد بار لکھ چکے ہیں‘ یہ نتیجہ ہے اس منظم سازش کا جسے عجمی عناصر‘ اسلام سے اپنا انتقام لینے کے لئے‘ روبعمل لائے اور جس سے ہوا یہ کہ (اقبال کے الفاظ میں)
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امّت روایات میں کھو گئی
رفتہ رفتہ مسلمانوں کو قرآن سے اس قدر چِڑ ہو گئی کہ ان کے نزدیک خالص قرآن کی طرف دعوت‘ الحاد اور زندیقیت کے مرادف قرار پا گئی۔ اس سے بڑا انقلاب سورج کی آنکھ نے آج تک نہیں دیکھا اور نہ ایسی کامیاب سازش آسمان کے تاروں کی نگاہوں سے گذری ہو گی کہ جس کی رو سے ایک قوم اپنی آسمانی کتاب پر ایمان کا دعویٰ بھی رکھے لیکن جب یہ کہا جائے کہ اپنے معاملات میں اس کتاب کو حَکم قرار دو تو ایسا کہنے والے کو گردن زدنی اور کشتنی قرار دے دیا جائے۔ ہماری بدقسمتی سے ہزار برس سے ہماری مساجد کے منبر اور خانقاہوں کے حجرے‘ نادانستہ طور پر اس سازش کی آماجگاہ بنے چلے آرہے ہیں اور اپنی سادہ لوحی سے اس سازش کو محکم سے محکم تر بنانے کی ہر کوشش کو ’’دین کی خدمت‘‘ تصور کر کے امت سے اس کے اجر کا مطالبہ کرتے ہیں اور فریب خوردہ امت اس مطالبہ کے پورا کرنے میں سعادتِ دارین محسوس کرتی ہے۔ اس قسم کی سادہ لوحی کی مثال تاریخ کے صفحات میں شاید ہی کہیں اور مل سکے۔
بناء بریں جو لوگ ابھی تک (دانستہ یا نادانستہ) اس سازش کے علمبردار یا اس کے دامِ فریب میں گرفتار ہیں‘ ان سے تخاطب بیکار ہے۔ لیکن جو سعید روحیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو قیامت تک محفوظ رکھنے کا ذمہ اس لئے لیا تھا کہ اسے قیامت تک مسلمانوں کا ضابطۂ حیات بننا تھا‘ ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ قرآن کا اس باب میں کیا حکم ہے اس تفصیلی گفتگو کا محرک یہی جذبہ ہے۔
***
سوال آپ کے سامنے آچکا۔ اب دیکھئے کہ اس باب میں قرآن کیا کہتا ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ قرآن نے ان جانوروں کے ذبح کرنے کے لئے کہیں ’’قربانی‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ نہ ہی اس نے اسے خاص طور پر قرب الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔1؂ یہ تصور کہ جانوروں کے خون بہانے سے خدا خوش ہو جاتا ہے اس لئے قربانی وجۂ تقربِ خداوندی ہوتی ہے‘ غیر قرآنی تصور ہے۔ آج ہمارے ہاں قربانی کے ساتھ یہی تصور وابستہ ہے اور یہ اسی سازش کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے اور جس نے اسلام جیسے زندگی بخش نظام حیات کو محض رسومات کا مجموعہ بنا چھوڑا ہے۔
قرآن جس تمدنی نظام (Social Order) کی تشکیل چاہتا ہے اس کا نقطۂ آغاز الصلوٰۃ ہے اور منتہیٰ حج۔ یعنی ملت کی چھوٹی چھوٹی وحدتوں (Units) کی صحیح تعمیر سے شروع کر کے‘ پوری کی پوری ملت کو ایک مرکزِ وحدانیت پر جمع کرنا‘ انہیں قوانینِ خداوندی کے مطابق چلانا اور اس کے بعد اس ضابطہ حیات کو ساری دنیا میں نافذ کرنے کا ذریعہ بنانا۔ حج‘ ملت کے اس عظیم القدر اجتماع کا نام ہے جس میں قرآنی نظام حیات کے پروگرام پر غور و خوض کر کے اسے نافذ العمل بنانے کی تراکیب کو سوچا جاتا ہے۔ اس اجتماع کا مرکز ’’بیت الحرام‘‘ (خانہ کعبہ) ہے جو ملتِ اسلامیہ کا مرکزِ محسوس ہے۔ اس عظیم الشان اجتماع کو کامیاب بنانے میں ہر کوشش مبارک اور ہر اقدام مسعود ہے۔ قرآن کریم میں جانوروں کے ذبح کرنے کا ذکر اسی اجتماع کے سلسلہ میں آیا ہے اور وہ آیات حسب ذیل ہیں۔ (ان آیات پر الگ الگ نمبر بھی دے دیئے گئے ہیں تاکہ آئندہ حوالہ میں سہولت ہو۔ نیز ان کا ترجمہ مروجہ ترجموں کے مطابق ہی کر دیا گیا ہے تاکہ یہ اعتراض نہ پیدا کر دیا جائے کہ ہم نے (خدانکردہ) اپنے مطلب کے مطابق معانی پیدا کرنے کے لئے ترجمہ کچھ سے کچھ کر دیا ہے)۔
سورۂ الحج میں ہے:
(1) وَاَذِّن فِیْ النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوکَ رِجَالاً وَعَلَی کُلِّ ضَامِرٍ یَاْتِیْنَ مِن کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍO لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَی مَا رَزَقَہُم مِّن بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ فَکُلُوا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْبَاءِسَ الْفَقِیْرَ -(22:27-28)
او ر لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیادہ بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز رستوں سے پہنچی ہونگی۔ تاکہ لوگ اپنے فوائد کے لئے آموجود ہوں اور تاکہ ایام مقررہ میں ان چوپاؤں پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا کئے ہیں۔ سو جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور مصیبت زدہ محتاج کو بھی کھلاؤ۔
ان جانوروں کے متعلق آگے چل کر یوں ارشاد ہے۔
(2) لَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ اِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَا اِلَی الْبَیْْتِ الْعَتِیْقِ -(22:33)
ان جانوروں میں تمہارے لئے ایک مدتِ معینہ تک فائدہ اٹھانا ہے۔ اس کے بعد ان کے حلال کرنے کی جگہ بیت عتیق (خانہ کعبہ) کے قریب ہے۔
اس سے آگے ہے:
(3) وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاہَا لَکُم مِّن شَعَاءِرِ اللَّہِ لَکُمْ فِیْہَا خَیْْرٌ فَاذْکُرُوا اسْمَ اللَّہِ عَلَیْْہَا صَوَافَّ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُہَا فَکُلُوا مِنْہَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ کَذَلِکَ سَخَّرْنَاہَا لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ -(22:36)
اور قربانی کے اونٹوں1؂ کو ہم نے اللہ کے دین کی یادگار 2؂ بنایا ہے ان جانوروں میں تمہارے لئے (اور بھی) فائدے ہیں۔ سو تم انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لیا کرو۔ پس جب وہ کسی کروٹ گر پڑیں تو تم خود بھی کھاؤ اور سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے محتاج کو بھی کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔
اور اس کے بعد ہے:
(4) لَن یَنَالَ اللَّہَ لُحُومُہَا وَلَا دِمَاؤُہَا وَلَکِن یَنَالُہُ التَّقْوَی مِنکُمْ کَذَلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّہَ عَلَی مَا ہَدَاکُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ-(22:37)
اللہ کے پاس نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون۔ ولیکن اس کے پاس تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے زیر حکم کر دیا تاکہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس پر جس کی اس نے تمہیں ہدایت کی ہے اور محسنین کے لئے بشارت ہے۔
یہ سورۂ حج کی آیات ہیں۔ انہیں دیکھئے اور پھر غور کیجئے کہ یہ مسئلہ پیش نظر کے متعلق کس قدر صاف اور واضح ہیں۔
آیت (1) میں سلسلۂ کلام کا آغاز ہی اعلانِ حج سے ہوتا ہے اور اسی ضمن میں فرمایا ہے کہ جانوروں کو ذبح کرو اور ان میں سے خود بھی کھاؤ اور حاجتمندوں کو بھی کھلاؤ۔
آیت (2) سے واضح ہے کہ یہ وہ جانور ہیں جن سے پہلے عام جانوروں کا کام لیا جاتا ہے۔ ان پر سواری کر کے یا بوجھ لاد کر‘ حج کے لئے آیا جاتا ہے اور پھر انہیں حج کی تقریب پر مکہ معظمہ میں ذبح کیا جاتا ہے۔
آیت (3) بھی آیت (2) کے مضمون کی تائید کر رہی ہے۔ یعنی ان جانوروں کے فوائد (خیر) اور اس کے بعد ذبح کر کے خود بھی کھانا اور محتاجوں کو بھی کھلانا۔ (ان کے شعائر اللہ ہونے کا بیان آگے چل کر آئے گا)۔
آیت (4) میں اس غلط تصور کا بطلان کیا گیا ہے جس کی رو سے سمجھا جاتا تھا کہ قربانی کی حیثیت افادی نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی ہے جو خون بہانے سے حاصل ہوتی ہے اس لئے قربانی کے جانور ذبح کر کے چھوڑ دینے چاہئیں۔ اس کے برعکس یہ واضح کر دیا گیا کہ ان جانوروں کے ذبح کرنے سے مقصود خون بہا کر خدا کو خوش کرنا نہیں بلکہ مقصود صرف یہ ہے کہ ان کا گوشت تمہارے اور دیگر ضرورتمندوں کے کام آئے۔ اللہ کے نزدیک قابل قدر چیز تمہارا تقویٰ ہے۔ تقویٰ کی تشریح اگلے الفاظ سے کر دی جن میں بتا دیا گیا کہ تمہارا مقصود حیات یہ ہے کہ جس ضابطۂ حیات کی طرف تمہاری راہنمائی کی گئی ہے اسے متشکل اور مستحکم کرو اور اس طرح دنیا میں قانونِ خداوندی کی عظمت اور کبریائی کو ثبت کر کے دکھا دو۔ اجتماع حج اسی مقصد کے حصول کی کڑی ہے اور یہ جانور اس اجتماع میں شامل ہونے والوں کے خور و نوش کا ذریعہ بنتے ہیں۔
قرآن کی رو سے دنیا میں دو ہی قومیں ہیں۔ ایک وہ جو ضابطۂ خداوندی کے مطابق زندگی بسر کریں (مُسلم) اور دوسری وہ جو اس کے علاوہ دیگر ضوابط زندگی کو اپنا مسلک بنائیں (غیر مُسلم)۔ قرآن ان دونوں جماعتوں میں واضح اور غیر مبہم امتیازی خطوط قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں بآسانی پہچانے جا سکیں۔ چنانچہ ہر وہ عمل یا وہ شے جو اس قسم کی پہچان کرا سکے شعائر اللہ کہلاتی ہے۔ شعار اس خاص نشان کو کہتے ہیں جو جنگ میں استعمال کیا جائے تاکہ اس سے اپنے رفیق اور دوست پہچانے جا سکیں۔ حج تمام دنیا کے مسلمانوں کا مرکزی اجتماع اور یک قلبی اور یک نگہی کا عملی مظاہرہ اور ایک ضابطۂ قانون کے تابع زندگی بسر کرنے والوں کی تعارفی تقریب ہے۔ اس سے بڑا دوستوں اور رفیقوں کا اجتماع اور کونسا ہو سکتا ہے۔ اس لئے حج کے تضمنات (صفا و مرویٰ اور بُدن وغیرہ) کو خصوصیت سے شعائر اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سورۂ مائدہ میں ہے:
(5) یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآءِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآءِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً -(5:2)
اے ایمان والو۔ بے حرمتی نہ کرو شعائر اللہ کی اور نہ حرمت والے مہینے کی‘ نہ حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں‘ اور نہ ان لوگوں کی جو بیت الحرام کے مقصد سے جا رہے ہوں اور اپنے رب کے فضل اور رضامندی کے طالب ہوں۔
چونکہ حج سے مقصود‘ دنیا میں قوانینِ خداوندی کا عملی نفاذ ہے‘ جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نوع انسانی میں صحیح توازن پیدا ہو جائے گا اور اس طرح انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گی‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں بیت الحرام کو وجۂ قیام انسانیت قرار دیا ہے اس کے ساتھ ہی تضمنات کو بھی انہی الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ فرمایا:
(6) جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَءِدَ۔۔۔ -(5:97)
اللہ نے کعبہ کو‘ جو کہ حرمت والا مکان ہے‘ لوگوں کے قیام کا باعث قرار دیا ہے اور عزت والے مہینے کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانوروں کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے پڑے ہوں۔
آیات نمبر 1 تا 4 کو پھر سے سامنے لایئے۔ ان سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ قرآن کی رو سے
ً (1) قربانی صرف حج کے موقع پر ہے۔
(2) قربانی کا مقام مکہ معظمہ ہے جہاں حج ہوتا ہے۔
(3) قربانی سے مقصود یہ ہے کہ ان جانوروں کا گوشت کھایا جائے۔
(4) یہ سمجھنا کہ جانور ذبح کرنے سے قرب الٰہی حاصل ہو جاتا ہے‘ غلط ہے۔
ان حقائق سے یہ واضح ہو گیا کہ:
(ا) حج کے علاوہ اور کسی تقریب پر قربانی کا ذکر نہیں۔
(ب) مکہ معظمہ کے علاوہ اور کسی مقام پر قربانی نہیں۔
(ج) جس جانور کا گوشت کھانے کے کام نہ آئے اُسے قربانی نہیں کہا جا سکتا
کیونکہ اس کا صرف خون بہایا گیا ہے اور خون اللہ تک نہیں پہنچتا۔ لہٰذا ایسا
کرنا اسراف ہے۔ یعنی بے نتیجہ اور بے مصرف ایک جانور کا ضائع کر دینا۔
فلہٰذا۔۔۔
(i) حج کی تقریب پر جانوروں کو ذبح کر کے مٹی میں دبائے جانا منشائے قرآن
کے یکسر خلاف ہے۔ اور
(ii) یہ جو عید کی تقریب پر دنیا بھر کے شہروں میں قربانیاں دی جاتی ہیں ان کا حکم
تو ایک طرف کہیں ذکر تک بھی قرآن میں نہیں۔ بلکہ یہ قرآن کے حکم کے
خلاف ہے کیونکہ جب قرآن نے قربانی کے مقام کو بالتصریح معین کر دیا
ہے تو اس معین کو عام کر دینا قرآنی منشا کے خلاف ہے۔ مثلاً قرآن نے نماز
کے لئے سمت قبلہ کو معین کر دیا ہے۔ اس کے بعد ہر طرف منہ کر کے نماز
پڑھنا قرآنی حکم کے خلاف ہو گا۔
***
اب دیگر آیات دیکھئے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:
(7) وَاَتِمُّواْ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔
اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔ پھر اگر تم (کسی وجہ سے) روک دیئے جاؤ تو قربانی کا جانور جو بھی میسر آئے (خانہ کعبہ کو بھیج دیا کرو)۔
وَلاَ تَحْلِقُواْ رُؤُوسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ۔
اور اپنے سروں کو اس وقت تک مت منڈواؤ جب تک قربانی کا جانور اپنے موقع پر نہ پہنچ جائے (اور وہ موقع حرم ہے)۔
فَمَن کَانَ مِنکُم مَّرِیْضاً اَوْ بِہِ اَذًی مِّن رَّاْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِّن صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ۔
اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کا فدیہ روزے ہے یا صدقہ یا نسک (قربانی)
فَاِذَا اَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ۔
پھر جب امن کی حالت ہو جائے تو جو شخص عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر دونوں سے متمتع ہو تو جو کچھ قربانی میسر ہو ذبح کرے۔
فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاثَۃِ اَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذَلِکَ لِمَن لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہُ حَاضِرِیْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ -(2:196)
پھر جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ آئے تو اس کے ذمے تین دن کے روزے ایام حج میں‘ اور سات دن کے جب حج سے لوٹنے کا وقت ہو‘ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ اس کے لئے ہے جس کے اہل و عیال کعبہ کے قریب نہ رہتے ہوں۔
ان آیات میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ حج اور عمرہ1؂ میں‘ عام حالات میں قربانی کا حکم نہیں۔ ضرورت کے مطابق‘ باہمی مشاورت سے خور و نوش کے لئے جانور ذبح کئے جائیں گے۔
لیکن حسب ذیل اسباب میں سے کوئی سبب پیدا ہو جائے تو ھدی یا نسک کا حکم ہے (ان الفاظ کے معانی آگے چل کر آتے ہیں)۔
(1) کسی شخص نے حج یا عمرہ کا ارادہ کر لیا لیکن وہ محصور ہو گیا اور خانہ کعبہ تک نہیں پہنچ سکا تو اسے چاہئے کہ اپنے ھدی کو کسی کے ساتھ بھیج دے۔ جب ھدی مکہ میں پہنچ جائے پھر حجامت بنوا کر احرام سے باہر نکل آئے اس سے پہلے حجامت نہ بنوائے۔
(2) دوسرا سبب یہ ہے کہ حالت احرام میں (جبکہ حجامت بنوانا منع ہے) کسی تکلیف کے سبب حجامت بنوانے کے لئے مجبور ہو جائے تو اس کا بدلہ یہ ہے کہ روزے رکھے یا صدقہ دے یا نُسُک۔
(3) تیسرا یہ کہ حج اور عمرہ ایک ساتھ کرے تو اس صورت میں ھدی دے۔ اور اگر یہ میسر نہ ہو تو دس دن کے روزے رکھے۔
آپ غور کریں گے تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ ان مقامات پر بھی صرف قربانی کا حکم نہیں ہے۔ سبب اول کے ماتحت اتنا بتا دیا گیا ہے کہ عازمِ حج بحالتِ معذوری (محصور ہو جانے کی شکل میں) کیا کرے۔ اس صورت میں وہ اپنے ھدی کو کعبہ تک بھیج دے۔ سبب دوم میں روزے یا صدقہ یا نسک کا حکم ہے اور سبب سوم میں ھدی کا حکم ہے بشرطیکہ وہ میسر آجائے۔ اگر میسر نہ آئے تو پھر روزے رکھ لے۔
ان آیات میں ھدی اور نسک کے الفاظ آئے ہیں۔ ھدی جمع ہے ھَدِیَّۃ کی جس کے معنی ہیں تحفہ۔ خود قرآن میں ہے بَلْ اَنتُم بِہَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُونَ-(27:36) اس لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ ھدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔ ’’فما استیسر من الھدی‘‘ نے اس حقیقت کو اور بھی واضح کر دیا ہے۔ یعنی تحائف میں سے جو کچھ بھی میسر آجائے اسے کعبہ بھیج دے تاکہ وہاں جمع ہونے والوں کے کام آئے عربوں کے ہاں بہترین تحائف ان کے جانور تھے۔ اس لئے وہ جانوروں کو بطور تحائف پیش کرتے تھے لیکن ضروری نہیں کہ تحائف صرف جانور ہی ہوں۔ لہٰذا آیاتِ بالا سے مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی عازم حج راستہ میں گھر جائے تو اپنے تحائف کعبہ بھیج دے۔ اسی طرح جو شخص حج اور عمرہ سے اکٹھا متمتع ہو اور اسے کوئی تحفہ میسر آسکے تو اسے پیش کر دے ورنہ روزے رکھ لے۔ اسی طرح نسک کے معنی بھی صرف قربانی نہیں۔ نسک چاندی کے خالص ٹکڑوں کو کہتے ہیں۔ اخلاص کی بنا پر اس سے مفہوم عام عبادات لیا جاتا ہے (تفصیل آگے چل کر آئے گی) پھر ذبیحہ کو بھی نسک کہنے لگ گئے۔
لیکن قطع نظر اس کے‘ اگر ھدی اور نسک سے مراد قربانی کے جانور ہی لئے جائیں تو بھی آیاتِ بالا سے یہ واضح ہے کہ ان کا مقام کعبہ ہی ہے۔ انہیں وہیں پہنچانا ہو گا۔ (حتی یبلغ الھدی محلہ) اور وہیں یہ ذبح ہوں گے تاکہ ان سے اجتماع حج میں شریک ہونے والے خور و نوش کا کام لیں۔ اس حقیقت کو دوسرے مقام پر اور بھی واضح کر دیا گیا ہے جہاں فرمایا کہ حالتِ احرام میں شکار جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص دانستہ کسی جان کا قتل کر دے تو اس کے بدلے میں اس کی مثل ایک ایسا جانور دے جس کا فیصلہ دو صاحبِ عدل کر دیں۔ ہَدْیْاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ -(5:95) اس ہدیہ1؂ کو کعبہ تک پہنچایا جائے۔ اس سے بھی واضح ہے کہ ھدیہ کو کعبہ ہی پہنچانا ہو گا۔
آیاتِ بالا سے پھر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ قربانی کا مقام کعبہ ہے۔ کعبہ کے علاوہ اور کوئی مقام نہیں۔
***
اب ایک آیت اور دیکھئے جس سے اس حقیقت کی مزید تصدیق ہو جاتی ہے کہ قربانی کا مقام خانہ کعبہ ہی ہے۔ 6ھ میں رسول اللہﷺ عمرہ ادا کرنے کے ارادہ سے مدینہ سے عازم مکہ ہوئے لیکن قریش مکہ نے حضورﷺ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ حدیبیہ کا مقام تھا جہاں وہ مشہور صلح نامہ لکھا گیا جسے قرآن نے فتح مبین سے تعبیر کیا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کریم میں ہے:
(8) ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفاً اَن یَبْلُغَ مَحِلَّہُ -(48:25)
یہ (قریش مکہ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا۔ نیز قربانی کے جانوروں (ھدی) کو روک دیا کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ تک نہ پہنچ سکیں۔
ہمارے پیش نظر سوال یہ تھا کہ کیا قرآن نے قربانی کے مقام کو معین کر دیا ہے یا اسے غیر معین چھوڑ دیا ہے کہ مسلمان جہاں چاہیں (اپنے اپنے مکانوں اور گلی کوچوں میں) قربانی دے دیا کریں۔ قرآن کی تمام متعلقہ آیات آپ کے سامنے آچکی ہیں آپ انہیں ایک مرتبہ پھر دیکھ لیں اور خود فیصلہ کر لیں کہ اس باب میں قرآن کا حکم معین ہے یا اس نے اس چیز کو غیر معین چھوڑ دیا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ:
(i) آیت نمبر 2 میں قربانی کے جانوروں کے متعلق تصریح موجود ہے کہ:
ثم محلھا الی البیت العتیق۔
ان کے حلال کرنے کی جگہ خانہ کعبہ ہے۔
(ii) آیت نمبر 7 میں (اگر ھدی سے مراد قربانی کے جانور کئے جائیں تو) بہ صراحت فرما دیا کہ:
حتی یبلغ الھدی محلہ۔
جب تک قربانی کے جانور اپنے ذبح ہونے کے مقام
پر نہ پہنچ جائیں۔
(iii) آیت 5:95 میں فرمایا:
ھدیا بالغ الکعبتہ۔
قربانی کے جانور کو کعبہ تک پہنچایا جائے۔
(iv) آیت نمبر 8 میں ارشاد ہے کہ قریش مکہ نے قربانی کے جانوروں کو روک دیا۔
ان یبلغ محلہ۔
کہ وہ اپنے ذبح ہونے کے مقام تک نہ پہنچنے پائیں۔
(v) باقی آیات میں قربانی کا ذکر حج کے ضمن میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ کہیں نہیں۔
ان حقائق کو سامنے رکھئے اور پھر سوچئے کہ قرآن کریم کی ایسی کھلی ہوئی صراحت کے بعد‘ اس بات کے متعلق کسی شک و شبہ کی گنجائش بھی باقی رہ سکتی ہے کہ قربانی کا مقام کونسا ہے؟ اگر قرآن صرف اتنا ہی کرتا کہ قربانی کے جانوروں کا ذکر حج کی تقریب کے ضمن میں کر دیتا تو بھی اس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی دقت نہ ہوتی کہ قربانی مکہ ہی میں ہوتی ہے لیکن اس نے اتنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ بار بار اس کی بھی تصریح فرما دی کہ قربانی کا مقام کعبہ ہے۔ اگر اس کے بعد بھی اس باب میں کسی کو شبہ ہو سکتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ نہیں! قربانی ہر گلی کوچے میں ہو سکتی ہے‘ تو اس کا علاج کسی کے پاس نہیں۔
ومن یضلل اللہ فلا ھادی لہ‘۔
***
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ جو حضرات‘ قرآن کی ان تصریحات کے باوجود قربانی کو ہر گلی کوچے میں عام کرتے ہیں‘ ان کے دلائل اور قرآن کی مندرجہ صدر کھلی ہوئی حقیقت کے خلاف ان کے اعتراضات کیا ہیں۔ اس باب میں اس وقت ہمارے سامنے سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کا وہ مضمون ہے جس میں انہوں نے سالِ گذشتہ‘ قرآن کی مذکورہ صدر تصریحات کو ’’فتنہ‘‘ قرار دے کر ان کی تردید فرمائی تھی ]اور جو روزنامہ انجامؔ (کراچی) کے عید ایڈیشن (مورخہ 4 ستمبر 1950ء) میں شائع ہوا تھا[۔ اس مضمون میں انہوں نے خاص طور پر یہ احتیاط برتی ہے کہ اس میں ان آیات کا کوئی ذکر تک نہ آنے پائے جن میں قرآن کریم نے بہ صراحت قربانی کے مقام کو مکہ معظمہ کے ساتھ مختص کیا ہے اور جنہیں ہم نے اوپر نقل کر دیا ہے۔ اس خصوصی احتیاط کے بعد وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں:
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ قربانی کے متعلق قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ کیا وہ قربانی کو صرف حج اور متعلقات حج تک محدود رکھتا ہے یا دوسرے حالات میں بھی اس کا حکم دیتا ہے۔ اس باب میں دو آیتیں بالکل صاف ہیں جن کا حج سے کوئی تعلق نہیں۔ پہلی آیت سورۂ انعام کے آخری رکوع میں ہے۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
اے نبی کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت خم کرنے والا ہوں۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا اور نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے اور اس میں کوئی اشارہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے یہ سمجھا جائے کہ اس حکم سے مراد حج میں قربانی کرنا ہے۔ نسک کا لفظ جو اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے‘ قرآن مجید میں دوسری جگہ قربانی ہی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو البقرہ نمبر 22۔
تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو صدقے میں روزے رکھے یا صدقہ یا قربانی کرے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 7 جس میں لفظ نسک آیا ہے۔ طلوع اسلام)۔
مودودیؔ صاحب نے جس آیت کا ترجمہ لکھا ہے وہ آیت سیاق و سباق کے ساتھ اس طرح ہے۔ فرمایا:
(9) قُلْ اِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ اِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَO
کہہ دو۔ مجھے تو میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ وہی درست اور صحیح دین ہے۔ ابراہیم کا طریقہ کہ خدا ایک ہے کے لئے ہو جانا اور ابراہیم ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔
’’حَنِیْفاً‘‘ (ایک خدا کے لئے ہو جانا) کی تشریح اگلی آیت میں یوں ہے:
(10) قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَاْ اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔
کہہ دو۔ میری نماز‘ میرا نسک‘ میرا مرنا‘ میرا جینا‘ سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلموں میں (یعنی خدا کے فرمانبرداروں میں) پہلا فرمانبردار ہوں۔
اور اس ’’توحید‘‘ کی مزید تشریح اس طرح فرما دی کہ:
(11) قُلْ اَغَیْْرَ اللّہِ اَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء۔۔۔-(6:161-164)
کہئے! کیا میں اللہ کے علاوہ کوئی اور پروردگار ڈھونڈوں حالانکہ وہی ہر شے کا پرورش کرنے والا ہے۔
مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ اس میں لفظ نُسُکی کا ترجمہ ہے ’’میری قربانی‘‘۔ اس لئے اس سے قربانی کا حکم ظاہر ہے۔ ہم نے مندرجہ بالا ترجمہ میں (جو ابوالکلام صاحب آزاد کا ترجمہ ہے) لفظ نسک کو علیٰ حالہ رہنے دیا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ اس لفظ کے لغوی معنی ’’چاندی کے خالص کئے ہوئے ٹکڑے‘‘ ہیں۔ اس اخلاص کی جہت سے ’’عبادت گذار کو ناسک کہنے لگے کیونکہ وہ اپنے نفس کو چاندی کے ٹکڑے کی طرح گناہوں کی میل سے صاف کرتا ہے۔‘‘1؂ قرآن کریم میں نسک‘ منسک‘ مناسک کے الفاظ (ان دو آیتوں کے علاوہ جن کا ترجمہ مودودی صاحب نے لکھا ہے) حسب ذیل مقامات پر آئے ہیں:
(12) سورۂ بقرہ میں دعائے ابراہیمی و اسماعیلی۔ وارنا مناسکنا۔ -(2:129)
(13) سورۂ بقرہ میں حج کے ضمن میں۔
فاذا قضیتم مناسککم۔ -(2:200)
(15-14) سورۂ حج میں۔
لکل امۃ جعلنا منسکاًھم ناسکوہ۔ (22:67) و (22:34)۔
دیکھئے کہ ان آیات میں ان الفاظ کا ترجمہ مختلف مترجمین نے کیا کیا ہے۔
آیت نمبر 12 ’’مناسکنا‘‘ کا ترجمہ مختلف تراجم میں اس طرح آیا ہے:
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادات کی طرح۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ طرح عبادت کی۔
جلالین۔ شرائع عبادتنا (یہ اردو ترجمہ نہیں لیکن مفہوم واضح ہے)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ عبادت کے سچے طور طریقے۔
آیت نمبر 13۔ ’’مناسککم‘‘۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادتیں اپنی۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادتیں۔
جلالین۔ عبادات‘ حج۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ حج کے تمام ارکان۔
آیات نمبر 14 و 15۔ ’’منسک‘‘۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ طرح عبادت کی۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادت کی طرح۔
جلالین۔ شریعت (آیت 22:34 میں اس کے ساتھ ’’قربانی کی جگہ‘‘ بھی آیا ہے)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ عبادت کا طور طریقہ۔
اس کے بعد وہ آیت لیجئے جسے مودودی صاحب نے بطور سند پیش کیا ہے۔ یعنی ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ (نمبر 10) اور جس میں انہوں نے نسکی کا ترجمہ ’’میری قربانی‘‘ کیا ہے۔ اس لفظ کا ترجمہ مذکورہ صدر مترجمین نے حسب ذیل کیا ہے۔
شاہ عبدالقادرؒ ۔ عبادتیں۔
شاہ رفیع الدینؒ ۔ عبادتیں۔
جلالین۔ عبادات من حج۔ (حج کی عبادات)۔
ابوالکلام صاحب آزاد۔ میرا حج۔
یہ ہیں لفظ نسک کے معانی اس آیت میں جسے مودودی صاحب نے وجوب قربانی میں بطور نصِ قرآنی پیش کیا ہے اور جس کا ترجمہ انہوں نے ’’قربانی‘‘ کیا ہے۔ شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ اس کے معنی ’’عام عبادات‘‘ لیتے ہیں اور تفسیر جلالین اور ترجمان القرآن ابوالکلام صاحب آزاد میں اس کے معنی حج یا حج سے متعلقہ مراسم لکھے ہیں۔ (اور وہ جو کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ بولے) خود مودودی صاحب نسک کا ترجمہ ’’قربانی‘‘ لکھ کر‘ ایک ہی سطر بعد ’’مناسک‘‘ کے معنی ’’حج کے مراسم‘‘ بیان فرماتے ہیں۔ ان کا جو اقتباس اوپر درج کیا گیا ہے اسے ایک بار پھر پڑھئے۔ اس میں آپ کو یہ الفاظ دکھائی دیں گے۔
یہ آیت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے جبکہ نہ حج فرض ہوا تھا نہ اس کے مراسم و مناسک مقرر ہوئے تھے۔
’’حج کے مراسم و مناسک‘‘ لکھ کر‘ مودودی صاحب نے خود بتا دیا کہ ’’مناسک‘‘ کے معنی عام قربانی نہیں‘ حج کے طور طریقے ہیں۔ لہٰذا اگر ’’مناسک‘‘ کے معنی خود مودودی صاحب کے الفاظ میں ’’حج کے عام طور طریقے‘‘ ہیں تو آیت ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ میں نسک کے معنی عیدالاضحی کی قربانی کس طرح کئے جا سکتے ہیں؟
اب مودودی صاحب کی دوسری دلیل ملاحظہ فرمایئے جس میں ارشاد ہے کہ:
نسک کا لفظ جو اس آیت میں استعمال ہوا ہے اسے قرآن مجید میں دوسری جگہ ’’قربانی ہی‘‘ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو البقرہ نمبر 24۔
تم میں سے جو شخص سفر حج میں بیمار ہو جائے یا اس کے سر میں تکلیف ہو اور وہ سر منڈوا لے تو فدیہ میں روزے رکھے یا صدقہ یا قربانی کرے۔
(اس آیت کے الفاظ آیت نمبر 7 میں دیکھئے)۔
پہلے تو یہ دیکھئے کہ مودودی صاحب نے نسک کے لفظ کے لئے قرآن کریم کی صرف وہی آیت نقل فرمائی ہے جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ نسک سے مفہوم قربانی لیا جا سکتا ہے۔ دیگر مقامات کا‘ (جہاں واضح ہے کہ نسک یا منسک یا مناسک کے معنی قربانی نہیں لئے جا سکتے) انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا۔
آیت نمبر 7 میں ہم یہ لکھ چکے ہیں کہ نسک کے معنی ضروری نہیں کہ قربانی ہی لئے جائیں۔ لہٰذا ایک ایسے مقام کو بطور سند پیش کرنا جس میں مختلف معانی کی گنجائش ہو‘ دلیل قطعی نہیں قرار دی جا سکتی۔ لیکن آیت نمبر 7 میں نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ ہی لئے جائیں تو وہیں یہ بھی تو موجود ہے کہ یہ حج کے احکام ہیں۔ اس لئے ’’قربانی‘‘ سے مراد وہ قربانی ہے جو خانہ کعبہ میں حج کے موقع پر دی جاتی ہے۔ لہٰذا اگر نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ لئے جائیں تو اس کے صحیح معنی ہوں گے ’’وہ قربانی جو حج میں کی جائے‘‘۔ اس لئے کہ جب قرآن خود کسی مفہوم کو معین کر دے تو اس مفہوم کو اسی طرح سے لینا چاہئے جس طرح قرآن بیان کرتا ہے۔ لہٰذا یہ ظاہر ہے کہ:
(i) ’’ان صلاتی و نسکی‘‘ میں نسکی کے معنی ’’میری قربانی‘‘ نہیں۔ اس لئے یہ آیت قربانی کے حکم کے لئے بطور نص قرآنی پیش نہیں کی جا سکتی۔ اور
(ii) اگر اس لفظ کا ترجمہ ’’قربانی‘‘ ہی کرنا ہو تو اس سے مراد ہو گی وہ قربانی جو حج میں کی جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن کی جس آیت نمبر 7 سے نسک کے معنی ’’قربانی‘‘ لئے گئے ہیں وہاں نسک کے معنی وہ قربانی ہے جو حج میں کی جاتی ہے۔ نہ کہ ہر گلی کوچے کی قربانی۔ چنانچہ علامہ حمید الدین فراہیؒ جنہوں نے اس آیت میں نسکی کے معنی ’’میری قربانی‘‘ لئے ہیں فرماتے ہیں:
بالاتفاق تمام مفسرین کے نزدیک اس آیت میں نسک سے مراد حج اور عمرہ میں قربانی کرنا ہے۔ لغت عرب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
باقی رہی مودودی صاحب کی یہ دلیل کہ چونکہ یہ آیت (ان صلاتی و نسکی۔۔۔) مکہ میں نازل ہوئی تھی جب حج فرض نہیں ہوا تھا‘ اس لئے اس سے مراد حج کی قربانی نہیں۔ سو اس کے متعلق پہلی چیز قابل غور یہ ہے کہ قرآن کریم کی ترتیب نزولی نہیں ہے اس لئے یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ کونسی آیت کب نازل ہوئی تھی۔ خود یہ حقیقت کہ قرآن کی ترتیب نزولی نہیں اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ترتیب نزولی کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ کہا جا سکتا ہے کہ نزول کی ترتیب سے ہم قرآنی تعلیم کے ’’تدریجی ارتقا‘‘ کو معلوم کر سکتے ہیں۔ سو اول تو یہ کہ‘ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے‘ اگر یہ چیز ایسی اہم ہوتی تو خود اللہ تعالیٰ قرآن کی ترتیب نزولی رہنے دیتا۔ قرآنی تعلیم زمان اور مکان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ وہ ہر زمانے اور ہر حالات میں زندگی بخش ہونے کے لئے دی گئی ہے۔ اس لئے وہ ترتیب نزول اور شانِ نزول وغیرہ کے اختصاصات میں مقید نہیں رکھی جا سکتی۔ جو کچھ قرآن میں موجود ہے وہ ہر زمانے کے لئے ضابطۂ حیات ہے۔ جس قسم کے حالات ہوں گے اسی قسم کے احکام نافذ ہو جائیں گے۔ لہٰذا ترتیب نزول کچھ اہمیت نہیں رکھتی۔ دوسرے یہ کہ ترتیب نزول کے متعلق جو روایات ملتی ہیں وہ باہمدگر مختلف ہوتی ہیں۔ چنانچہ آپ کتب تفاسیر اٹھا کر ان میں کسی سورت کے نزول کے متعلق دیکھئے۔ آپ کو کئی مختلف روایات ملیں گی۔ کبھی پوری کی پوری سورت کے متعلق اختلافات ہوتے ہیں کہ وہ مکہ میں نازل ہوئی تھی یا مدینہ میں۔ کبھی ایک سورت کی مختلف آیات کے متعلق اختلاف ہوتا ہے۔ کہیں یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض آیات ہجرت کے بعد‘ مکہ کے قریب نازل ہوئیں تو انہیں مکی لکھ دیا گیا۔ خود سورۂ انعام (جس میں آیت ’’ان صلاتی و نسکی۔۔۔ ہے) کی بعض آیات کے متعلق اختلاف ہے کہ مکی ہیں یا مدنی۔ اس لئے اس سورت کو مکی قرار دے کر اس سے نتیجہ زیر نظر اخذ کرنا‘ محکم دلیل قرار نہیں پا سکتا۔ بہرحال یہ سورت مکی ہو یا مدنی۔ جو حضرات اس سے ’’قربانی‘‘ مراد لیتے ہیں وہ (جیسا کہ علامہ فراہیؒ نے لکھا ہے) اس امر پر متفق ہیں کہ نسک سے مراد وہ قربانی ہے جو حج اور عمرہ میں کی جاتی ہے۔
لیکن قطع نظر اور دلائل کے‘ مودودی صاحب کا یہ بیان کہ یہ سورت مکی ہے خود ہمارے دعوے کی تائید کر رہا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جیسا کہ قرآن نے بہ صراحت فرما دیا ہے قربانی کا محل مکہ معظمہ ہے۔ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ قربانی کا ذکر اس سورت میں آیا ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی اس لئے اس سے مراد حج کی قربانی نہیں۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ہجرت سے پہلے رسول اللہﷺ مکہ میں تشریف فرما تھے اس لئے حضورﷺ لامحالہ مکہ ہی میں قربانی کرتے ہوں گے۔ اور یہی ہم کہتے ہیں۔
باقی رہا یہ کہ اس زمانہ میں ابھی حج فرض نہیں ہوا تھا۔ تو اس سے مسئلہ زیرنظر پر کیا اثر پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ حج فرض ہونے سے پہلے بھی حضورﷺ‘ سنتِ ابراہیمیؑ کی اتباع میں اپنے طور پر حج کرتے تھے۔ (سارا عرب حج کیا کرتا تھا اگرچہ اس کا حقیقی مقصد ان کی نگاہوں سے فوت ہو چکا تھا اور اس کے مناسک میں مشرکانہ رسوم داخل ہو چکی تھیں) لہٰذا جب رسول اللہﷺ حج کرتے تھے تو قربانی بھی حج کی تقریب پر ہی ہوتی ہو گی۔ مشرکین‘ بتوں کے استہانوں پر جانور ذبح کرتے تھے۔ حضورﷺ انہیں اللہ کے نام پر ذبح کر کے خود کھاتے اور محتاجوں کو کھلاتے ہوں گے۔
لہٰذا اس دلیل سے بھی واضح ہے کہ قربانی مکہ ہی میں ہوتی تھی اور حج کی تقریب پر۔ (اس باب میں ابھی ایک نکتہ باقی ہے جو ’’وانحر‘‘ کے سلسلہ میں ذرا آگے چل کر بیان ہو گا۔)
***
اب وہ دوسری آیت دیکھئے جسے مودودی صاحب نے اپنے دعوے کی دلیل میں پیش فرمایا ہے۔ لکھتے ہیں:
دوسری آیت سورۂ کوثر میں ہے جس کا ترجمہ ہے۔
پس اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔
یہ آیت بھی مکی ہے اور اس میں بھی کوئی اشارہ یا قرینہ ایسا نہیں کہ جس کی بنا پر کہا جا سکے کہ قربانی کا یہ حکم حج کے لئے خاص ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اہلِ لغت نے نحر کے معنی سینے پر ہاتھ باندھنے‘ قبلہ رخ ہونے اور اول وقت نماز پڑھنے کے بھی بیان کئے ہیں لیکن یہ سب دور کے معنی ہیں۔ عام فہم عربی میں اس لفظ کا مفہوم قربانی کرنا ہی لیا جاتا ہے (اس کے بعد مودودی صاحب نے احکام القرآن کا حوالہ دیا ہے)۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کے تمام مترجمین شاہ ولی اللہؒ ‘ شاہ عبدالقادر صاحبؒ ‘ شاہ رفیع الدین صاحبؒ ‘ مولانا محمود الحسن صاحبؒ ‘ مولانا اشرف علی صاحبؒ ‘ ڈپٹی نذیر احمد صاحبؒ وغیرہم نے بالاتفاق اس لفظ کا ترجمہ قربانی ہی کیا ہے۔1؂
یہ سورۂ کوثر کی آیت ہے جس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
ان اعطینک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ھوالابترO
اس میں لفظ نحر قابل غور ہے۔ اس لحاظ سے بھی کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ روایات سے قرآن کا صحیح صحیح مفہوم متعین ہو جاتا ہے۔ اگر ان سے مدد نہ لی جائے تو قرآن کا صحیح مطلب سمجھ میں نہیں آسکتا۔ نحر کا لفظ قرآن میں اسی مقام پر استعمال ہوا ہے۔ اب دیکھئے کہ روایات اس کا کیا مفہوم ’’متعین کرتی ہیں۔‘‘
(1) حضرت علیؓ نے فرمایا کہ نحر سے مراد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کی کلائی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو نماز میں اپنے سینے پر رکھنا ہے۔
(2) حضرت علیؓ سے دوسری روایت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی تو آنحضرتﷺ نے جبریلؑ سے پوچھا کہ یہ نحیرہ کیا ہے جس کا میرے رب نے حکم دیا ہے۔ جبریلؑ نے کہا نحیرہ نہیں۔ لیکن حکم یہ ہے کہ آپ نماز کی پہلی تکبیر‘ رکوع‘ بعد رکوع اور سجود کے وقت اپنے ہاتھوں کو بلند کریں۔ یہ ہماری نماز ہے اور ملائکہ کی نماز ہے جو سات آسمانوں میں رہتے ہیں۔ ہر ایک چیز کی ایک نیت ہے اور نماز کی نیت ہر تکبیر کے نزدیک رفع یدین کرنا ہے۔
(3) حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے کہ نحر کے معنی ہیں ’’اپنی گردن قبلہ کے مقابل کر‘‘۔
(4) امام باقر ؒ کا ارشاد ہے کہ اس سے مراد نماز کے شروع کے وقت رفع یدین کرنا ہے۔
(5) حضرت عطا خراسانیؒ فرماتے ہیں کہ وانحر سے مراد یہ ہے کہ اپنی پیٹھ رکوع سے اٹھاؤ تو اعتدال کرو اور سینے کو ظاہر کرو یعنی اطمینان حاصل کرو۔
ان روایات کے علاوہ دیگر اقوال ملاحظہ فرمایئے:
(ا) ابن الاعرابیؒ نے کہا ہے کہ نحر کا مطلب نماز میں محراب کے سامنے سیدھا کھڑا ہونا ہے۔
(ب) ضحاکؒ کا بیان ہے کہ اس کے معنی ہیں دونوں ہاتھ دعا کے بعد چھاتی کے اوپر کے حصہ تک بلند کر۔
(ج) امام راغبؒ (مفردات) میں لکھتے ہیں کہ نحر چھاتی کے اوپر گلوبند کے مقام کو کہتے ہیں۔ اس لئے وانحر میں حکم ہے ہاتھوں کو نحر کے مقام پر رکھنے کا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے شہوت کی بیخ کنی کر کے نفس کشی کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
آپ نے نحر کے لفظ کی تحقیق ملاحظہ فرمائی۔ امام رازیؒ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ذبحِ شتر ہے۔ اس لئے اس کے معنی قربانی ہو گئے۔ فصل لربک وانحر۔ اپنے رب کی نماز پڑھ اور قربانی کر۔
اب اس آیت کے مقام نزول کے متعلق دیکھئے۔ مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ محمد علی صاحب لاہوری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
اس سورت کے نزول کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض اسے مکی کہتے ہیں اور بعض مدنی اور بعض نے یہ خیال کیا ہے کہ اس کا نزول دو دفعہ ہوا ہے۔ ایک مکہ میں اور ایک مدینہ میں۔ مگر صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی!1؂
لیکن علامہ فراہیؒ فرماتے ہیں کہ یہ صلح حدیبیہ کے دن نازل ہوئی۔ ارشاد ہے:
یہ سورت صلح حدیبیہ کے دن نازل ہوئی جو فتح مکہ‘ حج‘ نماز‘ قربانی‘ غلبہ اسلام اور کثرت امت کا فتح باب ہے۔
ذرا آگے چل کر پوری کی پوری سورہ (سورۂ کوثر) کی حکمت کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
سادہ لفظوں میں گویا یوں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز پڑھنے والی اور راہِ خدا میں خرچ کرنے والی ایک عظیم الشان امت دی ہے جو بیت الحرام کا حج کرے گی۔
یعنی وانحر سے مراد ’’بیت الحرام کا حج‘‘ کرنا ہے۔
ابن جریرؒ نے اس باب میں لکھا ہے:
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ فصل لربک وانحر والی آیت حدیبیہ کے دن نازل ہوئی۔ جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ قربانی کر کے لوٹ جاؤ۔ آنحضرتﷺ اٹھے اور عیدالفطر یا عیدالاضحی (راوی کو شبہ ہے) کا خطبہ دیا۔ پھر دو رکعت نماز ادا کی اور قربانی دی اس وقت حضرت جبریلؑ نے فصل لربک کا پیام دیا۔
یعنی جب کفار مکہ نے حضورﷺ کے قافلہ کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو بھی مکہ تک جانے سے روک دیا گیا (جیسا کہ سورۂ فتح میں مذکور ہے) تو سوال یہ پیدا ہوا کہ قربانی کے جانوروں کو کیا کیا جائے۔ اس وقت جبریلؑ آئے اور کہا کہ ان کی یہیں قربانی دے کر دو رکعت نماز پڑھ لیجئے۔
***
وانحر کے معنی بھی آپ نے دیکھ لئے اور مقامِ نزول کے متعلق بھی بیانات ملاحظہ کر لئے۔ ذرا غور کیجئے کہ ان سے کسی طرح بھی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وانحر سے مراد ہے دنیا کے ہر گلی کوچے میں قربانی کے جانور ذبح کرنا! اگر یہ سورت (سورۂ کوثر) مکہ میں نازل ہوئی تھی تو اندازہ یہ ہے کہ یہ ہجرت کے قریب کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے کیونکہ موجودہ ترتیب کے لحاظ سے یہ جن سورتوں کے درمیان رکھی گئی ہے ان کا تعلق ہجرت کے واقعہ سے ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں پر شدائد و مصائب ہجوم کر کے آچکے تھے۔ نظر بظاہر‘ ہر طرف مایوسی دکھائی دیتی تھی۔ وقت وہ آچکا تھا کہ انہیں اپنے گھر بار کو بھی چھوڑنا تھا۔ مستقبل میں بھی کوئی امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی تھی۔ ان یاس انگیز حالات میں انا اعطینٰک الکوثر (یقیناًہم نے تمہیں اپنے انعامات سے بڑی کثرت سے نوازا ہے) کا مژدۂ درخشندہ بڑا حیات بخش (اور مخالفین کے لئے حیرت انگیز) تھا۔ اس کے لئے ارشاد یہ ہوا کہ یہ کثرتِ نعماء نتیجہ ہوں گی اس نظام کی تشکیل و تنفیذ کا جس کا آغاز صلوٰۃ سے ہوتا ہے اور انتہا حج کے اجتماع سے۔ (فصل لربک وانحر)۔ نحر کے معنی اگر قربانی لئے جائیں تو یہ اونٹ کی قربانی کے لئے مختص ہے۔ ’’اونٹ کے ذبیحہ‘‘ میں ایک اور اہم حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا۔ مدینہ میں اس وقت یہودیوں کا غلبہ تھا۔ ہو سکتا تھا کہ کسی کو خیال پیدا ہو جائے کہ اب ’’کمزور اور ناتواں‘‘ مسلمانوں کا یہ قافلہ‘ ہجرت کے بعد‘ مدینہ کے یہودیوں سے مفاہمت (Compromise) کر کے‘ قریش مکہ کا مقابلہ کرے۔1؂ وانحر کے لفظ سے اس شبہ کو بھی مٹا دیا۔ یہودیوں کے ہاں اونٹ حرام تھا۔ مسلمانوں کو اونٹ ذبح کرنے کے لئے کہا گیا۔ یعنی یہود کے علی الرغم۔ یوں سمجھئے جس طرح آج ہندوستان کے شکستہ حال مسلمانوں کو کوئی ’’اشارۂ غیبی‘‘ یہ کہہ دے کہ ’’اٹھو اور گائے ذبح کرو‘‘۔ اور اگر یہ سورت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی تھی تو اس وقت بھی حالات سخت نامساعد تھے۔ نظر بظاہر‘ وہ صلح شکست ہی کے مرادف تھی لیکن قرآن نے عین اس وقت ’’عطائے کوثر‘‘ کا مژدہ حوصلہ افزا سنایا اور وانحر2؂ سے یہ بتا دیا کہ اگر انہوں نے آج تمہیں مکہ تک پہنچنے سے روک دیا ہے اور تمہاری قربانیوں کو بھی ان کی قربان گاہ (کعبہ) تک نہیں پہنچنے دیا‘ تو اس کا کیا غم! تم عنقریب وہاں پہنچ کر قربانیاں کرو گے۔
ان تصریحات کے بعد آپ سوچئے کہ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں وانحر سے عید کے دن ہر گلی کوچے میں قربانی کا وجوب کس طرح سے ثابت ہوتا ہے؟
لیکن اگر آپ کو اس پر اصرار ہے کہ وانحر سے مراد ہر گلی کوچے میں قربانی ہے تو ذرا حسب ذیل امور پر بھی غور کیجئے۔ ’’فصل لربک وانحر‘‘ میں فصل (نماز پڑھ) امر کا صیغہ ہے جس سے مطلب یہ ہے کہ نماز فرض ہے۔ اسی طرح وانحر امر کا صیغہ ہے‘ لہٰذا نحر بھی فرض ہوئی۔ یعنی جو حیثیت نماز کی ہے وہی حیثیت قربانی کی ہو گی۔ دونوں برابر کی فرض ہوں گی کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے۔ فصل (نماز) کے فرض ہونے کے متعلق تو کسی کو کلام نہیں۔ لیکن دیکھئے کہ وانحر (قربانی) کے متعلق کیا عقیدہ ہے۔ خود مودودی صاحب کے الفاظ میں ملاحظہ فرمایئے۔ تحریر فرماتے ہیں:
قرآن و حدیث کے ان دلائل کی بنا پر فقہائے امت نے بقر عید کی قربانی کے متعلق بالاتفاق یہ رائے دی ہے کہ یہ ایک مشروع فعل ہے اور سنن اسلام میں سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس میں کہ یہ واجب ہے یا نہیں۔ مگر اس کا مشروع اور سنت ہونا متفق علیہ ہے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی‘ فتح الباری میں مذاہب فقہاء کا خلاصہ اس طرح بیان کرتے ہیں:
اور اس امر میں کوئی اختلاف نہیں کہ بقر عید کی قربانی شرائع دین میں سے ہے۔ شافعیہ اور جمہور کے نزدیک یہ سنت موکدہ بطریق کفایت اور شافعیوں میں ایک دوسری رائے یہ ہے کہ مقیم اور خوشحال آدمی پر واجب ہے۔ امام مالکؒ کی رائے بھی ایک روایت کی رو سے یہی ہے مگر انہوں نے مقیم کی قید نہیں لگائی۔ اوزاعی اور ربیعہ کی بھی یہی رائے ہے۔ حنفیوں میں سے ابو یوسفؒ اور مالکیوں میں سے اشہب نے جمہور کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کی رائے یہ ہے کہ قدرت کے باوجود قربانی نہ کرنا مکروہ ہے۔ اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ قربانی ایک ایسی سنت ہے جسے چھوڑ دینے کی اجازت نہیں۔
آپ نے غور فرمایا کہ عید کی قربانی کسی کے نزدیک بھی فرض نہیں۔ زیادہ سے زیادہ سنت ہے اور وہ بھی ایسی کہ امام احمدؒ کے نزدیک اگر باوجود قدرت (استطاعت) کے قربانی نہ کی جائے تو یہ مکروہ ہو گا۔ آپ ذرا سوچئے کہ قرآن میں ’’فصل لربک وانحر‘‘ کا حکم آتا ہے۔ صل (نماز پڑھ) کے متعلق ہر ایک کا اتفاق ہے کہ یہ فرض عین ہے لیکن اسی حکم کے دوسرے ٹکڑے کے متعلق یہ کیفیت ہے کہ اسے کوئی بھی فرض قرار نہیں دیتا۔ صلوٰۃ کا تارک دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے لیکن استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والا‘ مکروہ فعل کا مرتکب گردانا جاتا ہے اور بس! اسی سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ وانحر سے مراد عید کی قربانی لینا کس طرح قرآنی مفہوم کہلا سکتا ہے۔
پھر‘ ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ اگر وانحر سے مراد قربانی ہے تو نحر صرف اونٹ کی قربانی کے لئے مخصوص ہے۔ گائے‘ بھیڑ‘ بکری کی قربانی اس میں قطعاً شامل نہیں۔
ایک قدم اور آگے۔ قرآن نے ’’فصل لربک وانحر‘‘ فرمایا صل کے معنی ہوئے ’’نماز پڑھ‘‘ اور وانحر کے ان کے نزدیک ’’قربانی کر‘‘۔ اب ظاہر ہے کہ صل کے حکم کی ادائیگی اسی شکل میں اور انہی شرائط کے ساتھ ہو گی جو قرآن میں دوسرے مقامات پر مذکور ہیں۔ مثلاً قرآن نے حکم دے دیا کہ صلوٰۃ کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا چاہئے۔ لہٰذا جب صل کہا جائے گا تو اس کے ساتھ یہ تمام شرائط مستلزم ہوں گی۔ جس طرح صل کے لئے یہ ضروری ہے اسی طرح وانحر کے لئے بھی یہ ضروری ہے۔ صل کے لئے قرآن نے سمتِ قبلہ کا تعین فرما دیا ہے۔ اسی طرح وانحر کے لئے قرآن ہی نے کعبہ کے مقام کی تعیین کر دی ہے۔ لہٰذا جس طرح صل (نماز) کے لئے سمت قبلہ ضروری ہے اسی طرح نحر (قربانی) کے لئے مقامِ کعبہ ضروری ہے۔ نہ سمتِ قبلہ کے بغیر (ہر طرف رخ کر کے) صلوٰۃ ہو سکتی ہے نہ مقامِ کعبہ کے بغیر (ہر مقام پر) قربانی۔ صل (صلوٰۃ) کے متعلق قرآن کی تمام حدود و قیود کا التزام ضروری قرار دینا لیکن وانحر (قربانی) کے متعلق‘ قرآن کی متعین کردہ شرط کے یکسر خلاف‘ دنیا کے ہر گلی کوچے کو قربان گاہ تصور کر لینا‘ اَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ -(2:85) (کتاب کے ایک حصہ پر ایمان اور دوسرے حصہ سے انکار) کے مرادف نہیں تو اور کیا ہے؟
***
آپ یقیناًحیران ہوں گے کہ جب قرآن میں قربانی کے متعلق ایسی تصریحات موجود ہیں تو پھر وہ کونسی وجہ ہے جس کی بنا پر یہ تمام حضرات اس پر مُصر ہیں کہ قربانی کی جگہ مختص نہیں۔ یہ ہر گلی کوچے میں ہو سکی ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جو دین کے دوسرے شعبوں کو قرآن کے خلاف لے جانے کی وجہ بنی ہے۔ یعنی روایات!! کچھ احادیث ایسی ہیں جن میں مذکور ہے کہ نبی اکرمﷺ نے عید قرباں کے دن اپنے طور پر قربانی کی۔ چونکہ ہمارے ہاں ’’دین‘‘ کی بنیاد قرآن نہیں‘ بلکہ احادیث ہیں‘ اور احادیث‘ قرآن کی ناسخ بھی ہو سکتی ہیں اور اس پر قاضی بھی‘ اس لئے جس معاملہ میں قرآن اور احادیث میں اختلاف ہو گا‘ ان لوگوں کا عمل حدیث کے مطابق ہو گا‘ قرآن کے مطابق نہیں۔ قرآن میں تصریح موجود ہے کہ قربانی حج کے موقع پر کعبہ میں کی جاتی ہے لیکن چونکہ چند ایک روایات میں آچکا ہے کہ رسول اللہﷺ عید کے دن قربانی کیا کرتے تھے اس لئے قرآن جو کچھ کہتا ہے اسے کہنے دیجئے۔ عمل حدیث پر ہو گا!
لیکن جیسا کہ روایات میں عام طور پر ہوتا ہے‘ اس باب میں بھی دونوں قسم کی روایات موجود ہیں۔ ایسی بھی جن سے مترشح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے عید کے دن قربانی کی اور ایسی بھی جن سے ظاہر ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود مکہ میں قربانی کی یا اپنے قربانی کے جانور مکہ معظمہ میں بھیجے۔ روایت پرست حضرات کی کیفیت یہ ہے کہ یہ ان احادیث کو تو بڑھ چڑھ کر پیش کرتے ہیں جن میں عید قرباں کی قربانی کا ذکر ہے لیکن ان دوسری قسم کی احادیث کا کبھی ذکر تک نہیں کرتے۔ علاوہ بریں‘ حدیث کو حجتِ دین قرار دینے میں ایک بہت بڑا ’’فائدہ‘‘ یہ بھی ہے کہ احادیث کے متناقض وغیرہ میں سے جو حدیث آپ کے مطلب کی ہو اسے آپ مستند قرار دے دیجئے اور جو آپ کے خلاف جائے اسے ضعیف ٹھہرا دیجئے۔ مودودی صاحب نے اپنے لئے اس باب میں اور بھی آسانیاں پیدا کر لی ہیں کیونکہ ان کا فیصلہ یہ ہے کہ حدیث کو مستند یا ضعیف قرار دینے کا معیار اس شخص کا فیصلہ ہے جو ’’مزاج شناسِ رسول اللہﷺ‘‘ ہو۔1؂ اسی مسلک کے پیش نظر مودودی صاحب نے اپنے محولہ بالا مضمون میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’اس باب میں جو مستند روایات ہیں ان میں سے چند یہ ہیں‘‘ (اس کے بعد کچھ روایات درج فرمائی ہیں)۔ لیکن جہاں اس قسم کی احادیث ہیں وہاں اس قسم کی احادیث بھی انہی کتابوں میں موجود ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ قربانی کے جانوروں کو مکہ بھیجا کرتے تھے۔ مثلاً
(1) بخاری‘ مسلم‘ ابوداؤد‘ ترمذی‘ مالک‘ نسائی‘ سب کے سب اس حدیث کے راوی ہیں جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: آنحضرتﷺ کا معمول تھا کہ آپ مدینہ سے ہدی کو مکہ روانہ فرماتے تھے تو آپ کے ہدی کے ہار میں بنایا کرتی تھی۔
(2) حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے حدیبیہ کے سال بہت سے اونٹ بطور ھدی مکہ کو روانہ کئے۔ ان میں ایک اونٹ چاندی کی نتھنی والا بھی تھا۔
(3) حضرت نافع ؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ اپنی قربانی کے جانوروں کو قباطی‘ انماط اور حلل کی جھول پہناتے پھر کعبہ کی طرف روانہ کر دیتے۔2؂
(4) زادالمعاد میں علامہ ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ حج 9ھ میں فرض ہوا۔ اس سال غزوۂ تبوک سے واپسی پر رسول اللہﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو کم و بیش تین سو مسلمانوں کے ہمراہ حج کے لئے بھیجا اور اپنے قربانی کے بیس اونٹ جن کے گلوں میں خود اپنے ہاتھ سے قلاوے پہنائے تھے ان کے ساتھ کر دیئے۔ دوسرے سال (10ھ میں) حضور اکرمﷺ نے خود حج کیا اور مکہ میں سو جانوروں کی قربانی کی۔ الغرض حج کی فرضیت کے بعد دو سال آپ زندہ رہے اور دونوں سال آپ کی طرف سے قربانی مکہ میں ہوئی۔
روایت پرست حضرات کہتے رہتے ہیں کہ کسی روایت کی صحت اور سقم جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ قرآن کے خلاف نہ ہو۔ بہت اچھا! قرآن نے قربانی کے لئے کعبہ کا مقام متعین کر دیا۔ روایات دونوں قسم کی موجود ہیں۔ وہ بھی جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود کعبہ میں قربانی کی اور یا اپنی قربانی کے جانور مکہ بھیجے اور وہ بھی جو قرآن کے خلاف یہ بتاتی ہیں کہ حضورﷺ نے عید کے موقع پر کہیں اور بھی قربانی کی۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ جو احادیث قرآن کے مطابق ہیں وہ صحیح ہیں لیکن یہ مولوی صاحبان مُصر ہیں کہ نہیں! جو احادیث قرآن کے خلاف ہیں وہ صحیح ہیں اور انہی کے مطابق وہ قربانی کو ہر گلی کوچہ میں واجب قرار دیتے ہیں۔ یہ ہے ان حضرات کا مذہب!
ناطقہ سر بگریباں کہ اسے کیا کہئے
***
چلئے! ہم یہ بھی مانے لیتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مکہ کے علاوہ اور جگہ بھی قربانی کی ہے۔ لیکن قرآن کے تعیینِ مقام کے پیش نظر‘ ہم یہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایسا اُس زمانے میں کیا ہو گا جب قرآن نے اس امر کی تعیین نہیں کی ہو گی۔ قرآن کے حکم کے بعد ایسا کبھی نہیں کیا ہو گا کیونکہ رسول اللہﷺ قرآن کی کامل اتباع فرماتے تھے۔ لہٰذا قرآن کی تعیین کے بعد رسول اللہﷺ کا وہ عمل جو قرآنی حکم سے پہلے کا ہو‘ سند نہیں قرار پا سکتا۔ مثلاً رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ لیکن کب؟ اس وقت جب ہنوز قرآن نے سمتِ قبلہ کا تعین نہیں کیا تھا۔ جب قرآن نے سمت متعین کر دی تو اس کے بعد رسول اللہﷺ قبلہ کی سمت نماز پڑھنے لگ گئے۔ اب اگر کوئی شخص‘ ان روایات کی بنا پر جن میں لکھا ہے کہ رسول اللہﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے‘ یہ کہے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا مسنون ہے کیونکہ۔۔۔ رسول اللہﷺ سے ایسا ثابت ہے تو کیا آپ اس ’’سنتِ‘‘ رسول اللہﷺ پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟ آپ ایسا نہیں کریں گے ۔ لیکن سوچئے کہ قربانی کے بارے میں آپ ایسا ہی کر رہے ہیں! جب قرآن نے مقامِ قربانی کا تعین کر دیا تو اس کے بعد رسول اللہﷺ کا وہ عمل جس میں آپﷺ نے (اس حکم سے پہلے) دوسرے مقامات پر قربانی کی ہو‘ سنت رسول اللہﷺ قرار نہیں پائے گا!
لیکن اگر آپ اس کے بعد بھی اسی پر مُصر ہیں کہ رسول اللہﷺ نے قرآنی تعیین کے بعد بھی‘ دوسری جگہ قربانی کی ہے‘ تو معاف فرمایئے! ہم حضورﷺ کے متعلق اس قسم کے خیال کی جرأت قطعاً نہیں کر سکتے۔ ہم اسے حضورﷺ کے خلاف بہت بڑا افترا سمجھتے ہیں اور افک عظیم۔ ایسا ہی افترا جیسے کوئی کہے کہ سمتِ قبلہ کے تعین کے بعد بھی حضورﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ کوئی روایت جو رسول اللہﷺ کے کسی عمل کو قرآنی تصریحات کے خلاف بتاتی ہے ہمارے نزدیک قطعاً وضعی ہے اور بہتان عظیم۔
***
قربانی کو عام طور پر ’’سنتِ ابراہیمیؑ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں۔ قرآن میں صرف اتنا مذکور ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس خواب کو حقیقی سمجھا اور حضرت اسمٰعیلؑ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ جب اُنہیں لٹا دیا تو خدا نے آواز دی کہ اے ابراہیم تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا!1؂ قرآن میں یہ کہیں مذکور نہیں کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی جگہ ایک مینڈھا جنت سے بھیجا گیا جس کی قربانی حضرت ابراہیمؑ نے کر دی۔ یہ بیان تورات کا ہے۔ قرآن کا نہیں۔ لہٰذا بکروں کی قربانی سنتِ ابراہیمیؑ بھی نہیں۔ اگر کسی کو سنتِ ابراہیمیؑ پر عمل پیرا ہونا ہے تو اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لٹائے۔ اس کے بعد اگر اسے خدا کی طرف سے آواز آجائے کہ بیٹے کو چھوڑ دو‘ توچھوڑ دے اور اگر ایسی آواز نہ آئے تو اُسے ذبح کر ڈالے! بیٹے کی جگہ بکرا ذبح کر دینا اور اسے قرار دینا سنتِ ابراہیمیؑ کا اتباع! تلاعب بالدین ہے۔
***
بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ قرآن میں ہے کہ خدا نے حضرت اسمٰعیلؑ کو ’’ذبح عظیم‘‘ کے فدیہ میں چھڑا لیا اور وہ ’’ذبح عظیم‘‘ یہی (بکروں اور مینڈھوں کی) قربانیاں ہیں جو ہر سال دی جاتی ہیں۔ یہ عقیدہ بھی خود تراشیدہ ہے۔ اول تو اس منطق پر غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے (حضرت) اسمٰعیلؑ کو چھری سے ذبح ہونے سے بچا کر ’’ذبح عظیم‘‘ (بہت بڑی قربانی) کے لئے مختص کر لیا۔ اور ہمارے ہاں اس سے مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ حضرت اسمٰعیلؑ کی قربانی کے مقابلہ میں بھیڑوں بکریوں کی قربانی ’’ذبح عظیم‘‘ ہے۔ غور کیجئے کہ اس سے کیسی بلند حقیقت کو کتنی پست سطح پر لایا جاتا ہے۔ حضرت اسمٰعیلؑ باپ کے پہلوٹھے بیٹے (اور منصب سرداری کے مستحق) ہونے کی جہت سے شام کی سرسبز و شاداب وادیوں کے حکمران بننے والے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ انہیں‘ اپنے خیال کے مطابق خدا کی راہ میں ذبح کر رہے تھے۔ چھری گلے تک آپہنچی تھی۔ بس ایک لمحہ میں یہ قربانی ختم ہو جانے والی تھی۔ اللہ نے انہیں چھری سے بچا کر حکم دیا کہ مکہ کی بے برگ و گیاہ وادی میں ’’ہمارا گھر‘‘ بناؤ اور حضرت اسمٰعیلؑ کو اس گھر کی پاسبانی کے لئے وقف کر دو۔ آپ غور کیجئے۔ سرزمین شام کی شادابیوں اور شگفتگیوں کی جگہ صحرائے عرب کا مسکن اور منصب سرداری اور حکمرانی کے بجائے عبادت گاہ کی تولیت! یہ تھی وہ بڑی قربانی جس کے لئے حضرت اسمٰعیلؑ کو چھڑا لیا گیا تھا۔ وہ قربانی جسے ایک لمحہ میں ختم نہیں ہو جانا تھا بلکہ ساری عمر ساتھ رہنا تھا۔ یہ ایک ایک سانس کی قربانی تھی۔ لمحہ بہ لمحہ قربانی تھی۔ مسلسل و متواتر قربانی تھی۔ عمر بھر کی قربانی تھی۔ بلکہ یوں کہئے کہ پشتوں تک کی قربانی تھی۔ حضرت اسحٰقؑ کی نسل کے حصہ میں شوکتِ سلیمانی اور دارائے داؤدی آگیا اور حضرت اسمٰعیلؑ کی اولاد کے حصہ میں صحرائے عرب کی عبادت گاہ کی رکھوالی۔ کہئے! یہ قربانی بڑی تھی یا ایک لمحہ میں رگِ جان کا کٹ جانا! یہ تھی وہ عظیم الشان قربانی جس کے اثرات صدیوں تک تولیتِ کعبہ کی شکل میں متوارث آگے بڑھتے رہے تآنکہ‘ شاخِ اسرائیلی کے بے نم ہو جانے کے بعد‘ یہ شاخ اسمٰعیلی‘ اس حسن و شادابی کے ساتھ گلبار و ثمر ریز ہوئی کہ اس کی تازگی اور شگفتگی میں قیامت تک فرق نہیں آئے گا۔ یہ تھا ثمرہ اس ’’ذبح عظیم‘‘ کا جس کے لئے حضرت اسمٰعیلؑ کو خدا نے وقف کر لیا تھا۔ اس حقیقت کے بعد سوچئے کہ ’’ذبح عظیم‘‘ سے مراد بھیڑوں‘ بکریوں کی قربانی لینا‘ قرآنی عظمتوں کو کن پستیوں تک لے جانا ہے۔
***
اب آخر میں دیکھئے مودودی صاحب کی وہ دلیل‘ جو اس وقت دی جاتی ہے جب کوئی دلیل نہیں سوجھتی۔ وہ دلیل جس کے متعلق قرآن کریم نے ہر نبی کے واقعات کے سلسلہ میں بیان کیا ہے۔ یعنی جب بھی اللہ کا کوئی رسول آتا اور لوگوں کو وحی خداوندی کی طرف دعوت دیتا تو سامنے سے جواب یہ ملتا کہ ہم اس علم و بصیرت کی اتباع نہیں کریں گے جس کی طرف تم دعوت دیتے ہو۔ بلکہ
اِنَّا وَجَدْنَا آبَاء نَا عَلَی اُمَّۃٍ وَاِنَّا عَلَی آثَارِہِم مُّہْتَدُونَ-(43:22)
ہم نے اپنے اسلاف کو ایک مسلک پر چلتے پایا ہے۔ ہم انہی کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔
مترفین قوم یہ کہہ کر عوام کو بھڑکا دیتے اور پھر عوام ان مدعیانِ حق و صداقت کے پیچھے پڑ جاتے۔ یہی سابقہ انبیائے کرامؑ کی وحی کے ساتھ ہوتا رہا اور یہی نبی اکرمﷺ کی طرف آمدہ وحی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چنانچہ مودودی صاحب اس باب میں فرماتے ہیں:
سب سے بڑا ثبوت اس کے سنت اور مشروع ہونے کا یہ ہے کہ نبیﷺ کے عہد مبارک1؂ سے لے کر آج تک مسلمانوں کی نسل اس پر عمل کرتی چلی آئی ہے۔ دوچار یا دس پانچ آدمیوں نے نہیں بلکہ ہر پشت کے لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں نے اس طریقہ کو اخذ کیا ہے اور اپنے بعد والی پشت تک کے لاکھوں‘ کروڑوں مسلمانوں تک اسے پہنچایا ہے۔
اس کے بعد مودودی صاحب اس حربہ پر اتر آتے ہیں جس سے عوام کے جذبات کو مشتعل کیا جاتا ہے۔
اگر تاریخ اسلام کے کسی مرحلہ پر کسی نے اسے ایجاد کر کے دین میں شامل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ عام مسلمان بالاتفاق رائے اسے قبول کرتے اور کہیں کوئی بھی اس کے خلاف لب کشائی نہ کرتا۔ آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری امت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ہماری پچھلی نسلیں ایسی ہی منافق تھیں تو معاملہ قربانی تک کب محدود رہتا ہے۔ پھر تو نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ بلکہ خود رسالت محمدیہﷺ اور قرآن تک سب ہی کچھ مشکوک و مشتبہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
اس کے بعد ارشاد ہے:
افسوس ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگ نہ خدا کا خوف رکھتے ہیں‘ نہ خلق کی شرم‘ علم اور سمجھ بوجھ کے بغیر جو شخص جس دینی مسئلہ پر چاہتا ہے۔ بے تکلف تیشہ چلا دیتا ہے پھر اسے کچھ پروا نہیں ہوتی کہ اس ضرب سے صرف اسی ایک مسئلہ کی جڑ کٹتی ہے یا ساتھ ہی ساتھ دین کی بھی جڑ کٹ جاتی ہے۔
یہ ہے وہ آخری دلیل محکم جو سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی طرف سے قربانی کے ثبوت میں پیش ہوئی ہے۔ اس دلیل کا جواب اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے جو خود خدا نے دیا ہے جب فرمایا کہ:
وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا اَنزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْْہِ آبَاء نَا اَوَلَوْ کَانَ الشَّیْْطَانُ یَدْعُوہُمْ اِلَی عَذَابِ السَّعِیْرِ -(31:21)
جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں! ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے اسلاف کو دیکھا ہے۔ خواہ انہیں شیطان جلتی ہوئی آگ کے عذاب کی طرف ہی کیوں نہ بلا رہا ہو۔
یا خود مودودی صاحب کے الفاظ میں کہ:
جو چیز قرآن کے الفاظ یا اسپرٹ کے خلاف ہو گی اسے ہم یقیناًرد کر دیں گے۔ (تفہیمات‘ حصہ اول‘ ص329)۔
مودودی صاحب عوام کو بھڑکانے کی خاطر فرماتے ہیں کہ:
’’آخر یہ امت ساری کی ساری منافقوں پر ہی تو مشتمل نہیں رہی ہے کہ حدیثوں پر حدیثیں قربانی کی مشروعیت پر گھڑ دی جائیں اور ایک نیا طریقہ ایجاد کر کے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کر دیا جائے اور پوری امت آنکھیں بند کر کے اسے قبول کر بیٹھے؟‘‘
یعنی مودودی صاحب کے نزدیک یہ امر محال ہے کہ رسول اللہﷺ کے بعد کوئی ایسی چیز دین میں داخل کر دی گئی ہو جو خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہو اور وہ امت میں اس طرح رائج ہو جائے کہ پھر تمام مسلمان اسی مسلک پر چل پڑیں۔ یہ دلیل (بظاہر) بڑی وزنی معلوم ہوتی ہے لیکن اس کا جواب ہم سے نہیں‘ خود مودودی صاحب کی زبان سے سنئے۔ مودودی صاحب نے آج سے کچھ عرصہ پہلے‘ رسالہ الفرقان (بریلی) کے شاہ ولی اللہ نمبر میں ’’منصب تجدید کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے پہلے یہ بتایا تھا کہ اصلی اسلام کیا تھا اور اسے رسول اللہﷺ نے کس طرح متشکل فرمایا۔ اس کے بعد انہوں نے لکھا تھا کہ اس اصلی اسلام پر کیا گذری اور کس طرح گذری۔ سنئے کہ وہ اس باب میں کیا فرماتے ہیں۔ (اقتباس طویل ہے لیکن ایسا ناگزیر تھا)۔ آپ لکھتے ہیں:
خاتم النبیین سیدنا محمدﷺ نے یہ سارا کام 23 سال کی مدت میں تکمیل کو پہنچا دیا۔ آپ کے بعد ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ دو ایسے کامل لیڈر اسلام کو میسر آئے جنہوں نے اسی جامعیت کے ساتھ آپ کے کام کو جاری رکھا۔ پھر زمام قیادت حضرت عثمانؓ کی طرف منتقل ہوئی اور ابتداً چند سال تک وہ پورا نقشہ بدستور جما رہا جو نبیﷺ نے قائم کیا تھا۔
جاہلیت کا حملہ: مگر ایک طرف حکومت اسلامی۔۔۔ کی تیز رفتار وسعت کی وجہ سے کام روز بروز زیادہ سخت ہوتا جا رہا تھا اور دوسری طرف حضرت عثمانؓ‘ جن پر اس کارعظیم کا بار رکھا گیا تھا‘ ان تمام خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیش روؤں کو عطا ہوئی تھیں‘ اس لئے جاہلیت کو اسلامی نظام اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔ حضرت عثمانؓ نے اپنا سر دے کر اس خطرے کا راستہ روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ رُکا۔ ان کے بعد حضرت علیؓ آگے بڑھے اور انہوں نے اسلام کے سیاسی اقتدار کو جاہلیت کے تسلط سے بچانے کی انتہائی کوشش کی مگر ان کی جان کی قربانی بھی اس انقلاب معکوس کو نہ روک سکی۔ آخر کار خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا دور ختم ہو گیا‘ ’’ملک۔۔۔ ‘‘ نے اس کی جگہ لے لی‘ اور اس طرح حکومت کی اساس اسلام کی بجائے پھر جاہلیت پر قائم ہو گئی۔
حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد جاہلیت نے مرض سرطان کی طرح اجتماعی زندگی میں اپنے ریشے بتدریج پھیلانے شروع کر دیئے‘ کیونکہ اقتدار کی کنجی اب اسلام کی بجائے اس کے ہاتھ میں تھی اور اسلام زور حکومت سے محروم ہونے کے بعد اس کے نفوذ و اثر کو بڑھنے سے نہ روک سکتا تھا۔ سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہ آئی تھی بلکہ ’’مسلمان‘‘ بن کر آئی تھی۔ کھلے دہریئے یا مشرکین و کفار سامنے ہوتے تو مقابلہ شاید آسان ہوتا‘ مگر وہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار‘ رسالت کا اقرار‘ صوم و صلوٰۃ پر عمل‘ قرآن و حدیث سے استشہاد تھا اور اس کے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی تھی۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے عہدہ برآ ہونا ہمیشہ جاہلیتِ صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لئے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سے لڑنے جایئے تو منافقین ہی نہیں‘ بہت سے اصلی مسلمان بھی اس کی حمایت پر کمربستہ ہو جائیں گے اور الٹا آپ کو مورد الزام بنا ڈالیں گے۔ جاہلی امارت کی مسند اور جاہلی سیاست کی رہنمائی پر ’’مسلمان‘‘ کا جلوہ افروز ہونا‘ جاہلی تعلیم کے مدرسے میں ’’مسلمان‘‘ کا معلم ہونا‘ جاہلیت کے سجادہ پر ’’مسلمان‘‘ کا مرشد بن کر بیٹھنا وہ زبردست دھوکا ہے جس کے فریب میں آنے سے کم ہی لوگ بچ سکتے ہیں۔
اس معکوس انقلاب کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہی تھا کہ اسلام کا نقاب اوڑھ کر تینوں قسم کی جاہلیتوں نے اپنی جڑیں پھیلانی شروع کر دیں اور ان کے اثرات روز بروز زیادہ پھیلتے چلے گئے۔
جاہلیت خالصہ نے حکومت اور دولت پر تسلط جما لیا۔ نام خلافت کا تھا اور اصل میں وہی پادشاہی تھی جس کو مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔ بادشاہوں کو الٰہ کہنے کی ہمت کسی میں باقی نہ تھی اس لئے ’’السلطان ظل اللہ‘‘ کا بہانہ اختیار کیا گیا اور اس بہانے سے وہی مطاع مطلق کی حیثیت بادشاہوں نے اختیار کی جو الٰہ کی ہوتی ہے۔ اس شاہی کی سرپرستی میں امراء‘ حکام‘ ولاۃ‘ اہل لشکر اور مترفین کی زندگیوں میں کم و بیش خالص جاہلیت کا نقطۂ نظر پھیل گیا اور اس نے ان کے اخلاق اور معاشرت کو پوری طرح ماؤف کر دیا۔ پھر یہ بالکل ایک طبعی امر تھا کہ اس کے ساتھ ہی جاہلیت خالصہ کا فلسفہ‘ ادب اور ہنر بھی پھیلنا شروع ہو‘ اور علوم و فنون بھی اسی طرز پر مرتب و مدون ہوں‘ کیونکہ یہ سب چیزیں دولت اور حکومت کی سرپرستی چاہتی ہیں‘ اور جہاں دولت اور حکومت جاہلیت کے قبضہ میں ہوں وہاں ان پر بھی جاہلیت کا تسلط ناگزیر ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یونان اور عجم کے فلسفے اور علوم و آداب نے اس سوسائٹی میں راہ پائی جو اسلام کی طرف منسوب تھی‘ اور اس کی دراندازی سے ’’کلامیات‘‘ کی بحثیں شروع ہوئیں‘ اعتزال کا مسلک نکلا‘ زندقہ اور الحاد‘ پَر پُرزے نکالنے لگا اور ’’عقائد‘‘ کی موشگافیوں نے نئے نئے فرقے پیدا کر دیئے۔ اسی پر بس نہیں رقص‘ موسیقی اور تصویر کشی جیسے خالص جاہلی آرٹ بھی ازسرِنو ان قوموں میں بار پانے لگے جن کو اسلام نے ان فتنوں سے بچا لیا تھا۔
جاہلیت مشرکانہ نے عوام پر حملہ کیا اور توحید کے راستے سے ہٹا کر ان کو ضلالت کی بے شمار راہوں میں بھٹکا دیا۔ ایک صریح بت پرستی تو نہ ہو سکی باقی کوئی قسم شرک کی ایسی نہ رہی جس نے ’’مسلمانوں‘‘ میں رواج نہ پایا ہو۔ پرانی جاہل قوموں کے جو لوگ اسلام میں داخل ہوئے تھے وہ اپنے ساتھ بہت سے مشرکانہ تصورات لئے چلے آئے اور یہاں ان کو صرف اتنی تکلیف کرنی پڑی کہ پرانے معبودوں کی جگہ مقابر اولیاء سے کام لیں اور پرانی عبادات کی رسموں کو بدل کر نئی رسمیں ایجاد کریں۔ اس کام میں دنیا پرست علماء نے ان کی بڑی مدد کی اور وہ بہت سی مشکلات ان کے راستہ سے دور کر دیں جو شرک کو اسلام کے اندر نصب کرنے میں پیش آسکتی تھیں۔ انہوں نے بڑی دیدہ ریزی سے آیات اور احادیث کو توڑ مروڑ کر اسلام میں اولیا پرستی اور قبر پرستی کی جگہ نکالی‘ مشرکانہ اعمال کے لئے اسلام کی اصطلاحی زبان میں سے الفاظ بہم پہنچائے اور اس نئی شریعت کے لئے رسموں کی ایسی صورتیں تجویز کیں کہ شرکِ جلی کی تعریف میں نہ آسکیں۔ اس فنی امداد کے بغیر اسلام کے دائرے میں شرک بیچارہ کہاں بار پا سکتا تھا؟
جاہلیتِ راہبانہ نے علماء مشائخ‘ زھاد اور پاک باز لوگوں پر حملہ کیا اور ان میں وہ خرابیاں پھیلانی شروع کیں جن کی طرف میں اس سے پہلے اشارہ کر آیا ہوں۔ اس جاہلیت کے اثر سے اشراقی فلسفہ‘ راہبانہ اخلاقیات اور زندگی کے ہر پہلو میں مایوسانہ نقطۂ نظر مسلم سوسائٹی میں پھیلا اور اس نے نہ صرف یہ کہ ادبیات اور علوم کو متاثر کیا‘ بلکہ فی الواقع سوسائٹی کے اچھے عناصر کو مارفیا کا انجکشن دے کر سست کر دیا‘ پادشاہی کے جاہلی نظام کو مضبوط کیا‘ اسلامی علوم و فنون میں جمود اور تنگ خیالی پیدا کی اور ساری دین داری کو چند خاص مذہبی اعمال میں محدود کر دیا۔
مودودی صاحب کے بیان کے مطابق‘ رسول اللہﷺ کی وفات کے تھوڑے عرصہ بعد ’’جاہلیت‘‘ اسلام میں گھس آئی اور اس نے مرض سرطان کی طرح مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں اپنے ریشے بتدریج پھیلانے شروع کر دیئے اور اس کے بعد ہو یہ گیا کہ امارت کی مسند اور سیاست کی راہنمائی پر‘ جاہلیت مسلمان کا نقاب اوڑھ کر بیٹھ گئی۔ تعلیم کی مدد سے جاہلیت مسلمان کے لباس میں معلم بن کر متمکن ہو گئی اور خانقاہوں کے سجادوں پر جاہلیت مرشد و مربی کے خرقوں سے مسلط ہو گئی۔ غرضیکہ تھوڑے ہی دنوں کے بعد زندگی کے عناصر ثلاثہ‘ سیاست‘ شریعت اور تصوف‘ سب پر غیر اسلامی تصورات چھا گئے اور چھا گئے خالص اسلام کا نقاب اوڑھ کر۔
ہم مودودی صاحب سے پوچھتے یہ ہیں کہ جب سرے سے پورے کے پورے اسلام کی جگہ ایک جدید اسلام نے لے لی تھی اور غیر اسلامی معتقدات و اعمال‘ یکسر اسلامی شعائر و مناسک بن کر مسلمانوں میں مروج ہو گئے تھے۔ تو اس سیلاب جاہلیت میں اگر یہ خیال بھی بہ کر آگیا ہو کہ ہر گلی کوچے میں قربانی امرِ مشروع ہے‘ تو اس میں کونسی بات وجۂ استعجاب ہے!
اصل یہ ہے کہ مودودی صاحب کرتے یہ ہیں (اور یہ مسلک ہر شخص کا ہوتا ہے جو ایک نئی پارٹی (فرقہ) کا مرکز بن رہا ہو) کہ جب انہیں یہ (Suit) کرے کہ مسلمانوں کو گمراہ اور برباطل قرار دیا جائے تو وہ بے محابا ایسا کہتے چلے جائیں گے۔ لیکن اس استثناء کے ساتھ کہ ’’اس گمراہی و ضلالت کے باوجود‘ ہر زمانے میں کچھ لوگ ایسے رہتے ہیں جو حق پر ہوتے ہیں‘‘ تاکہ اس سے وہ اپنی پارٹی کو برسرِ حق ثابت کر سکیں لیکن جب کوئی دوسرا شخص یہ کہے کہ مسلمانوں میں فلاں بات غلط چلی آرہی ہے تو وہ جھٹ جمہور کے بہی خواہ بن بیٹھیں گے اور انہیں یہ کہہ کر بھڑکائیں گے کہ ’’دیکھو! یہ شخص تمہارے اسلاف کے متعلق کہتا ہے کہ وہ سب گمراہ تھے۔ استغفراللہ۔ توبہ توبہ‘ ایسی جرأت!‘‘ مثلاً پچھلے دنوں مودودی صاحب نے ایک اصول بیان فرمایا تھا کہ جو شخص کسی منصب کے لئے امیدوار ہو اسے اس منصب سے محروم کر دینا چاہئے کیونکہ ان کے نزدیک کسی منصب کے لئے اپنے آپ کو بطور امیدوار پیش کرنا قرآن اور حدیث دونوں کے خلاف ہے۔ اس پر کسی صاحب نے اعتراض کیا کہ حضرت علیؓ نے اپنے آپ کو خلافت کے لئے خود بطور امیدوار پیش کیا تھا۔ اس کے جواب میں مودودی صاحب نے ارشاد فرمایا تھا کہ:
آخری فیصلہ کن بات اس مسئلہ میں یہ ہے کہ اگر صحابہ کرامؓ یا بزرگانِ سلف میں سے کسی کا عمل ایک طرف ہو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے ارشادات دوسری طرف تو ہمارے لئے یہ کسی طرح جائز نہیں کہ خدا اور رسولﷺ کے فرمان کو چھوڑ کر کسی بزرگ کے عمل کو اپنے لئے قانونِ زندگی قرار دیں۔ جس کا جو عمل بھی فرمانِ خدا اور رسولﷺ سے مختلف ہو وہ ایک لغزش ہے نہ کہ حجت۔ ان بزرگوں کی خوبیاں اور خدمات تو اتنی زیادہ تھیں کہ ان کی لغزشیں معاف ہو جائیں گی مگر ہم سے زیادہ بدقسمت کون ہو گا اگر ہم اپنے گناہوں کے ساتھ ساتھ پچھلے بزرگوں کی لغزشیں بھی چن چن کر اپنی زندگی میں جمع کر لیں۔
اگر یہی چیز کہیں طلوع اسلام میں شائع ہو جاتی تو آپ دیکھتے کہ اس پر کس طرح سب و شتم کی پوچھار ہوتی اور جمہور کو کس طرح یہ کہہ کر ابھارا جاتا کہ دیکھو! اب‘ اور تو اور‘ حضرت علیؓ کی ذاتِ گرامی پر بھی حملے ہونے لگ گئے ہیں!
بہرحال‘ آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ مودودی صاحب نے اپنے اس اعتراض کا جواب‘ کہ امت میں اس قسم کا خلافِ اسلام مسلک کیسے رائج ہو سکتا تھا‘ خود ہی کس طرح دے دیا ہے۔ مودودی صاحب نے یہ تو بتا دیا کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد کس طرح پورے کا پورا اسلام ایک دوسری قسم کے اسلام سے بدلا گیا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ جاہلیت‘ جو اسلام کا نقاب اوڑھ کر اندر گھسی تھی‘ آئی کن کن راہوں سے تھی اور اس کا طریقِ کار کیا تھا؟ مودودی صاحب کے لئے یہ بتانا مشکل تھا۔ مجرد گفتگو (Abstract talk) میں انسان کے لئے بڑی گنجائش رہتی ہے لیکن متعین گفتگو (Definite talk) میں آپ کو نتھر کر سامنے آنا پڑتا ہے۔ مودودی صاحب جانتے ہیں کہ ’’جاہلی اسلام‘‘ نے یہ سب کچھ روایات کی آڑ میں کیا۔ طلوع اسلام اس کو وہ سازش قرار دیتا ہے جس کا ذکر اس کے صفحات پربار بار ہوتا چلا آرہا ہے اور اس طرح مسلمانوں کے دامن کو روایات کی جھاڑیوں سے چھڑانا چاہتا ہے۔ مودودی صاحب بھی روایات کو ویسا ہی غیر یقینی مانتے ہیں جیسا طلوع اسلام۔ روایات کے متعلق ان کے یہ خیالات اس سے قبل انہی صفحات پر پیش کئے جا چکے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں۔
(1) صداقت کے ساتھ صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ پہلی صدی کے
آخر سے حدیث کے ذخیرے میں ایک حصہ ایسی روایات کا بھی داخل ہونے لگا تھا جو موضوع تھیں اور یہ کہ بعد کی نسلوں کو جو احادیث پہنچیں ان میں صحیح اور غلط اور مشکوک سب ملی جلی تھیں۔
(2) یہ بات ناقابلِ انکار ہے کہ علم کا جیسا مستند اور معتبر ذریعہ قرآن مجید ہے ویسا مستند اور معتبر ذریعہ حدیث نہیں ہے۔
(3) محدثین کرام نے اسماء الرجال کا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا جو بلاشبہ نہایت بیش قیمت ہے۔ مگر ان میں کونسی چیز ہے جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو۔۔۔ نفس ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا تھا اور اس بات کا قوی امکان تھا کہ اشخاص کے متعلق اچھی یا بری رائے قائم کرنے میں ان کے ذاتی رجحانات کا بھی کسی حد تک دخل ہو جائے۔ یہ امکان محض عقلی نہیں بلکہ اس امر کا ثبوت موجود ہے۔
(4) وہ بھی تو آخر انسان تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں۔ کیا ضروری ہے کہ جس کو انہوں نے ثقہ قرار دیا ہو وہ بالیقین ثقہ اور تمام روایتوں میں ثقہ ہو اور جس کو انہوں نے غیر ثقہ ٹھہرایا ہو وہ بالیقین غیر ثقہ ہو۔
(5) یہ مواد اس حد تک قابل اعتماد ضرور ہے کہ سنت نبویﷺ اور آثار صحابہؓ کی تحقیق میں اس سے مدد لی جائے اور اس کا مناسب لحاظ کیا جائے مگر اس قابل نہیں ہے کہ بالکل اسی پر اعتماد کر لیا جائے۔
(6) حقیقت یہ ہے کہ روایات کے لحاظ سے نقد حدیث کے جس قدر ذرائع ہمارے پاس ہیں وہ مفید علم و یقین نہیں ہیں بلکہ ظن غالب ہی تک ہمیں پہنچاتے ہیں۔1؂
لیکن اس کے بعد‘ طلوعِ اسلام تو کھلے کھلے کہہ دے گا کہ حق (قرآن) کی موجودگی میں ظن و تخمین (روایات) دین میں حجت نہیں قرار دی جا سکتیں۔ لیکن مودودی صاحب ایسا نہیں کہیں گے۔ اس لئے کہ ایسا کہنے سے وہ بھی ’’منکرِ حدیث‘‘ قرار پا جائیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ منکر حدیث کبھی اسلامی جماعت کا امیر نہیں رہ سکتا نہ ہی عوام میں مقبول رہ سکتا ہے۔ وہ روایات کو غیر یقینی قرار دے کر ماڈرن طبقہ کے نزدیک ماڈرن بن جائیں گے اور اپنی تحریروں میں ’’کتاب و سنت‘‘۔ ’’کتاب و سنت‘‘ کے الفاظ دہرا دہرا کر‘ عوام میں حامی سنت رسول اللہﷺ قرار پائیں گے۔
اس کے علاوہ‘ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے‘ احادیث کو دین قرار دینے میں گنجائش بڑی نکل آتی ہے۔ حدیثوں کے مجموعہ میں ہر قسم کی روایات مل جاتی ہیں۔ جس حدیث کو آپ اپنے مطلب کے مطابق سمجھیں اسے ’’مستند‘‘ کہہ دیں۔ جو اس کے خلاف ہو‘ اسے ضعیف قرار دے دیں؟ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ ماہ قبل یہ بحث چلی تھی کہ اسلام میں زمین کی انفرادی ملکیت جائز ہے یا نہیں۔ اس ضمن میں بعض حضرات نے ایسی احادیث پیش کیں جن سے مترشح ہوتا تھا کہ زمین پر انفرادی ملکیت جائز نہیں اور زمین بٹائی پر نہیں دی جا سکتی۔ مودودی صاحب زمین پر زمینداروں کی ملکیت رکھنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہہ دیا کہ جو احادیث بٹائی کو ناجائز قرار دیتی ہیں سب غیر مستند ہیں اور جو احادیث میں بٹائی کے حق میں پیش کر رہا ہوں بالکل ثقہ اور صحیح ہیں۔
***
گذشتہ اوراق میں جو کچھ آپ کی نظروں سے گذر چکا ہے اسے بغور دیکھئے۔ یہ حقیقت آپ کے سامنے آجائے گی کہ:
(i) قرآن کریم نے قربانی کا ذکر حج کے سلسلہ میں کیا ہے۔
(ii) ایک جگہ نہیں‘ متعدد مقامات پر اس کی تخصیص اور تعیین کر
دی ہے کہ قربانیوں کا مقام خانہ کعبہ ہے۔
(iii) قربانی کے متعلق واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اس سے
مقصود سامانِ خور و نوش کا مہیا کرنا ہے۔
(iv) قرآن میں کوئی ایک مقام بھی ایسا نہیں جس سے ثابت
ہوتا ہو کہ عید کے دن‘ اپنی اپنی جگہ‘ ہر گلی‘ کوچے میں
قربانیاں دینے کا حکم ہے۔
اس سے یہ واضح ہے کہ قرآن کی رُو سے
(ا) قربانی حج کی تقریب پر کرنی چاہئے اور وہ بھی صرف اسی
قدر جس سے خور و نوش کا سامان ہو جائے۔ لہٰذا
(ب) نہ تو حج میں ایسی قربانیوں کی اجازت ہے جنہیں زمین
میں دبا دیا جائے اور نہ ہی حج سے باہر قربانی کا کوئی
سوال پیدا ہوتا ہے۔
یہ ہے قرآن کی کھلی کھلی اور واضح تعلیم۔ باقی رہیں احادیث۔ سو
(i) ان میں دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں۔ وہ بھی جن سے مترشح ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے عید کے دن قربانی کی اور وہ بھی جن سے ظاہر ہے کہ حضورﷺ نے یا تو خود مکہ معظمہ میں بتقریب حج قربانی کی یا قربانی کے جانوروں کو مکہ معظمہ بھیجا۔
(ii) لہٰذا قرآن کی تخصیص و تعیینِ مقام و تقریب کے بعد‘ اول قسم کی احادیث کے متعلق یہی سمجھنا چاہئے کہ وہ
(ا) یا تو اس زمانے سے متعلق ہیں جب قرآن میں ہنوز حج کی قربانی کے احکام نہیں آئے تھے۔ اس لئے جب وہ احکام آگئے تو رسول اللہﷺ کا یہ عمل‘ سند نہ رہا۔ اور
(ب) اگر شق (ا)ناقابلِ تسلیم ہو تو پھر لامحالہ اسی نتیجہ پر پہنچا جائے گا کہ یہ روایات وضعی ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ کا کوئی عمل قرآن کے خلاف ہو نہیں سکتا۔
لیکن اگر اس کے باوجود آپ کو اس پر اصرار ہے کہ حج میں ہر حاجی کو ایک‘ ایک‘ دو دو‘ چار چار‘ دس دس‘ سو سو جانور ذبح کرنے کی اجازت ہے اور ہر جانور کے ذبح کرنے کا ثواب ملتا ہے اور نیز یہ کہ دنیا کے ہر گلی کوچے میں عید کے دن جانور ذبح کرنا امر مشروع ہے۔ تو ہم اس سے زیادہ اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا کام راستہ دکھا دینا ہے۔ راستے پر لگا دینا نہیں۔
مشکل یہ ہے کہ جب انسان کے ذہن میں کوئی بات اندھی تقلید کی بنا پر بطور عقیدہ جم جائے تو اس میں خالی الذہن ہو کر سوچنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔ اگر ان حضرات میں خالی الذہن ہو کر سوچنے کی صلاحیت ہوتی تو ہم ان سے کہتے کہ آپ ذرا تصور میں لایئے کہ کسی جگہ قریب ایک لاکھ انسان جمع ہوں اور ان میں سے ہر ایک دو‘ دو۔ چار چار‘ بھیڑوں بکریوں کو ذبح کر کے زمین پر تڑپتا چھوڑ دے اور اس کے بعد ان تمام تین چار لاکھ لاشوں کو گڑھے کھود کھود کر دبا دیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی دنیا میں ہر مقام پر کروڑوں کی تعداد میں اسی طرح جانور ذبح کئے جائیں اور دن بھر ان جانوروں کا گوشت اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر گھومتا پھرے اور اس کے بعد یہ قوم اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے ایک بہت بڑا کارنمایاں سرانجام دے دیا جس کا انہیں خدا کے ہاں بہت بڑا اجر ملے گا اور یہ جانور انہیں جہنم سے پار لگانے کا موجب بنیں گے۔ یہ منظر تصور میں لایئے اور پھر سوچئے کہ ان چار روایتوں نے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے‘ آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا اور کیا سے کیا بنا دیا ہے۔ روایات نے کیا یہ ہے کہ اسلام جیسے زندگی بخش نظامِ حیات کو رسومات کا مجموعہ بنا دیا ہے (اور یہی ان لوگوں کا مقصود تھا جنہوں نے مسلمانوں کو قرآن سے ہٹا کر روایات میں الجھا دیا۔ رسومات سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کو نتائج کے اعتبار سے نہیں پرکھتا بلکہ انہی کو بجائے خویش مقصود قرار دے لیتا ہے۔ ان کے برعکس دین (نظامِ زندگی) میں ہر عمل ایک مقصد کے حصول کا ذریعہ ہوتا ہے اس لئے اسے ہمیشہ نتائج کے لحاظ سے پرکھا جاتا ہے چونکہ رسومات‘ غور و فکر کے معیار پر کبھی پوری نہیں اترتیں اس لئے ان کے ساتھ ہی یہ عقیدہ پیدا کر دیا جاتا ہے کہ مذہب میں عقل کا کوئی کام نہیں۔ دین کو رسومات میں بدلنے کے لئے شروع میں ضرور کاوش کرنی پڑتی ہے لیکن جب ایک دو نسلوں تک یہ سلسلہ چل جائے تو اس کے بعد سابقہ نسل کا عمل (اسلاف کا مسلک) آنے والی نسل کے لئے سند قرار پا جاتا ہے اور اس طرح یہ گاڑی خود اپنے زور (Momentum) سے خود بخود آگے بڑھتی جاتی ہے اور جوں جوں زمانہ گذرتا جاتا ہے ’’اسلاف کے مسلک‘‘ کی سند پختہ سے پختہ تر ہوتی جاتی ہے کیونکہ اس طرح نسلاً بعد نسلٍ اسلاف کی تعداد میں بھی تو اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے حتی زرتم المقابر۔ قوم زندگی کی تمام صلاحیتوں سے محروم ہو جاتی ہے۔ ہم اسی (Momentum) کے زور میں بہے چلے جا رہے ہیں‘ ورنہ اگر کسی وقت بھی‘ تھوڑی دیر کے لئے کھڑے ہو کرسوچ لیا جائے تو بات کچھ ایسی مشکل نہیں جو سمجھ میں نہ آسکے۔ رسول اللہﷺ کا عہد ہمایوں نہایت مختصر سا عرصہ تھا۔ اس وقت یہی دین تھا اور یہی اس کے احکام‘ جن کے ہم آج مدعی ہیں۔ اس نے جو نتائج پیدا کر دیئے وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔ اس کے بعد تیرہ سو برس سے مسلمانوں میں یہ تمام ’’اعمال‘‘ (نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ کلمہ وغیرہ) مسلسل چلے آرہے ہیں لیکن یہ واقعہ ہے کہ اس عہد کے بعد ان اعمال و معتقدات نے کبھی وہ نتائج پیدا نہیں کئے جو اس عہد میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس کے بعد ان ’’اعمال‘‘ کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پھل دینا ہی بند کر دیا؟ اس باب میں زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ :
(1) اس وقت خود رسول اللہﷺ موجود تھے اور ان کی وجہ
سے ان اعمال نے ایسے ثمرات مرتب کر دیئے۔
(2) وہ دور صحابہؓ کا تھا۔ اس کے بعد ویسے مسلمان کہاں
سے آئیں۔
ذرا سوچئے کہ یہ دلائل کس قدر خود فریبی کا موجب ہیں۔ اگر ان اعمال کے نتیجہ خیز ہونے کے لئے خود رسول کی موجودگی ضروری تھی تو پھر سلسلۂ نبوت ختم کیوں کر دیا گیا؟ میر زائی‘ نبوتِ میرزا کے جواز میں یہی دلیل پیش کرتے ہیں لیکن قرآن اس دلیل کی صاف تردید کرتا ہے۔ وہ برملا کہتا ہے کہ وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُولٌ۔ محمدﷺ صرف خدا کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ۔ اس سے پہلے بہت سے پیغامبر ہو گذرے ہیں۔ اَفَاِن مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَی اَعْقَابِکُمْ -(3:144) اگر یہ وفات پا جائے یا قتل کر دیا جائے تو کیا تم اس کے بعد اُلٹے پاؤں لوٹ جاؤ گے؟ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کے پیش کردہ نظام حیات کے نتیجہ خیز اور ثمربار ہونے کے لئے رسول کی موجودگی ضروری نہیں۔ نبوت کو ختم کر کے‘ قرآن کو قیامت تک کے لئے محفوظ رکھنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب پیغام‘ نبی کے بغیر‘ وہی نتائج پیدا کرے گا جو اس نے نبی کی موجودگی میں پیدا کئے تھے۔ باقی رہی دوسری دلیل۔ سو وہ پہلی دلیل سے بھی زیادہ رکیک ہے۔ صحابہؓ کو صحابہؓ ‘ نظام قرآن پر عمل پیرا ہونے نے بنا دیا تھا۔ اس لئے نظام قرآنی جو نتائج اس وقت پیدا کر سکتا تھا وہی نتائج ہر زمانہ میں مرتب کر سکتا ہے۔ اس نظام کی تو خصوصیت ہی یہ ہے کہ یہ مکان اور زمان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ ہر زمانہ اور ہر مقام میں وہی زندگی بخش نتائج پیدا کر دے جو اس نے ایک دفعہ پیدا کئے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دلائل‘ روایت پرستوں نے فریب دہی کے لئے وضع کئے تھے۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ اب رسول اللہﷺ کے عہد مبارک کی سی شوکت و عظمت کیوں حاصل نہیں ہوتی تو وہ پوچھنے والوں کو یہ کہہ کر جھوٹا اطمینان دلا دیتے کہ تم اپنا مقابلہ اُس دور سے کیسے کر سکتے ہو؟ کیا تم اپنے آپ کو صحابہؓ جیسا سمجھتے ہو؟ حالانکہ ہوا یہ تھا کہ صحابہؓ کے زمانہ میں ہر عمل‘ اس کے نتائج سے پہچانا جاتا تھا اور اب روایت پرستی نے دین کو رسومات میں تبدیل کر کے یہ عقیدہ پیدا کر دیا تھا کہ مذہب کے یہ ارکان‘ مقصود بالذات ہیں۔ تم جب ان رسومات کو ادا کر دیتے ہو تو یہ اللہ کے ہاں مقبول ہو جاتے ہیں اور ان کا ’’ثواب‘‘ تمہارے نامۂ اعمال میں لکھا جاتا ہے جو قیامت کے دن میزان میں تلے گا۔ اس سے ہر شخص مطمئن ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اب بھی یہ حالت ہے کہ جو شخص حج کر کے آتا ہے اُسے اطمینان ہوتا ہے کہ بحمداللہ میں ایک اہم فریضہ سے سبکدوش ہو گیا اور جو شخص قربانی دے دیتا ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس نے اپنی نجات کا سامان مہیا کر لیا۔ قربانی کے مقبول ہونے کے لئے بس اتنی شرط ہے کہ جانور کان کٹا اور دم بریدہ نہ ہو۔ اگر اس کے کان اور دم ثابت ہیں اور وہ کانا اور لنگڑا نہیں ہے تو بس قربانی کا فریضہ مع جملہ شرائط کے ادا ہو گیا۔ دین کے متعلق یہ تصور پیدا کر دیجئے اور اس کے بعد صحابہؓ تو ایک طرف‘ فرشتوں کو بھی لے آیئے۔ دین کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا! دنیا کے باقی مذاہب کے ساتھ یہی ہوا تھا اور اسی تصور کو مٹانے کے لئے اسلام آیا تھا۔ لیکن عجم کی اُس سازش نے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے۔ (اور جسے مودودی صاحب نے ’’جاہلی اسلام‘‘ سے تعبیر کیا ہے) اسلام کو بھی دیگر مذاہب کی صف میں لاکھڑا کیا اور اس کے زندہ نظامِ حیات کو‘ جو اُمتِ وسطیٰ کے لئے امامتِ اقوام (Leadership of Nations) کا ضامن تھا‘ مجموعۂ رسومات بنا دیا اور یہ سب کچھ کیا گیا روایات کے زور پر۔ رسول اللہﷺ نے جس طرح اپنی صداقت کی ایک دلیل محکم پیش کی تھی اور وہ یہ کہ: فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُراً مِّن قَبْلِہِ اَفَلاَ تَعْقِلُونَ-(10:16) ’’میں نے اس سے قبل تمہارے اندر اپنی عمر گذاری ہے۔ کیا تم اس سے اندازہ نہیں لگا سکتے کہ میں سچا ہوں یا جھوٹا۔‘‘ اسی طرح حضورﷺ نے اپنے دین کی صداقت کے لئے بھی ایک ہی دلیل پیش کی تھی اور وہ یہ کہ:
قُلْ یَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَکُونُ لَہُ عَاقِبَۃُ الدِّارِ اِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ-(6:135)
ان سے کہو کہ اے میری قوم! (اس بات کا فیصلہ کہ تم جس نہج پر زندگی بسر کر رہے ہو وہ کامیابی کی راہ ہے یا جس مسلک کی طرف میں دعوت دیتا ہوں وہ خوشگواریوں کا راستہ ہے‘ بالکل آسان ہے۔ اس میں کسی بحث و جدل کی ضرورت ہی نہیں) تم اپنے نظامِ زندگی کے مطابق کام کئے جاؤ اور میں اپنے پروگرام کے مطابق کام کئے جاتا ہوں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے لئے ہے؟ نتائج خود بخود بتا دیں گے کہ خدا کے نظام کو چھوڑ کر دوسری راہوں پر چلنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔
غور فرمایا آپ نے کہ دین کی صداقت کا معیار کیا تھا؟ یہ معیار تھا اس کے نظامِ حیات کے نتائج جو کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کر دینے کے لئے کافی تھے۔ وہ نتائج جو جلدی سامنے آجانے والے تھے۔ صرف قیامت کے دن نہیں بلکہ یہیں۔ اسی دنیا میں۔ تھوڑے سے وقت کے بعد۔ یہ تھا دین کا وہ استنتاجی معیار (Pragmatic test) جو قرآن نے پیش کیا تھا۔ ہم پوچھتے یہ ہیں کہ کیا آج دنیا کے چالیس کروڑ مسلمان کسی قوم کے مقابلہ میں بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ تم اپنے طریق کے مطابق کام کئے جاؤ۔ ہم نمازیں پڑھتے ہیں‘ روزے رکھتے ہیں‘ حج کرتے ہیں۔ قربانیاں دیتے ہیں۔ اس کے بعد نتائج خود بخود بتا دیں گے کہ کامیابی کس کے ہاتھ میں رہتی ہے؟ ہماری ہزار برس کی نمازوں اور روزوں نے کیا نتائج پیدا کر دیئے ہیں جو اب پیدا ہو جائیں گے۔ یہ سب اس لئے کہ ہم نے روایات کی رو سے اعمال کو رسومات میں بدل دیا ہے اور اب جب ان رسومات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو روایات ہمیں یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی ہیں کہ یہ اعمال رائیگاں نہیں جا رہے۔ ان کا نتیجہ قیامت میں نکلے گا۔ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی یہی صوم و صلوٰۃ اور حج اور زکوٰۃ دین کے ارکان تھے لیکن رسول اللہﷺ کا چیلنج یہ تھا کہ ان اعمال کے نتائج ابھی سامنے آئے جاتے ہیں اور وہ نتائج سامنے آگئے لیکن جب ہماری رسومات کوئی نتائج پیدا نہیں کرتیں تو ہم یہ کہہ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ نہیں! ان کے نتائج اگلی دنیا میں جا کر مرتب ہوں گے! کتنا بڑآ ہے یہ فریب جس میں امت مبتلا چلی آرہی ہے۔ اس فریب کی رو سے‘ اعمال کے نتائج اس دنیا میں نہیں‘ صرف اگلی دنیا میں جا کر مرتب ہوں گے۔ ان نتائج سے مفہوم یہ ہے کہ ’’نجات‘‘ کس طرح سے ہو گی؟ اس نجات کے لئے روایات نے بہت سی آسان راہیں بتا دیں۔ اس کے لئے کسی جدوجہد‘ کسی سعی و عمل‘ کسی تگ و تاز‘ کسی کدو کاوش کی ضرورت نہیں۔ مطلب گناہوں کی معافی سے ہے تاکہ جنت مل جائے۔ سو اس کے لئے بڑے سے بڑے سہل نسخے کتب روایات میں موجود ہیں۔ موطا امام مالکؒ میں ہے کہ:
من قال سبحان اللہ و بحمدہ فی یوم ماۃ مرۃ حطت منہ خطایاہ وان کانت مثل زبدۃ البحر۔
جس نے دن میں سو مرتبہ ’’سبحان اللہ و بحمدہ‘‘ کا ورد کر لیا اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے خواہ وہ سمندر کے جھاگ جتنے بھی کیوں نہ ہوں۔
اس سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھئے۔ روایات نے تو جنت کو یہاں تک سستا کر دیا ہے کہ: من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ۔1؂ جس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا جنت میں داخل ہو گیا۔ اس کے برعکس قرآن یہ کہتا ہے کہ:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّہُ الَّذِیْنَ جَاہَدُواْ مِنکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِیْنَ-(3:142)
کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم لوگوں میں سے انہیں پرکھا ہی نہیں جو جہاد کرنے والے ہیں اور مشکلات میں ثابت قدم رہنے والے۔
فرمایئے! کہ روایات کی جنت کو چھوڑ کر‘ قرآن کی جنت کی طرف کون آئے گا! قرآن نے حج کے متعلق کہا تھا کہ یہ دنیا میں قیاما للناس کا موجب ہے۔ یعنی اس سے نوع انسانی میں توازن قائم ہو جائے گا اور انسانیت اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو جائے گی۔ اس کے معنی صاف ہیں کہ حج کا اجتماع اس مقصد کے لئے ہے کہ یہ امت‘ جس کا منصب شھداء علی الناس (تمام نوع انسانی کے اعمال کی نگرانی) ہے‘ ایک مرکزی مقام پر جمع ہو کر سوچے کہ دنیا میں قوانینِ خداوندی کا نفاذ کس طرح سے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ قیامِ انسانیت‘ قوانینِ خداوندی کے بغیر ناممکن ہے۔ اسے سوچے اور اس کے بعد وہ تدابیر اختیار کرے جس سے دنیا میں نظامِ خداوندی عملاً نافذ ہو سکے۔ یہ تھا قرآنی حج۔ اسی اجتماع کے خور و نوش کے لئے قربانی کے جانوروں کی ضرورت تھی لیکن روایات نے یہ کہہ دیا کہ اگر فلاں فلاں رسومات ادا کر دی جائیں تو حج ہو جاتا ہے اور فلاں فلاں انداز کا جانور ذبح کر دیا جائے تو قربانی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہی حج جسے وجۂ قیامِ انسانیت بننا تھا‘ یکسر یاترا بن کر رہ گیا۔ یہ ہے جو کچھ روایات نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔ اگر ہم قرآن ہی کو دین سمجھتے تو جب تک ہمارے اعمال وہ نتائج مرتب نہ کرتے جنہیں قرآن نے ان کا فطری ثمر قرار دیا ہے‘ ہم کبھی اطمینان سے نہ بیٹھتے۔ لیکن جب ہم نے روایات کو دین بنا لیا تو پھر نتائج کا سوال ہی باقی نہ رہا۔ پھر محض رسومات کی پابندی رہ گئی۔ اب آپ قربانی کے ہزار فلسفے تراشتے رہئے‘ اس سے کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ ان اعمال سے اسی وقت نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جب آپ قرآن سے پوچھیں کہ انہیں کن نتائج کے لئے متعین کیا گیا تھا۔
***
یہ ہیں قرآن کی رُو سے قربانی کے احکام۔ یعنی
(i) قربانی اجتماعِ حج کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کا مقصد اس اجتماع میں شریک ہونے والوں کے لئے خوراک بہم پہنچانا ہے۔ لہٰذا اس ضرورت سے زیادہ جس قدر جانور ذبح کئے جاتے ہیں وہ اہلاکِ نسل ہے۔ جسے قرآن نے فساد سے تعبیر کیا ہے۔ (ویھلک الحرث والنسل۔ 2:205)۔
(ii) حج کے علاوہ قربانی اور کہیں نہیں‘ لہٰذا یہ جو دنیا کے ہر قریہ اور ہر بستی کے ہر گلی کوچے میں جانور ذبح کئے جاتے ہیں قرآن کی رُو سے اس کی شرعی حیثیت کچھ نہیں۔
ذالک الدین القیم ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون۔
جن حضرات کو اللہ نے نور بصیرت عطا کیا ہے اور وہ قرآن کو ضابطۂ ہدایت مانتے ہیں‘ ہمارا خیال ہے کہ انہیں حقیقت تک پہنچنے میں کوئی دقت نہیں محسوس ہو گی۔ لیکن جو لوگ ابھی تک اُس سازش کے شکار چلے آتے ہیں‘ اور اس دامِ فریب سے نکلنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں‘ ان کے لئے اس قدر صراحت اور وضاحت بھی کچھ نفع رساں نہیں ہو سکتی۔ انہیں ان کا مولوی ایک ہی خطبہ میں بتا دے گا کہ یہ ایک بہت بڑا فتنہ ہے جو تمہیں ’’اتباعِ رسول اللہﷺ‘‘ سے باز رکھنا چاہتا ہے۔ وہ اس عجمی سازش کو ’’اتباعِ رسول اللہﷺ‘‘ کے نقاب میں پیش کرے گا اور پھر حجاز کے میدان میں لاکھوں بھیڑیں بکریاں ذبح کر کے چھوڑی جائیں گی اور پھر مسلمانوں کی تمام بستیوں میں‘ ہر گلی اور کوچہ میں جانور ذبح کر کے‘ ان کے ایک ایک بال کے عوض دس دس نیکیاں حاصل کی جائیں گی اور اس طرح ’’پل صراط‘‘ سے ’’صحیح و سالم‘‘ گذرنے کا ذریعہ فراہم کیا جائے گا۔ اس جاہلیت کی پیدا کردہ سازش کا مقابلہ آسان نہیں۔ اس لئے کہ:
سب سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے نہیں آتی۔ بلکہ ’’مسلمان‘‘ بن کر آتی ہے۔ کھلے دہریئے‘ مشرکین یا کفار سامنے ہوں تو مقابلہ آسان ہوتا ہے۔ مگر یہاں تو آگے آگے توحید کا اقرار‘ رسالت کا اقرار‘ صوم و صلوٰۃ پر عمل‘ قرآن و حدیث سے استشہاد ہوتا ہے اور اس کے پیچھے پیچھے جاہلیت اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔ ایک ہی وجود میں اسلام اور جاہلیت کا اجتماع ایسی سخت پیچیدگی پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے عہدہ برا ہونا ہمیشہ جاہلیت صریحہ کے مقابلہ کی بہ نسبت ہزاروں گنا زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔ عریاں جاہلیت سے لڑیئے تو لاکھوں مسلمان مجاہدین سر ہتھیلیوں پر لئے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے اور کوئی مسلمان علانیہ اس کی حمایت نہ کر سکے گا۔ مگر اس مرکب جاہلیت سے لڑنے جایئے تو منافقین ہی نہیں بہت سے اصلی مسلمان بھی اس کی حمایت پر کمر بستہ ہو جائیں گے اور الٹا آپ کو موردِ الزام بنا ڈالیں گے۔
(مودودی صاحب)۔
طلوع اسلام کا مقصد اسی ’’مرکب جاہلیت‘‘ سے جنگ کرنا ہے۔ وہ مقابلہ کی سختی سے آگاہ اور ان ساحرین کی شعبدہ بازیوں کے اثرات سے اچھی طرح واقف ہے۔ لیکن‘ بایں ہمہ:
اسے کیا غم کہ اس کی آستیں میں ہے یدِبیضا؟
***

تعارف: غلام احمد پرویز
بٹالہ/ لاہور
(بشکریہ تحریک پاکستان گولڈ میڈل 1989ء
شعبہ تحریک پاکستان‘ محکمہ اطلاعات و ثقافت‘ حکومت پنجاب)
علامہ غلام احمد پرویز مرحوم کی تاریخ پیدائش 9/جولائی 1903ء ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران مرکزی حکومت ہند کے ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی وہ مرکزی حکومت پاکستان میں منتقل ہو گئے اور 1955ء میں اسسٹنٹ سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
شیدائیء اقبالؒ ہونے کے ناطے‘ آپ 1930ء سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے اس تصور کو آگے بڑھاتے رہے جسے حضرت علامہ اقبالؒ نے الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں اپنے صدارتی خطبہ میں پیش کیا تھا۔
1937ء کے موسم گرما میں‘ علامہ اقبالؒ کے ایماء پر حضرت قائداعظمؒ نے اپنے قیامِ شملہ کے دوران علامہ پرویز کو بلا کر فرمایا کہ یہ مولوی صاحبان تحریک پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‘ اس کی مدافعت کے محاذ کو میں تمھارے سپرد کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ حضرت قائداعظمؒ کی ہدایت پر وہ تمام ضروری اقدامات کئے گئے جن کے نتیجہ کے طور پر ماہنامہ ’’طلوع اسلام‘‘ کے دور جدید کا اجراء‘ مئی 1938ء کے شمارے کے ساتھ عمل میں آیا۔ اس ماہنامہ میں پرویز صاحب نے قرآن کریم کے عطا فرمودہ ’’دو قومی نظریہ‘‘ اسلامی مملکت کی ضرورت اور اس کے بنیادی تقاضوں پر گرانقدر مقالات لکھے۔ اس دوران کانگرسی اور نیشنلسٹ علماء کی طرف سے مسلمانوں کی جداگانہ آزاد مملکت کے خلاف جو کچھ لکھا جاتا رہا‘ اس کا آپ نے موثر دفاع کیا۔
علامہ موصوف اس وقت سرکاری ملازمت میں تھے‘ اس لئے مسلم لیگ کے سٹیج سے بات کرنا تو ان کے لئے دشوار تھا تاہم دہلی اور اس کے گردونواح کے ایسے تمام شہروں میں جہاں شام کو جا کر اگلے روز علی الصبح واپس آیا جا سکے‘ مسلم لیگ کے شبانہ جلسوں کے فوراً بعد اسی سٹیج سے بزمِ اقبال کی محفل آراستہ کی جاتی جس میں پرویز صاحب قرآن کریم اور فکر اقبالؒ کی روشنی میں تحریک پاکستان اور مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے تصور کو واضح طور پر قوم کے سامنے پیش کرتے۔
یہ عملی جدوجہد قیام پاکستان تک جاری رہی۔ حتیٰ کہ جب 1946ء میں سرخ پوشوں اور کانگرس کی ملی بھگت سے مسلم اکثریت کے صوبہ سرحد میں‘ پاکستان میں شمولیت/عدم شمولیت کے سوال پر ریفرنڈم کرانا طے پایا گیا تو پرویز صاحب صوبہ سرحد میں تشریف لے گئے اور اس وقت کے سرحد مسلم لیگ کے صوبائی صدر خان بخت جمال خان اور ان کے رفقاء کی معاونت سے صوبہ کی کانگرسی وزارت اور سرخپوش لیڈر خان عبدالغفار خان کو ہمہ جہت مخالفتوں کے علی الرغم سرحد کے مسلم عوام کا فیصلہ کن ووٹ پاکستان کے حق میں ڈلوانے میں کامیاب ہوئے۔
علامہ پرویز 1937-38ء سے حضرت قائداعظم علیہ الرحمتہ کے‘ تحریک پاکستان کی دینی اساس کے موضوع پر ذاتی مشیر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔ یہی وہ واحد شخصیت تھی جنہیں حضرت قائداعظمؒ سے پیشگی وقت لئے بغیر ان کی خدمت میں‘ کسی وقت بھی باریابی کا شرف حاصل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائداعظمؒ نے قرآنی ہدایات سامنے آجانے کے بعد ہمیشہ انہی کے مطابق عمل کیا۔ پرویز صاحب ان معدودے چند دانشوروں میں شامل ہیں جنہوں نے بقول پیر علی محمد راشدی‘ پاکستان کی سکیم کی تیاری میں مدد کی تھی۔
حضرت قائداعظمؒ ‘ علامہ پرویز پر غایت اعتماد رکھتے تھے اور ان کی رائے کو اس قدر اہمیت دیتے تھے کہ جب اس کا وقت آیا تو ان سے پاکستان کے سیکرٹریٹ کے لئے مناسب افسروں کے انتخاب کے لئے سفارش طلب کی۔
قیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک جب کسی دریدہ دہن نے بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ یا ان کے رفقاء کے خلاف ہرزہ سرائی کی ناپاک کوشش کی تو یہی مرد مجاہد آڑے آیا اور ہر موقع پر ایسے مدلل مقالات سپرد قلم کئے جن سے تحریک پاکستان کے ان زعماء کی عظمت کردار نکھر اور ابھر کر قوم کے سامنے آتی رہی۔
علامہ غلام احمد پرویز نے 24 فروری 1985ء کو وفات پائی۔
قرآنی معاشرہ میں کیا ہو گا۔۔۔۔۔؟
-1 قرآنی معاشرہ میں ہر شخص کی عزت بلا تمیز قوم‘ رنگ‘ نسل‘ پیشہ‘ محض اس کے انسان ہونے کی جہت سے ہو گی۔ کسی کو پست یا ذلیل نہیں سمجھا جائے گا۔ برتری کا معیار یہ ہو گا کہ کوئی شخص اپنے فرائض کی بجا آوری میں کس قدر محنت اور دیانت سے کام لیتا ہے اور نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی خاطر کیا کرتا ہے۔
-2 کوئی شخص بے کس و لاچار اور بے یارو مددگار نہیں ہو گا۔ ہر ایک کی بات سنی جائے گی اور تکلیف رفع کی جائے گی۔ ہر شخص کو انصاف ملے گا اور بغیر کچھ خرچ کئے ملے گا۔ کوئی صاحب اثر انصاف کے پلڑے کو اپنی طرف نہیں جھکا سکے گا۔
-3 کوئی فرد بھوکا ننگا یا بے گھر نہیں رہے گا۔ تمام افراد کے لئے خوراک‘ لباس اور مکان کا انتظام کرنا معاشرہ کے ذمہ ہو گا۔ یعنی قرآنیِ معاشرہ ہر شخص کی اور اس کی اولاد کی ضروریات زندگی بہم پہنچانے کا ذمہ دار ہو گا۔
-4 معاشرہ کی یہ بھی ذمہ داری ہو گی کہ ہر شخص کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا انتظام کرے جس سے انسان کی صلاحیتوں کی نشوونما ہو۔ بالفاظ دیگر معاشرہ کا وجود فرد کی ذات کی تکمیل کے لئے ہو گا۔
-5 ہر شخص اپنی پوری استعداد و محنت سے کام کرے گا۔ صرف وہ افراد کام نہیں کریں گے جو کسی وجہ سے کام کرنے سے معذور ہو گئے ہوں۔ یہ نہیں ہو گا کہ کچھ لوگ تو محنت کرتے کرتے ہلکان ہو جائیں اور باقی لوگ ان کی کمائی پر مفت میں عیش اڑائیں۔
-6 ہر شخص اپنی محنت کے ماحصل میں سے اپنے لئے صرف اتنا رکھے گا جس سے اس کی مناسب ضروریات پوری ہوں۔ باقی اپنے دل کی رضامندی سے حاجت مندوں کی ضروریات کے لئے کھلا رکھے گا۔ بلکہ عندالضرورت دوسروں کو اپنے آپ پر ترجیح دے گا۔ کیونکہ انسانی ذات کی نشوونما کا یہی طریق ہے۔
-7 رزق کے سرچشمے (خواہ زمین کی شکل میں ہوں یا کارخانوں کی صورت میں) قرآنی معاشرہ کی تحویل میں رہیں گے تاکہ وہ افراد معاشرہ کی پرورش کے کام آئیں۔ جب افراد کی ضروریات زندگی کی ذمہ داری معاشرہ کے سر ہو گی اور رزق کے سرچشمے حاجت مندوں کے لئے کھلے رہیں گے تو کسی کے لئے دولت سمیٹ کر جمع کرنے اور جائدادیں بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔
-8 ہر معاملہ کا فیصلہ خدا کے احکام (قرآنِ کریم) کے مطابق ہو گا نہ کہ کسی خاص گروہ یا طبقہ کی مرضی کے مطابق (اس معاشرہ میں گروہوں‘ لیڈروں اور پارٹیوں کا وجود ہی نہیں ہو گا) اس لئے اس میں نہ کسی قسم کا جور ہو گا نہ استبداد‘ نہ ظلم ہو گا نہ زیادتی۔ اسے نظام خداوندی یا قرآنی نظام معاشرہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
-9 ہر شخص کھل کر بات کرے گا۔ اس کے دل میں نہ کسی طرف سے نقصان پہنچنے کا ڈر ہو گا نہ کسی کو نقصان پہنچانے کا خیال۔ ایک دوسرے پر اعتماد بھروسہ ہو گا اور فریب کی گنجائش نہیں ہو گی۔ اس طرح گھروں کے اندر سکون اور معاشرہ کے اندر اطمینان ہو گا۔
-10 یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہو گا کہ ہر شخص قوانین خداوندی کے محکم اور مکافات عمل کے برحق ہونے پر یقین رکھے گا۔ یہ نظام قائم ہی ان بنیادوں پر ہو گا۔ اس میں اس قسم کے نظام کی تشکیل کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نوع انسان کی مشکلات اور مصیبتوں کا حل اسی قسم کے نظام کے قیام میں مضمر ہے تو اس کے قیام و عمل کے لئے اپنا فریضہ ادا کیجئے اور ہم سے تعاون فرمایئے۔
*******

2,293 total views, 5 views today

(Visited 704 times, 6 visits today)

One Response to قُربانی ۔ پرویز – اِدارہ طلوعِ اِسلام

  1. Murtaza khan says:

    Iam fond his articles/audio-video daroos.I think if his queranic knoldge is very useful for everymuslim.Modern muslims must learn true islam through his literature.Unfortunatly,i am not getting his audios in India;if any body can guide me how to get I will be obliged.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *