قوموں کے تمدن (کلچر) پر جنسیات کا اثر – (پرویز)

SEX AND CULTURE by Ghulam Ahmad Parwez

جب زندگی اپنے ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی‘ حیوانی سطح سے انسانی پیکر پر پہنچی تو وہ حیوانی زندگی کے بعض خصائص و لزومات بھی اپنے ساتھ لائی۔ کھانا‘ پینا‘ سونا وغیرہ (جسم کا طبعی نظام) حیوان اور انسان میں مشترک ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ انسانی زندگی کی حیوانی سطح کے مظاہر ہیں۔ انہی میں افزائش نسل Procreation اور اس کے لئے جنسی جذبہ Sexual Instinct بھی شامل ہے۔
کھانے پینے کے معاملہ میں‘ حیوانات پر بعض پابندیاں فطرت کی طرف سے از خود عائد ہوتی ہیں۔ مثلاً بکری گھاس کھاتی ہے گوشت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتی۔ شیر گوشت کھاتا ہے‘ گھاس نہیں کھاتا۔ بطخ کے بچے انڈوں سے نکلتے ہی پانی کی طرف لپکتے ہیں۔ مرغی کے بچوں کو پانی کی طرف گھیر کر بھی لے جائیں تو وہ آگے قدم نہیں بڑھاتے۔ حیوانات پر یہ پابندیاں از خود عائد ہوتی ہیں اور وہ انہیں توڑنے کا اختیار بھی نہیں رکھتے۔ اس کے برعکس‘ انسانی بچے کو دیکھئے۔ وہ سنکھیا کی ڈلی کو بھی اسی طرح بے تکلفی سے منہ میں ڈال لیتا ہے جس طرح شاخ نبات (مصری کی ڈلی) کو۔ وہ کبھی دہکتے ہوئے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے اور کبھی پانی میں ڈبکیاں لگاتا دکھائی دیتا ہے اس پر فطرت کی طرف سے از خود ایسی پابندیاں نہیں عائد ہوتیں جیسی حیوانات پر عائد ہوتی ہیں۔ لیکن چونکہ پابندیوں کے بغیر زندگی دوبھر ہی نہیں بلکہ بعض حالات میں ناممکن بھی ہو جاتی ہے اس لئے انسان پر بھی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ یہ پابندیاں یا تو معاشرے کی طرف سے عائد کی جاتی ہیں اور یا مذہب کی طرف سے۔ (مذہب کے بجائے وحی کا لفظ زیادہ موزوں ہے اس لئے آئندہ صفحات میں اسے وحی ہی سے تعبیر کیا جائے گا۔ وحی سے مراد ہی ایسی پابندیاں جو انسانی معاشرہ کی طرف سے عائد کردہ نہ ہوں بلکہ خدا کی طرف سے عائد کردہ ہوں)۔
معاشرتی پابندیاں -: معاشرہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں اور وحی کی رو سے متعین کردہ پابندیوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ معاشرتی پابندیاں بعض مصالح کی بناء پر بدلی بھی جا سکتی ہیں۔ لیکن وحی کی رو سے عائد کردہ پابندیوں میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ مثلاً معاشرہ کسی وقت فیصلہ کرتا ہے کہ لوگوں کو سڑک کے بائیں طرف چلنا چاہئے۔ اس فیصلہ کی رو سے (Keep to the left) سڑک کا قانون قرار پا جاتا ہے لیکن اگر کسی وقت معاشرہ اس کی ضرورت محسوس کرے تو وہ اس قانون کو بدل کر ’’دائیں طرف چلو‘‘ کا قانون بھی نافذ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس جب وحی خداوندی نے کہا ہے کہ (مثلاً لحم خنزیر حرام ہے تو کوئی انسان اس قانون میں ترمیم نہیں کر سکتا۔ وحی خداوندی کے ماننے والوں کو لحم خنزیر سے اسی طرح پرہیز کرنا ہو گا جس طرح بکری گوشت سے پرہیز کرتی ہے‘ اس فرق کے ساتھ کہ بکری ایسا اپنی مرضی سے نہیں کرتی۔ لیکن انسانوں کو ایسا اپنے اختیار و ارادہ سے کرنا ہو گا۔
جنسی جذبہ پر پابندیاں -: کھانے پینے کے علاوہ جنسی جذبہ کی تسکین کے سلسلہ میں بھی حیوانات پر فطرت کی طرف سے کنٹرول عائد ہوتا ہے۔ ایک بیل ہر روز گایوں کے گلے میں پھرتا رہتا ہے لیکن کبھی جنسی اختلاط نہیں کرتا۔ تاوقتیکہ اسے گائے کی طرف سے استقرار حمل کا طبعی تقاصا اس کی دعوت نہ دے۔ لیکن انسان پر اس قسم کا کوئی کنٹرول نہیں عائد کیا گیا وہ جب جی چاہے اپنے جنسی جذبہ کی تسکین کر سکتا ہے۔
حیوانات پر اس طبعی کنٹرول کے علاوہ (جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے) کسی قسم کا اخلاقی کنٹرول عائد نہیں کیا گیا (حیوانات کی صورت میں اخلاقیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) لیکن انسان پر اس ضمن یں اخلاقی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ (جیسا کہ اوپر کہا جا چکا ہے) یہ پابندیاں معاشرہ کی طرف سے بھی عائد کی جاتی ہے اور وحی کی رو سے بھی۔ معاشرتی پابندیوں پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آجائے گی کہ یہ پابندیاں مختلف اقوام و ممالک میں مختلف نوعیتوں کی ہیں۔ نیز کسی ایک ہی قوم میں مختلف زمانوں میں ان پابندیوں میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً انگلستان میں اگر ایک بالغ لڑکا اور لڑکی باہمی رضامندی سے (شادی کے بغیر) جنسی اختلاط کی صورت پیدا کر لیں تو معاشرے کی نگاہوں میں یہ کوئی معیوب بات نہیں۔ یہ اسی صورت میں جرم قرار پائے گا جب میاں یا بیوی کو اس پر اعتراض ہو۔ ان پابندیوں میں ردوبدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً اس وقت تک وہاں یہ صورت ہے کہ اگر کسی غیر شادی شدہ لڑکی کے ہاں بچہ پیدا ہو جائے اور بچے کا باپ اس لڑکی سے شادی نہ کرے تو وہ بچہ حرامی قرار پاتا اور سوسائٹی میں ذلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن پچھلے دنوں وہاں ایک تحقیقاتی کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایسے تعلقات کو جائز سمجھا جائے۔ ان سے پیدا شدہ بچوں کو معاشرہ کا صحیح جزو قرار دیا جائے اور انہیں حقارت کی نظروں سے نہ دیکھا جائے۔ وقس علیٰ ہذا۔ اس وقت ان فیصلوں پر تنقید و تبصرہ مقصود نہیں۔ مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ اگر معاشرہ چاہے تو اپنی عائد کردہ پابندیوں میں تبدیلی بھی کر سکتا ہے۔
وحی کی پابندیاں -: اس کے برعکس‘ اس باب میں وحی (یعنی قرآن کریم) نے بھی کچھ پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان پابندیوں کا ماحصل یہ ہے کہ معروف طریقہ پر شادی کے بغیر کسی لڑکے یا لڑکی (مرد یا عورت) کو جنسی اختلاط کی قطعاً اجازت نہیں اور شادی کے بعد‘ نہ بیوی کسی غیر مرد سے اختلاط پیدا کر سکتی ہے‘ نہ میاں کسی اور عورت سے۔ اس قسم کا اختلاط فرد کا نہیں بلکہ معاشرہ کا جرم ہے اور اس (جرم زنا) کی سزا معاشرہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور ان پابندیوں میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں کیا جا سکتا۔
مغرب کی جنسی بے باکیوں سے متاثر ہو کر ہمارے ہاں کے نوجوان طبقہ میں بھی یہ خیال عام ہو رہا ہے کہ مرد اور عورت کا جنسی تعلق ایک طبعی تقاضے کی تسکین یا افزائش نسل کے لئے ایک حیاتیاتی عمل (Biological Action) ہے اور بس۔ اس معاملہ کو لڑکی اور لڑکے کی باہمی رضامندی پر چھوڑ دینا چاہئے اور نکاح وغیرہ کی پابندی‘ محض قانونی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہونی چاہئے نہ کہ بالغ مرد اور عورت کی آزادی کو سلب کرنے کے لئے۔ ان خیالات کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی (مغرب کی طرح) جنسی فوضویت (Sexual Anarchy) کی فضا عام ہوتی جا رہی ہے اور وحی کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں (یعنی عفت و عصمت (Chastity) کے مطالبہ) کوغیر فطری جکڑ بندیاں قرار دیا جا رہا ہے۔
ان پابندیوں کی مصلحت-:سوال یہ ہے کہ کیا وحی کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں محض معاشرہ میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لئے ہیں یا ان کا تعلق عالم انسانیت کے اجتماعی مصالح سے ہے۔ اگر ان کا مقصد محض معاشرتی نظم و ضبط ہے تو بے شک معاشرہ کو اس کا حق ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مصالح کے پیش نظر ان میں ردوبدل کر لے لیکن اگر ان کا تعلق انسانیت کے کسی بنیادی مسئلہ سے ہے تو پھر کسی فرد یا افراد کے کسی گروپ کو اس کا حق نہیں دیا جا سکتا تاکہ وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے ان پابندیوں میں تبدیلی کر کے انسانیت کے اجتماعی مصالح کو نقصان پہنچائے۔ قرآن نے جب زنا کو معاشرہ کا جرم قرار دیا ہے تو اس سے مطلب یہی ہے کہ اس کے نزدیک جنسی تعلق محض ایک انفرادی فعل نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کا اثر اجتماعی انسانیت پر پڑتا ہے۔ دوسری طرف جب اس نے کہا کہ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ(۱/۲۳) ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ (۵/۲۳) تو اس نے واضح الفاظ میں اعلان کر دیا کہ عفت و عصمت کا‘ قوموں کی فلاح و بہبود سے گہرا تعلق ہے۔ جو قوم عصمت کی حفاظت نہیں کرتی وہ زندگی کے میدان میں فائز المرام (Prosperous) نہیں ہو سکتی۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کے اس دعوے کی صداقت کی شہادت کیا ہے؟جو لوگ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کے ان تمام دعاوی کو سچا مانتے ہیں۔ لیکن سوال ان لوگوں کا نہیں۔ سوال تو ان کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم اس دعوے کو بطور ایمان (Faith) ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ہم اس کے ثبوت میں علمی تائید اور شہادت چاہتے ہیں۔
قرآنی دعوے کی دلیل -: ان لوگوں (بالخصوص ہمارے نوجوان طبقہ) کا یہ مطالبہ ایسا نہیں جسے ہم لاحول پڑھ کر ٹھکرا دیں اور انہیں ملحد و بے دین کہہ کر تیوریاں چڑھا لیں۔ قرآن اپنے ہر دعوے کی بنیاد علم و بصیرت پر رکھتا ہے اور اسے دلیل و برہان کی رو سے منواتا ہے۔ وہ کہتا یہ ہے کہ جوں جوں انسانی علم کی سطح بلند ہوتی جائے گی قرآنی حقائق کھل کر سامنے آتے چلے جائیں گے سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔۔۔۔۔۔ (۵۳/۴۱) ہم انہیں انفس و آفاق میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تاآنکہ یہ چیز نکھر کر ان کے سامنے آجائے کہ قرآن ایک حقیقت ثابتہ ہے۔ لہٰذا دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جنسی تعلقات کے متعلق جس قدر تحقیقات ہمارے زمانے میں ہو چکی ہیں وہ قرآن کے دعوے کی کس حد تک تائید کرتی ہیں۔ یہ سوال بڑا اہم ہے اور وقت کا نازک ترین مسئلہ۔ اس لئے اس قابل کہ اس پر بڑی توجہ اور گہری فکر سے غور و خوض کیا جائے۔
غور و فکر -:جنسیات کے متعلق ہمارے ہاں کوئی تحقیق نہیں ہوئی اس لئے اس کے نتائج کو سامنے لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ایک جنسیات ہی پر کیا موقوف ہے۔ زندگی کے اور کون سے شعبے ہیں جن کے متعلق ہمارے ہاں کوئی ریسرچ ہوئی ہو! حقیقت یہ ہے کہ جس قوم پر صدیوں سے سوچنا حرام ہو چکا ہو اور تقلید کہن زندگی کی محمود روش قرار پا چکی ہو‘ ان میں فکری صلاحیتیں بہت کم باقی رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں اس مقصد کے لئے بھی مغرب کے محققین کی طرف ہی رجوع کرنا ہو گا۔
علمائے مغرب کی تحقیقات -:یورپ میں (دیگر شعبوں کی طرح) جنسیات نے بھی ایک مستقل سائنس کی حیثیت اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے لئے وہاں تحقیقاتی ادارے قائم ہیں۔ علمائے عمرانیات Sociologists تہذیب کے مورخ‘ علمائے جنسیات اور ماہرین علم تجزیہ نفس Psycho-Analysts وغیرہم نے اس موضوع پر کافی چھان بین کی ہے اور جنسیات سے متعلق لٹریچر خاصی مقدار میں شائع ہو چکا ہے اور ہوتا چلا رہا ہے۔ ان کی تحقیقات کا بالعموم انداز یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے دور دراز علاقوں میں بسنے والے قدیم باشندوں Primitive Tribes کے احوال و کوائف‘ بود و ماند‘ رسوم و معاشرت اور اجتماعی اعمال و معتقدات کا مطالعہ کرتے اور اس طرح حاصل کردہ مسالہ (Data) سے نتائج مستنبط کرتے ہیں(۱)۔ اس مقصد کے لئے انہیں جن صبر آزما اور مشقت طلب مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمر افریقہ کے صحراؤں‘ جنوبی امریکہ کے جنگلوں‘ قطبین کے برفانی میدانوں اور ہمالیہ کے پہاڑوں میں گذار دی۔ وہ وہاں کے وحشی قبائل میں جا کر رہے۔ انہی کی معاشرت اختیار کی۔ وہی کچھ کھایا جو وہ کھاتے تھے۔ وہی کچھ پہنا جو کچھ وہ پہنتے تھے۔ انہی کے ساتھ کبھی درختوں کے کھوکھلے تنوں میں‘ کبھی ان کی شاخوں کے اوپر‘ کبھی پہاڑوں کے غاروں میں اور کبھی درندوں کے بھٹوں میں زندگی بسر کی۔ بعض اوقات انہی میں شادیاں بھی کیں اور اس طرح انہی میں گھل مل کر ان کی معاشرت اور معتقدات کادقت نظر سے مطالعہ کیا اور اس طرح ان کے متعلق براہ راست معلومات بہم پہنچائیں۔ ان محققین نے دنیا کے قبائل کی معاشرت اور معتقدات کے مطالعہ کے بعد جن موضوعات کے متعلق اصول متعین کئے ہیں۔ ان میں جنسیات کو ایک کاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کے مرتب کردہ نتائج ہمیں اس حقیقت تک پہنچاتے ہیں کہ مرد اور عورت کے جنسی تعلق کا معاملہ محض شہوانی جذبہ کی تسکین تک محدود نہیں ہوتا۔ اس کا اثر بڑا دور رس ہوتا ہے۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ کسی قوم کے تمدن (Culture) کا اس سوال سے گہرا تعلق ہے کہ اس قوم نے جنسی تعلقات کو آزاد چھوڑ رکھا تھا یا اس پر پابندیاں لگا رکھی تھیں اور اگر پابندیاں لگا رکھی تھیں تو وہ کس نوعیت کی تھیں۔
ڈاکٹر انون -:Dr.J.D.Unwin انہیں محققین میں کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر J.D.Unwin کا نام خاص شہرت کا حامل ہے۔ ڈاکٹر انون نے دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے ۸۰ غیر مہذب (قدیمی) قبائل کی زندگی کا مطالعہ اس نقطہ نگاہ سے کیا ہے کہ انسانی زندگی میں جنسیات اور کلچر کا کیا تعلق ہے؟ اگر ان میں ایک قبیلہ جنوبی امریکہ کا ہے تو دوسرا قطب شمالی کا۔ ایک آسڑیلیا کا ہے تو دوسرا صحرائے افریقہ کا۔ اس کے بعد اس محقق نے سولہ مہذب اقوام کی معاشرت کا مطالعہ کیا ہے اور اپنے نتائج تحقیقات کو اپنی گراں بہا کتاب (Sex and Culture) میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا فقرہ یہ ہے -:
دنیا کی مہذب اقوام ہوں یا غیر مہذب قبائل۔ سب کے ہاں چنسی مواقع اور قوم کی تمدنی حالت میں بڑا گہرا تعلق ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس مسئلہ پر تفصیلی تحقیق کی جائے۔ میری اس تحقیق کا ماحصل اور اس سے مستنبط کردہ نتائج اس کتاب میں پیش کئے گئے ہیں۔
اصل کتاب سے بھی پہلے دیباچہ میں لکھا ہے کہ -:
اپنی تحقیقات کے بعد میں جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ انسانوں کا کوئی گروہ ہو‘ اس کی تمدنی سطح کا انحصار دو چیزوں پر ہے۔ ایک ان لوگوں کا نظام اور دوسرے وہ توانائی جو ان حدود و قیود کی بنا پر حاصل ہوتی ہے جو اس گروہ نے جنسی تعلقات پر عائد کر رکھی ہوں۔ (XIV)
اسی کلیہ کو اس نے اصل کتاب میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے -:
کوئی گروہ کیسے ہی جغرافیائی ماحول میں رہتا ہو۔ اس کی تمدنی سطح کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ اس نے اپنے ماضی اور حال میں جنسی تعلقات کے لئے کس قسم کے ضوابط مرتب کر رکھے تھے۔ (ص ۳۴۰)
آپ نے غور کیا کہ یہ محقق اپنی تحقیقات کے بعد کس نتیجہ پر پہنچا ہے؟ وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ جنسی تعلقات محض ایک حیوانی جذبہ کی تسکین کا نام نہیں بلکہ قوموں کی تہذیب و تمدن کا دارومدار اسی جذبہ کی تحدید و تادیب پر ہے۔ حتیٰ کہ ڈاکٹر انون یہ بھی لکھتا ہے کہ -:
اگر کسی قوم کی تاریخ میں آپ دیکھیں کہ کسی وقت اس کی تمدنی سطح بلند ہو گئی تھی یا نیچے گر گئی تھی تو تحقیق سے معلوم ہو گا کہ اس قوم نے اپنے جنسی تعلقات کے ضوابط میں تبدیلی کی تھی جس کا نتیجہ اس کی تمدنی سطح کی بلندی یا پستی تھا۔ (ص ۳۰۲)
آگے چل کر وہ لکھتا ہے کہ -:
جنسی تعلقات کے ضوابط میں تبدیلی کے اثرات تین پشتوں کے بعد (یعنی قریب سو سال میں) نمودار ہوتے ہیں۔ (ص ۳۳۰)
اس لئے اگر کسی قوم میں تمدنی تبدیلی واقع ہو۔ یعنی اسے دنیا میں عروج حاصل ہو یا اس پر زوال آجائے تو اس عروج و زوال کے اسباب کے لئے دیکھنا چاہئے کہ اس قوم نے سو سال پہلے اپنے ہاں جنسی تعلقات کے ضوابط میں کس قسم کی تبدیلیاں کی تھیں جیسی وہ تبدیلیاں ہوں گی اسی قسم کے نتائج مرتب ہوں گے۔
جبری تجرد -:سب سے پہلے تجرد کی زندگی (Celibacy) کو لیجئے جسے عیسائیت (اور اس سے متاثر شدہ مسلک خانقاہیت) روحانی ارتقاء کے لئے اولین شرط قرار دیتی ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ :
جبری تجرد (Compulsory Celibacy) کے اثرات انسانی تمدن پر ہلاکت انگیز ہوتے ہیں۔ (ص ۸۴)
جبری تجرد سے مفہوم یہ ہے کہ یہ چیز انسانی عقائد یا معاشرتی ضوابط میں شامل کر دی جائے کہ وہ تجرد کی زندگی وجہ شرف و تقدس ہے اور اس طرح لوگوں کو ذہنی طور پر مجبور کر دیا جائے کہ وہ تجرد کی زندگی بسر کریں۔ جیسے عیسائیوں کے ہاں (Nuns) اس قسم کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
عیسائیت یا مسلک خانقاہیت میں جہاں یہ کہا جاتا ہے کہ تجرد کی زندگی ہی شرف انسانیت کی زندگی ہے تو دوسری طرف آج کل عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر جنسی جذبات کی تسکین کے سلسلہ میں کسی قسم کی بھی پابندی عائد کی جائے تو اس سے انسان کے اعصاب پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور اس سے خطرناک قسم کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ یہ خیال یکسر غلط ہے۔ جنسی جذبات پر پابندیاں عائد کرنے سے اعصابی بیماریاں پیدا نہیں ہوتیں۔ انہیں بے لگام چھوڑ دینے سے ایسا ہوتا ہے (دیباچہ ص xii)
******
تین گروہ -:اس تمہید کے بعد آگے چلئے۔ ڈاکٹر انون نے قدیم غیر مہذب قبائل کی تمدنی سطح کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ وہ سب سے نچلے درجے کا نام (Zoistic) رکھتا ہے اور ا سے اوپر (Manistic) کا درجہ ہے اور سب سے اوپر (Deistic) کا درجہ۔ اس کے بعد وہ ۸۰ قبائل کی تمدنی سطح کے مطالعہ کے بعد جن نتائج پر پہنچا ہے وہ حسب ذیل ہیں۔
۱۔ جس گروہ نے کنوار پن (Pre-Nuptiali) کے زمانے میں جنسی تعلقات کی کھلی آزادی دے رکھی تھی وہ تمدن کے پست ترین سطح پر تھے۔
۲۔ جن قبائل میں زمانہ قبل از نکاح میں جنسی تعلقات پر تھوڑی بہت پابندیاں عائد تھیں وہ تمدنی سطح کے درمیانی درجے پر تھے۔
۳۔ تمدن کی بلند ترین سطح پر صرف وہ قبائل تھے جو شادی کے وقت عفت و بکارت (Chastity) کا شدت سے تقاضا کرتے تھے اور زمانہ قبل از نکاح میں جنسی تعلق کو معاشرتی جرم قرار دیتے تھے۔ (ص ۳۲۵۔۳۰۰)
اس کے بعد ڈاکٹر انون‘ شادی کے بعد کے جنسی ضوابط سے بحث کرتا ہے۔ لیکن اس بحث کو چھیڑنے سے پہلے وہ اس حقیقت پر پھر زور دیتا ہے کہ:
شادی کے بعد کے ضوابط کبھی تعمیری نتائج پیدا نہیں کر سکتے جب تک شادی سے پہلے زندگی میں عفت و عصمت پر زور نہ دیا جائے۔ (ص ۳۴۳)
اس مقصد کے لئے وہ شادی کو چار بڑی بڑی قسموں میں تقسیم کرتا ہے۔ یعنی
۱۔ عورت اپنی ساری زندگی میں ایک خاوند کی بیوی بن کر رہے اور مرد ساری زندگی میں ایک عورت کا خاوند رہے ان کے رشتہ نکاح کے منقطع ہونے کی کوئی شکل نہ ہو۔ بجز اس کے کہ عورت ناجائز فعل کی مرتکب ہو جائے اس کا نام‘ اس کے نزدیک مطلق وحدت زوج (Absolute Monogamy) ہے۔
۲۔ رشتہ نکاح عمر بھر کے لئے نہ ہو بلکہ فریقین کی رضامندی سے منقطع بھی ہو سکتا ہو اسے وہ ترمیم شدہ وحدت زوج (Modified Monogamy) کی اصطلاح سے تعبیر کر سکتا ہے۔
۳۔ عورت تو صرف ایک خاوند کی بیوی بن کر رہے لیکن مرد کو اجازت ہو کہ وہ ایک سے زیادہ عورتیں رکھ سکے اس کا نام اس کے نزدیک مطلق تعداد ازواج (Absolute Polygamy) ہے۔ اور
۴۔ اگر مرد‘ دوسری عورتوں سے جنسی تعلق قائم کرے (یعنی ایک سے زیادہ بیویاں کرے) تو عورت بھی آزاد ہو کہ وہ اسے چھوڑ کر کسی اور کے ہاں چلی جائے۔ اسے وہ ترمیم تعداد ازواج (Polygamy Modified) کہتا ہے۔
ڈاکٹر انون کا کہنا ہے کہ :
آج تک کوئی قوم شق نمبر ۱ کے ’’مطلق وحدت زوج‘‘ کے مسلک کو زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رکھ سکی۔ (ص ۳۴۴)
اس لئے کہ یہ شکل اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب معاشرہ میں عورت کی کوئی حیثیت تسلیم نہ کی جائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ وہ ہمیشہ اپنے خاوند کی مطیع و فرمانبردار لونڈی بن کر رہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی معاشرہ میں ایسی صورت دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ عورت کی طرف سے اس کا ردعمل ایسا شدید ہوتا ہے کہ وہ پھر معاشرہ کے تمام جنسی قیود کو توڑ کر ’’کامل آزادی‘‘ کا مطالبہ کر دیتی ہے اور اس کامل آزادی کے معنی ہوتے ہیں جنسی فوضویت (Sexual Anarchy) جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ (ص ۳۴۵)
بہترین تمدن کی حامل قوم -:اس کے بعد ڈاکٹر انون نے کہا ہے کہ تاریخ اس وقت تک جن اقوام و قبائل کے حالات محفوظ رکھ سکی ہے۔ ان میں سب سے بہتر تمدن کی حامل وہ قوم تھی شادی سے قبل جنسی اختلاط کی مطلقاً اجازت نہیں دیتی تھی اور شادی کے بعد شق نمبر ۲ کی ترمیم شدہ وحدت زوج کی پابند تھی۔ یعنی جن کا عام اصول یہ تھا کہ شادی کے بعد بھی جنسی تعلق صرف میاں بیوی میں رہے۔ رشتہ نکاح محکم و استوار ہو لیکن ناقابل تنسیخ نہ ہو بلکہ بعض حالات کے ماتحت منقطع ہو سکتا ہو یہ بعینہ وہ شکل ہے جسے قرآن تجویز کرتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنسی تعلقات پر اس قسم کی قیود و حدود عائد کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اس کے متعلق ڈاکٹر انون نے مختلف ماہرین علوم کی شہادات سے اہم نتائج مستنبط کئے ہیں وہ کہتا ہے کہ
جنسی تعلقات کی حد بندی سے ایک قسم کا ذہنی اور عصبی تناؤ (Tension) پیدا ہوتا ہے جس سے جذباتی توانائی میں ارتکاز (Compression) پیدا ہو جاتا ہے۔ (ص ۳۱۳)
یہ مرتکز شدہ معاشرتی توانائی اپنی نمود کے مختلف راستے تلاش کرتی ہے۔ اس نفسیاتی عمل کو ڈاکٹر فرائڈ کی اصطلاح میں کظامت (Cublimation) کہا جاتا ہے چنانچہ ڈاکٹر انون کہتا ہے کہ
نفسیاتی تحقیقات سے ظاہر ہے کہ جنسی تعلقات پر حدود و پابندیاں عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم میں قوت فکر و عمل بہت بڑھ جاتی ہے۔ نیز محاسبہ خویش کی صلاحیت بھی۔ (ص۳۱۷)
فرائڈ کی تحقیق-:بہتر ہو کہ اس موقعہ پر خود فرائڈ کے الفاظ ہمارے سامنے آجائیں۔ وہ لکھتا ہے کہ :
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی تہذیب کی عمارت استوار ہی اس طرح ہوئی ہے کہ لوگوں نے اپنے قدیم جذبات کی تسکین میں ایثار و قربانی سے کام لیا ہے اور یہ عمارت دن بدن اوپر کو اٹھتی جا رہی ہے کیونکہ ہر فرد‘ اپنے جذبات کو انسانیت کے مشترکہ مفاد کی خاطر قربان کرتا رہتا ہے۔ ان جذبات میں جنسی جذبات کو خاص اہمیت حاصل ہے (جب ان کی بے باکانہ تسکین ہی مقصد زندگی نہ بن جائے تو) یہ اپنا رخ دوسری طرف منتقل کر لیتے ہیں (جسے Sublimation کہتے ہیں) اور اس طرح افراد کی فالتو توانائی‘ جنسی گوشوں کی طرف سے ہٹ کر ان گوشوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے جو تمدنی طور پر بہت زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔
آپ نے دیکھ لیا کہ فرائڈ کی تحقیق کے مطابق اگر جنسی توانائیوں کو بے محل ضائع نہ کیا جائے تو یہ انسانی تہذیب و تمدن کے قصر حسین کی تعمیر میں کس قدر ممد و معاون بن جاتی ہیں (۲)۔
قرآنی کظامت -:فرائڈ نے اس طریق عمل کا نام Sublimation رکھا ہے۔ یہ علم تجزیہ نفس (Psycho-Analysis) کی ایک اہم اصطلاح ہے اور دور حاضر کی ایک گراں قدر نفسیاتی تحقیق لیکن آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ انسانی ذہن نے جہاں اسے بیسویں صدی میں دریافت کیا ہے‘ قرآن نے چھٹی صدی عیسوی میں (جسے عام طور پر ازمنہ مظلمہ (Dark-Ages) کہا جاتا ہے) کس طرح اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ سورہ آل عمران میں مومنین کی ایک صفت الکاظمین الغیظ بتائی گئی ہے۔ اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے اس لفظ کے بنیادی معانی کو سامنے لانا ضروری ہے۔ عرب ایک گرم اور خشک ملک ہے جہاں پانی کی اکثر قلت رہتی ہے وہ کرتے یہ تھے کہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کنویں کھودتے۔ ان میں کسی میں کم پانی نکلتا کسی میں زیادہ۔ پھر وہ ان کنوؤں کو آبدوز نالیوں (Subterranean Channels) کے ذریعے ایک دوسرے سے ملا دیتے۔ اس طرح جس کنویں میں پانی زیادہ ہوتا۔ اس کا فالتو پانی دوسرے کنویں کی طرف منتقل ہو جاتا اور یوں تمام کنوؤں میں پانی کی تقسیم یکساں ہو جاتی۔ اس طریق عمل کو ان کے ہاں کظامت کہا جاتا تھا۔ لہٰذا کاظمین الغیظ کے معنی ہوئے وہ لوگ جو اپنی اس حرارت اور توانائی کو جو غصے کی شکل میں باہر نکلنا چاہتی ہے۔ کسی دوسری طرف منتقل کر کے اس سے تعمیری نتائج کا کام لیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے عصر حاضر کے ماہرین تجزیہ نفس نے (Sublimation) سے تعبیر کیا ہے۔
اب ہم پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ڈاکٹر انون نے بتایا ہے کہ جنسی تعلقات پر پابندیاں عائد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قوم میں قوت فکر و عمل اور محاسبہ خویش کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس
جو قوم اپنے مردوں اور عورتوں کو آزاد چھوڑ دے کہ وہ جنسی خواہشات کی تسکین جس طرح جی چاہے کر لیں۔ ان میں فکر و عمل کی قوتیں مفقود ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ رومیوں نے ایسا ہی کیا وہ حیوانوں کی طرح بلا قیود جنسی جذبات کی تسکین کر لیا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ ان کے پاس کسی اور کام کے لئے توانائی باقی نہ رہی۔ (ص ۳۹۸)
اضمحلال -:قرآن کریم نے ایک جگہ مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ولا یزنون وہ زنا کی قریب تک نہیں جاتے۔ اس لئے کہ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا (۶۸/۲۵) جو قوم ایسا کرتی ہے اسے اثم سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ عربی زبان میں اثمتہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں کہ جو تھک کر مضمحل ہو جائے اور اس میں اتنی توانائی نہ رہے کہ وہ باقی قطار کے ساتھ چل سکے۔ اس لئے وہ ان سے پیچھے رہ جائے۔ آپ غور کیجئے کہ قرآن نے کس طرح ایک لفظ کے اندر اس تمام حقیقت کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ جس تک دور حاضر کی تحقیق اس قدر تجربات کے بعد پہنچی ہے۔ یعنی یہ کہ جنسی جذبات کو آزاد نہ چھوڑ دینے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قوم مضمحل ہو جاتی ہے اور زندہ اقوام کے ساتھ دوش بدوش چلنے کے قابل نہیں رہتی۔ اس میں وہ معاشرتی توانائیاں نہیں رہتیں جو قوموں کو تمدنی بلندیاں عطا کرتی ہیں۔
ڈاکٹر انون نے یہ بھی کہا ہے کہ
مردوں کی عصمت اسی صورت میں معاشرتی توانائی پیدا کر سکتی ہے جب عورتیں باعصمت ہوں اور ان کی عصمت‘ شادی سے قبل اور بعد دونوں زمانوں میں محفوظ رہے۔ (ص ۳۲۳)
جیسا کہ پہلے بھی کہا جا چکا ہے قرآن مردوں اور عورتوں دونوں کی عصمت پر یکساں زور دیتا ہے وہ حٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ (وہ مرد جو اپنی عصمت کی حفاظت کرتے ہوں) کے ساتھ وَالْحٰفِظٰتِ (۳۵/۳۳) بھی کہتا ہے۔ یعنی وہ عورتیں جو اپنے دامن عفت کو قطعاً داغدار نہ ہونے دیں اور جرم زنا کی سزا بھی مرد و عورت دونوں کے لئے یکساں تجویز کرتا ہے (۲/۲۴)۔
قرآنی حد بندی -:قرآن کی رو سے جنسی اختلاط کی صرف ایک ہی صورت جائز ہے۔ یعنی نکاح۔ لہٰذا قبل از نکاح جنسی اختلاط اور نکاح کے بعد عورت کا کسی دوسرے مرد سے یا مرد کا کسی دوسری عورت سے جنسی اختلاط (خواہ وہ تراضی مابین ہی سے کیوں نہ ہو) زنا ہے۔ نکاح کے متعلق بھی یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ یہ ’’ہنگامی جنسی اختلاط کی رضامندی‘‘ نہیں ہوتی بلکہ معاہدہ ہوتا ہے اس امر کا کہ ہم (میاں بیوی) ان تمام قیود و حدود اور حقوق و فرائض کے مطابق جو ہم پر قرآن نے عائد کی ہیں مستقل رفاقت کی زندگی بسر کریں گے۔ اسی سے ایک اور حقیقت بھی سامنے آجاتی ہے۔ ڈاکٹر انون نے اپنے ہاں زنا کا لفظ استعمال نہیں کیا (اسے اس لفظ کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس لئے کہ وہ مذہبی یا اخلاقی بحث نہیں کر رہا بلکہ جنسی مسئلہ کے متعلق علمی اور نظری تحقیق کر رہا ہے۔ لہٰذا اس کا انداز سائنٹیفک ہونا چاہئے تھا (اس نے اپنے ہاں جنسی اختلاط کے مواقع (Sexual Opportunities) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ جس قوم میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ ہوں گے وہ قوم تمدنی سطح میں بہت پست ہو گی اور جس میں یہ مواقع کم از کم حد تک رکھے جائیں گے وہ تمدنی سطح کی بلندیوں تک پہنچ جائے گی۔ قرآن نے صرف زنا ہی کو حرام قرار نہیں دی ابلکہ جنسی اختلاط کے مواقع کو کم سے کم حد تک محدود کر دیا ہے۔ اس میں قبل از نکاح‘ جنسی اختلاط کے مواقع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ زنا ہے۔ نکاح کا معاہدہ اس کے نزدیک عمر بھر کی رفاقت (Life-long Companionship) کا معاہدہ ہے۔ لہٰذا اس میں وقتی جنسی اختلاط کا بھی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ خواہ وہ باہمی رضامندی ہی سے کیوں نہ ہو پھر اس نے نکاح کو میثاقاً غلیظاً (پختہ عہد) کہا ہے۔ بچوں کا کھیل نہیں کہا ہے کہ جب جی چاہا کھیل کھیل لیا اور جب طبیعت اکتا گئی تو اسے مٹی کے گھروندے کو پامال کر دیا اور دوسرے وقت پھر نیا گھر بنا لیا۔
وحدت ازدواج -:علاوہ بریں اس نے وحدت زوج (Monogamy) کو بطور اساسی اصول مقرر کیا ہی اور تعداد ازواج کو محض ایک ہنگامی تمدنی مشکل کے حل کے لئے بطور عارضی علاج جائز قرار دیا ہے (اس کی بھی محض اجازت ہے‘ حکم نہیں) آپ دیکھیں گے کہ شادی کی یہ (قریب قریب) وہی شکل ہے جسے انون نے مطلق وحدت زوج (Absolute Monogamy) کی اصطلاح سے تعبیر کیا۔ میں نے ’’قریب قریب‘‘ اس لئے کہا ہے کہ ڈاکٹر انون کے نزدیک ’’مطلق وحدت زوج‘‘ میں شادی صرف اسی صورت میں منقطع ہو سکتی ہے جب عورت جنسی (اخلاقی) جرم کی مرتکب ہو جائے لیکن قران نے نباہ نہ ہو سکنے کو بھی فسخ معاہدہ (طلاق) کی معقول اور جائز وجہ قرار دیا ہے۔ بہرحال‘ یہ ظاہر ہے کہ قرآن نے جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک محدود کر دیا ہے۔ وہ زمانہ قبل از نکاح میں جنسی اختلاط کے کسی ایک موقع کو بھی جائز قرار نہیں دیتا اور نکاح کے بعد عام حالات میں صرف ایک جوڑے کو باہمدگر وابستہ رکھتا ہے۔ تنوع (Change) کی خاطر تنوع (Change) کی اجازت نہیں دیتا۔ قرآن نے تو نکاح کی صورت میں بھی مُّحْصِنِیْنَ کے ساتھ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ (۲۴/۴) کا اضافہ کیا ہے حصن کے معنی ہیں محفوظ رکھنا اور سفح کے معنی ہیں پانی وغیرہ کا بہا دینا۔ لہٰذا جہاں اس حکم میں زنا سے ممانعت مقصود ہے وہاں اس سے یہ بھی متصور ہے کہ نکاح کا مقصد بھی شہوت رانی نہیں۔ اس سے نکاح کی تمام ذمہ داریوں کی حفاظت اور بقائے نسل کا تحفظ مقصود ہے۔
قرآن کہتا ہے کہ صرف وہی قوم زندگی کی کامرانیوں سے بہرہ یاب (مفلح) ہو سکتی ہے جو جنسی اختلاط کے مواقع کم از کم حد تک لے جائے اور یہ کم از کم مواقع بھی صرف معروف (Recognised) طریق سے مہیا کئے جائیں اور ڈاکٹر انون کی تحقیق یہ ہے کہ :
انسانیت کی پوری تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی اس قسم کی نہیں مل سکتی کہ کوئی ایسی سوسائٹی تمدن کی بلندی تک پہنچ گئی ہو جس کی لڑکیوں کی پرورش و تربیت ’’مطلق وحدت زوج‘‘ کی روایات میں نہ ہوئی ہو۔ نہ ہی تاریخ عالم میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ کسی قوم میں جنسی اختلاط پر حدود و قیود کی روایات ڈھیلی پڑ گئی ہوں اور اس کے باوجود وہ قوم اپنی تمدنی بلندی کو قائم رکھ سکی ہو جب عقد نکاح‘ مساوی حیثیت کے فریقین کا عمر بھر کی رفاقت کا عہد ہو اور نہ میاں اپنی بیوی کے علاوہ کسی اور عورت سے آشنا ہو اور نہ ہی بیوی اپنے میاں کے علاوہ کسی مرد کی شناسا۔ تو اس صورت میں جنسی مواقع اپنی کم از کم حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ اس پر شاہد ہے کہ جن اقوام نے ایسی معاشرتی رسوم اختیار کر لی تھیں جو زندگی بھر کی جبری رفاقت کے قریب قریب پہنچ گئی ہوں۔ (اس لئے کہ اس وقت تک ’’زندگی بھر کی جبری رفاقت‘‘ تک کوئی قوم بھی نہیں پہنچ سکی) اور جن اقوام نے جنسی اختلاط کے حدود و قیود کو زیادہ سے زیادہ عرصہ تک قائم رکھا تھا۔ وہی اقوام تہذیب و تمدن کی اس بلندی تک پہنچ سکی تھیں جہاں تک انسانیت اس وقت تک پہنچ سکی ہے۔ (ص۸۴)
*******
عربوں کی تاریخ -:ڈاکٹر انون نے اپنی تحقیق کے دوران ضمناً مسلمانوں (عربوں) کی تاریخ کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ مختصر الفاظ میں بتاتا ہے کہ قدیم عرب‘ قبل از نکاح عصمت و بکارت پر زور نہیں دیا کرتے تھے۔ بعد میں (اسلام کی تعلیم کے ماتحت) انہوں نے اس عصمت پر شدت سے زور دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے محدود ملک سے نکل کر گردونواح کی دنیا پر پھیل گئے اس کے بعد جب انہوں نے اپنے حرم میں عورتوں کی بھرمار شروع کر دی تو ان کی فتوحات کی وسعتیں رک گئیں۔ (ص ۴۲۹) اس کے بعد ڈاکٹر انون نے ایک اور تاریخی عنصر کی طرف اشارہ کیا ہے جس سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ قرآن نے یہود و نصاریٰ (اہل کتاب) کی لڑکیوں سے شادی کی اجازت کیوں دی تھی۔ ڈاکٹر انون کے اس اصول کا ذکر پہلے آچکا ہے کہ کسی قوم کی تمدنی تعمیر میں عورت کی محفوظ توانائی کا بہت بڑا اثر ہے بلکہ یہ کہ مردوں کی توانائی بھی اسی صورت میں تعمیری نتائج پیدا کر سکتی ہے جب ان کی عورتیں باعصمت ہوں۔ ڈاکٹر انون کہتا ہے کہ جب عربوں کی فتوحات کا سلسلہ مصر میں جا کر رک گیا تو انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کی لڑکیوں کی شادی کی۔ ان لڑکیوں کی تربیت اس ماحول میں ہوئی تھی جس میں جنسی ضبط پر بڑا زور دیا جاتا تھا۔ ان لڑکیوں کی مرتکز توانائیاں عربوں کی مزید وسعتوں اور تمدنی بلندیوں کا باعث بن گئیں۔ یہی کچھ مصر میں ہوا اور یہی کچھ اسپین میں (ص ۴۲۹) کسی کو ڈاکٹر انون کی تحقیق کے اس نتیجے سے اختلاف ہو یا اتفاق۔ لیکن یہ حقیقت بہرکیف اپنی جگہ پر غیر متنازعہ رہ جاتی ہے کہ اس محقق کے نزدیک کسی قوم کی فتوحات کی وسعتوں اور تہذیب کی بلندیوں پر اس کی عورتوں کی عصمت و ضبط کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے اور یہی حقیقت قرآن نے بیان کی ہے جب اس نے زندگی کی کامرانیوں کے لئے مردوں اور عورتوں دونوں کے ’’محصن‘‘ (قلعہ بند) ہونے کو بنیادی شرط قرار دیاہے۔ مرد اور عورت دونوں کا محصن ہونا جنسی اختلاط کے مواقع کم از کم درجے تک لے آتا ہے (یعنی زمانہ قبل از نکاح میں مطلق عصمت۔ نکاح میں وحدت زوج (Monogamy) بطور اساسی اصول اور نکاح کے بعد میاں اور بیوی کا کسی غیر عورت اور مرد کے ساتھ اختلاط ناجائز) لیکن جب کسی قوم میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ سے زیادہ ہو جائیں (جس کی شکل صرف زنا ہی نہیں بلکہ اس ہنگامی ضرورت کے بغیر جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے‘ بیک وقت ایک سے زیادہ بیویاں۔ طلاق کی رخصت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر آزادانہ تبدیلی ازواج (۳) اور قرآن کے کھلے کھلے حکم کے خلاف لونڈیوں کی بھرمار سے سینکڑوں عورتوں سے اختلاط یہ سب جنسی اختلاط کے زیادہ سے زیادہ مواقع بہم پہنچانے کی شکلیں ہیں (تو پھر اس قوم میں نہ تو آگے بڑھنے کی توانائیاں رہ جاتی ہیں اور نہ ہی اپنے تمدن کو علیٰ حالہ قائم رکھنے کی صلاحیتیں باقی۔
جنسیات میں الجھی ہوئی قوم کی حالت -:اس قسم کی قوم زندگی کی کس سطح پر پہنچ جاتی ہے اس کے متعلق ڈاکٹر انون لکھتا ہے کہ :
اس قوم میں علم و بصیرت کی قوت تو ہوتی ہے لیکن وہ اپنے معاملات میں اس سے راہنمائی حاصل نہیں کرتی (۴)۔ وہ واقعات کے اسباب و علل (Causes) کے متعلق کبھی تحقیق نہیں کرتی۔ جو کچھ ہوتا ہے اسی طرح تسلیم کرتی چلی جاتی ہے۔ زندگی سے متعلق تمام معاملات کے بارے میں ان کی بندھی بندھائی رائے ہوتی ہے (جس کے مطابق وہ چلتے چلے جاتے ہیں)۔۔۔ وہ ہر غیر معمولی واقعہ کو جو ان کی سمجھ میں نہ آئے کسی عجیب و غریب قوت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔۔۔ اس قوت کا مظہر کبھی پتھروں کو سمجھا جاتا ہے اور کبھی درختوں کو۔ کبھی ایسے حیوانات کو جو انہیں محیر العقول نظر آئیں اور کبھی دیگر ایسی اشیاء کو جن کی ماہیت ان کی سمجھ میں نہ آئے جس شخص کی پیدائش یا زندگی میں انہیں کوئی غیر معمولی بات نظر آئے وہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ اس قوت کا مالک ہے۔ حتیٰ کہ اس کی موت کے بعد بھی اسے اس قوت کا حامل سمجھا جاتا ہے (اس کے بعد ڈاکٹر انون نے ان توہم پرستیوں کی تفصیل بتائی ہے جو نذر نیاز‘ گنڈہ تعویذ‘ اکابر پرستی اور قبر پرستی کی صورت میں ایسی قوم سے ظہور میں آتی ہیں۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ) اس قسم کے معتقدات‘ اس قوم میں نسلاً بعد نسل متوارث چلے آتے ہیں۔ زمانہ کا امتداد ان پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتا۔ اس معاشرہ میں انسان پیدا ہوتے ہیں۔ اپنی خواہشات کو پورا کرتے ہیں اور مر جاتے ہیں اور جب ان کی لاشوں کو تہ خاک دبا دیا جاتا ہے تو وہ نسیاً منسیاً ہو جاتے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہوتے بالکل حیوان ہوتے ہیں (۵)۔ (ص ۳۴۶۔۳۴۵)۔
آپ نے دیکھ لیا نقشہ اس سوسائٹی کا جس میں جنسی اختلاط کے مواقع زیادہ سے زیادہ ہوتے ہیں؟ کیا مسلمانوں کی صدیوں سے یہی حالت نہیں چلی آرہی اور کیا آج بھی ساری دنیا میں ہماری یہی حالت نہیں؟ کیا یہ نتیجہ نہیں جنسی اختلاط کے مواقع کی ان وسعتوں کا جو ہمارے خود ساختہ مذہبی تصورات نے عطا کر رکھی ہیں؟
جب ہماری قوم کی جنسی زندگی قرآنی سواحل میں گھری ہوئی تھی تو یہ ساری دنیا پر چھا گئی تھی اور جب ملوکیت نے اسے بدلگام کر دیا اور شریعت کے نام پر وہ سب کچھ ہونے لگا جسے قرآن روکنے کے لئے آیا تھا تو ان کی ساری توانائیاں ضائع ہو گئیں۔ ان میں پھر یہ فکر کی صلاحیت رہی نہ عمل کی اور یہی حالت اس وقت تک چلی جا رہی ہے۔ ان کے ممالک میں لونڈیاں آج تک سربازار بکتی ہیں۔
ہمارا نوجوان طبقہ -:یہ تو ہے ہمارے اس طبقہ کی حالت جسے قدامت پرست کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے نوجوانوں کا طبقہ ہے جنہوں نے مغرب کی دیکھا دیکھی یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جنسی تعلقات پر پابندیاں عائد کرنا‘ انفرادی آزادی کو مقید کرنا ہے۔ اس لئے ’’ازمنہ مظلمہ‘‘ کے ان اغلال و سلاسل کو جتنی جلدی توڑ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے چنانچہ انہوں نے عملاً اسے توڑنا بھی شروع کر دیا ہے۔ ان آزادیوں سے وہ سوسائٹی متشکل ہوتی ہے جس کے متعلق انون لکھتا ہے کہ اس میں :
ہر لڑکی کو آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ جس قسم کا جنسی کھیل کھیلنا چاہے کھیلتی پھرے اور جس نوجوان سے چاہے جنسی اختلاط قائم کرے۔ اس کے لئے فقط ان دونوں کی رضامندی کی شرط ہے۔ نہ لڑکی پر کسی قسم کی پابندی عائد ہوتی ہے نہ لڑکے پر۔۔۔ بچپن ہی سے وہ ہر ایسا جنسی کھیل کھیلنے لگ جاتے ہیں جن میں انہیں لذت ملتی ہو۔۔۔ مختصراً یہ کہ وہ ایک ایسی فضا میں رہتے ہیں جس میں جنسی حدود و قیود کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور جس میں ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جو نہی جنسی خواہش ہوئی۔ اسے اسی وقت کسی نہ کسی طرح پورا کر لیا۔ (ص۳۴۸)۔
اس کا نتیجہ -:یہی ہیں وہ جنسی آزادیاں جن کا متمنی ہمارا نوجوان تعلیم یافتہ طبقہ ہوتا جا رہا ہے لیکن ان آزادیوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے اسے خود ڈاکٹر انون کی زبان میں سن لیجئے وہ کہتا ہے کہ :
لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جنسی پابندیوں کو بھی ہٹا دیا جائے اور قوم زندگی کی ان خوشگواریوں سے بھی متمتع ہوتی رہے جو ایک بلند تمدن کا ثمرہ ہوتی ہیں لیکن انسانی ہیئت تو کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ وہ یہ دونوں آرزوئیں کبھی یکجا جمع نہیں ہو سکتیں یہ ایک دوسرے کی نقیض ہیں جو ریفارمر ان میں مفاہمت (Compromise) کی کوشش کرتا ہے اس کی مثال اس احمق بچے کی سی ہے جو چاہتا ہے کہ وہ اپنے کیک کو کھا بھی لے اور پھر وہ سالم کا سالم باقی بھی بچ جائے کوئی انسانی معاشرہ ہو‘ اسے ان دو راہوں میں سے ایک راہ اختیار کرنی ہو گی یا تو ان صلاحیتوں کو پائندہ رکھنے کی راہ جو اس کے تمدن کو بلند کرتی ہیں اور یا جنسی آزادی کی راہ۔ تاریخ کی شہادت یہ ہے کہ جو قوم ان دو متضاد چیزوں کو اکٹھا کرتی ہے وہ اپنی تہذیب کو ایک نسل سے بھی زیادہ آگے نہیں لے جا سکتی۔ (ص۴۱۲)
بنابریں۔
کسی سوسائٹی میں تخلیقی توانائیاں باقی نہیں رہ سکتیں جب تک اس کی ہر نسل ان روایات میں پرورش نہ پائے جو جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک محدود کر دیں۔ اگر وہ قوم اس قسم کے نظام کو (جس میں جنسی اختلاط کے مواقع قلیل ترین حد تک محدود کر دیئے جائیں) مسلسل آگے بڑھائی جائے تو وہ شاندار روایات کی حامل رہے گی (ص۴۱۴)۔
*******
پس چہ باید کرد -:آخر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے معاشرہ کی تشکیل کس طرح کی جائے جس میں جنسی اختلاط کے مواقع کو کم از کم حد تک لے جایا جائے اور پھر ایسی صورت پیدا کی جائے کہ جنسی واقع کی یہ شکل مستقل طور پر قائم رہ سکے تاکہ اس طرح وہ قوم انسانیت کی صلاحیت بخش توانائیوں کی حامل بنتی چلی جائے۔ ڈاکٹر انون نے اپنی کتاب کا خاتمہ اسی سوال (اور اس کے جواب) پر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ
تاریخ کے صفحات پر کوئی سوسائٹی ایسی نظر نہیں آتی جو اس کوشش میں کامیاب ہو گئی ہو کہ وہ جنسی اختلاط کے مواقع کو ایک مدت مدید تک‘ کم از کم حد تک محدود رکھ سکی ہو۔ میں تاریخی شواہد سے جس نتیجہ پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر کسی قوم نے ایسی صورت پیدا کرنی ہو تو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ پہلے مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا کرے۔ (ص۳۲۔۴۳۱)
مرد اور عورت کی مساوی حیثیت -:آپ نے غور کیا کہ اس محقق کی تحقیق کے مطابق اس قسم کے معاشرہ کی تشکیل کی بنیادی شرط کیا ہے؟ یہ کہ اس میں مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا ہو! آج اس معاشرہ میں جس میں ہم صدیوں سے چلے آرہے ہیں یہ کہنا کہ اسلام نے مرد اور عورت کو قانوناً مساوی درجہ عطا کیا تھا‘ شائد اپنی ہنسی اڑانے کے مترادف ہو گا۔ لیکن اس حقیقت کو کون چھپا سکتا ہے کہ قرآن نے یہ اعلان آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے کیا تھا کہ وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (۲۲۸/۲) قاعدے اور قانون کی رو سے عورتوں کے حقوق بھی اتنے ہی ہیں جتنے ان کے فرائض ہیں۔ لہٰذا قانون کی نگاہ میں مرد اور عورت دونوں کو مساوی درجہ حاصل ہے۔ لہٰذا ہمارے لئے تو کرنے کا کام فقط اتنا ہے کہ اپنے معاشرے کو قرآنی خطوط پر متشکل کر لیں۔
*******
آخر میں ڈاکٹر انون لکھتا ہے کہ:
اگر کوئی معاشرہ چاہتا ہے کہ اس کی تخلیقی توانائیاں مدت مدید تک‘ بلکہ ابد الاباد تک قائم اور آگے بڑھتی رہیں تو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ پہلے اپنی تخلیق نو کرے۔ یعنی پہلے اپنے مردوں اور عورتوں کو قانوناً مساوی حیثیت دے اور پھر اپنے معاشی اور معاشرتی نظام میں اس قسم کی تبدیلیاں کرے جن میں معاشرہ میں جنسی اختلاط کے مواقع ایک مدت مدید تک‘ بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کم از کم حد تک محدود رہیں۔ اس طرح اس معاشرہ کا رخ ثقافتی اور تمدنی ارتقاء کی طرف مڑ جائے گا اس کی روایات شاندار ماضی اور درخشندہ مستقبل کی حامل ہوں گی وہ تمدن وتہذیب کے اس بلند مقام تک پہنچ جائے گا جس تک آج تک کوئی نہیں پہنچ سکا اور انسان کی توانائیاں اس کی ان روایات کو ایک ایسے انداز سے صیقل کرتی جائیں گی جو اس وقت ہمارے حیطہ ادراک میں بھی نہیں آسکتا (ص۴۳۲)۔
قرآن ایسے ہی معاشرہ کی تشکیل چاہتا ہے۔ اس کے لئے اس نے نہایت واضح قوانین دیئے ہیں۔ وہ عائلی زندگی کو کس قدر اہمیت دیتا ہی اس کا اندازہ اس سے لگایئے کہ وہ جہاں صلوٰۃ و زکوٰۃ جیسے امور کے متعلق بالعموم اصولی قوانین دیتا ہے وہاں عائلی زندگی کے متعلق چھوٹی چھوٹی جزئیات تک بھی خود ہی متعین کر دیتا ہے۔ اگر وقت ہوتا تو میں مسلسل خطبات کے ذریعے ان تمام احکام کو ایک ایک کر کے آپ کے سامنے لاتا جس سے آپ کو اندازہ ہوتا کہ قرآن کس قسم کے معاشرہ کا نقشہ دیتا ہے اور اس کے نزدیک جنسی تعلقات کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ (اس کے متعلق اگر آپ تفصیل سے معلوم کرنا چاہتے ہیں تو میری کتاب ’’طاہرہ کے نام خطوط‘‘ کا مجموعہ دیکھے جس میں ان تمام امور کو یکجا بیان کر دیا گیا ہے)۔
ایک بنیادی حقیقت -:لیکن اس ضمن میں ایک بنیادی حقیقت ایسی ہے جس کا آخر میں بیان کرنا نہایت ضروری ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جنسی جذبہ بھی بھوک‘ پیاس‘ نیند وغیرہ کی طرح ایک فطری جذبہ ہے جس کی تسکین نہایت ضروری ہے اور جس طرح بھوک‘ پیاس وغیرہ کی اضطراری حالت میں عام قوانین کو ڈھیلا (Relax) کر دیا جاتا ہے اسی طرح جنسی قوانین کی بندشوں کو بھی ڈھیلا کر دینا چاہئے۔ یہ تصور ایک بنیادی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بھوک اور پیاس کی طرح جنسی جذبہ بھی ایک فطری جذبہ (Natural Instinct) ہے لیکن اس میں اور بھوک پیاس وغیرہ میں ایک بنیادی فرق ہے اس فرق کو ایک مثال (بلکہ اپنے روزمرہ کے مشاہدہ) سے سمجھئے۔ آپ کسی کام میں منہمک بیٹھے ہیں۔ آپ کو پیاس لگتی ہے شروع میں آپ کو اس کا خیال نہیں آتا وہ بڑھتی ہے تو آپ کو اس کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ پانی پی لیتے ہیں تو فبہا‘ ورنہ اس کی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے اور اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ آپ کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتی ہے اور اگر آپ کو کچھ دنوں کے لئے پانی نہ ملے تو اس سے آپ کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہی کیفیت بھوک کی بھی ہے اس سے آپ نے دیکھ لیا کہ
۱۔ بھوک‘ پیاس وغیرہ کا تقاضا ازخود پیدا ہوتا ہے۔ اس میں آپ کے خیال اور ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اور
۲۔ اگر ان تقاضوں کی تسکین نہ کی جائے تو کچھ وقت کے بعد اس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس کو اضطراری حالت کہتے ہیں۔ اس حالت میں (جان بچانے کی خاطر) ان چیزوں کے کھانے کی اجازت دی گئی ہے جو عام حالات میں حرام ہیں۔
خیال کا دخل -:لیکن جنسی تقاضا کی کیفیت ان سے بالکل جدا ہے۔ جنسی تقاضا کبھی نہیں ابھرتا تاوقتیکہ آپ اس کا خیال نہ کریں۔ اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ جنسی تقاضا کی بیداری اور نمود یکسر آپ کے خیالات سے وابستہ ہے۔ اگر آپ کا خیال اس طرف منتقل نہ ہو تو یہ تقاضا بیدار ہی نہیں ہوتا۔ دوسرے یہ کہ اگر جنسی تقاضا کی تسکین نہ کی جائے تو اس سے موت واقع نہیں ہو جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس کی ’’اضطراری حالت‘‘ کے لئے حرام کو حلال نہیں قرار دیا۔ بلکہ کہا یہ ہے کہ جس کے لئے نکاح ممکن نہ ہو وہ ضبط نفس سے کام لے۔ (۳۳/۲۴)
ضبط نفس -:اور یہ ضبط نفس کچھ بھی مشکل نہیں۔ اس لئے کہ جس تقاضا کی بیداری کا مدار انسان کے اپنے خیالات پر ہو‘ اس پر کنٹرول رکھنا انسان کے اپنے بس کی بات ہوتا ہے نہ خیالات کو طیور آوارہ بنایئے۔ نہ توجہ اس طرف جائے لیکن کہا جا سکتا ہے کہ جس معاشرہ میں حالت یہ ہو جائے کہ
صید خود صیاد را گوید بگیر
اس میں ایک فرد (بالخصوص نوجوان طبقہ) اپنے خیالات پر کس طرح کنٹرول رکھ سکے؟ یہ بات ایک حد تک درست ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن چور ہی کو نہیں بلکہ چور کی ماں کو بھی مارتا ہے۔ وہ صرف ارتکاب جرم کے بعد مجرم کو نہیں پکڑتا بلکہ ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس میں ان جرائم کے ارتکاب کے مواقع کم از کم ہو جائیں۔ اس کے لئے وہ کہتا ہے کہ لَاتَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَاظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ (۱۵۲/۶) تم فواحش کے قریب تک نہ جاؤ۔ یعنی فواحش تو ایک طرف جو اسباب و ذرائع فواحش تک لے جانے والے ہوں ان سے بھی مجتنب رہو ان اسباب و ذرائع میں وہ بھی شامل ہیں جو بظاہر نظر آجاتے ہیں اور وہ بھی جو نگاہوں سے مخفی رہتے ہیں یعنی دل میں گزرنے والے خیالات آہستہ آہستہ انسان کو فواحش تک لے جاتے ہیں اسی لئے اس نے کہا ہے کہ یَعْلَمُ خَآنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ (۱۹/۴۰) وہ نگاہوں کی خیانت اور دل کی چوری (راز) تک سے واقف ہے۔ اس قسم کی روش کو تطہیر قلب و نگاہ کہتے ہیں یعنی دل اور آنکھ کی پاکیزگی۔ اس مقصد کے لئے قرآن مردوں اور عورتوں کے اختلاط (میل جول) کے متعلق تفصیلی ہدایات دیتا ہے (انہیں پردے کے احکام کہا جاتا ہے) مجھے افسوس ہے کہ اس کے لئے بھی دقت نہیں ورنہ میں بتاتا کہ قرآن کس طرح ایک ایسا معاشرہ وجود میں لاتا ہے جس میں عورتوں کی آزادی کو سلب نہیں کیا جاتا لیکن اس میں جنسی محرکات کبھی بے باک نہیں ہونے پاتے اور انسانی خیالات میں بے راہ روی نہیں پیدا ہوتی۔
********
بہرحال آپ نے یہ دیکھ لیا کہ مرد اور عورت کا جنسی اختلاط‘ محض ایک طبعی فعل (Biological Action) نہیں جس کا تعلق صرف انسان کے جسم تک ہو۔ اس کا تعلق قوموں کی تہذیہب و تمدن اور کلچر اور ثقافت کے ساتھ بڑا گہرا اور بنیادی ہے۔ لہٰذا یہ مسئلہ ایسا نہیں جسے یونہی نظر انداز کر دیا جائے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم تمدن اور ثقافت میں ممتاز حیثیت حاصل کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم جنسی تعلقات کو قرآن کی مقرر ردہ حدود کے اندر رکھیں۔ یعنی ان آزادیوں کو بھی محدود کریں جو مغرب کی اندھی تقلید سے ہمارے جدت پسند طبقہ میں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں اور ان ’’شرعی اجازتوں‘‘ کو بھی حدود اللہ کا پابند بنائیں جو غلط (یعنی غیر قرآنی) مذہب کی بناء پر ہمارے قدامت پسند معاشرہ میں صدیوں سے مروج چلی آرہی ہیں۔ اگر ہم نے ایسانہ کیا تو ہمارے ابھرنے اور آگے بڑھنے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔ سنت اللہ کسی کے لئے بدلا نہیں کرتی۔
حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں!
(طلوع اسلام فروری ۱۹۵۷ء ؁)
********

حواشی
۱؂ واضح رہے کہ ان کا انداز‘ اس طریق سے مختلف ہے جو آج کل (بالخصوص) امریکہ میں رائج ہے اور جس کی رو سے ایک خاص خطہ یا طبقہ کے لوگوں کو سوالنامہ دیدیا جاتا ہے اور ان کے جوابات سے اعداد و شمار (Statistics) مہیا کر کے نتائج اخذ کر لئے جاتے ہیں اور ان نتائج کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عالمگیر اور فطرت انسانی کے ترجمان ہیں۔ آج کل امریکہ میں (Kinsley) کے قسم کے ’’محقق‘‘ اسی انداز سے جنسیات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ طریق کار کبھی عالمگیر (Universal) نتائج بہم نہیں پہنچا سکتا۔
۲؂ اس مقام پر اس حقیقت کا سمجھ لینا ضروری ہے کہ فرائڈ نے جنسیات کے متعلق اپنی تحقیق اور فکر میں جس قدر ٹھوکریں کھائی ہیں۔ ان کے جو نقصان رساں نتائج مغربی معاشرہ میں نمودار ہوئے ہیں وہ ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں ہم اس وقت صرف فرائڈ کے اس خیال سے بحث کر رہے ہیں کہ جنسی توانائی کو اگر بے باک نہ ہونے دیا جائے تو یہ اپنا رخ تعمیری مقاصد کی طرف موڑ لیتی ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
۳؂ رابرٹ برفا (Briffault) نے جنسیات کے متعلق ایک بڑی دقیع اور ضخیم کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے (The Mothers) اس میں وہ ایک گروہ کے متعلق لکھتا ہے کہ اس نے عمر بھر بیک وقت ایک ہی بیوی رکھی لیکن وہ (غالباً) چالیس کے قریب بیویاں بدل چکا تھا یہ جنسی اختلاط کے متنوع مواقع کی ایک مثال ہے۔ اس سے اور مثالوں کا بھی اندازہ لگا لیجئے۔
۴؂ دیکھئے یہ الفاظ کس طرح ترجمہ ہیں قرآن کی اس آیت کا کہ لہم قلوب لا یفقھم بھا ان کے پاس سمجھنے کی قوت تو ہوتی ہے لیکن وہ اس سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے۔
۵؂ یہ بھی قرآن ہی کی آیت کا ترجمہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاْکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ (۱۲/۴۷) وہ سامان زیست سے اسی طرح فائدہ حاصل کرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں جس طرح حیوان۔

2,410 total views, 1 views today

(Visited 464 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *