صرف ایک سوال – پرویز

یہ شکایت آج کی نہیں‘ صدیوں سے چلی آرہی ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے —  کسی خاص فرقہ، خاص گروہ، خاص ملک کے مسلمانوں نے نہیں، پوری کی پوری اُمتِ مسلمہ نے–  بات ہے تو درست‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کبھی کسی نے اس پر بھی غور کیا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ یہ کیا ہوا کہ پوری کی پوری قوم نے اسلام چھوڑ دیا اور یہ ایک آدھ دن کی بات نہیں صدیوں سے اس کی یہی حالت ہے تو ایسا کیوں ہے؟ ایک بات تو بالکل واضح ہے۔۔ پہلے اسی پر غور کرنا چاہئے۔

آپ کسی کمیونسٹ سے پوچھئے کہ کمیونزم کسے کہتے ہیں۔ وہ صاف‘ واضح اور متعین الفاظ میں اس کا جواب دے دے گا۔۔۔ آپ یہ سوال متعدد کمیونسٹوں سے پوچھئے۔ ہر ایک کا جواب ایک ہی ہو گا۔ اس جواب کی روشنی میں آپ کے لئے یہ متعین کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہو گا کہ فلاں شخص کمیونسٹ ہے یا نہیں۔ یا فلاں قوم نے کمیونزم کو چھوڑ دیا ہے یا وہ اس پر عمل پیرا ہے۔
اسی طرح آپ سوشلسٹوں سے‘ سوشلزم کے متعلق پوچھئے ان کے ہاں سے بھی متعین جواب مل جائے گا کہ سوشلزم کسے کہتے ہیں اور اس کے جواب کی روشنی میں آپ بآسانی یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ فلاں شخص یا قوم نے سوشلزم کو چھوڑ دیا ہے یا نہیں؟
اس قسم کا سوال آپ مغربی جمہوریت کے متعلق پوچھئے۔ وہاں سے بھی آپ کو متعین جواب مل جائے گا۔
اس کے بعد آپ کسی مسلمان سے پوچھئے کہ اسلام کیا ہے اور پھر دیکھئے کہ وہ کیا جواب دیتا ہے‘ اور جب آپ یہی سوال مختلف مسلمانوں سے پوچھیں تو اس کے بعد دیکھئے کہ ان میں سے ایک کا جواب دوسرے سے نہیں ملے گا۔ یہ بات ہم عوام کے متعلق نہیں کر رہے۔ حضرات علماء کرام سے یہ سوال کیجئے اور پھر دیکھئے کہ ان کے ہاں سے کیا جواب ملتا ہے اور ایک کا جواب دوسرے سے کس قدر مختلف ہوتا ہے۔ ہم یہ بات محض نظری طور پر نہیں کہہ رہے۔ عملاً ایسا ہو چکا ہے۔ ۱۹۵۳ء کے (ختمِ نبوت تحریک کے سلسلہ میں) فساداتِ پنجاب کی تحقیقاتی کمیٹی نے (جسے عرفِ عام میں منیر کمیٹی کہا جاتا ہے) مختلف علماء کرام سے پوچھا کہ ’’مسلمان کسے کہتے ہیں‘‘ کمیٹی کی رپورٹ مطبوعہ شکل میں موجود ہے اس میں آپ دیکھئے کہ ان حضرات کی طرف سے اس سوال کا جواب کیا ملا تھا! ان میں سے بعض نے تو کہہ دیا کہ اس سوال کا جواب دو چار فقروں میں دیا نہیں جا سکتا۔ اس کے لئے صفحات در صفحات درکار ہوں گے۔ جنہوں نے جواب دیا۔ ان کے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:۔
ان علماء میں سے کسی دو کے جواب بھی ایک دوسرے سے ملتے نہیں تھے۔ (انگریزی رپورٹ۔ ص ۲۱۸)۔
آپ اس رپورٹ پر نہ جایئے۔ مختلف فرقوں کے علماء حضرات سے خود یہ سوال پوچھئے کہ اسلام کسے کہتے ہیں اور مسلمان کی تعریف (Definition) کیا ہے۔ ان کے جواب خود‘ اس رپورٹ کی تائید کر دیں گے۔ ان حقائق کی روشنی میں آپ سوچئے کہ جب یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے‘ تو اس کا متعین مفہوم کیا ہے؟ جب ہم متعین اور متفق طور پر یہی نہیں بتا سکتے کہ مسلمان کسے کہتے ہیں اور اسلام کیا ہے تو ایسا کہنے کا مفہوم کیا ہو گا کہ ’’مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔‘‘ یہ وجہ ہے جو ہم صدیوں سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ مسلمانوں نے اسلام چھوڑ دیا ہے اور مسلمان ہیں کہ اسلام کو اختیار کرنے کا سوچتے تک نہیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ انہوں نے کیا چھوڑ دیا ہے اور انہیں کیا اختیار کرنا چاہئے۔ ہم اتنا واضح کر دیں کہ مختلف فرقے اپنے اپنے فرقہ کے تصور کا اسلام تو بتا دیں گے۔ لیکن وہ اسلام جو ساری امت میں قدر مشترک ہے‘ جس کی طرف نسبت سے وہ امت‘ امت مسلمہ کہلاتی ہے اور جس کے متعلق شکایت ہے کہ اس نے اسے چھوڑ دیا ہے‘ اس کی بابت کوئی کچھ نہیں بتا سکے گا کہ وہ ہے کیا؟
ہم سمجھتے ہیں کہ اس مقام پر اور تو اور‘ آپ خود بھی وقف تعجب ہو جائیں گے کہ جس بات کے متعلق کبھی ہم نے اتنا سوچنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی تھی کہ یہ بھی ایسا سوال ہے جس پر غور کرنا چاہئے‘ وہ بات کس قدر اہم اور بنیادی نکلی۔ اس کے بعد آپ کے دل میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ ہم تو خیر عامی ہیں۔ دین کے متعلق ہماری معلومات بہت کم ہیں‘ اس لئے ہم اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ لیکن ہمارے علماء کرام کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ بھی اس سوال کا متفق علیہ جواب نہیں دے سکتے۔ اور جب ان کی یہ کیفیت ہے تو پھر وہ امت میں اپنی موجودہ پوزیشن کو کس طرح قائم رکھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو اسلام کے متعلق مطمئن کس طرح کر دیتے ہیں؟
اس کی ایک خاص ٹیکنیک ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے کچھ اصطلاحات وضع کر رکھی ہیں جن کا تقدس عوام کے دلوں میں راسخ کر دیتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو مبہم رکھا جاتا ہے۔ یعنی ان کا واضح مفہوم بیان نہیں کیا جاتا۔ ہر موقع پر اس اصطلاح کو استعمال کر دیتے ہیں اور بس۔۔ مثلاً ان میں بنیادی اصطلاح خود اسلام ہے۔ آپ آئے دن ان حضرات کی زبانی اس قسم کے الفاظ سنتے رہتے ہیں کہ ’’اسلام کا حکم یہ ہے‘‘ اس معاملہ میں ’’اسلام کا منشاء یہ ہے‘‘۔ اس باب میں ’’اسلام یہ کہتا ہے۔‘‘ اب ظاہر ہے کہ ’’اسلام‘‘ کسی شخص کا نام نہیں جس کے متعلق سمجھا جا سکے کہ وہ ایسا کہتا ہے یا اس کا حکم یہ ہے۔ اس کے لئے کوئی سند یا حوالہ ہونا چاہئے جہاں سے معلوم ہو سکے کہ کون ایسا کہتا ہے۔ یہ کس کا حکم ہے۔ لیکن یہ حضرات کبھی حوالہ نہیں دیں گے‘ اسے ہمیشہ مبہم رکھیں گے۔ اس لئے کہ جب یہ کہیں گے کہ ’’اسلام کا یہ فیصلہ ہے‘‘ تو اکثر و بیشتر یہ فیصلہ ان کا اپنا ہو گا جسے یہ اسلام کا فیصلہ کہہ کر پیش کر دیں گے اور یا ان کے فرقہ کا فیصلہ۔ اب ظاہر ہے کہ کسی فرقہ کا فیصلہ تو اسلام کا فیصلہ نہیں کہلا سکتا۔ لیکن یہ اسے دانستہ مبہم رکھیں گے۔
اس قسم کی ایک اصطلاح ہے ’’اسلامی شریعت‘‘ یا ’’شریعتِ حقہ‘‘۔ آئے دن اس قسم کے الفاظ سننے میں آتے ہیں کہ شریعت کا یہ حکم ہے۔ شریعت کا یہ فیصلہ ہے۔ یہ از روئے شریعت ناجائز ہے۔ آپ دل میں سمجھتے ہوں گے کہ یہ اسلام کا فیصلہ ہے۔ لیکن یہ بھی درحقیقت کسی فرقہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ہر فرقہ کی شریعت الگ الگ ہے۔ جسے آپ ’’اسلام کی شریعت‘‘ کہیں گے۔۔۔ یعنی وہ شریعت جسے تمام مسلمان متفقہ طور پر اسلامی تسلیم کریں‘ اس کا کہیں وجود نہیں۔
ایک اصطلاح ’’سنت رسولؐ اللہ‘‘ ہے۔ اس کے متعلق تو آپ سمجھتے ہوں گے کہ یہ تمام مسلمانوں میں متفقہ علیہ ہو گی کیونکہ حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی تو ایک ہی تھی اس لئے حضورﷺ کی سنت بھی ایک ہی ہو گی۔ لیکن ایسا نہیں۔ سنت رسولؐ اللہ بھی ہر فرقہ کی الگ الگ ہے۔ حتیٰ کہ ’’سنت‘‘ کی تعریف (Definition) تک بھی مختلف۔
یہ (اور اسی قسم کی کئی ایک اور) اصطلاحات ہمارے ہاں صدیوں سے رائج چلی آرہی ہیں۔ لیکن ہمارے زمانے میں چونکہ سیاست کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے اس لئے اب قدیم اصطلاحات کے بجائے‘ جن کا تعلق ’’مذہب‘‘ سے سمجھا جاتا ہے‘ نئی نئی اصطلاحات وضع کی جا رہی ہیں۔ ان میں ایک اصطلاح ’’اقامت دین‘‘ ہے۔ اس اصطلاح کی پبلسٹی تو بہت زیادہ ہوتی ہے‘ لیکن ا سکا متعین مفہوم آج تک نہیں بتایا گیا۔ اگر اس اصطلاح کے مدعی اس کا مفہوم واضح کر دیں تو مختلف فرقوں کے علماء شور مچا دیں کہ جسے تم دین کہتے ہو‘ وہ دین ہے ہی نہیں۔ لہٰذا‘ ان حضرات نے بھی اسی میں خیریت سمجھ رکھی ہے کہ اس اصطلاح کو مبہم رکھا جائے۔
اب ’’دین‘‘ کے بجائے نظام کا لفظ زیادہ پاپولر ہو رہا ہے۔ ا سکی بنا پر ایک اصطلاح ’’اسلامی نظام‘‘ ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ہمارے ہاں خود اسلام کا مفہوم ہی متعین نہیں‘ اس لئے ’’اسلامی نظام‘‘ کی اصطلاح بھی شرمندۂ معنی نہیں ہوئی‘ نہ ہو سکتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ عصرِ حاضر کی سیاست میں جس مقصد کے لئے سلوگن وضع اور اختیار کئے جاتے ہیں اس مقصد کے لئے ہمارے ہاں کے مذہبی طبقہ میں اس قسم کی اصطلاحات وضع کی جاتی ہیں۔ سلوگن سے مراد ہوتی ہے ایسے الفاظ جن کا مفہوم متعین نہ ہو لیکن جنہیں عوام میں پاپولر بنا کر فریقِ مقابل کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اگر ذرا بنظرِ تعمق دیکھا جائے تو یہ حقیقت سمجھ میں آجائے گی کہ زمانۂ قدیم کے عصرِ سحر (Age of Magic) میں جو کام‘ جنتر منتر‘ ٹونا ٹوٹکا سے لیا جاتا تھا‘ وہی کام عصرِ رواں میں سلوگن سے لیا جاتا ہے۔ جنتر منتر یا ٹونے ٹوٹکے ایسے الفاظ پر مشتمل ہوتے تھے جن کے متعلق یہ کہ دیا جاتا تھا کہہ اگر تم ان الفاظ کو اس طرح اتنی مرتبہ دہراتے جاؤ گے تو تمہارا دشمن مغلوب ہو جائے گا۔ بعینہٖ یہی پوزیشن ہمارے زمانے میں سلوگن نے لے رکھی ہے اور اب یہی کام ہمارے ہاں اصطلاحات سے لے لیا جاتا ہے۔ پھر جس طرح ایک سلوگن کچھ عرصہ کے بعد‘ کثرتِ استعمال سے غیر مؤثر ہو جاتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں کی اصطلاحات بھی کچھ عرصہ کے بعد اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ کسی زمانے میں جو اثر‘ اقامت دین۔ حکومت الٰہیہ۔ اسلامی نظام وغیرہ قسم کی اصطلاحات پیدا کیا کرتی تھیں‘ اب یہ اس قسم کا اثر پیدا نہیں کرتیں۔ اس بنا پر ضرورت تھی کہ ایک نئی اصطلاح وضع کی جائے اور وہ اصطلاح ہے ’’نظامِ مصطفیٰؐ‘ ‘ چونکہ حضورؐ کی ذاتِ گرامی کا تعلق ہمارے نہایت گہرے قلبی جذبات سے ہے‘ س لئے یہ اصطلاح‘ سابقہ اصطلاحات کے مقابلہ میں‘ عوام کے لئے زیادہ مؤثر اور پرکشش ہے۔ لیکن آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس اصطلاح کو بھی مبہم رکھا جا رہا ہے۔ اس لئے کہ سنت رسولؐ اللہ کی طرح ہر فرقہ کا نظامِ مصطفیٰؐ کا تصور اپنا اپنا ہے۔
مختلف فرقوں کے علماء تو ایک طرف‘ خود حنفیوں میں بریلوی اور دیوبندی حضرات کے نزدیک اس کا مفہوم الگ الگ ہے۔ موجودہ ہنگاموں میں‘ بریلوی فرقہ کی نمائندگی مولانا نورانی کر رہے ہیں اور دیوبندی فرقہ کی مفتی محمود صاحب اور ان دونوں میں ’’نظام مصطفیٰؐ‘ ‘ تو ایک طرف ’’مقام مصطفیؐ‘‘ تک میں شدید اختلاف ہے۔ لہٰذا ان کی سیاسی مصلحت کا تقاضا ہے کہ اس اصطلاح (نظام مصطفیؐ) کو مبہم رکھا جائے۔۔۔ اس کا کوئی ایسا مفہوم پیش ہی نہیں کیا جا سکتا جسے تمام فرقوں کے علماء متفقہ طور پر اسلامی تسلیم کر لیں۔ اس کی وضاحت کا تقاضا کیا جائے تو اسے بلند آہنگ الفاظ کے پردوں میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔ مثلاً حال ہی میں ’’نوائے وقت‘‘ میں اس عنوان پر کہ ’’نظام مصطفیؐ کیا ہے‘‘۔۔۔ دو مبسوط مقالات شائع ہوئے ہیں۔ ایک مقالہ میں کہا گیا ہے کہ نظام مصطفیؐ:۔
اخلاقی لحاظ سے نظامِ مساوات۔۔ سیاسی لحاظ سے نظامِ حفاظت و عدل۔۔ معاشی لحاظ سے نظامِ عدل و کفالت۔۔ روحانی لحاظ سے نظام ذکر و فکر اور للہیت۔۔ معاشرتی لحاظ سے نظامِ اخوت ہے۔ (نوائے وقت۔ ۲۹ جولائی ۱۹۷۷ء)۔
دوسرے مقالہ میں کہا گیا ہے۔۔۔ نظامِ مصطفیؐ کیا ہے؟
کائنات گیر علم۔۔ یزداں شعار عبادت۔۔ پاکیزہ اخلاق۔۔ عظیم سیاست۔۔ علم خوفِ خدا کا سبب‘ اور خوفِ خدا دانش کی انتہا۔ (نوائے وقت‘ ۵ اگست ۱۹۷۷ء)۔
اس قسم کے ہیں حریر و اطلس کے وہ نرم و نازک پردے جن میں اس مصلحت (یا حکمت عملی) کو چھپایا جاتا ہے کہ اس نظام کا متعین مفہوم عوام کی نگاہوں سے اوجھل رہے۔۔ کیونکہ اس کی وضاحت سے اس دعویٰ کا پردہ چاک ہو جاتا ہے کہ اس مطالبہ میں تمام فرقوں کے نمائندے متفق ہیں۔ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔۔۔ یہ کتمانِ حقیقت کی اسی قسم کی سعئ ناکام ہے جس کی مثال پہلے بھی ہمارے سامنے آچکی ہے۔ ۱۹۵۱ء میں مختلف فرقوں پر مشتمل اکیس علماء نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ مملکت کا ضابطۂ قوانین ’’کتاب و سنت‘‘ کے مطابق مرتب کیا جائے گا اور اس کے بیس برس بعد‘ ’’متفقہ مطالبہ‘‘ کا پردہ خود ان ہاتھوں کو‘ جنہوں نے یہ پردہ لٹکایا تھا‘ یہ کہہ کر اٹھانا پڑا کہ:
کتاب و سنت کی رو سے پبلک لاز کا کوئی ایسا ضابطہ مرتب نہیں کیا جا سکتا جسے مختلف فرقے متفق طور پر اسلامی تسلیم کر لیں۔ (مودودی صاحب)
اس سے‘ اکتیس علماء کے اس مطالبہ کا بھانڈا پھوٹ گیا جسے وہ ۱۹۵۱ء سے متفقہ طور پر اسلامی کہہ کر پیش کرتے چلے آرہے تھے۔ یہ بیس پچیس برس تو خیر‘ نظری بحثوں میں گذر گئے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ اب یہ مطالبہ عملی شکل اختیار کر لے اور اس وقت اس اصطلاح کا متعین مفہوم سامنے لائے بغیر چارہ نہ رہے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اگر اکتوبر ۷۷ء کے مجوزہ انتخابات کے نتیجے میں‘ زمامِ حکومت نظام مصطفیؐ کے مدعیوں کے ہاتھ میں آگئی تو سب سے پہلا مرحلہ‘ پبلک لاز کا متفق علیہ ضابطہ مرتب کرنے کا درپیش ہو گا۔ اور ظاہر ہے کہ مختلف فرقوں کے یہ نمائندے ایسا ضابطہ مرتب کر ہی نہیں سکیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت کیا ہو گا؟
تحریک پاکستان کی بنیاد دو اصولوں پر استوار تھی۔ (۱) دو قومی نظریہ اور (۲) نظریۂ پاکستان یعنی اسلام کی بنیادوں پر ایک آزاد مملکت کا قیام۔ ہندو (اور ان کی ہمنوائی میں دنیا بھر کی دیگر اقوام) کہتے تھے کہ ان بنیادوں پر کوئی مملکت استوار نہیں ہو سکتی۔ وہ زمانہ لد گیا جب مذہب کی بنیاد پر سلطنتیں قائم کی جایا کرتی تھیں۔ اب ایسا نہیں ہو سکتا۔
سقوط ڈھاکہ کے المیہ پر ہندو‘ اور ان کے ہم نواؤں نے‘ ببانگِ دہل اعلانات کئے کہ دیکھا ناں! جو کچھ ہم کہتے تھے وہ کس طرح سچ ثابت ہوا۔ دو قومی نظریہ کس طرح ناکام رہا؟ اور اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ جس طرح دو قومی نظریہ ناکام ثابت ہوا ہے‘ تم دیکھو گے کہ تمہارا دوسرا نظریہ‘ یعنی مذہب کی بنیادوں پر مملکت کی تشکیل۔۔ بھی اسی طرح ناکام ثابت ہو گا۔
اب‘ جب مختلف فرقوں کے علماء پر مشتمل پارلیمان‘ ایک متفق علیہ اسلامی ضابطۂ قوانین مرتب کرنے میں ناکام رہی‘ تو ہمارے یہی دشمن ڈھول پیٹ پیٹ کر اعلان کریں گے کہ دیکھا! جو کچھ ہم کہتے تھے وہ بالآخر سچ ثابت ہو کر رہا یا نہیں!
یہ اسی روزِ بد کا لرزہ انگیز احساس ہے جو ہمیں ان حضرات کی خدمت میں گذارش کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر آپ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ مملکت کا استحکام اور اسلام کا احیاء ہو گا‘ تو آپ جس قدر جلد اس غلط فہمی کو دور کر دیں گے اتنا ہی اچھا ہو گا۔ آپ کی موجودہ روش سے مملکت کی بنیادیں متزلزل ہو جائیں گی اور اسلام دنیا کی نظروں میں اضحوکہ بن جائے گا۔ اگر آپ فی الواقعہ اسلام کا احیاء چاہتے ہیں تو پہلے یہ طے کر لیجئے کہ اگر قانون سازی کے اختیارات آپ کے ہاتھ میں آگئے تو آپ وہ ضابطہ حیات کس طرح مرتب کریں گے جو آپ سب کے نزدیک متفقہ طور پر اسلامی قرار پائے۔
اگر یہ حضرات ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوں‘ تو ہم قوم سے بزور گذارش کریں گے کہ وہ آنکھیں بند کر کے ان کے سلوگنوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے‘ ان سے مطالبہ کرے کہ وہ اس سوال کا واضح الفاظ میں جواب دیں۔
اس سوال کا جواب کچھ بھی مشکل نہیں۔ اسے غور سے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔
(۱) جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے‘ نظام مصطفیؐ کے مدعی مختلف فرقوں سے متعلق ہیں۔ ان میں‘ ہر فرقہ کی فقہ (ضابطۂ قوانین) الگ الگ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب تک یہ حضرات اپنی اپنی فقہ کو غیر متبدل اسلامی شریعت قرار دیتے رہیں گے‘ کوئی ایسا ضابطۂ قوانین مرتب نہیں ہو سکے گا جسے یہ سب اسلامی تسلیم کر لیں۔ ان کے باہمی اختلافات کی شدت کا یہ عالم ہے کہ ان میں سے ہر فرقہ نے دوسرے فرقوں کے خلاف کفر کے فتوے لگا رکھے ہیں۔
(۲) ان سب میں صرف ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے قرآن مجید۔ لہٰذا‘ ان کے ایک نقطہ پر جمع ہونے کا‘ اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ اپنی اپنی فقہ سے صرف نظر کر کے‘ قرآن مجید کو ضابطۂ قوانین کی بنیاد قرار دیں اور اسے قول فیصل اور حرف آخر تسلیم کریں۔
(۳) قرآن کریم سلوگن نہیں دیتا۔ وہ ہر بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ تبیانا لکل شئ (۸۹/۱۶) اس کا دعویٰ ہے۔ یعنی ہر بات کو نکھار اور ابھار کر بیان کرنے والی کتاب۔
(۴) اس میں کوئی اختلافی بات نہیں۔ اس نے اپنے منجانب اللہ ہونے کی دلیل ہی یہ دی ہے۔ ولو کان من عند غیر اللہ لوجد وافیہ اختلافا کثیرا (۸۲/۴)۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ ا سمیں بکثرت اختلافات پاتے۔ لہٰذا قرآن مجید کو قدر مشترک تسلیم کر لینے کے بعد کوئی اختلاف باقی نہیں رہ سکتا۔
(۵) الدین۔ یعنی نظام خداوندی۔ کے معنی ہیں خدا کو حاکم یا حَکم (ہر معاملہ میں فیصلہ دینے والا) تسلیم کرنا۔ ان الحکم الا للہ۔ حکم صرف خدا کا واجب الاطاعت ہے۔۔۔ امر الا تعبدوا الا ایاہ۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی محکومیت (اطاعت) اختیار نہ کرو۔
(۶) خدا کو حاکم یا حَکم تسلیم کرنے کا عملی طریق اس کی کتاب کو حَکم تسلیم کرنا ہے۔ (رسولؐ اللہ کی زبانِ مبارک سے قرآن کریم میں اعلان کرایا گیا کہ) افغیر اللہ ابتغی حکما و ھو الذی انزل الیکم الکتاب مفصلا (۱۱۵/۶) کیا میں خدا کے سوا کسی اور کو حَکم تسلیم کروں‘ درآں حالیکہ اس نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کر دی ہے جو تمام معاملات کو نکھار کر بیان کر دیتی ہے۔۔۔ ا سکے معنی یہ ہیں کہ کتاب اللہ کو حَکم ماننے سے خدا کو حَکم مانا جاتا ہے۔
(۷) یہی کتاب کفر اور اسلام میں حدِ امتیاز ہے۔ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون (۴۴/۵)۔ جو کتاب خداوندی کو حَکم تسلیم نہیں کرتا‘ تو ایسے ہی لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے۔
(۸) خود رسولؐ اللہ کو بھی یہی حُکم دیا گیا تھا کہ:
فاحکم بینھم بما انزل اللہ۔ (۴۸/۵)۔
اے رسول! تو ان میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کیا کرو۔
(۹) یہی دین اللہ ہے۔ (۸۲/۳)۔ اسی کا نام الاسلام ہے۔ یعنی کتاب اللہ کو حَکم تسلیم کرنا۔ ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ۔ (۸۴/۳)۔ جو شخص اس کے سوا کوئی اور دین (نظام) اختیار کرے گا‘ تو بارگاہ خداوندی میں اسے شرف قبولیت حاصل نہیں ہو گا۔ وہ مردود قرار پائے گا۔
واضح رہے کہ چونکہ خدا نے اسلام کو دین اللہ کہا ہے اس لئے اس کا ترجمہ دین خداوندی ہی کرنا چاہئے خدا کے رسول‘ دین اللہ کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث ہوتے تھے۔ خود کوئی دین وضع نہیں کرتے تھے۔ اس لئے اسلام کو دین مصطفیؐ کہنا صحیح نہیں ہو گا۔ اسے دین اللہ ہی کہنا چاہئے۔
(۱۰) سوال پیدا ہو گا کہ اس کی پہچان کیا ہو گی کہ ہم میں دین اللہ (یا نظام خداوندی) قائم ہے یا نہیں؟ اس کی اولین پہچان یہ ہے کہ جس قوم میں دین اللہ قائم ہو اس میں مذہبی فرقے نہیں رہ سکتے۔ جہاں مذہبی فرقے ہوں گے نہ وہاں دین اللہ (نظام خداوندی) ہو گا اور نہ ہی ان کے ساتھ رسولؐ اللہ کا کوئی تعلق۔ اس باب میں خدا کا ارشاد نہایت واضح ہے کہ:۔
ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا لست منھم فی شئ (۱۶۰/۶)۔
جو لوگ دین میں تفرقہ پیدا کر دیں اور خود بھی ایک گروہ بن کر بیٹھ جائیں۔ اے رسول! تیرا ان لوگوں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں رہے گا۔
جو لوگ فرقوں پر قائم رہتے ہوئے ’’نظام مصطفیؐ‘‘ کے مدعی ہیں‘ انہیں اس ارشادِ خداوندی پر غور کرنا چاہئے۔ جب (فرمانِ خداوندی کی رو سے) مصطفیؐ کا ان سے کوئی تعلق ہی نہیں رہتا‘ تو انہیں ’’نظام مصطفیؐ‘‘ کے دعوے دار ہونے کا حق کس طرح پہنچ سکتا ہے؟
ملک میں جو لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ ہماری ان سے گذارش ہے کہ وہ ان ارشاداتِ خداوندی پر غور کریں اور سوچیں کہ مختلف فرقوں کے نمائندوں کا یہ دعویٰ کہ وہ ’’نظام مصطفیؐ‘‘ (یا اسلامی نظام) قائم کریں گے‘ کس طرح حق پر مبنی ہو سکتا ہے؟
(طلوع اسلام‘ ستمبر 1977ء)

2,100 total views, 1 views today

(Visited 194 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *