فرقہ اہلِ قرآن کی پھیلائی ہوئی گمراہیاں: پرویز

فرقہ اہلِ قرآن کی پھیلائی ہوئی گمراہیاں

قرآن کے نام پر ۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن سے دشمنی

میں شروع ہی میں اس حقیقت کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ (۱) نہ میرا تعلق کسی فرقہ سے ہے، نہ ہی میں نے کوئی اپنا فرقہ کھڑا کیا ہے۔ میں قرآن کریم کی رو سے فرقہ بندی کو شرک سمجھتا ہوں۔ (۲) نماز، روزہ وغیرہ جملہ ارکان اسلام کی ادائیگی عام مسلمانوں کی طرح کرتا ہوں، کسی فرد یا فرقہ کو ان میں تغیر و تبدل کا مجاز نہیں سمجھتا۔ نہ ہی کسی نئے طریق کے وضع کرنے کا مختار۔ (۳) تحفظ ناموس رسالتؐ و عظمتِ قرآن کریم میرا جزوِ ایمان اور زندگی کا مشن ہے۔ جہاں ان پر کسی قسم کی زد پڑتی ہے، اس کی مدافعت میرا تقاضائے ایمان اور دینی فریضہ ہوتا ہے۔ (۴) ہمارے زمانے میں ناموس رسالتؐ کو سب سے زیادہ نقصان تحریک ‘‘احمدیت’’ نے پہنچایا اور عظمت قرآن کو (نام نہاد) اہل قرآن نے (۵)فرقہ اہل قرآن کو چنداں اہمیت حاصل نہیں۔ یہ چند گنتی کے نفوس پر مشتمل ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ اب یہ اپنی گمرہی کے دامن کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے میں نے ان کا نوٹس لینا بھی ضروری خیال کیا ہے۔ (۶)میرے اس مقالہ کے مخاطب، اس فرقہ کے ذمہ دار افراد نہیں کیونکہ تجربہ نے بتایا ہے کہ لیڈری کی ہوس انسان میں ایسا پندار نفس پیدا کر دیتی ہے جو ان کے سمجھنے سوچنے کی صلاحیت سلب کر لیتا ہے۔ میرے مخاطب و سعید افراد ہیں جو ان کی باتوں، پر نہایت نیک نیتی سے یہ سمجھ کر کان دھرتے ہیں کہ یہ قرآن کی طرف دعوت دیتے ہیںَ ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ حقیقت کے سامنے آجانے کے بعد غلط راستہ چھوڑ کر، صحیح راہ اختیار کر لیں۔ (۷) میرا مقصد ان لوگوں سے کسی بحث میں الجھنا نہیں کیونکہ اس کے لیے میرے پاس فالتو وقت ہی نہیں۔ نہ ہی میں ذاتیات پر اتروں گا کہ علمی گفتگو میں ذاتیات پر اترنا پستی فطرت کی دلیل ہوتا ہے۔ میں ذاتیات پر اترا ہی نہیں کرتا۔ میں اپنی زندگی کے باقی ایام کو خدمت قرآن کے تعمیری مقصد کے لیے وقف رکھنا چاہتا ہوں۔ وما توفیقی اللہ باللہ اعلی العظیم

اس تمہیدی وضاحت کے بعد اصل موضوع کی طرف آئیے

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا تو سفرِ حیات میں اس کی راہنمائی بھی اپنے ذمے لی۔ اس راہنمائی کے لیے طریق یہ اختیار کیا گیا کہ خدا اس کا علم، وحی کے ذریعے ، ایک برگزیدہ ہستی کو عطا کر دیتا اور وہ اسے دوسرے انسانوں تک پہنچا دیتی۔ اس برگزیدہ ہستی کو نبی یا رسول کہا جاتا ہے۔ اس راہ نمائی کا انداز کیا تھا۔ اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ خود انسانی زندگی کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ کس اصول کے تابع باقی رہتی ہے اور آگے بڑھتی ہے۔ یہ اصول ہے ثبات و تغیر کا امتزاج۔ اسے ایک مثال کی رو سے سمجھئے جس کا تعلق انسان کی طبعی (یعنی جسمانی) زندگی سے ہے۔

ثبات و تغیر کا امتزاج

یہ ظاہر ہے کہ انسان کی طبیعی زندگی کا دارومدار (منجملہ دیگر عوامل) غذا پر ہے۔ اسے زندگی کے پہلے سانس سے لے کر نفس آخرین تک غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اس غذا کی نوعیت اور طور طریق حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ زمان کے اعتبار سے دیکھئے تو تاریخ کے دور اول کے جنگلوں اور غاروں میں بسنے والے انسانوں کی غذا کی نوعیت کچھ اور تھی اور عصر حاضر کے انسانوں کی کچھ اور ۔ پھر ایک ہی فرد کی عمر کے مختلف ادوار اور جسمانی حالت کو سامنے رکھئے تو اس کی غذا کی نوعیت میں تغیر ضروری ہو گا۔ پیدائش کے بعد بچے کی غذا صرف دودھ ہوتی ہے۔ پھر کوئی زود ہضم ٹھوس غذا، جوانی میں غذا اور انداز کی ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں اور انداز کی، صحت کی حالت میں اس کی نوعیت کچھ اور ہوتی ہے۔ بیماری کی حالت میں کچھ اور۔ ان تمام حالات میں آپ نے دیکھا کہ وہ اصول (کہ زندگی کا دارومدار غذا پر ہے) شروع سے آخر تک غیر متغیر رہتا ہے۔ لیکن اس اصول کے کارفرما ہونے کے انداز بدلتے رہتے ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے کہ ثبات اور تغیر کا امتزاج، نہ یہ اصول تغیر پذیر ہو سکتا ہے اور نہ اس پر عمل ہونے کے طور طریق غیر متغیر۔ اگر غذا کی نوعیت اور اس کے طور طریق بھی غیر متغیر قرار دے دیئے جائیں تو زندگی چار قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے۔

جو اصول انسان کی طبیعی زندگی کو محیط ہے۔ اسی کے مطابق اس کی انسانی اور عمرانی زندگی بھی روبہ عمل رہی ہے۔ اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ کچھ اصول ہوں غیر متغیر اور ان اصولوں کی کارفرمائی کے لیے طور طریق ہوں جو حالات کے ساتھ بدلتے رہیں۔ خدا کی طرف سے وحی کے ذریعے جو راہنمائی ملتی رہی اس کا اندز بھی یہی تھا۔ اس کے اصول تک شروع سے آخر تک غیر متبدل رہے لیکن ان اصولوں کی کارفرمائی کے طور طریق تغیر حالات کے تحت بدلتے رہے۔ ان بدلتے ہوئے طور طریق کو ان اصولوں کی جزئیات کہا جاتا تھا۔ کہ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ   (50/11) ‘‘اے میری قوم صرف اللہ کی محکومیت اور اطاعت اختیار کرو۔ اس کے سوا کوئی ہستی نہیں جو ذی اقتدار ہو’’ یہ دین کا صل الاصول اور بنیاد محکم تھی۔ یہی وہ دین کی اصل تھی جو شروع سے آخر تک ایک ہی رہی اور غیر متبدل رہی۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے۔

  شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ  ۖ   أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ  ۚ   (13/42)

ہم نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم نوح کو دیا گیا تھا اور جواب (اے رسولؐ!) تیری طرف وحی کیا جاتا ہے۔ اور جس کا حکم ہم نے ابراہیمؑ اور موسیٰ اور عیسیٰؑ کو دیا تھا (اور ان سے کہا تھا کہ) اس دین کو محکم اور استوار رکھو اور اس میں تفرقہ مت پیدا ہونے دو۔

یہ تھا دین کا ناقابل تغیر و تبدل اصول۔ جہاں تک اس اصول کو بروئے کار لانے کا تعلق ہے (یعنی دین کی جزئیات) سو شروع شروع میں چونکہ انسانی علم بڑا محدود تھا اس لیے وہ بھی بالعموم خدا ہی کی طرف سے عطا ہوتی تھیں۔ مثلاً حضرت نوحؑ کے زمانے میں انسانوں کو (یا کم از کم اس خطہ زمین کے لوگوں کو) کشتی بنانے کا ہنر بھی نہیں آتا تھا حضرت نوح علیہ اسلام کو یہ طریق بھی وحی کے ذریے بتایا گیا جب ان سے کہا گیاکہ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا(37/11) ‘‘تو ہمارے زیر نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا۔’’جوں جوں انسانی علم بڑھتا گیا، وحی کے ذریعے جزئیات متعین کرنے کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ چنانچہ ہر نئے رسول کے زمانے، میں یہ دیکھا جاتا رہا کہ سابقہ جزئیات میں سے کون کون سی ایسی ہیں جن کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یا جن میں تغیر و تبدل ضروری ہو گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے سورۃ بقرہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا  (106/2) یعنی‘‘وحی اکا انداز یہ رہا ہے کہ کسی سابقہ رسول کی وحی کے ایسے احکام جو وقتی طور پر نافذالعمل رہنے کے لیے دیئے گئے تھے۔ انہیں بعد میں آنے والے رسولوں کی وحی کے احکام سے بدل دیا جاتا۔ اور یہ نئے احکام پہلے احکام سے بہتر ہوتے۔ جن سابقہ احکام کا علیٰ حالہٖ رکھا جانا مقصود ہوتا۔ خواہ وہ اس رسول کی امت کے پاس ہوں یا اس نے انہیں فراموش کر دیا ہو۔ ان کی جگہ انہی جیسے احکام جدید وحی میں دے دیئے جاتے ۔ یعنی اصولی احکام غیر متبدل رہتے اور ان کی جزئیات میں بہ تقاضائے حالات تغیر و تبدل ہوتا رہتا۔

خدا کی آخری وحی

خدا کی طرف سے ملنے والی راہنمائی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ تاآنکہ وہ زمانہ آ گیا جب مشیت خداوندی نے یہ فیصلہ کیا کہ جو کچھ وحی کی رو سے دیا جانا مقصود ہے اسے آخری مرتبہ دے دیا جائے اور اس کے بعد سلسلہ وحی کوختم کر دیا جائے ۔ یہ وحی، جو قیامت تک تمام نوع انسانی کی راہنمائی کے لیے کافی سمجھی گئی قرآن کریم کے اندر محفوظ کر دی گئی۔ چونکہ زمانہ وہ آ چکا تھا جب علم انسانی بڑی تیزی سے ترقی کرتا چلا جاتا تھاور خدا کے علم میں تھا کہ یہ اسی سرعت کے ساتھ آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ اس لیے اس میں آخری وحی میں غیر متبدل اصول تو تمام کے تمام دے دیئے گئے لیکن ان کی جزئیات بہت کم کر دی گئیں۔ اس لیے کہ اگر جزئیات بھی تمام کی تمام وحی کے ذریعے دے دی جاتیں تو وہ بھی قیامت تک، تمام اقوام عالم کے لیے غیر قرار پا جاتیں۔ لیکن جب وہ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کا ساتھ نہ دے سکتیں تو دین پر عمل پیرا ہونا مشکل (بلکہ بعض حالات میں) ناممکن ہو جاتا۔ان جزئیات میں تغیر اس لیے نہ ہو سکتا کہ وحی کا سلسلہ بند ہو چکا تھا۔ لہذا دین کے ہمیشہ کے لیے ممکن العمل رہنے کا طریقہ یہی تھا کہ ان اصولوں کی وہی جزئیات بذریعہ وحی دی جاتیں جن میں تغیر کی ضرورت نہ پرتی۔ قابل تغیر جزئیات وحی کے ذریعے دی ہی نہ جاتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی راہنمائی کو اس قرآن کریم میں محفوظ کر دیا۔ اور اس کے بعد اعلان کر دیا کہ۔ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا  ۚ   لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ  ۚ   وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ   (116/6) خدا کی بات (دینِ خداوندی) صدق اور عدل کے ساتھ تکمیل تک پہنچ گئی۔ اب ان احکامت میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ اس خدا کی طرف سے دیئے گئے ہیں جو سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔ جو کچھ قرآن میں نہیں دیا گیا تھا اس کے متعلق تاکید سے کہہ دیا کہ تم ان کی بابت خوامخواہ کرید اور کاوش نہ کرو کہ وہ کیوں نہیں بتایا گیا۔۔ خدا کا پروگرام یہی تھا کہ انہیں وحی کے ذریعے متعین نہ کر دیا جائے۔ اگر ایسا کر دیا جاتا تو کل کو جب ان میں تغیر کی ضرورت پڑتی تو تم مشکل میں پھنس جاتے کہ ان پر عمل کرنا ناممکن ہو جاتا اور ان میں تم تبدیلی کر نہ سکتے کیونکہ خدا کے متعین کردہ احکام میں تبدیلی تو صرف خدا کی وحی ہی کر سکتی تھی اور وحی کا سلسلہ اب بند ہو چکا۔ لہذا اسے اچھی طرح سمجھ لو کہ جو کچھ قرآن میں دیا گیا ہے وہ مکمل بھی ہے اور غیر متبدل بھی۔ جو اس میں نہیں دیا گیا وہ غیر متبدل نہیں۔

(دیکھئے سورۃ مائدہ آیات 102-101)

جزئیات کا تعین کیسے ہو؟

یہاں سے ایک اہم سوال ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ جب تمام کی تمام جزئیات قرآن کے اندر نہیں دی گئیں تو باقی ماندہ (قابل تغیر) جزئیات کا تعین کس طرح سے کیا جائے گا اور کون ایسا کرنے کا مجاز ہو گا۔ ظاہر ہے کہ ان جزئیات کی ضرورت کسی ایک زمانے میں بھی لاحق ہو گی اور پھر زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ان میں تغیر و تبدل کی ضرورت بھی لاحق ہوتی رہے گی۔ اس کے لیے کیا کیا جائے؟ اس کا جواب خود خدا نے دے دیا۔ (اور اسے ایسا کرنا بھی چاہئے تھا) اس نے کہا کہ دین خداوندی (اسلام) ایک نظام کی شکل میں کارفرما ہو گا۔ اسے دور حاضرہ کی اصطلاح میں مملکت یا نظامِ حکومت کہا جائے گا۔ اس نظام کا انداز مشاورتی ہو گا اور ان جزئیات کا تعین یا ان میں تغیر وتبدل اس نظام کی طرف سے ہو گا۔ اس نظام کے اولیں سربراہ خود نبی اکرمﷺ تھے۔ چنانچہ حضور ﷺ سے فرمایا گیا کہ شاورھم فی الامر (158/3) ‘‘یہ امور باہمی مشورہ سے طے کیا کرو’’چنانچہ عہد رسالتماب ﷺ میں ان جزئیات کا تعین اسی طریق سے ہوتا رہا۔ واضح رہے کہ مقصود بالذات تو دین کے اصولوں پر عمل پیرا رہنا یا انہیں نافذ کرنا تھا۔ جزئیات ان اصولوں کی تنفیذ کا ذریعہ تھیں، اس لیے یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ یہ جزئیات ان اصولوں سے کسی طرح بھی ٹکرائیں۔ بالفاظ دیگر یوں کہیئے کہ یہ جزئیات قرآن کے غیر متبدل اصولوں کی چاردیواری کے اندر رہتے ہوئے باہمی مشاورت سے طے پاتی تھیں۔

یہ کچھ تو رسول اللہ حیات مبارکہ میں ہوتا رہا۔ اس کے بعد سوال یہ سامنے آتا ہے کہ حضور ﷺ کی دنیا سے تشریف براری کے بعد کیا طریق اختیار کرنا مقصود تھا۔ اس کے لیے بھی قرآن کریم میں واضح راہنمائی دے دی گئی ہے جب کہا گیا کہ

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ  ۚ   أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ  ۚ   وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّـهَ شَيْئًا  ۗ   وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِينَ  (144/3)

‘‘محمدﷺ بجز ایں نیست کہ خدا کا ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول ہو گذرے ہیں۔ سو اب یہ (کل کو) وفات پا جائے یا قتل کر دیا جائے تو کیا تم (یہ سمجھ کر کہ دین کا نظام تو حضورؐ کی ذات سے وابستہ تھا وہ نہیں رہے تو نظام بھی ختم ہو گیا)، پھر اپنے قدیم مسلک کی طرف پلٹ جائو گے۔ جو ایسا کرے گا وہ خدا کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ (خود اپنا ہی نقصان کرے گا) لیکن جو نظام کی قدردانی کرے گا تو اللہ اسے اس کا بدلہ دے گا۔’’

یعنی، یہ بتادیا گیا کہ دین کا یہ نظام رسول اللہ کی ذات تک محدود نہیں۔ یہ حضورﷺ کی وفات کے بعد بھی اسی طرح جاری رہے گا اور ان جزئیات کے تعین یا عندالضرورت تغیر و تبدل کے لیے طریق بھی وہی اختیار کیا جائے گا جس کا حکم خود رسول الہ ﷺ کو دیا گیا تھا۔ یعنی وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (38/42)یہ بھی ان امور کو باہمی مشاورت سے طے کریں گے۔ چنانچہ حضور ﷺ کے بعد بھی یہ سلسلہ بدستور قائم رہا۔ اسے خلافت علیٰ منہاج رسالت یا خلافتِ راشدہ کا دور کہا جاتا ہے۔ اس دور میں دین کی نئی جزئیات کا بھی تعین ہوا۔ اور جن سابقہ جزئیات میں کسی قسم کی تبدیلی محسوس ہوئی ان میں تغیر و تبدل بھی کیا گیا۔ اگرچہ اس کی ضرورت بہت کم مواقع پر پیش آئی ۔ کیونکہ وہ زمانہ کچھ ایسا لمبا نہیں تھا۔ چند سالوں پر مشتمل تھا۔

خلافتِ راشدہ کے بعد

کچھ عرصہ کے بعد یہ نظام ٹوٹ گیا اور قراان کریم نے جو پہلے وارننگ دی تھی کہ ‘‘کیا تم پھر اپنے سابقہ مسلک کی طرف پلٹ جائو گے’’ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔ خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی۔ اور اس کا پہلا نتیجہ یہ ہوا کہ دین مذہب میں تبدیل ہو گیا۔ یعنی انسانی معاملات دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک حصہ وہ جن کا تعلق امور دنیا سے متعلق سمجھا گیا اور دوسرا وہ جسے مذہبی امور کہہ کر پکارا گیا۔ یہی وہ ‘‘قدیم مسلک’’ تھا جس کے متعلق وارننگ دی گئی تھی کہ تم کہیں ایسا نہ کر بیٹھنا۔ اب امور مملکت (یعنی دنیاوی امور) سلاطین نے سنبھال لیے اور مذہبی امور مذہبی پیشوائیوں کی تحویل میں آ گئے۔ سلاطین کے لیے تو آسان تھا کہ وہ جس طرح چاہتے اپنے احکامات نافذ کرتے۔ مذہبی پیشوائیت کے لیے یہ مسئلہ دقت طلب ہو گیا کہ مذہبی امور کے فیصلوں کے سلسلہ میں کیا طریق عمل اختیار کیا جائے۔ مشاورت کا تو مذہب میں تصور ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے قرآن میں جہاں شوریٰ کا حکم دیا گیا تھا اس کی تاویل یوں کر لی گئی کہ اس کا تعلق امور دنیا سے ہے۔ مذہبی امور سے نہیں۔ مذہبی امور کے لیے ‘‘شریعت’’ کی اصطلاح اختیار کی گئی اور کہا یہ گیا کہ اعتقادات اور نماز، روزہ، حج، زکوۃٰ، نکاح، طلاق وغیرہ سے متعلق مسائل دائرہ شریعت میں آتے ہیں۔ دین کے نظام میں، ہر دنیاوی کام جو احکامِ خداوندی کے مطابق سرانجام دیا جاتا، عبادت (یعنی خدا کی محکومت) قرار پرتا تھا۔ اب عبادت کا مفہوم پرستش قرار پا گیا اور اس کا دنیاوی امور سے کوئی تعلق نہ رہا۔

روایات کے مجموعے

ہم نے ابھی ابھی کہا کہ مذہبی پیشوائیت کے لیے یہ سوال غور طلب تھا کہ جو امور ان کے دائرہ اقتدار میں دے دیئے گئے ہیں ان کےمتعلق فیصلے کس طرح کیے جائیں۔ ظاہر ہے کہ ان امور کی جزئیات نہ تمام کی تمام قرآن کے اندر موجود تھیں اور نہ ہی دین کا نظام باقی تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ جس دور میں دین کا نظام قائم تھا (یعنی عہد رسالتمآبؐ اور خلافت راشدہ) اس میں نافذ العمل جزئیات کا کوئی مستند مجموعہ تحریری طور پر امت کے پاس موجود نہیں تھا۔ بنا بریں، اس کے سوال کوئی مشکل نہیں تھی کہ جو کچھ لوگوں کی زبانی معلوم ہو، اسے جمع، مدون اور مرتب کر دیا جائے۔ یوں روایات کے مجموعے مرتب کیے گئے۔ اور جو جزئیات ان میں سے ملیں انہیں احکامِ شریعت قرار دے کر ۔۔۔۔۔۔۔۔ امت کے لیے واجب العمل ٹھہرا دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ جو روایات اس طریق سے جمع ہوئی تھیں ان میں بہت سے اختلافات اور تضادات تھے۔ ان اختلافات کی بنا پر امت میں تفرقہ پیدا ہو گیا اور مختلف فرقے وجود میں آ گئے۔ بالخصوص اس لیے کہ بے شمار روایات خود وضع کر کے انہیں رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا گیا تھا۔

فِقہ

اس حد تک تو ان روایات نے کام دے دیا لیکن نہ زمانے کے تقاضے تو کسی مقام پر رک نہیں سکتے ۔ وہ آگے بڑھتے گئے اور ان کے لیے نئی جزئیات کی ضرورت پرتی گئی۔ اس سے یہ سوال سامنے آیا کہ اب کیا کیا جائے؟ فقہا نے اس کا حل یہ سوچا کہ جو کچھ شریعت کے نام سے موجود تھا اس پر غور و فکر کے بعد ایسے احکام مستنبط کیے جائیں جو زمانے کے ان بڑھتے ہوئے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔ استنباطِ مسائل کے اس طریق کو اجتہاد کہا جاتا ہے اور جو احکام اس طرح مستنبط ہوں وہ فقہ کہلاتی ہے۔ چونکہ فقہ بھی ذاتی طور پر مستنبط اور مرتب ہوئی تھی (یعنی نظام کی طرف سے نہیں بلکہ مختلف آئمہ فقہ نے اسے ذاتی طور پر مرتب کیا تھا۔) اس لیے اس میں بھی اختلاف فطری امر تھا۔ یوں امت میں مزید فرقے پیدا ہو گئے۔ کچھ وقت کے بعد یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ اجتہاد کی رو سے بھی جس قدر فیصلے کیے جانے مقصود تھے وہ سب کیے جا چکے ہیں۔ لہذا اب مزید اجتہاد کا دروازہ بھی بند ہے۔ امت پر یہ جمود صدیوں سے طاری ہے۔

آپ نے دیکھا کہ دین کے نظام کے باقی نہ رہنے سے اسلام کیا سے کیا ہو گیا؟ وحی کا دروازہ خدا نے بند کیا تھا۔ روایات جمع اور مرتب ہو گئیں تو یہ سلسلہ بھی آخری حد تک پہنچ گیا۔ کچھ آگے بڑھنے کے لیے اجتہاد کا طریق اختیار کیا گیا تو کچھ عرصہ کے بعد اس کا دروازہ بھی بند ہو گیا۔ اس کے بعد صورت یہ ہو گئی کہ یہ امت فرقوں میں بٹ گئی، اور قرآن کے الفاظ میں کیفیت یہ ہو گئی کہ ُکلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (32/30) ہر فرقہ مگن ہو کر بیٹھ گیا کہ سچے اسلام پر وہی کاربند ہے۔ باقی سب باطل پر ہیں۔’’ حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ ‘‘سچا اسلام’’ کہیں بھی باقی نہیں رہا تھا۔ سچے اسلام کے معنی تھے ایک امت۔ اس کا ایک نظام۔ نظام کی ایک مرکزی اتھارٹی جو باہمی مشاورت سے احکامِ خداوندی کو نافذ کرتی، جو ان جزئیات کا تعین کرتی جو قرآن میں نہیں تھیں۔ ان میں عندالضرورت اضافہ بھی کرتی اور تغیر و تبدل بھی۔ اس نظام کے نہ رہنے سے امت کا شیرازہ بکھر گیا۔ اسی تشتت و انتشار کی طغیانیوں اور فقدانِ مرکزیت کی تباہ کن حیرانیوں میں صدیوں سے امت گرفتار چلی آ رہی ہے۔ اس سے بعض (دین کی حقیقت سے ناآشنا ذہن) اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ وحی کا دروازہ بند نہیں ہونا چا ہیے تھا۔ چنانچہ اسی بنا پر بعض لوگ خود مدعی نبوت بن بیٹھے۔

اسی پریشانی فکر و نظر کا پیدا کردہ وہ فرقہ ہے جو ہمارے زمانے میں پنجاب میں نمودار ہوا اور اہل قرآن کے نام سے متعارف ہے۔ اسے اتفاق کہیے یا اہل پنجاب کی بدبختی کہ اہل قرآن اور احمدی دونوں خطہ پنجاب سے نمودار ہوئے اور کم و بیش ایک ہی وقت میں۔ یہ دونوں دین کے بہ حیثیت نظام کے تصور سے ناآشنا اور اسے ایک ‘‘مذہب’’ سمجھتے تھے (اور سمجھتے ہیں)

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

فرقہ اہل قرآن

فرقہ اہل قرآن کے بانی (مولانا) عبداللہ چکڑالوی (مرحوم) تھے۔ مرزا غلام احمد کے متعلق تو معلوم ہے کہ ان کی دعوت حکومت ِ برطانیہ کی مقاصد براری کا ذریعہ تھی اور اس لیے اس کے ہاتھوں کا لگایا ہوا پودا۔ لیکن (مولانا) چکڑالوی کے متعلق اندازاہ ہوتا ہے کہ ان کی نیت نیک تھی اور دل میں اسلام کا درد۔ انہوں نے دیکھا کہ فرقہ بندی نے مسلمانوں کو تباہ کر دیا ہے۔ فرقہ بندی کے متعلق انہیں معلوم تھا کہ اس کی بنیاد بالواسطہ یا بلا واسطہ روایات پر ہے۔ اس کا علاج انہوں نے یہ سوچا کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو قرآن پر جمع کیا جائے۔ یہاں تک تو بات صحیح بھی تھی اور صاف بھی۔ لیکن اس سے آگے بڑھے تو انہیں الجھائو پیدا ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام پر عمل پیرا ہونے کے لیے خارج از قرآن کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اس طرح انہوں نے احادیث (اور ان پر متفرع فقہ) کو بالکلیہ مسترد کر دیا۔ اس پر مولوی صاحبان کی طرف سے سب سے پہلے وہ اعتراض وارد کیا گیا جسے وہ اسلام کے دین سے مذہب میں تبدیل ہو جانے کے زمانے سے وارد کرتے چلے آ رہے ہی۔ انہوں نے ان سے کہا کہ اگر اسلام پر عمل پیرا ہونے کے لیے قران کافی ہےتو بتائیے کہ ہم نماز کیسے پڑھیں۔ اسلام بہ حیثیت ایک نظام، کا تصور (مولانا) چکڑالوی کے سامنے تھا ہی نہیں۔ جس طرح معترضین اسے ایک مذہب سمجھتے تھے اسی طرح یہ بھی اسے ایک مذہب ہی خیال کرتے تھے۔ لہذا انہیں ضرورت لاحق ہوئی کہ وہ قرآن سے نماز کے جملہ جزئیات نکالیں، اس لیے کہ ان کا دعویٰ تھا کہ

اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کی حقیقت و ماہیت، کیفیت و کمیت، طریقت وغیرہ یعنی جملہ افعال ، حرکات و سکنات وغیرہ وغیرہ تمام امور متعلقہ نماز بہ تفصیل و توضیح و تشریح قرآن مجید میں ہی بیان فرما دیئے ہیں۔

(ترجمہ القرآن۔ پارہ دوئم۔ صفحہ 207)

چکڑالوی صاحب نے قرآن کریم میں نماز کی جملہ حرکات و سکنات و افعال و افکار کی تلاش شروع کر دی۔ وہ صرف و نحو کے عالم نظر آتے ہیں اور قرآنی آیات پر بھی انہیں عبور دکھائی دیتا ہے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ قرآن کے سمندر میں ان موتیوں کی تلاش میں غوطہ زن ہوئے جو وہاں موجود نہیں تھے۔ اس میں شناوری، غیر موجود کو موجود کیسے بنا سکتی تھ۔ لہذا وہ لگے ٹامک ٹوئیاں مارنے۔ فی طغیانھلم یعمھون ۔ اس سعی ناکام میں انہیں جس کھینچا تانی سے کام لینا، اور اس کی وجہ سے جس اضطراب و ہیجان حتیٰ کہ چڑچڑاہٹ اور جھنجھلاہٹ کا شکار ہونا پڑا، وہ ان کی تحریروں سے ظاہر ہے۔ بات چونکہ مناظرانہ دعویٰ کی تھی۔ اس لیے اعترافِ شکست بھی ممکن نہیں تھا۔ اس طرح یہ ‘‘جان مجنوں، دوگونہ عذاب میں مبتلا’’ ہو گئی۔ انہوں نے بزعم خویش، جو کچھ قرآن سے ثابت کیا، وہ پانچ وقتوں کی نماز ،نماز کی دو تین اور چار رکعتیں اور ہر رکعت میں دو سجدے تھے۔ یعنی مروجہ نماز ہی کے ارکان لیکن ان کے ثابت کرنے کا انداز اس قدر رکیک تھا کہ اس پر عقل شرمائے اور علم ماتم کرے۔ مثلاً وہ رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں ‘‘بہ تحقیق انیق’’ پیش فرماتے ہیں کہ:

الْحَمْدُ لِلَّـهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَّثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ   (1/35)

اس کا سیدھا سادھا ترجمہ یہ ہے۔

سب خوبی اللہ تعالیٰ کو ہے جس نے بنا نکالے آسمان اور زمین، جس نے ٹھہرایا فرشتوں کو پیغام لانے والے۔ جن کے پر ہیں دو دو اور تین تین اور چار چار چار۔’’

(ترجمہ مولانا محمود الحسنؒ )

(مولانا) چکڑالوی اس کا حسب ذیل ترجمہ لکھتے ہیں۔

پڑھا کرو اے ہر ایک اہل آسمان و اہل زمین۔ الحمد(یعنی پانچوں نمازیں) واسطے راضی کرنے اللہ تعالیٰ کے، کیونکہ وہ فطرت پاک کرنے والا ہے۔ تم تمام آسمان والوں (فرشتوں کی) اور تم تمام روئے زمین ولوں (جن و انس کی)۔ چونکہ تم فطرت اللہ میں تغیر و تبدیل کرتے رہتے ہو اس لیے نمازیں پڑھا کرو تاکہ جبرو نقصان ہوتا رہے۔ اور اللہ تعالیٰ وہ ہے جو کرنے والا ہے اپنے فرشتوں کو رسول تمہاری طرف۔ جو لانے والے تمہاری صلواتوں یعنی چھ ارکانوں کے ہیں ۔ جن کا حق یہ ہے کہ کسی وقت میں دو دو بار ادا کی جائیں اور کسی وقت میں تین تین اور کسی وقت میں چار چار دفعہ مطابق تعلیم کتاب اللہ۔ (یعنی جس وقت کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دو بار ادا کرنے کا حکم فرمایا، تم بھی اس وقت ان چھ ارکان کو دو ہی بار پڑھا کرو۔ اور جس وقت ان کو تین بار ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔، تم بھی اس وقت میں ان کو تین ہی بار ادا کیا کرو۔ اور جس وقت میں فاطر السموٰت والارض نے تم کو چار بار ان کو ادا کرنے کا حکم دیا ہے اس وقت چار بار ہی پڑھا کرو۔

(ترجمۃ القران۔ پارہ پان صفحہ ۷۲)

اور اس کے بعد پانچ چھ صفحات میں قرٓان کریم کی مختلف آیا اور ان کی (اپنی) تشریح کرنے کے لکھتے ہیں کہ (یہ کچھ) اس بات کا قطعی اور یقینی فیصلہ کرتا ہے کہ نماز کی رکعتین اس طرح ہیں کہ فجر کی دو، شام کی تین، ظہر و عصر و عشا, میں سے ہر ایک کی چار (ایضاً۔ صفحہ ۸۳)

آپ غور کیجئے کہ یہ قرآن کے ساتھ (معاذاللہ) کھلا ہوامذاق نہیں تو اور کیا ہے؟

یا (مثلاً) انہوں نے قرآن سے (باندازِ بالا) یہ ثابت کیا ہے کہ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھنے چاہیئں اس طرح کہ قرآن کریم میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی طرف گئے تو چونکہ معرکہ بڑا صبر آزما تھا، اس لیے ان سے کہا گیا کہ وہاں کسی سے ڈرنا نہیں۔ مضطرب و بیقرار نہ ہونا۔ پوری دلجمعی اور اطمینان سے اپنی بات پیش کرنا۔ اس کے لیے الفاظ یہ استعمال کیے گئے کہ إِلَيْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ  ۖ (32/28) یعنی خوف کی حالت میں پھڑپھڑانا نہیں بلکہ اپنے بازو سمیٹ لینا۔’’ (مولانا) چکڑالوی فرماتے ہیں کہ

اس سے ثابت ہوا کہ حکم خداوندی یہ ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ کہنیوں تک ایک دوسے کے اوپر جمع کر کے اپنے سینے کے ساتھ ملائو۔ (ترجمۃ القرآن پارہ ۲۔ صفحہ ۶۰۲)

غرضیکہ وہ اسی طرح نماز کی جملہ جزئیات قرآن کریم سے ‘‘ثابت’’ کرتے چلے جاتے ہیں اور جو کچھ اس طرح ‘‘ثابت’’ کرتے ہیں اس کے متعلق کہتے ہیں کہ ‘‘یہ اللہ کا حکم ہے۔ اور ان کے خلاف ورزی کتاب اللہ کی سراسر مخالفت ہے’’ (ایضاً پارہ ۳۔ صفحہ ۲۳ ۔ ۲۱)۔ ان الفاظ کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ ان سے ایک اہم نتیجہ سامنے آئے گا۔

حرکات و سکنات کے بعد وہ یہ بتاتے ہیں کہ نماز میں پڑھنا کیا چاہیئے۔ اس میں سوائے سورۃ فاتحہ کے سب کچھ مروجہ نماز سے مختلف ہے۔ اگرچہ و ہیں قرآن ہی کی آیا۔

ایک اہلحدیث کا ‘‘لقمہ’’

یہ ہے وہ طریق جس سے چکڑالوی صاحب نے نماز اور اسی طرح قرآن کریم کے دیگر اصولی احکام کی جزئیات قرآن سے ‘‘ثابت’’کیں۔ جب قرآن سے اثبات و تعین احکام کا انداز یہ ٹھہرا تو پھر اس میں کوئی روک کس طرح پیدا ہو سکتی تھی؟ چنانچہ خود (مولانا) چکڑالوی کی (غالباً)زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد انہی کے ہم خیال ایسے لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے بھانت بھانت کی بولیاں بولنا شروع کر دیں۔ مثلاً چکوال کے مولوی محمد فاضل اور (مولوی محمد عالم۔ گوجرانوالہ کے محمد رمضان اکال گڑھ کے مولوی چراغ دین وغیرہ ان میں سے کسی نے ایک وقت کی نماز اور ہر نماز کی ایک رکعت بتائی۔ کسی نے دو دن کے روزے اور کسی نے نو دن کے۔ کسی نے فلاں چیز کو حلال قرار دیا اور کسی نے فلاں کو حرام۔ غرضیکہ ان کی ان کوششوں سے خدا کی اس کتاب عظیم کی (معاذاللہ) اس طرح دھجیاں فضا میں بکھریں کہ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ان میں سے کسی کی بات پر بھی لوگوں نے دھیان نہ دیا۔ ورنہ جتنے فرقے، بہ ہیت مجموعی، مسلمانون میں اس وقت موجود ہیں ان سے کہیں زیادہ اس ایک نظریہ سے پیدا ہو جاتے۔ ان میں سے صرف ایک گروہ ( جو معدودے چند نفوس پر مشتمل ہے) اس وقت تک موجود ہے جس کا تعارف ان کے ترجمان، ماہنامہ بلاغ القرآن کے ذریعہ ہوتا ہے۔ سمن آباد (لاہور) میں ان کی ایک ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد ہے جس میں وہ (بزعم خویش) تین وقت کی ‘‘قرآنی نمازیں’’ پڑھتے ہیں۔ ان تین نمازوں کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ ہم نے اوپر دیکھا ہے کہ (مولانا) چکڑالوی نے قرآن کریم سے پانچ وقت کی نمازیں ثابت کی تھیں۔ وزیرآباد (ثم گجرات) کے ایک اہلحدیث عالم حافظ عنایت اللہ صاحب نے ان کی تردید کی اور کا کہ قرآن مجید سے تو صڑف تین وقتوں کی نمازیں ثابت ہوتی ہیں۔ آپ پانچ وقتوں کی کس طرح ثابت کرتے ہیں۔ یہ (مولانا) چکڑالوی کی زندگی کے آخری ایام کی بات ہے۔ انہوں نے تو اپنے خیال سے رجوع نہ کیا لیکن ان کے بعد ان کے متبعین کے لاہور گروہ نے حافظ عنایت اللہ صاحب کی بات اچک لی اور کہا کہ قرآن کی رو سے نمازیں تین ہی ہیں۔ ادارہ بلاغ القرآن کی طرف سے ‘‘الصلوٰۃ’’ کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع ہوا ہے جس میں انہون نے (چکڑالوی صاحب کے طریق کے مطابق’’ ثابت کیا ہے کہ قرٓان مجید کی رو سے :

۱۔ نمازوںکی تعدادی تین ہے۔ (چکڑالوی صاحب نے پانچ نمازیں بتائی تھیں)

۲۔ ہر نماز کی صرف دو رکعتیں ہیں۔ (چکڑالوی صاحب نے دو ۔ تین۔ چار رکعتیں کہی تھیں)

۳۔ ہر رکعت میں صرف ایک سجدہ ہے (چکڑالوی صاحب نے ہر رکعت میں دو سجدے بتائے تھے)

۴۔ نماز کے لیے اذا ن کی ضرورت نہیں۔

۵۔ اللہ اکبر کہنا خلافِ قرآن ہے۔

۶۔ السلام علیکم کے بجائے سلامُ علیکم کہنا چاہیئے۔

نماز میں سینہ پر ہاتھ باندھنے کے یہ بھی قائل ہیں لیکن اس کا اثبات سورۃ الکوثر کی اس آیت سے کرتے ہیں۔ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (2/108) جس کا ترجمہ یہ کرتے ہیں کہ ‘‘پس اپنے رب کے حضور میں نماز ادا کیا کر اور سینے پر ہاتھ باندھ کر قبلہ رو کھڑا ہوا کر۔’’ (پمفلٹ مذکور صفحہ ۱۸)۔ مولانا چکڑالوی کی طرح ان کا بھی یہ دعویٰ ہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ قرآن کریم کا قطعی فیصلہ ہے (ایضاً صفحہ 22)۔ اس کے خلاف کچھ ثابت کرنا ‘‘صریحاً’’ خلاف قرآن ہے۔ (ایضاً صفحہ 29) خدا نے اپنی تنزیلی کتاب میں یہی حکم دیا ہے۔ (بلاغ القرآن بابت دسمبر 1974 صفحہ 32) جہاں تک اذکار، صلوٰۃ کا تعلق ہے۔ دعائے قبل الصلوٰۃ سے لے کر سلام تک ان کی نماز بھی (بجز سورۃ فاتحہ) باقی مسلمانوں کی نماز سے بالکل الگ ہے۔ مثلاً انہوں نے کہا ہے کہ رکوع میں یہ دعا پڑھنی چاہیئے۔

رب اوزعنی ان اشکر نعمتک اللتی انعمت علیّ و علیٰ والدیّ وان اعمل صالحاً ترضٰہُ واصلح لی فی ذریتی۔ انی تبت الیک و انی المسلمین ربان علیک توکلنا و الیک انبعنا و الیک المصیر ربنا لا تجملنا فتن ۃ الذین کفرو۔ اغفرنا۔ انک انت العزیز الحکیم

اور سجدہ میں یہ دعا

سبحن ربنا ان کان وعدنا ربنا لمفعولا۔ الحمد اللہ الذی لم یتخذ ولدا ولم یکن لہُ شرک فی الملک ولم یکن لہُ ولی من الذل ربنا صرف عنا عذاب جہنم ان عذابہا کان عراما۔ انہا سائت مستقراً و مقاماً ربنا ہب لنا من ازواجنا و زریتنا قر ۃ اعین و جعلنا للمتقین اماماً (پمفلٹ مذکور صفحہ 51)

اس قسم کے دیگر افکار ہیں۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

قرآن کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانیوالے

میں کہتا چلا آرہا ہوں اور اسے اب پھر دہرا دینا چاہتا ہوں کہ میرے نزدیک مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے قرآن کو سب سے زیادہ نقصان اس فرقہ نے پہنچایا ہے۔ سطح بین نگاہوں میں میری یہ بات بڑی تعجب انگیز سی دکھائی دے گی کیونکہ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آئے گا کہ جو لوگ دین کے معمالہ میں قراان کو کافی تسلیم کرتے ہیں اور ہر بات کو قرٓان ہی سے ثابت کرتے ہیں وہ قرٓان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے کس طرح ہو سکتے ہیں۔ لہذا یہ نکتہ ٹھنڈے دل اور گہرنے غور اور تدبر سے سمجھنے کے قابل ہے۔ قرٓان کریم میں ہے کہ

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ  ۚ   وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا   (82/4)

‘‘کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سے اختلافات پاتے۔’’

یہ آیہ جلیلہ بڑی اہم اور بنیادی ہے۔ اس میں کہا یہ گیا ہے کہ قراان مجید کے منزل من اللہ ہونے کی دلیل ہی نہیں بلکہ ثبوت یہ ہے کہ اس میں کوئی اختلافی بات نہیں۔ اگر (معاذاللہ) یہ ثابت ہو جائے کہ قرآن ایسے احکام دیتا ہے جن میں باہمدگر اختلاف اور تضاد ہے تو اس سے قراان مجید کے من جانب اللہ ہونے کا دعویٰ باطل ہو جاتاہے اور دین کی ساری عمارت دھڑام سے نیچے آ گرتی ہے۔

مسلمانوں میں مختلف فرقے ہیں اور ان میں باہمی اختلافات بھی، لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ ان کے اختلافات کی بنیاد قرآن ہے۔ اہل حدیث کے اختلافات کی بنیاد روایات پر ہے۔ حدیث کے متعلق اگرچہ ان کے ہاں یہ عقیدہ بھی موجود ہے کہ ان کی بنیاد وحی خفی پر ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ قال الرسول کو قال اللہ سے الگ رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے اختلافات کی زد براہ است قرآن کریم پر نہیں پڑتی۔

اہلِ حدیث سے اگے بڑھیے تو اہل فقہ سامنے آتے ہیں۔ ان کے اختلافات کی بنیاد ان کے آئمہ کا اجتہاد ہے۔ ان کا دعویٰ یہ ضرور ہے کہ ان کے آئمہ کے اجتہاد کی بنیاد قرآن اور احادیث ہی پر ہے لیکن وہ اسے قال اللہ نہیں کہتے۔ اپنے ائمہ کے اقوال ہی کہتے ہیں۔ لہذا فقہی اختلافات کی زد بھی قرآن پر نہیں پڑتی۔

لیکن فرقہ اہل قرآن کا دعویٰ یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ خدا کا رشاد ہے۔ وہ قرآن کا حکم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس عقیدے کو ماننے والوں میں سے جب ایک کہتا ہے کہ اس معاملہ کے متعلق قرآن کا حکم یہ ہے کہ اور دوسرا کہتا ہے کہ اس کا حکم یہ ہے جو پہلے حکم کے خلاف ہے تو اس سےثابت ہو جاتا ہے کہ ایک ہی معاملہ کے متعلق قرآن مختلف اور متضاد احکام دیتا ہے۔ اس سے قرآن کے منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ یکسر باطل قرار پاجاتا ہے۔ دیگر احکام کو تو چھوڑیے اس طریقہ کے بانی (مولانا) چکڑالوی، اور ان کے متبعین (بلاغ القرآن والوں) نے صرف نماز کے متلق جو قرآنی احکام بتائے ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثلاً

مولانا چکڑالوی کے مطابق قراان نے کہا ہے بلاغ القرآن والوں کے مطابق قرآن نے کہا ہے

۱۔ نمازیں پانچ وقت کی ہیں ۱۔ نمازیں تین وقت کی ہیں۔

۲۔ نمازوں کی رکعتیں دو دو،تین تین، چار چار ہیں۔ ۲۔ ہر نماز کی صرف دو رکعتیں ہیں۔

۳۔ ہر رکعت میں دو سجدے ہیں ۳۔ ہر رکعت میں صرف ایک سجدہ ہے

آپ غور کیجئے کہ یہ نماز سے متعلق محسوس اور مرئی احکام ہیں جو ایک دوسرے کی بالکل ضد ہیں اور ان دونوں کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کریم نے ایسا کہا ہے۔ جو اس کے خلاف کہتا ہے وہ قراان کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم نے اپنی بصیرت کے مطابق قرآن سے یہ احکام مستبنط کیے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ قرٓن نے یہ جزئیات خود متعین کی ہیں۔ اب آپ سوچیئے کہ جب یہ چیز غیر مسلموں کے سامنے آئے کہ قرآن نے نماز کے تین وقت بھی بتائے ہیں اور پانچ بھی۔ اس نے نماز کی دو رکعتیں بھی مقرر کی ہیں اور فجر کی نماز کی دو، ظہر ، عصر اور عشا کی چار اور مغرب کی تین رکعتیں بھی۔ اسی قرٓن نے ایک رکعت کے لیے ایک سجدہ مقرر کی ہےا اور اسی نے دو سجدے۔ تو وہ قرآن کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے۔؟ غیر مسلم تو ایک طرف، جب سمجھنے سوچنے والے مسلمان نوجوانوں کے سامنے بھی یہ بات آگئے گی تو ان کا قرآن کریم کے معلق کیا تصور ہو گا؟ اور یہ تو ابھی ہم نے صرف نماز کے متعلق بتایا ہے۔ دیگر احکام کے متعلق بھی ان کی تصریحات سامنے آئیں تو قرآن کے متعلق تصور یہ پیدا ہو گا کہ یہ تو ہے ہی اختلافات کا مجموعہ

اس کے بعد آپ سوچیئے کہ میں نے جو کہا ہے کہ قرآن کو سب سے زیادہ نقصان اس فرقہ نے پہنچایا ہے تو اس میں ذرا بھی مبالغہ ہے؟

اسے ایک دفعہ پھر ذہن نشین کر لیجئے کہ مولانا چکڑالوی اور بلاغ القرآن والے، دونوں کا دعویٰ یہ ے کہ نماز کی جزئیات خود قرآن کی متعین کردہ ہی۔ ان کی مستنبط کردہ نہیں۔ اور صرف نماز کی جزئیات ہی نہیں ۔ قرآن کریم نے تمام احکام کی جزئیات خود متعین کر دی ہیں۔ اس کے لیے ان کی سند اور دلیل یہ ہے کہ قرآن نے اپنے آپ کو ‘‘مفصل’’ اور تفصیل کل شئی کہا ہے۔ یہ ٹھوکر تھی جو مولانا چکڑالوی کو لگی اور جس کے پیچھے ان کے متبعین آنکھیں بند کر کے چلے آ رہے ہیں۔ لہذا یہ سمجھ لینا نہایت ضروری ہے کہ قرآن کریم کے ‘‘مفصل کتاب’’ ہونے کا صحیح مفہوم کیا ہے۔

کتاب فصل کا صحیح مفہوم

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کہیں الکتاب مفصلاً (115/2) کہا ہے۔ کہیں تفصیل الکتاب (37/10)اور کہیں تفصیل کل شئی وغیرہ اردو زبان میں تفصیل، تفاصیل، تفصیلات (جیسے الفاظ) جزئیات کے معنون میں استعمال ہوتے ہیں۔ اور مفصل اسے کہتے ہیں جس میں کسی بات کو مجملاً بیان نہ کیا گیاہو۔ بلکہ اس کی جزئیات بھی دی گئی ہوں۔ انگریزی میں انہیں ( Details ) کہا جاتاہے۔ (مولانا) چکڑالوی کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ قرآن کریم میں بھی یہ الفاظ انہی معنوں میں استعمال کیے گئے ہیں جن معانی میں یہ اردو زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ بنیادی اینٹ غلط رکھی گئی اس لیے ان کے دعاوی کی دیوار تاثریا ٹیڑھی اٹھتی چلی گئی۔ عربی زبان میں مادہ (ف۔ ص۔ ل) اور اس بننے والے الفاظ ، ان معانی میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس میں اس مادہ کے معنی ہیں۔ ‘‘الگ الگ کر دینا’’ ‘‘فصل الحدبین الارضین’’ کے معینی وہ حد فاصل ہے جو زمین کے دو قطعات کو الگ الگ کر دے۔ فصال بچے کے دودھ چھڑانے کو کہتے ہیں۔ یعنی بچے کو ماں سے الگ کر دینے کو۔ فصل اثلاۃ کے معنی ہیں قصاب نے بکری کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔ تفصیل کے معنی ہیں کپڑے کے ٹکڑے الگ الگ کر دینا۔ فصول السنۃ سال کے چار موسموں (فصلوں) کو کہتے ہیں۔ فاصلہ اس منکے کو کہتے ہیں جو ہار میں پروئے ہوئے دو موتیوں کے درمیان پرویا جاتا جائے تاکہ اس سے وہ دو موتی الگ الگ متمیز ہو جائیں۔ ایسے ہار کو عقد مفصل کہا جاتاہے۔ الفاصل، جج کو کہتے ہیں۔ اور فیصلہ اس کے اس حکم کو جو جائز اور ناجائز، حق اور باطل غلط اور صحیح کو الگ الگ کر دے۔ فاصلہ دو مقدمات کو الگ الگ کر دیتا ہے۔ (یہ تمام معانی عربی زمان کی مستند کتب لغت میں موجود ہیں)

اس مادہ کے ان معانی کے لحاظ سے تفصیل کے معنی ہیں، واضح کر دینا۔ کھول کر بیان کر دینا (امام راغب) اور مفصل کے معنی، وہ کتاب جس میں ہر بات نہایت وضاحت سے نکھار کر، الگ الگ کر کے،بیان کی جائے۔ جس کے بیان میں کوئی ابہام نہ ہو۔ التباس نہ ہو۔ الجھن نہ ہو۔ ہر بات نہایت واضح نکھری اور ابھری ہوئی ہو۔ انگریزی میں اسے کہیں گے ( Distinctly Stated ) واضح رہے کہ قرآن کریم میں وضاحت یا واضح (یا اس مادہ سے اور الفاظ) نہیں آئے۔ اس میں وضاحت یا واضح کے لیے تفصیل یا مفصل (وغیرہ) الفاظ آئے ہیں۔

ان تشریحات کے بعد قرآن کریم کی طرف آئیے۔ اس میں اس مادہ (ف۔ ص۔ ل) کے الفاظ حسب ذیل معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔

۱۔ و لما فصلت الغیر (94/13) جب قافلہ وہاں سے روانہ (جدا) ہوا۔

۲۔ فصالہ فی عامین (14/31) بچے کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہے۔

۳۔ ان اللہ یفصل بینھم یوم القیم ۃ (17/22) و دیگر مقامات) اللہ تعالیٰ ان میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔

۴۔ یوم الفصل (21/37) و دیگر مقامات) فیصلہ کا دن

۵۔ قول فصل (13/86) فیصلہ کن بات

۶۔ ہو خیر الفاصلین (57/6)

۷۔ سورہ انعام میں کارگہ کائنات کے مختلف عوامل و عناصر کی تگ و تاز کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ قد فصلنا الایاتِ لقوم یعملون (98/6 و 99/6) ہم نے اپنی آیات کی وضاحت ان لوگوں کے لیے کر دی ہے جو علم و بصیرت سے کام لیں۔

۸۔ اسی سورۃ میں ذرا آگے چل کر کفر اور اسلام قبول کنرے کے بنیادی اصولوں کی وضاحت کے بعد فرمایا قد فصلنا الایات لقوم یذکرون (127/6) ہم نے ان آیات کو اس قوم کے لیے واضح کر دیا ہے جو (خدائی راہ نمائی کو) اپنےسامنے رکھنا چاہے۔

۹۔ سورۃ اعراف میں اہل جنت اور جہنم کے اصولی امتیازات کی وضاحت کے بعد کہا۔ ولقد جئنہم بکتب فصلنہُ علیٰ علمٍ ۔۔۔۔۔۔ (53/7) ہم ان کی طرف وہ کتاب لائے ہیں جسے ہم نے ازروئے علم واضح کیا ہے۔

۱۰۔ سورۃ اسرائیل میں گردشِ لیل و نہار اور عدد السین (سالوں کی گنتی) وغیرہ بیان کرنے کے بعد کہا۔ وکل شئی فصلنہُ تفصیلاً (13/17) اور ہم نے ہر شے کی خوب خوب وضاحت کر دی ہے۔

۱۱۔ اسی طرح دیگر مختلف مقامات پر اپنی تعلیم کو واضح طور پر بیان کر دینے کے بعد فرمایا۔ وکذالک نفصل الایت (55/6، 32/7، 174/7، 11/9، 24/10، 28/30، 5/10، 13/2) ان آیات میں احکام کی جزئیات کہیں بھی نہیں آئیں۔ ان کی وضاحت ہی کی گئی ہے۔

۱۲۔ ان معانی کی روشنی میں سورۃ ہود کی پہلی آیت (1/11) کو لیجئے جس میں کہا گیا ہے کہ کتب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر ۔ وہ کتاب جس کے احکام کو نہایت حکم بنایا گیا ہے اور ان کی وضاحت خود خدا کی طرف سے کر دی گئی ہے۔

۱۳۔ سورۃ حٰم السجدہ میں قراناً عربیاً (واضح اور فصیح قرآن) کے ساتھ فصلت اٰیتہُ (3/41) آیا ہے۔مطلب بالکل واضح ہے۔ اسی سورۃ میں آگے چل کر کہا گیا ہے کہ ولو جعلنہُ قراناً اعجمیا لقالو لو لا فصلت اٰیتہُ (44/41) اگر ہم اسے عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ اعتراض کر دیتے کہ اس کی آیات واضح کیوں نہیں کی گئیں یہاں فصلت کا مفہوم نکھر کر سامنے آ گیا ہے۔

۱۴۔ سورۃ صٓ میں ہے کہ (حضرت) داود کی حکمت عطا کی گئی اور فصل الخطاب (20/38) معاملات کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت

۱۵۔ سورۃ شوریٰ میں کلمۃ الفصل (21/42) آیا ہے جس کے معنی ہیں فیصلہ کن بات

۱۶۔ سورۃ یونس میں قرآن کریم کے متعلق ہے۔ تصدیق الذی بین یدیہِ و تفصیل الکتاب (10/35) اس کے معنی صاف ہیں۔ یعنی قوانین خداوندی کی وضاحت کرنے والی۔ سورۃ یوسف میں ہےتفصیل کل شئیٍ (111/12) یعنی جتنی باتیں اسے میں کہی گئی ہیں، سب واضح اور نکھری ہوتی ہیں۔ ان میں کوئی ابہام نہیں۔ سورۃ انعام میں یہی الفاظ کتاب موسیٰ کے متعلق آئے ہیں۔(155/6 نیز 145/7 میں)

۱۷۔ سورہ اعتراف میں حضرت موسیٰ کو دی گئی نشانیوں کو اٰیت مفصلاتٍ کہ کر پکارا گیا ہے (133/7) یعنی وہ نشانیاں جو حق کو باطل سے الگ کر کے بتادیں۔

۱۸۔ ان آیات کے بعد، آخر میں سورۃ انعام کی اس آیت کو سامنے لایئے جس میں کہا گیا ہے کہ   أَفَغَيْرَ اللَّـهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا  ۚ (115/6) کیا میں خدا کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کی تلاش کروں، حالانکہ اس نے تمہاری طرف ایسا ضابطہ قوانین نازل کر دیا ہے جو اپنے مطالب میں بالکل واضھ ہے۔ دوسری جگہ اس کی وضاحت تبیاناً لکلِ شئیٍ کہہ کردی ہے۔ یعنی یہ کتاب مبین بھی ہے۔ یعنی اپنے مطالب کو ابھار کر بیان کرنے والی۔ اور مفصل بھی۔ یعنی انہیں نکھا کر بیان کرنے والی۔ ( Clearly And Distinctly ) بیان کرنے والی (مولانا محمود الحسنؒ نے۔ شاہ عبدالقادرؒ کے ترجمہ کی بنا پر (کتاب مفصل) کا ترجمہ ‘‘کتاب واضح’’ کیا ہے۔ مولانا ابولاکلام آزادؔنے اس کا ترجمہ ‘‘کھول کھول کر باتیں بیان کرنے والی’’ کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ ؒ نے ‘‘واضح کردہ شد’’ کیا ہے۔ ہم اردو زبان میں انتہائی وضاحت کے لیے کہتے ہیں کہ ‘‘وہ ایک ایک لفظ الگ الگ بولتا ہے’’

ان تشریحات کی روشنی میں یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے کہ (مولانا) چکڑالوی کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے قرٓٓن کریم ‘‘کتاب مفصل’’ ہونے کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ اس میں دین کی تمام اصولی احکام کی جزئیات (اردو تفاصیل) بھی دی ہوئی ہیں۔ اسی سے ان کی سوچ کی گاڑی غلط پٹری پر پڑ گئی اور جب مولویں کے ساتھ ان کے مناظرے شروع ہو گئے تو جیسا کہ مناظروں میں ہوتا ہے۔ پندار نفس ضد اور تعصب، بغیاً بینھم (213/2) نے انہیں اس قابل ہی نہ رہنے دیا کہ وہ اپنے مسلک پر نظر ثانی کر سکیں۔ اور ان کی یہی لکیر ان کے متبعین پیٹے جارہے ہیں۔ (ان میں تو کوئی پڑھا لکھا آدمی بھی نظر نہیں آتا) ان کا دعویٰ ان کی زبانی سنیئے۔ کہتے ہیں۔

طلوع اسلام کا مسلک یہ ہے کہ قرآن میں صرف احکام ہیں اور باستثنا کے چندان کی تفصیلات اس میں موجود نہیں۔ مگر بلاغ القرآن کا مسلک یہ ہے کہ اللہ کی کتاب میں احکام معہ تفصیلات موجود ہیں۔

(بلاغ القرآن ۔ فروری 75، صفحہ 25)

قرآن کاتبئین احکام کا انداز

اس کے بعد آئیے آپ ان کے اس دعوےٰ کی طرف کہ قرآن مجید نے اپنے تمام احکام کی جزئیات خود متعین کر رکھی ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ پہلے یہ دیکھیئے کہ احکامات کے سلسلہ میں قرآن کریم کا طریق اور انداز کیا ہے۔ اس نے اپنی آیات کو دو قسموں میں قایم کر دیا ہے۔ متشابہات اور محکمٰت (6/3)۔ متشابہات وہ فطری اور مابعد الطبیعاتی بسیط حقائق ہیں جنہیں اس نے تشبیہاً بیان کیا ہے۔ان کے متعلق ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔ جہاں تک محکمت کا تعلق ہے یہ قراانی احکام و قوانین ہیں۔ جس طرح احکام و قوانین کی صورت میں ہونا چاہیئے انہیں اس نے بالکل واضح اور محکم انداز میں بیان کر دیا ہے۔ اگر کسی ضابطہ قوانین کے احکام واضح شکل میں نہ ہوں تو وہ ضابطہ قابل عمل نہیں ہو سکتا۔ ان احکام کی یہ شکل نہیں کہ زید ان سے کچھ سمجھے اور بکر کچھ اور۔ دو چار مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی۔

۱۔ سورہ النسآ کی دو تین آیات میں اس نے ان رشتوں کی تفصیل دی ہے (یعنی وضاحت کی ہے) جن سے نکاح حرام ہے۔ آپ ان رشتوں پر نگاہ ڈالیئے اور دیکھیئے کہ انہیں کس قدر متعین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس قدر متعین انداز میں کہ حرمت علیکم امہتکم (تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں) کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ ولا تنکحو ما نکح اٰباکم من النسا (23-22/4) ‘‘جن عورتں سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا تھا، ان سے بھی نکاح نہ کرو’’ یعنی امھتکم (مائیں) سے چونکہ یہ بات واضح نہیں تھی کہ ان میں سوتیلی مائیں بھی شامل ہیں یا نہیں، اس نے اس کی بھی وضاحت کر دی۔ اس وضاحت کی موجودگی میں ہر شخص پورے حتم و یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ خدا نے سوتیلی اور حقیقی مائوں (دونوں) سے نکاح حرام قرار دیا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتاہے کہ کوئی کہہ دے کہ سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہے اور دوسرا کہہ دے کہ نہیں! قرآن کی رو سے اس سے نکاح جائز ہے۔ یہ ہے محکمٰت کا انداز۔

۲۔ سورۃ النسا ہی میں اس نے وراثت کے حصوں کا تعین کیا ہے۔ دیکھئے کہ اس نے کس طرح مختلف وارثوں کے چھوٹے بڑے تمام حصوں کی جزئیات تک کا تعین کر دیا ہے۔ فلاں کا نصف، فلاں کا تہائی، فلاں کا چھٹا، فلاں کا آٹھواں وغیرہ۔ یہ ہے قرآن کی رو سے جزئیات کا تعین۔ یعنی جن احکام کی اس نے جزئیات خود متعین کی ہیں ان جزئیات کی کیفیت یہ ہے۔

۳۔ سورۃ بقرہ (180/2) میں اس نے وصیت کا اصولی حکم دیا ہے ۔ اس کے بعد سورۃ مائدہ میں اس نے طریق کی وضاحت کر دی جس کے مطابق وصیت کو ضبط میں لانا چاہیئے۔ (108-106/5)ان آیات میں آپ دیکھئے کہ اس نے اس طریق کی جزئیات کا کس وضاحت سے ذکر کر دیا ہے۔

4۔ سورۃ بقرہ میں اس نے لین دین کے معاملات کو ضبط تحریر میں لانے کا حکم دیا۔ (83-282/2) ان آیات میں آپ دیکھیئے کہ اس نے کس وضاحت سے بتایا ہے کہ اسے کس طرح لکھا جائے۔ کون لکھے، کون لکھوائے، اس پر کس طرح گواہ مقرر کیے جائیں۔ ان کی شہادت کس طرح قلمبند کی جائے۔ اگر تم حالت سفر میں ہو تو کیا کرو ۔۔۔۔ یہ جزئیات اس قدر وضاحت سے اور متعین طور پر مذکور ہیں کہ آیت (282/2) قرآن مجید کی (غالباً) سب سے لمبی آیت ہے۔ یہ ہے تعین، تبیئنِ جزئیات کا قرآنی انداز۔

۵۔ اس نے نکاح، طلاق، مہر ، عدت وغیرہ سے متعلق احکام دیئے تو دیکھئے ان کی جزئیات کو کس متعین انداز سے بیان کر دیا۔ اس نے روزوں کے احکام دیئے تو دیکھے انہیں کس طرح متعین اندازسے بیان کیا ہے۔ ایک مہینے کے روزے۔ صبح کی سیاہ اور سفید دھاری کے نمایوں ہونے سے لے کر رات تک، کھانے پینے اور جنسی اختلاط کی ممانعت۔ مسافر اور بیار کی سورت میں التوا۔ جس کے لیے روزہ ناقابل برداشت ہو اس کی استثنا۔ یہ تمام جزئیات متعین طور پر بیان کر دیں۔

ان مثالوں سے آپ نے دیکھا کہ جن احکام کی جزئیات قراان کریم نے خود متعین کر دی ہیں ان میں انسانی قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی۔ ان میں کا ہر حکم واضح اور متعین ہے اور ہر شخص حتمی طور پر کہہ سکتا ہے کہ اس باب میں خدا نے یہ فرمایا ہے۔ نیز جو کچھ اس نے فرمادیا ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں کسی قسم کا تضاد نہیں۔

۶۔ اب آگے بڑھیئے۔ قرآن کریم نے اپنے تمام احکام کی جزئیات کا تعین خود نہیں کیا۔ اکثر اصولاً بیان کر دیئے گئے ہیں۔ ان میں بعض احکام ایسے ہیں جن کی جزئیات کا تعین قرآن ہی کے دیگر متعلقہ احکام کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً قرآن کریم سے مطلقہ عورت کی عدت کے متعلق کہا گیا ہے کہ عام حالات میں وہ تین حیض ہے۔ (228/2) لیکن اگر وہ حاملہ ہو تو عدت وضعِ حمل تک ہے۔ (4/65)

بیوہ کے معلق ہے کہ اس کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ (234/2) لیکن بیوہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا۔ اس کے لیے کہا جائے گا کہ مطلقہ حاملہ کی عدت پر قیاس کر کے کہا جا سکتا ہے کہ بیوہ حاملہ کی عدت بھی وضع حمل تک ہو گی۔ لیکن اس کے متعلق ہم یہ کہنے کے مجاز نہیں ہوں گے کہ یہ عدت خدا کی مقرر کردہ ہے۔ ہم یہی کہہ سکیں گے کہ یہ ہمارا استبناط یا اجتہاد ہے۔

۷۔ بعض احکام ایسے بھی ہیں جن کی جزئیات کو بطریق استنباط بھی متعین نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً قرآن میں امت مسلمہ کے متعلق کہا گیا ہے کہ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (38/42) ان کے معمالات ان کے باہمی مشورہ سے طے پائیں گے۔ یہاں مشاورت کا اصولی حکم دیا گیا ہے۔ اس کا طریق نہیں بتایا گیا۔ یہ طریق قرآن کی کی دیگر آیات سے مستبط بھی نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا طریقِ مشاورت امت خود متعین کرے گی۔ اس کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ یہ جزئیات قرآن کریم کے کسی اصول، حکم یا قانون سے ٹرائیں نہیں۔ بالفاظ دیگر یہ جزئیات قرآنی حدود کے اندر رہتے ہوئے متعین کی جائیں گی۔

اس سلسلہ میں اس بنیادی حقیقت کا سمجھ لینا ضرور ی ہو گا کہ ۲۔ اور ۳۔ کی صورت میں استبناطِ احکام یا تعین جزئیات کا حق اور اختیار کسی فرد (یا کسی گروہ) کو نہیں دیا جا سکتا۔ خواہ وہ فرد کتنا ہی بڑا عالم، فقیہ، یا مجتہد کیوں نہ ہو۔ یہ حق اور اختار صرف نظام مملکت (خلافت علیٰ منہاج رسالت)کو حاصل ہو گا۔ وہی نظام ان جزئیات کا تعین کرے گا اور وہی ان میں عندالضرورت تغیر و تبدل کا مجاز ہو گا۔ اس کے فیصلے ساری امت کے لیے واجب العمل ہوں گے۔ کیونکہ ان کی حیثیت قوانینِ حکومت کی ہو گی۔ اس سے امت کی وحدت قائم رہے گی۔

خلافتِ راشدہ کے زمانے میں، کسی شخص کے اپنے طور پر فیصلے دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے بعد بھی، اس بابت میں ارباب فکر و نظر کی احتیاط کا کیا عالم تھا، اس کا اندازہ ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ امام اعظمؒ کا فقہ میں جو مقام ہے اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ مورخ ابن خلکان نے لکھا ہے کہ ایک دن ان کی صاحبزادی نے کہا کہ ابا جان! میں روزہ سے ہوں۔ دانتوں سے خون نکلا اور تھوک کے ساتھ گلے میں اتر گیا۔ روزہ جاتا رہا یا باقی رہا۔ آپ نے فرمایا بیٹی! اپنے بھائی حمادؔ سے پوچھو کہ حکومت کی طرف سے فتویٰ دینے کے مجاز وہ ہیں، میں نہیں، ان حضرت کی احتیاط کا یہ عالم تھا۔ اور اب۔۔۔۔ہر بوالہواس نے حسن پرستی شعار کی۔ جس کا جی چاہا فیصلے کرنے کا مجاز بنا بیٹھا۔ مذہب میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

اہل قرآن کی جزئیات

ان تصریحات کے بعد، فرقہ اہل قرآن کے مسلک کی طرف آئیے۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ تمام احکام کی جزئیات قرآن کریم نے خود ہی متعین کر دی ہیں۔ یعنی ان کے نزدیک تصریحات بالا میں شق ۲۔ اور ۳۔ (اسلامی نظام کی طرف سے استبناطِ احکام اور تعین جزئیات) خلاف قرآن ہوں گے۔ اس مقام پر ہمارے سامنے ایک دلچسپ حقیقت آتی ہے۔ (مولانا) چکڑالوی نے اپنے ہاں اسلامی نظام یا خلاف علیٰ منہاج رسالت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ وہ خالص مذہب کی سطح پر سوچتے تھے اور مذہب میں نظام کا تصور ہی نہیں ہوتا۔ یہ یکسر انفرادی اور پرائیویٹ معاملہ ہوتا ہے۔ ان کی وفات کے بعد، ہمارے دور میں، اسلامی نظام کا تصور اجاگر ہوا۔ علامہ اقبالؒ نے اس کا تصور پیش کیا، علامہ اسلم جیرج پوریؒ نے اس کے تشکیلی خطوط کی وضاحت کی۔ اور اس کی عام نشرواشاعت کی سعادت طلوع اسلام کے حصہ میں آئی۔ دین کا یہ تصور اس قدر معقول اور اسلام کے آخری اور مکمل دین ہونے کی دلیل اور برہان تھا کہ قدامت پرست مذہبی پیشوائیت کی مخالفت کے علی الرغم، ارباب کر و نطر نے اسے اپنے قلوب سلیم میں جگہ دے دی۔ اس کے بعد محراب منبر بھی ان اصطلاحات کے اختیار و استعمال پر مجبور ہو گئے اور اسی مجبوری کے ماتحت (مولانا) چکڑالوی کے متبعین کو بھی ان الفاظ کو دہرانا پڑا۔ لیکن اس سے یہ عجیب کشمکش میں گرفتار ہو گئے۔ اسلامی نظامؔ کے نظریہ کے معنی یہ ہیں کہ ہم تسلیم کریں کہ جن احکام کی جزئیات قرآن نے متعین نہیں کیں۔ وہ انہیں اصولِ مشاورت کے مطابق متعین کرے گا۔ اہل قراان کا عقیدہ یہ ہے کہ جملہ احکمات کی جزئیات قرآن کے اندر محفوظ ہیں۔ اس سے یہ سوال سامنے آیا کہ پھر اسلامی نظام کرے گا کیا۔ قرآن نے جو مشاورت کا حکم دیا ہے اس پر عمل کس طرح ہو گا۔؟ دیکھئے وہ اس کشمکش سے نکلنے کی صورت کیا اختیار کرتے ہیں۔ کہتے ہیں۔

آنحضورﷺ کو حکم ہوا۔ شاورھم فی الامر (159/3) اور مومنوں کی صفت بیان ہوئی۔ وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (38/42)۔ دیکھئے! امرؔ میں مشاورت کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ کے حکم میں نہیں۔ حکم کے متعلق تو ارشاد ہوا ہے۔ ان الحکم الّا للہ (57/6، 47-40/12) حکم صرف اللہ کا ہے۔ لا یشرک فی احکمہِ احدا (26/18) اللہ اپنے حکم میں کسی ایک کو بھی شریک نہیں کرتا۔ اس لیے حکم اللہ کا اور جزئیات بندوں کی؟ (العیاز باللہ)

(بلاغ القرآن۔ بابت فروری ۱۹۷۵، صفحہ ۲۶)

اس کے بعد انہیں یاد آ گیا کہ خود لفظ امر کے معنی حکم ہیں۔ اس کا کیا علاج؟ کیا

لفظ امر کا معنی حکم بھی ہے۔ لیکن چونکہ اللہ کے حکم میں کوئی شریک نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کی جزئیات متعین کرنے بیٹھ جائے، کہ نمازیں پانچ پڑھی جائیں یا تین یا دو ایا ایک۔ اس لیے شاورھم فی الامر(159/3) میں آمدہ لفظ امرؔ سے اللہ کا حکم مراد نہیں بلکہ وہ معاملات مراد ہیں جو آنحضورﷺ اور آپ کے جانشینوں کو داخلی یا خارجی معاملات میں وقتاً فوقتاً ہنگامی طور پر پیش آتے تھے۔

(صفحہ نمبر ۲۷)

آپ نے غور فرمایا کہ ان حضرات کی خالص مذہب پرستانہ ذہنیت کس طرح پھوٹ پھوٹ کر سامنے آ رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپﷺ کے صحابہؓ نے حکومت خداوندی کو قائم فرمایا تھا۔ اور اس حکومت کے جس قدر معاملات تھے ان سب کا تعلق ‘‘حکم خداوندی’’ سے تھا۔ اس میں ‘‘عبادات’’ اور ‘‘امور مملکت’’ میں کوئی تمیز و تفریق نہیں تھی۔ صحنِ مسجد ہو یا ایوانِ حکومت (بلکہ میدانِ جنگ) ان میں کا ہر معاملہ ‘‘حکم خداوندی’’ کے مطابق طے ہوتا تھا۔ ‘‘عبادات’’ اور امور مملکت کی ثنویت اور مغائرت اس دور کی پیدا کردہ ہے جب حکومتِ خداوندی کی جگہ ملوکیت اور مذہبی پیشوائیت نے لے لی تھی۔ اور یہ حضرات (اہل قرآن) بھی اسی ذہنیت کے مالک ہیں۔ ان کے نزدیک بھی اسلام ایک مذہب ہی ہے۔

اور پھر اس پندار نفس پر غور کیجئے! اگر خلاف علیٰ منہاج نبوت ، یہ فیصلہ کرے کہ نمازیں پانچ پڑھی جائیں یا تین یا دو یا ایک، تو یہ شرک ہو گا، اور کوئی عبداللہ چکڑالوی یا ماسٹر محمد علی رسول نگری یہی طے کرنے بیٹھ جائے تو یہ عین مطابق قرآن ہو گا۔ ۔۔ کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا! ۔۔۔۔۔

لیکن اتنا لکھنے کے بعد ان کے دل میں خود ہی کھٹک پیدا ہو گئی کہ یہ ہم نے کیا کہہ دیا۔ اس کے ازالہ کے لیے فرمایا:

جب خلافتِ الٰہیہ قائم ہو گئی وہ قرآن ہی سے فیصلہ دے گی اور اسے قرآنی جزئیات ہی کے نام سے بصمیم قلب تسلیم کرنا ہو گا۔ (بلاغ القرآن۔ فروری ۱۹۷۵ صفحہ ۲۹)

سوال یہ ہے کہ کیا وہ (خلافت الٰہیہ) نماز، روزہ کے متعلق بھی فیصلہ دے گی یا صرف امورِ مملکت کے متعلق ہی فیصلے دے گی؟ کیا نماز، روزہ، حج، زکوۃٰ وغیرہ ‘‘مذہبی امور’’ اس کے حیطہ اقتدار سے باہر ہوں گے؟ قرآن کریم نے تو ان اربابِ خلافت کے متعلق کہا ہے کہ

الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ  ۗ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (41/22) ‘‘جب انہیں تمکن فی الارض حاصل ہو گا تو یہ ‘‘اقامت صلوۃٰ’’ اور ایتائے زکوۃٰ ۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کریں گے’’۔ لیکن اگر یہ حضرات اس وقت موجود ہوں تو ان سے کہہ دیں گے کہ تمہیں صلوۃٰ و زکوہٰ کو متعلق فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا دائرہ بھی امور مملکت تک محدود ہے۔ تم اگر اس سے تجاوز کر کے مذہبی امور میں دخیل ہو گے تو مملکت کے خلاف بغاوت کی جائے گی۔ کیونکہ تمہارا ایسا کرنا خلاف قرآن اور شرک ہو گا۔ ان للہ و انا الیہ راجعون

اگر مزید تفصیل میں جانا مقصود ہوتا تو میں بتاتا کہ قرآن کریم میں ‘‘امر’’ دین کے معنوں میں آیا ہے اور اسلامی مملکت دین ہی کی مظہر اور ذریعہ نفاذ ہوتی ہے۔ رسول اللہﷺ سے جب کہا گیا تھا کہ ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (18/45) ‘‘پھر ہم نے تمہیں امر کے ایک راستے پر لگا دیا سو تم اسی کا تباع کرو’’ تو اس سے مراد دین خداوندی تھا نہ کہ محض امور مملکت۔ دوسری طرف جب جماعت مومنین سے استخلاف فی الارض (حکومت و مملکت) کا وعدہ کیا گیا تھا تو اس کی غرض و غایت یہ بتائی گئی تھی کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ (55/24) تاکہ اس سے اس دین کو تمکن حاصل ہو جائے۔ جسے خدا نے ان کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ لہذا امر کو دنیاوی امور تک محدود سمجھنا دین سے بے خبری کی دلیل ہے۔ ان تمام امور کی جزئیات متعین کرنا جن کا تعین قرآن کریم نے نہیں کیا، اسلامی نظام پر چھوڑ دیا گیا۔

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

قرآن کے خلاف سنگین الزام

اسے پھر دہرا دیا جائے کہ ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن کریم نے تمام احکام کی جزئیات خود ہی متعین کر دی ہے۔ قرآن کی متعین کردہ جزئیات کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ وہ کس قدر واضح، صاف اور متعین ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔ اس کی مثالیں پہلے دی جا چکی ہیں۔ یہ اس قدر واضح اور متعین ہوتی ہیں کہ ان کے متعلق دو آراکا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً جہاں اس نے کہا ہے کہ فلامہ السدس (11/4) یعنی ماں کا چھٹہ حصہ ہے تو اسے دو نہیں، دو کروڑ آدمی بھی دیکھیں تو اس کے حصہ کو چھٹا حصہ ہی کہیں گے۔ یہ کبھی نہیں ہو گا کہ ایک شخص چھٹا حصہ کہ دے اور دوسرا آٹھواں حصہ۔ اس تصریح کے بعد اب نماز کی ان جزئیات کو لیجئے جسے ان حضرات کے نزدیک قرآن نے متعین کیا ہے۔ (مولانا) چکڑالوی نے قرآن کی آیات (114/11) اور (87/17) سے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقتوں کی نماز کا حکم دیا ہے اور بلاغ القرآن والوں نے انہی دو آیتوں کو درج کرنے کے بعد کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں تین وقتوں کی نماز فرض قرار دی ہے اور دونوں نے کہا ہے کہ یہ قرآن کا قطعی فیصلہ ہے۔ یا مثلاً مولانا چکڑالوی نے سورۃ النسا کی آیات (102-101/4) درج کرنے کے بعد کہا ہے کہ خدا نے ان میں حکم دیا ہے کہ نماز کی چار رکعتیں ہیں اور بلاغ القرآن نے انہیں آیات کے درج کرنے کے بعد کہا ہے کہ خدا نے نماز کی دو رکعتیں مقرر کی ہیں۔ اسی طرح مولانا چکڑالوی نے کہا ہے کہ خدا نے ایک رکعت میں دو سجدوں کا حکم دی اہے۔ اور بلاغ القرآن نے بتایا ہے کہ خدا نے ایک رکعت میں ایک ہی سجدہ کا حکم دیا ہے۔

سوچیئے کہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کر دےکہ کیا آپ کے خدا کو یہ کہنا بھی نہیں آتا کہ نماز کے کتنے اوقات ہیںِ کتنی رکعتیں اور کتنے سجدے ہیں۔ تو اس کا کیا جواب دیا جائے گا؟ اگر قرآن کی یہی حالت ہے کہ اس کی ایک ہی آیت سے پانچ وقت اور تین وقت یا چار رکعتیں اور دو رکعتیں یا دو سجدے اور ایک سجدہ ثابت ہو جاتا ہے تو ایسے قرآن کے متعلق (معاذاللہ) کیا تصور قائم ہو گا؟ لیکن ان حضرات کو اس سے کیا غرض کہ ان کی اس قسم کی حرکتوں سے خدا کے متعلق کیا تصور پیدا ہوتا ہے اور قرآن کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ انہیں تو ایک جدید فرقہ کی تشکیل اور اس کی امامت سے غرض ہے اور بس!

مندرجہ بالا آیات میں تو پھر بھی صلوۃٰ کے الفاظ آتے ہیں لیکن جب ہم ان کے بیان کردہ ‘‘اذکار صلوۃٰ’’ کی طرف آتے ہیں تو وہاں اس سے بھی زیادہ حیرت افزا اور تاسف انگیز صورت سامنے آتی ہے۔ سورہ نمل میں ہے کہ جب حضرت سلیمانؑ کا گزر وادی نمل پر سے ہوا اور اس قوم کی سربراہ نے اپنے لوگوں سے کہا کہ تم اپنے اپنے گھروں میں چھپ جائو ورنہ سلیمان کا لشکر تمہیں کچل دے گا تو حضرت سلیمانؑ اس کی غلط نگہی پر متبسم ہوئے اور اس کے ساتھ ہی خدا سے دعا کی کہ

  رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ (19/27) ‘‘اے میرے رب ! مجھے اس کی توفیق عطا فرما کہ تو نے جس نعمت سے مجھے اور میرے والدین کو نوازہ ہے اس کا شکر اد اکروں اور تیری پسند کے مطابق عمل صالح کروں۔’’ یہی الفاظ کچھ اضافے کے ساتھ سورۃ احقاف (15/46) میں مومنین کی زبان سے کہلوائے گئے ہیں۔ ان مقامات میں نہ کہیں صلوۃٰ کا ذکر ہے، نہ رکوع و سجود کا۔ لیکن ‘‘بلاغ القران’’ والوں کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو رکوع کی حالت میں پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ ہم نے صرف ایک مثال پیش کی ہے۔ ورنہ انہوں نے دعائے قبل صلوۃٰ سے اذکار بعد صلوۃٰ تک اسی طرح سے مختلف آیتیں درج کی ہیں اور اس کے بعد کہا ہے کہ یہ قرآن کا مقرر کردہ صلوۃٰ کا طریق۔

اگر یہ حضرات یہ کہتے کہ ہم نے قرآن کریم یں غور و فکر کیا ہے جس کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ نماز میں اس قسم کی دعائیں پڑھنی چاہئیں تو یہ اور بات ہوتی۔ لیکن ان کا کہنا تو یہ ہے کہ یہ خدا کا حکم ہے کہ نماز میں حالتِ قیام میں یہ پڑھو، رکوع میں یہ پڑھو اور سجدہ میں یہ کہو۔ اپنے قیاس کو خدا کا حکم کہہ کر پیش کرنا اتنی بڑی جسارت ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔۔ انہیں اس کا بھی قطعاً احساس نہیں ہوتا کہ جب کل کو اللہ تعالیٰ یہ پوچھے گا کہ میں نے کب کہا تھا کہ قیام میں یہ آیتیں پڑھو اور رکوع اور سجدے میں یہ آیتیں ، تو اس کا کیا جواب دیا جائے گا؟ قرآنی آیات کے ساتھ اس قسم کا کھیل میرزا غلام احمد کھیلا کرتے تھے۔ (مثلاً) وہ کہتے تھے کہ قرآنی آیت ۔۔ ھوالذی ارسل رسولہ بالھدٰی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ۔۔۔ میں ، مجھے رسول کہہ کر پکارا گیا ہے۔ (براہین احمدیہ صفحہ ۴۹۵ و اعجاز احمدی) وقس علیٰ ذالک۔ لیکن وہ تو اپنے اس قسم کے دعاوی کی دلیل اور مسند یہ پیش کرتے تھے کہ انہیں اس کی بابت خود خدا نے بذریعہ وحی بتایا ہے۔ معلوم نہیں کہ بلاغؔ القرآن والوں کے پاس اس کی کیا سند اور ثبوت ہے کہ خدا نے بذریعہ وحی بتایا ہے۔ معلوم نہیں کہ بلاغ القرآن والوں کے پاس اس کی کیا سند اور ثبوت ہے کہ خدا نے حکم دی اہے کہ تم نماز میں فلاں آیات پڑھا کرو۔ قرآن کریم میں تو ایسا کہیں نہیں آیا’’

چونکہ قارئین طلوع اسلام کے دل میں یہ خواہش ابھرے گی کہ وہ کون سی آیات ہیں جن پر ان کی وضع کردہ نماز مشتمل ہے، ہم نے مناسب سمجھا کہ اس مقالہ کے آخر میں ان کے بیان کردہ اذکار صلوۃٰ درج کر دیئے جائیں۔ قارئین ان آیات قرآنی کو دیکھیں اور پھر سوچیں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق کسی ایک جگہ بھی یہ کہا ہے کہ انہیں نماز میں یوں پڑھو۔ اس کے بعد آپ سوچیئے کہ ان کے متعلق یہ کہنا کہ یہ خدا کی مقرر کردہ جزئیات ہیں، کتنی بڑی جسارت ہے۔ قرآن کریم نے یہودی فقیہوں کے متعلق کہا تھا کہ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـٰذَا مِنْ عِندِ اللَّـهِ (79/2) ‘‘وہ اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے’’ کیا اسی قبیل کی جسارت ان اہل قرآن کی نہیں کہ یہ اپنے ذہن سے تجویز کرتے ہیں کہ فلاں آیات نماز میں پڑھی جانی چاہیئں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کی تجویز کردہ آیتِ صلوۃٰ ہیں۔ (عیاز بااللہ)

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭

فرقہ سازی

قرآن کریم نے بالفاظِ صریح فرقہ بندی کو شرک قرار دیا ہے۔ (32-31/30) اور متعدد آیات میں اس کی سخت مخالفت کی ہے۔ ہماری مذہبی پیشوائیت ان ایات کو لوگوں کے سامنے نہیں لاتی۔ طلوع اسلام نے اسے شد و مد سے دہرایا اور ان کا اتنا چرچا کیا کہ لوگوں نے مولوی صاحبان سے پوچھنا شروع کر دیا کہ ان آیات کی موجودگی میں اسلام میں فرقوں کا کیا جواز ہے؟ اس اعتراض کا کوئی جواب ان سے بن نہیں پڑتا تھا۔ اس سے یہ بڑی ضیق میں تھے کہ کسی وسوسہ انداز نے ان کے کان میں پھونک دیا کہ یہ فرقے نہیں مکاتب فکر ہیں۔ اس سے ان کی باچھیں کھل گئیں۔ اور (یہ تو معلوم نہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو فریب دے لیا یا نہیں لیکن)لوگوں کو اس فریب میں مبتلا کرنا شروع کر دیا کہ ہمارے ہاں مذہبی فرقے نہیں، مکاتب فکر ہیں، عوام بیچاروں کو کیا معلوم کہ مکاتب فکر کیا ہوتے ہیں۔ اور مذہبی فرقے کیا۔۔۔۔ آج کل اس کا چرچا عام کیا جا رہا ہے اور اس طرح کبوتر آنکھیں بند کر کے مطمئن ہو بیٹھا ہے کہ بلی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

مکاتب فکر سے کیا مراد ہے۔

پہلے بتایا جا چکا ہے کہ قرآن کریم نے اپنی آیات کو دو اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ متشابہات اور محکمات ۔۔۔۔ آیات متشابہات کا تعلق کائنات اور مابعد الطبیعات کے ان بسیط حقائق سے ہے جنہیں تشبیہی انداز ہی میں بیان کیا جا سکتا تھا۔ ان حقائق کا مفہوم ہر شخص اپنی اپنی فکر کے مطابق سمجھ سکتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ فکر انسانی، انسانی علوم کی وسعتوں کے ساتھ ساتھ وسیع اور بلند ہوتی جاتی ہے اس لیے ان آیات میں بیان کردہ حقئاق کا مفہوم بھی ہر دور میں وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان حقائق ، نیز احکامِ قرآنی کے معارف و مصالح پر اس طرح غور و فکر کرنے والوں کو مفکرین کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے فکری اختلافات کی بنا پر کوئی فرقہ وجود میں نہیں آتا۔ مسلم مفکرین میں ابن باجہ، ابن رشد، ابنِ سینا، ابن طفیل، ابن مسکویہ وغیرہ بہت مشہور ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ انہوں نے کوئی مذہبی فرقہ پید انہیں کیا۔ ہمارے دور میں سرسیدؒ اور اقبالؒ کا شمار بھی مشہور مفکرین میں ہوتا ہے۔ ان کے مکاتبِ فکر ( School of Thought ) تو اپنے اپنے ہیں لیکن یہ کسی فرقے کے بانی نہیں ہیں۔

اس کے برعکس فرقہ وجود میں آتا ہے محکمات میں اختلاف کی بنا پر۔ اس میں عقائد کے اختلاف بھی شامل ہیں اور عمال کے اختلاف بھی۔ یہی وہ فرقہ بندی ہے جسے قرآن نے شرک قرار دیا ہے کہا س سے امت کی وحدت ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ ان فرقوں کے نشانات تعارف تو الگ الگ ہیں۔ لیکن یہ محسوس طور پر نکھر کر سامنے آتے ہیں۔ نماز کے وقت سے پہلے مسلمانوں کا دو چار ہزار کا مجمع بھی کسی جگہ ہو، تو آپ پہچان نہیں سکیں گے کہ کون کس فرقے سے متعلق ہے۔ لیکن جونہی نماز کی اذان ہو گی تو یہ اٹھ کر الگ الگ مسجدوں کا رخ کر لیں گے اور آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کون کس فرقے سے متعلق ہے۔ مختلف فرقوں کی نمازوں میں بھی فرق ہوتا ہے لیکن تفرقہ کے لیے یہ فرق بھی ضروری نہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ دو فرقوں کی نمازوں میں کوئی فرق نہ ہو لیکن اس کے باوجود ان میں بعد المشرقین ہو۔ مثلاً ‘‘احمدیوں’’ نے اپنی نماز وہی رکھی جو حنفی مسلمان پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی مسجدیں الگ بنائیں۔ نماز میں فرقہ بندی کی بنیاد یہ ہے کہ ایک فرقہ کے مسلمان دوسرے فرقہ کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھتے۔ یا یوں کہیئے کہ دوسرے فرقہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اس لیے ان کی مسجدیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ اور جماتیں بھی الگ الگ۔ یوں نماز مختلف فرقوں کا تعارفی نشان بن جاتی ہے۔ امت میں تفریق کی جو پہلی اینٹ رکھی گئی تھی وہ مسجد ہی کی اینٹ تھی جسے قرآن نے ‘‘مسجد ضرار’’ کہہ کر پکارا اور کفر قرار دیا ہے۔ (107/9)

جس طرح باقی مذہبی فرقے، فرقے کے نام سے تلملا اٹھتے ہیں اسی طرح اہل قرآن کے لیے بھی یہ لفظ آتش بہ پیرہن ہو جات اہے۔ وہ بھی اٹھتے بیٹھے کہتے رہتے ہیں کہ ہم فرقہ نہیں۔ چنانچہ بلاغ القرآن نے اپنی اشاعت بابت فروری ۱۹۷۵؁ میں لکھا ہے کہ

طلوع اسلام نے جنوری ۱۹۷۵؁ کے صفحہ ۴۸ پر عنوان قائم کیا ہے ۔ ‘‘فرقہ اہل قرآن’’ اور وہ ہمیں فرقہ کہتے کہتے تھکتا نہیںَ حالانکہ ہم بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ ہم فرقہ نہیں ہیں۔

(صفحہ ۲۲)

وہ دوسرے مقام پر لکھتا ہے۔

اگر طلوع اسلام الگ الگ درسوں، الگ کنونشنوں، الگ اسٹیجوں اور الگ بزموں کے باوجود فرقہ نہیں تو بلاغ القرآن صرف قرآن کی فرض کی ہوئی نماز کی ادائیگی کی بدولت فرقہ کس طرح ہو گیا۔

(بلاغ القرآن، بابت دسمبر ۱۹۷۴؁ صفحہ ۳۰)

نماز کے سلسلے میں وہ لکھتا ہے کہ

بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز فرقہ بندی سکھاتی ہے۔ ہر فقہ اپنی نماز سے پہچانا جاتا ہے ، گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں انہیں غلطی لگ چکی ہے۔ کیونکہ فرقہ بندی عقائد کے اختلاف سے پیدا ہوتی ہے، نماز سے نہیں

(پمفلٹ۔۔۔ الصلوۃٰ ، صفحہ ۱۴-۱۵)

یہ تو ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کون کہتا ہے کہ نماز فرقہ بندی سکھاتی ہے لیکن، جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے، ہر فرقہ نماز کی علیحدگی سے پہچانا جاتا ہے۔ یعنی فرقے کی پہچان یہ ہے کہ وہ دوسرے فرقوں کے ساتھ مل کر یا ان کے امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا۔ اسی لیے ان کی جماعت بھی الگ ہوتی ہے اور مسجدیں بھی الگ۔ ہم پوچھتےیہ ہیں کہ کیا اہل قرآن کی نماز کی صوت یہی نہیں کہ وہ نہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ملک کر نماز پڑھتے ہیں نہ کسی دوسرے امام کے پیچھے۔ کیا اسی بنا پر انہوں نےاپنی مسجد الگ نہیں بنائی۔ اور کیا اس میں اسی فرقہ کے لوگوں پر مشتمل الگ نماز کی جماعت نہیں ہوتی۔ اگر یہ فرقہ بندی نہیں تو پھر کیا فرقوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ نماز میں علیحدگی کی کیفیت یہ ہے کہ (مثلاً) اہل حدیث اور حنفی فرقوں کی نمازوں میں اختلاف ہے لیکن وہ اختلاف ایسا معمولی سا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یا دوسرے فرقے کے امام کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن فرقہ اہل قرآن کی نماز کی یہ کیفیت ہے کہ وہ دعائے قبل الصلوۃٰ سے لے کر آخری سلام تک تمام مسلمانوں کی نماز سے یکسر مختلف ہے ٭ ۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے (اور اس مقالہ کے آخر میں آپ دیکھیں گے) سورۃ فاتحہ کے سوا، ان کی نماز اور دوسرے مسلمانوں کی نماز میں کوئی چیز بھی مشترک نہیںَ حتیٰ کہ ان کی نماز جنازہ بھی الگ ہے۔ یہ عجیب دلچسپ بات ہے کہ مسلمانو ں میں پہلا فرقہ اہل تشیع کا وجود میں آیا۔ ان کی نماز، دوسرے مسلمانوں کی نماز سے اس قدر مختلف ہے کہ یہ اگر چاہیں بھی تو آپ میں مل کر نماز پڑھ ہی نہیں سکتے۔

٭ [ان کی نماز اور دیگر مسلموں کی نماز میں سورۃ فاتحہ اس کے بعد کوئی سی قرآنی سورۃ اور رکوع و سجود کی تسبیحات (تھوڑے فرق کے ساتھ) مشترک ہیں۔ باقی جزئیات اس قدر مختلف ہیں کہ شیعہ اور غیر شیعہ اکٹھے نماز پڑھ ہی نہیں سکتے]

اور اس کے بعد اب (سردست) آخری فرقہ اہل قرآن کا وجود میں آیا ۔ یہی کیفیت ان کی نماز کی ہے۔ یہ اگر چاہیں بھی تو دوسروں کے ساتھ مل کر نماز پڑھ ہی نہیں سکتے۔ نہ ہی کوئی دوسرا ان کی نماز میں شریک ہو سکتا ہے۔ کیفیت ان کی یہ ہے اور اس کے باوجود کہا یہ جاتا ہے کہ ہم الگ فرقہ نہیں۔ یہ بعینہٖ وہی شکل ہے جو ‘‘احمدیوں’’ نے اختیار کر رکھی تھی اور قریب سو برس سے کہتے چلے آ رہے تھے کہ ہم مسلمانوں سے الگ نہیں ہیں۔

طلوع اسلام کا ذکر

‘‘بلاغ القرآن’’ والے بار بار طلوع اسلام کا ذکر کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے رہتے ہیں۔ ان پر واضح ہونا چاہیئے کہ طلوع اسلام الگ اسٹیجوں، الگ بزموں، الگ کنونشنوں اور الگ درسوں کے باوجود کوئی فرقہ نہیں ہے۔ اس لیے اس نے نماز روزہ وغیرہ میں کوئی نیا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ یہ خالص فکری تحریک ہے اس لیے اس میں فرقہ بندی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ اس کے درسوں بزموں کنونشنوں میں ہر فرقہ کے مسلمان شامل ہوتے ہیں اور اپنے اپنے طریقہ پر ارکار اسلام کی ادائیگی کرتے ہیں۔ اس بات میں اس کی شدت احتیاط کا یہ عالم ہے کہ یہ اپنے اجتماعات میں نماز باجماعت کا کوئی اہتمام نہیں کرتا اور ان میں شامل ہونے والوں کو تاکیداً کہتا ہے کہ وہ آس پاس کی مسجدوں میں جا کر نماز پڑھیں۔ وہ ڈرتا ہے کہ آج کا نماز کا الگ اہتمام کل کو کہیں امت سے علیحدگی کا نشان نہ قرار پا جائے۔ ٭

٭ [ہم نے اس گفتگو کو ان لوگوں کی (بزعم خویش) نماز سے متعلق ‘‘قرآنی تفصیلات’’ تک محدود رکھا ہے۔ اسی سے آپ اندازہ کر لیجئے کہ انہوں نے دیگر احکام کی جزئیات کے متعلق بھی کیا گل نہیں کھلائے ہوں گے۔]

ملخص

داستان دراز ہو گئی۔ اس کے سوا چارہ ہی نہیں تھا۔ اس سے آپ نے دیکھ لیا ہو گا کہ اس فرقہ نے قرآن کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے ان کے عقیدہ اور عمل کی رو سے:

۱۔ قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہی باطل قرار پاجاتا ہے کہ اس میں کوئی اختلافی بات نہیں اور جب اس کا یہ دعویٰ باطل قرار پا جائے تو وہ خود اپنے بیان کے مطابق منزل من اللہ رہتا ہی نہیں

۲۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ وہ نہایت واضح اور روشن کتاب ہے۔ اس میں کسی قسم کا ابہام نہیں التباس نہیں، ریب نہیں، تشکیک نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے جس شکل میں قرآن کو پیش کیا ہے اس سے اس کے یہ تمام دعاوی باطل قرار پا جاتے ہیں۔

۳۔ اس سے پہلے کسی فرقہ کے بانی نے بھی اپنے قیاس، اجتہاد یا استبناط کے متعلق یہ نہیں کہا تھا کہ وہ خدا کے ارشادات ہیں (بجز مدعیان نبوت کے) لیکن ان کی صورت یہ ہے کہ یہ اپنے ذہن سے ایک بات تجویز کرتے ہیں ، ویقولون ہذا من عنداللہ اور کہتے یہ ہیں کہ وہ خدا کا حکم اور قرآن کا فیصلہ ہے۔

۴۔ انہوں نے ایک ایسی نماز ایجاد کی ہے جس میں کوئی دوسرا مسلمان ان کے ساتھ شریک ہی نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی یہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کر سکتے ہیں۔ یہ فرقہ بندی کی شدید ترین شکل ہے۔

اس کے بعد آپ سوچیئے کہ قرآن اور ملت کے خلاف اس سے بڑی دشمنی کچھ اور بھی ہو سکتی ہے؟ اس دور میں قرآنی روشنی بہت دور تک پھیل جاتی اگر یہ لوگ اس کے راستے میں روک بن کر کھڑے نہ ہو جاتے۔

میرا نظریہ اور مسلک

آخر میں ، میں اس کی وضاحت بھی ضروری سمجھات ہوں کہ میں نے اپنی بصیرت کے مطابق ان امور کے متعلق کیا سمجھا ہے۔ واضح رہے کہ میں نے اپنے فہم قرآن کو نہ کبھی حرف آخر قرار دیا ہے نہ سہوو خطا سے منزہ۔ میں نے نہ کوئی الگ فرقہ قائم کیا ہے نہ ہی میں کسی فرقے سے متعلق ہوں۔ نہ ہی میرا، قراان کریم کا ایک ادنیٰ طالب علم انہوں نے کے سوا کوئی اور دعویٰ ہے۔ جو کچھ میں سمجھ سکا ہوں اور جس کی میں تبلیغ کرتا چلا آ رہا ہوں وہ حسب ذیل ہے۔

۱۔ قرآن کریم تمام نوع انسان کے لیے قیامت تک مکمل ، غیر متبدل اور محفوظ ضابطہ حیات ہے۔ اس بنا پر یہ خدا کی طرف سے آخری کتاب اور حضور نبی اکرم ﷺ اس کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ وحی کا سلسلہ حضورﷺ کی ذات پر ختم ہو گیا۔

۲۔ قرآن کریم میں احکام و قوانین کے علاوہ کائناتی حقاق بھی بیان کیے گئے ہیں ان حقائق اور احکام قرآنی کے مصالح کو ہر فرد اپنے غور و فکر کی رو سے سمجھ سکتا ہے۔ مختلف افراد اور مختلف زمانوں میں اس فکر میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن اس اختلاف کی وجہ سے امت میں کوئی تفریق نہیں پیدا ہونی چاہیئے۔

۳۔ جہاں تک قرآنی احکام کا تعلق ہے۔ انہیں اس نے نہایت واضح اور محکم انداز میں بیان کر دیا ہےا ن میں نہ کسی قسم کا اختلاف اور تضاد ہے نہ ابہام و التباس

۴۔ ان احکام میں بعض ایسے ہیں جن کی جزئیایت تک بھی قرآن نے خود متعین کر دی ہیں۔ یہ جزئیات بھی نہایت واضح ، روشن اور غیر مبہم ہیں۔ دوسرے احکام ایسے ہیں جنہیں اصولی طور پر دیا گیا ہے۔ اور مقصد اس یہ ہے کہ ان جزئیات اسلامی نظامِ مملکت خود متعین کرے، اس شرط کے ساتھ کہ وہ قرآن کے کسی اصول، حکم یا تعلیم سے ٹکرائیں نہیں۔ ان جزئیات میں زمانے کے تقاضوں کے ساتھ عندالضرورت تبدیلی ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کا تعین ہو یا تغیر و تبدل، اس کا اختیار صرف اسلامی نظام کو حاصل ہے۔ کسی فرد یا کسی گروہ کو نہیں۔

۵۔ ان جزئیات کو سب سے پہلے نظام اسلامی نے عہد رسالتمابﷺ و خلافت راشدہ میں متعین کیا۔ امت کی بدقسمتی سے یہ نظام کچھ عرصہ کے بعد باقی نہ رہا۔ اور اس طرح امت کی مرکزیت ختم ہو گئی۔ اور دین مذہب میں بدل گیا۔ اس زمانے میں بعض حضرات کی ذاتی کوششوں کی بنا پر صدر اول کے ان فیصلوں کو زبانی روایات کی رو سے جمع اور مرتب کیا گیا۔ انہیں روایات کے مجموعے کہا جاتا ہے۔

۶۔ ان مجموعوں میں وضعی روایات بھی شامل ہو گئی ہیں۔ میرے نزدیک ان کے پرکھنے کا معیار یہ ہے کہ جو روایات کسی شکل میں بھی قرآن کریم سے ٹکرائیں، ان کے متعلق سمجھا جائے کہ وہ رسول ﷺ کے اراشات نہیں۔ انہیں حضورؐ یا صحابہؓ کی طرف غلط منسوب کر دیا گیا ہے۔ جو اقوال واعمال قرآن سے نہ ٹکرائیں، انہیں صحیح تسلیم کر لیا جائے۔ واجح رہے کہ میں احادیث رسول ﷺ کا منکر نہیں۔ میں صرف یہ کہتا ہوں خواہ جو روایات قرآن کے خلاف ہیں، رسول اللہ ﷺ کی طرف ان کی نسبت غلط ہے۔ وہ حضورﷺ کے ارشادات نہیں ہو سکتے۔

۷۔ مسلمانوں میں اس وقت متعدد فرقے پیدا ہو چکے ہیں اور یہ صورت قرآن کے خلاف اور دین کے منافی ہے۔ قرآن کا تصور وحدتِ امت کا ہے۔ لیکن امت میں وحدت صرف اسلامی نظام کے ذریعے پیدا ہو سکتی ہے۔ لہذا ہماری کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ وہ نظام پھر سے متشکل ہو جائے۔

۸۔ یہاں سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ جب تک وہ نظام قائم نہ ہو ہم کیا کریں ۔ اس سللہ میں میرا نظریہ اور مسلک یہ ہے کہ مختلف فرقے جس جس طریق سے ارکان اسلام کی پابندی کرتے چلے آ رہے ہیں، ان سے کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے۔ نہ ان میں کوئی تبدیلی تجویز کی جائے اور نہ کوئی نیا طریقہ وضع کیا جائے۔ ایسا کرنے سے بجز اس کے کہ امت میں مزید انتشار پیدا ہو کوئی مفید نیتجہ مرتب نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ میں نے ابھی ابھی کہا ہے ، اس قسم کا اختیار صرف اسلامی نظام کو حاصل ہے۔ کسی فرد یافرقے کو حاصل نہیں۔ اپنے اس نظریہ کے مطابق میں خود بھی ارکان اسلام کی پابندی دوسرے مسلمانوں کی طرح کرتا ہوں اور جو لوگ میری بات سنتے ہیں، ان سے بھی یہی تاکید کرتا ہوں کہ وہ ان کی پابندی اسی طریق سے کرتے چلے جائیں، البتہ جو عقائد یا شعائر قراان کے خلاف نظر آئیں ان کی نشاندہی کر جائے اور ان کی جگہ قرآن کی صحیح تعلیم کو عام کیا جائے۔ میں قریب چالیس سال سے یہی کچھ کرتا چلا آ رہا ہوں۔ اور یہی تحریک طلوع اسلام کا مقصود و منتہیٰ ہے۔

۹۔ تحفظ ناموس رسالتﷺ میرے ایمان کا جز اور قرآن کریم کے بلند و بالا و منفرد مقام کا عام کرنا میری زندگی کا مشن ہے۔ جہاں ان پر کسی قسم کی زد پرتی ہے، اپنی استطاعت اور استعداد کے مطابق اس کی مدافعت کی کوشش کرتا ہوں ‘‘ٓاحمدیوں’’ اور فرقہ اہل قرآن کے خلاف میری جدوجہد کا جذبہ محرکہ بھی یہی ہے ارو مقصود و منتہیٰ بھی یہی۔ میری کسی سے نہ ذاتی دشمنی ہے نہ جذبہ انتقام، اس لیے میں ان بحثوں میں ذاتیات پر نہیں اترا کرتا۔

۱۰۔ آخر میں، میں اسے پھر دہرا دوں کہ امت میں دین کے قیام کی صورت قرآنی نظام کے قیام کے سوا کچھ نہیں، وہی امت میں وحدت پیدا کرے گا اور اسے ایک طریق پر چلائے گا۔ امت کا موجودہ انتشار گروہ سازیاں فر قہ بندیاں نئے نئے اختلافات کی نمود و نئی نئی نمازوں کی اختراع ، اردو میں نماز، یہ سب اس لیے ہے کہ امت میں قرآنی نظام باقی نہ رہا۔ وہ نظام قائم ہو گیا تو یہ سب افتراق و انتشار ختم ہو جائے گا۔

رات کے ماتھے پہ افسرہ ستاروں کا ہجوم

صرف خورشیدِ درخشاں کے نکلنے تک ہے!

تتمہ

فرقہ اہل قرآن کی نماز

۱۔ تین وقتوں کی نماز۔ اذان کی ضرورت نہیں۔ اللہ اکبر کہنا خلافِ قرآن ہے۔

۲۔ ایک نماز میں دو رکعتیں

۳۔ ایک رکعت میں ایک سجدہ

۴۔ اذکار صلوٰۃ۔ (جو ان کے شائع کردہ پفلٹ الصلوٰۃ میں درج ہیں)

دعائے قبل صلوٰۃ معہ تکبیر صلوٰۃ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ رب ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق واجعل لی من الدنک سلطانا نصریا ۔ ان اللہ کان علیا کبیرا ہ ۔

اذکارِ قیام

اسما حسنیٰ اور تسبیح

ھواللہ الذی لا الہ الا ہو عالم الغیب والشہاد ۃ ھوالرحمن الرحیم ۔ ھواللہ الذی لا الہ الا ہو ۔ الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر ۔ سبحان الہ عما یشرکون ۔ ھواللہ الخالق الباری المصور لہ الاسما الحسنیٰ یسبح لہ ما فی السموٰت والارض و ہوا لعزیز الحکیم ۔

حمد استعانت و استغفار

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ الحمد للہ رب العالمین ۔ الرحمن الرحیم ہ مالک یوم الدین ایاک نعبدو و ایاک نستعین ہ اھدنا الصراط المستقیم ۔ صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ۔ والضالین ۔ ربنا اٰتنا فی الدنیا حسن ۃ و فی الاٰخر ۃ حسن ۃ وقنا عذاب النار ۔ سمعنا و اطعنا غفرانک ربنا و الیک المصیر ۔ ربنا لا تواحذانا ان نسینا او اخطانا ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما سمعتہ علی الذین من قبلنا ۔ ربنا ولا تحملنا مالا طاق ۃ لنا بہ ۔ واعف عنا ۔ اغفرلنا و ارحمنا انت مولٰنا فانصرنا علی القوم الکٰفرین ۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وہب لنا من لدنک رحم ۃ ۔ انک انت الوھاب ۔ ربنا انک جامع الناس لیوم لا ریب فیہ ۔ ان اللہ لا یخلف المیعاد ۔ ربنا اننا امنا فاغفرلنا و ذنوبنا وقنا عذاب النار ہ ربنا اغفرلنا ذنوبنا و اسرار فی امرنا و ثبت اقدامنا و انصرنا علی القوم الکٰفرین ۔ ربنا افرغ علینا صبرا و توفتا مسلین ۔ ربنا امنا فاغفرلنا و ارحمنا و انت خیر الراحمین ۔ رب اغفر و ارحم و انت خیر الرحمین ۔ مستقرا و مقاما ۔ ربنا وسعت کل شئ رحم ۃ و علمنا فاغفر للذین تابو و اتبعو سبیلک و قھم عذاب الجھیم ۔ ربنا و ادخلھم جنت عدن التی و عدتھم ومن صلح من ابآھم وازواجھم و ذریتھم انک انت العزیز الحکیم ۔ وقھم السیات ومن تق السیات یومئذ فقد رحم ۃ و ذالک ہھو الفوز العظیمہ

اذکار رکوع انابت الی اللہ

رب اوذعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی و علی والذی و ان اعمل صالحا ترضہ و اصلح لی فی ذریتی انی تبن الیک فانی من المسلمین ربنا علیک توکلنا و الیک انینا و الیک المصیر ۔ ربنا لا تجعلنا فتن ۃ الذین کفرو واخفرلنا ربنا ۔ انک انت العزیز الحکیم

اذکار سجدہ۔ تسبیح اور حمد

سبحن ربنا ان کان وعدُ ربنا لمفعولاً ۔ الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا و لم یکن لہ شریک فی الملک و لم یکن ل ۃ ولیٰ من الذی ربنا اصرف عنا عذاب جھنم ان عذابھا کان غراماً ۔ انھا سائات مستقراً و مقاماً ہ ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریتنا قر ۃ اعین واجعلنا للمتقین اماماً ۔

اذکار بعد الصلوٰۃ

رب اعوذبک من ھمزات الشیٰطین ۔ وا عوذبک رب ان یحضرون ۔ ربنا ما خلقت ھذا باطلا ۔ سبحنک فقنا عذاب النار۔ ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ وما للظلمین من انصار۔ ربنا اٰتنا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان اٰمنو بربکم فامنا ربنا فاغفرلنا و ذنوبنا و کفرعنا سیاتنا و توفت معہ الابرار ۔ ربنا و اتنا ماوعدتنا علی رسلک و لا تخذنا یوم القیم ۃ ۔ انک لا تخلف المیعادہ

رسولوں پر سلام

سلام علی المرسلین ۔ الحمد للہ رب العالمین ۔

حاضر مومنوں پر سلام

سلام علیکم کتب ربکم علی نفسہِ الرحم ۃ لا انہ من عمل منکم سو لجھال ۃ ثم تاب من بعدہٖ و اصلح فانہ غفور رحیم ۔

صلوٰۃ میت کے اذکار

ربنا اغفرلنا و لا خواننا الذین سبقونا بالایمان ولا تجعل فی قلوبنا غلا للذین امنو ربنا انک رئوف رحیم (10/59)

طلوع اسلام

ان لوگوں سے صرف اتنا پوچھیئے کہ ان میں سے کسی ایک ذکرؔ کے متعلق بھی خدا نے کہا ہے کہ اسے نماز کے قیام، رکوع، سجدہ وغیرہ میں پڑھا جائے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کہا توآپ کس طرح کہتے ہیں کہ خدا نے ایسا حکم دیا ہے۔ یہ خدائی اختیارات کا حامل بن جاتا نہیں تو اور کیا ہے؟

لیکن ان لوگوں سے قطع نظر، ہم ان سادہ لوح مسلمانوں سے، جو ان کے اس چکر میں پھنس کر ان کی تجویز کردہ نمازؔؔ کو خدا کی مقرر کردہ صلوٰہ سمجھنے لگے ہیں دل کے پورے سوزو گداز کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ نے کبھی سوچا بھی کہ آپ کو ان لوگوں نے کس مقام پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ آپ دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں۔ آپ دنیا کے کسی ملک میں ، کسی مسجد میں بھی مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شامل نہیں ہو سکتے۔ حتیٰ کہ حریم کعبہ میں بھی ان کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھ سکتے۔ کیونکہ آپ کی نماز ہی دنیا جہان سے نرالی ہے۔ حتی کہ آپ نماز جنازہ تک میں باقی مسلمانوں کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے۔ سوچیئے کہ انہوں نے کس چابک دستی سے آپ کا رشتہ ساری امت سے منقطع کر دیا ہے۔ جو نماز جمہور مسلمان پڑھ رہے ہیں وہ کون سی کافرانہ اور مشرکانہ ہے۔ جو انہوں نے آپ یہ پٹی پڑھا کر شجر ملت سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے زمانے میں ‘‘احمدیوں’’ نے اپنا رشتہ مسلمانوں سے منقطع کیا تھا۔ لیکن انہوں نے مسلمانوں سے کٹ کر اپنی الگ امت بنا لی، سوچیئے کہ آپ مسلمانوں سے الگ ہو کر کیاکریں گے؟ لہذا، میری آپ سے درد بھری پکار یہ ہے کہ آپ اپنی حالت پر نظر ثانی کریں۔ اللہ کے حضور اپنے اس جرم عظیم کی معافی مانگیں (کہ اس کے ہاں تفرقہ شرک ہے اور شرک ظلم عظیم) اور شجرِ ملت سے پیوستہ رہیں۔ اس کی اولین علامت نماز میں شرکت ہے۔ جس فرقہ کی نماز بھی آپ کو آتی ہے اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھہیں۔ اور دیگر فرقوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہ سمجھیں، یہی سلامتی کی راہ ہے۔

میں نے یہ مقالہ آپ احباب کی بہی خواہی کے لیے لکھا ہے، ورنہ بلاغ القرآن سے کسی بحث میں الجھنے کی نہ مجھے فرصت ہے، نہ ضرورت۔

والسلام

پرویزؔ

1,119 total views, 1 views today

(Visited 310 times, 5 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *